Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25

حفیظ اتنا لاپرواہ تو کبھی نہیں تھا کہ آئل ٹینک لیک ہو اور اسے معلوم بھی نہ پڑے… ہر معاملے میں چوکنا رہنے والا انسان تھا وہ… پھر یہ سب کیسے ہوا… پچھے کچھ عرصے سے پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مجھے…. پہلے ریڈز کا مسئلہ اٹھا… ابھی تک اس کا معلوم نہیں ہو سکا کہ کون غدار ہے جو ہماری مخبری کر رہا ہے…اور اب یہ ایک اور مسئلہ…جنہیں مال ڈیلیور کرنا تھا ان کے فون پہ فون آ رہے ہیں…” اسد شیرازی نے پیشانی مسلی…. وہ سب سر جھکاۓ خاموش کھڑے تھے… “خیر جو ہوا سو ہوا… میں کھل کر اس معاملے کو انویسٹی گیٹ بھی نہیں کروا سکتا کہ اس طرح میں ایکسپوز ہو جاؤں گا… اب کسی بھی طرح اس معاملے کو ٹھنڈا کرو… کچھ بھی کر کے میڈیا کا منہ بند کرو… اس سارے معاملے میں میرا یا تم میں سے کسی کا نام نہیں آنا چاہیے… اگر ایسا ہوا تو بنی بنائ ساکھ خراب ہو جاۓ گی… باقی میں دیکھتا ہوں کہ اب نیکسٹ کیا کرنا ہے… ” اسد شیرازی نے کہہ کر گھڑی پر وقت دیکھا…
“راجا… یہ قادر کا کارڈ ہے… اس پتے پر جاؤ اور یہ میرا قارڈ دکھانا قادر کو… وہ سمجھ جاۓ گا کہ تمہیں میں نے بھیجا ہے…. اس سے کہنا کہ آج رات تک مال بھجوا دے… ڈلیوری دینی ہے… اور اسے وارن کر دینا کہ اب کوئ ڈیلے نہیں ہونا چاہیے… ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا… ” اسد شیرازی نے راجا کو کارڈ تھمایا تو وہ اثبات میں سر ہلاتا وہاں سے نکل آیا… “تم سب بھی جاؤ اپنے اپنے اڈوں پر… چوکنے ہو کر رہنا… کسی بھی قسم کی کوئ بھی غیر معمولی بات پتا چلے تو فورأ مجھے اطلاع دینا… اور ایک بار پھر کہہ رہا ہوں…. اگر تم میں سے کوئ بھی پکڑا جاتا ہے تو وہ کسی صورت اپنے دوسرے ساتھیوں کا نام نہیں لے گا… اگر ایسا ہوا تو تم تو مرو گے ہی…میں تم لوگوں کے گھر والوں کو اٹھوانے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا… سمجھ گۓ… ” سب نے گردن ہاں میں ہلائ… اڈے سے نکلتے راجا کے کانوں تک بھی یہ آواز پہنچی تھی..
استہزائیہ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا تھا…
💝💝💝💝💝
اس واقعے کو کافی دن گزر چکے تھے…معاملہ ٹھنڈا پڑ چکا تھا…کسی قسم کا کوئ سراغ نہ ملنے پر اسد شیرازی نے بھی اسے حادثہ تسلیم کر ہی لیا تھا… نقصان اچھا خاصا ہوا تھا لیکن شکر تھا کہ میڈیا نے بال کی کھال نہیں ادھیڑی تھی… ویسے بھی اس طرح کے نقصانات سے سبق سیکھتے ہوۓ ہی تو وہ یہاں تک پہنچے تھے…
اس روز راجا گھر نہیں تھا… اسد شیرازی نے ہی اسے اپنے کسی کام کے سلسلے میں بھیجا تھا…. وہ اس وقت گھر میں بیٹھے لیب ٹاپ پر مصروف تھے جب ابیہا وہاں چلی آئ… پچھلے کچھ دن وہ خاصی اپ سیٹ رہی تھی لیکن اب اس کی حالت پہلے سے قدرے بہتر تھی… بس اس نے بلا ضرورت کمرے سے نکلنا چھوڑ دیا تھا… یونیورسٹی بھی نہیں جاتی تھی… اسد شیرازی کے پوچھنے پر ہر بار ٹال جاتی… آج وہ کئ دن بعد خود آئ تھی اسد شیرازی کے پاس… “ڈیڈ… “اس نے ہلکی سی آواز میں انہیں پکارا… اسد شیرازی نے چونک کر اس کی طرف دیکھا… “آپ سے کچھ بات کرنی تھی… ” وہ دھیمے قدموں سے چلتی ان کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھی… “ضرور بیٹا… کہو… کیا بات ہے… ؟؟” اسد شیرازی نے لیب ٹاپ کی اسکرین فولڈ کرتے ہوۓ اسے سامنے پڑی ٹیبل پر رکھا… “ڈیڈ… وہ مجھے آپ سے کہنا تھا کہ راجا کو میں اب مزید اپنے ساتھ گارڈ کے طور پر نہیں رکھ سکتی… آپ اس کی یہ جاب ختم کر دیں… ” اس کی بات پر اسد شیرازی حیران ہوۓ… “لیکن کیوں بیٹا… کوئ خاص وجہ… ؟” انہوں نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر ابیہا کے چہرے کو بغور دیکھا… کچھ تو تھا جسے وہ چھپا رہی تھی ان سے… “بس ایسے ہی ڈیڈ… مجھے بہت غصہ دلاتا ہے وہ… اب کسی صورت اسے اپنے ساتھ رکھنا قبول نہیں….. آپ چاہیں تو پہلے والے چاروں گارڈز کی ہی ڈیوٹی لگا دیں میرے ساتھ….لیکن راجا نہیں پلیز… ” وہ اٹل فیصلہ کر چکی تھی کہ اب کسی صورت راجا کی شکل نہیں دیکھے گی… جس دن سے اس کی اصلیت معلوم ہوئ تھی اس دن سے اس کا راجا سے سامنا نہیں ہوا تھا… اور وہ سامنا کرنا بھی نہیں چاہتی تھی…
“کیا ہوا ہے…؟ راجا سے پھر کوئ بات ہوئ ہے…؟؟” اسد شیرازی اچھی طرح جانتے تھے کہ شروع شروع میں ابیہا راجا سے کتنا چڑتی تھی… انہیں لگا پھر کوئ معمولی سی بات ہوئ ہو گی… ابیہا ویسے بھی جذباتی سے لڑکی تھی…چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنگامہ کرنا اس کی عادت تھی اور اس کی اس عادت سے اکثر اسد شیرازی کوفت محسوس کرتے… اب بھی کسی طرح بہلا پھسلا کر اسے اس کی ضد سے ہٹانا چاہتے تھے… ان کی بات پر ابیہا نے نفی میں سر ہلایا… “نہیں… کوئ بات نہیں ہوئ… بس مجھے اب اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا… ” اس کی پھر وہی ضد تھی… اسد شیرازی کا دل چاہا اس لڑکی کا گلا دبا دیں… لیکن ابھی تقریباً ایک سال پڑا تھا اس کے ناز نخرے برداشت کرنے میں… اور وہ مجبور تھے ابھی… اسے جھیلنے کے لیے… “پھر…کیا وجہ ہے جو اسے جاب سے برخاست کرنے کی ضد کی جا رہی ہے… ؟؟” اسد شیرازی نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوۓ پوچھا… “کچھ نہیں ڈیڈ… بس اس دن اس نے فراز آفندی کی بے عزتی کی…مجھے بہت برا لگا… اس کا سب کے ساتھ ایسا ہی بی ہیوئیر ہوتا ہے… اور مجھ سے مذید برداشت نہیں کیا جاتا… ” اس نے کمزور سے لہجے میں بہانہ تراشنا چاہا…
“لیکن ابیہا… میری اس سلسلے میں بات ہو گئ تھی اس سے… فراز نے بتایا تھا مجھے اس کی بدتمیزی کے بارے میں… اور میں نے راجا کی کلاس بھی لی تھی… اتنے دن بعد تمہیں پھر سے یہ بات کیسے یاد آ گئ… وہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے گا… ” اسد شیرازی کے فی الحال اور بہت سے مسائل تھے اور وہ کوئ نیا ایشو افورڈ نہیں کر سکتے تھے تبھی ابیہا کو سمجھانے کی کوشش کی… “آپ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے ڈیڈ… مجھے اس شخص کو اپنے ساتھ ساتھ دم چھلا بنا کر نہیں رکھنا… کوفت ہوتی ہے مجھے اس کے وجود سے… اس کی موجودگی میں میں کھل کر سانس تک نہیں لے پاتی ہوں… مجھے وہ کسی صورت اپنے ساتھ قبول نہیں… اور میں آپ سے صاف کہہ رہی ہوں… میں تب تک یونیورسٹی نہیں جاؤں گی جب تک آپ میرے گارڈ کو چینج نہیں کر سکتے… ” ابیہا اس بار ضبط کھو بیٹھی تھی تبھی اپنے لہجے میں راجا کے لیے نفرت کا اظہار کر گئ… اسد شیرازی حیران پریشان اس کا چہرہ دیکھتے رہ گۓ… “اوکے… لیکن اسے یوں ایک دم بغیر وجہ بتاۓ جاب سے نکالنا ممکن نہیں… اس کے ساتھ کانٹریکٹ سائن کیا تھا میں نے کہ جب تک تمہاری شادی نہیں ہو جاتی تب تک نہ وہ یہ جاب چھوڑ کر جاۓ گا اور نہ ہی میں اسے جاب سے برخاست کروں گا… ” اسد شیرازی کی بات پر ابیہا چپ سی ہو گئ… سر جھکاۓ وہ کچھ سوچ رہی تھی… چند لمحوں بعد اس نے سر اٹھایا… “اگر اسے جاب سے نکالنے کے لیے میری شادی ہونا ضروری ہے تو ٹھیک…میں اس کے لیے بھی تیار ہوں… میری شادی تو ڈیڈ کی وصیت کے مطابق تئیس سال پورے ہونے کے بعد ہی ہو گی…لیکن فی الحال فراز آفندی کے ساتھ میرا نکاح تو کیا جا سکتا ہے ناں…رخصتی بعد میں ہو گی…یوں آپ بھی اپنے کانٹریکٹ پر پورے اترتے ہوۓ اسے جاب سے فارغ کر سکیں گے اور ڈیڈ کی وصیت کی خلاف ورزی بھی نہیں ہو گی… کوشش کیجیے گا کہ نکاح کا انتظام جلد از جلد ہو جاۓ… کیونکہ وہ میری زندگی سے جتنی جلدی دور چلا جاۓ اتنا ہی بہتر ہے… ” مضبوط لہجے میں کہتی وہ اسد شیرازی کو چونکا گئ تھی… وہ آنکھوں چھوٹی کیے اس کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ رہے تھے جبکہ ابیہا اپنی بات کہہ کر وہاں رکی نہیں… تیز قدموں سے وہاں سے نکلتی وہ اپنے کمرے میں بند ہو چکی تھی…
محبت چھوڑ دی ہم نے…
یہ تم سے کہہ دیا کس نے…
کہ تم بن رہ نہیں سکتے…
یہ دکھ ہم سہہ نہیں سکتے…
چلو ہم مان لیتے ہیں…
کہ تیرے بن بہت روۓ…
کئ راتیں نہیں سوۓ…
مگر افسوس ہے جاناں…
کہ اب کے تم جو لوٹو گے…
ہمیں تبدیل پاؤ گے…
اگر یہ پوچھنا چاہو…
کہ ایسا کیوں کیا ہم نے…
تو سن لو غور سے جاناں…
پرانی اک روایت تنگ آ کر توڑ دی ہم نے…
محبت چھوڑ دی ہم نے…
محبت چھوڑ دی ہم نے…
_________
آج کا دن اس کی زندگی میں خوشیاں لے کر آیا تھا… ڈبل سیلیبریشن کا دن تھا آج….
زندگی کے یہ دو سال کیسے گزرے پتا ہی نہیں چلا… لیکن ان دو سالوں میں اس نے بہت جدوجہد کی تھی… ان دو سالوں کا ایک ایک لمحہ اس نے اپنے مستقبل کے لیے وقف کیا تھا… مصروفیت بہت تھی… پڑھائ جاری رکھنا… جم میں کچھ وقت گزارنا… ٹریننگ کی سختیاں جھیلنا… اور ساتھ ساتھ مارشل آرٹس کی کلاسز لینا… دن رات ایک کرنے کے بعد بالآخر آج اسے بلیک بیلٹ ہولڈر کی ڈگری مل گئ تھی… اور دوسری خوشخبری یہ تھی کہ اس کا جذبہ, اس کا حوصلہ اور جرأت مندی دیکھ کر اسے (SSG)کمانڈوز کے لیے چن لیا گیا تھا… بے شک زندگی ابھی آسان نہیں ہوئ تھی… لیکن یہ دو بڑی کامیابیاں تھیں جن کو پا کر اس کا چہرہ تمتما رہا تھا… بلیک بیلٹ ہولڈر (مارشل آرٹس اور جوڈو کراٹے کی طرح یہ بھی ایک ٹریننگ ہے…) کی ڈگری لینے کے بعد وہ چمکتی نگاہوں سے جمشید ربانی اور ان کی شریک حیات کی طرف آیا تھا… عائلہ جمشید ربانی نے اس کی پیشانی چوم کر اس کو مبارکباد دی… اس کے بعد جمشید ربانی نے اسے گلے سے لگایا…. “بہت مبارک ہو میرے یار… میرا سینہ چوڑا کر دیا آج تم نے… “جمشید ربانی کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آنے لگے تھے… دو سال پہلے انہوں نے ابتہاج کے بارے میں, اس کے مستقبل کے بارے میں جو فیصلہ کیا تھا بلاشبہ وہ فیصلہ درست تھا… ابتہاج نے انہیں زندگی کے کسی مقام پر بھی مایوس نہیں کیا تھا… ان کی امید سے بڑھ کر اس نے محنت کی تھی… اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر جمشید ربانی نہ ہوتے تو وہ کبھی اس مقام پر نہ پہنچتا… اس نے دلی طور پر ان دو میاں بیوی کو اپنے ماں باپ مان لیا تھا… ان کی اولاد کی کمی پوری کی تھی اور سگی اولاد سے بھی بڑھ کر انہیں عزت دیتا تھا… اسے اپنی ماں کی کہی اس بات پر یقین آ چکا تھا کہ اللّہ کبھی کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا… اس کے ہر کام میں مصلحت چھپی ہوتی ہے… اور اگر زندگی میں کبھی سارے دروازے بند ہونے لگیں تو یہ یقین رکھو کہ وہ رب کوئ نہ کوئ نیا در وا ضرور کرے گا… اس کی زندگی میں بھی اس کے رب نے ہر جگہ, ہر موڑ پر اس کی مدد کے لیے کسی نہ کسی کو بھیجا تھا…
“سب آپ کی وجہ سے ہی ہے سر… ورنہ میں کہاں اس قابل تھا.. ” وہ انہیں آج بھی سر کہہ کر ہی بلاتا جبکہ عائلہ بیگم کے اصرار پر انہیں ماں جی ہی کہتا تھا… “تمہاری محنت ہے بھئ… مجھے تو بس اس پاک پروردگار نے وسیلہ بنایا ہے… ” جمشید ربانی نے اس کی پشت تھپکی… ابتہاج فقط مسکرا دیا…تقریب کا اختتام ہو چکا تھا…وہ سب گاڑی میں بیٹھ رہے تھے اب… “اچھا فیاض (جمشید ربانی کے دوست) سے بات ہوئ تھی میری کچھ دیر پہلے… اس نے بتایا ہے مجھے کہ اگلے ہفتے سے پھر تمہاری ٹریننگ اسٹارٹ ہو رہی ہے… تین ماہ کی ٹریننگ ہو گی تمہاری…اور ٹریننگ اسلام آبار میں ہے….تو کوئ ضروری کام ہیں تو اسی ہفتے میں نمٹا لو… نیکسٹ فرائڈے تم یہاں سے روانہ ہو جاؤ گے… ” جمشید ربانی نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوۓ اسے انفارم کیا تھا… ابتہاج نے ہلکا سا سر اثبات میں ہلایا… اس کی نظریں باہر گزرتے مناظر پر تھیں لیکن ذہن میں وہ آئندہ زندگی کا لائحہ عمل تیار کر رہا تھا…
💝💝💝💝💝
“کمال ہے… اتنی بے وقوف ہے یہ لڑکی… خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے جا رہی ہے… ” مرزا جمال آفندی اسد شیرازی کے سامنے بیٹھے تھے… سگار سلگاتے ہوۓ ان کی بات سنی تو حیران ہوۓ بغیر نہ رہ سکے…
ان کی بات پر اسد شیرازی نے قہقہہ لگایا… “ابھی وہ جانتی نہیں ہے ناں…کہ شادی کے بعد اس کے ساتھ ہونے کیا والا ہے… تبھی ایسا کر رہی ہے… شادی کے بعد دیکھنا ساری عقل ٹھکانے آ جاۓ گی اس کی… لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئ کہ وہ آخر راجا سے اتنی خار کیوں کھاتی ہے… اچھا بھلا بندہ ہے وہ…اپنے کام سے کام رکھنے والا… ” اسد شیرازی کے لہجے میں الجھن سی تھی…
“ارے چھوڑو یار… جو بھی مسئلہ ہے ان کا… ہمیں کیا… ہمیں تو خود سے مطلب ہے ناں… وہ لڑکی خود ہمارے جال میں پھنسنے کو تیار ہے تو ہمیں اور کیا چاہیے… اچھا ہے…نکاح ہو جاۓ گا… رشتہ داری بھی پکی ہو جاۓ گی… اور اس کی طرف سے کوئ ٹینشن بھی نہ ہو گی… آج اتوار ہے ناں… تو ایسا کرتے ہیں کہ اسی جمعہ کو نکاح رکھ لیتے ہیں… نیکسٹ سنڈے ہمیں واپس بھی جانا ہے… ” مرزا جمال آفندی نے منٹوں میں پروگرام ترتیب دیا… اسد شیرازی نے بھی کچھ سوچتے ہوۓ سر اثبات میں ہلایا…
💝💝💝💝💝
رات گیارہ بجے کے قریب وہ اپنے کمرے میں لیب ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا جب شدت سے کافی کی طلب ہوئ… ویسے بھی اس کا کام مکمل ہو چکا تھا… اس نے لیب ٹاپ آف کر کے محفوظ جگہ پر رکھا… اور کافی بنانے کے لیے کچن کا رخ کیا… وہ کچن کے دروازے پر تھا جب کچن میں موجود ابیہا کی پشت دکھائ دی… ایک لمحے کو اس کے قدم زنجیر ہوۓ… سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ آگے بڑھے یا واپس لوٹ جاۓ… نہ جانے آج اسے دیکھ کر ابیہا کیسا ری ایکٹ کرے…اس دن سے اس کا ابیہا سے سامنا نہیں ہوا تھا… یا شاید وہ دانستہ طور پر ہی اس کے سامنے نہیں آتی تھی… راجا ایک بار کھل کر اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن اپنے کچھ کاموں میں مصروف ہونے کے باعث اسے بھی وقت نہ مل سکا…
چند لمحے کچھ سوچ کر وہ آگے بڑھا… ابیہا منرل واٹر کی بوتل پکڑے گلاس میں پانی انڈیل رہی تھی… شاید پانی کی پیاس اسے کچن تک کھینچ لائ تھی… وہ بوتل بند کر کے فریج میں رکھنے کو مڑی جب نگاہ اندر داخل ہوتے راجا پر پڑی… ایک لمحے کے لیے اس کے ہاتھ ساکت ہوۓ… اتنے دن بعد اسے دیکھ کر گویا آنکھوں کو قرار آیا تھا…لیکن اگلے ہی پل اس کے چہرے پر سختی چھا گئ… بوتل پٹخنے کے سے انداز میں رکھ کر اس نے زور سے فریج کا دروازہ بند کیا… جیسے راجا کو یہ جتانے کی کوشش کی تھی کہ اس کی آمد اسے بالکل اچھ نہیں لگی… راجا چپ چاپ آگے بڑھا… کافی کا جار کیبنٹ سے نکالا اور اپنے لیے کافی بنانے لگا… کن اکھیوں سے وہ ابیہا کو بھی دیکھ رہا تھا جو اب کچن میں لگی میز پر بیٹھی پانی پی رہی تھی… گلاس خالی کر کے اس نے میز پر رکھا اور جانے کو پلٹی جب راجا ایک دم اس کے سامنے آیا… “مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے… ” کہہ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا جن میں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں…گویا اسے جلا کر بھسم کر دینے کا ارادہ ہو… “لیکن مجھے تم سے کوئ بات نہیں کرنی… ہٹو راستے سے… ” وہ دھیمی مگر زہر آلود آواز میں بولی تھی… “ابیہا… ہر وقت اپنی من مانی نہیں کرنی چاہیے… آپ نے جو دیکھا وہ آدھا سچ تھا… اپنے دماغ کو استعمال کر کے خود ساختہ سوچوں میں گھر کر کوئ فیصلہ مت کیجیے… پہلے میری طرف کی کہانی بھی سن لیجیے… اگر ہھر بھی میں قصور وار ہوا تو جو سزا دینا چاہیں وہ دے سکتی ہیں… ” راجا کا لہجہ ہمیشہ کی طرح احترام لیے ہوۓ تھا… ابیہا نے قہر آلود نظر اس پر ڈالی… ” کیا سناؤ گے تم…؟؟ پھر سے کوئ جھوٹی من گھڑت کہانی…؟؟ تاکہ پھر سے مجھے اپنے جال میں پھنسا سکو… خود کو صحیح ثابت کر سکو… میری ہمدردی حاصل کر سکو…؟؟ اگر ایسا سوچتے ہو نا تو تم غلط ہو…بالکل غلط… اس بار میں تم سے دھوکہ نہیں کھاؤں گی… ” انگلی اٹھاۓ چبا چبا کر کہا گیا تھا… اور اس کے لہجے میں موجود راجا کے لیے نفرت…. راجا دنگ سا رہ گیا… “اتنا زہر بھر دیا گیا ہے آپ کے دل میں میرے لیے کہ آپ میری کوئ بات سننے کو ہی تیار نہیں ہیں… اتنی نفرت کہاں سے آ گئ ہمارے درمیان ابیہا… کیا یہ نفرت آپ کی محبت سے زیادہ شدت رکھتی ہے…؟؟ خدارا دل میں نۓ اجاگر ہونے والے محبت کے احساس کو اس نفرت کی شدت سے ٹھیس مت پہنچائیے… ” راجا دکھ بھری نگاہوں سے اسے دیکھے گیا… نہ جانے کیوں اس لڑکی کے سامنے اسے بالکل غصہ نہیں آتا تھا… غصہ کرنا بھی چاہتا تب بھی نہیں… اس سے بات کرتے ہوۓ اسے ہمیشہ لگتا جیسے وہ اٹھارہ سال پہلے والی اینجل سے بات کر رہا ہے… جس کی آنکھوں میں معصومیت کا ایک جہان آباد ہوتا تھا…
“محبت…؟؟ ویسے کمال کے اداکار ہو تم… کیا خوب ڈھونگ رچایا تھا محبت کا… لیکن افسوس… اس بار تم محبت کو اپنا ہتھیار بنا کر بھی یہ گیم نہیں جیت پاۓ… کیونکہ اس بار میں تمہاری اصلیت بہت اچھے سے جان گئ ہوں… اور کس محبت کی بات کرتے ہو تم… وہ محبت تو کب کی مر بھی گئ… تمہیں کیا لگتا تھا… میں محبت کے جال میں پھنس جاؤں گی… تمہارے بغیر جی نہیں پاؤں گی… اور آخر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر تمہارے تمام گناہ معاف کر کے تمہیں اپنا لوں گی…؟؟ نہیں… بالکل نہیں مسٹر ابتہاج…اب دیکھنا…میں تمہارے سامنے فراز آفندی سے شادی کروں گی… اور ایک سیکنڈ میں تمہیں اپنی زندگی سے نکال پھینکوں گی…تمہیں یہ دکھاؤں گی کہ محبت کے بغیر بھی رہا جا سکتا ہے… یہ جو محبت نام کا کٹورا لیے پھرتے ہو نا تم… یہ خالی کا خالی رہ جاۓ گا… باۓ دا وے… اس فرائیڈے کو نکاح ہے میرا…فراز آفندی سے…آنا ضرور… آخر کبھی میرے بیسٹ فرینڈ رہ چکے ہو… ” طنز بھری نگاہوں سے کہتی وہ وہاں جا چکی تھی جبکہ ساکت کھڑے راجا کے کانوں میں اس کا ایک ہی فقرہ گونج رہا تھا… “اس فرائڈے نکاح ہے میرا… فراز آفندی سے… “
Episode 25
بخت کے تخت سے یک لخت اتارا ہوا شخص…
تو نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص…”
وہ بہت دیر سے اس باکسنگ کلب میں موجود تھا… جب سے اسے ابیہا کی زبان سے یہ معلوم ہوا تھا کہ اس فرائیڈے یعنی فقط دو دن بعد اس کا نکاح ہے…وہ بھی فراز آفندی کے ساتھ…تب سے اس کا دل اضطرابی کیفیت کا شکار تھا… بے چینی حد سے سوا تھی… وہ لڑکی اس کی نفرت میں خود اپنی زندگی برباد کرنے جا رہی تھی… اس بات سے بے خبر تھی کہ کیسا عذاب بھرا رستہ چن رہی ہے وہ… اور راجا… وہ اس وقت خود کو شدید بے بس محسوس کر رہا تھا… سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیسے روکے یہ سب کرنے سے… سختی وہ اس پر کرنا نہیں چاہتا تھا…اور نرمی سے وہ پاگل لڑکی کوئ بات سننے کو تیار نہ تھی… اس کا دل جل رہا تھا… اپنے اندر کی آگ کو کم کرنے کے لیے ہی وہ باکسنگ کلب آیا تھا… پنچنگ بیگ پر پے در پے مکے برساتے ہوۓ وہ جیسے پاگل ہو رہا تھا… چہرہ پسینے سے تر تھا… ہاتھوں کی انگلیوں سے اب خون رسنے لگا تھا…لیکن اسے تو جیسے کوئ ہوش ہی نہ تھا… ذہن میں ابیہا کا کہا ایک ہی فقرہ بار بار گونج رہا تھا جس میں اس نے اپنے نکاح کی اطلاع دی تھی… اور یہ فقرہ مسلسل اس کے اشتعال میں اضافہ کر رہا تھا… رات کے دو بج رہے تھے… کلب سے سب لوگ جا چکے تھے… جب باکسنگ کلب کا مالک اس کے پاس چلا آیا…. “ارے بس کر دو بھائ… ایسا بھی کیا غصہ کہ اپنی ہی تکلیف کا احساس نہیں تمہیں… حالت دیکھو ذرا اپنی…” اس کی بات پر راجا چونکا… ایک نظر اسے دیکھ کر اپنے ہاتھوں کی جانب نگاہ دوڑائ… پسینے سے شرابور ہوتے ہوۓ وہ گہرے سانس بھرنے لگا… چند لمحوں بعد اردگرد دیکھا تو کلب خالی ہونے کا احساس ہوا… سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں کو اور ہاتھ میں موجود چابیوں کو دیکھ کر راجا سمجھ گیا تھا کہ وہ اب کلب بند کرنا چاہ رہا ہے… تبھی پاس پڑی بوتل اٹھا کر ایک جانب بیٹھا اور پانی کے گھونٹ بھرنے لگا… پانی پی کر وہ اٹھا… شرٹ پہنی… اور کلب سے نکل آیا… رات کے اس وقت تمام سڑکیں سنسان تھیں… وہ تھکے تھکے انداز میں ڈھیلے قدموں سے فٹ پاتھ پر چلنے لگا… نہ جانے کیوں آج گھر جانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا… وہ سخت جان تھا… لوگ اسے پتھر دل اور بے حس جیسے القابات سے نوازتے تھے… یہاں تک کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ بھی اسے سنگدل کہہ کر مخاطب کرتے… جس نے کبھی کسے لڑکی کی طرف نگاہ نہیں کی تھی… اپنی طرف بڑھنے والی ہر لڑکی کی حوصلہ شکنی کی تھی… بلکہ ڈپٹ کر رکھ دیتا تھا… ہاں وہ تھا بے حس… لیکن نہ جانے کیوں ابیہا کے معاملے میں وہ بے حس نہیں ہو پا رہا تھا… وہ واحد لڑکی تھی جو اس کی کمزوری بن گئ تھی…اور راجا چاہ کر بھی اپنے دل کو اس کے خلاف نہ کر پاتا… اس کی بے اعتنائ, اس کی سردمہری, اس کی نفرت سب کچھ سہہ رہا تھا وہ چپ چاپ… اندر ہی اندر اس کی تلخ باتیں اور تنفر بھرا رویہ اسے توڑتا ضرور تھا… زخمی زخمی کر دیتا تھا مگر وہ بغیر کوئ آہ کیے برداشت کر رہا تھا…. لیکن اب اس کی شادی کی خبر سن کر نہ جانے کیوں وہ ٹوٹنے لگا تھا… دل کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن دل کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھا… اگر وہ کسی ایسے انسان کو اس پر فوقیت دیتی جو راجا کے مقابل آ سکتا… اور جس کے ساتھ ابیہا خوش رہ سکتی تو شاید دل کو سمجھانا کچھ آسان ہو بھی جاتا… وہ دل پہ پتھر رکھ کر اس کی خوشی کی خاطر اس سے جدا ہو جاتا…لیکن یہاں یہی بات تو سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی کہ اس نے راجا کے مقابلے میں کسی کو چنا بھی تو کسے… راجا کے کزن کو… وہ جس کی فطرت میں ہی لوگوں کو دھوکہ دینا ہے… جو صرف ہوس کا مارا ایک انسان تھا… جس کے نزدیک عورت کی کوئ عزت نہ تھی… جو عورت کو فقط ایک کھلونا سمجھتا تھا… دل بہلایا اور پھینک دیا… اگر ابیہا کی اس سے شادی ہو گئ تو ابیہا کن تکلیفوں سے گزرے گی یہ سوچ ہی راجا کو سخت اذیت میں مبتلا کر رہی تھی… بے بس سا بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ چلتا جا رہا تھا جب وہاں خالی سڑک پر ایک گاڑی آن رکی… راجا نے سر اٹھا کر دیکھا… وہ سب بھی راجا کی طرف ہی متوجہ تھے… اور گاڑی رکتے ہی ہتھیار لیے اب راجا کی طرف بڑھ رہے تھے… راجا نے آنکھیں سیکڑ کر انہیں دیکھا… وہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں پہچانتا تھا… نہ ان میں سے کسی کی اس سے دشمنی تھی… پھر بھلا وہ ہاکیاں اور لاٹھیاں پکڑے اس کی طرف کیوں بڑھ رہے تھے… حیران سا وہ انہیں دیکھے گیا…
________
وہ لوگ جو بھی تھے اب اس کے قریب آ چکے تھے…
“کون ہو تم لوگ… ؟؟” راجا نے ان بپھرے ہوۓ سات افراد کی جانب دیکھا… اگر وہ اس پر حملہ کرتے تو راجا کو ان سب کو پچھاڑنے میں پانچ منٹ بھی نہیں لگنے تھے… لیکن وہ اس وقت لڑائ کے موڈ میں نہیں تھا… ویسے بھی جب وہ جانتا ہی نہ تھا کہ وہ ہیں کون تو بلاوجہ کیوں مارتا انہیں… اس کی بات پر سب سے آگے کھڑے بن مانس کی طرح دکھتے خاصے صحت مند حبشی نما شخص نے قہقہہ لگایا… اپنے انداز سے وہ ان سب کا سردار لگتا تھا…
“تم یہ جان کر کیا کرو گے کہ ہم کون ہیں… ؟؟ بس اتنا جان لو کہ آج تمہاری موت بن کر آۓ ہیں ہم… ” وہ اپنی موٹی بھدی آواز میں غرایا… راجا نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھا…جیسے پوچھ رہا ہو… “سیرئیسلی…” کہتے ہوۓ اس نے شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے… غصہ اسے پہلے ہی بہت تھا… اب یہ لوگ آگۓ تھے جلتی آگ میں ہاتھ ڈالنے… تو جھلسنا تو تھا ہی انہیں… بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال کر کوئ بھلا کیسے بچ سکتا ہے نشانہ بننے سے…
اس حبشی نے پیچھے اپنے ساتھیوں کو دیکھا… “مارو سالے کو… ” بلند آواز میں حکم دیا… اس کے کہنے کی دیر تھی وہ سب ایک ساتھ راجا کی طرف بڑھے… راجا جو پہلے ہی چوکنا سا کھڑا تھا اس نے اپنے مارشل آرٹس میں سیکھے داؤ پیچ ان پر آزماتے ہوۓ اگلے چار منٹ میں ان کی اچھی خاصی دھلائ کی… کافی دور موجود ایک گاڑی میں بیٹھا فراز آفندی جو اپنے دانست میں خاصے طاقتور غنڈے لایا تھا راجا کے ہاتھ پاؤں تڑوانے کے لیے تاکہ اس سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے سکے…وہ بھی دنگ سا اسے لڑتے ہوۓ دیکھ رہا تھا… اسے یہ اندازہ تو ہو گیا تھا کہ وہ غنڈے راجا کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے… تبھی حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اس نے جلدی سے اپنا موبائل نکالا اور راجا کی فائیٹنگ کی ویڈیو بنانے لگا…
ٹھیک چار منٹ بعد وہ سب جو راجا کے ہاتھ پاؤں توڑنے آۓ تھے وہ اب خود اپنی ہڈیاں تڑواۓ کراہتے ہوۓ وہاں سے بھاگ نکلے… وہ حبشی شخص جو پہلے بڑی بڑھکیں مار رہا تھا وہ تو اپنے ساتھیوں کو پٹتا دیکھ کر خود لڑے بغیر ہی سب سے پہلے بھاگ گیا تھا…
راجا نے نفرت بھری نگاہوں سے انہیں اوجھل ہونے تک دیکھا… منہ ہی منہ میں انہیں چند القابات سے نوازا… بالوں میں ہاتھ پھیر کر غصے کو قابو کرنے کی کوشش کی… ان کے اوجھل ہوتے ہی وہ بھی آگے بڑھ گیا…جبکہ فراز آفندی کی پرسوچ نظریں اس پر جمی تھیں… “کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے… میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تم جو دکھتے ہو, وہ تم ہو نہیں…اور جو تم ہو, وہ ظاہر نہیں کرتے…یقیناً تم کوئ عام آدمی نہیں ہو…کیونکہ اتنی پرفیکٹ فائیٹنگ تو کوئ پروفیشنل فائیٹر ہی کر سکتا ہے… پتا لگانا ہی پڑے گا کہ آخر چکر کیا ہے… ” وہ کچھ سوچتے ہوۓ بڑبڑا رہا تھا…اس کا پلان تو ناکام ہو گیا تھا…لیکن راجا سے انتقام لینے کا ایک اور راستہ دکھائ دینے لگا تھا… وہ آنکھیں سکوڑے دور جاتے راجا کو تک رہا تھا…
💝💝💝💝💝
وقت پر لگا کر اڑتا گیا… تین سال مزید گزر گۓ… ان تین سالوں میں راجا نے (SSG) کمانڈو کے طور پر مختلف مشن سر انجام دئیے… ساتھ ہی ساتھ مختلف ٹریننگز بھی لیتا رہا…اور اپنے حوصلے,ہمت اور ارادے کی پختگی کی بدولت جلد ہی بڑے افسران کی نگاہوں میں آ گیا… ٹریننگز کے دوران اس کی چوکسی اور پھرتی کی بدولت کئ افسران بھی دانتوں میں انگلیا دبا کر رہ گۓ… یقیناً وہ کمانذوز میں ایک قابل قدر اضافہ ثابت ہوا تھا… اب تک اس نے اپنے کسی مشن کو بھی ناکام نہیں ہونے دیا تھا… مشکل سے مشکل مراحل کو بھی حوصلہ مندی سے طے کیا… (SSG) کمانڈوز کی ٹریننگز اتنی مشکل ہوتی تھیں کہ اس کے کئ ساتھی درمیان میں ہی چھوڑ کر بھاگ گۓ… جب انہوں نے ٹریننگ شروع کی تب ایک ہزار افراد تھے جو چنے گۓ تھے… لیکن ٹریننگز کے دوران کچھ خود سختیاں نہ جھیل پانے کے باعث چھوڑ گۓ اور باقی افراد کو افسران نے کسی نہ کسی کوتاہی پر نکال باہر کیا… وہ صرف پندرہ افراد بچے تھے جنہیں سب سے آخری اور سب سے مشکل مرحلہ طے کرنا تھا…
سامنے کھلا اور کافی بڑا گراؤنڈ تھا جہاں دو ہیلی کاپٹر کھڑے تھے… وہ پندرہ افراد اپنا ضروری سامان لیے اس گراؤنڈ میں ہیلی کاپٹرز سے کچھ فاصلے پر دو قطاروں کی صورت کھڑے تھے… سامنے ان کے چیف کھڑے تھے چند ہدایات دے رہے تھے…
“لسن ٹو می ویری کئیر فلی آل جینٹل مین… یہ آخری مرحلہ ہے… اور سب سے زیادہ مشکل بھی… بہت سے افراد اس مرحلے پر آ کر خوفزدہ ہوتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں… آپ سب سے ایک بار پھر کہا جا رہا ہے… اگر کسی کو واپس جانا ہے تو جا سکتا ہے… ہمیں نہیں معلوم کہ پندرہ دن بعد آپ میں سے کون زندہ واپس لوٹے گا اور کون نہیں… آپ کو تمام گُر سکھا دئیے گۓ ہیں… جنگل میں آپ کسی قسم کا کوئ ہتھیار لے کر نہیں جائیں گے… آپ کو اپنی بقا کے لیے خود لڑنا ہو گا… وہاں موجود خطرناک جنگلی جانوروں سے… ہمیں نہیں معلوم کہ آپ جنگل کے کس حصے میں جائیں گے… آپ سب کو جو نقشے دئیے گۓ ہیں اس جنگل کے… وہاں ایک جگہ کو مارک کیا گیا ہے… نقشہ دیکھ کر آپ کو پندرہ دن میں اس جگہ تک پہنچنا ہے… چند منٹ میں ہم روانہ ہو رہے ہیں… اب آپ سے مارک کی گئ جگہ پر ہی ملاقات ہو گی ٹھیک پندرہ دن بعد… اور میں آپ سب جوانوں کو وہاں دیکھنا چاہوں گا…اس مرحلے کو طے کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے آپ کی ہمت… دل مضبوط رکھیں گے تو کوئ رکاوٹ آپ کے راستے میں مخل نہیں ہو گی… ورنہ سنا تو ہو گا ہی آپ نے بھی کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا… ایک بار پھر اپنے بیگز چیک کریں… میپ اور پانی کی بوتل کے علاوہ کچھ نہیں ہونا چاہیے آپ کے پاس…ہری اپ…” چیف نے کہا تو وہ سب پھر سے اپنے کندھوں کے ساتھ لٹکے چھوٹے بیگز چیک کرنے لگے… کچھ ہی منٹس بعد وہ سب ہیلی کاپٹرز کی طرف جا رہے تھے… اس بات سے انجان کہ نہ جانے وہاں کون لقمۂ اجل بنے گا,اور کس کی قسمت میں واپسی ہو گی…
💝💝💝💝💝
نکاح کا دن آن پہنچا تھا… مرزا جمال آفندی کے کہنے پر سادگی سے نکاح کیا جا رہا تھا…. صرف اسد شیرازی کے چند قریبی جاننے والے مدعو تھے… اسد شیرازی ملازموں کو ہدایات دیتے ادھر سے ادھر تمام انتظامات دیکھ رہے تھے… خوشی سے چہرہ دمک رہا تھا… بالآخر اتنے سالوں کا انتظار ختم ہونے کو تھا… بے شک ابھی صرف نکاح تھا لیکن ایک مرحلہ تو طے ہو رہا تھا نا… نکاح ہو جانے کے بعد رخصتی کا ایسا کوئ خاص مسئلہ بھی نہیں رہ جاتا… اگر ابیہا کو ان کی سچائ معلوم ہو بھی جاۓ نکاح کے بعد…تو بھی وہ کچھ کر نہیں سکے گی… رخصتی تو زبردستی بھی کروائ جا سکتی ہے… یہی سوچ انہیں خوش رکھے ہوۓ تھی…
ابیہا آج صبح سے ہی بے کل تھی… رہ رہ کر نہ جانے کیوں دل میں ہول اٹھ رہے تھے… شام چھے بجے کا وقت رکھا گیا تھا نکاح کا… اور جیسے جیسے وات گزر رہا تھا وہ بدحواس سی ہوتی جا رہی تھی… کبھی دل دہائیاں دینے لگتا… اسے احساس دلانے لگتا کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ سراسر غلط ہے… تو کبھی دماغ اسے مشورہ دیتا کہ جو ہو رہا ہے بالکل درست ہو رہا ہے… وہ اگر اپنے پیرنٹس کے قاتل کو معاف کر کے اس سے شادی کرے تو روزِ محشر پیرنٹس کو کیا منہ دکھاۓ گی… یہی سوچ کر وہ خود پر قابو پاۓ ہوۓ تھی… سلگتے تڑپتے دل کی آہ و بکا کو نظرانداز کر دیا تھا… جب دل راجا کی طرفداری کرنے لگتا وہ اپنے پیرنٹس کی تصویر کو دیکھتی رہتی… ان کی موت کا منظر اس کی نگاہوں میں گھوم جاتا… خنجر پکڑے نظر آتا راجا اس کی تلخیوں کو مزید توانائ بخشتا… دو بجے کے قریب زینی آئ تھی اس کے کمرے میں… اپنے فرینڈز میں سے اس نے صرف زینی کو مدعو کیا تھا کہ اس کی موجودگی میں دل کو سہارا رہتا… باقی کسی دوست کو خبر نہ تھی اس کے نکاح کی… “چلو بیا… پارلر کے لیے لیٹ ہو رہے ہیں… جلدی کرو… ” زینی خوشی سے بھرپور چہکتی آواز میں اس کے پاس آتی اس کا ہاتھ تھام کر اسے اٹھانے لگی… ابیہا کی بے کلی میں اضافہ ہونے لگا… اپنی تمام سوچوں کو جھٹکتی وہ اٹھی… روم سے نکل کر وہ دونوں لاؤنج سے گزر رہی تھیں جب ابیہا کی نگاہ ایک جانب اسٹیج ڈیکوریٹ کرواتے راجا پر پڑی… راجا بھی اسی کی جانب دیکھ رہا تھا…
“میری وضاحت سنے بغیر تم موردِ الزام ٹھہرا کر گۓ ہو…
تمہیں خبر بھی ہے جانِ جاناں, نادانی میں یہ کیا کر گۓ ہو…؟؟”
(حیا انور)
راجا کی آنکھوں میں اذیت اور بے بسی بھرا احساس دیکھ کر ابیہا نے جھٹ رخ موڑا اور تیزی سے وہاں سے نکل آئ…
کچھ ہی دیر بعد وہ اور زینی گاڑی میں بیٹھ رہی تھیں… گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ڈرائیور موجود تھا… راجا اسد شیرازی کے ساتھ دوسرے کاموں میں مصروف تھا… ویسے بھی ابیہا نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ ڈرائیور کے ساتھ جاۓ گی پارلر…
ان کی گاڑی نکلتے ہی پیچھے ایک اور گاڑی نکلی جس میں تین گارڈز موجود تھے…
تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے… فراز آفندی بھی مرزا جمال آفندی کے ساتھ وہاں آ چکا تھا… راجا سر جھکاۓ سنجیدہ چہرہ لیے ادھر ادھر مختلف کام نمٹا رہا تھا… کبھی کبھار گھڑی پر بھی نگاہ ڈال لیتا… ساڑھے پانچ ہو رہے تھے… ابیہا اور زینی ابھی تک نہیں آئیں تھیں… اس وقت تک تو انہیں آ جانا چاہیے تھا… اسد شیرازی بھی پریشانی سے گھڑی کی جانب دیکھتے ان کے منتظر تھے… تبھی ان کا سیل بجنے لگا… ابیہا کی کال تھی… اسد شیرازی نے کچھ مطمئین ہوتے ہوۓ کال ریسیو کی… دوسری جانب سے نہ جانے کیا کہا گیا تھا کہ ان کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا… “کک…کون تھے وہ…؟؟” لرزتی آواز میں پوچھا تھا… سارے کیے کراۓ پر پانی پھرنے جا رہا تھا… کال کٹنے کے بعد وہ بس سے وہیں صوفے پر گر سے گۓ..
راجا جو ان کی جانب ہی متوجہ تھا ان کی یہ حالت دیکھ کر پریشان سا ان کی جانب لپکا…
💝💝💝💝💝
ہیلی کاپٹرز جنگل کے اوپر چکرا رہے تھے… ان سب نے پیراشوٹ اپنی کمر کے ساتھ باندھے… چیف نے سب کو گڈ لک کہا اور باری باری وہ سب ہیلی کاپٹرز سے چھلانگ لگانے لگے… یہ ان کا آخری امتحان تھا… جس میں یا تو جیت ان کا مقدر ہوتی…یا موت… اور موت سے ڈرنے والے تو وہ تھے نہیں… نڈر ہو کر وہ سب موت کی اس وادی میں اتر رہے تھے…
ابتہاج نے بھی اپنا پیرا شوٹ کھولا اور ہوا کے دم پر اڑتا ہوا اس گھنے جنگل کے درختوں سے ٹکراتا ہوا ایک جگہ چند درختوں پر اس کا پیرا شوٹ پھنس گیا..اس نے پیرا شوٹ بیلٹ کمر سے کھولا… اور نیچے جنگل میں جا گرا… نیچے خاردار جھاڑیاں تھیں جن سے اس کی ہتھیلیوں پر چند خراشیں آئیں… ایک درخت کے تنے سے ٹکرانے کی وجہ سے کمر میں بھی خراشیں آئیں تھیں لیکن یہ چھوٹی موٹی تکلیفیں اب اس پر اثر انداز نہیں ہوتی تھیں…
اس نے کلائ پر بندھی کمپس نیڈل والی گھڑی کھولی… اسے ہاتھ میں پکڑے دوسرے ہاتھ سے بیگ سے میپ نکالا… وہ سمت کا اندازہ لگانا چاہ رہا تھا کہ اس وقت وہ کہاں موجود ہے… اور مطلوبہ جگہ پر پہنچنے کے لیے اسے کس سمت کو اپنا سفر شروع کرنا ہے…
💝💝💝💝💝
ابیہا تیار ہو چکی تھی… مہرون لانگ ٹیل فراک میں ملبوس بالوں کا اونچا جوڑا بناۓ میک اپ میں وہ آسمان سے اتری پری ہی لگ رہی تھی… اس پر چہرے کی معصومیت اور حزن حسن کو مزید نکھار بخش رہا تھا…
بیوٹیشن لاسٹ ٹچ دے رہی تھی میک اپ کو… اور زینی پاس کھڑی پیار بھری نظروں سے ابیہا کو تک رہی تھی… “بہت پیاری لگ رہی ہو… اللّہ نظرِ بد سے بچاۓ… ” بیوٹیشن نے مسکراتے ہوۓ زینی کی بات سنی… پھر خود بھی ابیہا کی تعریف کرنے لگی… ابیہا نے سرسری سے نگاہ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر ڈالی…. لیلن فورأ ہی نظریں واپس موڑ گئ… اسے کوئ شوق نہیں تھا خود کو دیکھنے کا… بھلا جب دل میں کوئ جذبات ہی موجزن نہیں تو خوبصورت لگنے سے کیا ہوتا ہے… “چلیں بیا… پانچ بج کے پندرہ منٹ ہو رہے ہیں مہمان آ چکے ہوں گے… ” زینی نے کہا تو وہ لب کاٹتی ہوئ اٹھی… تبھی کوئ پارلر میں داخل ہوا… دونوں نے سر اٹھا کر دیکھا… وہ تین لوگ تھے جن کے ہاتھوں میں رائفلز تھیں جبکہ چہروں پر ماسک… بیٹیشن بھی جب مڑی تو انہیں دیکھ کر فورأ آگے آئ… “او…ہیلو…کون ہو تم لوگ… اندر کیسے آۓ بنا اجازت… ؟؟” بیوٹیشن نے سخت لہجے میں کہا تھا… جب ان میں سے ایک شخص نے زینی کو بیوٹیشن کی طرف دھکیلا اور ان پر گن تان لی… “اگر ذرا سی بھی حرکت کی تو ابھی کے ابھی تم دونوں کو اوپر پہنچا دوں گا… ” وہ جذبات سے عاری لہجے میں بولا تھا… ابیہا پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی… دماغ کہیں کچھ غلط ہونے کا اشارہ دے رہا تھا… ابیہا ڈر کے مارے پیچھے ہونے والی تھی جب ان میں سے ایک شخص نے آگے بڑھ کر کلوروفام میں بھیگا رومال اس کے منہ پر رکھا… زینی چینختی رہ گئ لیکن وہ سجی سنوری ابیہا کے گرد چادر لپیٹ کر اسے لے جا چکے تھے… اس پارلر میں پارکنگ کے لیے جگہ نہ تھی اسی لیے ابیہا کے گارڈز کی گاڑی مین گیٹ سے کافی فاصلے پر تھی… ان لوگوں نے مین گیٹ کی بجاۓ پیچھے کا راستہ اختیار کیا… تبھی گارڈز کی نظروں سے بچ کر نکل گۓ… زینی روتے ہوۓ بار بار ابیہا کو پکار رہی تھی… پیچھے بھاگنے کی کوشش بھی کی لیکن تب تک وہ نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے… تبھی زینی کی نگاہ وہیں پارلر میں پڑے ابیہا کے سیل پر پڑی… اس کا سیل پکڑ کر اسد شیرازی کو کال ملاتے ہوۓ وہ انہیں سب کچھ بتا چکی تھی… دماغ کام ہی نہیں کر رہا تھا کہ اور کرے بھی تو کیا… نہ جانے وہ کون لوگ تھے جو ابیہا کو لے جا چکے تھے… اور خدا جانے اب وہ ابیہا کے ساتھ کیا سلوک کرتے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *