Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05
اس نے اردگرد نگاہ دوڑائ… اس سے کچھ ہی فاصلے پر دیوار پر ایک شیشہ لٹکایا گیا تھا… ابتہاج نے گن سے اس شیشے پر فائر کیا…بلٹ شیشے کو کئ ٹکڑوں میں تقسیم کرتی ہوئ دیوار میں گھس گئ… “ابے کیا کر رہا ہے رے…؟؟” رام کانچ کے ٹوٹنے کی آواز پر چلایا…وہ اس سنگین موقع پر کانچ توڑنے کا مقصد نہیں سمجھ پایا تھا….شیشے کے چند ٹکڑے ابتہاج کے نزدیک گرے… ابتہاج نے ایک ٹکڑا اٹھا اور سامنے کرتے ہوۓ اس میں رام اور اشعر کا عکس دیکھ کر ان کی پوزیشن کا اندازہ لگانا چاہا… رام اشعر کو گردن سے پکڑے اس کی کنپٹی پر گن کی نال رکھے کھڑا تھا…اشعرکے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں… اشعر بائیں جانب تھا اور رام دائیں جانب…”میرے تین گننے تک اگر تو باہر نہ آیا تو سمجھ تیرا ساتھی گیا… ایک” رام نے آخری وارننگ دیتے ہوۓ کاؤنٹنگ شروع کی…
“دو…” ابتہاج گھٹنوں کے بل بیٹھا… ایک ہاتھ میں کانچ کا ٹکڑا اور دوسرے ہاتھ میں گن تھی… “تین…” گنتی مکمل ہوتے ہی وہ اشعر پر گولی چلانے لگا تھا جب ابتہاج نے کانچ کا ٹکڑا اس کی جانب پھینکا… وہ ٹکڑا رام کے سر کے اوپر سے گزرتا ہوا پیچھے دیوار سے ٹکرایا… رام بوکھلا کر پیچھے پلٹا تب تک ابتہاج نے اس کی ٹانگ پر فائر کر دیا… اس کی گرفت اشعر کی گردن سے ڈھیلی ہوئ… اشعر تیزی سے اس سے الگ ہوتا ہوا نیچے جھکا اور اپنی نیچے گری ہوئ گن اٹھا کر رام پر تان لی…”ہینڈز اپ…”جب تک رام ابتہاج کی چال کو سمجھ پایا تب تک وہ ان کے جال میں پھنس چکا تھا… ابتہاج بھی دیوار کی اوٹ سے نکل کر اس کے قریب آیا… “اٹس مائ ٹرن…” ابتہاج نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالا… وہ ایک رسی تھی اور بلیک ماسک… دونوں چیزیں اشعر کی جانب اچھالیں اور خود رام پر گن تان لی… اشعر نے رسی سے رام کے دونوں ہاتھ پشت پر لے جا کر باندھ دئیے… پھر بلیک ماسک اس کے منہ پر چڑھا دیا یوں کہ وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ رہا تھا…. کیپٹن ابتہاج کے باقی تینوں ساتھی بھی رام کے سب ساتھیوں کو ختم کر کے وہاں پہنچ چکے تھے… ابتہاج کا ہاتھ اپنے کان تک گیا…” سر… مشن کمپلیٹڈ.. ” پر اعتماد انداز میں کہتا وہ رابطہ ختم کر چکا تھا… جبکہ اس کی آواز سن کر میجر حبیب اور کرنل آصف کی آنکھیں چمک اٹھیں…
اس نے لفٹ میں داخل ہو کر ریسیپشنسٹ کے بتاۓ گۓ فلور 4 کا بٹن دبایا… چند لمحوں بعد ہی وہ فورتھ فلور پر موجود تھا… بظاہر بے نیازی سے اردگرد دیکھتا وہ وہاں موجود ہر چیز اور آس پاس ہوتی ہر سرگرمی کو اپنے حافظے میں مقید کرتا جا رہا تھا… اسد شیرازی کے آفس کے باہر وہ رکا… اردگرد دیکھا… اور پھر دروازے پر دستک دی… “یس کم ان…” مصروف سی آواز سنائ دی… راجا مرر ڈور دھکیلتا اندر داخل ہوا… اس شاہانہ طرز کے آفس میں ریوالونگ چئیر پر بیٹھے اسد شیرازی نے سامنے پڑے لیب ٹاپ سے نظریں اٹھا کر آنے والے کو دیکھا… “اوہ… راجا… آؤ… میں تمہارا ہی ویٹ کر رہا تھا…” چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ اسد شیرازی نے لیب ٹاپ کی اسکرین فولڈ کی اور اس کی جانب متوجہ ہوا… راجا کو نہ جانے کیوں اس کی مسکراہٹ بڑی مصنوعی سی محسوس ہوئ… سر جھٹکتا وہ دھیمے قدموں سے ان کی جانب بڑھا… “بیٹھو…” اسد شیرازی نے شیشے کی میز کی دوسری جانب پڑی کرسیوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا… راجا نے ہاتھ کی بجاۓ پاؤں کی مدد سے کرسی کو پیچھے گھسیٹا اور بیٹھ گیا… اسد شیرازی نے خاصی ناگوار نگاہوں سے اس کی اس حرکت کو دیکھا لیکن کچھ کہنے سے گریز برتا.. “کیا لو گے… چاۓ یا کافی…؟؟” اسد شیرازی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر تھوڑی کے نیچے رکھیں اور بغور اسے دیکھا… ” نہ چاۓ نہ کافی…” راجا مزے سے پیر جھلاتا بولا… جبکہ نظریں بھی پیروں پر ہی مرکوز کر رکھی تھیں… ” ارے ایسا کیسے ہو سکتا ہے… مہمان ہو تم میرے… کافی تو…” اسد شیرازی مسکراتے ہوۓ کچھ کہہ رہے تھے جب راجا نے ان کی بات کاٹی…”آفس کافی شاندار ہے آپ کا…” اردگرد نگاہ دوڑاتے وہ توصیفی لہجے میں بولا… اسد شیرازی اپنی بات کے یوں کاٹے جانے پر جز بز ہوۓ… اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے دروازہ ناک کر کے ایک لڑکی اندر آئ جس کے ہاتھ میں ٹرے تھی… اس نے کافی کے دو کپ ان دونوں کے سامنے رکھے… اور واپس مڑ گئ… ” کافی لو…” اسد شیرازی نے راجا سے کہتے ہوۓ اپنا کافی کا کپ اٹھا لیا… “اونہوں… پسند نہیں… ” راجا نے نگاہ تک اٹھا کر نہ دیکھا تھا کپ کو… اسد شیرازی نے ایک خاموش نظر اس پر ڈالی… زیادہ اصرار کرنا انہوں نے مناسب نہ سمجھا…دونوں کے درمیان خاموشی در آئ تھی…
” آپ نے کہا تھا آپ کے پاس میرے لیے کوئ کام ہے… ؟؟؟” سوالیہ نظریں ان پر ٹکاۓ راجا نے ہی بات شروع کی… اسد شیرازی نے کافی کا گھونٹ لے کر کپ میز پر رکھا…
“ہاں… میرے پاس ایک کام تو ہے تمہارے لیے… اگر تم وہ کام قبول کرو تو…” اسد شیرازی نے پہلا پتا پھینکا…
“مجھ جیسے بیروزگار اور در در دھکے کھاتے ہوۓ انسان کو کوئ خود آ کر کام آفر کرے تو کیا میرا دماغ خراب ہے کو میں یہ آفر ریجیکٹ کر دوں…” اسد شیرازی کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ عجیب سے لہجے میں بولا… “پڑھے لکھے لگتے ہو… پھر ابھی تک بیروزگار کیوں…؟؟” اسد شیرازی نے ابرو اچکاۓ… ” یہ پاکستان ہے صاحب… یہاں نوکری کے لیے تعلیم نہیں پیسہ چاہئیے… جو مجھ جیسوں کے پاس ہے نہیں… ” راجا کا لہجہ تلخ ہوا… “ہممم… شادی شدہ ہو..؟؟” اسد شیرازی کی جانب سے اگلا سوال ہوا… “اونہوں… جب نوکری پاس نہیں تو چھوکری ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… ” راجا نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ جواب دیا… “ماں باپ کہاں ہیں تمہارے…؟؟” اب کی بار اسد شیرازی کی نظروں میں تجسس ابھرا… “مر گۓ…” راجا کا لہجہ بے تاثر ہوا… “کوئ رشتہ دار وغیرہ…؟؟” اسد شیرازی کی بات پر راجا نے ایک نظر ان کی جانب دیکھا… ٹیک چھوڑ کر آگے ہوا… دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے… “رشتہ دار انہیں کہا جاتا ہے جن میں اپنا پن ہو… اس دنیا میں میرا کوئ اپنا نہیں… تو سمجھ لیں کوئ رشتہ دار بھی نہیں…” اس کی بات کے اختتام پر اسد شیرازی کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ ابھری…
“گڈ… تم سے اس دن کی ملاقات کے بعد ہی میں نے سوچ لیا تھا کہ تمہیں میں کام دوں گا… اب اپنے کام کے بارے میں تھوڑا سمجھ لو…تھوڑا مشکل ہے کام… لیکن مجھے یقین ہے تم کر لو گے…” اسد شیرازی اپنی چئیر چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوۓ… قدم قدم چلتے کھڑکی تک گۓ… ایک نظر باہر کی دنیا کو دیکھا اور پھر کھڑکی کی جانب پشت کر کے کھڑے ہو گۓ… ان کا چہرہ راجا کی جانب تھا… “ابیہا جس کی تم نے اس دن جان بچائ وہ میری بیٹی ہے… میری اکلوتی بیٹی… جو مجھے از حد عزیز ہے… یوں سمجھ لو جیسے کسی جادوگر کی جان طوطے میں قید ہوتی ہے بالکل ویسے ہی میری جان ابیہا میں بند ہے… اسے ذرا سی خراش بھی آۓ تو میری سانس رکنے لگتی ہے…” بات روک کر انہوں نے ایک نظر راجا کو دیکھا جو ان کی جانب ہی متوجہ تھا… وہ پھر سے گویا ہوۓ… ” میں آج جس مقام پر ہوں یہاں تک پہنچنے کے لیے میں نے بہت لمبا سفر طے کیا ہے… بہت سی مشکلیں, بہت سی اذیتیں سہی ہیں… آج جہاں میرا شمار پاکستان کے ٹاپ ملینئیرز میں ہوتا ہے وہیں اس سفر میں چلتے چلتے میرے بہت سے دشمن بھی بن گۓ ہیں… اور تم جانتے ہو کہ دشمن ہر وقت آپ کو نقصان پہنچانے کے چکر میں ہوتے ہیں… انہیں میری کمزوری یعنی میری بیٹی ابیہا کا پتا چل چکا ہے اور وہ اب ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ابیہا کو نقصان پہنچا کر مجھے تکلیف دے سکیں… ابیہا یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے… اور اسے میں گھر میں چھپا کر یا قید کر کے نہیں رکھ سکتا… اس کی تعلیم مکمل ہونے میں ابھی کچھ وقت ہے… اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد جب وہ بائیس سال کی ہو جاۓ گی ,میں اس کی شادی کر دوں گا…. پھر اس کی حفاظت کی ذمہ داری اس کے شوہر کی ہو گی… لیکن تب تک اس کا خیال مجھے رکھنا ہے اور زمانے کے سرد و گرم سے اسے بچانا ہے….ویسے تو اس کی سیکیورٹی کے لیے میں نے بہت سے انتظامات کر رکھے ہیں… بہت سے لوگ ہائیر کر رکھے ہیں اس کے گارڈز کے طور پر جو ہر پل اس پر اپنی نگاہ رکھے ہوۓ ہیں… لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں میرے دل میں ایک ڈر سا بیٹھ گیا ہے کہ کہیں میری بیٹی کو کچھ ہو نہ جاۓ… میں کسی طور بھی اپنے دل کو مطمئین نہیں کر پا رہا… اس دن تمہارا انداز دیکھ کر نہ جانے کیوں مجھے یہ احساس ہوا کہ تم ہی ہو جو میری بیٹی کی حفاظت کر سکتے ہو… اگر تم میری بیٹی کے ساتھ اس کے باڈی گارڈ کی حیثیت سے رہو تو کوئ میری بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا… اور میں بھی اس کی طرف سے بے فکر ہو کر اپنا بزنس دیکھ سکوں گا … بولو… کیا تم میری بیٹی کی حفاظت کا ذمہ لو گے اپنے سر… ؟؟؟” اسد شیرازی کے لہجے میں اس وقت ایک بزنس ٹائیکون کا رعب و دبدبہ نہیں بلکہ ایک باپ کی شفقت اور فکرمندی جھلک رہی تھی… وہ آس بھری نگاہوں سے راجا کی طرف دیکھ رہے تھے… راجا سر جھکاۓ چند لمحے کچھ سوچتا رہا… ” بدلے میں مجھے کیا ملے گا…؟؟” وہ اپنے مطلب کی بات پر آیا… “منہ مانگی رقم… اور جو تم چاہو…” ایک پل کا توقف کیے بغیر اسد شیرازی نے کہا تھا… راجا نے ٹتولتی نظروں سے اس کی جانب دیکھا… “چونکہ یہ کام اتنا آسان نہیں…اور اس کام میں مجھے اپنی جان کا بھی خطرہ ہے… تو پانچ لاکھ لوں گا ہر مہینہ… اور میرا کام تب آپ کی بیٹی کی حفاظت کرنا ہے جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی… اس کے بعد میں فارغ…منظور ہے…؟؟” سوالیہ نظروں سے اسد شیرازی کی جانب دیکھتا ہوا وہ مطالبہ کر رہا تھا… “منظور ہے…لیکن یہ بات یاد رکھنا… تم نے اپنے بارے میں جو کچھ بھی بتایا اس سب کی تفتیش کرنے کے بعد ہی میں تمہیں اس کام کے لیے رکھوں گا… اور اگر تمہاری بتائ ایک بھی بات غلط ہوئ تو… ” اسد شیرازی وارننگ کے سے انداز میں کہہ رہے تھے جب راجا نے ایک بات پھر ان کی بات کاٹی… “تو میرا سر ہو گا اور آپ کی بندوق… اڑا دیجیے گا…” اس کی آواز اعتماد بھری تھی…. “اسد شیرازی اپنی کرسی پر آ کر بیٹھے… “تو ٹھیک ہے… اگلے پیر کی صبح دس بجے تم میرے آفس آنا… تب تک میں تمہارے بارے میں اپنے طور پر چند تحقیقات کروا لوں گا اور پھر تمہاری جاب کے بارے میں بتا دوں گا… یو مے گو ناؤ…” راجا جانے کی اجازت پا کر اٹھا… ایک نظر سامنے پڑے کپ کو دیکھا جو کافی سے بھرا ان چھوا رکھا تھا… کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی… وہ جانے کے لیے مڑا…
” رکو…” وہ مرر ڈور کے قریب پہنچا تھا جب اسد شیرازی کی آواز پر اس کے قدم تھمے…وہ رک ضرور گیا تھا لیکن مڑا نہیں… ” اس دن جس طرح تم اکیلے ان دس پندرہ بندوں پر بھاری تھے اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تم کوئ پروفیشنل فائیٹر ہو… کہاں سے حاصل کی یہ ٹریننگ تم نے…؟؟” اسد شیرازی کی بات پر اس کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ بکھری تھی… وہ تھوڑا سا مڑا یوں کہ اب اس کا سائیڈ پوز اسد شیرازی کے سامنے تھا…” ہم جیسے یتیموں کا بچپن مار کھاتے ہوۓ اور جوانی دوسروں کو مارتے ہوۓ ہی گزرتی ہے سر… اس لیے ہمیں مار پیٹ کے لیے کسی خاص ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی… یہ ظالم دنیا ہی ہماری تربیت گاہ ہے…” اس کی سیاہ آنکھوں میں ٹوٹے کانچ سی چبھن تھی… اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ مڑا اور تیزی سے باہر نکل گیا…
کوریڈور سے گزرتے ہوۓ وہ موبائل پر میسیج ٹائپ کر رہا تھا… “مشن اسٹارٹ…”
____________
وہ دونوں پیدل چلتے ہوۓ کافی دور نکل آۓ تھے… دو گاؤں گزر جانے کے بعد یہ تیسرا گاؤں تھا… راجا گڈی کا ہاتھ تھامے مسلسل چلتا جا رہا تھا… گڈی اسے کئ بار بتا چکی تھی کہ اسے بھوک لگی ہے لیکن راجا کی خاموشی پر اس کے ساتھ گھسٹتی چلی جا رہی تھی… راجا گزرتے ہوۓ اردگرد بھی دیکھ رہا تھا کہ شاید کہیں کچھ کھانے کو مل جاۓ لیکن ہر بار نگاہ ناکام لوٹتی… ایک جگہ پانی کا نلکا لگا دیکھ کر انہوں نے ہاتھ منہ دھویا اور چند گھونٹ پانی کے اپنے حلق سے اتارے… پانی سے پیاس تو بجھ سکتی ہے لیکن بھوک نہیں… پیٹ مسلسل دہائ دیتے ہوۓ کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا… لیکن راجا ہمت کر کے آگے ہی آگے بڑھتا جا رہا تھا…
اس وقت وہ ایک چھوٹے سے قصبے سے گزر رہے تھے… تقریباً صبح کے دس بجے کا وقت تھا… سڑک کے اطراف میں بہت سی کھانے پینے کی اشیاء اور ہوٹلوں میں تیار ہوتے صبح کے ناشتے کی اشتہا انگیز خوشبو پھیلی تھی جس سے ان کی بھوک مزید چمک اٹھی… ایک ہوٹل کے سامنے وہ دونوں کھڑے بے بسی بھری نگاہوں سے ہوٹل کے اندر بیٹھے لوگوں کو دیکھ رہے تھے جو خوش گپیوں میں مصروف مطمئین سے ناشتے سے لطف اندوز ہو رہے تھے… ہوٹل کے باہر شیڈ تلے ایک ادھیڑ عمر آدمی بیٹھا تھا جو اپنے سامنے موجود بڑے بڑے پتیلوں سے مختلف اشیاء اور ناشتے کے لوازمات نکال نکال کر پلیٹوں میں ڈالتا جا رہا تھا اور اس کے نزدیک کھڑا ایک نوعمر لڑکا وہ سب اندر اپنے گاہکوں تک پہنچا رہا تھا…
“راجا… ” وہ کھوۓ ہوۓ سے انداز میں ہوٹل کی جانب دیکھے جا رہا تھا جب گڈی نے اس کا بازو ہلایا… وہ چونک کر اس کی جانب دیکھنے لگا… “ہاں بول…” وہ ہلکی سی آواز میں بولا کہ گڈی کے بلانے کا مقصد جانتا تھا… “بھوک لگی ہے… پیٹ میں درد ہو رہا…” گڈی آنکھوں میں آنسو لیے اس سے مخاطب ہوئ… راجا نے گہری سانس بھری… “بس کچھ دیر اور ہمت کر گڈی… میں کرتا ہوں نہ کچھ…” اس کی ہمت بندھاتا وہ پھر بے بس سا ہوٹل کی جانب دیکھنے لگا… “ادھر آ گڈی…” وہ گڈی کا ننھا سا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا… ہوٹل سے کافی آگے جا کر فٹ پاتھ پر ایک جگہ وہ رکا… “تو ادھر بیٹھ…میں کھانے کو کچھ لے کر آتا ہوں…” اسے وہاں بٹھا کر اس نے ہاتھ میں پکڑا فوٹو فریم بھی اس کی گود میں رکھا… “دیکھ… یہاں سے ہلنا مت… اچھا… چپ کر کے یہاں میرا انتظار کرنا….میں ابھی آتا ہوں…” اسے کہتا ہوا وہ اٹھا اور واپس مڑ گیا… اس کا رخ ہوٹل کی جانب ہی تھا… گڈی وہاں بیٹھی خاموشی سے اس کی پشت کو تک رہی تھی…
چند لمحوں بعد سڑک پار کرتا وہ ہوٹل کے سامنے کھڑا تھا… خشک لبوں پر زبان پھیرتا, خود میں ہمت جمع کرتا, وہ ڈرتا ہوا اس ادھیڑ عمر آدمی کے قریب گیا جو شاید ہوٹل کا مالک تھا…. کچھ کہنے کی کوشش میں اس کے لب پھڑپھڑا کر رہ گۓ… جب کافی دیر تک وہ وہیں کھڑا رہا تو ہوٹل کے مالک نے خشمگیں نظروں سے اسے گھورا… ” اے لڑکے… کیا چاہئیے…؟؟” لہجہ سخت تھا… راجا ہڑبڑا کر رہ گیا… “وہ… وہ… کھانے کو کچھ…” اس سے بولا بھی نہ جا رہا تھا… “لا پیسے… اور بول… کیا لینا ہے… یہیں کھاۓ گا یا پیک کر کے دوں…؟؟” راجا کو بھی وہ اپنا کوئ گاہک ہی سمجھا تھا… “پ…پیسے… تو نہیں ہیں…” راجا کی زبان لڑکھڑا گئ… ہوٹل کے مالک نے اسے یوں دیکھا جیسے اس کا دماغ خراب ہونے کا خدشہ ہو… “ارے تو میں نے یہاں کیا کوئ لنگر خانہ کھول رکھا ہے… کہیں کوئ ایسا بورڈ نظر آ رہا ہے تجھے جہاں لکھا ہو کہ بے غیرت لوگ آ کر مفت میں ٹھونس سکتے ہیں یہاں…؟؟” اس آدمی کی تحقیر اور طنز بھری نگاہیں اور آگ برساتا لہجہ راجا کو اندر تک زخمی کر گیا… ہوٹل کے اندر بیٹھے بہت سے لوگ ان کی جانب متوجہ ہو چکے تھے اور کچھ بے ضمیر لوگوں کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ بھی ابھری تھی… راجا کا دل چاہا وہ ایک پل ضائع کیے بغیر وہاں سے چلا جاۓ لیکن پھر بہن کا روتا کرلاتا چہرہ نگاہوں کے سامنے ابھرا… “صاحب بھوک لگی ہے… میری بہن رو رہی ہے بھوک کی وجہ سے… آدھی روٹی دے دو…” آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتا وہ التجا کر رہا تھا… “ابے چل نکل یہاں سے…. دن بھر میں بہت سے آتے ہیں تم جیسے….تم لوگوں کے لیے کمائ نہیں کرتے ہم… اگر تم جیسوں سے ہمدردی کرنے لگیں تو ہم تو پھر بھوکوں مر جائیں… جا دفعہ ہو جا یہاں سے…” وہ پتھر دل شخص غصے بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوۓ لفظوں کے تیر چلا رہا تھا… “صاحب میں…” وہ ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا جب وہ آدمی پاس کھڑے لڑکے سے مخاطب ہوا…. “ابے ماجد.. جا نکال اسے باہر… جان عذاب میں ڈال رکھی ہے ان بھیک منگوں نے… تماشا لگایا ہوا ہے… ” اس کے کہنے پر وہ لڑکا ماجد آگے بڑھا… راجا کو بازو سے تھاما…”چل نکل یہاں سے…. ورنہ مالک تیری ٹانگیں توڑ دے گا…” وہ اسے کھینچ رہا تھا جب راجا نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کروایا اور اسے دھکا دیا… “چھوڑ مجھے…” کہتے ہوۓ وہ اس سے دور ہوا…. ماجد پہلے تو حیرت سے اسے دیکھنے لگا.. پھر آگے بڑھ کر اسے ایک تھپڑ رسید کر دیا… “ہاتھ چلاتا ہے آگے سے… مجھے دھکا مارتا ہے…” ماجد اور راجا گتھم گتھا ہو چکے تھے… ماجد عمر اور قد کاٹھ میں بڑا ہونے کی وجہ سے بازی لے گیا تھا… راجا کے منہ سے خون نکلنے لگا… گھٹنے پر بھی رگڑیں لگیں اور کہنی چھل گئ…کپڑے پھٹ گۓ… لوگوں نے آگے بڑھ کر دونوں کو چھڑوایا… ماجد اور ہوٹل کا مالک مسلسل راجا کو مغلظات بک رہے تھے… راجا نفرت بھری نگاہوں سے دونوں کو دیکھتا ہوا مڑا… منہ سے خون صاف کیا اور گڈی کی جانب بڑھ گیا… گڈی جو اسی کا انتظار کر رہی تھی بھائ کو واپس آتا دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں لیکن اس کے ہاتھ خالی دیکھ کر اس کی آنکھوں کی جوت بجھ گئ… راجا کے پھٹے کپڑے اور منہ سے نکلتا خون دیکھ کر وہ تڑپ کر کھڑی ہوئ… راجا اس کے قریب پہنچ چکا تھا… “بھیا… یہ…یہ کیا ہوا…” انگلی کی پور سے اس نے راجا کے پھٹے ہوۓ ہونٹ سے نکلتا خون صاف کیا…. راجا جو جھک کر نیچے گرے فریم کو اٹھا رہا تھا اس نے فریم سیدھا کیا…. تصویر میں وہ, گڈی اور ان کی ماں مسکرا رہی تھی… اس نے ماں کے چہرے پر انگلی پھیری…”دنیا تیرے بغیر بہت بے رحم ہے ماں… “آنکھ سے ایک آنسو ٹپک کر فریم پر گرا… راجا نے تصویر سینے سے لگائ… آستین سے آنکھیں رگڑیں… گڈی کا ہاتھ تھاما…”چل گڈی…” اور گڈی خاموشی سے اس کی ہم قدم ہوئ…اس بات سے بے خبر کہ نہ جانے کونسی منزل تھی ان کی…. تقدیر نے کہاں لے جانا تھا ان دونوں کو…
