Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34

چند لمحوں بعد ابیہا کی حالت کچھ سنبھلی…
راحم بھی اب ان سے فاصلے پر جا چکا تھا… کہ ابیہا کو یوں بے حجاب دیکھنا ان کی غیرت کو گوارا نہ تھا… وہ دونوں ہی جانتے تھے کہ سامنے موجود وہ لڑکی کیپٹن ابتہاج کے لیے کتنی اہمیت رکھتی تھی…
ابیہا سر کو پکڑے سیدھی ہو کر بیٹھی… سر چکرانے لگا تھا…دونوں ہاتھوں سے سر کو تھامتی وہ اٹھ بیٹھی…اس کے بال اس کے وجود کو ڈھانپنے میں مددگار ثابت ہوۓ تھے….جیکٹ خود پر درست کرتے ہوۓ وہ قدرے حیران نگاہوں سے سامنے بیٹھے راجا کو تکنے لگی…
رات کے مناظر نگاہوں میں واضح ہونے لگے… کوئ شخص اس کے کمرے میں موجود تھا… اس کے نیند سے بیدار ہونے تک اس شخص نے اپنے ہاتھ میں موجود رومال اس کے منہ پر جما دیا تھا…. اس نے مزاحمت کی کوشش کی تھی لیکن بے سود… پھر کچھ لمحوں بعد وہ ہوش کھو چکی تھی… اس کے بعد کیا ہوا وہ ہر بات سے بے خبر تھی…
تو کیا اسے اغواء کرنے والا شخص راجا تھا…لیکن وہ بھلا کیوں اغواء کرے گا اسے…
دماغ پر زور دیتے ہوۓ اس نے ایک بار پھر نظریں اٹھا کر راجا کی جانب دیکھا… آنکھوں کے سامنے موجود دھند سی چھٹنے لگی تھی… راجا کی پشت پر اسے ایک کرسی کے ساتھ بندھا وجود دکھائ دیا…
تبھی فراز آفندی کے کراہنے کی آوازسنائ دی… راجا ابیہا کے قریب سے اٹھا… اور فراز آفندی کی طرف بڑھ گیا…
اس کے منہ پر پانی کے چند چھینٹے مارے… جس سے منہ پر لگا خون بہہ گیا اور اس کی شکل قدرے واضح ہوئ…
ابیہا اپنی جگہ سے اٹھی… راجا کی دی گئ جیکٹ پہنی جس نے اس کے وجود کو چھپا لیا تھا…
دھیمے قدموں سے چلتی ہوئ وہ راجا کی طرف بڑھنے لگی…
“یہ کون ہے…؟؟” فراز آفندی کا ایک رخ ہی اس کی جانب تھا… اور فاصلے پر ہونے کی وجہ سے اور اس کا منہ خون سے سرخ ہونے کی وجہ سے وہ اسے پہچان نہیں پائ تھی…
راجا نے ایک نفرت بھری نگاہ فراز آفندی پر ڈالی…
“آپ کا کڈنیپر… فراز آفندی… جسے اسد شیرازی نے بھیجا تھا…آپ کے ساتھ کچھ غلط…” راجا کا لہجہ لڑکھڑا سا گیا…وہ لب بھینچ کر خاموش ہو گیا… جملہ ادھورا رہ گیا تھا… لیکن اس ادھورے جملے کا پورا مطلب ابیہا سمجھ چکی تھی…وہ سن سی اسے دیکھے گئ…
بہت دیر تک وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہی…
اسے خود پر افسوس ہونے لگا کہ اتنے سال کیسے وہ اسد شیرازی جیسے گھٹیا شخص پر اعتماد کرتی رہی… جو اسے منہ سے تو بیٹی کہتا تھا لیکن اس کے ذہن میں ابیہا کے لیے اتنی گندگی بھری تھی…
اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں… کانپتے ہونٹوں سے ایک لفظ تک نہ نکلا تھا… لرزتی پلکیں جھکا کر وہ لب کاٹنے لگی…
راجا نے ایک نظر اس کے سرخ پڑتے چہرے کی جانب دیکھا…
پھر سامنے قدرے رخ موڑ کر کھڑے راحم اور اشعر کی جانب متوجہ ہوا…
“راحم اور اشعر… تم دونوں جاؤ… اور ایسا کرو…ابیہا کو بھی ساتھ لے جاؤ… ان کی جان ابھی بھی خطرے سے باہر نہیں ہے… اسد شیرازی نے یقیناً کچھ بڑا پلان کیا ہے… اور ابیہا یہاں محفوظ ہرگز نہیں ہے… انہیں ڈی آئ جی انکل کے گھر چھوڑ دینا… وہاں یہ بالکل محفوظ ہو گی… اس معاملے کو اب میں سنبھال لوں گا… باقی کے جو کام ہیں وہ نمٹاؤ… اور یاد رکھنا…کل تک ہر حال میں ہمیں اپنا کام مکمل کرنا ہے… ہری اپ… وقت کم ہے ہمارے پاس… ” راجا نے اپنی بات مکمل کر کے ابیہا کی جانب دیکھا…
جو اس کی بات پر حیران پریشان سی اسے تکتی نفی میں سر ہلا رہی تھی… آنکھوں میں نمی تھی…
“مم…میں نہیں جاؤں گی کسی کے ساتھ… مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے راجا…پلیز… ” اس کے قریب ہوتے ہوۓ ابیہا نے اس کا بازو پکڑا تھا… جیسے کوئ بچہ خوفزدہ ہو کر کسی اپنے کے ساتھ رہنا چاہتا ہے… کسی اپنے کی آغوش میں ہی خود کو محفوظ تصور کرتا ہے… راجا نے نرمی سے اس سے اپنا بازو چھڑایا…
کچھ جھجھکتے ہوۓ اس کے چہرے پر آئ بالوں کی لٹ کو اس کے کان کے پیچھے اڑستے ہوۓ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا… “اینجل… یہاں حالات سازگار نہیں ہیں… آپ میرے ساتھ نہیں رہ سکتیں اس وقت… کہ آپ میری کمزوری ہیں… دشمن اگر مجھ سے مقابلہ کرے تو منہ کی کھاۓ گا…لیکن اگر اس نے مجھ سے بدلے کی آگ میں خدانخواستہ آپ کو کوئ نقصان پہنچایا تو میں کیسے لڑ پاؤں گا اس سے… مجھے آپ کو اپنی طاقت بنانا ہے…کمزوری نہیں… اس وقت آپ کا یہاں سے جانا ہی ہم دونوں کے لیے بہتر ہے… اور پلیز… اب مزید ضد مت کیجیے گا… آپ کو بھروسہ ہے نا مجھ پہ…کہ میں آپ کو کبھی غلط ہاتھوں میں نہیں سونپ سکتا.. ؟؟ “
وہ پر یقین نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا…
ابیہا نے اپنے چہرے کے گرد رکھے اس کے مضبوط ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے… اور نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا… راجا نے اداسی بھری مسکراہٹ چہرے پر سجائ…
“تو پھر بے فکر ہو کر جائیے… راحم اور اشعر میرے بھروسے کے بندے ہیں… اور ان کے ہوتے ہوۓ آپ کو کوئ ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا… میں جو کہہ رہا ہوں, جو کر رہا ہوں آپ کی سیفٹی اور سیکیورٹی کے لیے ہی کر رہا ہوں… بلیو می… ” راجا نے اس کے سرد پڑتے ہاتھ تھامے… جیسے تسلی دینا چاہ رہا ہو… جیسے اس کا ڈر, اس کا خوف زائل کرنا چاہ رہا ہو… اور اس کے لہجے نے, اس کے انداز نے خاطر خواہ اثر کیا تھا ابیہا پر…
راجا نے شہادت کی انگلی سے اس کے رخساروں پر بکھرتے آنسوؤں کو صاف کیا… پھر راحم اور اشعر کو اشارہ کیا… اس کی نگاہوں کا مطلب سمجھتے ہی وہ دونوں آگے بڑھے…
“چلیں…” راحم نے احترام بھرے لہجے میں ابیہا کو مخاطب کیا… ایک آخری نگاہ اس پر ڈال کر ابیہا آگے بڑھ گئ… جبکہ راجا نگاہوں سے اوجھل ہونے تک انہیں دیکھتا رہا…
💝💝💝💝💝
مرزا جمال آفندی ویڈیو کال پر دبئ میں موجود اپنے ایک خاص الخاص بندے کو کچھ اہم ہدایات دے رہے تھے… آج ان کا واپس جانے کا ارادہ تھا لیکن سدا کا لاپرواہ فراز آفندی عین وقت پر نہ جانے کہاں چلا گیا تھا کہ اب تک نہ لوٹا تھا… اس کی وجہ سے مرزا جمال آفندی کو بھی رکنا پڑا… فراز آفندی کبھی کبھار شدید طیش دلاتا تھا انہیں…
ویڈیو کال ختم کرنے کے بعد مرزا جمال آفندی نے لیب ٹاپ شٹ ڈاؤن کیا… صوفے کی پشت سے ٹیک لگاۓ دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر وہ آنکھیں موند گۓ…
کبھی ان کی زندگی میں سب رشتے موجود تھے لیکن پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے زندگی اجیرن تھی…
پھر پیسہ کمانے کی ایسی دھن سر پر سوار ہوئ کہ وہ اپنے سب رشتوں کو پیچھے چھوڑ گۓ…. ہر جائز ناجائز طریقہ استعمال کیا اپنے بینک اکاؤنٹس کو بھرنے کے لیے…
آج حرام طریقے سے کمائ گئ دولت کے انبار تھے ان کی زندگی میں… اتنا پیسہ تھا کہ جس کا شمار ہی نہیں کیا جا سکتا تھا…لیکن پھر بھی حرص تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی…
اتنی دولت ہونے کے باوجود بھی زندگی میں سکون نہ تھا… کوئ رشتہ بھی نہ بچا تھا ان کی زندگی میں…کوئ ایسا کندھا نہ تھا کہ جس پر سر رکھے وہ کچھ دیر کے لیے سستا سکتے… جس کی آغوش میں جانے کے بعد وہ زندگی کی تلخیوں اور مصروفیات کو بھول جاتے… چند لمحوں کے لیے ہی سہی… سکون تو میسر ہوتا…
وہ تھکنے لگے تھے اب… کبھی کبھار کوئ بھولی بھٹکی یاد ان کے ذہن میں سرسرانے لگتی… ان کی وہ بیوی… ان کے دو بچوں کی ماں…جس نے غربت کے دنوں میں بھی ہمیشہ ان کا ساتھ دیا… ان سے وفا کرتی رہی… اور بدلے میں بے تحاشہ نفرت ملنے کے بعد بھی اس بدنصیب عورت کی محبت میں کوئ کمی نہیں آئ… اس کی وفا انمول تھی… تبھی تو اسد شیرازی کے بے وفائ کرنے کا صدمہ نہ سہہ پانے کے باعث وہ دل کا درد لیے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی…
یادوں کا یہ سماں بڑھتے بڑھتے اب ان کے بیٹے اور بیٹی پر آن ٹھہرا تھا… دو معصوم سی صورتیں…
دو معصوم سے دل…
انہیں یاد نہیں پڑتا تھا کہ کبھی انہوں نے اپنے بچوں کو محبت سے گلے لگایا ہو…
ہمیشہ ڈانٹ ڈپٹ ان دونوں کا مقدر رہی…
ہمیشہ انہوں نے اپنے دونوں بچوں کا دھتکارا…
وجہ کیا تھی…
صرف یہ…کہ ان کی ماں نے ان کی شادی ان کی پسند کی بجاۓ کسی اور لڑکی سے کر دی تھی… جو غریب تھی… جس میں طوائفوں والی ادائیں بھلے نہ تھیں… لیکن وفا شعاری کوٹ کوٹ کر بھری تھی…
بس اسی بات کی سزا مرزا جمال نے ساری زندگی اپنی شریک حیات کو بھی دی… اور اس کے بطن سے پیدا ہونے والی اپنی اولاد کو بھی…
جب وہ دونوں ان کے پاس تھے…ان کے سامنے… تب کبھی محبت کا ایک لفظ تک نہ کہا… اور آج جب ان سے ہر رشتہ چھن چکا تھا…آج اپنے وہی دو بچے شدت سے یاد آتے… دل شدت سے خواہش کرتا کہ کاش…
کاش کہیں سے ایک بار وہ دونوں ان کے سامنے آ جائیں… اور وہ اتنی زور سے ان دونوں کو سینے سے لگا کر بھینچیں کہ ساری دنیا سے اوجھل کر دیں… کبھی کسی مشکل یا تکلیف کا سایہ نہ پڑنے دیں ان پر…
لیکن دل کی ہر خواہش پوری کب ہوتی ہے…
کاش لفظ تو بس کاش ہی رہ جاتا ہے… نامرادی کا, لا حاصل حسرتوں کا مجموعہ… ‘کاش’…
اذیت سے سرخ پڑتی آنکھیں کھول کر گہری سانس لیتے وہ سیدھے ہوۓ… ماضی ہمیشہ تکلیف دہ ہی ہوتا ہے… جسے بار بار یاد کرتا انسان جان بوجھ کر خود کو اذیت کی بھٹی میں جھونکتا ہے… وہ بھی آج کل اسی دور سے گزر رہے تھے… ماضی کی کھڑکیوں سے جھانکتے… خود کو ذہنی اذیت پہنچاتے…
ان کی نگاہ سامنے شیشے کی میز پر موجود اپنے موبائیل پر پڑی… کچھ سوچ کر ایک بار پھر فراز آفندی کا نمبر ڈائل کیا… حسب توقع اس بار بھی اس کا نمبر بند ہی جا رہا تھا…
ڈھیلے ڈھالے انداز میں انہوں نے موبائیل واپس میز پر پٹخا… تبھی ان کا فون بجنے لگا تھا… وہ جو اٹھنے کا ارادہ کر رہے تھے چونک کر سیل کی جانب متوجہ ہوۓ…
“اسد شیرازی… اس وقت…؟؟” تھوڑا الجھتے ہوۓ انہوں نے کال ریسیو کی…
“ہیلو…” تھکی تھکی سی آواز میں وہ بولے… ساتھ ہی دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے دونوں آنکھوں کو دبایا…
“ہیلو… مرزا… تمہارے بیٹے فراز آفندی کی جان خطرے میں ہے… ” اسد شیرازی نے گھبراۓ ہوۓ انداز میں انہیں مطلع کیا…
مرزا جمال آفندی نے جھٹکے سے سیدھے ہوتے ہوۓ آنکھیں کھولیں…
“کیا مطلب…؟” انہیں تشویش نے آ گھیرا تھا…
“وہ جو ابیہا کا گارڈ تھا نا راجا… وہ وہی لڑکا ہے جسے مراد بخاری اور اس کی بیوی کے قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا…
وہ بھی ابیہا کی دولت کے لالچ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہے… اور پورے پلان کے تحت ہی ہماری زندگی میں آیا تھا…
ابھی کچھ دیر پہلے وہ ابیہا کو زبردستی اٹھا لے گیا ہے… اور فراز کو بھی اغواء کیا ہے اس نے… کہہ رہا تھا فراز کو ختم کرنے کے بعد وہ ابیہا سے جبرأ شادی کر لے گا…
میں جانتا ہوں وہ ابیہا اور فراز کو کہاں لے گیا ہے… ایڈریس بتاتا ہوں…جلدی پہنچو… ورنہ وہ فراز کو بھی مار ڈالے گا… ” تیز تیز بولتے ہوۓ اسد شیرازی نے مرزا جمال آفندی کو ایڈریس بتایا…
مرزا جمال آفندی کا دل و دماغ دھماکوں کی زد میں تھا… بمشکل غصہ ضبط کرتے ہوۓ وہ اٹھے… جارحانہ تیور لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھے… لوڈڈ گن لیے اب وہ گاڑی میں بیٹھ کر طوفانی اسپیڈ سے اس جگہ کی طرف جا رہے تھے جس کا پتہ اسد شیرازی نے دیا تھا…
💝💝💝💝💝
اس کے منہ پر مزید پانی کے چھینٹے مارتے ہوۓ راجا نے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی…
فراز آفندی کی حالت سنبھلنے لگی تھی… راجا نے اس کے منہ سے پانی کی بوتل لگائ… چند گھونٹ فراز آفندی کے حلق سے نیچے اترے…
“کیا ہوا…؟؟ اتنی جلدی ہار مان گۓ ڈئیر کزن…؟؟” بے تاثر لہجے میں کہتے ہوۓ راجا نے پانی کی بوتل ایک جانب اچھالی… اور اس کی ٹھوڑی سختی سے تھام کر اس کا چہرہ اپنی جانب کیا…
فراز آفندی نے اس کے کزن کہنے پر حیران ہوتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… پھر مزید جھٹکا لگا اسے راجا کی نیلی آنکھوں کو دیکھ کر… چند پل کے لیے تو وہ کچھ سمجھ ہی نہ پایا…
“کیا ہوا…؟؟ حیرت ہو رہی ہے…؟؟ پہچانا مجھے یا نہیں…
دیکھو… غور سے دیکھو فراز آفندی… وہی راجا ہوں میں… جس سے ہر چیز چھین لیا کرتے تھے تم… وہی ابتہاج… جس کا جینا حرام کر دیا تھا تم نے… تمہارا وہی کزن…جس پر پیسے چرانے کا الزام تم نے لگوایا جبکہ وہ چوری بھی تم نے خود کی تھی… ہر ایک کا اچھا وقت آتا ہے… تب تمہارا وقت تھا… آج میرا… سمجھ نہیں آتا کہ تمہیں تمہارے ماضی کی غلطیوں اور آج کی اس گھٹیا حرکت پر موت کے گھاٹ اتاروں….یا تم پر ترس کھا کر تمہاری جان بخش دوں… میں نے ہمیشہ دشمن کو دشمن سمجھ کر مارا….لیکن آج… آج نہ جانے کیوں مجھے تم سے ہمدردی ہو رہی ہے… دل تو چاہتا ہے کہ تمہیں اتنا ماروں….اتنا ماروں کہ تڑپ تڑپ کر, ایڑیاں رگڑ رگڑ کر تم اپنی جان دے دو… لیکن کیا کروں… میرا دل اتنا کافر نہیں بن پایا… چاہ کر بھی میں تمہیں تمہارے اعمال کی سزا نہیں دے سکتا… اسی لیے اپنا اور تمہارا معاملہ میں نے ربِ تعالٰی کے سپرد کر دیا ہے… کیونکہ وہ بہتر بدلہ لینے والا ہے… بس ایک ہی دعا ہے….کہ اللّہ تمہیں ہدایت دے… شاید اب تم پر میری اس بات کا اثر ہو جاۓ… “
آخر میں راجا کا لہجہ افسردہ ہوا تھا… اپنی بات کہہ کر وہ اٹھا… اور کرسی سے بندھے فراز آفندی کے ہاتھ کو کھولنے لگا… ابھی ایک ہی گرہ کھولی تھی جب پیچھے سے کسی نے آ کر راجا کو دھکا دیا… راجا لڑکھڑا سا گیا…. تیزی سے پلٹ کر اس نے مارنے والے کی طرف دیکھنا چاہا لیکن تب تک آنے والا شخص اس پر کئ وار کر چکا تھا… پے در پے مکے رسید کرتے ہوۓ وہ شخص گویا پاگل ہو رہا تھا…
راجا نے طیش میں آتے ہوۓ خود کو اس کی گرفت سے چھڑا کر مکا رسید کرنا چاہا….لیکن مقابل کا چہرہ دیکھ کر اس کا مکّا ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا… سامنے مرزا جمال آفندی کھڑے تھے… آنکھوں میں خون لیے وہ کبھی اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے اور کبھی اپنے چہرے کے قریب رکا اس کا وہ مٹھی بنا ہاتھ..
________
راجا اپنے سامنے اپنے باپ کو کھڑا دیکھ کر ان پر ہاتھ نہیں اٹھا سکا تھا… تبھی لب بھینچ کر اٹھا ہوا ہاتھ نیچے کر گیا…
“تمہاری ہمت کیسے ہوئ میرے بیٹے کو ہاتھ لگانے کی… میں تمہیں جان سے مار دوں گا… “مرزا جمال آفندی کی نگاہ فراز آفندی کے زخمی چہرے پر پڑی تو وہ دوبارہ راجا پر پل پڑے…
راجا کی آنکھوں میں زخمی پن سا در آیا…
اگر اسے اپنی اولاد سمجھ کر آج یوں مرزا جمال آفندی اس پر ہاتھ اٹھاتے تو وہ ہنسی خوشی یہ سب برداشت کر لیتا….
لیکن دکھ تو اسی بات کا تھا… کہ وہ فراز آفندی کی خاطر یوں اپنے ہی بیٹے کو مار رہے تھے… اپنے بیٹے کا حق کسی اور کو دے دیا تھا…
پے در پے مکوں اور گھونسوں کی برسات کرتے مرزا جمال آفندی جنونی ہو رہے تھے… راجا کا نچلا ہونٹ پھٹ گیا…
منہ سے خون بہنے لگا تھا…
لیکن دوبارہ نہ تو راجا نے ان پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی… نہ ان کا ہاتھ روکنے کی… اور نہ ہی منہ سے اف تک کی آواز نکالی…
اسد شیرازی بھی تبھی وہاں آیا تھا… اس کے ساتھ اس کا خاص ساتھی اشرف بھی تھا…لیکن وہ دونوں سامنے نہیں آۓ تھے… ان سے کافی دور دیوار کی اوٹ میں کھڑے دونوں تماشہ دیکھ رہے تھے…
“سر… آپ نے کیا سوچ کر مرزا جمال آفندی کو یہاں بھیجا… اگر وہ دونوں باپ بیٹا آپس میں مل گۓ تو…؟؟” اشرف ابھی تک اسد شیرازی کی پلاننگ نہیں سمجھ پایا تھا… اسد شیرازی کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھری…
“وہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں اشرف… جس طرح مرزا جمال آفندی طیش میں اسے پیٹ رہا ہے…وہ کبھی راجا کو اتنا وقت ہی نہیں دے گا کہ راجا اسے بتا سکے کہ وہ اس کا بیٹا ہے…
مجھے معلوم تھا… بہت اچھی طرح معلوم تھا کہ ابیہا راجا کی کمزوری ہے… ابیہا کے اغواء کی خبر سن کر اور یہ جان کر کہ اس کا اغواء فراز آفندی نے کیا ہے راجا اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے گا… اور ضرور فراز آفندی کو تشدد کا نشانہ بناۓ گا… اور بالکل ایسا ہی ہوا… سامنے نیم مردہ سے فراز آفندی کو دیکھو… اتنی ہمت نہیں اس میں کہ اپنے ہاتھ کو ہلا بھی سکے…
اور رہی بات مرزا جمال آفندی کی… تو میں جانتا تھا کہ فراز آفندی کے راجا کے ہاتھوں اغواء کی خبر سن کر وہ آگ بگولہ ہو جاۓ گا… اور فراز آفندی کی عنقریب موت کے بارے میں جان کر بغیر کچھ سوچے سمجھے راجا تک پہنچ جاۓ گا…اور ظاہر سی بات ہے اگر مرزا جمال آفندی راجا کو مارے گا تو بدلے میں راجا بھی اس پر ہاتھ اٹھاۓ گا…
اگر ایسا نہ بھی ہوا تب بھی… آج مرزا جمال آفندی اور راجا میں سے کسی ایک کو تو مرنا ہی ہے… اگر مرزا جمال آفندی راجا کو ختم کرے تب بھی ہمارا فائدہ…کیونکہ راجا کا کانٹا بھی نکل جاۓ گا اور مرزا جمال آفندی جو مجھ پر رعب چلاتا ہے وہ اپنے ہی بیٹے کے قتل کے جرم میں جیل جاۓ گا… میرے لیے میدان صاف ہو جاۓ گا…
اور اگر راجا مرزا جمال آفندی کو ختم کر دے… اس صورت میں بھی مرزا سے جان چھوٹے گی اور راجا قتل کیس میں اندر جاۓ گا… دونوں سے چھٹکارا ملے گا… باقی رہ گیا فراز آفندی… تو جب اس کی ہشت پناہی کرنے والا مرزا ہی نہیں رہے گا تو پھر وہ کس کھیت کی مولی ہے… ابیہا کی اس سے شادی کرنے کے بعد ساری جائیداد اپنے نام کرواؤں گا اور ان دونوں کو بھی ختم کر دوں گا… پھر اسد شیرازی یہاں کا, اس شہر کا, اس ملک کا سب سے امیر شخص بن جاۓ گا… دنیا فخر کرے گی اسد شیرازی پر… اس کے جیسا امیر بننے کی خواہش کرے گی…” اسد شیرازی فاتحانہ نگاہوں سے راجا کو مار کھاتے دیکھ کر آنے والے وقت کے سہانے سپنے سجانے میں مگن تھا… اشرف بھی داد بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا… اتنا دماغ پتا نہیں کہاں آیا تھا اس اسد شیرازی کے پاس…
مار کھاتے کھاتے راجا لڑکھڑا کر پیچھے ہوتے ہوۓ دیوار سے جا لگا تھا… مرزا جمال آفندی نے ریوالور نکالتے ہوۓ اسے بالوں سے تھام کر اس کا سر اونچا کیا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *