Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21

راجا اسد کا چہرہ دیکھ چکا تھا… لیکن اس وقت اسے مراد بخاری کی فکر تھی… مراد بخاری کو نیچے گرتا دیکھ کر وہ چلایا… اسد نے ایک نظر بچے کو دیکھا… قاتل کا چہرہ وہ دیکھ چکا تھا لیکن اب اتنا وقت نہ تھا کہ اس بچے کو بھی مار سکتے… ویسے بھی جس کام کے لیے وہ آۓ تھے وہ ہو چکا تھا… اس گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ ایک جانب بنی ڈھلوان کی جانب اتر گۓ… راجا مراد بخاری کے قریب پہنچا تو وہ تکلیف سے تڑپ رہے تھے… خنخر ان کے دل کے مقام پر ہی گڑا تھا… راجا نے روتے ہوۓ ان کا سر اپنی گود میں لیا… “انکل… انکل اٹھیے پلیز… ” راجا ان کی تکلیف سے خود بھی تڑپ رہا تھا… اس کی نظر خنجر پر پڑی…اس کے معصوم ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ شاید اس خنجر کی وجہ سے انہیں زیادہ تکلیف ہو رہی ہے… کچھ سوچ کر اس نے لرزتے ہاتھ خنجر کی طرف بڑھاۓ… آنکھیں سختی سے بھینچ کر سسکتے ہوۓ اس نے پورا زور لگا کر خنجر ان کے سینے سے نکالا… اور دوسرا ہاتھ ان کے زخم سے ابلتے خون پر رکھ کر خون کو روکنے کی کوشش کی… تبھی ایک گاڑی ان کے نزدیک آ کر رکی… اس میں سے تین مرد اور عورتیں برآمد ہوئیں… سب پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے سامنے پڑی دو لاشوں اور ایک بچے کو دیکھ رہے تھے… عورتیں تو باقاعدہ چینخنے لگی تھیں… ان سے کچھ فاصلے پر مراد بخاری کا والٹ گرا ہوا تھا… مراد بخاری کا جسم بے جان ہو چکا تھا… ان میں سے ایک شخص راجا کے ہاتھ میں موجود خنجر دیکھ کر فون کان سے لگاۓ کہہ رہا تھا…
“ہیلو پولیس اسٹیشن… یہاں ایک بچے نے دو لوگوں کا خون کر دیا… آپ جلد سے جلد پہنچنے کی کوشش کریں… میں ایڈریس بتا رہا ہوں آپ کو…” وہ شخص مزید بھی کچھ کہہ رہا تھا لیکن راجا نے اس کا جملہ “ایک بچے نے دو لوگوں کا خون کر دیا ہے” سن کر پھٹی نگاہوں سے کبھی انہیں دیکھ رہا تھا اور کبھی اپنے ہاتھ میں موجود خنجر کو… جبکہ نیچے گہرائ میں موجود اسد کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی تھی یہ جملہ سن کر… اب اس بچے کو مارنے کی ضرورت ہی نہ تھی… وہ خود ہی قتل کے الزام میں پھنس چکا تھا… ان کی پلاننگ مزید آسان ہو گئ…
💝💝💝💝💝
اس نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھولیں… اس کی نیلی آنکھوں میں سرخی چھائ ہوئ تھی… ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے… ماضی کی تکلیف دہ یادیں ایک بار پھر اس کے ذہن میں آ کر بار بار اسے ڈسٹرب کر رہی تھیں… اس دن اینجل کے برتھ ڈے پر جو کچھ بھی ہوا اسے لفظ لفظ یاد تھا… آج بھی جب وہ سب یاد آتا تو اذیت انتہاؤں کو چھونے لگتی… وہ دن راجا کی زندگی کا سب سے بدترین دن تھا… بے قصور ہوتے ہوۓ بھی وہ مجرم ٹھہرایا گیا تھا… وہ بہت رویا تھا… چلایا تھا کہ خون اس نے نہیں کیا… وہ بے قصور ہے… قاتل کوئ اور ہے… لیکن پاکستان میں موجود انصاف پسندوں نے ایک بے قصور کو مجرم ثابت کر دیا… کیونکہ ان کے پاس ثبوت موجود تھا… خنجر پر راجا کی انگلیوں کے نشان… اور گواہ بھی موجود تھے… جنہوں نے موقع واردات پر راجا کو خنجر کے ساتھ لاشوں کے قریب دیکھا تھا… “تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ یہ فیصلہ کیا جاتا ہے… کہ مراد بخاری اور ان کی والدہ کا قتل اس بچے ابتہاج نے ہی کیا ہے… اور اس جرم کی پاداش میں عدالت اسے دس سال کی سزا سناتی ہے… ” فیصلہ سنا دیا گیا تھا… کیس حل کر دیا گیا تھا… راجا کی نگاہ بے ساختہ اینجل کی طرف اٹھی تھی جو اس وقت عدالت میں موجود تھی… اور اس کی نگاہوں میں بے یقینی تھی… اعتبار ٹوٹنے کا دکھ تھا… عدالت سے نکلتے ہوۓ بھی راجا کی نگاہیں اینجل پر ہی تھیں کہ ساری دنیا اس پر یقین کرے نہ کرے اینجل ضرور کرے گی… لیکن وہ معصوم تھی…ناپختہ ذہن کی مالک… اس نے بھی وہی دیکھا جو دوسروں نے دیکھا… اس نے بھی راجا کے ہاتھ میں ہی خنجر دیکھا تھا اور اس کے قریب اہنے ماں باپ کی لاشوں کو… وہ کیسے یقین کرتی راجا پر… جب ساری دنیا کہہ رہی تھی کہ قتل راجا نے کیے ہیں اور عدالت میں بھی یہ بات ثابت ہو چکی تھی تو وہ کس بنیاد پر راجا پر یقین کرتی… راجا کو پولیس لے جا چکی تھی… اینجل کے سر پر کسی نے ہاتھ رکھا… اس نے بھیگی نگاہیں اٹھا کر دیکھا… “اسد انکل… ” وہ ان کی گود میں منہ چھپاۓ سسک اٹھی تھی… “ڈیڈ صحیح کہتے تھے… ہمیں کسی پر بھی یوں بھروسہ نہیں کرنا چاہیے… اس نے میرے مما اور ڈیڈ کو مار دیا انکل…” وہ رو رہی تھی… اسد نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا… ” روتے نہیں ہیں بیٹا… آہ کے ڈیڈ چلے گۓ تو کیا ہوا… میں ہوں نا… میں بھی تو آہ کے لیے ڈیڈ کی طرح ہی ہوں… ” اسد نے اینجل کا سر گود سے اٹھا کر اس کے آنسو صاف کیے اور اسے بہلاتا ہوا عدالت سے باہر نکل گیا…
یوں راجا نے اپنے ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے کے لیے اپنی زندگی کے قیمتی ترین دس سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دئیے… اور اینجل کا اعتبار بھی کھو بیٹھا… وہ اینجل جس نے اسے زندگی کے اصل معنی سمجھاۓ تھے وہی اینجل اس سے نفرت کرنے لگی تھی…. شدید نفرت…
_______
راجا نے دس سال جیل میں گزارے تھے…ہر روز وہ اپنی جیب میں موجود تصویر کو دیکھتا جس میں وہ,اس کی ماں اور اس کی بہن تھیں… خان پور میں چند بھنے ہوۓ چنوں کی خاطر لڑائ جھگڑے کے دوران اس کے پاس موجود فوٹو فریم ٹوٹ گیا تھا… تب اس نے وہ فریم پھینک دیا اور تصویر کو تہہ کر کے اپنی جیب میں رکھ لیا… تہہ کرنے کے باعث ہی تصویر میں سلوٹیں سی پڑ چکی تھیں… راجا بہت دیر تک تصویر پر ہاتھ پھیر کر اپنی ماں اور بہن گڈی کے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا رہتا… کبھی اینجل کی دوستی کی نشانی کے طور پر دی گئ پائیل نکالتا اور اسے نم آنکھوں سے دیکھتا رہتا… اس کی باتوں کو یاد کر کے کبھی روتا تو کبھی مسکرا دیتا… زندگی عجب امتحان لے رہی تھی اس سے… جو گناہ اس سے سرزد بھی نہ ہوۓ ان گناہوں کی سزا اس کی قسمت میں لکھ دی گئ تھی… اس کی ماں نے بہت پہلے اسے ایک بات سمجھائ تھی کہ بیٹا زندگی میں کبھی اپنے رب سے شکوہ مت کرنا… چاہے کچھ بھی ہو جاۓ…تم پر کتنی ہی بڑی قیامت کیوں نہ ٹوٹ پڑے, فقط ایک بات پر یقین رکھنا کہ ہمارا رب جو بھی کرتا ہے اس میں کوئ نہ کوئ مصلحت چھپی ہوتی ہے… ورنہ اللّہ کسی بندے کے ساتھ برا کیسے کرتا ہے… اگر اب تمہارے ساتھ برا ہو رہا ہے تو سمجھو یہ آئندہ تمہاری بھلائ کے لیے ہے…
راجا سوچتا رہتا کہ بھلا اس کی ماں کے مرنے میں اس کی کیا بھلائ تھی… پھر گھر والوں کے برے سلوک میں اس کی کیا بھلائ تھی… گڈی کی موت میں اس کی کیا بھلائ تھی… اینجل کے ماں باپ کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے میں اس کی کیا بھلائ تھی… کچھ بھی تو نہیں… یہ سب تو آزمائیشیں تھیں اس کے لیے… نہیں جانتا تھا کہ وہ پاک رب اس سے کچھ بڑا کام لینا چاہتا ہے… اس کی آنے والی زندگی میں اسے دوسروں کی بھلائ کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے… یہ سب آزمائشیں تو فقط اسے مضبوط بنانے کے لیے تھیں… تا کہ وہ مستقبل میں دوسروں کا محافظ بن سکے…
💝💝💝💝💝
فراز آفندی نے ابیہا کو ڈنر پر انوائیٹ کیا تھا… لاکھ چاہنے کے باوجود بھی ابیہا اسے منع نہیں کر پائ… ہائ سوسائٹی میں یہی کچھ تو ہوتا تھا… انگیجمنٹ کے بعد لڑکا اور لڑکی کھلم کھلا ایک دوسرے سے ملتے, گھومتے پھرتے تھے اور اس سب کو نام دے دیا جاتا تھا انڈرسٹینڈنگ کا… ایک دوسرے کو شادی سے پہلے سمجھننے اور جاننے کا… یقیناً فراز بھی اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا… اس کے ساتھ گھومنا پھرنا چاہتا تھا… اسے اپنے ساتھ پارٹیز میں لے جانا چاہتا تھا… ابیہا پر بیزاری سی چھائ تھی… لیکن جانا بھی ضروری تھا… فراز نے تو آفر کی تھی کہ وہ اسے گھر سے پک کر لے گا لیکن ابیہا نے اسے منع کرتے ہوۓ خود ریسٹورنٹ پہنچنے کا کہا تھا… بلیک کلر کی شلوار قمیض میں ملبوس شیفون کا دوپٹا کندھوں پر پھیلاۓ لائٹ میک اپ میں سوگوار حسن لیے وہ نیچے پورچ میں آئ تو راجا پہلے سے وہاں موجود تھا… ابیہا کو جب فراز کی ڈنر کے متعلق کال آئ تب وہ یونیورسٹی سے گھر واپس آ رہی تھی اور اس کی ایک ایک بات راجا نے سنی تھی… وہ جانتا تھا کہ ابیہا ڈنر پر جا رہی ہے…تبھی پہلے سے گاڑی کے پاس موجود تھا… ابیہا کے آتے ہی وہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھا… “تم رہنے دو… تمہاری ضرورت نہیں ہے… میں خود ہی چلی جاؤں گی… ” ابیہا نے اسے منع کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ گئ… وہ دروازہ کھول رہی تھی جب راجا نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر دروازہ دوبارہ بند کر دیا… “میری ضرورت تو ہر پل ہے آپ کو… پیسے لیتا ہوں ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کے… اکیلا کیسے چھوڑ دوں آپ کو… ” راجا نے کہتے ہوۓ بغور اس کا چہرہ دیکھا… “تم میرے ساتھ ڈنر پر جاؤ گے… ؟؟ میرے فیانس نے انوائٹ کیا ہے مجھے ڈنر پر… وہاں تمہارا کیا کام… ؟؟” ابیہا نے طیش سے اس کی طرف دیکھا… نہ جانے کتنے دن بعد وہ آج اس سے مخاطب ہوئ تھی… “میں نے آپ سے کیا کہنا ہے… آپ سکون سے اپنا ڈنر کیجیے گا… میں آپ کی حفاظت کروں گا… بس… ” راجا نے پرسکون انداز میں کہا… “تم میرے ساتھ نہیں جا رہے بس… ہٹو سامنے سے… ” وہ غرائ… “ٹھیک ہے… سر سے کہہ دیں کہ وہ خود آ کر مجھے کہیں کہ میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گا… تاکہ اگر کوئ بات ہو جاۓ یا آپ کے ساتھ کچھ ایسا ویسا ہو تو سر مجھے موردِ الزام نہ ٹھہرائیں… ” راجا نے کندھے اچکاۓ… ابیہا نے سلگ کر اسے دیکھا… راجا جانتا تھا کہ ابیہا کبھی بھی جا کر اسد شیرازی سے یہ سب نہیں کہے گی… کہ اسے لمبی بحث میں پڑنا پسند نہیں تھا… ویسے بھی فراز آفندی نے دس بجے کا وقت دیا تھا اور دس بجنے میں کچھ ہی وقت باقی تھا… پیر پٹختی ہوئ ابیہا دوسری طرف آئ… اور فرنٹ ڈور کھول کر گاڑی میں بیٹھ گئ… راجا بھی ہلکی سی مسکراہٹ لیے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی آگے بڑھا دی…
💝💝💝💝💝
جیل میں قیدی بچوں کی پڑھائ لکھائ کا بھی انتظام کیا جاتا تھا… وہاں قید بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ ساتھ راجا کو بھی پڑھایا جانے لگا… وہ جو پہلے ہر وقت ماضی کی تکلیف دہ سوچوں میں کھویا رہتا تھا اب پڑھائ پر دھیان دینے لگا… جب ماں زندہ تھی تب اس نے راجا کو گاؤں کے ہی ایک سرکاری اسکول میں داخل کروایا تھا جہاں وہ چار جماعتیں پڑھ چکا تھا… ماں کے مرنے سے پہلے ہی اس کے پیپر ہوۓ تھے… لیکن رزلٹ تب آیا جب ماں مر چکی تھی… سب کزنز سے زیادہ نمبرز لیے تھے اس نے… ٹیچرز نے بھی اس کی بے حد تعریف کی تھی لیکن اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے باوجود اسے چچاؤں اور چچیوں نے آگے پڑھنے کی اجازت نہ دی… اب جو پھر سے پڑھنے کا موقع ملا تو وہ بھی خوب دل لگا کر پڑھنے لگا… پڑھائ کی ٹائمنگ کے علاوہ بھی وہ اکثر کتابیں لے کر کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا… رات کو جب سب سو رہے ہوتے تب بھی وہ مشعل جلاۓ کتابوں پر جھکا رہتا… ڈیوٹی پر معمور حوالدار بھی اسے یوں کتابی کیڑا بنے دیکھ کر مسکرا دیتا… یہ واحد بچا تھا جیل میں جو نہ تو کبھی کسی سے جھگڑتا اور نہ ہی کسی قسم کے کھیل میں شامل ہوتا… حوالدار اکثر سوچتا کہ دیکھنے میں تو معصوم اور شریف خاندان سے ہے… نہ جانے کس جرم کی سزا میں جیل میں پڑا ہے… ایک دن اس نے راجا سے پوچھ بھی لیا اور راجا نے دھیمے لہجے میں خود پر بیتی ہر بات اسے بتا دی…
جیل میں ہی بچوں کو قرآن پاک کی بھی تعلیم دی جاتی… راجا نے وہیں پر قرآن کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا سیکھا… یوں جیسے جیسے اس کی عمر کے سال بڑھتے گۓ ویسے ویسے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہت کچھ سیکھتا گیا… جیل میں وقت گزارنا بھی آسان ہو گیا زندگی میں کچھ بن کر دکھانے کا خواب ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں چمکنے لگا…
💝💝💝💝💝
وہ جیسے ہی ریسٹورنٹ میں داخل ہوئ کچھ فاصلے پر ہی اسے ایک ٹیبل پر فراز آفندی بیٹھا دکھائ دیا… چہرے پر جبرأ مسکراہٹ سجاتے ہوۓ وہ اس کی جانب بڑھی… فراز آفندی جو ابیہا کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کھڑا ہوا تھا اس کے پیچھے آتے راجا کو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سکڑی… “آج بھی اسے ساتھ ہی لے کر آئ ہے سلی گرل… ” اس نے بڑبڑاتے ہوۓ دانت پیسے… لیکن پھر خوش اخلاقی کو اپنے چہرے کا حصہ بناتے ہوۓ ابیہا کی جانب بڑھا… “ویلکم سویٹ ہارٹ” اس نے ابیہا کا ہاتھ تھام کر اس کا بوسہ لیا تھا… ابیہا کے چہرے کا رنگ سرخ پڑنے لگا جبکہ راجا کے ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچ گئیں… بمشکل خود پر قابو پاتا وہ رخ موڑ گیا… فراز آفندی ابیہا کا ہاتھ تھامے ہوۓ ایک کرسی کی جانب آیا اور لگاوٹ بھرے انداز میں اسے کندھوں سے تھام کر کرسی پر بیٹھایا…
راجا بھی انہی کی ٹیبل پر ایک کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا… “او ہیلو… تم کیوں ادھر بیٹھ رہے ہو… ؟؟” فراز آفندی جو ابیہا کے ساتھ خوش کن لمحات کا تصور کر کے ہی ایکسائٹڈ ہو رہا تھا پہلے تو راجا کو اس کے ساتھ دیکھ کر کڑھ کر رہ گیا تھا… اب اسے یوں اپنی ٹیبل پر ابیہا اور اپنے ساتھ بیٹھا دیکھ کر سلگ اٹھا… “فکر مت کرو… اپنے کھانے کا بل میں خود پے کر دوں گا… ایکسکیوزمی… ” بے نیازی سے کہتے ہوۓ راجا نے ویٹر کو آواز دی… ابیہا نے اس کے انداز پر سر جھکا کر مسکراہٹ چھپائ… فراز آفندی جو ابیہا کی نظروں میں اپنا اچھا امیج بنانے کے چکروں میں تھا اب یہاں بد اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہ رہا تھا تبھی خون کے گھونٹ بھرتا خاموش ہو گیا… ویٹر آیا… راجا نے پہلے اپنا آرڈر بک کروایا… پھر فراز آفندی نے ابیہا سے پوچھ کر اس کی پسندیدہ ڈشز منگوائیں… راجا پرسکون سا بیٹھا دائیں پیر کا انگوٹھا ہلا رہا تھا… چہرہ اتنا معصوم بنا رکھا تھا کہ جیسے اسے بالکل خبر نہیں کہ وہ دو لوگوں کے درمیان کباب میں ہڈی بن رہا ہے… “یار یہ تم کیا پہن کر آئ ہو… میں تو سمجھا تھا تم کوئ ماڈرن سی لڑکی ہو گی… ویسٹرن ڈریسز پہنتی ہو گی… لیکن اتنی ہائ سوسائٹی کی ہونے کے باوجود تمہاری ڈریسنگ تو بالکل مڈل کلاس لڑکیوں کے جیسی ہے… ” فراز آفندی نے منہ بگاڑتے ہوۓ اس کی ڈریسنگ پر چوٹ کی تھی… وہ خاصا مایوس ہوا تھا ابیہا کو دیکھ کر… لڑکی تھی تو خوبصورت…لیکن بالکل مشرقی لڑکیوں کے جیسی… اور فراز آفندی کو مشرقی لڑکیاں بالکل پسند نہ تھیں… ہاں ایک ہی چیز تھی جس نے اسے ابیہا سے رشتہ جوڑنے پر مجبور کیا تھا اور وہ تھی اس کی دولت… باقی اس کی مشرقیت سے فراز آفندی کا کیا لینا دینا…یہی سوچ کر وہ مطمئن تھا…
“اگر آپ نہیں جانتے تو آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے میں بتا دیتا ہوں فراز آفندی صاحب… کہ اسے شلوار قمیض کہتے ہیں… اور یہ جو کندھوں پر لے رکھا ہے نا ابیہا نے… اسے دوپٹہ کہتے ہیں… ” ابیہا کے رنگ بدلتے چہرے کو دیکھ کر جواب راجا نے دیا تھا… اس کے جواب پر ابیہا نے حیرانگی سے اسے دیکھا جب کہ فراز آفندی کی کڑی نظریں بھی اسی پر جمی تھیں… “یار…تم چپ نہیں رہ سکتے کیا… ؟؟” فراز آفندی نے ضبط سے کہا… راجا نے فورأ لبوں پر انگلی رکھی….فراز آفندی نے ابیہا کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر خفگی تھی… “آئم سوری ابیہا… اگر تمہیں برا لگا ہو تو… لیکن میرے دل میں جو بات ہو میں منہ پر کہنے کا عادی ہوں… ” فراز آفندی نے وضاحتی انداز اپنایا… “دل کی بات منہ پر کہنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ زبان کے ساتھ کتے باندھ لیے جائیں… ” جواب پھر راجا کی طرف سے آیا تھا… فراز آفندی نے طیش سے اس کی طرف دیکھا… راجا کہہ کر بے نیاز سا اب اردگرد دیکھ رہا تھا… جبکہ ابیہا کا چہرہ سرخ پڑنے لگا مسکراہٹ ضبط کرنے کے چکر میں… اس سے پہلے کہ فراز آفندی راجا سے کچھ کہتا ویٹر ان کا آرڈر لے کر حاضر ہو گیا… راجا نے فراز آفندی کی طرف دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا… “کھانا وہ ہے… ” راجا نے کہتے ہوۓ کھانے کی طرف اشارہ کیا… فراز آفندی بہت کچھ کہنے کی خواہش دل میں دباۓ کھانے کی طرف متوجہ ہوا… سارا موڈ غارت کر دیا تھا اس گارڈ نے تو… تلخی سے سوچتا وہ کھانا کھانے لگا…
کھانا کھانے کے بعد وہ ابیہا کو کلب بھی لے جانا چاہتا تھا…لیکن راجا کے آنے کی وجہ سے یہ پلان موقف کر کے کسی اور دن پر رکھ لیا… ڈنر کرنے کے بعد وہ لوگ اب ٹیرس پر کھڑے تھے…سردیوں کا اختتام تھا اور گرمیوں کی آمد ہو رہی تھی… ہلکی ہلکی سی ہوا اچھی لگ رہی تھی… فراز آفندی اور ابیہا ٹیرس کی ریلنگ کے قریب کھڑے دور نظر آتی روشنیوں کو تک رہے تھے… جبکہ ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا راجا ایک ہاتھ سے سگریٹ پکڑے اسے پھونک رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ ریلنگ پر ٹکا تھا… وہ سگریٹ صرف تب استعمال کرتا تھا جب شدید اضطراب کا شکار ہوتا تھا اور اس کا اب سگریٹ پینا ظاہر کر رہا تھا کہ اسے ابیہا کا فراز آفندی کے ساتھ کھڑے ہونا اور اس سے باتیں کرنا قطعأ اچھا نہیں لگ رہا… “یار… تمہیں ڈنر پر انوائیٹ کیا تھا میں نے… یہاں پر تمہیں کس چیز کا ڈر تھا جو اپنے گارڈ کو بھی اٹھا لائ ساتھ… میں ہوں نا تمہاری سیکیورٹی کے لیے… ” فراز آفندی نے اپنے لہجے میں محبت سمونے کی کوشش کی اور ابیہا کے قریب ہوتے ہوۓ اس کا نازک دودھیا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا… ابیہا نے بوکھلاتے ہوۓ نہ جانے کیوں راجا کی جانب دیکھا جس کی سلگتی ہوئ نظریں اس پر اور فراز آفندی کے ہاتھ میں موجود اس کے ہاتھ پر ہی تھیں… وہ فراز آفندی کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے بھی نہ دے سکی… نامحسوس سے انداز میں اس نے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالا… جبکہ راجا نے رخ موڑ کر اپنے اندر اٹھتے اشتعال کے طوفان کو کم کرنا چاہا… ریلنگ پر رکھے ہاتھ کی نسیں ابھر کر وضح ہو رہی تھیں… لب بھینچے ہوۓ تھے اور کنپٹی کی رگیں بھی نظر آنے لگیں… “کم آن ڈارلنگ… اتنا گھبرا کیوں رہی ہو تم مجھ سے… آفٹر آل… آئم یور فیانس… بہت جلد شادی ہونے والی ہے ہماری… ” فراز آفندی نے کہتے ہوۓ اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حمائل کیا… ابیہا کو لگا جیسے کرنٹ نے چھو لیا ہو اسے… وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہٹی… تبھی راجا نے غصے سے سگریٹ فرش پر پھینک کر جوتے سے مسلی…آنکھیں سرخ پڑنے لگی تھیں…پیشانی مسلتا ہوا وہ ابیہا کی طرف آیا… “ابیہا… آپ کو شاید اپنی فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی میں جانا تھا نا… آپ نے کہا تھا کہ آپ کو یاد کروا دوں میں… تو چلیں…بارہ بجنے میں پندرہ منٹ باقی ہیں صرف… ” اپنی اندرونی کیفیت کو ظاہر کیے بنا وہ نارمل لہجے میں بولا تھا… ابیہا جو پہلے ہی بدحواس سی کھڑی تھی اس کی بات پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی… “اے… تم میرے اور ابیہا کے درمیان مت آؤ سمجھے… گارڈ ہو تو گارڈ کی طرح ہی رہو… ابیہا ابھی کہیں نہیں جاۓ گی… میرے بلانے پر آئ ہے تو میرے کہنے پر ہی جاۓ گی… ” فراز جو کب سے راجا کو برداشت کر رہا تھا بالآخر تلخ لہجے میں بول ہی پڑا… “گارڈ ہوں تبھی تو حفاظت کر رہا ہوں ان کی… آپ حد میں ہی رہیں تو بہتر ہے… اگر یہ سب حرکتیں ابھی سے شروع کر دیں گے تو شادی کے بعد کچھ کرنے کو بچے گا نہیں آپ کے پاس… اور رہی بات ابیہا کے جانے کی… تو یہ ان سے ہی پوچھ لیں کہ وہ جانا چاہتی ہیں یا نہیں… ان سے شادی ہونے والی ہے آپ کی… ہوئ نہیں ہے ابھی جو اب آنے جانے کے لیے بھی انہیں آپ کی اجازت کی ضرورت پڑے… ” راجا کا لہجہ سرد ہوا تھا… جبکہ آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں..
Episode 21
بس نہ چل رہا تھا کہ اس کا وہ ہاتھ ہی توڑ ڈالے جس ہاتھ سے اس نے ابیہا کو چھوا تھا…
” مجھ سے پنگا مت لو… ورنہ انجام بہت برا ہو گا… ” فراز آفندی غرایا تھا… ” راجا خود پنگا لیتا نہیں کسی سے…لیکن خود سے پنگا لینے والے کو چھوڑتا بھی نہیں… اگر دم ہے بازوؤں میں تو جب چاہو آزما لینا… لکھ کر دے سکتا ہوں کہ مجھ سے لڑو گے تو شکست ہی تمہارا مقدر ٹھہرے گی… ” راجا کا لہجہ حد سے زیادہ مضبوط تھا… ابیہا حیران سی ان دونوں کو دیکھ اور سن رہی تھی… “فراز…آئ…آئم سوری… مجھے یاد نہیں رہا… آج واقعی میری فرینڈ کا برتھ ڈے ہے… اور میں نے اسے پرامس بھی کیا تھا کہ میں ضرور آؤں گی اس کی برتھ ڈے پارٹی پر… مجھے جانا ہو گا… پلیز ڈونٹ مائنڈ… ” ابیہا نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کہ کہیں وہ دونوں یہیں گتھم گتھا نہ ہو جائیں… فراز آفندی نے اس کی طرف دیکھا… بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کرنا چاہا… ” اوکے… یو کین گو… لیکن آئندہ میں جب بھی بلاؤں… اسے ساتھ مت لے کر آنا… ” راجا کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہہ کر وہ نیچے کی جانب بڑھ گیا… “آئندہ تمہارے بلانے پر یہ بھی نہیں آئیں گی…. ” راجا نے تلخ لہجے میں کہا تھا لیکن وہ سنے بغیر جا چکا تھا… ابیہا نے سلگتی نظروں سے اسے دیکھا… ” یہ سب کیا تھا… ؟؟” سرد سی آواز میں پوچھا تھا…راجا نے اس کی طرف دیکھا…ایک نظر اس پر ڈالتے ہی سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا… “کیا…؟؟” کندھے اچکاتے وہ پھر ریلنگ کے ساتھ جا کھڑا ہوا… “میں نے تمہیں کب کہا تھا کہ میری فرینڈ کا آج برتھ ڈے ہے اور مجھے وہاں جانا ہے… ؟؟” ابیہا نے اسے گھورا… “اچھا…نہیں کہا تھا… مجھے لگا شاید آپ نے کہا تھا… ” راجا نے ابرو اچکاۓ… پھر رخ بھی موڑ گیا… کیسے ابیہا کو بتاۓ کہ اسے جلن ہو رہی تھی فراز آفندی سے…کیسے کہے اس سے کہ اسے فراز آفندی سے دور لے جانے کے لیے ہی اس نے ایسا کہا… جبکہ دوسری جانب ابیہا اس کے کچھ کہے بغیر ہی سب جان گئ تھی… خوبصورت سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا… آج پہلی بار راجا نے اپنے کسی عمل سے یہ ثابت کیا تھا کہ اس کے دل میں بھی ابیہا کے لیے کوئ نرم گوشہ ہے… وہ مسرور تھی… بے حد مسرور…
_________
“کیا کہا ہے تم نے کل فراز آفندی سے… ؟؟” اسد شیرازی نے کڑی نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا… یقیناً فراز آفندی نے ہی اسد شیرازی سے راجا کی شکایت کی تھی… “کون فراز آفندی سر…؟؟” راجا نے حیران ہونے کی کوشش کی…ورنہ دل ہی دل میں اسے ہنسی آ رہی تھی فراز آفندی کے اس طرز عمل سے… “زیادہ ڈرامے مت کرو… تم اچھی طرح جانتے ہو کون فراز آفندی… ابیہا کا منگیتر… جس سے کل وہ ملنے گئ تھی… اور اس کے ساتھ تم بھی تھے… مجھے فراز نے بتایا ہے کہ تم نے خاصی بدتمیزی کی ہے اس کے ساتھ…” پہلی بار اسد شیرازی کو راجا کی کسی بات پر غصہ آیا تھا…اور وہ بھڑک رہا تھا راجا پر….راجا نے لب بھینچے… “اس نے شاید آپ کو یہ نہیں بتایا کہ وہ بدتمیزی کر رہا تھا ابیہا کے ساتھ… میں نے تو بس اسے منع کیا تھا… ” اس نے سرد سی آواز میں جواب دیا… “تم کون ہوتے ہو اسے روکنے والے… منگیتر ہے وہ اس کی… شادی ہونے والی ہے ان دونوں کی…جو چاہے کرے فراز اس کے ساتھ… ” اسد شیرازی آگ بگولہ ہوۓ تھے… پچھلے کچھ دنوں میں ان کا اچھا خاصا نقصان ہوا تھا…. ان کے خفیہ ٹھکانوں پر ریڈز پڑ رہی تھیں… اور غدار کا ابھی تک پتا نہ چل سکا تھا… اب وہ اپنی فرسٹریشن راجا پر نکال رہے تھے… “یہ آپ کہہ رہے ہیں سر… وہ بھی اپنی بیٹی کے بارے میں…؟؟ ” راجا نے ملامت کرنے کے انداز میں کہا جبکہ وہ یہ بات اچھی طرح جان چکا تھا کہ ابیہا اسد شیرازی کی بیٹی نہیں ہے… اسد شیرازی ایک لمحے کو سٹپٹایا… “ہاں میں ہی کہہ رہا ہوں…” لہجہ بھی دھیمہ ہوا تھا… ” آئم سوری سر…لیکن میں بے حیائ کے اس کھلم کھلا مظاہرے پر خاموش نہیں رہ سکتا… فراز آفندی سے کہیں کہ ابیہا کے ساتھ جب بھی ہو تمیز کے دائرے میں رہے..
وہ دوبارہ بدتمیزی کرے گا تو میں دوبارہ ایسا ہی جواب دوں گا… ” راجا کے لہجے سے نہ جانے کیوں ضد کی جھلک دکھائ دی… “شٹ اپ راجا… جسٹ شٹ اپ…” اسد شیرازی بھڑک اٹھا… راجا لب بھینچ کر رہ گیا…”آئندہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے… بلکہ جب ابیہا فراز سے ملنے جاۓ تم اس کے ساتھ ہی نہیں جاؤ گے… ان دونوں کو اکیلے ایک ساتھ وقت گزارنے دو… تا کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں… ایک دوسرے کو جان سکیں… اور شادی کے بعد ان کی زندگی بہتر انداز میں گزر سکے… دوبارہ مجھے شکایت کا موقع نہ ملے…سمجھ گۓ…” اسد شیرازی کے لہجے میں وارننگ تھی… اس وقت ان سے مزید بحث کرنے کا مطلب تھا اپنا بنا بنایا کھیل بگاڑنا…. “اوکے سر… ” راجا کہہ کر سر جھکاۓ وہاں سے نکل آیا…
💝💝💝💝💝
“آج شام فراز آفندی نے پھر مجھے ملنے بلایا ہے… ساحل سمندر پر… ” یونیورسٹی جاتے ہوۓ ابیہا نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا اور لبوں میں مسکان دباۓ اسے جتانے کی کوشش کی… حسب توقع اس کے چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا… “تو…؟؟” لہجے کی درشتی چھپانے سے بھی نہ چھپی… “تو یہ کہ… آج میں اکیلی جاؤں گی اس سے ملنے… تم ساتھ نہیں جاؤ گے… ” وہ جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کی غرض سے کہہ رہی تھی… “آپ بھی نہیں جائیں گی اس سے ملنے… ” راجا کا لہجہ بارعب سا ہوا… شاید اسے خود بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اپنے رویے سے اپنے جذبات ابیہا پر آشکار کرتا جا رہا ہے… ابیہا کو مزہ آنے لگا اسے ستانے میں… “کیوں… میرے منگیتر نے بلایا ہے مجھے… ملنے کے لیے… میں تو جاؤں گی… ” ابیہا نے بظاہر منہ بگاڑ کر کہا تھا… راجا نے سلگتی نگاہوں سے اسے گھورا… “بہت بے چین ہو رہی ہیں اس سے ملنے کے لیے…؟؟” لہجے میں جلن سی تھی… “ظاہر سی بات ہے… منگنی کے بعد ہر لڑکی کی دلی خواہش ہوتی ہے وہ اپنے فیانس کے ساتھ وقت گزارے… میری بھی یہ خواہش ہے… ” ابیہا نے چہرے کا رخ تھوڑا سا موڑا… کہ اس کے لبوں کی شرارتی مسکراہٹ کہیں اس کی نظروں میں آ جاۓ… “کچھ دن پہلے غالباً آپ مجھ سے محبت کی دعوے دار تھیں… ” راجا نے طنز کیا… ابیہا کا دل چاہا کھل کر ہنسے اس کی کیفیت پر… لیکن چہرے کو سنجیدہ بناتے ہوۓ اس کی طرف متوجہ ہوئ… ” ہاں بالکل…لیکن پھر کچھ ہی دن بعد مجھے عقل بھی آ گئ تھی کہ وہ صرف میری جذباتیت تھی اور کچھ نہیں… میں تو بس ایسے ہی پاگل سی لڑکی ہوں… مجھے احساس ہو گیا ہے کہ میں غلط تھی… ” ابیہا کی بات پر راجا نے افسوس اور صدمے کی ملی جلی کیفیت میں اسے دیکھا… “ہممم…” وہ خاموش ہو گیا تھا… بالکل خاموش…لیکن اس کی سنجیدگی ظاہر کر رہی تھی کہ اسے ابیہا کی بات بری لگی ہے… “آج نا…میں جینز شرٹ پہن کر جاؤں گی فراز آفندی سے ملنے… اس دن دیکھا تھا کیسے وہ میری ڈریسنگ پر چوٹ کر رہا تھا… ” راجا کو خاموش دیکھ کر اس کی زبان پر پھر کھجلی ہوئ… “کہا نا… آپ کہیں نہیں جائیں گی… اور اس سے ملنے تو کبھی بھی نہیں… ” راجا نے سرد سے لہجے میں کہا تھا… “کیوں… اس دن تو تم اس سے کہہ رہے تھے شادی ہونے والی ہے ہوئ نہیں… ابیہا کو کہیں بھی آنے جانے کے لیے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں… اب تم کس حق سے مجھے روک رہے ہو اس سے ملنے سے… ” ابیہا کے لہنے میں سختی پیدا کی… “حق بھی بہت جلد واضح کر دوں گا… لیکن فی الحال یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ آپ اس سے ملنے ہرگز نہیں جائیں گی… ” ابیہا نے اس کی بات پر آنکھیں سیکڑ کر اسے دیکھا… “تم جیلس ہو رہے ہو فراز آفندی سے… ؟؟” حیران ہوتے ہوۓ پوچھا تھا… اس کی بات پر راجا نے ایک پل کو اس کی طرف دیکھا… ایسی نظروں سے جیسے اسے ابیہا کا دماغ خراب ہونے کا خدشہ ہو… “میں اس سے جیلس ہوں گا…؟؟ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے…؟؟ اس میں کوئ ایک بھی ایسی بات ہے جس کی وجہ سے مجھے اس سے جیلس ہونے کی ضرورت پیش آۓ…؟؟” کہہ کر دوبارہ چہرہ موڑ لیا…وہ اب اہنا پورا دھیان ڈرائیونگ پر مرکوز کر چکا تھا… “ہاں نا… ہے… بالکل ہے… ” ابیہا نے مزے سے کہتے ہوۓ کتابیں اور بیگ اٹھایا… وہ لوگ یونیورسٹی کی پارکنگ کی طرف بڑھ رہے تھے… “اچھا وہ کیا…؟؟” راجا نے بھی دلچسپی ظاہر کی… ابیہا نے نچلا لب دبا کر اسے دیکھا… آنکھوں میں ہلکی سی شرارت رقصاں تھی…گاڑی رک چکی تھی… اس نے گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھا… راجا کی طرف مڑی… اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں… “یہی کہ وہ ابیہا مراد کا فیانس ہے… یہی بات کافی ہے تمہارے جیلس ہونے کے لیے… ” پر اعتماد لہجے میں کہہ کر ایک نظر اس کے سنجیدہ چہرے پر ڈالی اور گاڑی دے نکل گئ… جبکہ راجا اس کی بات پر بہت دیر تک ہل بھی نہ سکا…
💝💝💝💝💝
دن کے گیارہ بجے کا وقت تھا… سردیوں کے باعث تمام بچوں کو جیل سے نکال کر اس کھلے سے میدان میں لایا گیا تھا…جہاں جسم کو سکون دیتی دھوپ کی تمازت تھی… اس وقت بچوں کی کبڈی کروائ جا رہی تھی… جہاں سب بچے دائرے کی صورت کھڑے تھے… راجا ان سب سے بے نیاز دھوپ میں ایک جانب بیٹھا ہاتھ میں پکڑی کاپی پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا… تبھی دورے کے لیے آۓ سب ڈی آئ جی کا وہاں سے گزر ہوا… سرسری سی نگاہ ان سب پر ڈالتے وہ آگے بڑھ رہے تھے جب ان کی نظر راجا پر پڑی… نہ جانے کیوں ان کے قدم رک سے گۓ اس الگ تھلگ سے بیٹھے ہوۓ بچے کو دیکھ کر… چند لمحے کچھ سوچنے کے بعد وہ کچھ فاصلے پر مستعد سے بیٹھے حوالدار کی طرف بڑھے… “یہ بچہ کون ہے جو ان سب سے الگ بیٹھا کچھ لکھنے میں مصروف ہے…؟؟” ان کی نظریں ابھی بھی راجا پر ہی تھیں… وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھے کہ کس بات نے انہیں راجا کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کیا… حوالدار نے ایک نظر ان پر ڈال کر ان کی نظروں کے تعاقب میں راجا کو دیکھا… “وہ…؟؟ ابتہاج نام ہے اس کا صاحب…چند دن پہلے ہی آیا ہے یہاں… ” حوالدار ان کے احترام میں کھڑا ہو چکا تھا… “ہممم…. کس جرم میں لایا گیا ہے اسے یہاں…؟؟” آنکھیں سیکڑ کر بغور اس کا جائزہ لیا تھا… “دو لوگوں کے قتل کا الزام ہے اس پر صاحب… ” حوالدار نے سر جھکاتے ہوۓ انہیں بتایا… “قتل…؟؟ دو بندوں کا…؟؟” ڈی آئ جی نے اچھنبے سے حوالدار کو دیکھا… پھر راجا کو… راجا وہاں موجود سب لڑکوں سے چھوٹی عمر کا تھا… اور باقی سب چوری, ڈکیتی وغیرہ کے جرم میں ہی جیل میں موجود تھے… “اتنی چھوٹی عمر میں یہ بچہ قتل کیسے کر سکتا ہے…؟؟ چہرے سے کیسی معصومیت ٹپک رہی اس کے… اتنا خطرناک ہے یہ… ؟؟” ان کے لہجے میں حیرت تھی… “نہیں صاحب… اس نے قتل نہیں کیا… بس قسمت کا مارا ہے جو یہاں پڑا ہے…” حوالدار کا لہجہ افسردہ ہوا… “تم کیسے کہہ سکتے ہو یہ…؟؟” ڈی آئ جی نے بغور حوالدار کے چہرے کو دیکھا… “صاحب… پرسوں اس نے مجھے اپنے بارے میں سب بتایا ہے… وہ قاتل نہیں ہے صاحب…. بس پتا نہیں کیسے اس سب میں پھنس گیا… اس کے لہجے اور انداز سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سچ کہہ رہا ہے… ” حوالدار کا لہجہ دھیمہ ہوا… “ہممم… لگتا ہے پڑھنے لکھنے کا کافی شوق ہے اسے… ” ڈی آئ جی کی نظریں دوبارہ راجا پر ٹکیں… جو اب کاپی اپنے چہرے کے سامنے کیے غور سے کچھ دیکھ رہا تھا… “جی صاحب…. بہت اچھا بچہ ہے… اور بہت ذہین بھی… رات کو بھی اکثر مشعل کی روشنی میں کتابیں لیے بیٹھا رہتا ہے… اور آپ کو پتا ہے… وہ تصویریں بھی بہت اچھی بناتا ہے… ” حوالدار نے پرجوش ہوتے ہوۓ انہیں بتایا… ڈی آئ جی نے ہنکارا بھرنے پر اکتفا کیا جبکہ ان کی پرسوچ نگاہیں راجا پر ہی جمی تھیں جو فاتحانہ اور عقیدت مند نگاہوں سے سامنے کھلے صفحے کی طرف دیکھ رہا تھا جس پر اس نے اپنے ذہن کی اسکرین پر موجود مسکراتے ہوۓ چہرے کا اسکیچ بنایا تھا… ایک معصوم سی بچی کا اسکیچ… اینجل کا اسکیچ….
💝💝💝💝💝
“ارے…تم آج پھر یہاں موجود ہو…؟؟” ابیہا پہلے سے جانتی تھی کہ وہ پورچ میں ہی موجود ہو گا… لیکن پھر بھی حیران ہونے کی ایکٹنگ کی… “کہاں جا رہی ہیں آپ..؟؟” راجا نے اس کی خصوصی تیاری پر نظر ڈالی… ابیہا نے ایک نگاہ اپنے سراپے پر ڈالی…. لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ بکھری… “بتایا تو تھا تمہیں صبح…فراز نے بلایا ہے…اسی سے ملنے جا رہی ہوں… ” فراز کے نام پر اس کے چہرے پر ابھرتی مسکراہٹ نے راجا کا دل جلا کر راکھ کیا تھا… “میں نے کہا تھا نا آپ سے کہ آپ نہیں جائیں گی… ” راجا کی نگاہوں میں خفگی اور شکایت واضح دکھائ دی تھی ابیہا کو… “لیکن میں تو جاؤں گی… ” ابیہا نے بے نیازی سے کندھے اچکاۓ… راجا خاموش سا ہو گیا… “کی دے رہے ہو یا میں دوسری گاڑی میں جاؤں… ؟؟” ابیہا نے اپنی گلابی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائ… راجا نے ایک نظر اس کی ہتھیلی کی جانب دیکھا… پھر اس کے چہرے کو… جو ایکسائٹمنٹ کے باعث سرخ ہو رہا تھا… آنکھوں میں انوکھی سی چمک تھی… “ٹھیک ہے… بیٹھیں گاڑی میں…میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا… ” راجا نے کچھ سوچ کر حتمی انداز میں کہا… “لیکن تم وہاں کیا کرو گے…؟؟” ابیہا نے آنکھیں پھیلائیں… ” وہی…جو اس دن کیا تھا… ” راجا گاڑی کا دروازہ کھول چکا تھا… “اچھا مطلب تم ہماری آج کی شام بھی خراب کرو گے…؟؟” ابیہا کو تپ چڑھی… “یہی سمجھ لیں… ” راجا گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا… ابیہا بظاہر پیر پٹختی لیکن دل ہی دل میں مسرور سی گاڑی میں آ بیٹھی…
گاڑی گھر سے نکلتے ہی اس نے فون پکڑا… “میں فراز کو میسیج کر کے یہ تو بتا دوں کہ تم آج بھی ساتھ آ رہے ہو… تاکہ وہ بھی آج پوری تیاری کے ساتھ آۓ… آج تم میرے سامنے اس کہ بے عزتی ہرگز نہیں کر سکتے… ” اس نے سیل اپنے سامنے کیا… راجا نے کڑی نگاہ اس پر ڈالی اور لب بھینچ کر ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہو گیا جبکہ ابیہا نے میسیجز کھولنے کی بجاۓ کیمرہ آن کیا… اور نچلا لب دانتوں تلے دباتے ہوۓ چپکے سے راجا کے بے تاثر چہرے کی چار تصویریں اپنے سیل میں مقید کر لیں…
“آپ تو غالباً آج جینز شرٹ پہن کر آنے والی تھیں اپنء اس “ہونے والے شوہر” کو متاثر کرنے کے لیے….. ” راجا نے ہونے والے شوہر پر زور دیتے ہوۓ اسے اس کی صبح کی بات یاد کروائ اور اس کی وائٹ فراک اور چوڑی دار پاجامے کے ساتھ ہم رنگ دوپٹے کی طرف اشارہ کیا… ابیہا کا اندازہ درست ثابت ہوا تھا… یقیناً راجا کے دل میں بھی اس کے لیے کچھ جذبات تھے تبھی تو وہ نہ صرف جیلس ہو رہا تھا بلکہ اس کی ڈریسنگ پر بھی دھیان دے رہا تھا… “آ… ہاں… ارادہ تو تھا…لیکن پھر موڈ نہیں بنا تو نہیں پہن کر آئ جینز شرٹ… ” وہ ایک پل کو اٹک گئ تھی لیکن پھر اعتماد کے ساتھ اپنی بات مکمل کر گئ… راجا پھر خاموش ہو چکا تھا…
وہ دونوں ساحل سمندر پہنچے تو فراز آفندی وہاں ابھی تک نہیں آیا تھا… ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں گیلی ریت پر چہل قدمی کرنا ابیہا کو ہمیشہ سے نے حد پسند تھا… وہ دونوں اس وقت گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑے تھے… ابیہا دور بھگتے دوڑتے بچوں کو دیکھ رہی تھی… ساتھ ہی بار بار اڑتے بالوں کو سمیٹ کر کانوں کے پیچھے اڑستی…
“آیا نہیں ابھی تک آپ کا فراز آفندی… ” راجا نے تیسری بار اس سے پوچھا تھا… لہجہ چبھتا ہوا سا تھا… “آ جاۓ گا… اتنی جلدی بھی کیا ہے… ” ابیہا نے بھی اپنا پہلا جواب ہی دہرایا… اسے اچھا لگ رہا تھا یوں راجا کے ساتھ ساحل سمندر کی اس ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنا… کوئ اس سے پوچھتا کہ یہ لمحے اس کے لیے کتنے دلکش اور حسین تھے… “ہنہہ… لگتا ہے میرے آنے کی خبر سن کر ڈر گیا ہے وہ… تبھی آیا نہیں…. اور شاید آۓ گا بھی نہیں… ” راجا کا لہجہ استہزائیہ ہوا… اس کی نظریں سامنے غروب ہوتے سورج پر جمی تھیں… ابیہا نے بغور اس کا چہرہ دیکھا… “مجھے فراز نے نہیں بلایا یہاں… میں خود یہاں آئ ہوں… تم سے جھوٹ بولا کیونکہ میں جانتی تھی اس کا سن کر تم ضرور ساتھ آؤ گے… ” ابیہا نے بھی رخ موڑ کر غروب ہوتے سورج کو دیکھا… اس کی دھیمی آواز سن کر راجا چند لمحے خاموش رہا… “اور یہ جھوٹ بولنے کی وجہ…؟؟” اس کا لہجہ خلاف توقع نرم تھا… ابیہا نے ایک بار پھر اسے دیکھا… راجا بھی اسے ہی تک رہا تھا… “کچھ نہیں… بس یونہی… تمہارے ساتھ کچھ لمحے گزارنا چاہ رہی تھی یہاں… ” اس کا لہجہ ایسا ہوا جیسے کوئ جرم سرزد ہو گیا ہو اس سے… اپنی بات کہہ کر وہ سر جھکا گئ تھی…کہ نہ جانے راجا کا کیا ردِعمل ہو… “بس یہیں…؟؟ ننگے پاؤں گیلی ریت ہر نہیں چلو گی میرے ساتھ…؟؟” راجا نے اس کے جھکے سر کو دیکھا… ابیہا نے اس کے نرم لہجے میں کی گئ بات پر ایک جھٹکے سے سر اٹھایا… راجا کے چہرے پر مسکراہٹ تھی…نرم مسکراہٹ… ابیہا کی بے یقین نظریں اس کے چہرے سے ہوتی ہوئ اس کے ہاتھ پر آن ٹکیں… وہ ہاتھ جس کی ہتھیلی راجا نے اس کے سامنے پھیلا رکھی… ابیہا کی آنکھوں میں بے ساختہ پانی جمع ہونے لگا… خوشی سے… اسے لگا جیسے وہ کوئ خواب دیکھ رہی ہے… کوئ حسین خواب…نیند سے جاگے گی تو خواب ٹوٹ جاۓ گا… لیکن وہ اس خواب کی تکمیل کے لیے ساری عمر سونے کو تیار تھی… کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں اس نے اپنا نرم و نازک ہاتھ راجا کی مضبوط ہتھیلی پر رکھا… راجا نے کسی قیمتی متاع کی طرح اس کے ہاتھ کو تھاما تھا… محبت بہت چپکے سے ان دونوں کے درمیان آن وارد ہوئ تھی… جس نے ان دونوں کی آنکھوں کو روشن کر دیا تھا…ان کے چہرے جگمگانے لگے تھے… آج پہلی بار راجا نے اپنے دل کی سنی تھی..
اور ابیہا کے ان خوبصورت جذبات کو پذیرائ بخشی تھی… اور ابیہا… وہ تو گویا ہواؤں میں اڑ رہی تھی… خوشی اتنی تھی کہ سنبھالی نہ جا رہی تھی… وہ دونوں اپنے پیروں کے جوتوں سے آزاد کرتے اب دور جا رہے تھے…لہروں کے سنگ… ہواؤں کے رخ… دونوں کے چہروں پر دلکش مسکراہٹ تھی… اور ان دونوں کے درمیان چھائ اس معنی خیز خاموشی نے چپکے سے ان کے کانوں میں وہ رس انڈیل دیا جو پہلے صرف ان کے دلوں میں کسی راز کی طرح محفوظ تھا…
_______
“اف انکل…کیسی پینڈو سی لڑکی ڈھونڈی ہے آپ نے میرے لیے… ڈو یو نو…؟؟ شی از سو بورنگ…. ” فراز آفندی پاکستان میں اسد شیرازی کے عنایت کیے گۓ خوبصورت محل نما گھر میں صوفے پر نیم دراز ابیہا پر تبصرہ کر رہا تھا… مرزا جمال آفندی جو کچھ فاصلے پر لیب ٹاپ پر نظریں جماۓ کچھ کام کر رہے تھے انہوں نے ایک سرسری سی نگاہ فراز آفندی پر ڈالی… “کیوں کیا ہوا… ؟؟ جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ لڑکی خاصی شوخ و چنچل سی ہے… تمہارے مزاج کے عین مطابق… ” مرزا جمال آفندی دوبارہ کام میں مصروف ہو چکے تھے… “شوخ و چنچل…؟؟ مذاق کا موڈ نہیں ہے میرا… ” وہ بیزاریت سے گویا ہوا… “ہوا کیا ہے آخر… میں اس سے پہلے بھی دو تین بار مل چکا ہوں… اور مجھے تو اچھی خاصی لگی تھی وہ…” اس بار مرزا جمال کے لہجے میں ہلکی سی حیرت کا عنصر تھا… “ہنہہ…اچھی خاصی… دس گز کا تو دوپٹا ہی ہوتا ہے اس کا… جسے اپنے گرد لپیٹے رکھتی ہے…اور ڈریسنگ… شلوار قمیض… بھلا خدا نے اتنا حسن دیا ہے تو وہ حسن دوسروں کو دیکھنے کا موقع بھی تو دے… کیا فائدہ یوں چھپا چھپا کر رکھنے کا… اور کرنے کو کوئ بات تک نہیں ہوتی اس کے پاس… اینڈ یو نو واٹ انکل… کچھ دن قبل میں نے اسے ڈنر پر بلایا…اور اسے ذرا سا چھو کیا لیا وہ ایسے بدک کر پیچھے ہٹی جیسے کرنٹ نے چھوا ہو اسے… ڈسگسٹنگ… ” وہ کڑواہٹ بھرے لہجے میں بولتا منہ کے زاویے بھی بگاڑ رہا تھا… “حیرت ہے… کچھ عرصہ قبل میں اس سے ملا تھا تب تو ماڈرن ڈریسز پہنتی تھی… اب شلوار قمیض پہننے کا بھوت سوار ہو گیا ہو گا اس پر… فکر مت کرو… انسان کی عادات نہیں بدلتیں… چند دن بعد جب یہ جنون سر سے اتر جاۓ گا تو پہن لے گی ماڈرن ڈریسز بھی… “مرزا جمال آفندی کے انداز میں لاپرواہی کی جھلک تھی… فراز آفندی کے منہ کے زاویے مزید بگڑے… “میں یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا کہ جتنے دن یہاں ہیں اس کے ساتھ وقت گزاروں گا… اس کے حسن کے بہتے دریا میں ہاتھ دھونے کا موقع مل جاۓ گا… لیکن پہلی ہی ملاقات میں شدید مایوس کیا ہے اس نے مجھے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *