Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33

اسد شیرازی بلیو مون ریسٹورنٹ میں داخل ہو کر فراز آفندی کی جانب بڑھا… چند ثانیوں بعد راحم بھی اس کا پیچھا کرتا ہوا وہاں آ چکا تھا… اسد شیرازی کو فراز آفندی کی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ مخالف سمت میں بڑھ گیا…
“ہیلو… ابتہاج… اسد شیرازی فراز آفندی کے ساتھ موجود ہے ہوٹل بلیو مون میں… ” اس نے فورأ ابتہاج کو مطلع کیا تھا…
کچھ ہی دیر بعد وہ مختلف حلیے میں ویٹر کے لباس میں ملبوس مینیو کارڈ لیے اسد شیرازی اور فراز آفندی کی جانب بڑھ رہا تھا…
ان کے کھانا آرڈر کرنے تک ٹیبل کے نزدیک ہوتے ہوۓ بالکل نامحسوس انداز میں راحم نے میگنٹ لگے مائکروفون کو ہاتھ بڑھا کر ٹیبل کے نیچے چپکا دیا… بظاہر وہ ان دونوں کی بات سن رہا تھا جو اسے مینیو کارڈ سے مختلف ڈشز دیکھ کر بتا رہے تھے…
ان کا آرڈر لے کر مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ وہ واپس مڑ گیا…
دوسری جانب راجا اس مائکروفون کے ذریعے اب اسد شیرازی اور فراز آفندی کی ہر ایک بات سن رہا تھا…
چند لمحوں بعد ہی راحم نے انہیں آرڈر سرو کیا… ٹرے واپس کاؤنٹر پر رکھتا وہ پھر سے غائب ہو چکا تھا…
اور پھر چند ہی ثانیوں کے بعد وہ ایک بار پھر ویٹر کے لباس سے چھٹکارا پاتا اسد شیرازی اور فراز آفندی کی ٹیبل کے قریب موجود دوسری ٹیبل پر آ بیٹھا… ان لوگوں کی جانب اس کی پشت تھی تبھی وہ اسے پہچان نہیں پاۓ… ابتہاج کے ساتھ ساتھ راحم نے بھی ان کہ گفتگو حرف بہ حرف سنی تھی… ان کی پلاننگ سن کر طیش تو بہت آیا کہ کوئ انسان اس قدر گھٹیا ذہنیت کا مالک کیسے ہو سکتا ہے… اگر ابیہا کی جگہ اس کی اپنی بیٹی ہوتی تو کیا اس کے ساتھ بھی وہ یہی سب کرتا…
ابتہاج کی مٹھیاں بھنچ سی گئیں ان کی پلاننگ سن کر… ابیہا کے بارے میں یہ سب سن کر ہی وہ سکتہ ذدہ سا رہ گیا تھا…
اور وہ لوگ… ایک لمحے کو بھی ان کا دل نہیں کانپا تھا یہ سب سوچتے ہوۓ…یہ سب کہتے ہوۓ…
ان دونوں کے ریسٹورنٹ سے نکلنے کے بعد ہی راحم بھی وہاں سے نکلا تھا…
اسد شیرازی فراز آفندی سے ملاقات کے بعد سیدھا گھر ہی گیا تھا… اسے شدت سے رات ہونے کا انتظار تھا… انتظار تو ابتہاج کو بھی تھا آج رات کا…
جبکہ ابیہا…جس کے ساتھ یہ سب ہونے جا رہا تھا وہ اپنی قسمت کی ستم ظریفی سے بے خبر اپنے روم میں موجود تھی…
نہیں جانتی تھی کہ آج کی رات کیا ستم ڈھانے جا رہی ہے اس کی زندگی پر… اسے کن تاریکیوں میں دھکیلنے والی ہے…
_________
رات کے آٹھ بج رہے تھے…وہ اپنے روم میں تھا جب ملازم نے اس کے دروازے پر دستک دی…
“کم اِن…” اندر سے اس کی گھمبیر آواز سنائ دی…
ملازم نے دروازہ کھولا…
“آپ کو نیچے سر بلا رہے ہیں… ” اسد شیرازی کا خاص بندہ ہونے کے باعث ملازمین راجا کو بھی ادب سے بلاتے اور سر جھکا کر اس سے مخاطب ہوتے… کچھ اس کی اپنی شخصیت کا بھی رعب تھا شاید… جس کے باعث مقابل خود بخود اسے عزت دینے پر مجبور ہو جاتا…
“آتا ہوں… ” مختصر جواب دے کر وہ پھر سے آئینے کی طرف متوجہ ہوا…نک سک سے تیار ہونے کے بعد بالوں میں کنگھی کرکے انہیں سیٹ کرتے ہوۓ اس کے چہرے پر سرد مہری سی چھائ تھی…
ملازم جا چکا تھا…
ٹھیک پانچ منٹ بعد وہ سیڑھیاں اترتا دکھائ دیا… ملازم سے اسد شیرازی کے بارے میں پوچھا…
پھر ان کے اسٹڈی روم کی جانب بڑھ گیا…
دروازہ ناک کرتے ہوۓ وہ اندر داخل ہوا تھا… سامنے ہی میز کے گرد پڑی کرسیوں میں سے ایک پر اسد شیرازی براجمان تھے…دروازے کی جانب ان کی پشت تھی…راجا کے آنے پر بھی انہوں نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا تک نہیں…
راجا مضبوط قدم اٹھاتا ان کے سامنے آیا…
“آپ نے بلایا سر…؟؟” بے تاثر لہجے میں پوچھا تھا…
“ہممم…ہاں میں نے ہی بلایا تھا… ” گہری سانس بھرتے ہوۓ اسد شیرازی نے سامنے کھلی فائل پر سے نظریں ہٹائیں… پھر چند پیپرز اس فائل میں سے نکالے…
“یہ کچھ پیپرز ہیں… یہ پیپرز قادر کو دے کر آؤ ابھی… اور واپسی پر شہریار سے کچھ سامان بھی اٹھانا ہے… جلدی کرو…ابھی پانچ منٹ میں نکل جاؤ… دس بجے تک لوٹ آنا… مجھے وہ سامان چاہیے… ارجنٹ…” اپنے بناۓ گۓ پلان کے عین مطابق اسد شیرازی نے اسے کام میں پھنسانے کی کوشش کی…تا کہ آج رات وہ لوگ اپنے منصوبے پر عمل درآمد کر سکیں…
“لیکن سر…میں تو… اصل میں مجھے اپنے ایک دوست کی پارٹی میں جانا تھا… بس میں تو نکل ہی رہا تھا… ” قدرے جھجھکتے ہوۓ راجا نے بتایا…
“پارٹی بعد میں دیکھ لینا… فی الحال یہ کام زیادہ ضروری ہے… یہ کام نمٹا لو… یا ایسا کرو… کہ پہلے یہ کام ختم کر لو… پھر وہاں سے سیدھے پارٹی میں چلے جانا… اس کے بعد گھر آ جانا… ” اسد شیرازی نے اس پر احسان کیا تھا گویا…
“لیکن سر…ابھی آپ نے کہا آپ کو وہ سامان ارجنٹ چاہیے… ” راجا نے ان کی کچھ دیر پہلے کی کہی بات کی طرف اشارہ کیا…
“اس کی فکر مت کرو… میں کر لوں گا مینیج… تم اٹینڈ کر لینا پارٹی…نو پرابلم… اب جاؤ جلدی… قادر کو ان پیپرز کی ضرورت ہے… ” اسد شیرازی نے بات ختم کی اور دوبارہ فائل پر جھک گۓ…. راجا نے تلخ نگاہوں سے ان کے فائل پر جھکے سر کو دیکھا… پھر سر ہلاتا اسٹڈی روم سے نکل گیا…
جبکہ اسد شیرازی فاتحانہ چمکتی نگاہوں سے دروازے کو دیکھنے لگے جہاں سے ابھی وہ گزر کر گیا تھا…
💝💝💝💝💝
وہ نو بجے اپنے روم میں چلی آئ… کچھ خاص بھوک نہیں تھی اس لیے ملازم کو کھانے سے منع کر دیا تھا…
اذان ہوۓ کافی دیر ہو چکی تھی… بلیو کھلے ٹراؤزر پر لائٹ پنک گھٹنوں تک آتی شرٹ میں میک اپ سے بے نیاز چہرے کے ساتھ وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گئ… چند منٹ بعد وہ وضو کر کے چہرے کے گرد حجاب لپیٹے باتھ روم سے باہر آ رہی تھی… جاۓ نماز بچھا کر نماز کی نیت باندھی…
پوری تسلی اور اطمینان سے نماز ادا کرنے اور دعا مانگنے کے بعد وہ خود کو پرسکون محسوس کرتے ہوۓ کھڑکی کی طرف چلی آئ… دوپٹہ کھول کر حجاب ڈھیلا کیا… پھر دور آسمان پر چمکتے چاند کو تکنے لگی… اس کی اداس سی نظریں آسمان پر بھٹک رہی تھیں… ذہن میں کچھ بھولے بھٹکے مناظر ابھرنے لگے… مما اور ڈیڈ کے ساتھ چاند رات میں اپنے گھر کے ٹیرس پر چھوٹی چھوٹی خوشیاں سیلیبریٹ کرنا… اس کے مما پاپا کا اپنی اینورسری پر کیک کاٹنا… ایک دوسرے کو گفٹ دینا… وہ ہر خوشی یونہی ٹیرس پر سیلیبریٹ کرتے… چاند کی دودھیا چاندنی میں… ابیہا کو چاند کی یہ ہلکی سفید روشنی بے حد پسند تھی… کبھی کبھار وہ بیلونز لیے چھت پر آتی…انہیں اپنے ہاتھ سے آزاد کرتی اور اوجھل ہو جانے تک انہیں تکتی رہتی…اس امید میں کہ اوپر ہی اوپر اٹھتے وہ کبھی تو چاند کے پاس پہنچیں گے…معصوم اور کچا ذہن تھا اس کا… تب یہ نہیں جانتی تھی نا کہ اوپر جانے والے یہ غبارے کبھی نیچے بھی آتے ہیں کسی اور مقام پر…کسی اور جگہ…
ایک افسردہ سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا…
پرانی یادوں کو سر جھٹک کر خود سے دور کرتی وہ
کچھ فاصلے پر موجود بک ریک کی طرف بڑھ گئ…وہاں سے ایک کتاب نکالی اور بیڈ پر آ بیٹھی… پہلے وہ پارٹیز اور فرینڈز وغیرہ میں الجھی رہتی تھی تبھی ان کتابوں کو پڑھنے کا کبھی وقت ہی نہ ملا…
اب جب سے دن میں پانچ وقت اپنے رب کے حضور حاضری دینے لگی تھی تب سے پارٹیز وغیرہ اور اس قسم کی دوسری خرافات سے پیچھاچھوٹ چکا تھا… اب وقت ہی وقت ہوتا تھا… زندگی الجھی ہونے کے باوجود بھی اس میں ایک سکون اور ٹھہراؤ سا محسوس ہوتا… پچھلے کافی دنوں سے عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مگن ہو جاتی… روٹین کے مطابق آج بھی کچھ وقت ان کتابوں کے ساتھ گزارنے کا ارادہ لیے وہ کمفرٹر میں گھس گئ… بیڈ کی پشت سے ٹیک لگاۓ ہوۓ وہ کتاب میں بری طرح منہمک تھی… دوپٹہ اب ایک سائیڈ پر پڑا تھا….
مطالعہ کرتے کرتے وہ کب نیند کی وادیوں میں گم ہوئ اسے خود بھی خبر نہ ہو سکی…
اس کے پورے چہرے پر سکون اور طمانیت بکھری تھی…
معصومیت بھرے انداز میں وہ آڑھی ترچھی بے ترتیب سی نیند کی آغوش میں ڈوبی ہوئ لیٹی تھی جب کوئ اس کے کمرے کی کھڑکی پھلانگتا اندر داخل ہوا…
قدموں کی چاپ پیدا کیے بغیر وہ وجود چند لمحے بیڈ پر محوِ استراحت ابیہا کی طرف دیکھے گیا… کھڑکی سے آتی روشنی براہِ راست اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی… کتاب سائیڈ ٹیبل پر ٹیبل لیمپ کے قریب اوندھی پڑی تھی…
وہ دبے قدموں چلتا ہوا ابیہا کی طرف بڑھا… ابیہا بائیں جانب کروٹ لیے سو رہی تھی… وہ شخص اس کی دائیں جانب سے آیا جس طرف ابیہا کی پشت تھی… اپنی جیب سے اس نے کچھ نکالا تھا… ہاتھ میں پکڑے سفید رومال پر کچھ لگاتے ہوۓ وہ آگے بڑھا… تبھی بے دھیانی میں ٹیبل لیمپ سے ٹکرایا… ٹیبل لیمپ لڑکھڑا سا گیا لیکن شکر تھا کہ زمین بوس نہیں ہوا… لیکن اتنے سے کھٹکے سے نہ صرف وہ شخص بوکھلایا تھا بلکہ ابیہا بھی نیند سے بیدار ہو چکی تھی…. مندی مندی آنکھوں سے اس نے گردن موڑ کر دیکھتے ہوۓ سچویشن سمجھنے کی کوشش کی تھی…لیکن اس کے سنبھلنے سے پہلے مقابل نے کلوروفام میں بھیگا رومال اس کے منہ پر رکھا… ابیہا نے مزاحمت کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی… لیکن مقابل ایک طاقتور مرد کے سامنے بے بس چڑیا کی طرح ہمت ہارتی چند لمحوں میں ہی ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئ…… چاند کی روشنی میں اس شخص کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ دکھائ دی…
“اب میرے پلان کو کامیاب ہونے سے کوئ نہیں روک سکتا… تم بھی نہیں… ” بے تاثر نگاہوں سے اسے تکتے ہوۓ وہ شخص بڑبڑایا تھا…
ابیہا کو کندھے پر ڈالے وہ جس راستے سے آیا تھا اسی راستے سے واپس جا چکا تھا…جبکہ بیڈ کے سرہانے اس کا دوپٹہ ویسے کا ویسے پڑا رہ گیا…
💝💝💝💝💝
“ہیلو…ہاں سنو… میں نکل چکا ہوں گھر سے… اسد شیرازی نے اپنی پلاننگ کے عین مطابق مجھے کچھ کام لے سلسلے میں گھر سے روانہ کر دیا ہے… لیکن فراز آفندی کو اس نے ساڑھے دس بجے ابیہا کو کڈنیپ کرنے کو کہا تھا… جبکہ مجھے اس نے کہا کہ کام ختم کر کے دس بجے سے پہلے لوٹ آنا… یقیناً کچھ اور بھی ہے اسد شیرازی کے دماغ میں…
خیر وہ بعد میں دیکھی جاۓ گی… فی الحال میں اسد شیرازی کے انہی کاموں کے سلسلے میں جا رہا ہوں… تم لوگ چوکنے رہنا اب… اور یاد رکھنا…ابیہا کو کوئ خراش تک نہیں آنی چاہیے… پہنچ کر مجھے لوکیشن میسیج کر دینا… اوکے… “
راجا نے اپنے ساتھیوں کو چند ضروری ہدایات دیتے ہوۓ کال ڈسکنکٹ کر دی… پھر پرسوچ انداز میں دائیں ہاتھ کی مٹھی بند کرتے ہوۓ اسے لبوں پر ٹکایا…
“کچھ تو گڑبڑ ہے… آخر چل کیا رہا ہے اسد شیرازی کے خرافاتی ذہن میں… ” بہت سوچنے کے بعد بھی وہ سمجھ نہیں پایا تھا… گہری سانس بھرتے ہوۓ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور قادر کے گھر کا رخ کیا….
💝💝💝💝💝
“ہاں قادر… ایک بندہ بھیجا تھا تمہارے پاس…راجا… جس کی تصویر بھی سینڈ کی تھی…وہ آیا یا نہیں… ؟؟” اسد شیرازی نے قادر کو فون ملایا…
“کچھ دیر پہلے ہی گیا ہے…لیکن یار… یہ کونسے پیپرز بھجواۓ تم نے… میں نے کب یہ پیپرز مانگے تھے تم سے… میرے تو کسی کام کے نہیں یہ…. ” قادر تھوڑا الجھ کر بولا تھا…
اسد شیرازی نے قہقہہ لگایا…
“رکھ لو رکھ لو… تمہارے کام کے نہیں…لیکن میرے کام کے ضرور ہیں یہ پیپرز… میرا جو کام تھا وہ تو ہو چکا… اب تم چاہو تو ان پیپرز کو ڈسٹ بن میں پھینک دو… ” کہہ کر اسد شیرازی کال کاٹ چکا تھا… لبوں پر کمینگی بھری مسکراہٹ تھی…
فراز آفندی ابیہا کو کڈنیپ کر کے لے جا چکا تھا… گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ اسد شیرازی کے اڈے کی طرف جاتے ہوۓ اس نے اسد شیرازی کو کال کر کے یہ خوشی کی خبر سنائ تھی…
تقریباً آدھے گھنٹے بعد اسد شیرازی نے شہریار کو بھی کال کی… اس سے معلوم ہوا کہ راجا اس سے بھی کچھ سامان لے کر رخصت ہو چکا تھا…
“اب یقیناً وہ اپنے دوست کی پارٹی میں ہو گا… اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے… “
آنکھوں میں فاتحانہ چمک لیے اسد شیرازی نے راجا کا نمبر ڈائل کیا…لبوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ مچل رہی تھی…
💝💝💝💝💝
وہ شہریار کے گھر سے سامان لے کر نکلا تھا جب راحم کا میسیج ملا اسے… کوئ لوکیشن بتائ گئ تھی وہاں… راجا اس جگہ کو جانتا تھا… ایک دو بار اس جگہ پر جانا ہوا تھا اس کا اسد شیرازی کے ساتھ… مطلب اسد شییرازی نے ابیہا کی بربادی کے لیے اپنا وہ اڈہ فراہم کیا تھا فراز آفندی کو…
راجا نے سامنے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتے ہوۓ اپنی آنکھوں میں لگے سیاہ رنگ کے لینز اتارے…
نیلی آنکھیں واضح ہوئیں تھیں…
اب وقت آ گیا تھا فراز آفندی پر یہ حقیقت آشکار کرنے کا کہ راجا اس کا وہی کزن ہے جس سے بچپن میں ہر چیز چھیننا وہ اپنا حق سمجھتا تھا… اور جس کی وجہ سے راجا کو اپنی بہن کے ساتھ اس کے اپنے ہی گھر سے نکلنا پڑا… دنیا کی ٹھوکریں کھانی پڑیں…
اسے فراز آفندی کو بتانا تھا کہ دنیا کی ٹھوکروں میں دربدر بھٹکتا ہر انسان موت کی آغوش میں نہیں جاتا…
کچھ راجا کی طرح کے بھی ہوتے ہیں… جو ان ٹھوکروں اور اذیتوں کی بھٹی میں تپ کر کندن بن جاتے ہیں… جو اپنے بل پر کچھ کر دکھانے کا جذبہ لیے سیدھی راہ اپناۓ آخر کار سرخرو ہوتے ہیں…
لب بھینچ کر راجا نے گاڑی کو اس اڈے کی جانب جاتے رستے پر ڈالا… انتہائ اسپیڈ سے گاڑی چلاتے ہوۓ راجا اڈے کے نزدیک پہنچا تھا جب اسے اسد شیرازی کی کال موصول ہوئ… وہ ان کی کال پر قدرے حیران ہوتا گاڑی کی اسپیڈ کم کر گیا…
“ہیلو…”
لہجے کو نارمل رکھتے ہوۓ وہ مخاطب ہوا تھا…
“ہیلو راجا… میری بات سنو…میں بہت پریشان ہوں… ” اسد شیرازی کی آواز میں گھبراہٹ کی جھلک تھی…
“کیا ہوا سر…؟؟ سب خیریت ہے نا… ؟؟” ایک پل کو راجا کو محسوس ہوا جیسے اسد شیرازی واقعی پریشانی کا شکار ہے…
“راجا… وہ… وہ کمینہ فراز آفندی… آستین کا سانپ نکلا… وہ… اس نے… ” اسد شیرازی نے خود پر رقت طاری کرنے کی کوشش کی…سراسیمگی کی سی حالت میں وہ اٹک اٹک کر بول رہا تھا…
راجا فراز آفندی کے نام پر چونکا…
“کیا…کیا ہوا…میرا مطلب کیا کیا فراز آفندی نے… ؟؟” الجھتے ہوۓ راجا نے اسد شیرازی کو مخاطب کیا…
“وہ ابھی کچھ دیر پہلے…یہاں گھر سے ابیہا کو زبردستی اٹھا کر لے گیا… میں نے بہت سمجھایا اسے کہ ابیہا تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی وہ راجا کو پسند کرتی ہے…لیکن وہ طیش میں آ کر اسے اپنے ساتھ لے گیا… کہہ رہا تھا کہ ابیہا اسی کی ہے اور اسی کی رہے گی… چاہے شادی کر کے…یا شادی کے بغیر… اور مجھے دھمکی دے کر گیا ہے… یہ چیلنج بھی کیا ہے اس نے کہ میرے ہی اڈے پر وہ ابیہا کی عزت سے کھیلے گا…اگر مجھ میں ہمت ہے تو ابیہا کو اس درندے کے چنگل سے بچا کر دکھاؤں… جانتا ہے نا کہ میں بے چارہ بوڑھا کیا کر سکتا ہوں اس عمر میں…
راجا…کچھ بھی کر کے میری بچی کو بچاؤ… وہ اس کی زندگی برباد کر دے گا… خدا کا واسطہ ہے اسے بچا لو… ” روتے گڑگڑاتے ہوۓ اس نے راجا کو خدا کا واسطہ تک دے دیا تھا… ساتھ ہی اس اڈے کے بارے میں بھی بتایا جہاں فراز آفندی نے ابیہا کو لے جانا تھا… راجا حیران پریشان کافی دیر تک کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہا…
جب اسد شیرازی نے خود ساری حکمت عملی ترتیب دی تھی… ہر چیز خود پلان کی تھی پھر بھلا یوں راجا کو فون کر کے اس سب سے مطلع کرنے کا مقصد… ؟؟ فراز آفندی کو تو اسد شیرازی خود کسی کٹھ پتلی کی مانند اپنی انگلیوں پر نچا رہا تھا…
اب خود ہی اپنی اور فراز آفندی کے درمیان موجود اس راز کو اسد شیرازی نے راجا پر عیاں کر دیا تھا…
آخر کونسی چال چل رہا تھا یہ اسد شیرازی…
“اوکے سر… آپ پریشان مت ہوں… میں کرتا ہوں کچھ… ” وہ فقط اتنا ہی کہہ پایا تھا… رابطہ منقطع کرنے کے بعد خود سے الجھتے ہوۓ اس نے گاڑی آگے بڑھا دی..
________
وہ اسد شیرازی کے اس اڈے میں داخل ہوا… جہاں فراز آفندی ابیہا کو لے کر آیا تھا… اسد شیرازی نے پلاننگ کے تحت اس اڈے کو اپنے بندوں سے پہلے ہی خالی کروا دیا تھا… وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا آگے بڑھتا چلا گیا… ایک جگہ جا کر اس کے قدم زنجیر ہوۓ… سامنے فراز آفندی ایک کرسی پر نیم بے ہوش سا بندھا تھا…منہ سے خون نکل رہا تھا…وہ زخمی حالت میں تھا… قریب ہی راحم اور اشعر بھی موجود تھے… جبکہ ان سے کچھ ہی فاصلے پر قدرے نیم اندھیر کونے میں ابیہا کا وجود گٹھڑی کی مانند پڑا تھا… تقریبأ ایک بج رہا تھا اس وقت… اور وہ اب بھی ہوش و حواس سے بےگانہ پڑی تھی…
“اسے زخمی کیوں کیا…؟؟” ابتہاج نے فراز آفندی کا چہرہ تھپتھپاتے ہوۓ راحم اور اشعر سے پوچھا تھا…
“سر… یہ خود ہاتھا پائ پر مجبور کر رہا تھا ہمیں… کسی طرح قابو ہی نہیں آ رہا تھا…مجبوراً ہمیں اسے اس حالت میں لانا پڑا… ” اشعر نے سلگتی نگاہوں سے فراز آفندی کی طرف دیکھتے ہوۓ راجا کی بات کا جواب دیا…
راجا بغیر کچھ کہے ابیہا کی طرف بڑھا…
“ابیہا… ” اس کے گال کو سہلاتے ہوۓ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی… جب ناکامی ہوئ تو وہ راحم کی جانب مڑا…
“راحم…میری گاڑی میں پانی کی بوتل رکھی ہے… لے کر آؤ جلدی… ” راحم حکم ملتے ہوۓ فورأ وہاں سے نکل گیا…
اشعر ابھی بھی فراز آفندی کے قریب ہی موجود تھا…
راجا نے اپنی ٹی شرٹ کے اوپر پہنی سیاہ جیکٹ اتار کر ابیہا کے دوپٹے سے بے نیاز وجود پر ڈالی…
راحم پانی کی بوتل لے کر آیا تو راجا نے ابیہا کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے…
بے ہوشی کا اثر ختم ہونے لگا تھا… چند لمحوں بعد ہی وہ کسمساتی ہوئ آنکھیں کھول گئ…
سر بھاری ہو رہا تھا… آنکھیں کھولنے میں بھی دشواری کا سامنا ہوا تو وہ پھر آنکھیں بند کر گئ…
“ابیہا… آپ ٹھیک ہیں… ؟؟” راجا نے لہجے میں نرمی سموتے ہوۓ اسے مخاطب کیا تھا…
جواب نہیں دیا گیا تھا… وہ جواب دینے کہ حالت میں ہی نہ تھی…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *