Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04
ابتہاج اردگرد دیکھتا ہوا چوکنے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا… اس کی ایک لمحے کی غفلت بھی اسے موت کے منہ میں دھکیل سکتی تھی… اب رام ور اس کے ساتھیوں کا علاقہ شروع ہو چکا تھا اور وہ جانتا تھا یہاں قدم قدم پر اس کے ساتھیوں کا پہرہ موجود ہو گا… کافی آگے جا کر بھی جب کوئ نہ ملا تو وہ رکا… گہرا سانس بھرا… ہاتھ کان تک لے جا کر دھیمے لہجے میں کچھ کہنے لگا… اس کے باقی چاروں ساتھی بھی اس کی طرح رام کے پہریداروں کو مار کر اس کی رہائش گاہ کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے… سب نے اسے اپنی سلامتی کی خبر دی… ان سے بات ختم کر کے وہ آگے جانے ہی لگا تھا جب ایک جانب کھٹکا سا ہوا… وہ ایک پل کا توقف کیے بغیر گھوما… ” اے… اسٹاپ… ” اس کے مڑنے سے قبل ہی وہ جو کوئ بھی تھا اس پر گن تان چکا تھا… ابتہاج وہیں رک گیا… ” پٹ یور گن ڈاؤن… آئ سیڈ پٹ یور گن ڈاؤن ناؤ… ” وہ سفید چمڑی والا چینختے ہوۓ اسے پسٹل نیچے رکھنے کو کہہ رہا تھا… ابتہاج اس پر سے نظریں ہٹاۓ بغیر نیچے جھکا اور اپنا پسٹل نیچے رکھ دیا… ” ہاتھ اوپر کرو…” اس بار سامنے موجود شخص اردو میں ہی بولا تھا… ابتہاج نے کندھے اچکا کر اسے دیکھا اور ہاتھ اٹھا دئیے… اس کی آنکھوں میں کسی قسم کے خوف کی جھلک نہ پر کر مقابل شاید ڈر گیا تھا… “موو…” اس نے ابتہاج کو ایک جانب چلنے کا اشارہ کیا… ابتہاج سر جھکاۓ اس طرف بڑھ گیا… اس آدمی نے اس کی پشت پر ابھی تک بندوق تان رکھی تھی… دو قدم چلنے کے بعد ابتہاج ایکدم گھوما… اس کی ٹانگ دشمن کے اس ہاتھ پر لگی جس میں گن موجود تھی… اور گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری… وہ ایک دم بوکھلا کر کوئ حفاظتی تدبیر کرنے ہی والا تھا لیکن اسےسنبھلنے کا موقع دئیے بغیر ابتہاج نے ایک ہی چھلانگ میں اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ ختم کیا اور اپنی جیکٹ سے لگا خنجر نکال کر اس کی گردن پر وار کیا….گردن سے خون کا فوارہ سا پھوٹا… اور چند لمحوں بعد وہ خود بھی زمین بوس ہو گیا… اسے نفرت سے دیکھتے ہوۓ ابتہاج نے خنجر پر لگا خون اس کے کپڑوں سے صاف کیا اور اپنا پسٹل اٹھا کر ایک سمت بڑھ گیا….
وہ اس وقت اس اونچی اور عالیشان عمارت کے سامنے کھڑا تھا… جو بقول اسد شیرازی ان کا آفس تھا… اور اس پرشکوہ عمارت سے ہی اسد شیرازی کی امارت کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا… سوٹڈ بوٹڈ کپڑوں میں ملبوس لوگ اند باہر آ جا رہے تھے… اس نے ہاتھ میں پکڑے کارڈ پر ایک نظر دوڑا کر دوبارہ عمارت کو دیکھا… ” مسٹر اسد شیرازی…” عجیب سے لہجے میں بڑبڑایا اور مین ڈور کی جانب بڑھ گیا… اس کا حلیہ اور پرانے گھسے ہوۓ کپڑے دیکھ کر سیکیورٹی گارڈ نے اسے روکا… “کہاں جا رہے ہیں آپ… کس سے ملنا ہے آپ کو…؟؟؟” پہلے اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لینے کے بعد سخت لہجے میں دریافت کیا گیا… اس نے ناگواری بھرے انداز میں تیکھے چتونوں سے اس گارڈ کو دیکھا… “اسد شیرازی سے ملنا ہے… ” بیزار سے لہجے میں کہا گیا تھا… گارڈ منہ کھولے اسے دیکھنے لگا… اتنے بڑے بزنس ٹائیکون کو وہ اسد شیرازی کہہ کر مخاطب کر رہا تھا… لہجے میں کوئ عزت و احترام نہیں… کوئ سر یا مسٹر وغیرہ کا سابقہ نہیں… وہ تو ایسے بات کر رہا تھا جیسے اسد شیرازی کا لنگوٹیا یار ہو… جبکہ اسد شیرازی اور سامنے کھڑے نوجوان کی عمروں میں بھی خاصا فرق تھا…
” آپ کی تعریف…؟ اور کس سلسلے میں ملنا ہے سر سے…؟” منہ بگاڑ کر دریافت کیا گیا تھا…
راجا نے ضبط سے لب بھینچے… اور ایک اگلے لمحے ایک کرارا سا تھپڑ گارڈ کے چہرے کی زینت بنا… ” ابے بھوتنی کے… کہا نا… اسد شیرازی سے ملنا ہے تو بس ان سے ملنا ہے… انویسٹی گیشن کس خوشی میں کر رہا ہے تو… مجھ سے میری ہی تعریف پوچھ رہا ہے… پاگل…” کہہ کر وہ اندر کی جانب بڑھ گیا… گارڈ ہکا بکا اس کا ردعمل دیکھتا رہ گیا… جب ہوش آیا تو اس کے پیچھے بھاگا… “اے اے رکو… بات سنو… ” آتے جاتے لوگ حیران نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے… راجا گہری سانس بھرتا ہوا مڑا… ” اب کیا ہے…؟؟” خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورا… گارڈ ایک ہاتھ گال پر رکھے تھوک نگلتے ہوۓ اس عجیب و غریب بندے کو دیکھنے لگا… ” ابے مراقبے میں چلا گیا ہے کیا… ہوش میں آۓ گا یا دوں ایک اور چماٹ…؟؟” دانت پیستے ہوۓ راجا نے اسے کندھے سے ہلایا… گارڈ چونکا… ” وہ… تم… مم…میرا مطلب… آپ…ایسے نہیں جا سکتے اندر… پلیز…میری نوکری کا سوال ہے… ” گارڈ چور نظروں سے اردگرد دیکھتے ہوۓ سہمے سے انداز میں اسے کہہ رہا تھا… ” تو… ایسے نہیں جا سکتا مطلب…؟؟؟ اب کیا آسمان سے چھلانگ لگا کر آؤں… ” راجا جھنجھلا سا گیا… تبھی ایک جانب سے ایک اور گارڈ چلا آیا… ” کیا مسئلہ ہے رشید… تم اتنے گھبراۓ ہوۓ کیوں ہو… اور یہ آدمی کون ہے…؟” نۓ آنے والے آدمی نے بھی پہلے راجا کو سر سے پیر تک گھورنا اپنا فرض سمجھا تھا شاید… ” افتخار…یہ…وہ… ” رشید کو تو بولنا ہی محال لگنے لگا تھا… ” ارے کیا یہ یہ…وہ وہ لگا رکھی ہے… دیکھو بھائ صاحب… پانچ دن پہلے آپ کے باس یعنی اسد شیرازی کی مجھ سے ملاقات ہوئ تھی… یہ دیکھو… یہ کارڈ دے کر انہوں نے مجھے اس آفس آنے کا کہا تھا… آج میں آیا ہوں تو یہ مجھے میرے حلیے اور لباس کی وجہ سے اندر نہیں آنے دے رہا… الٹا مجھے دروازے پر روک کر سوال و جواب کرنے لگا…. مہمان ہوں میں اسد شیرازی کا… اب بھلا بتاؤ… مہمانوں کے ساتھ کوئ ایسا سلوک کرتا ہے کیا…؟؟؟” راجا نے ایک ہی سانس میں اپنی آمد کا مقصد اور خود کے ساتھ کیا جانے والا سلوک بیان کیا… افتخار نے ایک بار پھر سر سے پیر تک اس “مہمان ” کا جائزہ لیا جو شکل سے شہزادہ دکھتا تھا مگر اپنے لباس اور انداز سے مہمان کم اور سڑک چھاپ غنڈہ زیادہ لگ رہا تھا… “ہممم… رشید… تم جاؤ اپنی جگہ پر… اور تم… ادھر آؤ میرے ساتھ… ” راجا کو مخاطب کرتا وہ ایک سمت چل دیا… راجا بھی سر ہلاتا اس کی تقلید میں آگے بڑھ گیا… وہ اسے ریسیپشن تک لے گیا… اور ایک جانب رکھے صوفہ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا… پھر ریسیپشنسٹ کی جانب بڑھ گیا… ” مس فاریہ… سر اس وقت کہاں ہیں…؟؟؟” وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگے… راجا غور سے ریسیپشنسٹ کو دیکھنے لگا… اس کے یوں دیکھنے پر ریسیپشنسٹ نے ناگواری سے اسے گھورا… اور پھر سے افتخار کی جانب متوجہ ہو گئ… ” اچھا ٹھیک ہے… جیسے ہی سر فارغ ہوں انہیں انفارم کرنا کہ ایک شخص…” افتخار اپنی بات روک کر راجا کی جانب دیکھنے لگا… “کیا نام بتایا تھا تم نے اپنا…؟ ” سوالیہ نگاہیں راجا پر ٹکی تھیں… “پہلے کب بتایا میں نے نام اپنا… راجا نام ہے میرا…” منہ کے زاویے بگاڑ کر جواب دیا گیا تھا… افتخار سر ہلاتا مڑا… “ہاں… سر سے کہنا کہ راجا نام کا شخص آیا ہے ان سے ملنے… غالباً چار دن پہلے اس کی ملاقات ہوئ تھی سر سے…” وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا جب پیچھے سے راجا فورأ بول اٹھا…” چار نہیں پانچ…” افتخار جھنجھلا سا گیا… “ارے تم تو چپ کرو یار… چار ہوں یا پانچ… ہاں فاریہ… ان سے پوچھ لینا اگر تو وہ اسے جانتے ہوں گے تو اسے بلا لیں گے اندر… ورنہ چلتا کرنا اسے یہاں سے… اور ہاں… تھوڑا پاگل سا شخص ہے… دھیان رکھنا یہاں سے ہلے نا…” تیز تیز کہتا ہوا وہ ایک جانب بڑھ گیا جبکہ ریسیپشنسٹ سر ہلا کر اپنے کام میں مصروف ہو گئ…
وہ لوگ دشمنوں کا سینہ چاک کرتے اب رام کی رہائش گاہ تک پہنچ چکے تھے… وہ ایک جھونپڑی سی تھی…اور شاید وہیں اس جھونپڑی میں ہی کہیں رام موجود تھا… بندوقیں ہاتھوں میں تھامے وہ لوگ دھیمے قدموں سے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے… کیپٹن ابتہاج سب سے آگے تھا اور اس کے پیچھے باقی چاروں ساتھی… جھونپڑی کے دروازے پر موجود پہریداروں کو وہ پہلے ہی نیست و نابود کر چکے تھے… جھونپڑی میں داخل ہوۓ تو یہ دیکھ کر حیران ہو گۓ کہ وہ بالکل خالی تھی… ایک بار خیال آیا کہ کہیں رام کو ان کی آنے کی خبر تو نہیں ہو گئ… ہو سکتا ہے وہ اور اس کے ساتھی بھاگ گۓ ہوں… متلاشی نظروں سے اردگرد دیکھتے وہ واپس مڑنے کو ہی تھے جب کیپٹن ابتہاج ایک دم چونکا… نیچے سے کچھ کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھیں… تو یقیناً نیچے کوئ موجود تھا… ابتہاج نے آوازوں سے اندازہ لگاتے ہوۓ ایک جانب لگاۓ گۓ بستر کو اٹھایا… وہاں ایک دروازہ نظر آ رہا تھا…باقی چاروں بھی اس کی جانب متوجہ ہوتے ہوۓ دروازہ دیکھ چکے تھے اور محتاط نظر آنے لگے تھے… ابتہاج نے اردگرد دیکھا جیسے کچھ تلاش کر رہا ہو… ایک جانب لوہے کا ایک ڈبہ سا رکھا تھا… ابتہاج نے پاؤں سے ڈبے کو ٹھوکر ماری… وہ لڑھکتا ہوا دور جا گرا… ساتھ ہی نیچے سے دھیمی سی آوازیں آنے لگیں… یقیناً ڈبے کی آواز ان تک پہنچ گئ تھی… کچھ لمحوں بعد کسی کے بھاری بوٹوں کی سیڑھیاں چڑھنے کی آواز سنائ دی… وہ پانچوں جلدی سے جھونپڑی سے نکل گۓ… دروازہ کھول کر کوئ باہر آیا تھا… “کون ہے…؟؟” سخت آواز میں پوچھا گیا تھا… پھر نیچے گرا ہوا ڈبہ اٹھا کر اوپر رکھنے کی آواز سنائ دی… “سالے گدھے… اپنی ڈیوٹی بھی نہیں کرتے ٹھیک سے… لگے ہوں گے گپ لگانے…” وہ بڑبڑاتا ہوا غالباً اپنے ان ساتھیوں کو کوس رہا تھا جو جھونپڑی کے باہر مقرر کیے گۓ تھے اور اب زندہ نہیں بچے تھے… “ابے کرشنا… کہاں مر گۓ ہو تم دونوں… کوئ جانور گھس آیا تھا شاید اندر… اور تم لوگوں سے کہا تھا کہ بستر برابر کر دینا تا کہ دروازہ نظر نہ آۓ اور تم نے…” وہ باتیں کرتا ہوا باہر آیا تھا جب راحم نے ہاتھ میں پکڑی رسی عقب سے اس کے گلے میں ڈال کر اس کا گلہ دبا دیا… چند لمحے مزاحمت کرنے کے بعد اشعر کی سائلنسر لگی گن سے فائر کھا کر وہ دم توڑ چکا تھا…
“بی کئیر فل ” کیپٹن ابتہاج نے سرگوشی کے سے انداز میں سب کو مخاطب کیا… سب نے اثبات میں سر ہلایا… دوبارہ اندر گۓ… ابتہاج نے تہہ خانے کا دروازہ کھولا… نیچے ایک اور آدمی کھڑا تھا… جو مڑے بغیر کہنے لگا…”کیا ہوا… کیسی آواز تھی اوپر… ؟؟” اپنی بات کے جواب میں خاموشی پر وہ مڑا…تب تک ابتہاج اس کے سر پر پہنچ چکا تھا… اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز کا گلہ گھونٹ دیا گیا تھا…. اور اگلے ہی پل کٹاک کی آواز سے گردن بھی توڑ دی گئ… سامنے ایک سرنگ سی دکھائ دے رہی تھی… جہاں فی الحال رام کا کوئ آدمی نظر نہیں آ رہا تھا… وہ پانچوں آگے بڑھتے چلے گۓ… سرنگ تو بالکل خالی تھی… رام نے کافی اچھا انتظام کر رکھا تھا اپنے رہنے کا… شاید اس سے پہلے بھی یہ جگہ اس کے زیر استعمال رہ چکی تھی… دو سے تین موڑ مڑنے پر ایک جگہ دھواں سا نظر آیا… اور ہلکی ہلکی باتوں کی آواز… مزید آگے بڑھنے پر منظر کچھ واضح ہوا… وہاں سرنگ کے ایک جانب کمرہ سا بنا تھا… جہاں آگ جلائ گئ تھی… دھوئیں کے ساتھ ساتھ گوشت کے بھونے جانے کی بھی خوشبو آ رہی تھی… اور کچھ مردانہ ہنسی کی آوازیں بھی… شاید تاش کھیلی جا رہی تھی اور ساتھ ساتھ دوپہر کے کھانے کا بندوبست بھی ہو رہا تھا… ان کے آگے بڑھنے سے پہلے ہی ایک آواز سنائ دی…
“اے… سادھو… جا باس کو کھانا دے آ … تب تک ہماری یہ باری مکمل ہو جاۓ گی تو مل کر کھانا کھائیں گے… ” لہجہ بارعب تھا… یعنی رام ان کے ساتھ موجود نہیں تھا اس وقت… باقی چاروں آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ ابتہاج نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا… وہ سب سوالیہ نظروں سے ابتہاج کو دیکھنے لگے… چند لمحوں بعد ایک آدمی کھانے کی ٹرے لیے باہر نکلا تو وہ سب دیوار کی اوٹ میں ہو گۓ… وہ آدمی انہیں دیکھے بغیر مخالف سمت جا چکا تھا… ابتہاج نے اشعر کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور باقی تینوں کو کمرے میں موجود افراد کو قابو کرنے کا… وہ اور اشعر آگے بڑھنے ہی لگے تھے جب باورچی کی نظر ابتہاج پر پڑی… “اے…” وہ مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ ابتہاج سرعت سے جھکا… اپنے لانگ شو میں اڑسا چاقو نکالا اور باورچی کی جانب اچھال دیا… چاقو عین نشانے پر لگا تھا اور باورچی بغیر کوئ آواز نکالے وہیں ڈھیر ہو گیا… اشعر نے خوفزدہ سی نگاہ ابتہاج پر ڈالی جس کے چہرے پر سفاکیت تھی… اسے یاد آیا ایک بار اس نے ابتہاج سے پوچھا تھا کہ “سر آپ کو بالکل خوف نہیں آتا لوگوں پر یوں وار کرتے… انہیں اتنی بے رحمی سے قتل کرتے ہوۓ… آخر وہ بھی انسان ہوتے ہیں…؟؟؟” اور اس کے جواب میں ابتہاج نے زخمی سی نگاہ اس پر ڈالی تھی… ” میدان جنگ میں کوئ بھی انسان نہیں ہوتا… وہاں آپ کے اور آپ کے مقابل موجود شخص کے درمیان ایک ہی رشتہ ہوتا ہے… دشمنی کا… اور اس رشتے میں یا تو قتل کرنا پڑتا ہے… یا قتل ہونا پڑتا ہے…اگر تم دشمنوں پر ترس کھا کر, انہیں انسان سمجھ کر ان پر رحم کرو گے تو وہ تمہیں موت کے گھاٹ اتار دیں گے اس لیے میں پہلے انہیں جہنم واصل کر دیتا ہوں… میری نظر میں وہ صرف اور صرف میرے دشمن ہیں… اور کچھ نہیں…” اشعر سوچوں میں گم تھا…”اشعر… لیٹس گو…” ابتہاج کی آواز اسے واپس حال میں کھینچ لائ تھی… وہ دونوں اس آگے بڑھ چکے تھے کہ ابتہاج کو یقین تھا باقی دشمنوں کو اس کے تینوں ساتھی سنبھال لیں گے… انہیں رام کو ڈھونڈنا تھا…
وہ دونوں ٹرین سے اترے تو اتنے رش میں چلنا محال ہونے لگا… اسٹیشن سے نکلنے پر کھانے پینے کی بہت سی چیزیں اور اسٹالز نظر آنے لگے تھے… جنہیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہوئ گڈی راجا کے ساتھ کھنچی چلی جا رہی تھی… اتنی بھیڑ میں تن تنہا جانے والے وہ دو معصوم بچے بہت سی نگاہوں کا مرکز بنے تھے… اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ ہوتے دیکھ کر راجا سر جھکاۓ تیز تیز چلتا جلد سے جلد وہاں سے نکل جانے کی تگ و دو میں تھا… گڈی دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی کا ناخن اکھڑ چکا تھا اور وہاں سے نکلنے والا خون زمین پر اپنے نشان چھوڑتا چلا جا رہا تھا… آنکھوں میں آنسو لیے وہ بمشکل راجا کے قدم سے قدم ملا رہی تھی… اس کا بایاں ہاتھ راجا کی گرفت میں تھا…اسٹیشن سے کچھ دور جا کر وہ رکا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا… ساتھ ہی گڈی کے چہرے کو دیکھا جس پر آنسوؤں کے نشان نظر آ رہے تھے… “ہاتھ دکھا گڈی…” زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے گڈی کا ہاتھ تھاما… پھر نرمی سے انگلی دبا کر خون روکنے کی کوشش کی… گڈی سسک اٹھی تھی… راجا نے گڈی کی جانب دیکھا… جس کے چہرے پر تکلیف کے اثرات واضح تھے… راجا کا دل چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کر روۓ… اپنی بہن کو تکلیفوں سے بچانے کو وہ گھر سے بھاگا تھا… نہیں جانتا تھا کہ باہر اس سے زیادہ اذیتیں ان کا مقدر ٹھہریں گی…. خود پر ضبط کرتے ہوۓ اس نے اردگرد نگاہ دوڑائ… کچھ فاصلے پر کھیت نظر آ رہے تھے… وہ اٹھا… گڈی کا ہاتھ پکڑا اور اس سمت بڑھ گیا… کھیت کی بوائ نہیں کی گئ تھی ابھی… وہاں جا کر اس نے تھوڑی سے مٹی لی اور گڈی کی زخمی انگلی پر لگا کر ہلکے سے دبایا… گڈی کی کراہ نکلی تھی لیکن راجا نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا… چند لمحوں بعد ہاتھ ہٹایا تو مٹی جم جانے کی وجہ سے خون رک چکا تھا… وہ جھکا… گڈی کی انگلی پر پھونک ماری اور مسکرا کر گڈی کی جانب دیکھا… ” دیکھا میرے جادو کا کمال… یوں زخم ٹھیک کر دیا تمہارا…” اس نے گویا گڈی کا دل بہلانا چاہا تھا… تکلیف کے باوجود گڈی اس کے انداز پر مسکرا دی… راجا نے نرمی سے اس کے آنسو صاف کیے… ” امی کہا کرتی تھیں نا کہ اچھے بچے روتے نہیں… تم پھر بھی رو رہی ہو…. گندی بچی ہو تم… ” راجا کی بات پر گڈی کے مسکراتے لب سکڑ گۓ… ” لیکن میں نے خود امی کو بہت دفعہ چھپ چھپ کر روتے دیکھا تھا… کیا امی بھی گندی بچی تھیں…؟؟” اس کی باتوں سے ہی معصومیت جھلکتی تھی… راجا سمجھ نہیں پایا کہ اس کی بات پر روۓ یا ہنسے… “نہیں… ہماری امی بہت اچھی تھیں… دنیا میں سب سے اچھی…” بے ساختہ اسے گلے سے لگا کر رندھی ہوئ آواز میں وہ فقط اتنا ہی کہہ پایا تھا…
وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے ابھی تک ویٹنگ روم میں بیٹھا تھا… اسے یہاں آۓ ہوۓ تقریباً ڈیڑھ گھنٹا ہونے کو تھا… لیکن ابھی تک ریسیپشنسٹ نے اپنے باس کو اس کی آمد کے بارے میں انفارم نہیں کیا تھا… وہ وہاں بیٹھا بظاہر بے نیاز سا اپنے پرانے سے موبائل فون پر مصروف تھا… لیکن وہاں بیٹھے بیٹھے موبائیل کیمرے سے بہت سی تصاویر لے چکا تھا…
سیل جیب میں ڈالتے ہوۓ وہ اٹھا… ریسیپشن تک گیا…
“ہیلو… اسد شیرازی کو بتایا بھی ہے میری آمد کا… یا ایویں مجھے اتنا انتظار کروایا جا رہا ہے…؟؟” اس کے لہجے اور اس کے انداز پر ریسیپشنسٹ نے ناگوار نظروں سے اس کی جانب دیکھا… “ویٹ” کڑواہٹ بھرے لہجے میں کہہ کر اس نے ریسیور تھاما… “ہیلو… سر… کوئ راجا نام کا آدمی آپ سے ملنے آیا ہے… ” چند لمحے رک کر وہ پھر بولی…”نہیں سر… کوئ اپائنمنٹ نہیں ان کے پاس… ” فون کے پار اسد شیرازی شاید راجا کو پہچاننے سے انکاری تھے… “وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے انہیں خود….” وہ احترام بھرے لہجے میں مخاطب تھی جب راجا نے تیزی سے اس کے ہاتھ سے ریسیور چھین لیا… “ہیلو… سر راجا بات کر رہا ہوں… پانچ دن پہلے ملاقات ہوئ تھی آپ سے… آپ کی بیٹی کو کچھ غنڈوں سے بچایا تھا اور آپ نے اپنا کارڈ دے کر ملنے کو بولا تھا…” راجا تیزی سے کہہ گیا مبادہ لائن ہی نہ کٹ جاۓ… ریسیپشنسٹ اس کی اس حرکت پر خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی… ” راجا… اوہ اچھا… تم ہو… میرے ذہن سے ہی نکل گۓ تھے تم…اچھا فاریہ کو فون دو…” اسد شیرازی اسے پہچان کر خوشگوار لہجے میں بولے… راجا نے فون ریسیپشنسٹ کی جانب بڑھایا جسے اس نے غصے سے جھپٹا… “ہیلو سر… آئم سوری… اس نے مجھ سے ریسیور چھین…” وہ معذرت خواہانہ لہجے میں کچھ کہنے جا رہی تھی جب اسد شیرازی نے اس کی بات کاٹی…”مس فاریہ… انہیں میرے آفس میں بھیجیں… اور دو کپ کافی بھی…ارجنٹلی…” کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا گیا… فاریہ نے ایک نظر ریسیور کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑے اس شخص کو… “وہ لفٹ ہے… فورتھ فلور جائیں…. وہاں سے لیفٹ اور پھر رائٹ میں مڑ جائیں… سر کا آفس آ جاۓ گا… ” بیزاریت بھرے لہجے میں کہتی ہوئ وہ کمپیوٹر پر جھک گئ… جبکہ راجا سیٹی پر کوئ دھن بجاتا لفٹ کی جانب بڑھ گیا…
_______
وہ آدمی جس کا نام سادھو تھا… اپنے باس رام کا کھانا لے کر مسلسل چلتا جا رہا تھا… ابتہاج اور اشعر چھپ چھپ کر اس کا پیچھا کرتے ہوۓ سرنگ میں کافی دور تک نکل گۓ… موڑ مڑ کر وہ آدمی ایک دروازے کے سامنے رکا…اسے رکتا دیکھ کر وہ دونوں جو اس سے خاصا فاصلہ رکھے ہوۓ تھے…جلدی سے دیوار کی اوٹ میں ہوۓ… وہ آدمی رک کر اب اردگرد دیکھ رہا تھا…ابتہاج آنکھیں سیکڑ کر اسے دیکھنے لگا…اپنے آس پاس کسی کو موجود نہ پا کر سادھو نے دروازے پر ہاتھ کی درمیانی انگلی سے تین بار دستک دی… “لگتا ہے یہی رام کا کمرہ…” اشعر آواز دبا کر کچھ کہنے جا رہا تھا جب ابتہاج نے ہاتھ کھڑا کر کے اسے چپ کروایا… وہ آدمی دستک دے کر ٹرے لیے اب آگے بڑھ چکا تھا… “دئیر از سم تھنگ رانگ…” وہ الجھ کر اپنے آپ سے بولا… اگر یہ رام کا کمرہ تھا تو سادھو آگے کیوں گیا… اور اگر رام آگے کسی کمرے میں تھا تو پھر اس کمرے کے دروازے پر دستک دینے کا مخصوص انداز کس لیے… ؟؟ وہ سوچتا ہوا آگے بڑھا…ساتھ ہی پسٹل پر گرفت مضبوط کی…اشعر نے بھی اس کی تقلید کی… سامنے سرنگ سے تین راستے نکل رہے تھے… ایک بائیں جانب مڑ رہا تھا,ایک دائیں جانب اور ایک راستہ سیدھا… سادھو دائیں جانب مڑ گیا… ابتہاج دروازے کے قریب ایک لمحے کو رکا… اندر سے کسی قسم کی آہٹ محسوس نہ ہونے پر وہ آگے بڑھ گیا… ابھی دو قدم ہی چلا تھا جب اچانک دائیں جانب سے سادھو سامنے آیا اور گولیوں کے چلنے کی آواز سنائ دی… ابتہاج نے سرعت سے جھک کر خود کو بچایا اور اگلے ہی لمحے اس کے پسٹل سے نکلی گولی سادھو کی ٹانگ میں لگی… وہ کراہتا ہوا نیچے جھکا تب تک ابتہاج اس کے سر پر پہنچ چکا تھا…. ایک جانب پڑی کھانے کی ٹرے سے اس نے کانٹا اٹھایا اور سادھو کی گردن کی عقب میں پے در پے وار کرنے لگا… سادھو کی چینخیں بلند ہوئیں…
“سر…” ابتہاج ابھی سیدھا بھی نہ ہو پایا تھا کہ اسے اشعر کی آواز سنائ دی اور ساتھ ہی گولی چلنے کی… ایک لمحہ کی دیر کیے بغیر وہ پھرتی سے بائیں جانب جاتے راستے کی طرف بھاگا اور دیوار کی اوٹ میں چھپ گیا… فائرنگ بند کر دی گئ تھی… ابتہاج نے جلدی سے گن لوڈ کی… “اے… کون ہو تم… سامنے آؤ…” ایک چنگھاڑ سی بلند ہوئ تھی جیسے کوئ اپنا پورا زور لگا کر چینخا ہو… “کون ہے تو حرامزادے… جس میں اتنی ہمت ہے کہ رام کے ٹھکانے تک زندہ سلامت آن پہنچا… یہ یاد رکھنا… یہاں سے اپنی ٹانگوں پر واپس نہیں جا سکے گا…باہر نکل…” ابتہاج کے اندازے کے مطابق وہاں صرف ایک ہی آدمی تھا اور یقیناً وہ رام ہی ہو گا… لیکن یہ اشعر کہاں ہے… اس کی کوئ آواز سنائ نہیں دے رہی تھی… کہیں رام نے اسے مار تو نہیں دیا… ابتہاج اپنی سوچوں میں گم تھا جب پھر سے آواز سنائ دی… ” ابے خبیث انسان…میں کہتا ہوں باہر نکل…ورنہ میں تیرے اس ساتھی کو اڑا دوں گا… ” وہ ابھی بھی چلا رہا تھا… لیکن شاید سامنے آنے سے ڈر رہا تھا… اشعر اس کے قبضے میں تھا… رام کو مارنا ابتہاج کے لیے کچھ مشکل نہ تھا لیکن سر حبیب کے آرڈر کے مطابق انہیں رام کو زندہ حالت میں پکڑنا تھا اور اب ابتہاج کو اشعر کو بھی اس درندے کے چنگل سے نکالنا تھا…
جاری ہے
