Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19

کیا قصور تھا میرے مما اور ڈیڈ کا… صرف یہ کہ اس پر بھروسہ کیا تھا ہم نے… کسی پر بھروسہ کرنے کی اتنی بڑی سزا… لوگ اتنے برے کیوں ہوتے ہیں ڈیڈ….کیوں…؟؟” وہ مسلسل رو رہی تھی… سر جھکاۓ… ہچکیوں سے… اس کے پیچھے آتے راجا نے الجھن بھرے انداز میں اس کے آخری الفاظ سنے… “یہ… یہ سب…کیا کہہ رہی ہے… ” وہ حیران ہوا… تب ہی اس کی نگاہ قبروں کے سرے پر لگے دونوں قطبوں پر پڑی… اور وہ جیسے ساکت ہو گیا…. کائنات گویا رک سی گئ تھی… قدموں تلے سے زمین کھسک گئ… رگوں میں خون منجمند ہوا… سانس سینے میں اٹکنے لگی… اسے لگا وہ اب کبھی سانس نہیں لے پاۓ گا… ابیہا کچھ دیر پہلے جس قبر کے سامنے بیٹھی قبر کے نیچے پرسکون سوۓ وجود کو ڈیڈ کہہ کر پکار رہی تھی اس کے قطبے پر لکھا نام پڑھا راجا نے… “مراد بخاری…” دل میں اذیت کی ایک لہر سی اٹھی تھی… وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹا… سر نفی میں ہلاتے ہوۓ بے یقینی سے سامنے بیٹھی سسکتی ہوئ لڑکی کو دیکھا… “اینجل… “
اس نے کہنا چاہا تھا لیکن آواز حلق سے نکل ہی نہ سکی…
_______
وہ جو ابیہا سے یہ کہنے آیا تھا کہ اسے ضروری کام ہے اس لیے اب چلنا چاہیے, یہ انکشاف ہونے کے بعد کہ ابیہا ہی اینجل ہے… وہ اینجل جسے وہ پچھلے اٹھارہ سالوں سے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہے, جسے ان اٹھارہ سالوں کے ایک ایک لمحے میں یاد کیا اس نے… وہ جہاں کا تہاں کھڑا رہ گیا… پہلے بے یقینی تھی, پھر حیرت اور پھر بے بسی… اس نے خود کو لاچار محسوس کرتے ہوۓ اذیت سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا… پھر دو انگلیوں سے کنپٹی کو دبایا…
اس سے پہلے وہ بہت بار سوچ چکا تھا کہ جب کبھی وہ زندگی میں اینجل سے ملے گا تو اس کا سامنا کیسے کرے گا… اس سے کیا بولے گا… کیسے اسے اپنی صفائ دے گا… کیسے اس کے دل سے اپنے لیے نفرت اور کدورت کو ختم کرے گا… یہاں تک کہ اس نے باقاعدہ جملے بھی سوچ رکھے تھے جو اسے اینجل سے کہنے تھے…لیکن اینجل سے اس کا سامنا یوں ہو گا… یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا… وہ جو مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی کوئ راہ نکالنے کا ہنر جانتا تھا آج کی اس مشکل گھڑی کا سامنا کرنا اسے بے حد دشوار اور کٹھن لگ رہا تھا… سارے الفاظ کہیں دور جا سوۓ تھے… چند گہرے سانس بھرتے ہوۓ اس نے اپنی حالت پر قابو پانا چاہا… پھر مڑا اور لڑکھڑاتے قدموں سے گاڑی کی جانب بڑھا… پانی کی بوتل پکڑی اور ایک ہی سانس میں ختم کر دی… دل میں کہیں آگ سی لگی تھی… سینے میں جلن بڑھتی جا رہی تھی… ایک دم شدید گھٹن کا احساس ہونے لگا… وہ سینہ مسلتا اس آضطراب کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا… جبکہ اس کی حالت سے بے خبر ابیہا دعا مانگنے کے بعد اب دونوں قبروں پر پھول ڈال رہی تھی…
راجا نے سیل فون نکالا… کوئ نمبر ڈائل کرتے ہوۓ فون کان سے لگایا… ” ہیلو سر… کیپٹن ابتہاج اسپیکنگ… آئ… آئم سوری… آج ہم ریڈ نہیں کر سکتے… ” اس انکشاف نے اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے سے جس لڑکی سے وہ انتہائ برا سلوک کر رہا تھا وہی لڑکی اینجل ہے… وہ اینجل جسے ذرا سی تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا وہ… جس کی ایک معمولی سی مسکراہٹ کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو سکتا تھا…
اس کی آواز کی لڑکھڑاہٹ محسوس کر کے دوسری جانب سے پریشانی کے عالم میں کچھ پوچھا گیا تھا… “نو… آئم فائن سر… بس کچھ طبیعت ٹھیک نہیں… جلد ہی ہم ریڈ کریں گے اسد شیرازی کے خفیہ ٹھکانوں پر…. ” اس نے دوسرے ہاتھ سے پیشانی مسلی… “اوکے سر… آئ ول انفارم یو… ” کہہ کر اس نے کال ڈس کنکٹ کر دی… کچھ دیر بعد ابیہا قبروں کے قریب سے اٹھی… ایک الوداعی نظر ان دونوں قبروں پر ڈالی… نم آنکھوں سے مسکرانے کی کوشش کی… پھر مڑی اور دھیمے قدموں سے چلتی گاڑی میں آ بیٹھی… اس کے آنے تک راجا خود کو کافی حد تک سنبھال چکا تھا… لب بھینچ کر ڈرائیو کرتے اس نے کئ بار ابیہا کے ستے ہوۓ چہرے کو دیکھا… کتنی شدید خواہش تھی اس کے دل میں اس چہرے کو دیکھنے کی… لیکن خواہش پوری بھی ہوئ تو کہاں… جہاں اسے بالکل توقع نہ تھی… راجا نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائ… کوئ اور وقت ہوتا تو ابیہا یقیناً اسے ٹوکتی اتنی تیز گاڑی چلانے پر… لیکن آج شاید اس کے لبوں پر بھی چپ کی مہر لگی تھی… تبھی مضمحل سی خاموشی سے بیٹھی رہی…
💝💝💝💝💝
راجا جو پہلے اینجل کے برتھ ڈے پر اس کے ساتھ جانے سے کترا رہا تھا اینجل کی مما اور ڈیڈ کے اخلاق اور ان کے رویے سے بے حد متاثر ہوا… انہوں نے اسے بھی بالکل ویسا ہی پیار اور توجہ دی جیسے اپنی بیٹی کو… بلاشبہ یہ راجا کی زندگی کا یادگار دن تھا جسے وہ کبھی بھول نہیں سکتا تھا… نہیں جانتا تھا کہ قسمت ابھی اس دن کو اس کے لیے مزید یادگار بنانے جا رہی تھی…
” ابتہاج… آپ کہاں رہتے ہو… بتا دو تا کہ ہم آپ کو وہیں ڈراپ کر دیں…” اینجل کی مما نے محبت سے ابتہاج کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ ہوچھا…رات کے ڈیڑھ بجے وہ لوگ اینجل کا برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے بعد اب گھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے… مراد بخاری نے آج ڈرائیور کو ساتھ نہیں لیا تھا یہ سوچ کر کہ انہیں نہ جانے کتنی دیر ہو جاۓ… اور ڈرائیور کے بیوی بچے اس کا انتظار کرتے رہیں گے… اس لیے وہ خود گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے… مسز مراد بخاری کی بات پر انہوں نے بیک ویو مرر میں راجا کا چہرہ دیکھا… جس پر ایک دم تاریک سایہ سا لہرایا تھا… لب کاٹتا ہوا وہ سر جھکا گیا… مسز مراد بخاری بھی حیران سے اسے دیکھے گئیں… “مما… آپ کو پتا ہے… پرنس کے مما اور ڈیڈ کی ڈیتھ ہو چکی ہے… اس نے مجھے بتایا تھا ایک بار… ” راجا کے کچھ نہ بولنے پر اینجل نے اس کی خاموشی کی وضاحت کی جس پر مراد بخاری اور ان کی شریک حیات دونوں کے دل دکھی ہوۓ… “تو پھر آپ اب تک کہاں رہتے تھے ابتہاج… ؟؟” مراد بخاری نے نرم آواز میں پوچھا… راجا جو سر جھکاۓ آنسو پینے کی کوشش کر رہا تھا اس نے آنکھیں رگڑیں… “جہاں بھی جگہ مل جاۓ… سڑک پر… فٹ پاتھ پر… یا کسی خالی پڑی زمین پر… کہیں بھی رات گزار لیتا ہوں… آپ مجھے اینجل کے اسکول کے قریب اتار دیں… میں خود ہی کوئ جگہ تلاش کر لوں گا… ” دھیمی آواز میں اس نے جواب دیا تھا… مراد بخاری نے ترحم بھری نگاہوں سے اسے دیکھا… “ارے… پھر کیا ہوا اگر آپ کے مما اور ڈیڈ نہیں ہیں تو… ہم ہیں نا… آپ ہمیں ہی اپنے مما اور ڈیڈ سمجھ لو… اینجل کی طرح… ہمارے ساتھ ہمارے گھر چلو گے… ؟؟” مسز مراد بخاری نے محبت بھری نگاہوں سے اسے تکتے ہوۓ پوچھا… راجا حیران سا انہیں دیکھے گیا… کیا کوئ اتنا مہربان, اتنا رحم دل بھی ہو سکتا ہے…کہ ایک انجان لڑکے پر بھروسہ کر کے اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاۓ… “بولو بیٹا… چلو گے ہمارے ساتھ… ؟؟؟” مسز مراد بخاری نے اس کی ٹھوڑی کو اوپر کرتے ہوۓ دوبارہ پوچھا… راجا نے نم آنکھوں سے مسکراتے ہوۓ سر جھکا دیا… جس کا مطلب یقیناً ہاں ہی تھا… اینجل اچھلنے لگی تھی گاڑی میں ہی… اس سے اپنی خوشی پر قابو پانا مشکل ہونے لگا… “ویسے مجھے اپنی لٹل پرنسس سے ایک بات پوچھنی تھی…” مراد بخاری نے راجا کا دھیان بٹانے کی غرض سے بات بدلی… “وہ کیا ڈیڈ… ؟؟ ” اینجل نے ان کی سیٹ کے پیچھے سے بازو ان کی گردن میں حمائل کیے… ” وہ یہ کہ… اس سے پہلے کبھی آپ نے کسی کو اپنا نِک نیم نہیں بتایا… آپ کی یہی ضد ہوتی تھی کہ صرف میں اور آپ کی مما ہی آپ کو اینجل کہہ کر بلائیں… پھر ابتہاج کو آپ نے خود اپنا نام اینجل ہی بتایا… بھلا کیوں…؟؟” مراد بخاری کے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ ابھری تھی… اینجل نے انگلی گال پر ٹکائ… آنکھیں پٹپٹاتے ہوۓ کچھ سوچنے لگی… “کیونکہ پرنس میرا بیسٹ فرینڈ ہے… جیسے آپ اور مما بھی میرے بیسٹ فرینڈ ہو… اور بیسٹ فرینڈز ِنک نیم سے ہی بلاتے ہیں نا… ” اپنی طرف سے اس نے پوری دانشمندی سے مراد بخاری کو وضاحت دی تھی… وہ تینوں مسکرا دئیے اس کے انداز پر… “اچھا تو ہماری لٹل پرنسس… اوہ شٹ…” مراد بخاری مسکراہٹ دباتے آنکھوں میں شرارت سموۓ کچھ کہنے جا رہے تھے جب اچانک سامنے کسی کے آ جانے سے بریک پر پاؤں رکھا… سامنے آ جانے والے شخص کو بچاتے بچاتے ان کی گاڑی فٹ پاتھ سے جا ٹکرائ… ایک جھٹکا سا لگا تھا سب کو… لیکن شکر بچت ہو گئ تھی… گاڑی نے اس شخص کو تھوڑا سا ہٹ کیا تھا لیکن وہ شخص سڑک پر گرنے کے بعد اٹھا ہی نہ تھا… مراد بخاری گاڑی سے اتر کر تیزی سے اس کی طرف بڑھے… اس سنسان سڑک پر رات کے اس وقت وہ شخص نہ جانے کیا کر رہا تھا… مسز مراد بخاری بھی گاڑی سے اتریں…لیکن گاڑی کے قریب ہی رک گئیں…
“ہیلو… کیا آپ ٹھیک ہیں… ہیلو… آنکھیں کھولیے… “مراد بخاری نے اس کا شانہ ہلایا… بظاہر تو کوئ چوٹ نظر نہ آ رہی تھی… پھر بھلا یہ شخص اٹھ کیوں نہیں رہا… “ہیلو… آر یو آل رائٹ… ؟؟” مراد بخاری کے لہجے سے پریشانی جھلکنے لگی… تبھی اس آدمی نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں… سرعت سے ریوالور نکالا اور سیدھا کھڑا ہوتے ہوۓ مراد بخاری پر ریوالور تان لیا… “جو کچھ بھی ہے نکالو… جلدی… ” مراد بخاری ہکا بکا اسے دیکھتے رہ گۓ… ان کی بیوی بھی صورتحال دیکھتی خوفزدہ سی ان کے قریب آئیں… اس سے پہلے کہ مراد بخاری کچھ کہتے, یا کوئ حرکت کرتے ایک جانب سے چار پانچ مزید لوگ ان کی طرف آۓ… ان کے ہاتھ میں بھی گنز تھیں اور نشانے پر وہ دونوں میاں بیوی…
________
مسز مراد بخاری کے چہرے کا رنگ سفید پڑنے لگا تھا ان پانچ افراد کو اپنی اور مراد بخاری کی طرف بڑھتے ہوۓ دیکھ کر… انہوں نے بے ساختہ مراد بخاری کا کندھا تھاما… ان کی گرفت سے ہی مراد بخاری کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ سخت خوفزدہ ہیں… ان میں سے تین افراد کے ہاتھوں میں گنز تھیں جبکہ دو نے خنجر تھام رکھے تھے… مراد بخاری بھی ہر وقت اپنے ساتھ ایک عدد ریوالور رکھتے تھے… انہوں نے تھوڑا سا رخ موڑ کر ریوالور نکالنا چاہا لیکن ان کے قریب کھڑا وہ شخص چوکنا تھا… اس نے فورأ مسز مراد بخاری کو اپنی جانب کھینچ کر ان کی کنپٹی پر اپنا ریوالور رکھ دیا… تب تک باقی افراد بھی ان کے قریب پہنچ چکے تھے… ان پانچوں کے چہروں پر سیاہ نقاب تھے… “اگر اپنی بیوی کی سلامتی چاہتے ہو تو گن نیچے پھینک دو… ” اس شخص نے مسز مراد بخاری پر اپنی گرفت مزید مضبوط کی… مراد بخاری نے ایک بے بس نگاہ سامنے کھڑی اپنی شریک حیات پر ڈالی… اور پھر کوئ چارہ نہ پاتے ہوۓ ریوالور نیچے رکھ دیا جسے دوسرے آدمی نے جھپٹ کر اپنے قبضے میں لے لیا…
راجا اور اینجل دونوں خوفزدہ نگاہوں سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے… اینجل کے چہرے کا رنگ سفید پڑنے لگا… اس کے وجود پر لرزش سی طاری ہونے لگی تھی… راجا اس سے بڑا تھا اور وہ ویسے بھی اپنے گھر میں جھگڑے ہوتے ہوۓ دیکھتا رہا تھا… اس کا دل تھوڑا مضبوط تھا لیکن اینجل کا آج تک ایسی کسی صورتحال سے واسطہ نہ پڑا تھا… وہ حد سے زیادہ گھبرا گئ تھی… راجا نے اس کی حالت دیکھی تو پریشان ہو گیا… “اینجل… کیا ہوا… تم ٹھیک ہو… ” بے ساختہ اس نے اینجل کا ہاتھ تھاما… اینجل نے چہرہ اس کی طرف موڑا… آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں… ” مما اور ڈیڈ… ” وہ بمشکل بول پائ تھی… اشارہ اس طرف تھا جہاں وہ دونوں ان چھ گنڈوں کے نرغے میں کھڑے تھے… راجا نے ایک نظر اینجل کے چہرے کی طرف دیکھا… “کچھ نہیں ہو گا انہیں… تم فکر مت کرو… تم اس طرف مت دیکھو اینجل… ایسا کرو… یہاں نیچے چھپ جاؤ… ادھر بیٹھ جاؤ… بس کچھ ہی دیر میں وہ دونوں آ جائیں گے… ” راجا کا اپنا دل بھی لرز رہا تھا لیکن اس وقت اسے اینجل کی فکر تھی… اسی لیے اسے دلاسہ دیتے ہوۓ راجا نے کار کی دونوں سیٹوں کے درمیان موجود جگہ میں نیچے بٹھا دیا تاکہ باہر کا منظر دیکھ وہ مزید خوفزدہ نہ ہو… اینجل نم آنکھوں سے سر ہلاتی نیچے جھک گئ… راجا پھر باہر دیکھنے لگا…
“دیکھو… تم لوگوں کو پیسے چاہیئں نا… یہ لو… میرے پاس جو کچھ بھی ہے لے لو… لیکن ہمیں چھوڑ دو پلیز… ” مراد بخاری نے ہاتھ اٹھا کر کہا اور ساتھ ہی اپنا والٹ نکال کر ان کی طرف بڑھایا جس میں کچھ کیش تھا اور باقی کریڈٹ کارڈز… وہ انہیں کوئ ڈکیت سمجھ رہے تھے تبھی ان کی مطلوبہ چیزیں انہیں خود ہی نکال کر دے دیں… ان میں سے ایک شخص نے وہ والٹ پکڑا… اور پھر اس کی نظر مسز مراد بخاری کے کانوں میں چمکتے ڈائمنڈ ٹاپس اور گردن میں ڈائمنڈز کے نفیس سے نیکلس پر پڑی… مراد بخاری نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا “راحیلہ… یہ بھی دے دیں انہیں… ” ان کے کہتے ہی مسز مراد بخاری نے جلدی سے ٹاپس اور نیکلس اتار کر انہیں دیا… “دیکھو… ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا ہم نے تمہیں دے دیا… اب ہمیں جانے دو پلیز… ” مراد بخاری نے اپنی شریک حیات کا کانپتا ہوا ہاتھ تھاما… جیسے اس مشکل وقت میں انہیں تسلی دینی چاہی…
سامنے کھڑے ایک شخص کا قہقہہ گونجا تھا ان کی بات پر… ” اتنی بھی کیا جلدی ہے مراد بخاری… سب سے اہم چیز تو ابھی رہتی ہے جو تم سے لینی ہے… ” ایک آواز ابھری تھی… مراد بخاری کو وہ آواز جانی پہچانی سی لگی… لیکن ذہنی پریشانی کے باعث انہیں یاد نہ آ سکا کہ یہ آواز کہاں سنی ہے… “کیا مطلب…. ؟؟” مراد بخاری الجھے… ساتھ ہی ان لوگوں کو محسوس کرواۓ بغیر تھوڑے تھوڑے کھسکتے اپنی بیوی کے سامنے آ کھڑے ہوۓ تھے… انہیں یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ محافظ ہیں ان کے…
“مطلب یہ مراد… کہ ہمیں یہ سب نہیں چاہیے… ” وہی نقاب پوششخص دوبارہ بولا تھا… ” تت…تو…کیا چاہیے تم لوگوں کو… ؟؟” مراد بخاری کے لہجے میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی… “تمہاری جان… ” دوسری جانب سے سرد لہجے میں کہا گیا تھا… مسز مراد بخاری نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھا… ان کی آنکھوں میں ہراس پھیلا تھا… “لل…لیکن کیوں… ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے… ؟؟” مراد بخاری نے خود کو مضبوط بنانا چاہا… “تم نے… ؟؟” وہ شخص آگے بڑھا… مسز مراد بخاری کو کھینچ کر مراد بخاری کی اوٹ سے نکالا… چند لمحے اسے دیکھتے رہنے کے بعد ہاتھ میں پکڑا خنجر ان کی کنپٹی پر رکھا… مراد بخاری نے اپنی بیگم کو اس کی گرفت میں دیکھا تو مزاحمت کرنی چاہی لیکن ان کے دونوں ہاتھ دو افراد نے پکڑ رکھے تھے… “تم نے یہ کیا کہ بے تحاشہ دولت جمع کی… اور اس دولت کو اپنا دشمن بنا لیا… تمہیں کیا لگتا ہے… کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہو تم اور ہم تم سے فقط یہ رقم لے کر تمہیں چھوڑ دیں گے… بالکل نہیں… تمہاری اس دولت نے ہی تو مجھ سے لمبی پلاننگ کروائ ہے… کب سے انتظار تھا اس موقع کا… بالآخر آج میری پلاننگ کامیاب ہو ہی جاۓ گی… ” اس شخص نے دھیرے دھیرے چاقو کی نوک مسز مراد بخاری کی کنپٹی سے ٹھوڑی کی طرف لاتے ہوۓ کہا تھا… ان کے چہرے پر دو تین جگہوں پر زخم بھی آۓ… منہ سے سسکیاں بھی نکلیں… لیکن مقابل کو کہاں پرواہ تھی… مراد بخاری نے طیش میں آ کر چینخنا چاہا لیکن ان کی آواز نکلنے سے پہلے ہی ان کے پیچھے کھڑے افراد نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ آواز دبا دی… وہ شخص اب مراد بخاری کی طرف بڑھا… مسز مراد بخاری کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے… منہ پر ہاتھ رکھتے وہ اپنی سسکیوں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھیں…
راجا نے گاڑی میں ادھر ادھر نگاہ دوڑائ کہ کہیں کوئ چیز مدد کے لیے نظر آ جاۓ… لیکن افسوس… اس کی نگاہ ناکام لوٹی تھی… فون بھی مراد بخاری کے پاس ہی تھا ورنہ وہ کسی سے رابطہ کر کے ہی مدد کے لیے بلا سکتا…
“بہت طاقت ہے تم میں… ؟؟ چینخو گے…؟؟ مدد کے لیت بلاؤ گے کسی کو… تمہیں کیا لگتا ہے… جو تمہاری مدد کو آۓ گا وہ زندہ بچ کر جاۓ گا ہم سے… ؟؟ ہرگز نہیں… آج تم لوگوں کی موت طے ہے مراد بخاری… ” اس کی بات پر مسز مراد بخاری کے منہ سے بلند سسکی برآمد ہوئ تھی… اس نقاب پوش کا ہاتھ بے ساختہ گھوما اور ہاتھ میں موجود خنجر ان کی گردن چیرتا چلا گیا… یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ مراد بخاری کچھ کر بھی نہ پاۓ… خون کا ایک فوارہ سا نکلا… شاید شہ رگ کٹ گئ تھی… وہ زمین بوس ہوئیں… ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں…
راجا نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکی کا گلا گھونٹا… “کیا ہوا پرنس… ؟؟” اینجل نے پوچھا اور اٹھنے کی کوشش کی… “کچھ نہیں ہوا اینجل… تم…تم اٹھو مت… نیچے ہی بیٹھی رہو… ” راجا نے کپکپاتی آواز میں اس سے کہا تھا… وہ نہیں چاہتا تھا کہ اینجل اپنی ماں کی یہ حالت دیکھے… وہ خود دل میں دعائیں مانگ رہا تھا کہ کاش کوئ معجزہ ہو جاۓ… کوئ اس طرف آ جاۓ اور مراد بخاری کی جان بچا لے… اینجل اس کے کہنے پر پھر نیچے بیٹھ گئ…
مراد بخاری نے مزاحمت کی بھرپور کوشش کی تھی… لیکن سامنے موجود شخص نے تین زوردار مکے ان کے پیٹ میں رسید کیے… “سالے… بڑی جلدی ہے مرنے کی… صبر کر… پہلے اپنی گھر والی کو تو دیکھ لے مرتے ہوۓ… پھر تیری ہی باری ہے…” مراد بخاری درد سے دہرے ہوتے ہوۓ بے بس نگاہوں سے سامنے اپنی بیوی کے تڑپتے وجود کو دیکھ رہے تھے… اپنی بیوی کی حالت اور اپنی بے بسی پر ان کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے… تبھی ان میں سے ایک شخص کا سیل وائبریٹ ہونے لگا… اس نے کال ریسیو کی… پھر جلدی سے سامنے کھڑے شخص (جو شاید ان کا سربراہ تھا) سے مخاطب ہوا… “سر جلدی کریں… ایک گاڑی اس طرف آ رہی ہے… ” مراد بخاری کی نگاہوں میں امید سی چمکی کہ شاید اب کوئ مدد کو آ جاۓ… سامنے کھڑا شخص اپنے ساتھی کی بات سن کر ان کی طرف متوجہ ہوا… “تم سے باتیں تو بہت سی کرنی تھی مراد علی… لیکن کیا کریں… تمہاری موت کا فرشتہ تمہارا انتظار کر رہا ہے… تمہیں جلدی اوپر بھیجنا پڑے گا… ” وہ دو قدم آگے آیا تھا… مراد بخاری کی خوفزدہ نگاہوں میں ایک دم بے یقینی ابھری… ان کے منہ سے ہاتھ ہٹا لیے گۓ تھے… “اسد تم… ؟؟” ان کے لہجے میں بھی حیرت اور بے یقینی تھی… وہ شخص جو انہیں مارنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا ایک پل کے لیے رکا…
راجا نے جب اس شخص کو مراد بخاری کی جانب بڑھتے دیکھا تو بے ساختہ دروازے کی طرف لپکا… دروازہ کھولنے کی کوشش کی… لیکن وہ پہلی بار گاڑی میں بیٹھا تھا… اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ گاڑی کا دروازہ کیسے کھولنا ہے… “کہاں جا رہے ہو پرنس… مجھے بھی جانا ہے… “اینجل نے بھرائ آواز میں کہا تھا… راجا نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا… “تم یہیں رہو اینجل… باہر مت دیکھنا… دروازہ کہاں سے کھلنا… ” راجا نے اسے تنبیہہ کرتے ہوۓ دروازے کا پوچھا… “لیکن مجھے بھی… ” اینجل کچھ کہہ رہی تھی جب راجا غصے سے اس کی طرف مڑا… “اینجل دروازہ کہاں سے کھلے گا… ؟؟” ادھر ادھر ہاتھ مارتا وہ کوشش کر رہا تھا دروازہ کھولنے کی… اینجل کے بتانے سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا… راجا اینجل کی طرف مڑا… “اینجل… پرامس کرو… کچھ بھی ہو جاۓ باہر نہیں نکلو گی… باہر نہیں دیکھو گی… ” راجا کی آواز لرز رہی تھی… اگر اینجل گاڑی سے نکلتی تو ان کی نگاہوں میں آنے پر اس کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا تھا یہی سوچ کر راجا اس سے وعدہ لے رہا تھا… “لیکن فرینڈ میں… ” وہ حواس باختہ سے کچھ بول رہی تھی جب راجا نے سختی سے س کا بات کاٹی… “پرامس کرو اینجل… “اس کی بات پر اینجل نے روتے ہوۓ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا تھا… آنکھوں میں نمی لیے راجا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اپنا ہاتھ کھینچ کر تیزی سے دروازہ بند کیا اور ان کی طرف بڑھ گیا…
“ارے واہ… تم نے تو مجھے پہچان لیا… کمال ہے… ” اس شخص کا لہجہ تمسخر اڑاتا ہوا تھا… “اب تو یقیناً اس نقاب کی کوئ ضرورت ہی نہیں… ” اس نے کہتے ہوۓ نقاب اتار پھینکا… مراد بخاری کا شک یقین میں بدل گیا… یہ اسد ہی تھا… ان کا دوست… بہترین دوست… جو آستین کے سانپ کی طرح آج انہیں ہی ڈسنے کو تیار تھا… “اسد… تم… تم ایسا کیسے کر سکتے ہو… ؟؟” مراد بخاری کے لہجے میں درد تھا, اذیت تھی… مان ٹوٹنے کی… دوستی ٹوٹنے کی… “ہاہاہا… یہ دولت بہت کچھ کروا دیتی ہے مراد علی… ” اسد انہیں ہمیشہ مراد علی ہی کہہ کر بلاتا تھا اور اسی لیے وہ اسے پہچان گۓ تھے… “خیر… باتوں کا وقت ختم ہو چلا… گڈ باۓ… ” اسد نے دور سے ایک بچے کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا… سڑک کے ایک جانب سے کسی گاڑی کی ہیڈلائیٹس کی روشنی بھی نظر آنے لگی… اسد نے پھرتی سے خنجر مراد بخاری کی گردن کی دائیں جانب گھونپا… پھر اسے نکال کر عین دل کے مقام پر… “انکل… “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *