Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26
“سر…کیا ہوا…؟؟ آپ ٹھیک ہیں….؟؟ “راجا فکرمند سا تیزی سے اسد شیرازی کے قریب آیا…
اسد شیرازی نے خالی خالی نگاہوں سے اسے دیکھا…
“را…راجا… وہ…. ” اسد شیرازی صدمے کے مارے بول بھی نہ پا رہے تھے…
“ہوا کیا ہے سر…؟؟ کوئ پرابلم..؟؟” راجا نے حیران نظروں سے ان کی طرف دیکھا… آج سے پہلے کبھی اسد شیرازی کی ایسی حالت نہ دیکھی تھی…
“راجا… کچھ لوگ ابیہا کو کڈنیپ کر کے لے گۓ ہیں پارلر سے… ابھی… ابھی اس کی دوست زینی کا فون آیا ہے مجھے ابیہا کے نمبر سے ہی… اس نے اطلاع دی…” اسد شیرازی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے… لہجے میں ان گنت اندیشے سرسرا رہے تھے…
“واٹ…؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ سر…؟؟ ” راجا کو چار سو چالیس والٹ کا کرنٹ لگا تھا… وہ حیران پریشان سا انہیں دیکھے گیا…
“کک…کچھ کرو راجا… ابیہا کو بچا لو… کہیں سے بھی ڈھونڈ کر لاؤ اسے… اگر وہ میرے دشمنوں کے ہتھے چڑھ گئ تو وہ لوگ اسے جان سے مار دیں گے… ” اسد شیرازی شدید اضطرابی کیفیت میں کہہ رہے تھے… ان کی آواز دھیمی تھی کہ کہیں مہمان نہ سن لیں…
راجا نے پیشانی مسلی… سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں گویا مفلوج ہو کر رہ گئ تھیں… چند لمحوں بعد وہ اسد شیرازی کی جانب مڑا…
“آپ فکر مت کیجیے سر… میں کرتا ہوں کچھ… آپ مہمانوں کو سنبھالیے… ” پریشان سا کہتا وہ ابیہا کا نمبر ملانے لگا… زینی جو ذرائیور کے ساتھ گھر آ رہی تھی اس نے فورأ کال ریسیو کی… راجا اس سے کڈنیپرز کے حلیے پوچھ رہا تھا…
چند لمحوں بعد وہ لب بھینچے گاڑی میں بیٹھ کر مسلسل اسپیڈ بڑھاتا کسی انجانی سمت میں روانہ ہو چکا تھا…
_______
ڈرائیور اور گارڈز کی گاڑیاں راجا کو رستے میں ہی مل گئ تھیں… اس نے ڈرائیور کو پہلے ہی اشارے سے رکنے کو کہہ دیا تھا… گاڑی رکتے ہی زینی تیزی سے گاڑی سے نکلی… راجا بھی باہر نکل کر اب ان کی گاڑی کی جانب بڑھ رہا تھا… “راجا… وہ…وہ اب…ابیہا کو…” زینی آنسو بہاتی کپکپاتی آواز میں کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی… “گاڑی کا رنگ کونسا تھا… اور کیا گاڑی کا نمبر دیکھا آپ نے…؟؟” راجا کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑ رہا تھا…لب بھینچے ہوۓ تھے جبکہ کنپٹی کی رگیں ابھرنے لگی تھیں… اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک پل میں ابیہا کو ڈھونڈ نکالے…
“گگ…گاڑی کا رنگ سفید تھا… کرولا تھی… اور نمبر… دیکھا تو تھا میں نے لل…لیکن…” زینی کی حالت سے ہی پتا چل رہا تھا وہ کتنی خوفزدہ ہے… اس نے دماغ پر زور دیتے ہوۓ یاد کرنے کی کوشش کی… راجا مایوس سا پیچھے ہوا…”ہاں… یاد آیا….. ” اس کے کہنے پر راجا کی آنکھوں میں ایک بار پھر امید ابھری تھی… زینی نے اٹک اٹک کر اسے گاڑی کا نمبر بتایا… جس گاڑی میں وہ لوگ ابیہا کو لے کر گۓ تھے…
راجا گاڑی کا نمبر زیر لب دہرا کر بھاگتا ہوا اپنی گاڑی تک پہنچا… گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی سیل پر نمبر ملا کر فون کان سے لگایا…
“ہیلو… اشعر…کہاں ہو تم…؟” گاڑی کو اسپیڈ سے بھگاتے ہوۓ وہ مخاطب ہوا…
“سر… اسد شیرازی کے تین خاص ٹھکانوں پر بم پلانٹ کر چکے ہیں ہم… بس کچھ ہی دیر میں اچھی خبر دیں گے… ” آج ان کا ارادہ تھا اسد شیرازی کا خاصا بھاری نقصان کرنے کا… سارا کام پلاننگ کے تحت ہو رہا تھا لیکن ابیہا کی گمشدگی نے بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا تھا…
“تمہیں ایک گاڑی کی نیم پلیٹ کا نمبر سینڈ کر رہا ہوں… اس نمبر کو ٹریس کرو… اور جلد سے جلد پتا لگا کر دو کہ یہ گاڑی کس کے نام رجسٹرڈ ہے…” راجا کے لہجے میں ہریشانی محسوس کر کے اشعر چونکا…
“سب ٹھیک ہے ناں سر… آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں… ” اس نے دھیمے مگر فکر مندانہ لہجے میں پوچھا تھا…
“ہاں ٹھیک ہے…بعد میں بتاؤں گا… بہت بڑی بھول ہو گئ ہے مجھ سے… اپنے فرض کی تکمیل میں مصروف ہو کر کسی کی زندگی داؤ پر لگا دی ہے… ” آخر میں اس کا لہجہ اذیت سے بھرپور تھا…
کال کاٹ کر اس نے فون ڈیش بورڈ پر پھینکا… اور بالوں میں ہاتھ پھیرتا دل میں اٹھتے خدشات کو دبانے کی کوشش کرنے لگا…
نہ جانے کتنی دیر ہو چکی تھی اسے بے ہوشی کی حالت میں پڑے… جب آنکھ کھلی تو سر چکرا رہا تھا… آنکھوں کے پپوٹے بھاری ہو رہے تھے… ذہن بھی خوابیدہ سا ہو رہا تھا…
بمشکل آنکھیں کھول کر اس نے اطراف میں دیکھنے کی کوشش کی…
وہ ایک نیم اندھیر سا کمرہ تھا… جہاں ایک طرف ایک کرسی پڑی تھی… اور ایک طرف اندھیرے میں کچھ ڈبے اور نہ جانے کیا کچھ… باقی پورا کمرہ خالی تھا…
ابیہا نے چوکھٹ کی جانب دیکھا… وہ کمرہ دروازے کے بغیر تھا… وہاں دو افراد کھڑے تھے… بندوقیں تھامے… ان کی ابیہا کی جانب پشت تھی… اور دونوں آپس میں کسی گفتگو میں مگن تھے… ابیہا نے اٹھنے کی کوشش کی… زمین پر پڑے رہنے کی وجہ سے کمر تختہ ہو رہی تھی… وہ بمشکل اٹھ کر کھڑی ہوئ… ہاتھوں میں موجود چوڑیوں کی کھن کھن سے وہ دونوں افراد اس کی طرف متوجہ ہوۓ…
“حامد… لڑکی ہوش میں آ گئ ہے… ” ان میں سے ایک نے باہر اپنے کسی تیسرے ساتھی کو پکارا… غالباً یہ وہی تینوں مرد تھے جنہوں نے اسے کڈنیپ کیا تھا…
ابیہا کو آہستہ آہستہ سب یاد آنے لگا… اور آنکھوں میں خوف و وحشت کے ساۓ نظر آنے لگے… باہر سے ایک آدمی جس کا نام حامد لیا گیا تھا وہ اندر داخل ہوا… اس کے پیچھے ہی باقی دونوں رائفل بردار بھی چلے آۓ… ابیہا کو حامد نامی شخص کچھ جانا پہچانا سا لگا تھا…لیکن ذہن اس وقت یہ سوچنے کی حالت میں نہ تھا کہ اسے کہاں دیکھا ہے…
“اوہ…تو ہوش آ گیا میڈم صاحبہ کو…؟؟” وہ آدمی جہالت بھرے انداز میں کہتا ہنسنے لگا…
“کک…کون ہو تم لوگ… ؟؟ مم…مجھے کیوں لے کر آۓ ہو یہاں… ؟؟” ابیہا لرزتی کانپتی پیچھے ہٹنے لگی… وہ شخص مسلسل آگے بڑھ رہا تھا…
“اتنی بھی کیا جلدی ہے بے بی… تھوڑا صبر کرو… سب پتا چل جاۓ گا… ” وہ پچکارنے کے سے انداز میں بولا تھا…جبکہ چہرے سے خباثت ٹپک رہی تھی…
“را…راجا نے…بھیجا ہے نا… تم لوگوں کو… چھ…چھوڑوں گی نہیں میں اسے… ” اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں… حلق میں نمکین گولہ سا اٹکنے لگا… راجا سے اسے یہ امید ہرگز نہیں تھی… کہ وہ اتنا گر جاۓ گا…
“ارے کون راجا…کس کا راجا… اور میڈم… یہاں سے نکلو گی تو ہی کسی کو چھوڑنے یا پکڑنے کے لائق ہو گی نا… ” اس شخص کے لہجے میں دھمکی چھپی تھی… شکر تھا کہ وہ ابیہا سے کچھ دور ہی رک گیا تھا…
“تت…تو پھر تم لوگ کون ہو… ؟؟ کیا چاہتے ہو مجھ سے… ؟؟” ابیہا نے اپنی آواز کی لرزش پر قابو پانے کی کوشش کی…
“چاہتے تو بہت کچھ ہیں… کب سے انتظار تھا اس دن کا… کوشش تو بہت کی تھی ہم نے تمہیں پہلے ہی مارنے کی…لیکن تم شاید مزید کچھ دن کی مہلت لکھوا کر لائ تھی اپنے رب سے…تبھی بچ گئ… لیکن آج… آج تمہارا بچنا ناممکن ہے جانِ من…” وہ بات کے اختتام میں پھر بے ہودہ انداز اپنا گیا… ابیہا کو یاد آنے لگا… جس رات وہ رشنا کی کڑوی باتیں سن کر کلب سے نکلی تھی اور راجا بھی اس کے پیچھے چلا آیا تھا تب کسی نے اسے گاڑی کے نیچے کچلنے کی کوشش کی تھی… لیکن راجا نے اسے بروقت بچا کر وہ چوٹیں اپنے جسم پر جھیلی تھیں… اور اس کے بعد سامنے کھڑے اس شخص حامد کی اچھی خاصی دھلائ بھی کی تھی… یعنی ان لوگوں کو راجا نے نہیں بھیجا تھا… اور یقیناً وہ بھی سب کی طرح اس بات سے بے خبر ہو گا کہ ابیہا کو کون لوگ لے گۓ اور وہ کس جگہ ہے اس وقت…
اسے خود پر رونا آنے لگا… کاش آج بھی وہ راجا کو ساتھ لے آتی تو کم از کم ان حالات سے تو نہ گزرنا پڑتا… اسے شدت سے راجا کی یاد آئ…
“ویسے ایک بات تو ماننی پڑے گی… تم ہو بہت خوبصورت… نہ جانے اسد شیرازی نے اتنے سال تک خود پر کیسے قابو رکھا… ورنہ اس جیسے شیطان صفت مرد سے ایسی توقع کرنا ہی فضول ہے… تم تو اس کے ساتھ رہتی بھی اکیلی تھی نا… جب چاہے تمہاری معصومیت کا فائدہ اٹھا سکتا تھا وہ… ” اس کی گھٹیا باتوں پر ابیہا پہلے تو ناسمجھی سے اسے دیکھے گئ… جب بات سمجھ آئ تو اس کا چہرہ سرخ ہوا غصے کی شدت سے… “بکواس بند کرو اپنی… میرے ڈیڈ کے بارے میں ایسی گھٹیا اور گندی باتیں کرتے ہوۓ شرم آنی چاہیے تمہیں… ” وہ چینخ اٹھی تھی… ساتھ ہی اپنی بے بسی پر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے…
“ہنہہ… ڈیڈ… ؟؟ ارے وہ شخص تو انسان کہلاۓ جانے کے لائق نہیں ہے… جسے تم ڈیڈ کہتی ہو… باپ سمجھتی ہو… چچ…چچ… بہت افسوس ہوا دیکھ کر… کہ تم اتنی عزت کرتی ہو اس کی…لیکن اس کا اصلی روپ آج تک نہیں دیکھ پائ تم… وہ انسان کے روپ میں بھیڑیا ہے بھیڑیا… جو موقع کی تلاش میں ہے… وقت آتے ہی اپنی سفاکی سے تمہیں ختم کر ڈالے گا… ” اس انسان کے لہجے میں آگ تھی… ابیہا ہچکیوں سے رونے لگی… کس چنگل میں پھنس گئ تھی وہ… اسے اپنی زندگی, اپنی عزت سب خطرے میں نظر آنے لگی… آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر اس کی روح تک کانپ اٹھی تھی… نہ جانے کیا سلوک کرنے وے تھے وہ لوگ اس سے…
“کیا ہوا بے بی… ڈر لگ رہا ہے…؟؟” اسے پچکارنے کے سے انداز میں کہہ کر اس نے قہقہہ لگایا… ابیہا نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکیوں کا گلہ گھونٹا…
تبھی وہ آدمی گنگنایا…
“پردے کے پیچھے کیا ہے…
پردے کے پیچھے… ” وہ مگن سا گنگناتے ہوۓ اس کی جانب بڑھنے لگا تھا… آنکھوں سے ہوس ٹپک رہی تھی… ابیہا لڑکھڑاتی ہوئ پیچھے ہوئ…
“دیکھو…میرے قریب مت آنا… دور…رہو مجھے سے… ” اس کے پورے وجود پر لرزش طاری ہونے لگی تھی… پیچھے ہوتے ہوتے اس کی کمر دیوار سے جا لگی… اس شخص کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری… “اب کہاں جاؤ گی… مان جاؤ لڑکی…کہ چڑیا شکاری کے جال میں بری طرح پھنس چکی ہے… ” استہزائیہ انداز میں کہتا وہ چمکتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا…
“مم…مجھے جانے دو پلیز… میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے…” ابیہا روتی ہوئ اس کے آگے ہاتھ جوڑ گئ… لیکن وہ شخص رکنے کی بجاۓ ایک ہی جست میں درمیانی فاصلہ عبور کر گیا تھا… “ناں ناں ناں… تم معافی مانگتی اچھی نہیں لگتی میری جان… ” اس نے ابیہا کے ہاتھ تھامے تھے… ابیہا زور لگاتی ہوئ اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی…
“ارے ارے… بس کر دو یار…تھک جاؤ گی… مزاحمت کرتے کرتے… اور یہ رونا دھونا کیوں… ؟؟ دیکھو ذرا…سارا میک اپ خراب کر لیا…” اس نے ایک ہاتھ سے ابیہا کے آنسو صاف کرنے کی کوشش کی… ابیہا نے اذیت کی انتہا کو چھوتے ہوۓ آنکھیں بند کیں… ہونٹ لرز رہے تھے… دل شدت سے کبھی رب کو اور کبھی راجا کو پکار رہا تھا…
“دیکھو نا… دلہن بنی کتنی پیاری لگ رہی ہو تم… یہ جوانی… یہ نوخیز حسن… کسی کا بھی دل بے ایمان کرنے کو کافی ہے… میں بھی تو آخر انسان ہوں نا… افسوس… تمہارا یہ سجنا سنورنا تمہارا نہ ہونے والا شوہر کبھی نہیں دیکھ سکے گا… لیکن ہم ہیں نا… اس حسن کو دیکھنے کے لیے… اسے سراہنے کے لیے… ” اس کے لہجے سے ہی اس کے ارادے صاف ظاہر تھے… ابیہا کی بند پلکوں سے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے… اس کا دوپٹہ پیچھے کی جانب سیٹ کیا گیا تھا پنوں کی مدد سے… صراحی دار گردن نمایاں ہو رہی تھی… حامد نے اس کے گلے میں موجود نیکلس ایک جھٹکے سے کھینچا… نیکلس ٹوٹ کر بکھر گیا تھا… نیکلس کھینچنے کے باعث ابیہا کی گردن پر خراشیں پڑ گئیں… اس کے منہ سے سسکیاں بلند ہوئیں تھیں… آنکھیں کھول کر اس نے دھکا دیا تھا حامد کو… وہ ایک دم لڑکھڑایا… ابیہا تڑپ کر اس کی گرفت سے نکلی… اور سائیڈ سے گزرتی باہر کی جانب بھاگی….پیچھے کھڑے دونوں افراد بوکھلا کر اس کی جانب بڑھے….لیکن اس سے پہلے ہی ابیہا کا بازو حامد کی گرفت میں آ چکا تھا… اس نے تیزی سے حامد کے بازو پر کاٹا… حامد نے بلبلا کر اس کا بازو چھوڑا… اور دوسرے ہاتھ سے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا… وہ اس سب کے لیے تیار نہ تھی تبھی لڑکھڑا کر دور جا گری… سر دیوار سے ٹکرایا تھا… کراہتی ہوئ وہ سر پکڑ کر رہ گئ… حامد غصے سے اس کی جانب بڑھا… اور مغلظات بکتے ہوۓ بالوں سے پکڑ کر اسے اپنی جانب گھسیٹا… دوپٹہ جو بالوں میں پنز لگا کر سیٹ کیا گیا تھا بال کھنچنے سے پنز میں کھمچاؤ پیدا ہوا,اور دوپٹہ اتر گیا… تکلیف کی شدت سے ابیہا کے منہ سے چینخ برآمد ہوئ… “سالی…مجھ سے مقابلہ کرے گی… اب دیکھ میں تیرا کیا حشر کرتا ہوں… بہت آگ ہے نا تیرے اندر… کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے گی… ” اس نے ایک ہاتھ سے ابیہا کی گردن دباتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے اس کے جبڑوں کو سختی سے اپنی انگلیوں میں جکڑا… اس کی پیشانی پر پہلے ہی دیوار سے ٹکرانے کے باعث زخم بن گیا تھا… نزاکت میں پلی بڑھی اس معصوم لڑکی کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کیا جا رہا تھا کہ انسانیت بھی شرما جاۓ…
اس سے پہلے کہ حامد اپنے کسی گھٹیا مقصد میں کامیاب ہوتا… کسی کا زوردار تھپڑ اس کے منہ پر رسید ہوا… ابیہا کی گردن اس کے ہاتھوں سے آزاد ہوئ تو وہ بری طرح کھانسنے لگی… جبکہ حامد تھپڑ کھانے کے بعد چند لمحوں تک تو حیران پریشان رہ گیا… کچھ دیر بعد سنبھلا تو نگاہیں اٹھا کر دیکھا… اس کے سامنے کھڑا شخص شدید غصے سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا..
_______
گاڑی کا نمبر ٹریس ہو چکا تھا… شام کے سات بج رہے تھے جب راجا گاڑی کے مالک کے گھر کے سامنے تھا… اس نے بیل پر ہاتھ رکھا تو مسلسل بیل بجاتا ہی چلا گیا… اس کے ہر ہر انداز سے اضطراب اور بے چینی ظاہر تھی…
“ارے بس کر دو بھئ… کون ہے دروازے پر… بہرے نہیں ہیں ہم… “مسلسل بجتی بیل پر کوئ چلّاتا ہوا دروازے کی طرف آنے لگا…
دروازہ کھلا اور کسی نے باہر جھانکا… وہ تقریباً پینتیس سالہ مرد تھا…
“جی کہیے…” ماتھے پر تیوری لیے اس نے راجا کو گھورا…
” صدیق احمد ہیں آپ…؟؟” راجا نے نرم لہجہ اپنایا…
“جی صدیق ہی ہوں میں… کیا کام ہے…؟؟” وہ ناگواری سے راجا کو دیکھ رہا تھا…یقیناً اسے مسلسل بیل بجانا پسند نہیں آیا تھا…
راجا اسے دھکا دیتے ہوۓ گھر میں گھسا… ساتھ ہی ریوالور نکالا…
“ارے ارے…یہ کیا بدتمیزی ہے… کدھر گھسے چلے جا رہے ہو…؟؟” وہ شخص ایکدم بوکھلایا… اندر سے ایک آٹھ یا نو سالہ بچہ بھاگتا ہوا آ رہا تھا… راجا نے اس بچے کو روکا… اور اس کی کنپٹی پر پسٹل رکھا…
“قریب آنے کی کوشش کی تو یہ جان سے جاۓ گا… ” اس کی نگاہوں کی سرخی دیکھ کر وہ شخص بھی دور رک گیا…جبکہ خوف اس کی آنکھوں میں واضح دیکھا جا سکتا تھا…
“کک…کون ہو تم…؟؟ کیا چاہتے ہو…؟؟ دیکھو میرے بچے کو چھوڑ دو… معصوم ہے وہ…” صدیق احمد کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں… بچہ بھی یہ صورتحال دیکھ کر کافی گھبرا گیا…
شورشرابے کی آواز سن کر اندر سے اس کی بیوی بھی چلی آئ اور ساتھ بیٹی بھی… جو قریبأ سات سال کی ہو گی…
“جو میں پوچھوں گا,اس کا صاف اور درست جواب دو گے تو کسی کو کچھ نہیں کہوں گا… لیکن اگر ایک لفظ بھی جھوٹ کہا…تو تم بھی جان سے جاؤ گے اور تمہاری فیملی بھی… ” راجا کا لہجہ کسی بھی قسم کے احساسات سے عاری تھا…
“کک…کیا پوچھنا چاہتے ہو… ؟؟” صدیق احمد نے لرزتی آواز میں اپنی بیوی کا ہاتھ تھاما جو خود بھی اپنے بیٹے کو راجا کی گرفت میں دیکھ کر بدحواس ہو گئ تھی… ان کی بیٹی تو باقاعدہ رو رہی تھی…
“آج تمہاری گاڑی میں جس لڑکی کو کڈنیپ کر کے لے جایا گیا پارلر سے… وہ لڑکی اس وقت کہاں ہے… ؟؟” لب بھینچے راجا نے چبا چبا کر ہر لفظ ادا کیا…
سامنے کھڑا شخص کے چہرے پر تاریک سا سایہ لہرایا…
“کک…کون…سی لڑکی… ؟؟” تھوک نگلتے ہوۓ وہ بمشکل الفاظ ادا کر پایا…
راجا نے سلگتی نگاہوں سے اسے دیکھا… صدیق احمد کو خوف آیا تھا اس کی نگاہوں سے…
“اپنے بیٹے کی موت کے ذمہ دار اب تم خود ہو گے… ” راجا نے ٹریگر پر انگلی کا دباؤ بڑھایا…
“صدیق…کون ہے یہ…اور کس لڑکی کی بات کر رہا ہے… اگر آپ کو پتا ہے تو بتا دیں پلیز… ورنہ وہ میرے بچے کو مار ڈالے گا… ” اس کی بیوی نے کرب سے چلاتے ہوۓ ساتھ کھڑے شوہر کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا… بچے نے آنسو بھری نگاہوں سے راجا کی طرف دیکھا… لیکن راجا نے ریوالور ہٹایا نہیں تھا اس کی کنپٹی سے…
“ٹھہرو…پلیز گولی مت چلانا… مم…میں بتاتا ہوں… ” ہر انسان کی کمزوری ہوتی ہے اس کی فیملی… صدیق احمد کا دل بھی پسیج گیا تھا بالآخر…
“بولو…” راجا پھر اس کی طرف متوجہ ہوا…
“لڑکی کہاں ہے میں نہیں جانتا… وہ تین لوگ تھے… کون ہیں یہ بھی نہیں جانتا… بس انہوں نے پیسے کا لالچ دیا اور کہا کہ کسی کو بھی اس بارے میں پتا نہ چلے… میں گاڑی میں ہی تھا جب وہ لڑکی کو اٹھا کر لاۓ… پارلر سے لڑکی کو لے کر ہم روانہ ہوۓ… رستہ وہی سمجھاتے رہے… پھر ایک سنسان سڑک پر انہوں نے گاڑی رکوائ… وہاں پولیس کی ایک گاڑی کھڑی تھی… اور ایک پولیس والا بھی… ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور باتیں کرتے ہوۓ وہ سب ایک دوسرے کے واقف کار لگ رہے تھے… وہاں سے مجھے فارغ کر دیا گیا اور لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں پولیس کی گاڑی میں لے گۓ… اس سے آگے مجھے کچھ نہیں پتا… اب میرے بیٹے کو چھوڑ دو پلیز… ” ساری بات بتا کر آخر میں اس نے التجا کی…
” پولیس کی گاڑی کا نمبر دیکھا…؟؟؟” راجا نے کچھ سوچتے ہوۓ پوچھا…
“نن…نہیں… مجھے کیا معلوم تھا کہ ایسا کوئ مسئلہ پیدا ہو گا… ” وہ آدمی خوفزدہ لہجے میں بولا…
“پولیس والے کے بارے میں کوئ بات جو تمہیں معلوم ہو… ؟؟” راجا نے ریوالور پیچھے کر لیا تھا…لیکن بچہ ابھی بھی اس کی گرفت میں تھا…
“نن…نہیں… مجھے کچھ نہیں پتا پولیس والے کے بارے میں… ہاں پر… اس کے بیج پر لکھا نام میں نے پڑھا تھا… بلاول رضا… سب انسپکٹر تھا وہ…”
“ہممم… سوری بیٹا… آپ کو ڈرا دیا نا میں نے… جاؤ اپنے بابا کے پاس… ” راجا نے اس بچے سے کہا جو اس کی بات پر بے یقین سا اس کی طرف دیکھ رہا تھا… راجا اٹھ کھڑا ہوا… ریوالور جیکٹ کے اندر بندھے بیلٹ میں اڑسا… اور باہر کی طرف قدم بڑھا دیے…
“اگلے پندرہ منٹ میں مجھے سب انسپکٹر بلاول رضا کی ساری ڈیٹیلز چاہییں… ہری اپ… ” میسیج ٹائپ کر کے کسی کو سینڈ کیا اور ایک بار پھر گاڑی آگے بڑھا دی…
جاری ہے
