Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29
اگر اب اس لڑکی کو کبھی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا … تو تم دونوں کی جان لے لوں گا…سمجھے تم لوگ…. “انگلی اٹھا کر چبا چبا کر کہتے اس نے انہیں وارن کیا تھا… عبدالواحد پریشان سے اپنے بھیتیجے پر جھک گۓ…راجا کی نظریں ایک سمت اٹھیں…دیوار سے کچھ فاصلے پر ابیہا کا دوپٹا گرا ہوا تھا… جو پنز سی سیٹ تھا,اور وحشیانہ انداز میں کھینچنے کی وجہ سے ایک جانب سے تھوڑا سا پھٹ گیا تھا… راجا نے وہ دوپٹا اٹھایا… اور قدم قدم چلتا ابیہا کی طرف بڑھنے لگا…ابیہا کی نظریں بھی نیچے گرے درد سے کراہتے حامد پر تھیں… جب اس کے سر پر دوپٹا دیا گیا… وہ چونک کر سامنے دیکھنے لگی…جہاں راجا کھڑا تھا… راجا کی نگاہ اس کی صراحی دار گردن پر نیکلس کھینچے جانے کی وجہ سے بنے زخم پر پڑی…اگلے ہی پل وہ لب بھینچ کر نگاہیں چراتا دوپٹا اس کے وجود پر پھیلاتا اس سے دور ہوا… ابیہا بھی لب کاٹتی سر جھکا گئ…
راجا نے قہر بار نگاہ عبدالواحد اور حامد پر ڈالی… شاید یہ قدرت کی طرف سے ان دونوں کے لیے سزا تھی کہ وہ اپنے انتقام کی آگ میں اندھے ہوتے ایک بے گناہ معصوم لڑکی کی جان لینے جا رہے تھے…اگر راجا کو چند لمحوں کی بھی دیر یو جاتی تو وہ دونوں یقیناً اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو چکے ہوتے…
“چلیں…” راجا نے نگاہوں کا رخ موڑا…پھر ابیہا سے مخاطب ہوا… ابیہا سر جھکاۓ آگے بڑھ گئ تو راجا نے بھی اس کی تقلید کی…
تم اگر بکھر جاؤ…
بے بسی میں گھر جاؤ…
دل سے اک صدا دینا…
بس مجھے بلا لینا…
میں تمہیں سنبھالوں گا…
زندگی میں چلنے کا…
راستہ بدلنے کا…
گر کے پھر سنبھلنے کا…
اک ہنر سکھا دوں گا…
تم کو حوصلہ دوں گا…
اور جب سنبھل جاؤ…
روشنی میں ڈھل جاؤ…
مجھ کو یوں صلہ دینا…
تم مجھے بھلا دینا…
تم مجھے بھلا دینا…
راجا نے گھر جاتے ہوۓ راستے میں ایک میڈیکل اسٹور پر گاڑی روکی… وہ ابیہا کو ہاسپٹل لے جانا چاہ رہا تھا لیکن ابیہا بس گھر جانا چاہ رہی تھی اس وقت… اس نے ہاسپٹل جانے سے انکار کر دیا…
راجا اسے اس حال میں گھر نہیں لے جانا چاہتا تھا…تبھی میڈیکل اسٹور کے قریب گاڑی روک کر وہ اترا… “میں آتا ہوں دو منٹ میں… گاڑی میں ہی بیٹھی رہیے گا… ” اس نے نرم لہجے میں کہا تو ابیہا اثبات میں سر ہلا کر اپنے ناخنوں کو دیکھنے لگی…
کچھ ہی دیر بعد راجا کچھ ضروری سامان لیے واپس آیا… وہ فرسٹ ایڈ کی کچھ ضروری چیزیں تھیں… اور ایک پانی کی بوتل…
وہ دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھا… تمام چیزیں ڈیش بورڈ پر رکھیں… ابیہا ابھی بھی ناخنوں کی طرف ہی متوجہ تھی…
“ادھر دیکھیں…” چند لمحوں بعد راجا نے اسے مخاطب کیا… ابیہا نے نگاہیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا… وہ رو رہی تھی… چہرے پر آنسو پھسل رہے تھے… راجا بغیر کچھ کہے روئ کی مدد سے اس کے ہونٹوں کے کنارے لگا خون صاف کرنے لگا… ابیہا آنکھیں بند کر گئ…
“یہ آنسو کس لیے…؟؟” راجا نے اس کی بند آنکھوں کر دیکھ کر سوال کیا تھا… ابیہا نے آنکھیں کھولیں… راجا بھی اسی کی طرف متوجہ تھا… نگاہوں کا تصادم ہوا…اگلے ہی پل ابیہا نگاہیں جھکا گئ…
راجا اس کا زخم صاف کر کے پیچھے ہوا… اسے پانی کی بوتل دی… ابیہا نے خاموشی سے بوتل پکڑ کر کھولی… چند گھونٹ پانی حلق سے اتارا…پھر بوتل ڈیش بورڈ پر رکھ دی… راجا اپنی بات کا جواب نہ پا کر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا…
“آئم سوری…” کافی دیر کی خاموشی کے بعد بالآخر ابیہا نے زبان کھولی… راجا نے ایک نظر اس کے جھکے سر کو دیکھا… پھر دھیان ڈرائیونگ پر مرکوز کر لیا… “سوری کس لیے…؟؟” اس نے سادہ سے لہجے میں پوچھا تھا… ابیہا نے پھر چند لمحوں کا توقف کیا… “تمہیں غلط سمجھنے کے لیے… تمہاری وضاحتیں نہ سننے کے لیے اور…اور تم سے نفرت کرنے کے لیے… ” وہ دھیمی آواز میں بولی تھی… راجا بمشکل سن پایا… اس کی بات سن کر ایک تھکی تھکی سی مسکراہٹ راجا کے لبوں پر نمودار ہوئ…
“تو کیا میں یہ سمجھوں… کہ اب آپ مجھے درست سمجھنے لگی ہیں… اور یہ بھی کہ… اب آپ کی نفرت پر آپ کی محبت غالب آنے لگی ہے… ؟؟” راجا کی آواز بھی دھیمی تھی… اس نے دانستہ ابیہا کی طرف دیکھنے سے گریز برتا… ابیہا اضطرابی کیفیت میں انگلیاں چٹخانے لگی… راجا نے اس کی اس حرکت پر پھر ایک نظر اسے دیکھا… اس نے کوئ جواب نہیں دیا تھا… وہ بھی خاموش سا ہو گیا…
“شاید آپ اسد شیرازی کے بارے میں سب جان گئ ہیں… اگر ایسا ہے تو فی الحال اس کے سامنے اس کا اظہارت کیجیے گا… ورنہ وہ آپ کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا سکتا ہے… وقت آنے ہر قدرت اسے خود سزا دے گی اس کے کیے کی… ” کافی دیر بعد راجا نے ناصحانہ انداز میں ابیہا کو مخاطب کیا تھا…جس پر وہ ہلکا سا اثبات میں سر ہلا کر باہر نظریں جما گئ…
اسد شیرازی پریشانی سے مسلسل ادھر ادھر چکر لگا رہے تھے… سب مہمانوں کو انہوں نے بہانہ بنا کر رخصت کر دیا تھا… بس فراز آفندی اور مرزا جمال آفندی کو ہی ابیہا کے اغواء ہونے کی خبر دی گئ تھی… اور فراز آفندی اس خبر کو سن کر تلملا کر رہ گیا… دوسری بات جس نے اسے سب سے زیادہ تکلیف دی تھی وہ تھا راجا کو ابیہا کی تلاش میں بھیجنا…
فراز آفندی جو دولت کے حسین سپنے سجاۓ نکاح کے انتظار میں بیٹھا تھا وہ جوش جذبات میں خود ابیہا کو ڈھونڈنے کے لیے جانا چاہتا تھا لیکن مرزا جمال آفندی نے اسے سمجھا بجھا کر خاموش کروا دیا کہ وہ اتنا عرصہ دبئ میں رہا ہے… اسےیہاں کے رستوں کا کیا پتا…. پہلے تو گاؤں میں رہا کرتا تھا…اور وہاں سے دبئ چلا گیا… کہاں خوار ہوتا پھرے گا…ویسے بھی خدا جانے ابیہا کو کون پکڑ کر لے گۓ… کون نہیں… ہم کیوں پراۓ پھڈے میں ٹانگ اڑائیں…
اسد شیرازی نے اپنے اور بھی کچھ بندے بھیجے تھے ابیہا کی تلاش میں لیکن وہ ناکام لوٹے تھے… اسد شیرازی مسلسل راجا کو کال کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس کا فون سوئچ آف آ رہا تھا… اور یہی بات انہیں رہ رہ کر غصہ دلا رہی تھی… دل چاہ رہا تھا راجا ان کے سامنے آۓ تو وہ اس کا گلا دبا دیں…
مرزا جمال آفندی اور فراز آفندی بھی بالآخر چلے گۓ…. اسد شیرازی کو کسی پل چین نہ تھا… انہیں یہ فکر نہ تھی کہ ابیہا کیسی ہو گی…کس حال میں ہو گی… اس کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہو گا… انہیں فکر تھی تو صرف یہ کہ ابیہا کے ساتھ چاہے کچھ بھی ہو بس وہ زندہ رہے… کیونکہ اس کی زندگی سے ہی اسد شیرازی کی زندگی کا مقصد جڑا تھا… کامیابی کے اتنا قریب آ کر وہ خود کو ہارتے ہوۓ نہیں دیکھنا چاہتے تھے….
رات کے ساڑھے بارہ بجے کے قریب باہر گاڑی کا ہارن سنائ دیا… وہ جلدی سے کھڑکی کی جانب آۓ… مین گیٹ سے گاڑی اندر داخل ہو رہی تھی… وہ وہی گاڑی تھی جس پر راجا گیا تھا… اسد شیرازی بے چینی کے عالم میں تیزی سے باہر آۓ… برق رفتاری سے سیڑھیاں اترتے وہ ان لوگوں کے اندرونی دروازے تک آنے سے پہلے ہی خود وہاں ہہنچ گۓ… راجا کے ساتھ ابیہا کو آتے دیکھ کر یک گو نہ سکون پہنچا تھا…ابیہا اب پہلے سے بیتر حالت میں تھی…. “ابیہا…میری بچی…کیسی ہو…؟؟ ٹھیک ہو نا تم…کہاں چلی گئ تھی…پتا ہے کتنا پریشان ہو گیا تھا میں… ” اسد شیرازی نے اپنے لہجے میں مصنوعی رقت سموتے ہوۓ ابیہا کو گلے سے لگایا… ابیہا کا دل چاہا گریبان سے پکڑ کر اس سے ہر ایک بات کا حساب لے… پوچھے اس سے کہ کیا کرے گا اتنی دولت کا جو اس دولت کی خاطر لوگوں کے خون کی ندیاں تک بہانے کو تیار ہے…لیکن راجا کی آنکھ کے اشارے کو سمجھ کر وہ خاموش رہی… سارے آنسو اندر اتار لیے… چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کوشش میں ناکام رہی… اسد شیرازی نے اپنی خوشی میں ابیہا کے سردو سپاٹ انداز کو محسوس نہ کیا تھا…
“راجا…کون تھے وہ لوگ… جن کی اتنی ہمت ہوئ کہ اسد شیرازی کی بیٹی کو کڈنیپ کیا…. بتاؤ… صبح تک دیکھنا کیسا مزہ چکھاتا ہوں میں انہیں… ” اسد شیرازی نے گویا ابیہا کو تسلی دینی چاہی تھی… اس کے سامنے اپنا امیج بنانا چاہا تھا… نہیں جانتا تھا کہ وہ اس کے اصلی روپ سے اچھی طرح واقف ہو چکی ہے…
“آپ فکر مت کیجیے سر… انہیں مزہ چکھا کر ہی آیا ہوں میں…اب اندر چلیں…”راجا جانتا تھا کہ ابیہا نے اگر کچھ کہنے کی کوشش کی تو منہ سے الفاظ بعد میں نکلیں گے پہلے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ جائیں گے… تبھی فورأ آگے بڑھ گیا… ابیہا تیز قدموں سے چلتی ان سے پہلے ہی اندر داخل ہو چکی تھی… گھر کے اندرونی ہال کی سجاوٹ دیکھ کر اس کے قدم رکے تھے… سلگتی نگاہوں سے وہ ان پھولوں کو دیکھ رہی تھی جو اب مرجھانے لگے تھے…بالکل اس کے وجود کی طرح… راجا نے بھی اسے رکتے دیکھ لیا تھا… تبھی اس کی نظروں کے تعاقب میں نگاہیں اٹھائیں… وہ اسٹیج کی طرف دیکھ رہی تھی…اس جگہ جہاں شام کے وقت راجا کھڑا اسٹیج ڈیکوریٹ کرنے میں مدد کر رہا تھا…
راجا نے ابیہا کی نگاہوں میں کانچ کی کرچیاں سی بکھرتی دیکھیں… چند پل کے بعد ابیہا مڑی… اور بھاگتی ہوئ سیڑھیاں چڑھتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ…
“اسے کیا ہوا…؟؟” اسد شیرازی کے لہجے میں خدشات سر اٹھانے لگے تھے…
“کچھ نہیں سر… اسٹریس کی وجہ سے ذہنی طور پر تھک گئ ہیں شاید…کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کیا نا پہلے انہوں نے… فی الوقت آرام کی ضرورت ہے انہیں… فکر مت کریں… صبح تک ٹھیک ہو جائیں گی… آپ بھی آرام کریں… ” اپنی بات مکمل کرتے ہوۓ راجا بھی اپنے روم کی جانب بڑھ گیا… جبکہ اسد شیرازی پرسوچ نگاہوں سے ابیہا کے کمرے کے بند دروازے کو تکنے لگے…
________
بج رہے تھے…باہر ابھی تک اندھیرے کا راج تھا… دور کہیں سے فجر کی اذان کی آواز سنائ دینے لگی… راجا بستر سے اٹھ بیٹھا… اذان سن کر اس کا جواب دیتے ہوۓ اس کا چہرہ پرسکون تھا…بے شک کل کا دن بہت فرسٹریشن میں گزرا تھا لیکن اب وہ کافی مطمئین تھا…
اذان سے کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر وضو کی نیت سے اٹیچ باتھ کی جانب بڑھ گیا… سکون اور تسلی سے فجر کی نماز ادا کی… پھر کچھ سوچ کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا اپنا سیل فون اٹھایا…
ابیہا کپڑے چینج کر چکی تھی… اپنا حلیہ بھی درست کر لیا تھا… سونے کی بہت کوشش کی اس نے…لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی… فجر کی اذانیں سنائ دینے لگیں تو وہ اٹھ بیٹھی… دوپٹے سے بالوں کو ڈھکتے ہوۓ وہ پوری توجہ سے اذان کی آواز سن رہی تھی… لب بے ساختہ اذان کے الفاظ دہرانے لگے… آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوئیں تھیں… نہ جانے کتنا عرصہ ہو گیا تھا اسے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوۓ… اپنی زندگی کے ہونے والے حادثات کی وجہ سے وہ اپنی دانست میں اللّہ سے ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی… جو کچھ کھویا اس پر غمگین تھی…لیکن رب تعالٰی نے جو کچھ عطا کیا اس کا شکر ادا کرنا بھول گئ تھی… اسے نہ جانے کیوں لگتا کہ اللّہ اس سے محبت نہیں کرتا…ورنہ اتنی اذیتیں اس کے مقدر میں کیوں لکھی جاتیں… یہی تو مسئلہ ہوتا ہے ہم انسانوں کا… ناسمجھ اللّہ پاک کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتے… مایوس ہو کر ناشکرے پن کو اختیار کرتے ہیں… یہ جانتے بوجھتے ہوۓ بھی کہ اگر ہم اس کی عبادت نہیں کریں گے تو اس سے اس ذات اعلٰی کو تو کوئ فرق نہیں پڑے گا…نقصان تو ہمارا ہی ہو گا…
آج ابیہا کو احساس ہو رہا تھا اپنی غفلتوں اور اپنی گمراہی کا… اللّہ اس سے محبت نہ کرتا تو اسے اسد شیرازی اور فراز آفندی جیسے حیوانوں کی اصلیت سے کبھی آگاہی نہ بخشتا… وہ اس بات پر جتنا بھی شکر ادا کرتی رب کا اتنا ہی کم تھا…
آنکھوں کو رگڑ کر آنسو صاف کرتی وہ ایک جذبے سے اٹھی… چند لمحوں بعد وہ وضو کر رہی تھی… پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کر کے اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ… سمجھ میں ہی نہ آیا کہ کیا کہے…کیا دعا مانگے… اشکوں سے بھیگے چہرے کے ساتھ اس نے اپنے پچھلے تمام گناہوں کی معافی مانگی… اور آئندہ زندگی میں بہترین راستہ دکھانے کی دعا مانگتے ہوۓ جاۓ نماز سمیٹ دیا… دل یکایک سکون سے بھر گیا تھا… ساری تلخی,ساری بے سکونی ہوا ہو گئ تھی… اپنی آئندہ زندگی کے حوالے سے جو خدشات اور جو خوف اس کے ذہن میں سرسرا رہے تھے وہ بھی ختم ہو گۓ…. سب کچھ ربِ تعالٰی کے سپرد کرتی وہ بالکل مطمئین ہو چکی تھی…
بیڈ کی جانب آتے ہوۓ اس کی نگاہ ڈریسنگ ٹیبل پر موجود اپنے سیل پر پڑی… یہ سیل پارلر میں ہی رہ گیا تھا جب اسے اغواء کیا گیا… اور شاید زینی نے ہی لا کر یہاں رکھ دیا ہو گا… ڈھیلے قدموں سے چلتی وہ ڈریسنگ کی طرف آئ… ایک نگاہ اپنے عکس پر ڈالی… حجاب میں لپٹا اس کا چہرہ پرنور لگ رہا تھا… ایک روشنی سی تھی جس نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا تھا… آج سے پہلے اس نے کبھی حجاب نہیں لیا تھا…لیکن آج خود کو آئینے میں دیکھ کر احساس ہوا تھا کہ گلے میں دوپٹا اور کھلے بالوں کی بجاۓ حجاب میں انسان زیادہ حسین اور باوقار نظر آتا ہے… چند ثانیے وہ خود کو یونہی تکے گئ…دل بے اختیار ہی راجا کے اس کی زندگی میں آنے سے پہلے والی ابیہا کا موجودہ ابیہا سے موازنہ کرنے لگا…اور چند ہی لمحوں میں فیصلہ ہو چکا تھا…موجودہ ابیہا ہر لحاظ سے ماضی کی ابیہا پر سبقت لے گئ تھی…
ہلکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر در آئ… موبائل پکڑ کر وہ بیڈ کی طرف آئ… چارجنگ پر لگانے لگی تھی جب میسیج ٹیون سنائ دی… ابیہا کی نظریں اسکرین کی جانب اٹھیں… چارجر سوئچ میں لگاتے اس کے ہاتھ تھمے… سامنے راجا کے نام کا میسیج جگمگا رہا تھا… اس کا مطلب وہ بھی جاگ رہا تھا… نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباۓ ابیہا نے انگلی سے اسکرین ٹچ کرتے ہوۓ پیغام کھولا… “آج آپ یونیورسٹی جائیں گی… ” ابیہا نا سمجھی سے ان الفاظ کو دیکھے گئ… پتا نہیں پوچھا گیا تھا یا بتایا گیا تھا اسے… کچھ سوچتے ہوۓ ابیہا نے اس کے نمبر پر کال ملائ… دوسری بیل پر ہی کال ریسیو کر لی گئ تھی…
“معذرت چاہتا ہوں ڈسٹرب کرنے کے لیے… “راجا نے نرم لہجے میں اسے مخاطب کیا تھا… دراصل وہ یہ بھی جاننا چاہ رہا تھا کہ ابیہا کی حالت اب کیسی ہے… معلوم تھا اسے کہ وہ خاصی جذباتی سی لڑکی ہے… کہیں ابھی تک رونے میں ہی نہ مشغول ہو یہی سوچ کر اس نے میسیج کر ڈالا تھا….
“نہیں… ڈسٹرب نہیں ہوئ میں… کیا کہہ رہے تھے میسیج میں…؟؟ مجھے سمجھ نہیں آئ… ” ابیہا نے بیڈ پر بیٹھ کر بلینکٹ گھٹنوں تک پھیلایا… حجاب ڈھیلا کیا…
“ہاں وہ میں نے خود کال اس لیے نہیں کی مبادہ آپ سو رہی ہوں تو کہیں میری وجہ سے نیند خراب نہ ہو جاۓ… اس لیے میسیج کر دیا کہ جب آپ اٹھیں گی تب میسیج دیکھ کر ریپلاۓ کر دیں گی… میں یہی کہہ رہا تھا کہ آپ آج یونیورسٹی چلی جائیں… ” راجا نے دھیمے لہجے میں اپنے میسیج کرنے کی وضاحت کرتے ہوۓ مدعا بیان کیا…
“اٹس اوکے…میں ویسے بھی جاگ رہی تھی… اسی لیے خود کال کر لی… اور رہی بات یونیورسٹی کی…تو آج جانے کا موڈ نہیں ہے میرا… اصل میں کل کے اس واقعے سے سنبھل نہیں پا رہی اب تک… ذہنی پریشانی نے تھکا دیا ہے تو آج شاید نہ جا پاؤں… ” ابیہا کا لہجہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس کے دل کی دنیا بدل چکی ہے… نفرت کی دھند چھٹنے کے بعد محبت قوس قزاح کے خوبصورت رنگوں کی طرح واضح ہونے لگی تھی… وہ لہجہ جس میں پہلے آگ کی سی تپش ہوتی تھی اب وہی لہجہ نرمی لیے ہوۓ تھا…
“صحیح…لیکن میں سوچ رہا تھا کہ آپ آج یونیورسٹی چلی جاتیں تو بہتر تھا… وہاں فرینڈز کے ساتھ آپ کا دل بھی بہل جاتا… اگر ان حالات میں گھر میں رہیں گی تو آپ کے چیرے, آپ کے رویے سے اسد شیرازی آپ کے دل کی بات جان سکتا ہے… اگر اسے معلوم پڑ گیا کہ آپ اس کے بارے میں سب کچھ جان چکی ہیں تو وہ آپ کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرے گا… فی الحال یہ بات اس کے سامنے نہ ہی آۓ تو اچھا ہے… ” راجا نے آئندہ کی پلاننگ کر لی تھی اور وہ یہی چاہتا تھا کہ ابیہا اسد شیرازی کے سامنے کم سے کم رہے…
ابیہا چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گئ… وہ کسی سوچ میں گم تھی…
“آپ سن رہی ہیں میری بات…؟؟ میں فورس نہیں کروں گا آپ کو…لیکن میرے خیال میں یہی بہتر ہے…باقی آپ جو مناسب سمجھیں…” راجا کو لگا شاید ابیہا برا مان گئ ہے تبھی وضاحتی انداز اپنایا تھا…
“ٹھیک ہے…صبح ساڑھے نو پورچ میں آ جانا… “ابیہا نے کہہ کر کال کاٹ دی…
صبح کے نو بج رہے تھے… اسد شیرازی ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے جب ابیہا پنک ٹراؤزر اور گھٹنوں تک آتی شرٹ کے ساتھ اسکن کلر کے دوپٹے کا نفاست سے حجاب کیے اپنا بیگ اور کتابیں لیے سیڑھیاں اترتی دکھائ دی… اسد شیرازی نے ہیل کی ٹک ٹک سن کر اخبار چہرے کے سامنے سے ہٹائ… ابیہا پر نظر پڑتے ہی آنکھوں میں واضح حیرانگی در آئ… سر سے پیر تک اسے دیکھا تھا… اس سے پہلے اسے دوپٹے کے بغیر یا گلے میں رسی کی مانند دوپٹا لٹکاۓ ہی دیکھا تھا کیونکہ ہائ سوسائٹی میں یہی طریقۂ زندگی تھا… لیکن آج اسے یوں اپنے وجود کو ڈھکے ہوۓ دیکھ کر اسد شیرازی کا حیران ہونا بنتا بھی تھا… بھلا اس تبدیلی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے… وہ ٹھوڑی تلے ہاتھ جماۓ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے… دوسری بات جس نے انہیں سوچنے ہر مجبور کیا وہ اس کا کتابیں اور بیگ لے کر آنا تھا… اسد شیرازی کے اندازے کے مطابق اب وہ تقریباً ایک ہفتے تک تو اپنے کمرے میں بند رہنے والی تھی…لیکن وہ اتنی جلدی سنبھل جاۓ گی یہ انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا… خیر…اس کا جلدی سنبھل جانا بھی ایک خوش آئند بات تھی ان کے لیے…کہ یوں جلد اس کا نکاح فراز آفندی کے ساتھ کروایا جا سکتا تھا…
“گڈ مارننگ بیٹا… ” اسد شیرازی اٹھ کھڑے ہوۓ تھے اسے آتا دیکھ کر… ابیہا نے ایک نظر انہیں دیکھا…. دل میں کہیں ٹیس سی اٹھی تھی اپنے پیرنٹس کے قاتل کو یوں خوش اور مطمئن دیکھ کر…پتا نہیں ان جیسے لوگوں کا ضمیر کیسے انہیں جینے دیتا ہے…وہ نفرت سے سوچ رہی تھی… “ابیہا…کیا ہوا بچے… کن سوچوں میں گم ہو… ؟؟” اسد شیرازی نے جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھا…ابیہا چونکی… پھر بمشکل اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائ… “کچھ نہیں ڈیڈ… ” بڑی دقت سے لفظ ‘ڈیڈ’ ادا کر کے وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ…نگاہیں جھکا کر آنکھوں میں آئ نمی کو چھپایا تھا… اسد شیرازی کی نگاہیں اس کی پیشانی پر بنے زخم پر پڑیں… حجاب کے باوجود وہ زخم چھپ نہیں پایا تھا… وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتے تھے ابیہا سے لیکن اس کا سرد سا رویہ انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا… وہ بغور ابیہا کا چہرہ پڑھ رہے تھے… انہیں کچھ کھٹکنے لگا تھا… دل ہی دل میں اندازے لگاتے وہ بھی ناشتے میں مشغول ہو چکے تھے… چند نوالے لینے کے بعد ابیہا اٹھی… بیگ پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا جب اسد شیرازی نے ناشتے سے ہاتھ روک کر اسے دیکھا…
