Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02
اتنی نفرت، اتنی آگ تھی اس میں جیسے سب جلا کر راکھ کر دینا چاہتا ہو۔۔۔ پچھلے چھ مہینوں کا غصہ تھا جو آج لاوا بن کر پھٹ پڑا۔۔۔ فراز کے دو تین ساتھیوں نے آگے بڑھ کر اسے اٹھایا۔۔۔ ایک چھوٹا کزن فورأ گھر کی طرف بھاگا گھر ولوں کو خبر کرنے کو۔۔۔ فراز بھی غصے میں آ کر کھڑا ہوا اوراگلے چند لمحوں میں ہی وہ دونوں گتھم گتھا ہو چکے تھے۔۔۔ راجا فراز کی نسبت تھوڑا دبلا تھا لیکن کام کرتے کرتے اور مار کھاتے کھاتے سخت جان ہو چکا تھا اسی لیے فراز پر بھاری پڑ رہا تھا جبکہ فراز جسے آج تک کبھی کسی نے ہاتھ نہ لگایا تھا جو اکلوتا بیٹا تھا اپنے ماں باپ کا، وہ راجا کے سامنے بے بس سا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ راجا نے اس کی اچھی خاصی دھلائ کرنے اور پچھلے سارے حساب پورے کرنے کی قسم کھا لی تھی۔۔۔
وہ اسے بے تحاشا مار رہا تھا۔۔۔ باقی سب اردگرد کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے کہ آگے بڑھنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔۔۔ تبھی ایک مضبوط اور بھاری ہاتھ آگے بڑھا اور راجا کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوۓ فراز سے الگ کیا۔۔۔ اور پھر ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا گیا تھا۔۔۔ وہ لڑکھڑاتا ہوا دور جا گرا۔۔۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو اسے مارنے والے اس کے بڑے چچا تھے جبکہ چھوٹے چچا بھی اسے لعن طعن کرتے اپنے بیٹے کو اٹھا کر اس کے کپڑے جھاڑ رہے تھے۔۔۔ “بدتمیز، بدتہذیب۔۔۔ تمہیں بن ماں کا بچہ سمجھ کر اپنے پاس رکھا۔۔۔ پناہ دی۔۔۔ سہارا دیا۔۔۔ رہنے کو چھت دی۔۔۔ اور تم۔۔۔ ہمارے ہی بچوں کو پیٹ رہے ہو۔۔۔ تمہاری گھٹیا ماں یہی سکھا کر گئ ہے تمہیں۔۔۔ جب تک وہ زندہ تھی تب تک ہمارے گھر میں کبھی کسی کو سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔۔۔ ہر روز اس کی وجہ سے تماشا ہوتا اور اب اگر اس سے جان چھوٹی تو تم رہ گۓ تھے ہماری زندگی کو عذاب بنانے کے لیے۔۔۔اچھا ہوتا تم دونوں بہن بھائ بھی اپنی ماں کے ساتھ ہی مر جاتے۔۔۔ ” بڑے چاچو مسلسل چینختے ہوۓ اسے پیٹ رہے تھے۔۔۔ پہلے تو دونوں چچیاں ہی اس پر ہاتھ اٹھاتی تھیں۔۔۔ لیکن آج ان لوگوں نے بھی اسے سزا دینا شروع کر دی جن کا وہ خون تھا۔۔۔ اور یہ سب وہ برداشت بھی کر لیتا لیکن چاچو کے منہ سے اس کی مری ہوئ ماں کے لیے جو گالیاں برآمد ہو رہی تھیں وہ ناقابل برداشت تھیں۔۔۔ انہوں نے ایک بار بھی آ کر لڑائ کی وجہ نہیں پوچھی۔۔۔ ایک بار نہیں کہا کہ کس کا قصور تھا اس جھگڑے میں۔۔۔ بس آتے ہی اسےمارنا شروع کر دیا۔۔۔ “ماں تو مر گئ۔۔۔ یہ دونوں مصیبتیں ہمارے لیے چھوڑ گئ۔۔۔ اور باپ۔۔۔ اس نے باہر جا کر دوسری شادی کر لی۔۔۔ ارے اگر یہی سب کرنا تھا تو زہر دے کر مار دیتے ان دونوں کو۔۔۔ ہماری جان کے لیے کیوں عذاب بنا رکھا ہے۔۔۔ نہ کام کے نہ کاج کے۔۔۔ دشمن اناج کے۔۔۔ ان کے لیے نہیں کما کر لاتے ہم جو ان پر خرچ کرتے رہیں۔۔۔ ہمارے اپنے بیوی بچے ہیں۔۔۔ اپنی ذمہ داریاں ہیں۔۔۔ انہیں کون سنبھالے۔۔۔” چھوٹے چاچو نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوۓ فراز کو لے کر گھر کی جانب چل دئیے۔۔۔ کچھ دیر بعد چھوٹے چاچو بھی بکتے جھکتے گھر جا چکے تھے اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر بکھرنے لگے۔۔۔ اب وہاں صرف ایک ہی وجود تھا مٹی میں لتھڑا ہوا۔۔۔پھٹے کپڑوں کے ساتھ بدن پہ اور منہ پہ ان گنت زخم لیے روتا ہوا وجود۔۔۔
اسد شیرازی میٹنگ روم میں موجود تھے۔۔۔ اس لمبی سی میز کے گرد تقریبأ بیس کے قریب افراد موجود تھے۔۔۔ جن کے سامنے ان کے لیب ٹاپ اور ایک ایک پانی کی بوتل موجود تھی۔۔۔ سامنے ایک بڑے سائز کی ایل ای ڈی اسکرین نظر آ رہی تھی جس پہ کچھ گرافک ڈیزائنز دکھائ دے رہے تھے۔۔۔ وہاں اس روم میں بالکل اندھیرا تھا۔۔۔ صرف ایل ای ڈی کی روشنی سب کے چہروں پر منعکس ہو رہی تھی اور وہاں موجود تمام افراد کی نگاہیں اور توجہ اسکرین پر مرکوز تھیں۔۔۔
اس پرسکون خاموشی کو کسی کے موبائیل پر بجتی رنگ ٹون نے توڑا تھا۔۔۔ اسد شیرازی نے سیل دیکھا۔۔۔ اسکرین پر راشد کالنگ جگمگا رہا تھا۔۔۔ راشد ابیہا کے گارڈز میں سے ایک تھا اور تب ہی کال کرتا جب کوئ ضروری بات ہوتی۔۔۔ اسد شیرازی نے کچھ سوچتے ہوۓ کال پک کی۔۔۔ “ایکسکیوزمی جینٹل مین۔۔۔” کہتے ہوۓ اٹھے اور روم سے باہر آ گۓ۔۔۔ “ہاں بولو راشد۔۔۔” راشد ان کا قابل بھروسہ اور پرانا بندہ تھا اس لیے اس کے ساتھ وہ نرمی سے ہی پیش آتے۔۔۔ “سر۔۔۔ میم ہمارے ساتھ شاپنگ مال آئ تھیں۔۔۔ واشروم کا بہانہ کر کے وہ ہمیں چکما دے کر یہاں سے چلی گئ ہیں۔۔۔ پورے شاپنگ مال میں دیکھ لیا وہ کہیں موجود نہیں۔۔۔” راشد کے لہجے میں پریشانی کے ساتھ ساتھ ہلکی سی لرزش بھی تھی کہ وہ جانتا تھا اسد شیرازی بیٹی کے معاملے میں انتہائ سخت تھے۔۔۔ “واٹ۔۔۔؟؟؟ تم لوگ کہاں تھے۔۔۔ کیسے نکل گئ وہ۔۔۔ سلیمانی ٹوپی پہن لی تھی کیا اس نے۔۔۔ کہ تم میں سے کسی کو بھی نظر نہ آئ۔۔۔ جانتے ہو کتنی بڑی غلطی کر دی تم لوگوں نے۔۔۔ اور ہمارے دشمن تو ہر وقت اسی تاک میں رہتے ہیں کہ ایسی کوئ غلطی ہو۔۔۔ ابیہا کی جان کو سخت خطرے میں ڈال دیا تم لوگوں نے۔۔۔ یاد رکھنا اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا نا تو میں تم لوگوں کو ذندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ “اسد شیرازی یہ سن کر آگ بگولہ ہو گۓ تھے۔۔۔ اضطرابی کیفیت میں پیشانی مسلتے ہوۓ وہ ادھر ادھر چکر لگاتے کچھ سوچ رہے تھے۔۔۔ “سر۔۔۔ اب ہمارے لیے کیا حکم ہے۔۔۔؟؟” چند لمحے خاموش رہنے کے بعد راشد نے مدھم سے لہجے میں پوچھا۔۔۔ اسد شیرازی نے گہری سانس بھری۔۔۔ ان کے چہرے سے ہی ان کی پریشانی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔۔ “اچھا تم ایسا کرو۔۔۔ ساحل سمندر کی طرف جاؤ۔۔۔ ابیہا جب گھر سے نکلی تھی تو اس نے ساحل سمندر جانے کا ذکر کیا تھا۔۔۔ یقینأ وہ وہیں گئ ہو گی۔۔۔ جلد سے جلد وہاں پہنچو۔۔۔ میں بھی آ رہا ہوں۔۔۔ خدا کرے میری بیٹی سلامت ہو۔۔۔ ” اجلت میں کہتے ہوۓ انہوں نے فون رکھا اور تیزی سے لفٹ کی جانب بڑھے۔۔۔ دل نہ جانے کیوں کسی خطرناک صورتحال کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔
شام چھے بجے کا وقت تھا۔۔۔ اندھیرا روشنی کو نگلتا ہوا ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔۔۔ گرمیوں کا اختتام تھا اور سردیوں کا آغاز ہو رہا تھا۔۔۔ہلکی ہلکی ہوا کے باعث موسم کافی خوشگوار ہو رہا تھا۔۔۔ اور اس خوشگوار موسم نے ابیہا کے موڈ پر خاصا اچھا اثر ڈالا تھا۔۔۔ سمندر کنارے کھڑے ہو کر اس کی بپھری موجوں پر نظریں جماۓ ہوۓ کہیں کھو جانا، ان موجوں کا کناروں سے گلے ملتے اور بچھڑتے ہوۓ دیکھنا اور سمندر میں پتھر پھینکنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔۔۔ وہاں کافی وقت گزار کر اب وہ گھر جا رہی تھی۔۔۔ یہاں سے گھر جا کر اسے ایک دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں جانا تھا۔۔۔ میوزک پلئیر آن کیے، میوزک سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ وہ گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی۔۔۔ آگے جا کر اس نے شارٹ کٹ لے لیا۔۔۔ یہ راستہ تھوڑا سنسان سا تھا۔۔۔ لیکن ابیہا اکثر اسی راستے سے گھر جاتی۔۔۔
اس نے اس راستے پر ٹرن لیا ہی تھا جب ایک گاڑی نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔۔۔ پہلے تو ابیہا نے دھیان نہیں دیا لیکن اس کی کار کی اسپیڈ سلو تھی اور دوسری گاڑیاں بآسانی آگے جا سکتی تھیں لیکن وہ گاڑی بھی سلو اسپیڈ کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے ہی تھی۔۔۔ ابیہا کی پیشانی پر سلوٹیں پڑنے لگیں۔۔۔ اس نے اسپیڈ بڑھائ تو پیچھے آنے والی گاڑی کی اسپیڈ بھی بڑھ گئ۔۔۔ اس نے گاڑی سلو کی تو پچھلی گاڑی کے ڈرائیور نے بھی رفتار کم کر دی۔۔۔ ابیہا نے گاڑی سائیڈ پہ کی تا کہ وہ گزر جاۓ لیکن پیچھے نوجود شخص نے گاڑی اسی سپیڈ پہ رکھی جیسے وہ ابیہا کے پیچھے پیچھے ہی جانا چاہ رہا ہے۔۔۔ ابیہا اسی پریشانی میں تھی کہ آخر وہ ہے کون جو یوں اس کا پیچھا کر رہا ہے کہ تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔ “ڈیڈ کالنگ” لکھا ہوا دیکھ کر ابیہا نے کال پک کی۔۔۔ “ہیلو ڈیڈ۔۔۔” ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھالتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے فون کان کو لگایا اور ایک نظر بیک ویو مرر میں نظر آتی گاڑی پر ڈالی۔۔۔ “ابیہا کہاں ہو تم۔۔۔ آر یو آل رائٹ۔۔۔کوئ مسئلہ تو نہیں۔۔۔ ” ڈیڈ کی آواز سے شدید پریشانی جھلک رہی تھی۔۔۔ “نہیں ڈیڈ۔۔۔ آئم اوکے۔۔۔ میں بس گھر۔۔۔” وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ ایک دم اسے بریک پر پاؤں رکھنا پڑا۔۔۔ گاڑی کے ٹائر زور سے چرچراۓ۔۔۔ “ہیلو۔۔۔ ابیہا۔۔۔ واٹ ہیپنڈ۔۔۔” اسد شیرازی اس سے پوچھ رہے تھے جبکہ ابیہا پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کی گاڑی کے سامنے دو گاڑیاں کھڑی تھیں۔۔۔ بالکل ویسی گاڑیاں جیسی گاڑی اس کا پیچھا کر رہی تھی۔۔۔ اور اس گاڑی میں سے کچھ ہٹے کٹے نقاب پوش مرد نکل کر ابیہا کی گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔ ابیہا نے پیچھے موجود گاڑی کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ بھی رک چکی تھی اور اس میں سے بھی اسی حلیے اور جسامت کے تین افراد نکل کر ابیہا کی گاڑی کو گھیر چکے تھے۔۔۔ “ڈیڈ۔۔۔ کک۔۔۔ کچھ لوگ۔۔۔ مم۔۔۔ میری گاڑی۔۔۔” وہ خوفزدہ لہجے میں کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی جب کسی نے ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا اور اسے بازو سے کھینچ کر باہر نکالا۔۔۔ “ہیلو ابیہا۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔ کون لوگ ہیں وہ۔۔۔ ابیہا کچھ بولو۔۔۔ ابیہا۔۔۔” اسدشیرازی تڑپ اٹھے تھے یہ جان کر کہ ان کی بیٹی دشمنوں کے ہاتھ لگ چکی ہے۔۔۔ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اس کا موبائل سوئچ آف کر کے گاڑی میں پھینکا اوردروازہ بند کر دیا۔۔۔ “کون ہو تم لوگ۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔” ابیہا مچل گئ تھی ان کی گرفت میں۔۔۔ تبھی خود کو چھڑانے کے لیے بھرپور زور لگایا۔۔۔ “شش۔۔۔ چپ۔۔۔ بالکل چپ۔۔۔ ” وہ آدمی پھنکارا۔۔۔ اور ابیہا کا بازو مروڑ کر اس کی کمر سے لگایا۔۔۔ وہ کراہ اٹھی اس وحشیانہ سلوک پر۔۔۔۔ “چھوڑو مجھے۔۔۔ ” اس کی آواز لرز رہی تھی۔۔۔ آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے۔۔۔ اب احساس ہو رہا تھا کہ ڈیڈ کیوں ہر وقت اس کی سیکیورٹی کے لیے فکرمند رہتے تھے۔۔۔ وہ آدمی جس نے ابیہا کو پکڑ رکھا تھا اسے گںسیٹتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا۔۔۔ابیہا ہر ممکن کوشش کر رہی تھی خود کس اس سے چھڑانے کی لیکن گرفت کافی سخت تھی۔۔۔ وہ لوگ گاڑی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ ابیہا کے دماغ نے کام کیا۔۔۔ اس نے اپنی ہیل زور سے پیچھے موجود شخص کے گھٹنے پر ماری۔۔۔ باقی سب افراد ان کے پیچھے تھے۔۔۔ اتنی اچانک یہ سب ہوا کہ وہ شخص کچھ سمجھ ہی نہ سکا۔۔۔ ہیل لگنے ہر بے ساختہ وہ جھکا اور گھٹنے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ اس کے دوسرے ہاتھ کی گرفت ابیہا کے بازو پر تھوڑی ڈھیلی ہوئ۔۔۔ ایک لمحہ لگا تھا ابیہا کو اپنا بازو چھڑانے میں۔۔۔ اور بازوچھڑا کر وہ بھاگ اٹھی تھی۔۔۔ دونوں گاڑیوں کے درمیان سے گزرتی وہ تیزی سے ان کی پہنچ سے دور ہوئ۔۔۔ تقریبأ تین کلومیٹر کے فاصلے پر یہ سڑک مین روڈ سے جا کر ملتی تھی اور وہیں پر ابیہا کو مدد مل سکتی تھی۔۔۔ وہ بغیر مڑے ، اندھا دھند بھاگتی چلی جا رہی تھی۔۔۔
اور وہ جو تقریبأ دس ہٹے کٹے اور بھرپور جسامت کے غنڈے ٹائپ آدمی تھے مسلسل اس کا پیچھا کر رہے تھے۔۔۔ہیل کے باعث بھاگنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ وہ ہر ممکن کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح ان کی پہنچ سے دور ہو سکے۔۔۔لیکن بدقسمتی سے اس کی نازک ہیل نے دغا دیا اورایک کلومیٹر بھاگنے کے بعد ہی وہ لڑکھڑاتی ہوئ منہ کے بل گری۔۔۔ گرنے کے باعث کہنی چھل گئ تھی۔۔۔ منہ سے کراہیں نکلیں۔۔۔ گردن موڑی تو وہ اب اس کے سر پر پہنچ چکے تھے۔۔۔ خوف و ہراس اس کی سیاہ گہری آنکھوں میں پھیل گیا۔۔۔اردگرد اندھیرا خاصا گہرا ہو چکا تھا۔۔۔ موت کو سامنے دیکھ کر اس کے حلق میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئ۔۔۔ اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑاتے ہوۓ مدد کے لیے کوئ چیز تلاش کرنی چاہی لیکن نگاہ مایوس سی لوٹ آئ۔۔۔ تبھی ایک آدمی جس کے ہاتھ میں کلہاڑی نما کوئ ہتھیار تھا آگے بڑھا اور ابیہا پر وار کیا۔۔۔ وہ چینختی ہوئ آنکھیں بند کر گئ۔۔۔ ایک بار لگا گردن تن سے جدا ہو چکی ہو گی۔۔۔ لیکن پھر۔۔۔ جیسے سب کچھ رک گیا۔۔۔ کوئ آواز، کوئ آہٹ تک نہ سنائ دے رہی تھی۔۔۔ اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ وہ زندہ تھی۔۔۔ بے یقینی سے سامنے دیکھا۔۔۔ اور آنکھیں حیرت سے مزید پھیل گئیں۔۔۔ اس کے سامنے ایک چوڑا اور مضبوط جسامت کا مالک شخص کھڑا تھا جس کی پشت تھی اس کی جانب۔۔۔ ابیہا اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائ۔۔۔ لیکن گرین کلر کی ہاف بازو ٹی شرٹ سے جھلکتے اس کے مسلز کو دیکھ کر اس کی طاقت کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہ تھا۔۔۔ ابیہا پر کیا جانے والا وار اس نے اپنے ہاتھ پر روکا تھا۔۔۔ اور کسی چٹان کی طرح ڈٹ کر ان غنڈوں کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
__________
صبح چھ بجے کا وقت تھا۔۔۔ وہ دونوں اس وقت ٹرین اسٹیشن پر کھڑے تھے۔۔۔ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے۔۔۔ دنیا کے سردوگرم سے بے خبر۔۔۔ یہ اسٹیشن ان کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔۔۔ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر کے باہر قدم تو رکھ لیا تھا لیکن باہر کہاں اور کس جگہ جانا ہے انہیں، اس بات سے انجان تھے۔۔۔ بس یہاں سے کہیں دور نکلنا چاہتے تھے وہ۔۔۔ گھر میں چچاؤں اور چچیوں کا رویہ ان کے ساتھ انتہائ ظالمانہ ہو چکا تھا۔۔۔ پہلے تو صرف راجا پر ظلم ہوتا تھا لیکن اب اسے تکلیف پہنچانے کو چھوٹی کے ساتھ بھی مار پیٹ کی جاتی۔۔۔ دو بار چھوٹی چچی نے اس کی بہن کو مارا۔۔۔ اور یہ بات راجا کے صبر کا پیمانہ لبریز کر گئ۔۔۔ کل رات اس کا اچھا خاصا جھگڑا ہوا تھا چھوٹی چچی کے ساتھ۔۔۔ اور اسے اس زبان درازی کی سزا یوں دی گئ کہ کوئلوں سے داغا گیا۔۔۔ راجا نے نظریں جھکا کر اپنا بازو دیکھا۔۔۔۔ جہاں جلنے کے نشان اور آبلے سے بنے تھے۔۔۔ کل ہی اس نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ انہیں اس گھر میں نہیں رہنا۔۔۔ جہاں ان کی ذندگی جانوروں سے بھی بدتر ہے۔۔۔ اور آج صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے جب سب گھر والے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے وہ اپنی بہن کو لیے خاموشی سے اس گھر سے نکل آیا۔۔۔ہاتھوں میں کوئ سامان نہ تھا۔۔۔ صرف بدن پر موجود پھٹے پرانے کپڑے۔۔۔۔ اور ہاتھ میں ایک فریم شدہ تصویر۔۔۔ ان کی ماں کی تصویر۔۔۔یہی ان کا کل سرمایہ تھا۔۔۔ایک بار مڑ کر ضرور دیکھا تھا۔۔۔ اس گھر کو۔۔۔ جہاں ان کی ماں کی بہت سی یادیں بکھری پڑی تھیں۔۔۔۔ وہ یادیں جو اذیت ناک تھیں۔۔۔ جو درد کے سوا کبھی کچھ اور نہ دے سکیں۔۔۔ اور جو یادیں کرب اور اذیت کے سوا کچھ اور نہ دے سکیں۔۔۔ ان یادوں کو دفنا دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔۔۔ راجا نے بھی یہی فیصلہ کیا تھا۔۔۔ یہ گھر نہ تو ان کی ماں کو راس آیا تھا اور نہ ہی انہیں۔۔۔
پانچ منٹ کا انتظار کرنے کے بعد ہی ٹرین وسل بجاتی وہاں آرکی تھی۔۔۔ راجا بہن کا ہاتھ تھامے آگے بڑھنے لگا۔۔۔ رش اتنا تھا کہ گزرنا محال تھا۔۔۔ لوگ دھکم پیل کرتے، ایک دوسرے کو روندتے آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔ ایسے میں وہ دو معصوم بچے بھی ان لوگوں میں ہی بمشکل راستہ بناتے ٹرین کی طرف جا رہے تھے۔۔۔ جیسے تیسے راجا اپنی بہن کو کھینچتا ہوا ٹرین پر چڑھنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔۔۔ ٹرین میں آگے بڑھتے ہوۓ وہ کچھ تلاش کر رہا تھا۔۔۔ آگے جا کر وہ رک گیا۔۔۔ وہاں اس جگہ پر سیٹیں خالی تھیں۔۔۔ شاید مسافر ریفریشمنٹ کے لیے اسٹیشن پر اترے تھے۔۔۔ راجا نے زبان پھیر کر ہونٹ تر کیے۔۔۔ چور نظروں سے اردگرد دیکھا کوئ ان کی جانب متوجہ نہ تھا۔۔۔ وہ آگے بڑھا۔۔۔ اور ایک سیٹ کے قریب نیچے بیٹھ گیا۔۔۔ “گڈی۔۔۔ ادھر آگے جا کر چھپ جاؤ۔۔۔ “اس نے سیٹ کے نیچے اشارہ کرتے ہوۓ چھوٹی کو آگے دھکیلا۔۔۔ اور خود بھی وہیں نیچے چھپ گیا۔۔۔ ایک بار ماں کے ساتھ اس نے ٹرین کا سفر کیا تھا اور جانتا تھا کہ ٹرین میں بیٹھنے کے لیے ٹکٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ لیکن اس وقت ان کے پاس ٹکٹ خریدنے کے لیے ایک روپیہ بھی نہ تھا۔۔۔ سب کچھ اپنے رب پہ چھوڑ کر اس نے یہ راستہ اختیار کیا تھا۔۔۔ اب اللہ جانے اس سب کا انجام کیا ہونے والا تھا۔۔۔
وہ ایک میٹنگ روم تھا۔۔۔ جہاں اسپیشل سروسز گروپ(SSG) آف کمانڈوز کے پانچ سولجرز سامنے نظر آتی روشن اسکرین پر نظریں جماۓ بیٹھے تھے۔۔۔ اسکرین کے قریب ان کے ہیڈ سر حبیب کھڑے تھے۔۔۔ “جینٹل مین۔۔۔ آپ کو آپ کے مشن کے کچھ اہم پوائنٹس ڈسکس کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔۔۔ ابھی ایک گھنٹے تک آپ کو اس مشن پر روانہ ہونا ہے۔۔۔ آپ سب جانتے ہیں کہ رام جو دہشتگردوں کے گروہ کا سرغنہ ہے اسے اور اس کے چند ساتھیوں کو پچھلے دنوں گولیاں لگی تھیں۔۔۔ وہ کافی زخمی ہو گۓ تھے۔۔۔ اور اپنے علاج کے لیے انہوں نے ہمارے تین ڈاکٹرز کو یرغمال بنا لیا۔۔۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان ڈاکٹرز کو کسی طور چھوڑنے کو تیار نہیں۔۔۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ڈاکٹرز رام کے چہرے اور اس کے اصل روپ سے آشنا ہو چکے ہیں۔۔۔ اور رام جو ہر وقت بھیس بدلے رہتا ہے کبھی نہیں چاہے گا کہ ڈاکٹرز وہاں سے نکل کر اس کے اصلی روپ کے بارے میں ہمیں یا پولیس کو آگاہ کریں۔۔۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رام نے اپنا ٹھکانہ جنگل کے بیچوں بیچ بنایا ہے جس کا نقشہ آپ کے سامنے موجود ہے۔۔۔ اب اس جنگل کو چاروں طرف سے آرمی نے گھیر رکھا ہے لیکن جنگل کے اندر جانے کی ہمت نہیں۔۔۔ جنگل سے انکے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے یہ دو راستے ہیں۔۔۔ جنہیں ہائ لائیٹ کیا گیا ہے۔۔۔ لیکن ان دونوں راستوں پر رام کے درجنوں پہریدار ہیں۔۔۔ دو بار آرمی نے اپنے بندے بھیجے تا کہ ڈاکٹرز کو چھڑانے کے ساتھ ساتھ رام کو گرفتار کیا جا سکے لیکن دونوں بار سولجرز ان کے ٹھکانے پر پہنچنے سے پہلے ہی شہید کر دئیے گۓ۔۔۔ رام انتہائ شاطر اورچالاک بندہ ہے۔۔۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو بغیر کوئ نقصان پہنچاۓ جنگل سے نکلنے دیا جاۓ۔۔۔ آرمی کا پہرہ ہٹا دیا جاۓ۔۔۔ اگر وہ بحفاظت جنگل سے نکل گۓ تو ڈاکٹرز کو چھوڑ دیں گے۔۔۔ اب یہاں دو اہم باتیں ہیں۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ انہیں پکڑنے کا یہ جو موقع ہمیں ملا ہے دوبارہ کبھی نہیں ملے گا۔۔۔ ہم اس موقع کو گنوانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔۔۔ دوسری بات یہ کہ بالفرض ہم ان کا مطالبہ مان بھی جائیں تب بھی وہ ان ڈاکٹرز کو زندہ ہمارے حوالے نہیں کریں گے۔۔۔ اور ان ڈاکٹرز کی جان ہمارے لیے بہت قیمتی ہے۔۔۔ آرمی اب کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی اسی لیے یہ مشن ہمارے سپرد کر دیا گیا ہے۔۔۔ ہمیں ہر حال میں ان ڈاکٹرز کی جان بچانی ہے۔۔۔ اور ان سب ٹیررسٹ کو بھی پکڑنا ہے۔۔۔ ” میجر حبیب نے چند لمحے رک کر سانس بحال کیا۔۔۔ پھر اپنی بات جاری رکھی۔۔۔ “جب یہ مشن میرے حوالے کیا گیا تو میرے ذہن میں سب سے پہلا نام کیپٹن ابتہاج کا ہی گونجا۔۔۔ آئ نو یہ مشن کافی خطرناک ہے۔۔۔ لیکن اسے پورا بھی وہی کر سکتا ہے جو خطروں کا کھلاڑی ہو۔۔۔ اور اس کھیل کا بہترین کھلاڑی کیپٹن ابتہاج کے سوا کوئ نہیں۔۔۔” میجر حبیب کے چہرے پر ایک انوکھی سی روشنی تھی ابتہاج کا ذکر کرتے ہوۓ۔۔۔ نگاہوں کا مرکز اب میز کے گرد بیٹھا ایک نوجوان تھا جس کی وجاہت اس نیم اندھیرے میں بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔ چہرہ بالکل بے تاثر تھا۔۔۔ “کیپٹن ابتہاج۔۔۔” میجر حبیب نے پکارا۔۔۔ “یس سر۔۔۔” وہ خوبصورت نوجوان کھڑا ہوا۔۔۔ آواز سے ہی اس کے ارادوں کی پختگی ظاہر ہوتی تھی۔۔۔ نظریں بدستور اسکرین پر جمی تھیں جیسے اپنا لائحہ عمل طے کر رہا ہو۔۔۔ “آپ کو آپ کے منتخب کیے گۓ چار سولجرز دے دئیے گۓ ہیں۔۔۔ ابھی کچھ ہی دیر میں آپ کی ٹیم کو نکلنا ہے۔۔۔ اور مجھے امید ہے کہ آپ اچھی خبر لے کر لوٹیں گے۔۔۔ اینی ڈاؤٹ اباؤٹ دس مشن؟؟؟” آخر میں ان کی نظریں باقی چاروں افراد کی طرف گئیں۔۔۔ “نو سر۔۔۔” سب نے ایک آواز میں کہا۔۔۔ “بیسٹ آف لک۔۔۔ کم آن۔۔۔ اپنی ضرورت کی تمام چیزیں رکھ لیں۔۔۔ ٹائم کم ہے۔۔۔ ہری اپ۔۔۔” میجر حبیب کہتے ہوۓ باہر کی جانب بڑھ گۓ۔۔۔ ان کے پیچھے ہی باقی چاروں بھی نکل گۓ جبکہ کیپٹن ابتہاج پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھساۓ مضبوط قدم اٹھاتا اسکرین کے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔۔ اسکرین کی سفید روشنی براہ راست اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔۔۔ جس میں اس کی سفید رنگت چمک رہی تھی۔۔۔ چہرے پر ہلکی شیو بہت بھلی لگ رہی تھی۔۔۔ چھ فٹ سے نکلتا قد، چوڑے شانے، مضبوط مسلز،سیاہ گہری بے تاثر آنکھیں، اور بھورے بال۔۔۔ بلاشبہ وہ ایک آئیڈیل مرد تھا۔۔۔ چند لمحے کچھ سوچنے کے بعد وہ مڑا اورتیز تیز قدم اٹھاتا میٹنگ روم سے باہر نکل گیا۔۔۔
جاری ہے
