Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32
اسد شیرازی کو سارا کمرہ چھاننے کے بعد بھی مزید کوئ انفارمیشن نہیں مل سکی تھی…. سب چیزیں پہلے کی طرح احتیاط سے رکھتے ہوۓ ان کا ہاتھ اس ہڈ والی جیکٹ سے ٹکرایا… اس کی جیب میں کچھ سخت سا محسوس ہوا تھا… چونک کر انہوں نے جیکٹ کی طرف دیکھا… پھر اس کی جیب میں ہاتھ گھسایا… ہاتھ جب باہر نکالا تو اس میں ایک کارڈ موجود تھا… شاید اس رات کی فرسٹریشن اور ذہنی پریشانی سے ملنے والی تھکاوٹ کے باعث راجا بھول گیا تھا اس کارڈ کو سنبھال کر رکھنا…اسد شیرازی نے بغور اس کارڈ کو دیکھا… آنکھیں سکوڑے وہ کارڈ پر لکھے الفاظ پڑھنے میں مگن تھے… جہاں SSG کمانڈوز کا لوگو بنا تھا… اور ساتھ ہی باریک الفاظ میں اس کا مکمل نام لکھا تھا… “کیپٹن ابتہاج آفندی… ” نام کے سامنے ایک تصویر بھی موجود تھی جس میں ابتہاج عرف راجا ایک مختلف روپ میں تھا… بئیرڈ ابتہاج آفندی…
نیلی آنکھوں والا وہ لڑکا… جس کی شکل کافی حد تک مرزا جمال آفندی سے ملتی تھی…
اسد شیرازی کے کانوں میں مرزا جمال آفندی کی آواز گونجی…. “میرے بیٹے کا نام بھی راجا تھا… تمہیں دیکھ کر مجھے گمان ہوا شاید میرا بیٹا میرے سامنے آن کھڑا ہوا ہے… لیکن نہیں… کیونکہ میرے بیٹے کی آنکھوں کا رنگ بھی نیلا تھا…میری آنکھوں کی طرح…” ایک اور آواز اسد شیرازی کے کانوں میں سنائ دی… ہاسپٹل میں حمدانی کے ذخمی گارڈ کی آواز…
“سر ہم نے اس ڈاکٹر کی شکل نہیں دیکھی… منہ پہ ماسک پہن رکھا تھا اس نے…ہاں لیکن…اس کی آنکھیں ضرور دیکھی تھیں…. گہری نیلی آنکھیں تھیں اس کی… ” ذہن میں گونجتی مختلف آوازوں میں الجھتے ہوۓ اسد شیرازی کی نظریں کارڈ میں موجود ابتہاج آفندی کی گہری نیلی آنکھوں پر جمی تھیں… اس ابتہاج آفندی میں اور موجودہ راجا میں صرف یہی فرق تھا… اس کی بئیرڈ تھی جبکہ راجا کی کلین شیو… اس کی آنکھیں گہری نیلی تھیں جبکہ راجا کی گہری سیاہ… مطلب…حمدانی کو مارنے والا بھی یہ راجا ہی تھا… اور راجا… یعنی ابتہاج آفندی…مرزا جمال آفندی کا وہی بیٹا تھا جو بچپن میں کھو گیا تھا کہیں…
ایک ایک کر کے تمام کڑیاں ملتی گئیں… تمام گتھیاں سلجھتی گئیں… اسد شیرازی کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ ابھری… “اب دیکھنا تم ابتہاج آفندی عرف راجا….میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں… مجھے دھوکہ دینے چلے تھے تم… ایسا سبق سکھاؤں گا کہ موت کو بھی ترسو گے تم… جانتے نہیں ہو ابھی اسد شیرازی کو تم… اتنی آسانی سے تو تمہیں اپنی پلاننگ خراب نہیں کرنے دوں گا…” شعلہ بار نگاہیں کارڈ پر جماۓ ان کی بڑبڑاہٹ سنائ دی…
وہ دونوں گھر آۓ تو اسد شیرازی لاؤنج میں نہیں تھے…ورنہ وہ جب بھی گھر میں ہوتے اکثر لاؤنج میں ہی پاۓ جاتے… وہ دونوں یہ سوچتے ہوۓ کہ وہ ابھی تک گھر نہیں لوٹے ہوں گے اپنے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گۓ… راجا نے کمرے کی چابی نکال کر لاک کھولا… دروازہ کھولتے ہی اسے عجیب سا احساس ہوا… چمد پل رکنے کے بعد وہ محتاط سا اندر داخل ہوا… کچھ تو بدلا بدلا تھا… کمرے کی فضا میں کوئ خوشبو سی رچی بسی تھی… راجا کے ذہن نے فورأ اس خوشبو کو پہچانا تھا… یہ اسی پرفیوم کی خوشبو تھی جو اسد شیرازی استعمال کرتے تھے… بہت بار ان کے پاس کسی کام کے لیے جاتے ہوۓ اکثر یہی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکراتی تھی…لیکن یہ خوشبو آج اس کے کمرے میں کیوں… ؟؟
تو کیا اس کی غیر موجودگی میں اسد شیرازی اس کے کمرے میں آیا تھا…؟؟اگر ہاں تو کیا کرنے…؟؟
سوچتے ہوۓ راجا نے وارڈروب کھولی… وہاں بھی سب کچھ ویسے ہی موجود تھا جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا… وہ باری باری ہر چیز چیک کرنے لگا… سب کچھ جوں کا توں رکھا تھا… ویسے بھی اس کی دانست میں الماری میں ایسا کچھ تھا ہی نہیں کہ جس کے باعث اسد شیرازی شک کر سکتا… وہ تیزی سے بالکونی کی طرف آیا… وہاں تین درمیانے سائز کے گملے پڑے تھے جن میں ان ڈور پلانٹس لگے تھے… ان گملوں کے پیچھے سے راجا نے کچھ نکالا…وہ لیب ٹاپ تھا اس کا… جسے اس طرح سے گملوں کی اوٹ میں کر رکھا تھا کہ کسی کی نگاہ اس پر نہیں جا سکتی تھی… اس کا لیب ٹاپ بھی وہیں موجود ہونے کا مطلب تھا اسد شیرازی کو کچھ نہیں ملا اس کے روم سے… مطمئین ہوتا وہ واپس کمرے میں آیا… لیکن وہ اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا… اسد شیرازی کا اس کے کمرے میں آنے کا مطلب یہ تھا کہ اسے راجا پر شک ہو چکا تھا… راجا کے پاس وقت کم تھا… اور اسے جو بھی کرنا تھا جلد از جلد کرنا تھا…
“ہیلو…” دوپہر کے دو بج رہے تھے جب اسد شیرازی نے فراز آفندی کو کال کی…
“جی انکل… ؟؟” فراز آفندی جینی سے بات کرنے میں مگن تھا تبھی اسد شیرازی کی کال اسے ناگوار گزری تھی…
“تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے… ابھی آدھے گھنٹے میں بلیو مون ریسٹورنٹ پہنچو… ” اسد شیرازی نے مطلب کی بات کی تھی…
“کیا بات کرنی ہے انکل…فون پر ہی بتا دیں نا… میں بزی ہوں ابھی… ” سامنے اسکرین پر نظر آتی جینی کو فلائنگ کس دیتے ہوۓ اس نے فون پر اسد شیرازی سے کہا تھا…
“فون پر بات نہیں ہو سکتی… جلد سے جلد پہنچو جہاں میں نے کہا ہے… ” اسد شیرازی نے خشک لہجے میں کہتے ہوۓ بات ختم کی… فراز آفندی منہ بسور کر رہ گیا…
تقریباً تین بج رہے تھے جب وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے…
“ایسی بھی کیا آفت آ گئ ہے انکل…جو اتنی ایمرجنسی میں بلوایا مجھے… آپ کو پتا بھی ہے آج ہماری واپسی کی فلائٹ ہے… اس کی تیاری بھی کرنی ہے ابھی… ” فراز آفندی کے منہ کے زاویے بگڑے تھے….
“آفت آئ نہیں لیکن آنے والی ہے….کینسل کر دو جانا… میں جمال سے بات کر لوں گا خود…اتنی لمبی پلاننگ خاک میں مل جاۓ گی… سارا کھیل بگڑ جاۓ گا… ایک چھوٹا سا کام کہا تھا تم سے… وہ بھی نہیں کر پاۓ تم… کہا بھی تھا ابیہا کو اپنے پیار کے چنگل میں پھنساؤ کہ وہ کسی اور کی طرف دیکھ بھی نہ پاۓ…لیکن تم…. تمہیں اپنی عیاشیوں سے ہی فرصت نہیں… ” اسد شیرازی کو شدید تپ چڑھی تھی…
“اب میں کیا کروں انکل… وہ ہے ہی اتنی نخریلی سی… ویسے بھی مجھے اس میں کوئ انٹرسٹ ہی نہیں… ایسی گھریلو سی لڑکی…میرے ٹائپ کی نہیں ہے وہ…. ” فراز آفندی کے لہجے میں بیزاریت تھی… اسد شیرازی کا دل چاہا اس کا سر کسی دیوار میں دے ماریں…
“لڑکی گھریلو ہو یا ماڈرن… لڑکی لڑکی ہی ہوتی ہے… اور تمہیں اس میں انٹرسٹ لینے کو کس نے کہا ہے… اس کی دولت میں انٹرسٹ لو… اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو… ساری محنت بے کار جاۓ گی…سر پکڑ کر روتے رہنا پھر… ” اسد شیرازی کے لہجے پر پہلی بار فراز آفندی نے بغور انہیں دیکھا….
“کیا مطلب…؟؟ کچھ ہوا ہے کیا… ؟؟ نکاح کینسل ہو گیا ہے تو کیا ہوا… دوبارہ سے نکاح رکھ لیں نا…. میں تو ابھی اسی وقت تیار ہوں نکاح کے لیے… ” اس نے آخری بات قدرے لاپرواہی سے کہی تھی…
“ہاں لیکن اب لڑکی راضی نہیں ہے تم سے نکاح کے لیے… ” اسد شیرازی نے اس کے سر پر بم پھوڑا…
“کیا…؟؟ لیکن کیوں… جمعہ کو تو راضی تھی… اچھی بھلی پارلر بھی گئ تھی… اب ایک دن میں کیا ہو گیا… ؟؟” وہ بھی پریشان نظر آنے لگا…. اسد شیرازی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسائیں…
“مجھے لگتا ہے اسے ہماری سچائ معلوم ہو چکی ہے… آج وہ وکیل کے پاس بھی گئ ہے… کچھ نہ کچھ تو چل رہا ہے اس کے دماغ میں… میرے سامنے باقاعدہ انکار بھی کر چکی ہے تم سے شادی کے لیے…. اسے تسلی دینے کے لیے میں نے کہہ تو دیا ہے اسے کہ میں تم لوگوں سے معذرت کر لوں گا اس نکاح کے لیے… لیکن مجھے یہ فکر کھاۓ جا رہی ہے کہ وہ سونے کی چڑیا ہمارے ہاتھ سے نکل جاۓ گی… اس سے پہلے اس کے پر کاٹ کر اسے پنجرے میں بند کرنا ہی پڑے گا…” اسد شیرازی کچھ سوچنے لگے تھے…
“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں انکل… کیا چل رہا ہے آپ کے دماغ میں… صاف صاف کہیں نا… کیا پلان ہے آپ کا…؟؟” فراز آفندی نے آنکھیں سکوڑ کر انہیں دیکھا…
اسد شیرازی نے آنکھوں میں شاطرانہ چمک لیے اسے دیکھا…
“پلان یہ ہے کہ آج رات میں راجا کو کسی کام سے بھیجوں گا باہر… رات دس بجے تک ابیہا اپنے کمرے میں جا چکی ہوتی ہے… تم راجا کے واپس آنے سے پہلے پہلے ٹھیک ساڑھے دس بجے ابیہا کے کمرے میں جاؤ گے… اسے اغواء کرو گے…گھر سے کچھ فاصلے پر ایک عدد گاڑی بمع ڈرائیور بھی فراہم کر دی جاۓ گی تمہیں… اپنی گاڑی مت لے کر آنا…
ڈرائیور تمہیں میرے ایک اڈے پر لے جاۓ گا… وہاں لے جاؤ گے تم ابیہا کو…
بس اس کے ساتھ ایک رات گزارنی ہے تمہیں… اس کے دامن کو داغدار کر دو گے تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی… میڈیا پر یہ خبر آنے کے بعد وہ کسی اور سے شادی کرنے کا تو سوچے گی بھی نہیں… دنیا کی نظر میں مجبوراً مجھے اس کی شادی تم سے کروانی پڑے گی… اور نہ چاہتے ہوۓ بھی اسے تم سے ہی شادی کرنی پڑے گی… یوں ہماری پلاننگ بھی کامیاب رہے گی… اس کے بعد تم جب چاہو اس کے ساتھ اپنی راتیں رنگین کرنا…چند ماہ رہ گۓ ہیں اس کی عمر کے تئیس سال پورے ہونے میں… کچھ وقت تو لگے گا اسے سنبھلنے میں… وہ دنیا کے سامنے سر نہیں اٹھا سکے گی…دنیا کا سامنا نہیں کر سکے گی… یہ چند ماہ گزرتے ہی اسے تمہارے ساتھ رخصت کر دیا جاۓ گا…پوری دنیا کے سامنے… دھوم دھام سے…آفیشلی تم ففٹی پرسنٹ کے مالک بن جاؤ گے… باقی ففٹی پر سنٹ میرے نام کروا دینا…اس کے بعد تم جیسا چاہو سلوک کرنا اس کے ساتھ… ” اسد شیرازی نے شیطانی مسکراہٹ لبوں پر جماۓ اسے تمام پلاننگ بتائ تھی… چند لمحوں بعد وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے تھے…
_______
(فلیش بیک…)
ہفتے کا دن….
شام کا وقت تھا…وہ اسد شیرازی کے کسی کام سے ہی گیا تھا… ان کا کام نپٹا کر راحم(اس کے مشن میں شامل ٹیم کا فرد) سے ملاقات کی..
کچھ ضروری باتیں اس سے ڈسکس کیں… اور واپس چلا آیا…
عادتأ قدموں کی چاپ پیدا کیے بغیر ہی وہ اندر داخل ہوا… جب نگاہ سامنے لاؤنج میں بیٹھے اسد شیرازی پر پڑی… وہ اردگرد سے بے گانہ ہوۓ بغور نیوز چینل کو دیکھ رہے تھے… راجا کی جانب ان کی پشت تھی تبھی اسے آتے ہوۓ دیکھ نہ سکے…راجا نے ایک نگاہ سامنے اسکرین پر ڈالی…وہاں رائل ہوٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج چل رہی تھی… جس میں راجا سب انسپکٹر بلاول رضا کو گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا… بے شک اس کا چہرہ واضح نہ تھا لیکن اسد شیرازی کے انداز سے وہ سمجھ گیا تھا کہ جیکٹ سے وہ اسے پہچان گۓ ہیں…اور اب یقیناً اس کی اصلیت جاننے کی کوشش بھی کریں گے…ذہن میں آنے والے وقت کی حکمتِ عملی طے کرتا وہ اسد شیرازی کی نگاہوں میں آۓ بغیر وہیں سے مڑتا واپس جا چکا تھا…
اتوار کا دن…
صبح ابیہا نے جب اسے میسیج کیا کہ وہ ریڈی ہے وکیل کے ہاں جانے کے لیے… وہ فورأ نیچے آیا… اسد شیرازی وہاں موجود نہیں تھے… وہ پہلے ناک کر کے اسد شیرازی کے روم میں آیا…
“وہ…سر… میں کچھ کام سے جا رہا ہوں… ابیہا کے ساتھ… بس آپ سے اجازت لینی تھی… ” وہ کمرے میں داخل ہونے کے بعد مؤدبانہ لہجے میں پوچھ رہا تھا… اسد شیرازی نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا… چند لمحے کچھ سوچتے رہے…
“ہمم….جاؤ…” بالآخر ہنکارا بھر کر اجازت دی… راجا خاموشی سے نکل آیا… مقصد صرف یہ تھا کہ اسد شیرازی جان جاۓ کہ وہ باہر جا رہا ہے…
کچھ ہی دیر بعد وہ گاڑی میں بیٹھا ابیہا کا انتظار کر رہا تھا… توقع کے عین مطابق اسد شیرازی نہ صرف اپنے روم سے باہر نکل آۓ تھے… بلکہ ابیہا سے چند سوالات بھی کیے تھے… اور گھر سے گاڑی نکالتے وقت راجا نے بیک ویو مرر سے اسد شیرازی کی نگاہوں میں موجود آگ کی تپش بھی دیکھی تھی…مسرور سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر مچلی تھی…
پھر وکیل کے گھر کے باہر اس سفید گاڑی والے نامعلوم آدمی کو دیکھ کر بھی راجا سمجھ چکا تھا کہ اسد شیرازی شک میں پڑ چکا ہے…
جب راجا اور ابیہا وکیل کے گھر سے واپس آۓ تب وہ کچھ سوچتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھا… ابیہا پہلے ہی اپنے کمرے میں جا چکی تھی… کن اکھیوں سے اردگرد کا جائزہ لیتے ہوۓ راجا نے لاک میں چابی گھمائ… ساتھ ہی ہینڈل پر بغور کچھ دیکھنے لگا… چند لمحوں بعد اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ بکھری تھی… دروازے کے ہینڈل پر اس نے سیاہی کے چھوٹے چھوٹے نقطے بناۓ تھے… جو بظاہر محسوس نہ ہوتے تھے… لیکن غور سے دیکھنے پر نظر آتے تھے… صبح پانچ بجے راجا نے یہ کارنامہ سر انجام دیا تھا جب اسے یقین تھا کہ سب سو رہے ہوں گے…
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے حوالے سے شک میں مبتلا ہونے کے بعد اسد شیرازی اس کے کمرے کی تلاشی ضرور لینے لے گا…. اور وہ اس بارے میں سب انتظامات کرنے کے بعد ہی ابیہا کے ساتھ نکلا تھا…
اس کی توقع کے عین مطابق اسد شیرازی اس کے روم میں آیا تھا…کیونکہ ہینڈل پر موجود سیاہی کے نشانات ہاتھ کی حرارت محسوس کرتے تھوڑے پھیل سے گۓ تھے…جس کا واضح مطلب تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے روم کو کھولا گیا ہے…
گہری سانس بھرتے ہوۓ اس نے دروازہ کھولا… دروازے کی چوکھٹ پر گلیٹرز کی نامعلوم سی لکیر کو پھلانگتا ہوا وہ اندر داخل ہوا…
اندر داخل ہوتے ہی دوسرا ثبوت ملا تھا اسے اسد شیرازی کی اس کے کمرے میں آمد کا… کیونکہ کمرے میں اس کے مخصوص پرفیوم کی خوشبو پھیلی تھی… راجا نے استہزائیہ مسکراہٹ لیے دہلیز پر موجود گلیٹرز کی اس لکیر کو دیکھا جو اسی نے بنائ تھی… سارا فرش شفاف اور چمکدار ہونے کی وجہ سے وہ لکیر زیادہ واضح نہیں تھی…
راجا نے نیچے بیٹھ کر بغور فرش کو دیکھا… کمرے کے فرش میں کہیں کہیں وہی گلیٹرز نظر آ رہے تھے… بالکل وہیں وہیں جہاں اسد شیرازی کے قدموں کے نشانات تھے… دروازے سے گزرتے وقت یقیناً دہلیز میں موجود لکیر پر اسد شیرازی کا پاؤں آیا تھا… اور یوں جس طرف بھی وہ گیا یا جہاں بھی رکا وہیں اس کے قدم نشان چھوڑ گۓ تھے….
راجا اٹھا… سب سے پہلے بالکونی کی طرف گیا… گلیٹرز کے نشانات اس سمت بھی گۓ تھے… یعنی اسد شیرازی بالکونی کی طرف بھی آیا تھا… راجا دھڑکتے دل کے ساتھ آگے بڑھا… شاید اسد شیرازی بالکونی کا سرسری سا جائزہ لے کر ہی واپس پلٹ گیا تھا….کیونکہ بالکونی کے دروازے سے آگے گلیٹرز کے نشانات نہیں تھے… وہ ان ڈور پلانٹس کی طرف بڑھا… گملوں کے پیچھے اس کا لیب ٹاپ ویسے ہی رکھا تھا جیسے وہ خود رکھ کر گیا تھا…مطلب اسد شیرازی کی نگاہ اس لیب ٹاپ پر نہیں پڑی تھی… وہ لیب ٹاپ لیے واپس کمرے میں آیا…
پھر الماری کی طرف بڑھا…
وارڈروب کھولی… ایک بار پھر طنزیہ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا…
جانے سے پہلے وہ وارڈروب میں پرفیوم کا چھڑکاؤ کر کے اسے بند کر گیا تھا… اب وہاں پرفیوم کی بالکل ہلکی سی خوشبو موجود تھی جس کا مطلب یہی تھا کہ اس کے آنے سے پہلے اسد شیرازی اس کی وارڈروب کو کھول چکا ہے… اور اچھی طرح تلاشی بھی لی جا چکی تھی… ورنہ اگر وارڈروب کھولی نہ گئ ہوتی تو اب راجا کے کھولنے پر وارڈروب سے خوشبو کا ایک تیز جھونکا تو اس کے نتھنوں سے ضرور ٹکراتا…
راجا نے اپنی ہڈ والی جیکٹ کو چھوا…وہ جان بوجھ کر اس جیکٹ کو یہاں سامنے لٹکا کر گیا تھا تاکہ اسد شیرازی کا شک یقین میں بدل جاۓ کہ وہی ہے جس نے سب انسپکٹر کو مارا…
جیکٹ کی جیب سے راجا نے اپنا کارڈ نکالا… SSG کا کارڈ…جس میں وہ اصل حلیے میں موجود تھا… احتیاط سے اس کارڈ کو پکڑ کر راجا نے آنکھوں کے قریب کیا…وہ اس کارڈ پر ایک خاص مائع لگا کر گیا تھا… جو بظاہر نظر نہیں آ رہا تھا لیکن کوئ بھی اسے چھوتا تو خشک ہونے کے بعد اس پر فنگر پرنٹس واضح ہو جاتے… اسد شیرازی اس بات سے انجان اس کارڈ کو پکڑ چکا تھا… اس پر سے سب کچھ پڑھ کر راجا کی اصلیت جان چکا تھا اور اس کا ثبوت تھا کارڈ پر ظاہر ہوتے اس کے وہ فنگر پرنٹس…
راجا نے وارڈروب کا دوسرا دروازہ کھولا…
اندرونی دراز میں جھانکا…وہاں کچھ پیپرز پڑے تھے…. وہی راجا کے نام کے نقلی ڈاکومینٹس کی کاپیز… جو اسد شیرازی کے پاس نوکری حاصل کرنے اور ابیہا کے گارڈ بننے سے پہلے اس نے اسد شیرازی کو جمع کرواۓ تھے… راجا نے ان پیپرز کو جس پوزیشن میں رکھا تھا اب اس پوزیشن سے ذرا سے ہلے ہوۓ تھے پیپرز… ان پیپرز سے بھی چھیڑ چھاڑ کی گئ تھی… اس نے پیپرز نکالے… ان پر انگلیوں سے پکڑنے کے باعث نامحسوس سی سلوٹیں پڑی تھیں…
راجا نے پچپن میں اینجل کے بناۓ گۓ اسکیچز نکالے… ان کی ترتیب بھی بدلی ہوئ تھی… اسد شیرازی نے ہر ہر چیز کی تلاشی لی تھی…
بیڈ شیٹ بھی تھوڑی بے ترتیب سی ہو رہی تھی… نہ جانے کب تک اسد شیرازی اس کے روم میں رہا تھا…
آخر میں راجا نے سب سے اوپر بنے ایک خانے میں جھانکا… جہاں تہہ شدہ کپڑے رکھے تھے… وہاں سب سے نیچے راجا کی وہی قمیض رکھی تھی جو اسے بچپن میں اینجل نے گفٹ کی تھی…اور وہ اب تک اسے سنبھالے ہوۓ تھا… راجا نے احتیاط سے اس قمیض سمیت سبھی تہہ شدہ کپڑے اٹھاۓ… جہاں اس نے وراڈروب کے ہم رنگ چاک سے ایک لکیر کھینچی تھی… اسد شیرازی نے باقی سب کپڑوں کے نیچے موجود راجا کی اس قمیض کو کھینچا تھا جس کی وجہ سے لکیر اب کچھ جگہوں سے مٹی ہوئ تھی…
راجا نے پرسوچ نظروں سے اس لکیر کو دیکھا… جیسا راجا نے سوچا تھا بالکل ویسا ہی ہوا… یقیناً اسد شیرازی اس کی حقیقت جان چکا تھا… اور اس وقت وہ شدید غصے میں بھی ہو گا راجا کا دوسرا روپ جان کر… اب وہ کوئ نہ کوئ حکمت عملی تو ضرور اپناۓ گا… جلد سے جلد اپنی اتنی لمبی پلاننگ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرے گا… اور یہی راجا چاہتا تھا….راجا اب اس کی طرف سے کسی وار کے انتظار میں تھا… اور جاننا چاہتا تھا کہ اتنے نقصانات کے بعد اب اسد شیرازی کونسا راستہ اختیار کرتا ہے…
“تم جتنی مرضی چالیں چل لو اسد شیرازی…لیکن ابتہاج آفندی کو خود سے دو قدم آگے ہی پاؤ گے… اور اس بار تم میرے شکنجے میں اتنی بری طرح پھنسے ہو کہ لاکھ پھڑپھڑا لو… آزادی نہیں مل پاۓ گی تمہیں… تم میرے پیچھے اپنے بندے لگاؤ…میں تمہارے پیچھے لگاتا ہوں… دیکھتے ہیں پھر… اس کھیل میں کس کی جیت ہوتی ہے اور کس کی مات…” آنکھوں میں سردمہری لیے راجا تصور میں اسد شیرازی سے مخاب ہوتا ہوا بڑبڑایا تھا…
اسد شیرازی کو اڑھائ بجے کے قریب گھر سے نکلتے دیکھ کر راجا چونکا تھا…
اس کے نکلتے ہی اس نے کسی کو فون ملایا….
“سنو… اسد ابھی نکلا ہے یہاں سے… اسے فالو کرتے رہو… اور پتا لگاؤ وہ کہاں جا رہا ہے… یقیناً وہ کچھ نہ کچھ پلان کر رہا ہے… ہر بات مجھے بتاتے رہنا… اب ذرا سی بھی غفلت افورڈ نہیں کر سکتے ہم… سو بی کئیر فل… “
چند لمحے دوسری جانب سے کوئ بات سنی… پھر دوبارہ مخاطب ہوا…
“ہاں وہ جان چکا ہے سب… ہماری اب تک کی پلاننگ کامیاب رہی ہے… اب وہ اگلے کسی اقدام کی تیاری میں ہے… “
اس نے رک کر مقابل کی بات سنی…پھر اوکے کہتے ہوۓ کال ڈس کنکٹ کر دی…
