Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03

ابیہا ساکت سی اپنے سامنے کھڑے اس شخص کی پشت کو تک رہی تھی جو کسی فرشتے کی مانند اس کی مدد کو آ پہنچا تھا۔۔۔ ایک لمحہ لگا تھا اس شخص کو اور اس نے سامنے کھڑے اس غنڈے کا ہاتھ مروڑ دیا۔۔۔ ہتھیار اب اس وجیہہ مرد کے ہاتھ میں آ چکا تھا۔۔۔ اور اس سے وہ اپنی طرف بڑھنے والوں کا مقابلہ کر رہا تھا۔۔۔ اس کی تیزی دیکھ کر ابیہا دنگ رہ گئ۔۔۔ وہ اکیلا ان سب پر بھاری پڑ رہا تھا۔۔۔ تبھی ابیہا کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی۔۔۔ دائیں ہاتھ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔ یقینأ اسے چوٹ لگی تھی۔۔۔ اور وہ بغیر تکلیف کی پرواہ کیے ڈٹ کر مقابلہ کر رہا تھا۔۔۔ ابیہا کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔۔۔ اسے لگا وہ حواس کھو دے گی۔۔۔ ان غنڈوں میں سے ایک ابیہا کی طرف حملہ کرنے کی غرض سے لپکا۔۔۔ عین اسی وقت وہ شخص جس کا نام خدا جانے کیا تھا اس کی نظر بھی ابیہا پر پڑی۔۔۔ اور اگلے ہی پل اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا وہ کلہاڑی نما ہتھیار دور سے ابیہا کی طرف پھینکا۔۔۔ ابیہا جو اسی پہ نظریں جماۓ بیٹھی تھی اسے لگا اس کی روح فنا ہو جاۓ گی۔۔۔ وہ ایک دم سر جھکا گئ۔۔۔ کلہاڑی کا دستہ ابیہا کے پیچھے موجود شخص کے پیٹ پر لگا اور وہ کراہتا ہوا نیچے گر گیا۔۔۔ ابیہا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے پیچھے دیکھا۔۔۔ اتنی مار دھاڑ اس نے پہلی بار حقیقت میں دیکھی تھی۔۔۔ اور اس کے احساسات عجیب سے ہو رہے تھے۔۔۔ وہ مسلسل گردن موڑے خود سے چند انچ کے فاصلے پر درد سے کراہتے شخص کو دیکھ رہی تھی جب اسے اپنے بازو پر کسی کی گرفت محسوس ہوئ۔۔۔ اس نے جھٹکے سے سامنے دیکھا۔۔۔ وہی اس کا مسیحا، اس کا محافظ اس کا ہاتھ تھامے اسے کھینچتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔ ایک ہاتھ میں کوئ خنجر تھا شاید جس سے وہ سامنے آنے والے ہر شخص کا سینہ چاک کرتا جا رہا تھا۔۔۔ اسے بحفاظت گاڑی تک پہنچا کر اس نے اندر دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا…”جب تک میں نہ کہوں باہر مت نکلنا۔۔۔ ” سخت لہجے میں کہتے ہوۓ وہ مڑ گیا۔۔۔ اور پھر ابیہا نے حقیقت میں وہ مناظر دیکھے جو صرف فلموں میں دکھاۓ جاتے تھے۔۔۔ اس شخص کی پھرتی سے یوں لگتا جیسے اس کی اسپیشل ٹریننگ کی گئ ہو۔۔۔ ابیہا ان مناظر کی تاب نہ لاتے ہوۓ آنکھیں بند کر گئ۔۔۔چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اس کے مقابل وہ دس بندے ڈھیر ہو چکے تھے۔۔۔ کچھ گاڑیوں کی آوازیں سنائ دیں تو ابیہا نے آنکھیں کھولیں۔۔۔ آگے پیچھے تین گاڑیاں وہاں آئ تھیں۔۔۔ جن میں سے ایک اسد شیرازی کی تھی اور دو گارڈز کی۔۔۔ ابیہا اپنے ڈیڈ کو سامنے دیکھ کر جلدی سے گاڑی سے اتری۔۔۔ اور بھاگ کر ان کے سینے سے جا لگی۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔۔ وہ ابھی تک بے یقین تھی کہ یہ سب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔۔ اسد شیرازی ابیہا کو یوں سلامت دیکھ کر خدا کا شکر ادا کر رہے تھے۔۔۔ ابیہا کو اس مسیحا کا خیال آیا۔۔۔ نظریں اٹھائیں تو وہ دور جاتا ہوا دکھائ دیا۔۔ “ڈیڈ۔۔۔ وہ۔۔۔” ابیہا نے باپ کی طرف دیکھتے ہوۓ اس کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ اسد شیرازی صورتحال دیکھ کر سب سمجھ چکے تھے۔۔۔ “ایکسکیوزمی۔۔۔” انہوں نے اونچی آواز میں پکارا۔۔۔ پہلی پکار پر ہی اس کے قدم تھم چکے تھے۔۔۔ لیکن وہ مڑا نہیں۔۔۔ اسد شیرازی قدم قدم چلتے اس تک پہنچے۔۔۔ ابیہا وہیں کھڑی تھی۔۔۔ “تم نے میری بیٹی کی جان بچائ۔۔۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کیسے تمہارا شکریہ اداکروں۔۔۔ ” اسد شیرازی احسان مندی سے کہہ رہے تھے۔۔۔ ان کی بات پر وہ مڑا اور اپنی پشت پر کافی فاصلے پر کھڑی ابیہا کی طرف دیکھا۔۔۔ اس کی نظروں میں کچھ تھا۔۔۔ کچھ بہت عجیب۔۔۔ “اٹس اوکے۔۔۔” سرد سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے نگاہوں کا زاویہ بدلہ۔۔۔ “باۓ دا وے۔۔۔ آئم اسد شیرازی۔۔۔ ٹاپ ملینئیر آف دس کنٹری۔۔۔ اینڈ یو۔۔۔؟؟؟” اسد شیرازی نے اپنا تعارف کرواتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔ “آپ کی طرح میری پہچان کوئ نہیں۔۔۔ نام راجا ہے۔۔۔ کام کوئ نہیں۔۔۔ ” وہ عجیب سے لہجے میں کہہ گیا۔۔۔ ہاتھ ملانے کی بجاۓ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں گھساۓ۔۔۔ اسد شیرازی خسیاہٹ کا شکار ہوتے ہاتھ پیچھے کر گۓ۔۔۔ چند لمحے خاموشی چھائ رہی۔۔۔ اسد شیرازی کچھ سوچنے میں مصروف تھے۔۔۔ پھر سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا جو گردن جھکاۓ اپنے شوز سے زمین سے مٹی کھرچ رہا تھا۔۔۔ جیسے دنیا میں اس سے زیادہ اہم کام کوئ نہیں۔۔۔ “ویل۔۔۔ میرے پاس ایک کام ہے تمہارے لیے۔۔۔ یہ میرا کارڈ ہے۔۔۔اگر تم انٹرسٹڈ ہو تو میرے آفس آ جانا۔۔۔۔ آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے۔۔۔ ” اسد شیرازی نے کارڈ آگے بڑھایا۔۔۔ راجا نے کچھ سوچتے ہوۓ کارڈ تھام لیا۔۔۔ تبھی اسد شیرازی کی نظر اس کے زخمی ہاتھ پر پڑی۔۔۔ “اوہ مائ گاڈ۔۔۔ تمہارے ہاتھ پر تو کافی گہری چوٹ لگی ہے۔۔۔ ” وہ بے ساختہ کہہ گۓ ورنہ چھوٹے لوگوں کے ایسے چھوٹے موٹے زخموں کی انہیں کہاں پرواہ تھی۔۔۔ “اٹس اوکے۔۔۔ اب تو عادت سی ہو گئ ہے۔۔۔ ہر جگہ زخم کھانے کی۔۔۔ ” لاپرواہی سے کہتا ہوا وہ مڑ گیا۔۔۔ اس کے لہجے میں ایک عجیب سا درد محسوس کیا جا سکتا تھا۔۔۔ اسد شیرازی چند لمحے اس کی پشت کو گھورتے رہے پھر سر جھٹک کر ابیہا کی جانب بڑھ گۓ۔۔۔
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
“حبیب۔۔۔ یہ معاملہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ جن چار ڈاکٹرز کو ان دہشتگردوں نے اغوا کیا تھا اپنا علاج کروانے کے لیے۔۔۔ وہ کبھی انہیں زندہ واپس نہیں آنے دیں گے۔۔۔ کیونکہ وہ ڈاکٹرز ان کے چہروں اور ان کے ٹھکانے سے واقف ہو چکے ہیں۔۔۔جتنی جلدی ہو سکے اپنے چند سولجرز کو روانہ کرو اس مشن پر۔۔۔ ہمیں وہ ڈاکٹرز کسی بھی حالت میں سلامت واپس چاہئیں۔۔۔ ان کی جان ہمارے لیے بہت قیمتی ہے۔۔۔ “اس لمبی سی راہداری میں دو سینئیر آفیسرز ہارون اور حبیب کوئ معاملہ ڈسکس کرتے ہوۓ چلتے جا رہے تھے۔۔۔ “سر۔۔۔ ہم آل ریڈی اپنی اسپیشل سروسز گروپ کے پانچ نوجوانوں کو کچھ دیر پہلے اس مشن پر روانہ کر چکے ہیں۔۔۔ ان کے ہیڈ کیپٹن ابتہاج ہیں۔۔۔ ہماری فورس کے سب سے بہادر اور نڈر آفیسر۔۔۔ جو بھی مشن اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔۔۔ اسے مکمل کر کے ہی دم لیتے ہیں۔۔۔ امید ہے جلد ہی وہ اپنی کامیابی کی خبر لیے ان ڈاکٹرز کے ہمراہ ہمارے روبرو ہوں گے۔۔۔ ” میجر حبیب متاثر کن لہجے میں کہہ رہے تھے۔۔۔
“کیپٹن ابتہاج۔۔۔؟؟” میجر ہارون نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا۔۔۔
“جی سر۔۔۔ کیپٹن ابتہاج۔۔۔ آپ کو پہلے بھی بتایا تھا نا ان کے بارے میں۔۔۔ چار سال ہوۓ ہیں انہیں SSGجوائن کیے۔۔۔ ان چار سالوں میں تقریبأ پندرہ مشن انہیں سونپے گۓ اور ان میں سے کوئ مشن ایسا نہیں جو انہوں نے پورا نہ کیا ہو۔۔۔ ہر وہ مشن جو دوسرے سر انجام دیتے ہوۓ ڈرتے ہیں کیپٹن ابتہاج خود آگے بڑھ کر اسے اپنے سر لیتے ہیں۔۔۔ بس ان کی شرط یہ ہوتی ہے کہ ٹیم ممبرز وہ خود چنیں گے۔۔۔ اور ان چار سالوں کی سروس میں انہوں نے اپنا اتنا تو امیج بنا ہی لیا ہے کہ ہم ان پر بھروسہ کر سکیں۔۔۔ اور بغیر کچھ سوچے مکمل اعتماد کے ساتھ کوئ بھئ مشن ان کے سپرد کر سکیں۔۔۔ مجھے اس خطرناک مشن کے لیے ان سے بہتر اور کوئ نہیں ملا۔۔۔ وہی ہیں جو اس کام کو سر انجام دے سکتے ہیں۔۔۔ ” میجر حبیب کے لہجے میں کیپٹن ابتہاج کے لیے عزت تھی۔۔۔ ایک فخر تھا۔۔۔ “لیٹس سی۔۔۔” میجر ہارون اثبات میں سر ہلا کر آگے بڑھ گۓ۔۔۔ انہوں نے ابتہاج کی کافی تعریفیں سنی تھیں اور یہ سب سن کر کافی متاثر ہوۓ تھے۔۔۔ اس مشن کے بعد اس سے ملنے کا ارادہ بھی کر لیا تھا
____________
ٹھیک پانچ منٹ بعد مسافر آ کر ٹرین میں اپنی اپنی نشستوں کو سنبھال چکے تھے… راجا اور گڈی دم سادھے سیٹوں کے نیچے گھٹنوں کے بل گٹھڑی کی طرح چھپے بیٹھے تھے… ٹرین وسل بجاتی ہوئ اپنی منزل کی جانب گامزن ہوئ… راجا نے ایک نظر اپنی بہن کو دیکھا جس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں نمایاں تھیں… وہ ڈری سہمی نگاہوں سے راجا کو تک رہی تھی… راجا نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا… اور دل ہی دل میں دعائیں مانگنے لگا کہ ٹرین جلد از جلد آخری اسٹیشن تک پہنچ جاۓ… جن سیٹوں کے نیچے وہ چھپے تھے وہاں کوئ فیملی براجمان تھی شاید… جو مسلسل ہنسی مذاق, چھیڑچھاڑ کرتے ایک دوسرے پر فقرے کس رہے تھے… ان دونوں کے اوپر موجود نشست پر ایک موٹی عورت اور ایک نوجوان لڑکی بیٹھی تھی… جو غالباً موٹی عورت کی بیٹی تھی… مقابل میں موجود سیٹ پر دو سمارٹ سی عورتیں اور ایک مرد بیٹھا تھا… مرد کے پاس تقریباً چار سالہ بچہ بھی تھا جو مسلسل کچھ نہ کچھ ٹھونس رہا تھا… گڈی نے حسرت بھری نگاہوں سے بچے کے ہاتھ میں موجود ادھ کھاۓ برگر کو دیکھا اور پھر سر جھکا گئ… راجا اپنی بہن پر ایک نگاہ ڈال کر ہی جان گیا تھا کہ اسے بھوک لگی ہے… رات کو انہوں نے روٹی کے چند سوکھے ٹکڑے کھاۓ تھے اور صبح بغیر کچھ کھاۓ گھر سے نکل آۓ تھے… بہن کی مایوس نظروں کو دیکھ کر اس نے سر جھکایا اور ماتھا نیچے ٹکا دیا کہ وہ بے بس تھا… اس وقت اپنی بہن کو کھانے کو دینے کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں تھا…
💔💔💔💔💔
“ہیلو” رات کے دوسرے پہر کھڑکی کے سامنے کرسی پر بیٹھے مرد کی بھاری گھمبیر آواز کمرے میں گونجی…
“ہیلو سر…سرمد بات کر رہا ہوں…” دوسری جانب سے مرعوبیت بھرے انداز میں بتایا گیا تھا…
“امید ہے تمہارا معاوضہ تم تک پہنچ گیا ہو گا…” اس نے اپنی سپاٹ نگاہیں کھڑکی کے پار جمائیں…
“جی سر… شکریہ کیلیے ہی فون کیا تھا… آئندہ بھی ایسا کوئ کام ہو تو ضرور یاد کیجیے گا…” مقابل کا لہجہ خوشآمدانہ ہوا تھا…
“ضرور…” مختصر ترین انداز اپنایا گیا…
“سر…آپ کے ہاتھ کا زخم کیسا ہے اب…؟؟” اس بار تھوڑا جھجھک کر پوچھا گیا تھا…
“مچ بیٹر (Much Better)” کہتے ہوۓ اس کی سرد نظریں اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اٹھیں… جہاں ہتھیلی کے اردگرد سفید پٹی لپٹی تھی…
“ویسے سر…وہ لڑکی امپریس ہو گئ تھی آپ سے… اس نے تو اپنی ذندگی کا ہیرو سمجھ لیا ہو گا اب تک آپ کو… بے چاری بے خبر ہے کہ اس کی زندگی میں آپ کی انٹری ہیرو کے طور پر نہیں بلکہ ایک ولن کے طور پر ہو گی…” فون کے پار جو کوئ بھی تھا اس کا انداز چاپلوسی لیے ہوۓ تھا… اور وہ شاید اس کوشش میں تھا کہ چند لمحے اور کال جاری رہے…
اس کی بات کے جواب میں کچھ پل خاموشی طاری رہی… اور پھر چبھتی ہوئ سی آواز ابھری…
” ہیرو ہو یا ولن…دونوں کا کام تو ایک ہی ہوتا ہے…لڑائ جھگڑا, مار پیٹ… اب یہ تو سامنے والے پہ منحصر ہے وہ اسے ہیرو کا درجہ دیتا ہے یا ولن کا… ” اور اتنا کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا گیا… دوسرا شخص اپنا سا منہ لے کر رہ گیا تھا…
چاند نے اپنی دودھیا روشنی کھڑکی کے اس پار بیٹھے وجود پر پھیلائ جیسےوہ بھی اس کا چہرہ دیکھنے کا تمنائ ہو… چاندنی میں اس شخص کا چہرہ واضح ہوا… اس نے بھی اپنی نظریں اٹھا کر چاند کی جانب دیکھا… اور وقت جیسے تھم سا گیا… اس کی آنکھوں کا رنگ دیکھ کر… اسکی وہ آنکھیں… وہ نیلی آنکھیں… جن کے گرد سیاہ حاشیہ سا تھا… سرد و سپاٹ آنکھیں جو کسی سمندر کی مانند گہرائ لیے ہوۓ تھیں…چند پل چاند کو تکنے کے بعد وہ اٹھا اور مضبوط قدم اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا… پیچھے کمرے میں چار سو اس کے وجود سے اٹھتی قیمتی پرفیوم کی مہک پھیلی ہوئ تھی…
💝💝💝💝💝
وہ پانچوں اس وقت اس جگہ پہنچ چکے تھے جہاں جنگل کے چاروں طرف آرمی کا پہرہ تھا… سر حبیب کے آرڈر کے مطابق یہاں انہیں پہلے آرمی کے کرنل آصف سے ملنا تھا… اور ان کے پہنچنے سے پہلے ہی کرنل آصف وہاں موجود تھے…
“ہیلو سر… وی آر فرام SSG کمانڈو…” کیپٹن ابتہاج نے ان سے مصافحہ کرتے ہوۓ اپنا تعارف کروایا… ” آئ نو جینٹل مین…حبیب نے انفارم کیا تھا تم لوگوں کی آمد کے بارے میں…ویل…نائس ٹو میٹ یو… ” کرنل نے بھی خوش دلی سے کہتے ہوۓ ہاتھ ملایا… ” سر ٹائم از ٹو شارٹ… مشن کے دواران ہمارا آپ سے اور سر حبیب سے مسلسل کانٹیکٹ رہے گا… اور جیسے ہی مشن مکمل ہو گا ہم آپ کو اطلاع کر دیں گے… وی ہیو ٹو گو ناؤ…” تیز تیز بولتے ہوۓ کیپٹن ابتہاج جانے کے لیے مڑا…اس کے باقی ساتھی ان سے کچھ فاصلے پر تھے… “اور اگر مشن کامیاب نہ ہوا تو…؟” اس کے پیچھے سے کرنل آصف کی ابھرتی ہوئ آواز نے اس کے قدموں کو زنجیر کیا… وہ ایک پل کو رکا, مڑا اور چلتا ہوا ان کے مقابل آن ٹھہرا… وہ جو ٹٹولتی ہوئ سی نگاہوں سے اسے تک رہے تھے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں… ” مشن ولی بی سکسیس فل…(Mission Will Be Successful)” ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا کہہ کر وہ مڑ گیا… کرنل آصف کے ابرو اکٹھے ہوۓ اور ہونٹ سیٹی کے سے انداز میں سکڑے… “واٹ آ کانفیڈینس…” جب بولے تو ان کے لہجے میں کیپٹن ابتہاج کے لیے ستائش تھی…
💗💗💗💗💗
دو اسٹیشن گزر چکے تھے… لیکن وہ دونوں ابھی تک ویسی حالت میں ہی ٹرین میں بیٹھے تھے… راجا کو اپنے گاؤں اور رشتے دواروں سے دور جانا تھا جہاں کوئ ان کا سراغ نہ پا سکے…اس لیے اس نے یہی سوچا تھا کہ ٹرین کے آخری اسٹیشن پر ہی اترے گا… وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ ٹرین کہاں جا رہی ہے اور اسے کہاں جا کر رکنا ہے… دل ہی دل میں وہ مسلسل کلمہ طیبہ کا ورد کر رہا تھا… کبھی ایک نظر ہاتھ میں پکڑے فریم پر بھی ڈال لیتا جس میں ان کی ماں کی تصویر تھی… اور پھر نظریں جھکا لیتا…
ٹکٹ چیکر سب لوگوں کو ٹکٹس چیک کروانے کے لیے کہہ رہا تھا… جیسے ہی وہ ٹرین کے اس حصے میں آیا جہاں وہ دونوں چھپے تھے, راجا نے ایک بار پھر گڈی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا… گڈی محض سر ہلا کر رہ گئ… “اے چھنو…ٹکٹ نکال کر دکھا انہیں… تم نے ہی رکھے تھے…” ٹکٹ چیکر کے مطالبہ کرنے پر موٹی عورت نے اپنے پہلو میں بیٹھی لڑکی سے کہا… “جی اماں… بھابھی میرا ہینڈ بیگ دینا جو آپ کی گود میں ہے…” ماں کو جواب دے کر وہ لڑکی سامنے بیٹھی ایک دوسری عورت سے مخاطب ہوئ… ٹکٹ چیکر کوفت سے انہیں تک رہا تھا… چند لمحوں بعد وہ لڑکی بیگ تھامنے کو تھوڑا سا جھکی… اسی وقت گڈی نے پہلو بدلا…شاید وہ تھک گئ تھی…. اس کا ہاتھ تھوڑا سا باہر نکلا… چھنو جو بیگ تھام کر واپس سیٹ پر بیٹھ رہی تھی بے دھیانی میں اس کا پاؤں اس ننھے سے ہاتھ پر آ گیا اور گڈی کی چینخ برآمد ہوئ تھی… لڑکی کی ہیل نے اس معصوم کا ہاتھ بری طرح کچل دیا تھا… پہلے چینخ اور پھر بری طرح رونے کی آواز پر سب حیرقن پریشان ایک دوسرے کو تکنے لگے جبکہ راجا بدحواس سا اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا… اگلے ہی لمحے ٹکٹ چیکر سمیت سب نیچے جھکے… اور وہ دونوں ان سب کی نگاہوں کے حصار میں آ گۓ… ٹکٹ چیکر نے طیش میں آتے ہوۓ راجا کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹ کر باہر نکالا… ” بھیا…” گڈی اپنی تکلیف بھول کر بھائ کے لیے تڑپ اٹھی تھی… ٹکٹ چیکر نے دوسرے ہاتھ سے گڈی کو بھی باہر کھینچا… راجا نے خوفزدہ نظروں سے اس آدمی کو اور پھر باقی سب کو دیکھا جو ان دونوں کو شرر بار نگاہوں سے تک رہے تھے… وہ بے ساختہ اپنی بہن کے قریب ہوا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا گویا اسے تحفظ کا احساس دلانا چاہ رہا ہو… ” حرام خورو… بغیر ٹکٹ کے سیٹوں کے نیچے چھپ کر سفر کرتے ہوۓ شرم نہیں آتی… کہاں ہیں تمہارے جاہل ماں باپ… جنہیں بچوں کو پیدا کرنا تو آتا ہے لیکن سنبھالنا نہیں… ” ٹکٹ چیکر ان پر برس رہا تھا اور ساتھ ہی راجا کی کمر میں دو دھموکے بھی جڑ دئیے… ارد گرد کے لوگ دلچسپ نظروں سے یہ کھیل دیکھ رہے تھے اور کچھ چہ مگوئیاں کرتے ہوۓ تمسخر اڑاتی نظروں سے انہیں تک رہے تھے… ” راجا نے آنکھوں سے امڈتے آنسوؤں کو اندر دھکیلا اور لب کاٹتے ہوۓ اپنی بہن کی جانب دیکھنے لگا جس کا مارے خوف کے رنگ پیلا پڑ گیا تھا… راجا نے اسے اپنے ساتھ لگایا اور ایک ہاتھ اس کے سر پر رکھا… “ارے اب گونگے کا گڑ کھا بیٹھے ہو کیا دونوں… بولتے کیوں نہیں… کہاں ہیں تمہارے ماں باپ… کہاں سے سوار ہوۓ ہو ٹرین میں… کہیں کوئ بم وغیرہ تو نہیں لے کر آۓ یہاں… دیکھو سچ سچ بتا دو…. ورنہ تم دونوں کو پولیس کے حوالے کر دوں گا میں… ” ٹکٹ چیکر نے دھمکی دیتے ہوۓ کہا تھا… بم کی بات پر آس پاس بیٹھے لوگوں کا بھی رنگ اڑ گیا… تبھی ٹرین نے وسل بجاتے ہوۓ اگلا اسٹیشن آنے کا اعلان کیا… ” بھائ صاحب… پولیس کو مارو گولی… ان دونوں کو ابھی اس اسٹیشن پر اتار دو… کہیں اپنے جسم کے ساتھ انہوں نے بم وغیرہ باندھ رکھا ہو تو ہم سب تو گۓ پھر… ” ایک جانب سے لرزتی ہوئ سی آواز ابھری تھی… ٹکٹ چیکر نے ہاتھوں سے ٹتولتے ہوۓ دونوں کے لباس چیک کیے… کوئ بم وغیرہ نہ پا کر اس نے گہری سانس بھری اور راجا کو دیکھا جو کچھ بھی بولنے پر آمادہ دکھائ نہ دے رہا تھا… ٹرین رک چکی تھی… ” کچھ مسافر اپنے مطلوبہ اسٹیشن کے آنے پر اترنے لگے… ” چلو تم دونوں بھی اترو… جتنا سفر کرنا تھا کر لیا… اب ٹکٹ کے بغیر مزید نہیں بیٹھ سکتے ٹرین میں… چلو نکلو…” ٹکٹ چیکر کے لہجے میں کسی قسم کی لچک نہ تھی… راجا نے نیچے گرا ہوا فوٹو فریم اٹھا کر سینے سے لگایا… ” چل گڈی…” رندھی ہوئ سی آواز میں کہتا ہوا وہ گڈی کو لیے نیچے اتر گیا….
💓💓💓💓💓
وہ پانچوں اس جنگل میں آگے ہی آگے بڑھتے جا رہے تھے… سر حبیب کی بتائ گئ لوکیشن کے حساب سے دہشتگردوں کے اس گروہ کے سرغنہ کی رہائش تک دو راستے پہنچتے تھے… ایک سامنے سے اور دوسرا پیچھے سے… ٹیم کے باقی افراد یہ توقع کر رہے تھے کہ کیپٹن ابتہاج پیچھے والا راستہ اختیار کرے گا لیکن ان کی توقع کے برعکس کیپٹن ابتہاج نے سامنے سے جانے کا ارادہ کیا… وجہ یہ تھی کہ رام نے بھی یہی امید لگا رکھی ہو گی کہ جو بھی حملہ کرے گا وہ پیچھے سے آۓ گا اور پیچھے کی جانب موجود پہریدار زیادہ ہوشیار ہوں گے… انہیں رام کی امیدوں کو خاک میں ملانا تھا…
چوکنی نگاہوں سے اردگرد دیکھتے وہ آگے بڑھ رہے تھے… کیپٹن ابتہاج سب سے آگے تھا جو بڑی مہارت سے ہاتھ میں موجود خنجر سے جھاڑیوں کو کاٹتا ہوا راستہ بنا رہا تھا… ایک جگہ پر پہنچ کر وہ رکا… اردگرد کچھ ہلچل سی محسوس ہوئ تھی… مڑ کر سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا… پھر احتیاط سے قدموں کی آہٹ پیدا کیے بغیر آگے بڑھنے لگا… اس کے ساتھی بھی اس کی تقلید میں آگے بڑھ رہے تھے… وہ چند قدم آگے گۓ تھے جب ان کی نگاہ اٹھی… سامنے دو آدمی کسی گفتگو میں مصروف تھے… ہاتھوں میں رائفلز تھامے یقیناً وہ رام کے ہی آدمی تھے… ابتہاج نے احمد اور راحم کو مخصوص اشارہ کیا تو وہ دونوں سر ہلاتے ہوۓ ایک سمت بڑھ گۓ… اس کے بعد اشعر اور سعد بھی ابتہاج کا اشارہ ملنے پر دوسری سمت میں چلے گۓ… ابتہاج نے ہاتھ میں موجود خنجر کو جیکٹ کی جیب میں اڑسا, پسٹل کی میگزین نکال کر بلٹس چیک کیں…. اور پھر آہٹ پیدا کیے بغیر ہاتھ سے جھاڑیوں کو ادھر ادھر کرتے ہوۓ آگے بڑھنے لگا… چند لمحوں بعد وہ ان دونوں پہریداروں کے قریب ایک درخت کے پیچھے موجود تھا… بات ختم کر کے اب وہ دونوں ایک دوسرے سے فاصلے پر موجود تھے اور نظریں اردگرد تھیں… ابتہاج کی نظر زمین پر پڑے ایک پتھر کی جانب گئ… وہ پتھر اٹھا کر اس نے ایک پہریدار کی سمت اچھالا… پتھر جھاڑیوں میں جا گرا تھا… ہلکے سے کھٹکے پر بھی دونوں پہریدار تیزی سے اس سمت مڑے جہاں پتھر گرا تھا…”تم رکو…میں دیکھتا ہوں…” ایک پہریدار کہتا ہوا اس سمت بڑھ گیا… دوسرا پہریدار سر ہلاتا ہوا وہیں رک گیا جبکہ نظریں اسی سمت تھیں… ابتہاج تیزی سے آگے بڑھا… اس کی پشت سے آ کر ایک ہاتھ اس کی گردن پر اور ایک ہاتھ سر پر جمایا اور ایک پل کا توقف کیے بغیر گردن مروڑ دی… کٹاک کی آواز آئ اور بغیر کوئ آواز نکالے وہ آدمی وہیں ڈھیر ہو گیا… ابتہاج دوسرے پہریدار کی جانب بڑھا… تب تک وہ آدمی بھی جھاڑیوں میں کچھ نہ پا کر واپس آ رہا تھا… اس کی نظر سامنے گرے اپنے ساتھی پر پڑی اور پھر ابتہاج پر… تیزی سے اس نے رائفل سیدھی کرنی چاہی لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی…کیپٹن ابتہاج اس کی جیکٹ کے ساتھ لگا چاقو نکال کر اس کے دل کے مقام پر گھونپ چکا تھا… بس چند لمحے لگے تھے اس آدمی کو تڑپ تڑپ کر مرنے میں… اس کا جسم ٹھنڈا پڑنے تک کیپٹن کافی آگے جا چکا تھا..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *