Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17
اس کی بات پر راجا نے جیب سے ایک پین ڈرائیو نکالی… “میں جانتا تھا سر کہ آپ یہ سب سوالات ضرور کریں گے… تبھی میں نے اس کی موت کا سارا منظر ریکارڈ کر لیا تھا… اس میں ویڈیوز ہیں…دیکھ لیجیے گا کہ کیسے مارا میں نے اسے… میں نے سوچا آپ جیسے بڑے لوگوں کے پاس کہاں اتنا وقت کہ کسی کی جان لیں… ویسے بھی میرے ہوتے ہوۓ آپ کیوں اپنے ہاتھ کسی کے خون سے رنگیں… بس یہی سوچ کر میں نے اسے مارا اور لاش دریا میں بہا دی… “
راجا کی بات پر اسد شیرازی نے پرسوچ نظروں سے پین ڈرائیو کو دیکھا… چند لمحوں بعد وہ ایل ای ڈی پر اس ویڈیو کو دیکھ رہا تھا جس میں ایک نیم اندھیرے کمرے میں راجا آصف پر تشدد کر رہا تھا…اور اس سے اصلیت اگلوا رہا تھا… راجا نے کن اکھیوں سے اسد شیرازی کے چہرے کے تاثرات دیکھے… آصف نے اپنے منہ سے اقرار کر لیا تھا کہ وہی بلیک میل کر رہا ہے اسد شیرازی کو… اور ساتھ ہی ان ثبوتوں کے بارے میں بھی سب بتا دیا…ویڈیو میں اب آصف بے تحاشا تشدد سہنے کے باعث موت کی وادیوں میں اتر گیا تھا… اور راجا اسے ایک پڑی سی چادر میں لپیٹ رہا تھا… چادر میں لپیٹ کر راجا نے اپنا موبائیل پکڑا اور ویڈیو ختم ہو گئ…
“بس سر… اتنی ہی ویڈیو بنائ… پھر اسے جا کر دریا میں بہا دیا… اور اس کے بتاۓ گۓ پتے سے سارے ثبوت ڈھونڈ لایا… ” ہاتھ باندھتے ہوۓ راجا نے اسد شیرازی کو بتایا…
اسد شیرازی نے سر اثبات میں ہلایا… “لیکن اگر اس نے یہی ویڈیوز اپنے کسی دوست کو بھی سینڈ کر دی ہوئیں تو…؟؟ آخر وہ جانتا تھا کہ مجھ سے دشمنی مول رہا ہے, کسی بھی وقت پکڑا گیا تو کیسے میرے عتاب کا نشانہ بن سکتا ہے… ” اسد شیرازی ریمورٹ پیشانی پر ٹکاۓ کہہ رہا تھا…
” میں جانتا ہوں سر… تبھی مار پیٹ کے دوران اس سے یہ سوال بھی ہوچھا تھا… اس نے کسی کو بھی ویڈیوز نہیں دیں… یہ معاملہ بہت گھمبیر اور خطرناک تھا سر… آخر آپ جیدے بڑے آدمی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی اس نے…وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا تھا تبھی اس راز کو خود تک ہی محدود رکھا… ” راجا اسد شیرازی کی ہر بات کا جواب دینے کے لیے خود کو تیار کر کے آیا تھا…
“آپ بے فکر رہیے سارے… اب کوئ آپ کو پریشان نہیں کرے گا… اگر آئندہ بھی کوئ مسئلہ ہو تو مجھے یاد فرمائیے گا… ” راجا نے اسے مطمئین کرنے کو مزید کہا…
اسد شیرازی اٹھا… “مجھے تم پہ فخر ہے راجا… تم واقعی ایک قابل تعریف اور قابل اعتبار شخص ہو… میرا کوئ بیٹا نہیں جو میرے کاروبار میں میری مدد کر سکے..
کیا تم میرا داہنا ہاتھ بنو گے… ؟؟” اسد شیرازی کو راجا کی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا… اور وہ اسے اس قابل لگا تھا کہ اسے اپنے کاروبار کا حصہ بنا سکے… آہستہ آہستہ اسے اپنے اِلّیگل کاموں میں پھنسا کر وہ بہت سے مطلب نکلوا سکتا تھا اس سے… یہی سوچ کر اسے آفر کی تھی…
“میری خوش نصیبی ہو گی سر… لیکن میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں..آپ کے آفس میں کام کیسے…؟؟” راجا نے جھجھکتے ہوۓ بات ادھوری چھوڑی…
“ارے یار… میرے ساتھ کام کرنے کے لیے تعلیم کی نہیں عقل, طاقت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے… اور تم میں یہ تینوں چیزیں بدرجۂ اتم موجود ہیں… فکر مت کرو… تمہیں کام سکھا دیا جاۓ گا… اور جگہ بھی بتا دی جاۓ گی… کل سے ابیہا کے یونیورسٹی سے آ جانے کے بعد تم اسی جگہ پر آیا کرو گے اور ہمارے ساتھ کام کرو گے… ڈبل پیمنٹ کی جاۓ گی تمہیں… اور ہاں… جو کام تم نے آج کیا ہے اس کی پیمنٹ یہ رہی…” اسد شیرازی نے چیک بک سے خطیر رقم کا چیک کاٹ کر اس کے حوالے کیا…
“شکریہ سر… ” رقم کے نام پر راجا کے چہرے پر روشنی سی بکھری تھی… چیک لے کر وہ کمرے سے نکلا…
اپنے کمرے میں جا کر اس نے میسیج ٹائپ کیا… ” آصف کو فی الحال چھپا کر رکھنا… کل اسد شیرازی کا دیا ہوا چیک مل جاۓ گا تمہیں… چیک کیش کروا کے ساری رقم آصف کے اکاؤنٹ میں جمع کروانا اور جلد سے جلد اسے کینیڈا بھیج دو کچھ عرصہ کے لیے… ” میسیج سینڈ ہو چکا تھا…
دوسری جانب سے چند لمحوں بعد پیغام موصول ہوا… “اوکے سر…”
دوسری جانب آصف اور راحم ایک کمرے میں موجود تھے… آصف کے چہرے پر زخموں کے چند نشان تھے… پیشانی پر ایک طرف پٹی بندھی ہوئ تھی…”شکریہ دوست… پلان کامیاب رہا… اسد شیرازی پھنس چکا ہے… اس کی بربادی سے تم بھی اپنے ماں اور باپ کا بدلہ لے سکو گے… ان چوٹوں کے لیے معذرت… ویڈیو میں اصلیت کا رنگ بھرنے کے لیے یہ ضروری تھیں… چند دنوں تک تمہیں کینیڈا بھیج دیا جاۓ گا… تب تک تمہیں چھپ کر رہنا ہو گا… ” راحم نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا جس پر وہ سر اثبات میں ہلانے لگا…
ان لوگوں نے اسے فرضی کہانی سناتے ہوۓ اسد شیرازی کے خلاف مدد کرنے کی درخواست کی تھی اور بدلے کی آگ میں اور رقم کے لالچ میں وہ ان کی مدد کے لیے تیار ہو گیا تھا…
بہت مدت سے ایسا ہے
کہ تم خاموش رهتے ھو
کوئی گہرا ہے غم شاید
جسے چپ چاپ سہتے ھو
یونہی چلتے ہوئے تنہا
کوئی غمگین سا نغمہ
تم اکثر گنگناتے ھو
دوران گفتگو یونہی
ملیں نظروں سے جب نظریں
تو باتیں بھول جاتے ھو
کسی گم سم سی حالت میں
یا پھر بارش کے موسم میں
فقط اتنا ہی کہتے ھو
اداسی بےوجہ سی ہے
بہت بوجھل طبیعت ہے
بھلا سچ کیوں نہیں کہتے
کسی کو یاد کرتے ھو…
وہ کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا…نظریں دور کھڑکی پر جمی تھیں… اور خیالوں میں کسی کا معصوم چہرہ بار بار ابھر رہا تھا… کسی کی مسکراہٹ سے بھرپور جھلمل کرتی آنکھیں اس کے خیالوں کی رو بھٹکا کر اسے دور اپنے ساتھ لے جاتیں… کسی اور جہاں میں… دور کہیں سے تہجد کی اذانیں سنائ دینے لگی تھیں… وہ چونکا… یونہی ساری ساری رات گزر جاتی تھی اسے جاگتے ہوۓ… نیندیں تو نہ جانے کب سے روٹھ چکی تھیں… اگر کبھی نیند کی دیوی مہربان ہو بھی جاتی تو گزرا ماضی بھیانک خواب کی صورت آنکھوں میں آن ٹھہرتا اور پھر دوبارہ اس کے لیے سو پانا محال ہو جاتا… آنکھوں میں ہلکی سی نمی لیے وہ مڑا… باتھ روم کی جانب جاتے ہوۓ الماری کے قریب رکا… کچھ سوچ کر الماری کھولی… اس کے سب سے چھوٹے دراز میں کسی قیمتی متاع کی طرح سنبھال کر رکھی وہ پائل نکالی… چاندی کی پانچ سے چھا سالہ بچی کی پائل… انگلیوں کی پوروں سے اسے چھو کر اس نے کچھ محسوس کرنا چاہا… اینجل کے لیے اپنے خالص جذبات… اس کی اور اپنی دوستی… اس کی میٹھی میٹھی باتیں…اس کا وہ آنکھیں بند کر کے مسکرانا… بات کرتے ہوۓ دونوں پونیاں جھلانا… اور پھر…اینجل کا اس سے بچھڑنا… دل میں ایک دم ٹیسیں سی اٹھنے لگیں… سر جھٹکتا وہ ہاتھ کھینچ گیا… چند لمحے بے بسی بھری نگاہوں سے اس پائل کو دیکھا… پھر ڈھیلے ہاتھوں سے الماری بند کر دی… گہری سانس بھرتا پیچھے ہوا… جیکٹ اتار کر سائیڈ پر رکھی… سیاہ ٹی شرٹ کے بازو فولڈ کیے اور وضو کرنے کی نیت سے باتھ روم کی جانب بڑھ گیا…بیسن کے سامنے کھڑے ہو کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوۓ اس کی نگاہیں سامنے لگے شیشے کی جانب اٹھیں… نظریں اپنی گہری سیاہ آنکھوں پر جمی تھیں…ہاتھ ساکت ہوۓ…خیالوں کی رو پھر بھٹکنے لگی… “تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں فرینڈ…” کسی کی معصوم آواز کان میں گونجی… چند لمحوں بعد وہ آنکھوں میں لگاۓ لینز اتار رہا تھا… سیاہ رنگ کے لینز اترنے کے بعد آنکھوں کا اصل رنگ واضح ہوا … گہری نیلی آنکھیں… جن کے گرد سیاہ ہاشیہ تھا جو اس کی آنکھوں کو منفرد سا بناتا… اس نے بے ساختہ اپنی آنکھوں کو چھوا… اینجل کو اس کی آنکھوں کا رنگ بہت پسند تھا… اور اس کی پسند سے تو راجا کو عشق تھا…لیکن وہ لینز استعمال کرتا تھا جس کے باعث آنکھوں کا رنگ سیاہ نظر آتا… اس کی زندگی میں سب سے بلند مقام پر فائز اس لڑکی کو اس کی نیلی آنکھیں پسند تھیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنی آنکھوں کا رنگ ساری دنیا سے چھپاتا تھا تو اس کی صرف ایک ہی وجہ تھی… اس کا باپ… ہاں بالکل… اس کا باپ… جس سے اسے شدید نفرت تھی… راجا نے نقوش تو ماں سے چراۓ تھے لیکن آنکھوں کا رنگ باپ سے… اس کے باپ کی آنکھیں بھی نیلی تھیں… گہری نیلی… اور وہ جب جب آئینے میں خود کو دیکھتا اپنی آنکھوں کے رنگ کے باعث اسے اپنا باپ یاد آتا… خود میں اپنے باپ کا عکس دکھائ دیتا… اور زندگی میں وہ واحد انسان تھا جسے وہ کبھی یاد نہیں کرنا چاہتا تھا… اسے اپنے حافظے سے مٹا دینا چاہتا تھا… اس پوری دنیا میں اسے سب سے زیادہ نفرت تھی تو اپنے باپ سے اور اس کے بعد اسد شیرازی سے… یہ دو لوگ تھے جنہوں نے اس کی زندگی کو تباہ کر دیا تھا… ایک کو وہ زندگی بھر دیکھنا نہ چاہتا تھا… اور دوسرے کی زندگی میں خود داخل ہوا تھا… اپنی مرضی سے… انتقام کی خاطر…
_________
پچھلے تین دن سے راجا ابیہا کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد اسد شیرازی کے بتاۓ گۓ ایک اڈے پر جا رہا تھا جہاں ناجائز اور غیر قانونی اسلحہ اور بارود رکھا گیا تھا…اور وہی اسلحہ اندرون ملک دہشتگردوں تک پہنچایا جاتا… اس اسلحے اور بارود سے ہی دہشتگرد پاکستان میں لوگوں کو اپنی وحشت اور نفرت کا نشانہ بناتے اور بم دھماکوں میں سینکڑوں لوگوں کی جانیں لیتے… افسوس کی بات تو یہ تھی ان دشمن ملک عناصر کے ساتھ اندرون ملک کے بڑے بڑے لوگ بھی ملے ہوۓ تھے فقط ذاتی مفاد اور پیسے کے لالچ میں… اگر تمام پاکستانی متحد ہو کر ان دشمنوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لیں تو کسی کی جرأت نہ ہو ہمارے وطن کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھنے کی… لیکن یہاں کے لوگ اپنے وطن سے وفا کہاں کرتے ہیں… فرقہ واریت اور آگے سے آگے بڑھنے کا جنون انہیں محب وطن سے خود غرض انسان بنا کر رکھ دیتا ہے… اسد شیرازی کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا تھا… جو دشمنوں کی خوشنودی کی خاطر وطن سے ہی غداری کرتے ہیں…
اسد شیرازی نے ان تین دنوں میں راجا کو کچھ مشکل کام سونپے تھے صرف اسے آزمانے کے لیے… اور اس کا بھروسہ جیتنے کی خاطر راجا نے وہ کام بخوبی سر انجام دیئے تھے جس پر اسد شیرازی کی نظر میں اس کا ایک مقام بن گیا تھا…
جس دن سے ابیہا کا اور اس کا جھگڑا ہوا تھا اس کے بعد سے ابیہا نے اس سے بات کرنا تک چھوڑ دیا تھا… صرف اس سے نہیں… وہ اب اپنے فرینڈز سے بھی بہت کم بات کرتی… گم صم سی سب میں ہوتے ہوۓ بھی سب سے لاتعلق رہتی… اس نے اب کلب جانا بھی چھوڑ دیا تھا… جینز کے ساتھ کرتے پہنتی… اب اسے شرٹس پہنے ہوۓ نہیں دیکھا تھا راجا نے… اور نہ ہی اس کے جسم کا کوئ حصہ بے حجاب دیکھا تھا… اس کی ڈریسنگ ابھی بھی ماڈرن تھی لیکن اب جسم اچھے سے ڈھکا ہوتا… اس بدلاؤ کی وجہ راجا کو اچھی طرح معلوم تھی… اور اس کی ناراضگی کا بھی بخوبی اندازہ تھا… وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس دن وہ زیادہ ہی سخت رویہ اختیار کر گیا تھا لیکن اگر وہ ایسا نہ کرتا تو شاید ابیہا اپنے منہ زور ہوتے جذبات پر قابو نہ پا سکتی… اور اس کے نرم لہجے کی بدولت اس سے امیدیں بھی وابستہ کر لیتی… اب کم از کم وہ اس سے مایوس ہو کر کسی اور کی زندگی میں شامل تو ہونے جا رہی تھی… اور راجا کو یقین تھا کہ بہت جلد وہ اسے بھول کر اپنی زندگی میں مگن ہو جاۓ گی…
“آپ ناراض ہیں مجھ سے…؟؟” راجا نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوۓ ایک نظر اس پر ڈالی تھی… جو بلیو جینز پر اسکن کرتا پہنے سر جھکاۓ بیٹھی تھی… کندھوں پر دوپٹا بھی موجود تھا اور بال کھلے تھے… اس کے پورا سراپہ حزن و ملال میں ڈوبا تھا… راجا کی بات پر لا تعلقی بھری نگاہ اس پر ڈالی… اسے قطعأ امید نہ تھی وہ اس سے یہ سوال بھی پوچھ سکتا ہے… ایک نظر اسے دیکھ کر وہ سامنے دیکھنے لگی… جواب دینا بھی گوارا نہ کیا…
“کچھ پوچھا ہے میں نے آپ سے…” راجا نے گاڑی کو موڑتے ہوۓ دوبارہ اپنا سوال دہرایا… نہ جانے کیوں وہ آج اس سے یہ پوچھ رہا تھا ورنہ اسے کیا فرق پڑتا اس کی ناراضگی سے… یا خوشی سے…
“ناراض وہ ہوتے ہیں جن کے پاس کوئ منانے والا ہو… میرے پاس نہ تو کوئ منانے والا ہے… اور نہ ہی ناراض ہونے کا حق… ” خود پر قابو پاتے پاتے بھی آخر میں اس کی آواز بھرا گئ تھی… رخ موڑ کر اس نے آنکھوں میں آئ نمی چھپانی چاہی… راجا خاموش سا ہو گیا اس کی بات پر…
“اگر میں سوری کہوں اس دن کے اپنے رویے پر تو… ؟؟ ” ابیہا سمجھ نہیں سکی کہ وہ معافی مانگ رہا ہے یا معافی کی اجازت… لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس کی معافی سے ابیہا کے دل کی حالت تو نہیں بدل سکتی تھی… جو اس پر بیتی اور جو بیت رہی تھی اس میں تو کوئ فرق نہ آتا…
” ضرورت نہیں… ” گال پر پھسلتے آنسو صاف کرتے ہوۓ اس نے بیگ پکڑا… بکس اٹھائیں اور دروازہ کھول کر گاڑی سے نکل گئ کہ اگر وہ مزید کوئ بات کرتا تو شاید وہ اپنا ضبط کھو بیٹھتی… راجا کی بے بس سی نظریں اس کی پشت پر ٹک گئیں… نہ چاہتے ہوۓ بھی وہ اک معصوم لڑکی کا دل دکھا گیا تھا…
شوخیاں چھوڑ دیں اس نے…
ہر رنگ میں اداسی گھلتی جا رہی ہے…
کوئ روٹھنے والے سے کہو…
آؤ دیکھ لو آ کر..
وہ پاگل سی لڑکی سدھرتی جا رہی ہے…
بالآخر منگنی کا دن بھی آ ہی گہا تھا… اور منگنی اسد شیرازی کی بیٹی کی تھی تو دھوم دھام بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی… اسد شیرازی کے بہت سے جاننے والے اس تقریب میں موجود تھے… جن میں بڑے اور نامور بزنس مین بھی شامل تھے… راجا بغور ان سب کو دیکھ رہا تھا… سیکیورٹی کا انتظام بھی انتہائ سخت رکھا گیا تھا… راجا سب گارڈز کو خاص ہدایات دے رہا تھا… گیٹ سے صرف ان لوگوں کو ہی گزرنے دیا جا رہا تھا جن کے پاس انٹری پاس تھا… اسد شیرازی کو خدشہ تھا کہ ان کے دشمن کہیں اس تقریب میں آ کر فنکشن کو تباہ نہ کر دیں… تبھی ہر چیز کا جائزہ وہ خود لے رہا تھا… راجا کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوا تھا… اسد شیرازی نے سیکیورٹی کا سارا انتظام راجا کے سپرد کر دیا تھا کہ اسے راجا پر پورا بھروسہ تھا…
للی کے پھولوں سے خوبصورتی سے سجے اسٹیج پر موجود کاؤچ پر ابیہا بیٹھی تھی اپنے منگیتر کے ساتھ… مختلف فوٹو گرافر ان سے پوز بنواتے تصاویر لینے میں مصروف تھے… ایک طرف ڈی جے کا انتظام بھی کیا گیا تھا… ابیہا لائٹ پنک کامدار میکسی میں بالوں کا جوڑا بناۓ لائٹ میک اپ میں نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی… راجا نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی… میک اپ بھی اس کے چہرے اور آنکھوں کی اداسی چھپا نہیں پایا تھا… اسے نہ جانے کیوں افسوس سا ہوا…
ابیہا کی بے ساختگی میں اٹھی نظر ڈنر سوٹ میں ملبوس راجا پر پڑی تھی… اس کی بھیگتی نگاہوں میں شکایت سی تھی…جسے پڑھتا ہوا راجا رخ موڑ گیا… اسے حلق خشک ہوتا ہوا محسوس ہوا قریب سے گزرتے ویٹر کی ٹرے سے پانی کا گلاس تھام کر وہ اسٹیج سے رخ موڑ کر ایک ٹیبل کے قریب پڑی کرسی پر بیٹھ گیا… ٹھیک اسی وقت ابیہا اور اس کا ہونے والا منگیتر منگنی کی رسم کے لیے اٹھ کھڑے ہوۓ… لڑکے نے اپنا بازو ابیہا کی کمر کے گرد حمائل کیا تھا… ابیہا نے جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا… اس کی چمکتی نظریں اور مسکراتے لب دیکھ کر ابیہا کو بھی زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجانی پڑی… ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کہ یہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ جاۓ…سب لوگ اسٹیج سے کچھ فاصلے پر دائرے کی صورت میں کھڑے تھے… راجا ان سب سے دور کرسی پر بیٹھا بے نیاز سا پانی پی رہا تھا…فوٹو گرافر جلدی جلدی تصاویر لیتے اس جوڑے کے خوشگوار لمحات کو قید کر رہے تھے… ان دونوں کے کھڑے ہوتے ہی منگنی کی رسم کے لیے اسد شیرازی بھی اسٹیج پر آۓ اور ابیہا کے پہلو میں کھڑے لڑکے کے فادر بھی… اسد شیرازی نے مائک تھام کر گلا کھنکارا… “لیڈیز اینڈ جینٹل مین… سب سے پہلے تو بہت شکریہ آپ سب کا…کہ آپ اس تقریب میں آۓ… اپنا قیمتی وقت نکال کر… ” اسد شیرازی کی آواز گونج رہی تھی… راجا نے بے زار ہوتے ہوۓ گلاس ٹیبل پر رکھا… اکتاہٹ زدہ سا اٹھ کر وہ وہاں سے جانے لگا…”جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں… آج میری بیٹی ابیہا کی منگنی ہے…فراز آفندی کے ساتھ… ” راجا نام سن کر چونکا… بے ساختہ اس کے قدم رکے تھے… “جی ہاں… آج کی یہ خوبصورت شام ڈبل سیلیبریشن کی شام ہے…کیونکہ آج کی شام نہ صرف میری بیٹی کی منگنی ہو رہی ہے… بلکہ میں اور میرا بہترین دوست مرزا جمال آفندی اپنی برسوں ہرانی دوستی کو رشتہ داری میں بدلنے جا رہے ہیں… ” تالیاں بجنے لگی تھیں وہاں… راجا کے قدم مڑنے سے انکاری ہو گۓ… دل میں شدت سے دعا جاگی تھی کہ جو اس نے سنا وہ غلط ہو… وہ مڑنے سے ڈر رہا تھا کہ اگر مڑا تو شاید پتھر میں تبدیل ہو جاۓ… لیکن مڑنا تو تھا ہی… اسٹیج پر نظر پڑتے ہی اس کی نگاہیں ساکت ہوئیں تھیں… لڑکے کے فادر کو دیکھ کر اس کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئ… دھڑ دھڑ دھڑ…ساتوں آسمان اس کے سر پر گرے تھے… اس کے حواس نے کام کرنا چھوڑ دیا… دل کی دھڑکن رکتی ہوئ سی محسوس ہوئ…. ہاتھوں کی لرزش واضح تھی… چہرہ کئ رنگ بدلنے لگا… سامنے اب ابیہا اور فراز آفندی ایک دوسرے کو رنگز پہنا رہے تھے… اس تقریب میں موجود ہر شخص خوش تھا…اس بات سے بے خبر کہ راجا کے دل پر کیسی قیامت گزری تھی… زندگی میں پہلی بار اس کے چہرے پر شاک, حیرت, بے چینی, اضطراب کے ملے جلے تاثرات ابھرے تھے… جنہیں چھپانے میں وہ ناکام رہا… “مرزا جمال آفندی…” اس کے لبوں سے سرسراتا ہوا سا نام نکلا… اس نے ساری زندگی جس شخص کا سامنا نہ ہونے کی دعائیں مانگی تھیں آج وہی شخص اس کے سامنے کھڑا تھا… ابیہا کے ہونے والے سسر کے طور پر… بمشکل خود کو سنبھالتا وہ لڑکھڑاتے ڈگمگاتے قدموں سے وہاں سے نکلا…
“راجا… ” اس سے پہلے کہ وہ ہال سے نکل کر بیرونی دروازے کی طرف جاتا اسد شیرازی نے اسے دیکھ کر مائیک میں اسے پکارا تھا… راجا جو وحشت زدہ سا ہو رہا تھا اور اس وقت اسے تنہائ کی شدت سے طلب تھی, اسد شیرازی کی بات سن کر رکا… آنکھیں سختی سے میچتے ہوۓ اس نے آنکھوں کی سرخ کو کم کرنا چاہا… مٹھیاں بھینچے, گہری سانسیں بھرتے وہ خود پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا…
“راجا… یہاں آؤ… اسٹیج پر… ” اسد شیرازی دوبارہ مخاطب ہوا… اس کی بات پر سب کی نگاہیں راجا کی طرف اٹھیں… فرار کی کوئ راہ نہ پاتے ہوۓ راجا مڑا… بھاری ہوتے قدموں کو بمشکل دھکیلتا ہوا وہ اسٹیج پر آیا… اسد شیرازی نے اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ کھڑا کیا…
Episode 17
مرزا جمال آفندی… یہ ہے راجا… میری بیٹی ابیہا کا گارڈ اور یوں سمجھ لو…اب سے یہ میرا دایاں ہاتھ بھی ہے… میری طاقت… اور راجا… یہ ہے مرزا جمال آفندی… میرا دوست….اور ابیہا کا ہونے والا سسر…” اسد شیرازی نے فخر سے راجا کا تعارف اپنے دوست سے کروایا… اور مرزا جمال آفندی کو بھی راجا سے متعارف کروایا…
“ہیلو… ” مرزا جمال آفندی نے سر ہلاتے ہوۓ راجا کو مخاطب کیا… جبکہ اس کا نام سن کر پرسوچ نظریں راجا پر ہی جمی تھیں… نہ جانے کیوں اس نام سے انہیں بہت کچھ یاد آیا تھا…
” نائس ٹو میٹ یو سر… ” راجا خود کو سنبھالنے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا تھا… تبھی دھیمی آواز میں کہہ کر سر ہلایا…سامنے کھڑا شخص اس کے چہرے سے دل میں جلتی آگ کا اندازہ نہ لگا پایا تھا…راجا نے چبھتی ہوئ سی ایک نگاہ مرزا جمال آفندی اور ساتھ کھڑے فراز آفندی پر ڈالی تھی… ” اسے دیکھ کر مجھے ایک پل کو اپنے بیٹے کا گمان ہوا…. میرے بیٹے کا نام بھی راجا تھا… لیکن اس کی آنکھیں گہری نیلی تھیں… ” مرزا جمال آفندی کا لہجہ حسرت زدہ سا ہوا تھا… فراز آفندی نے بھی عجیب سے انداز میں راجا کو دیکھا… مرزا جمال کی بات پر اسد شیرازی کچھ کہنے ہی والا تھا جب راجا کی سرد سی آواز ابھری…
” میرے ایک دوست کی شکل اوبامہ سے ملتی ہے… لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ اوبامہ ہے… یا اوبامہ کا بھائ… پھر میرا تو فقط نام ملتا ہے آپ کے بیٹے سے… ” اس کے لہجے میں موجود چبھن نے مرزا جمال کو چونکایا تھا…
“ایکسکیوزمی سر….مجھے سیکیورٹی کو دیکھنا ہے… ہیو فن… ” وہ اسد شیرازی سے کہہ کر فورأ اسٹیج سے اتر آیا تھا… تیز قدموں سے چلتے ہوۓ وہ بیرونی دروازے کی طرف جا رہا تھا کہ اس کے سینے میں جو طوفان برپا تھا اگر مزید کچھ دیر وہ مرزا جمال آفندی کے سامنے رہتا تو شاید اس کے دماغ کی کوئ نس ہی پھٹ جاتی…
________
مرزا جمال آفندی کو اسد شیرازی کی پارٹی میں اس کے دوست کی حیثیت سے دیکھ کر راجا کو دھچکا لگا تھا… دوسری بات جس سے وہ شاکڈ ہوا وہ تھا فراز آفندی کا مرزا جمال آفندی کے ہمراہ اس کے بیٹے کی حیثیت سے ہونا… وہ جگہ جو راجا کی تھی, وہ حق جو راجا کا تھا مرزا جمال آفندی کیسے کسی کو اتنی آسانی سے وہ حق دے سکتے تھے… فراز آفندی تو اس کے چچا کا بیٹا تھا نا… مرزا جمال آفندی کا بھتیجا…پھر وہ مرزا جمال آفندی کے بیٹے کی حیثیت سے ان کے ساتھ کیسے… ؟؟ راجا الجھ کر رہ گیا… اتنے عرصے بعد اپنے باپ کو سامنے دیکھ کر ایک پل کو اس کا بھی دل چاہا تھا کہ وہ اپنے باپ کے سینے سے جا لگے… کسی چھوٹے بچے کی طرح روتے ہوۓ انہیں خود پر بیتا ہر ظلم بتاۓ… زندگی نے اس کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا وہ سب کچھ بیان کرے ان سے… عرصے بعد کوئ اپنا سامنے آیا تھا اور اس کا دل چاہا تھا کہ ان کے کندھے پر سر رکھ کر اپنے سینے کے اندر موجزن درد کے دریا کو آنسوؤں کے رستے باہر نکال پھینکے… نہ جانے کتنا عرصہ ہوا تھا اسے روۓ ہوۓ…دل کا بوجھ ہلکا کیے ہوۓ…
لیکن یہ کیفیت فقط ایک لمحے کی تھی… اگلے ہی پل وہ خود پر وہی بے حسی کا خول چڑھا چکا تھا… انہیں ایک پل کے لیے بھی شک نہیں ہونے دیا کہ سامنے کھڑا وہ لڑکا جس کا نام سن کر انہیں اپنے بیٹے کا گمان گزرا تھا وہ واقعی ان کا ہی بیٹا تھا… شاید انہوں نے بھی راجا کی طرح یوں اس طرح اپنے بیٹے سے سامنا ہونے کا کبھی سوچا بھی نہ ہو گا… یا شاید…ان کے نزدیک راجا بھی دنیا کی ان گلیوں میں در در ٹھوکریں کھاتا موت کی آغوش میں جا چکا تھا… خیر جو بھی تھا… راجا نے طے کر لیا تھا کہ وہ آئندہ کبھی ان کے سامنے نہیں جاۓ گا…
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر راجا نے اپنے ایک دوست کے ذریعے ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں… اور جو کچھ معلوم ہوا وہ حیرت انگیز تھا… سب کچھ جان کر راجا کئ لمحوں تک کچھ بول ہی نہ پایا… دوست کی دی رپورٹ کے مطابق مرزا جمال آفندی بھی مافیا میں اور غیر قانونی دھندوں میں ایک جانا پہچانا نام تھا… اور ایک جیسے دھندے ہونے کے باعث ہی اسد شیرازی سے ان کی دوستی ہوئ تھی… راجا پر مزید انکشافات یہ ہوۓ کہ راجا کی ماں کے مرنے کے بعد اسد شیرازی نے مزید تین شادیاں کیں… لیکن تینوں بیویوں میں سے کسی ایک سے بھی انہیں اولاد عطا نہیں کی گئ… شاید قدرت نے ان سے انتقام لیا تھا پہلی دو اولادوں کی قدر نہ کرنے کا…
ان کے چچاؤں نے مرزا جمال آفندی سے فقط اتنا ہی کہا تھا کہ راجا حد سے زیادہ بدتمیز ہو چکا تھا اور ان کے لاڈ پیار کے باوجود ان سے جھگڑتا… اور یونہی ایک دن وہ اپنی بہن کو لے کر گھر سے بھاگ گیا… انہیں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی گئ لیکن وہ کہیں نہ ملے… مرزا جمال آفندی کو تاؤ تو آیا ان کی اس لاپرواہی پر… گھر والوں سے ان کا جھگڑا بھی ہوا اس بات پر… کہ وہ اولاد تھی ان کی… خود اپنے طور پر بھی راجا اور گڈی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ان کے نہ ملنے پر وہ مایوس سے واپس دبئ لوٹ گۓ… ان کے سر پر زیادہ سے زیادہ پیسہ جمع کرنے کا جنون سوار تھا…وہیں غیر قانونی دھندوں میں پڑ کر وہ آگے سے آگے بڑھتے گۓ… حلال اور حرام کی تمیز بھول گئ… بینک اکاؤنٹس بھرنے لگے… لیکن اللّہ نے ان سے باپ بننے کا اعزاز چھین لیا… بہت علاج کروانے کے بعد بھی جب وہ باپ نہ بن سکے تو پاکستان بات کر کے اپنے بھتیجے کو بھی وہیں بلا لیا جو ان کے کاروبار میں مدد کر سکے… ان کی وجہ سے ہی پاکستان میں باقی خاندان کے حالات بھی سدھر گۓ تھے… سب عیش کر رہے تھے ان کی دولت کے بل بوتے پر اسی لیے چھوٹے بھائ نے بلا چوں چراں فراز انہیں سونپ دیا… مرزا جمال نے فراز کو سب کے سامنے اپنے بیٹے کی حیثیت سے متعارف کروایا… اور فراز جو پہلے ہی غنڈہ گردی اور مار پیٹ میں پاکستان کئ بار جیل جا چکا تھا اس کے لیے مافیا میں رہ کر پیسہ کمانا اور ناجائز طور پر لوگوں کا خون بہانا قطعأ مشکل کام ثابت نہ ہوا… دبئ میں سخت سیکیورٹی ہونے کے باوجود وہ اپنے غیر قانونی کام سر انجام دے رہے تھے… مرزا جمال نے فراز کو اس کام کے مزید داؤ پیچ بھی سکھا دئیے اور یوں ان کا کام ترقی کرنے لگا… حرام مال آخر کتنے عرصے تک انہیں خوش رکھتا… فراز آفندی کی شادی مرزا جمال آفندی نے دبئ میں ہی اپنے ایک جاننے والے کی بیٹی سے طے کر دی… اسی سلسلے میں پاکستان سے بھی سب کو بلایا گیا… مرزا جمال آفندی نے ان کے ٹکٹس وغیرہ کا انتظام بھی خود کیا… اور فراز آفندی کی شادی سے دو دن قبل جب وہ سب پاکستان سے دبئ جا رہے تھے پلین کریش ہونے کے باعث سب کے سب جاں بحق ہو گۓ… اللہ کا عذاب اترا تھا شاید ان پر کہ اپنے کیے کی سزا دنیا میں ہی مل چکی تھی…
ان سب نے راجا اور گڈی کے ساتھ بہت برا سلوک روا رکھا تھا لیکن اس کے باوجود ان کی موت کی خبر سن کر راجا کا دل سخت اذیت سے دو چار ہوا تھا… ان دونوں کے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا لیکن راجا نے آج تک انہیں کبھی بد دعا نہ دی تھی… اس کے باوجود اللّہ نے انصاف کیا تھا ان کے ساتھ… بے شک وہ ہر چیز کا پورا پورا بدلہ دینے والا ہے… اب راجا کو آنے والے دنوں کے لیے اپنی حکمت عملی طے کرنی تھی…
“اینجل… میں تمہارے لیے کچھ لے کر آیا ہوں… ” وہ معمول کی طرح اسکول سے چھٹی کے بعد اس چھوٹی سی دیوار پر بیٹھے تھے…. آج پہلی بار راجا کے پاس اتنے پیسے آۓ تھے کہ وہ کچھ خرید سکتا اپنی محنت کی کمائ سے… اور اس نے ان پیسوں سے اینجل کے لیے گفٹ خریدا تھا…
“کیا کیا… جلدی بتاؤ… ” اینجل توقع کے عین مطابق پر جوش سی ہوئ… تبھی اشتیاق سے پوچھنے لگی… “پہلے آنکھیں بند کرو… ” راجا نے اپنے نۓ سوٹ کی سائیڈ کی جیب پر ہاتھ رکھ کر کسی چیز کی موجودگی محسوس کی… اینجل کا دیا سوٹ وہ آج پہن کر آیا تھا… اس نے سوٹ لیتے ہوۓ ہی یہ طے کیا تھا کہ اسے اس دن پہنے گا جب وہ اینجل کے لیے کچھ خرید سکے… اس کے کہنے پر اینجل جھٹ سے آنکھیں بند کر گئ… راجا نے جیب سے کچھ برآمد کیا… کاغذ میں کچھ لپٹا تھا… راجا نے کاغذ کھولا… ” اینجل… آنکھیں کھولو…” ہتھیلی اینجل کے سامنے پھیلاتے ہوۓ کہا… اینجل نے آنکھیں کھولیں… سامنے راجا کی پھیلی ہتھیلی پر ایک کاغذ پڑا تھا اور اس کاغذ میں اینجل کے ہاتھ کے سائز کی سرخ کانچ کی چوڑیاں…. “واؤ…” اینجل کی آنکھوں میں ستائش ابھری… راجا جو پہلے کنفیوز سا تھا یہ سوچ کر کہ اینجل کو کبھی چوڑیاں پہنے ہوۓ نہیں دیکھا تھا…نہ جانے اسے یہ تحفہ پسند بھی آۓ گا یا نہیں… اس کے منہ سے ستائشی جملہ سن کر خوش ہو گیا… اینجل نے جلدی سے وہ چوڑیاں پکڑیں… اور انہیں پہننے لگی… ” لاؤ میں پہنا دوں… ” اسے ایک ہاتھ سے زور آزمائ کرتے دیکھ کر راجا نے چوڑیاں تھامیں اور اسے پہنا دیں… “بہت پیاری ہیں… تھینک یو…” اینجل چوڑیوں پر ہاتھ پھیر رہی تھی… اس کے لہجے میں خوشی محسوس کر کے راجا کی آنکھیں چمک اٹھیں… ” میں نا…گھر جا کے یہ چوڑیاں اتار دوں گی… ” اینجل نے سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوۓ کہا… “کیوں…؟؟”راجا جو خوشی سے اسے دیکھ رہا تھا اس کی آنکھوں کی روشنی ماند پڑنے لگی… کہ شاید اینجل کو چوڑیاں پسند نہیں آئیں…. “مجھے جو چیزیں اچھی لگتی ہیں انہیں میں بہت سنبھال کر رکھتی ہوں… اور یہ چوڑیاں بھی مجھے بہت پسند آئیں… میرے بیسٹ فرینڈ نے دی ہیں نا اس لیے… اگر میں نے پہنے رکھیں تو یہ ٹوٹ جائیں گی نا… اس لیے میں انہیں اتار کر سنبھال کے رکھ لوں گی… تا کہ جب بھی انہیں دیکھوں مجھے تمہاری یاد آۓ… ” وہ معصومیت سے بھرپور لہجے میں کہہ رہی تھی… راجا کو حیرت ہوئ اس کی عجیب منطق پر… “لیکن چیزیں استعمال کرنے کے لیے ہوتی ہیں… میں یہ تمہارے پہننے کے لیے لایا ہوں… ” دھیمے لہجے میں کہا تھا… ” چیزیں کسی کی یاد بھی تو ہوتی ہیں نا… میں اپنی مما اور ڈیڈ کے دئیے گفٹس بھی سنبھال کر رکھتی ہوں… ” وہ مزے سے پونیاں جھلاتی بولی تھی… “جب میں “اتنی” بڑی ہو جاؤں گی نا… تب میں تمہیں یہ چوڑیاں دکھاؤں گی… اور بتاؤں گی کہ میں نے تمہیں اب تک یاد رکھا ہوا ہے… ” لفظ اتنی پر زور دیتے ہوۓ وہ کہہ رہی تھی… راجا اس کے انداز پر مسکرا دیا… “لیکن… ” وہ ایک دم تھوڑی پریشان ہوئ… راجا اس کی طرف متوجہ ہوا… “کیا ہوا…؟؟” اس کے چہرے پر پریشانی دیکھ کر راجا الجھا… “تمہارے پاس تو میری کوئ بھی چیز نہیں جسے تم سنبھال کر رکھو… بیسٹ فرینڈز کے پاس ایک دوسرے کی کوئ نشانی تو ہونی چاہیے… ” وہ تھوڑی تلے شہادت کی انگلی رکھے کچھ سوچ رہی تھی… پھر ایک دم اس کی آنکھوں میں چمک ابھری… جلدی سے دیوار سے نیچے اتری… اپنے پیروں میں جھکی… ایک پاؤں کی جراب نیچے کی… راجا حیران سا اس کی کاروائ ملاحظہ کر رہا تھا… جو اب اپنے ٹخنے پر بندھی پائل کھول رہی تھی…چاندی کی پائل… وہ چند لمحوں بعد سیدھی ہوئ… چہرہ تمتما رہا تھا… ” یہ لو… یہ میری پائل… مجھے بہت پسند ہے… لیکن اپنا بیسٹ فرینڈ اس پائل سے بھی عزیز ہے… “پائل راجا کے ہاتھ پر رکھ کر وہ اس کے برابر آ بیٹھی… “لیکن… میں اس پائل کا کیا کروں گا… ؟؟” راجا ابھی تک اس کا مقصد نہیں سمجھ پایا تھا… ” تم نا… اسے سنبھال کر رکھنا… جیسے میں یہ چوڑیاں سنبھال کر رکھوں گی… پھر جب ہم دونوں بڑے ہو جائیں گے نا… تب ایک دوسرے کو یہ دونوں چیزیں دکھائیں گے… کہ ہم نے ایک دوسرے کو یاد رکھا… اور اس سے یہ ثابت ہو گا کہ ہم پکے والے دوست ہیں… گمانا مت اسے اچھا… ” وہ آنکھیں پٹپٹاتی اسے کہہ رہی تھی… راجا نے ہاتھ میں پکڑی اس پائل کو دیکھا… “ہماری دوستی کی نشانی… ” بے ساختہ لبوں سے برآمد ہوا تھا…
وہ جب حال میں واپس آیا تو رات کے دوسرے پہر ایک کافی شاپ میں ٹیبل پر تنہا بیٹھا تھا… ہاتھ میں وہی چاندی کی پائل پکڑے نہ جانے کب سے وہ ماضی کے خیالوں میں بھٹک رہا تھا…
آج عرصے بعد ابیہا نے الماری کے اندرونی مقفل دراز کو کھولا تھا… اور اس کی نظر کانچ کی ان سرخ چوڑیوں پر پڑی تھی… عجیب سے احساسات سے دو چار ہوتے ہوۓ اس نے وہ چوڑیاں ہاتھ میں اٹھائیں… کچھ چوڑیاں ٹوٹی ہوئ تھیں لیکن ان کے ٹکڑے بھی اس نے اب تک سنبھال کر رکھے تھے… اس شخص سے شدید نفرت ہونے کے باوجود وہ آج تک اس کی اور اپنی دوستی کی اس نشانی کو پھینک نہ سکی تھی… اس نے اپنی طرف سے اس سے اپنا ہر رشتہ ختم کر دیا تھا لیکن دل کا رشتہ ختم نہ کر پائ تھی… دل کی گہرائیوں سے اس سے دوستی کی تھی… اور یوں کہہ دینے سے تو دوستی ختم نہیں ہو جاتی نا… اس کے پاس ان چوڑیوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ آج بھی وہ اپنے اس بیسٹ فرینڈ کو یاد کرتی تھی… زندگی میں پہلی بار کسی سے دوستی کی تھی… بھروسہ کیا تھا کسی پر… اور اس دوست نے ہی ایسا زخم دیا تھا کہ وہ اپنی آنے والی زندگی میں کبھی کسی کو اپنا بہترین دوست نہ بنا سکی… اس کے بھروسے, اس کے اعتماد کی دھجیاں اڑا دی گئ تھیں کہ وہ چاہ کر بھی کبھی کسی اور پر بھروسہ نہ کر سکی… آنکھوں میں آتی نمی نے اس کی بصارت کو دھندلا دیا تھا…پرانی یادوں میں کھوۓ ہوۓ وہ سختی سے مٹھی بند کر گئ…. کانچ کی دو چوڑیاں چھن سے ٹوٹی تھیں… شاید چوڑی کا ایک حصہ اس کی ہتھیلی میں لگا تھا… “آہ…” کراہتے ہوۓ اس نے مٹھی کھولی… ہتھیلی کے درمیان میں گہرا کٹ لگا تھا… جس سے اب خون بہہ رہا تھا…اس نے غصے سے ان چوڑیوں کو واپس دراز میں پٹخا اور تیزی سے الماری بند کرتی اس سے کمر ٹکا کر آنکھیں بند کر گئ… چہرے پر تکلیف کے آثار تھے… نہ جانے یہ تکلیف حالیہ زخم کی تھی یا پرانی یادوں کی… “کیوں کیا تم نے ایسا… کیوں مارا میری مما اور ڈیڈ کو… کیا بگاڑا تھا ہم نے تمہارا… ؟” روتے ہوۓ وہ تصور میں کسی سے مخاطب تھی… لیکن وہاں جواب دینے والا کوئ نہ تھا…
سنو ___ ہم بیٹھ کر تنہا کسی ویران گوشے میں ..
ہوا کو دکھ سنائیں گے تجھے ہم بھول جائیں گے…!!
“آپ کے ہاتھ پر کیا ہوا… ؟؟” گاڑی ڈرائیو کرتے ہوۓ راجا نے اس کے ہاتھ کو دیکھا تو بے ساختہ پوچھ بیٹھا… اس کی بات پر ابیہا کی نگاہ بھی اپنے ہاتھ تک گئ… جس پر بینڈیج کی گئ تھی…”کچھ نہیں… ” مختصر کہہ کر وہ رخ موڑ گئ تھی… “تو پھر یہ زخم کیسا…؟؟” راجا نے تفصیلی نگاہ اس پر ڈالی… روئ روئ سی آنکھیں تھیں اس کی… اور ستا ہوا چہرہ… ” تمہیں میرے یا میرے زخموں کے بارے میں فکر مند ہونے کی کوئ ضرورت نہیں ہے… یہ تو ویسے بھی ایک چھوٹا سا زخم ہے… اس سے کہیں زیادہ بڑے زخم میری روح پر لگے ہیں…جن کی اذیت ہر پل تڑپاتی ہے… لیکن مجھے اپنے ان زخموں اور تکلیفوں پر کسی کی ہمدردی نہیں چاہیے… ” سخت لہجے میں کہتے ہوۓ وہ اپنے اندر پھیلے انتشار کو راجا پر واضح کر گئ تھی… راجا بھی لب بھینچ کر خاموش ہو گیا… “مجھے مارکیٹ جانا ہے… ” چند لمحوں بعد ابیہا خود ہی اس سے مخاطب ہوئ… سر ہلاتے ہوۓ راجا نے گاڑی کا رخ مارکیٹ کی جانب کیا…
“جس سے آپ شادی کرنے جا رہی ہیں وہ اچھا آدمی نہیں ہے… ” ابیہا اپنے لیے چند ڈریسز دیکھ رہی تھی جب راجا دوبارہ مخاطب ہوا… ابیہا نے نظر گھما کر اسے دیکھا… پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا…”تو…؟؟” ابیہا رخ موڑ کر پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئ… “تو یہ کہ وہ آپ کے قابل نہیں ہے… وہ پہلے ہی دو شادیاں کر چکا ہے اور ان دونوں بیویوں کا قاتل بھی وہ خود ہے… اس سے شادی کر کے آپ کی زندگی تباہ… ” راجا سنجیدہ لہجے میں کچھ کہہ رہا تھا جب ابیہا ہاتھ میں پکڑا ڈریس ایک جانب پٹخ کر طیش کے عالم میں اس کی طرف مڑی… “میری زندگی تباہ ہوتی ہے یا آباد اس سے تمہیں کوئ فرق نہیں پڑنا چاہیے… کون کس کے قابل ہے کس کے قابل نہیں اس کا فیصلہ کرنے والے تم کون ہو… ؟؟ تم نے کہا میں تمہارے قابل نہیں… میں نے مان لیا… دوبارہ تم سے اس بات کا ذکر کیا…؟؟ نہیں نا… اب میں کس سے شادی کر رہی ہوں… کسے اپنا ہمسفر بنانے جا رہی ہوں یہ میرا پرسنل میٹر ہے… تمہیں کس نے اجازت دی کہ تم میرے ذاتی معاملات میں مداخلت کرو… جیسے تم اپنے ذاتی مسائل کسی سے ڈسکس نہیں کر سکتے ویسے ہی یہ میرے بھی ذاتی مسئلے ہیں… بہتر ہے تم میری ذاتی زندگی سے دور رہو… یہ مت بھولو کہ تم میرے گارڈ ہو… صرف ایک گارڈ… ” انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی وہ چبا چبا کر کہہ رہی تھی… اردگرد کے لوگ ان کی طرف متوجہ ہو رہے تھے… راجا کا چہرہ سرخ پڑنے لگا… وہ اپنی بات کہہ کر مڑی… اور تیزی سے گلاس ڈور دھکیلتی باہر نکل گئ… اس کی حالت منتشر ہو رہی تھی… آنکھوں سے آنسو بہتے گال بھگونے لگے… لوگوں کی اس بھیڑکو چیرتی وہ ہاتھ باندھ کر سر جھکاۓ روتی ہوۓ چلتی جا رہی تھی… کہاں… اس بات سے خود بھی بے خبر تھی… اس وقت وہ کہیں دور جانا چاہتی تھی جہاں وہ اکیلی ہو… تنہا… جہاں وہ کھل کر رو سکے… اپنے دل کا غبار نکال سکے…
“تم سے محبت تو بے تحاشہ کی تھی…
مگر کیا کریں کہ اب معاملہ انا کا ہے…
“
“واؤ… آج ڈیڈ مجھے لینے آۓ ہیں… ” اینجل سامنے آ کر رکتی گاڑی کو دیکھ کر چھلانگ مار کر دیوار سے اتری… پھر چمکتی آنکھوں سے راجا کو دیکھا… “تم ملو گے میرے ڈیڈ سے… ؟؟” راجا حیران سا کبھی اسے دیکھتا اور کبھی سامنے گاڑی سے اترتے تھری پیس سوٹ میں ملبوس آدمی کو… نہ جانے کیوں اس کا دل اداس سا ہوا… یہ ڈر دل میں اپنے پنجے گاڑ گیا کہ باقی سب لوگوں کی طرح شاید اینجل کے ڈیڈ بھی اس سے نفرت کریں گے… اسے دھتکاریں گے… نفرت سے اسے اپنی بیٹی سے الگ کریں گے اور پھر آئندہ کبھی اینجل سے ملنے نہیں دیں گے… اس کے چہرے پر پھیلا خوف واضح تھا… اینجل کے ڈیڈ اب ان کے قریب آ چکے تھے… “ڈیڈ… ” اینجل ان کی طرف بڑی… مراد بخاری نے اسے گود میں اٹھایا… “کیسی ہے میری لٹل پرنسس…؟؟” انہوں نے اینجل کی پیشانی چومی تھی… راجا حسرت زدہ نگاہوں سے انہیں دیکھے گیا… آج تک کبھی اس کے باپ نے اسے یا اس کی بہن گڈی کو یوں گود میں اٹھا کر پیار نہ کیا تھا… کتنی خوش نصیب تھی نہ اینجل اس معاملے میں… اس کی آنکھوں میں نمی پھیلنے لگی… تبھی نگاہیں جھکا گیا… مراد بخاری نے ایک نظر سامنے بیٹھے لڑکے پر ڈالی… اس کی آنکھوں میں نمی وہ دیکھ چکے تھے… تبھی اینجل کو گود سے اتارا…
