Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12

حیران ہوتے ہوۓ وہ بڑبڑایا… پھر تیزی سے دروازے کی جانب بڑھا… اس کے کلب سے نکلنے تک ابیہا نہ جانے کہاں غائب ہو چکی تھی… “ڈیم اٹ… سلی گرل…” اپنے ہاتھ پر مکا رسید کرتے ہوۓ اس نے اشتعال کم کرنا چاہا…تیزی سے پارکنگ کی جانب بڑھا کہ شاید وہ گاڑی میں بیٹھ گئ ہو… لیکن پارکنگ بھی سنسان تھی… ابیہا کو وہاں نہ پا کر وہ شدید پریشان ہو گیا… دوبارہ کلب کی طرف آیا اور کلب کے سامنے جاتی سڑک پر بڑھا… یہ مین روڈ تھی جہاں رات کے اس وقت ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی… کبھی کبھار کوئ گاڑی اردگرد پھیلے سناٹے کو چیرتی ہوئ گزرتی اور پھر ویسی ہی خاموشی چھا جاتی… جس سمت انہیں جانا تھا وہاں دور دور تک ابیہا دکھائ نہیں دے رہی تھی… آج کل تو ویسے ہی ہر جگہ انسان کم بھیڑیوں کا ہی سامنا ہوتا تھا… اتنی رات گۓ وہ اکیلی لڑکی اگر غلط لوگوں کے ہاتھ لگ گئ تو… یہ سوچ کر وہ مزید پریشان ہوا… شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے پیشانی مسلی… اگر ابیہا کو کچھ ہوا تو اسد شیرازی مجھے نہیں چھوڑے گا… اور جو اتنی محنت سے پلان بنایا وہ سب پلان بھی خراب ہو جاۓ گا… نہیں مجھے ابیہا کو ڈھونڈنا ہے ہر حال میں… جس کھیل کا میں کھلاڑی بن چکا ہوں اس کھیل کو بگاڑنے کا رسک کسی صورت نہیں لے سکتا میں… وہ دل ہی دل میں خود سے کہتا ہوا تیزی سے مخالف سمت میں بڑھ گیا… سنسان سڑک پر اس کے بھاگتے قدموں کی چاپ واضح سنائ دے رہی تھی… “ابیہا…” پہلی بار اس نے ابیہا کو اس کے نام سے پکارا تھا… اس کی آواز گونج کر رہ گئ لیکن جواب نہیں ملا تھا… وہ تیز قدموں سے چلتا اردگرد دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا جب اس سے کافی فاصلے پر ایک لڑکی جاتی دکھائ دی… اس کی ڈریسنگ سے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ ابیہا ہے… “ابیہا…لسن…” وہ بھاگتا ہوا اس کے پیچھے لپکا… اس کی آواز اپنے عقب میں سن کر ابیہا نے اپنی رفتار تیز کر لی تھی… “ابیہا… پلیز رکیں تو سہی…ہوا کیا ہے…؟؟” راجا کا لہجہ خلاف توقع نرم تھا… جانتا تھا وہ غصے میں ہے اور اس وقت ترش لہجے میں بات کرنے سے معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے… “ابیہا… اسٹاپ…” اس نے ایک بار پھر اسے پکارا تھا… تبھی وہ ایک جھٹکے سے مڑی… “جسٹ گو ٹو ہیل… ڈونٹ فالو می… آئ ول کل یو… ” وہ پہلی بار اتنی بری طرح بی ہیو کر رہی تھی… اس کی آواز میں آنسوؤں کی آمیزش تھی… یقیناً سر جھکا کر چلتے ہوۓ وہ رو رہی تھی… چلا کر اسے جواب دیتے ہوۓ وہ پھر سے آگے بڑھنے لگی… راجا نے لب بھینچے… پھر اپنی رفتار مزید تیز کرتے ہوۓ وہ چند لمحوں میں اس کے سر پر پہنچ چکا تھا… اسے بازو سے تھام کر اپنی جانب کھینچا…. ابیہا کو غالباً اس سے اس حرکت کی امید نہیں تھی تبھی کچی ڈور کی مانند اس کی طرف کھینچی چلی آئ… “میری بات سنیں…” راجا نے اپنے لہجے کو حتی الامکان نارمل رکھنا چاہا… ابیہا نے اشتعال سے اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنے بازو کو گرفت میں لیے ہوۓ اس کے ہاتھ کی طرف… راجا اس کی نظروں کا مفہوم سمجھ گیا تھا تبھی اس کا بازو چھوڑا… “آئم سوری آئ… ” وہ شرمندہ سا کچھ کہنے جا رہا تھا جب ابیہا پھر مڑ گئ… راجا نے اس بار شدید غصے سے اسے بازو سے کھینچتے ہوۓ اس کا رخ اپنی جانب کیا… “بس… بہت ہو گیا تماشا… عزت راس نہیں آپ کو… اب یہاں سے ہلیں گی بھی نہیں آپ… سمجھیں…” وہ آتش فشاں کی طرح پھٹا تھا… “کیوں… تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے… کس حق سے روک رہے ہو مجھے… جہاں میرا دل چاہے گا جاؤں گی… ” وہ بھی چلائ تھی… چہرے پر آنسوؤں کے نشانات تھے… “جسٹ شٹ اپ… اوکے… جسٹ شٹ اپ… ” انگلی اٹھا کر ہر لفظ چبا چبا کر کہتے ہوۓ وہ اسے وارن کر رہا تھا… ابیہا لب کچلتی سر جھکا گئ… آنسو ابھی بھی بہہ رہے تھے… راجا کو اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہو گیا تھا تبھی وہ خاموش ہو گیا… گہرا سانس بھر کے غصے پر قابو پانا چاہا… پھر اس کی طرف متوجہ ہوا… “آئم سوری فار مائ روڈنیس… بٹ ٹیل می… ہوا کیا ہے…؟ آپ اچھی بھلی کلب آئ تھیں پھر یوں اس طرح وہاں سے آنے کا اور اس سب کا مطلب…؟؟” اس کا اشارہ ابیہا کے آنسوؤں کی جانب تھا… ابیہا نے بے دردی سے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا… “تمہیں اس سے کیا… ؟؟” ہچکیوں کے درمیان بول کر وہ وہاں سے جانے لگی تھی… جب ایک بار پھر اس کا بازو راجا کی گرفت میں آیا تھا… اس کے قدم زنجیر ہوۓ… “بتاۓ بغیر آپ نہیں جا سکتیں… ” راجا کے لہجے میں بھی ضد تھی… ابیہا سلگ اٹھی تھی اس کی بات پر… “کیوں بتاؤں میں تمہیں… تمہاری پابند نہیں ہوں… اور ویسے بھی تمہیں کیا فرق پڑتا ہے اس سب سے… تمہاری وجہ سے…. صرف تمہاری وجہ سے مجھے رشنا کی اتنی باتیں سننا پڑیں… اتنی انسلٹ ہوئ میری سب فرینڈز کے سامنے… ” وہ روتے ہوۓ کہہ رہی تھی… راجا حیران ہوا… “میری وجہ سے…؟؟” سوالیہ انداز میں کہتے ہوۓ انگلی سے اپنی جانب اشارہ کیا… “ہاں تمہاری وجہ سے… اگر تم اس دن اپنی ضد اور انا کو چھوڑ کر مجھ سے وہ سب… وہ تین ورڈز کہہ دیتے تو کوئ یوں میرا مذاق نہ بناتا… کسی کو مجھے اپنی تضحیک بھری باتوں کا نشانہ بنانے کا موقع نہ ملتا… کسی کو میری انسلٹ…” کہتے ہوۓ اس کی آواز بھرا گئ تھی… مزید بولا نہ گیا تو وہ خاموش ہو گئ… آنسو پونچھتے ہوۓ وہ بے بسی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی… ہچکیاں لیتے ہوۓ وہ خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی… آنکھیں رونے کے باعث سرخ ہو رہی تھیں… راجا بغور اس کا چہرہ دیکھے گیا… اس کا لہجہ اس بات کی چغلی کھا رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے… جو وہ بتا رہی ہے اس بات پر نہیں رویا جا رہا… “کیا یہی بات ہے جس پر اتنے آنسو بہاۓ جا رہے ہیں…؟؟” اس کی نظریں کھوجتی ہوئ سی تھیں… ابیہا نے آنسو بھری نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا… اگلے ہی پل نگاہیں جھکا گئ کہ کہیں وہ نظروں سے اس کے دل کا حال نہ سمجھ جاۓ… “ہاں بس… یہی…” وہ نظریں چراتی ادھر ادھر دیکھنے لگی… راجا چند پل اسے دیکھتا رہا… اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا… “سو… اب کیا ارادہ ہے… رات یہیں بتانی ہے…؟؟” ایک دم اس کا لہجہ سرد ہوا تھا… ابیہا کا دل خون ہونے لگا اس کے انداز پر… کیسے بتاتی اسے کہ وہ محبت کرنے لگی ہے اس سے… کیسے, کب, کیوں…؟؟ یہ نہیں جانتی تھی لیکن وہ اسے اس کی تمام تر سردمہری, سختی, اور بے حسی کے باوجود اچھا لگنے لگا تھا… یہ اس کے دل کی بھی خواہش تھی کہ وہ اس کے منہ سے فقط ایک بار ہی سہی لیکن آئ لو یو سنے… لیکن اس کا دل کئ ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تھا تب راجا کا جواب سن کر… غصہ اسے اس بات کا نہیں تھا کہ اس کے فرینڈز کے سامنے انسلٹ ہوئ غصہ یہ تھا کہ اپنی انا کو اس کے سامنے جھکانے کے باوجود وہ نامراد رہی تھی… غصہ یہ تھا کہ وہ شخص جسے وہ کسی خاطر میں نہ لاتی تھی اسی کی محبت آج اس کی جان لینے تک آ گئ تھی… پچھلے دنوں اس نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ کسی طرح اس کا خیال اپنے ذہن سے جھٹک سکے… لیکن یہ انکشاف تکلیف دہ تھا کہ وہ اس کے دل کے نہاں خانوں میں ایسی جگہ چھپ کر بیٹھا تھا جہاں سے اسے نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا… وہ خود سے لڑنے میں, اپنے اندر کی جنگ میں ہار رہی تھی تبھی یوں بنا سوچے سمجھے آج کلب سے بھی نکل آئ… اس کا ذہن شل ہو رہا تھا لیکن وہ کسی طور پر اپنے اندر کا اضطراب اور بے چینی راجا کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی… جب اس نے صرف ایک شرط کی خاطر اس سے محبت کا اظہار نہیں کیا تھا تو وہ اصل میں کیسے اس سے محبت کر سکتا تھا… اس کی محبت کا جواب محبت سے کیسے دے سکتا تھا… اس کے چار الفاظ “آئ ڈونٹ لو یو…” تیر کی طرح ابیہا کا دل چھلنی کر گۓ تھے… وہ مزید خود کو اس کے سامنے نہیں گرانا چاہتی تھی… “تم جاؤ… میں آ جاؤں گی خود ہی…” اس کے انداز سے ہٹ دھرمی ظاہر تھی… ” اٹس انف…آپ ابھی میرے ساتھ چل رہی ہیں… ” راجا نے اس کا ہاتھ تھاما تھا… “کہا نا مجھے ابھی نہیں جانا… خدا کا واسطہ ہے اکیلا چھوڑ دو مجھے… لیو می الون…پلیز…” تلخ لہجے میں کہتے ہوۓ وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی تھی… اور پھر جھٹکے سے ہاتھ کھینچا… “آپ…”راجا ابھی کچھ کہنے جا رہا تھا جب کوئ گاڑی موڑ مڑ کر ایک دم سامنے آئ…ہیڈلائٹس نے ان کی آنکھوں کو چندھیا دیا تھا… راجا کو لمحے کے ہزارویں حصے میں کسی خطرے کا احساس ہوا تھا… وہ اور ابیہا لڑتے جھگڑتے نہ جانے کب سڑک کے درمیان میں آ کھڑے ہوۓ تھے… گاڑی تیزی سے ان کی جانب بڑھتی جا رہی تھی… راجا نے ایک دم ابیہا کو دھکا دیا… وہ لڑکھڑاتی ہوئ سڑک کے کنارے جا گری… جب تک وہ سنبھلی گاڑی راجا کو ہٹ کرتی ہوئ آگے جا چکی تھی… راجا ہوا میں اچھلا تھا اور گاڑی کے اوپر سے ہوتا ہوا پیچھے آن گرا… گاڑی والے نے جان بوجھ کر ٹکر ماری تھی شاید… راجا نے بے ساختہ سر پر ہاتھ رکھا…”آہ…” منہ سے کراہیں نکلنے لگی تھیں… “راجا…” ابیہا تڑپ کر چینختی ہوئ اس کی طرف بڑھی… اس کے لہجے میں اذیت بھری تھی…… راجا نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوۓ اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھا… گاڑی کچھ آگے جا کر رکی تھی… ” سالی… ایک بار پھر بچ گئ…” کوئ نفرت سے کہتا ہوا گاڑی سے اترا اور ابیہا کی جانب بڑھا… راجا نے چکراتے سر اور دھندلی ہوتی نگاہیں اس آدمی کو دیکھا…اس کے ہاتھ میں کچھ تھا… شاید لوہے کی ایک لمبی نال…
__________
“راجا… تت…تم ٹھیک ہو… چچ…چوٹ تو نہیں لگی تمہیں… او مائ گاڈ… کتنی بلیڈنگ ہو رہی ہے… مم… میں کیا کروں… میں…” وہ حواس باختہ سے راجا کے قریب پہنچی تھی… یہ جانے بغیر کہ پیچھے کوئ اس کی جان لینے اس کے سر پر پہنچ چکا ہے… ابیہا جو کچھ دیر پہلے خود سے, راجا سے, ساری دنیا سے خفا تھی… ایک دم ساری خفگی بھول گئ تھی… کچھ یاد تھا تو فقط اتنا کہ راجا کی کنپٹی سے خون بہہ رہا ہے… وہ گھٹنا تھامے بمشکل کھڑا ہوا ہے… چہرے کی دائیں جانب بہت سی خراشیں ہیں… لرزتی کانپتی ہوئ وہ دائیں بائیں دیکھ رہی تھی کہ کسی کو مدد کے لیے بلا سکے… اس کی حالت دیکھ کر راجا کے بدترین خدشات درست ہونے لگے تھے… وہ پاگل سی مغرور لڑکی نہ جانے کب اس کی محبت میں سر تا پا ڈوب چکی تھی… “ابیہا… آئم فائن…آئ ول…” وہ جسم سے اٹھتی ٹیسوں کو نظرانداز کرتا ابیہا کو تسلی دینے جا رہا تھا جب نظر ابیہا کے پیچھے آتے اس شخص پر پڑی… اس کے ہاتھوں میں لوہے کی راڈ تھی…. “راجا… تت… تمہارا خون بہہ رہا ہے…” ابیہا اردگرد سے بے گانہ روتے ہوۓ اس کی کنپٹی سے گال تک آتے خون پر ہاتھ لگا کر بولی تھی…اس کے ہاتھ کی انگلیاں خون سے سرخ ہوئیں… لیکن راجا اس کی جانب متوجہ ہی کب تھا… اس کی نظریں تو اس کی پشت کی جانب تھیں… ایک نظر ابیہا کے رنگ اڑے چہرے پر ڈالی… پھر اس کا ہاتھ اٹھا تھا… ابیہا کے دائیں کندھے پر بازو جما کر اس نے اس شخص کا وار روکا تھا جو راڈ ابیہا کے سر پر مارنے جا رہا تھا… راڈ کو سرے سے تھام کر اس کا وار خطا کر کے راجا نے دوسرے ہاتھ سے اس شخص کی گردن دبوچی تھی… یوں کہ ابیہا اس کے دونوں بازوؤں کے حصار میں تھی اور ابیہا کے پیچھے وہ آدمی… جو اب اپنی گردن چھڑانے کی تگ ودو میں تھا… راجا نے اس کے ہاتھ سے راڈ چھین کر دور پھینکی… ایک ہاتھ سے اس کی گردن کو گرفت میں لیے دوسرے ہاتھ سے ابیہا کو کھینچ کر اپنے پیچھے کیا… وہ مکمل طور پر راجا کی اوٹ میں تھی… راجا کی آنکھوں میں سرخی سی چھانے لگی… اس شخص کا گلہ دباتے ہوۓ راجا نے اس کی کلائ تھامی اور اپنا گھٹنا اٹھا کر اس کی کہنی پر مارا…ایک جھٹکا سا لگا تھا اسے… بازو کی ہڈی کہنی سے ٹوٹ چکی تھی… وہ آدمی بری طرح چلانے لگا… راجا نے اپنا سر زور سے اس کے سر پر مارا تھا… وہ شاید کوئ مقامی غنڈہ تھا جو اس بات سے بے خبر تھا کہ ابیہا کا محافظ کوئ عام آدمی نہیں… وہ تو اکیلا پندرہ بیس بندوں پر بھاری ہوتا… یہاں تو صرف ایک آدمی تھا اس کے مقابل…اور راجا بپھرا ہوا زخمی شیر…بھلا کیسے ٹک پاتا وہ راجا کے سامنے… چند منٹ بعد ہی وہ چاروں شانے چت ہو چکا تھا… راجا نے مڑ کر ابیہا کی جانب دیکھا… جو خوفزدہ سی کبھی راجا کو دیکھتی… اور کبھی سامنے گرے کراہتے ہوۓ اس شخص کی جانب… “اگر میرے آنے سے پہلے آپ اس شخص کے ہتھے چڑھ جاتیں تو ابھی یہاں اس کی جگہ آپ موجود ہوتیں… اس لیے بچکانہ حرکتیں چھوڑ دیجیے… اسی میں بھلائ ہے آپ کی… ” راجا نے اپنی تکلیف پر قابو پاتے ہوۓ ابیہا سے کہا تھا…ابیہا خاموش رہی… “اب چلنا ہے… یا اپنی جان کے کسی اور دشمن کا انتظار کرنا ہے یہاں رک کر…” نہ جانے کیوں اس کے انداز میں تلخی سی در آئ تھی… “لیکن… تمہیں چوٹیں…” ابیہا اس کے لہجے کی تلخی کو نظر انداز کرتی بمشکل چند الفاظ بول پائ تھی… ” میں چل سکتا ہوں… ” راجا نے لہجے کو مضبوط بنا کر سرد سی آواز میں کہتے ہوۓ اسے چلنے کا اشارہ کیا… ابیہا بغیر کچھ کہے سر جھکاۓ اس سے آگے چلنے لگی…
💝💝💝💝💝
اگلی صبح راجا پھر اسکول کے گیٹ پر موجود تھا… اینجل گاڑی سے اتر کر مسکراتی ہوئ اس کے قریب آئ… “یہ لو… پراٹھا ہے… آج ماما کے پاس ٹائم نہیں تھا تو شیف انکل سے بنوایا تمہارے لیے….. تم کھا لینا.. اور یہیں میرا انتظار کرنا… میں چھٹی کے بعد آؤں گی تب خوب باتیں کریں گے… باۓ..” اس کے نزدیک آ کر کہا ایک لنچ باکس اسے تھمایا اور اسکول کی جانب بڑھ گئ… راجا نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا… اور اسے گیٹ کی جانب بڑھتے ہوۓ دیکھتا رہا… یہاں تک کہ وہ گیٹ کے پیچھے غائب ہو گئ… بہت دیر تک راجا اس کے دئیے ہوۓ لنچ باکس کو دیکھتے ہوۓ اس پر انگلی پھیرتا رہا… پھر ایک اینٹ کے ساتھ غباروں کا دھاگا باندھا کہ وہ اڑ نہ جائیں… ہاتھ میں پکڑی تصویر دیوار پر ایک جانب رکھی… اور رغبت سے پراٹھا کھانے لگا… کل تک وہ پریشان تھا کہ غبارے نہ بکے تو وہ کھاۓ گا کہاں سے… لیکن اب اسے یقین آ گیا تھا کہ اوپر بھی ایک ایسی ہستی موجود ہے جسے ان سے زیادہ معلوم ہے ان کے پریشانیوں اور تکلیفوں کے بارے میں… سارا دن وہیں بیٹھا وہ اس کا انتظار کرتا رہا… نہ جانے کیوں اسے اینجل کا انتظار کرنا اچھا لگا تھا… اس کا اخلاق, اس کا بات کرنے کا انداز… وہ کافی متاثر ہوا تھا اس سے…
اسکول کی آخری گھنٹی سنائ دی اور پھر بچے اسکول سے نکلنے لگے… راجا کی متلاشی نگاہیں گیٹ پر ہی ٹکی تھیں… تبھی اس کی نگاہ گیٹ سے نکلتی اینجل پر پڑی… راجا کو وہیں بیٹھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی… آج وہ اکیلی نہیں تھی… اسی کی عمر کی چار پانچ بچیاں اور بھی تھیں اس کے ساتھ…راجا کی جانب اشارہ کرتی وہ ان سے کچھ کہہ رہی تھی… چند لمحوں بعد وہ راجا کے قریب پہنچ چکی تھیں… اینجل نے اپنی ہتھیلی آگے بڑھائ… “ہیلو پرنس… یہ کل کے بیلونز کے پیسے…” مسکرا کر کہتے ہوۓ وہ اسے ایک نیا خطاب دے چکی تھی… راجا نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا… اپنے اس نۓ نام پر مسکرا دیا… ہتھیلی آگے بڑھائ… اینجل نے مسکراتے ہوۓ اس کی ہتھیلی پر اپنی ہتھیلی خالی کی… “آہ…” راجا ایک دم بوکھلایا… زور سے اپنا ہاتھ جھٹکا… اینجل اور اس کی فرینڈز منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھیں… راجا نے اڑے رنگ سے دائیں جانب زمین پر دیکھا جہاں ربڑ کی چھپکلی گری تھی… وہ ان کی شرارت سمجھ گیا تھا…تبھی جھینپ سا گیا… “سوری…پرنس… یہ صرف ایک جوک تھا… ” بے تحاشہ ہنسنے کے باعث اینجل کے پھولے پھولے گال سرخ ہو رہے تھے… آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی…راجا خفیف سا ہو کر سر جھکا گیا… “یہ لو کل کے پیسے… اور آج بھی دو بیلونز دے دو… ” اس بار اینجل نے دوسرا ہاتھ آگے کیا… راجا تذبذب کا شکار اسے دیکھے گیا… وہ ایک بار پھر ہنسنے لگی تھی… “لے لو پرنس… اس بار پیسے ہی ہیں…” کہتے ہوۓ مٹھی بھی کھول کر دکھائ… راجا نے گہرا سانس بھرتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھا کر پیسے لے لیے… اینٹ سے غباروں کا دھاگا کھولا… اور اس میں سے دو غبارے اینجل کو تھما دئیے… اینجل غبارے لیے اس کے قریب جا بیٹھی… “آ جاؤ… ایک ایک کر کے آؤ اور بیلونز لیتے جاؤ…” راجا کے ہاتھ سے سارے بیلونز لے کر اب وہ اپنی فرینڈز سے کہہ رہی تھی… شاید وہ اسی لیے انہیں ساتھ لے کر آئ تھی کہ راجا کے بیلونز انہیں بیچ سکے… ان چاروں سے پیسے لے کر انہیں بیلونز دینے کے بعد باقی بیلونز اس نے راجا کی طرف بڑھاۓ… اور دوسرے ہاتھ میں موجود پیسے بھی… جو ان بیلونز سے ملے تھے… راجا نے مسکراتے ہوۓ دونوں چیزیں تھام لیں… “پراٹھا کھا لیا تھا… ؟؟” لنچ باکس کی طرف اشارہ کر کے سوالیہ نظروں سے راجا کو دیکھا… راجا نے اثبات میں سر ہلایا… “اچھا سنو… کیا تم روز یہاں آیا کرو گے…؟؟” آس بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھا… “کیوں…؟؟” راجا نے سامنے دیکھتے ہوۓ سوال کیا تھا… “مجھے روز تم سے بیلونز خریدنے ہیں نا اس لیے…” وہ معصوم سے لہجے میں کہہ رہی تھی… “اچھا… روز بیلونز لے کر کیا کرو گی تم…؟؟” راجا نے دلچسپ نظروں سے اس کی جانب دیکھا… اس کی بات پر اینجل کے چہرے پر ڈھیر سارا جوش نظر آنے لگا… “تمہیں پتا ہے… مجھے نا بیلونز بہت پسند ہیں… اور مجھے اتنااااااا اچھا لگتا ہے جب یہ بیلونز لے کر میں اپنے گھر کی چھت پر جاتی ہوں اور وہاں جا کر انہیں ہوا میں چھوڑ دیتی ہوں… اڑتے اڑتے یہ دور آسمان پر چلا جاتا ہے نا… اور میں اوجھل ہونے تک انہیں دیکھتی ہوں…کاش میں بھی بیلون ہوتی اور ایسے ہی اوپر آسمان پر جا سکتی…” خوشی سے بھرپور لہجے میں کہتے ہوۓ آخر میں وہ اداس ہوئ… راجا اسے دیکھے گیا… “ٹھیک ہے آؤں گا روز…” نہ جانے کیا سوچ کر وہ کہہ گیا… اور اس کے اتنا کہنے پر اینجل کے چہرے سے ایک بار پھر خوشی پھوٹنے لگی… “پکا پرامس…؟؟” وہ اس سے یقین دہانی چاہ رہی تھی… راجا نے پھر سر ہلانے پر اکتفا کیا… “اچھا پرنس… تم رہتے کہاں ہو… تمہاری ماما اور ڈیڈ کہاں ہیں…؟؟” اینجل پاپا کی بجاۓ اپنے فادر کو ڈیڈ کہتی تھی… راجا کی آنکھوں میں کچھ چبھنے لگا… “اللّہ کے پاس…”بھیگے لہجے میں کہہ کر وہ ایک دم چپ ہو گیا… اینجل نے افسوس سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا… چند لمحے خاموشی چھائ رہی… “پتا ہے… مجھے تم سے باتیں کرنا بہت اچھا لگتا ہے… کیا تم میرے بیسٹ فرینڈ بنو گے…؟؟” اس نے راجا کا دھیان ہٹانا چاہا… تبھی ہاتھ آگے بڑھا کر بولی تھی… راجا نے دھیمی مسکان لیے اس کے بڑھے ہاتھ کی جانب دیکھا… پھر اپنا ہاتھ بھی آگے بڑھا دیا… اینجل بیسٹ فرینڈ پا کر پھولے نہیں سما رہی تھی… جلدی سے اپنا بیگ کھولا… “یہ دیکھو… میں اپنے بیسٹ فرینڈ کے لیے چاکلیٹ بھی لائ ہوں… ” وہ بیگ سے دو چاکلیٹس نکال کر ایک راجا کو دیتے ہوۓ بولی… دوسری چاکلیٹ کا ریپر اتار کر خود کھانے لگی… اس کی ٹانگیں اور دونوں پونیاں مسلسل ہل رہی تھیں… راجا نے اس کی دی چاکلیٹ کھائ نہیں… بس اسے دیکھتا رہا… “تمہاری گاڑی آج بھی نہیں آئ…؟؟ ” سر جھکاۓ وہ اپنے پیر کے انگوٹھے کو دیکھنے لگا… “نہیں… میں نے خود کریم بابا سے کہا تھا کہ لیٹ آئیں… مجھے اپنے فرینڈ سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں…. ” وہ پیر جھلاتے ہوۓ مزے سے بولی… راجا اسے دیکھ کر رہ گیا… اس کے دماغ میں بس ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کہ بھلا اینجل کو اس میں ایسا کیا نظر آیا جو یوں دو ہی دنوں میں اس سے دوستی کر بیٹھی… جیسا اس کا حلیہ تھا کوئ اس کی جانب دیکھنا بھی گوارہ نہ کرتا… اس کے پاس بیٹھنا اور دوستی کرنا تو دور کی بات… نہیں جانتا تھا کہ ابھی اس کی زندگی میں بہت سی آزمائیشیں باقی ہیں… جن میں سے سب سے بڑی آزمائش اینجل کے ذریعے ہی آۓ گی…
جاری ہے
Episode 12
عین ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﭘﮧ ﻭﮦ ﭼﻬﻮﮌ ﮨﯽ ﺩﮮ…😑
ﺳﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺟﺎﻧﺎ…😷
صبح و شام بہت ہی بوجھل سے ہو کر رہ گۓ تھے… نہ جانے کیوں ابیہا کو اپنے دل کی دنیا کی طرح اردگرد موجود ہر چیز اداس سی لگتی… یونی جانے کو بھی دل نہ چاہتا… دو ماہ ہو گۓ تھے…وہ اب کلب بھی نہیں جاتی تھی…بس جیسے تیسے یونی میں وقت گزارتی اور گھر آتے ہی کمرے میں بند ہو جاتی… دل کی دنیا بالکل بدل کر رہ گئ تھی… جہاں پہلے اس کھڑوس اور بے حس انسان کے لیے چڑ اور غصہ ہوتا تھا وہاں اب وہ پورے طمطراق سے براجمان ہنستا مسکراتا ابیہا کی بے بسی کا مذاق اڑاتا نظر آتا… ابیہا جب اس کے ساتھ یونی جاتی تب بھی لب کچلتے ہوۓ نظریں جھکاۓ رکھتی… کہ اسے دیکھنے کے بعد دل پر اختیار ہی کب رہتا تھا…ایک بار دیکھتی تو دل چاہتا کہ بس اسے ہی دیکھے جاۓ… اور وہ اس راز کو اس پر عیاں ہونے نہیں دینا چاہتی تھی… جانتی تھی اس کی طرف سے صرف اور صرف انکار ہی سننے کو ملے گا… اور وہ اس کے سامنے اپنی محبت کی خاطر اپنی سیلف ریسپیکٹ کو داؤ پر نہیں لگا سکتی تھی… اظہار کرنا شاید اتنا مشکل نہ ہوتا اگر اسے ایک فیصد بھی امید ہوتی کہ راجا اس کے اظہار محبت کا مثبت جواب دے گا…
آج دو ماہ بعد وہ دوبارہ کلب آئ تھی تو صرف اور صرف اپنے دوستوں کے بے حد اصرار پر…صارم نے تو باقاعدہ دھمکی دے ڈالی تھی اسے کہ اگر وہ نہ آئ تو وہ سب ساری رات اس کے گھر کے سامنے چوکڑی مار کر بیٹھ جائیں گے اور احتجاج کریں گے… اور اس سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ ایسا کر بھی جاتا… تبھی ابیہا کو ناچار ان کی بات ماننا پڑی… راجا کے ہمراہ وہ کلب میں داخل ہوئ… آج تیرہ فروری کا دن تھا… رات کے گیارہ بجے تھے…ویلنٹائین ڈے کا آغاز ہونے میں فقط ایک گھنٹہ باقی تھا… اور اسی اسپیشل دن کی بدولت ہی آج وہاں معمول سے زیادہ رش تھا… لڑکیاں رنگ برنگی تتلیاں بنی یہاں سے وہاں پھر رہی تھیں… وہاں موجود ہر شخص کے چہرے پر ہنسی, قہقہے تھے سواۓ ابیہا اور راجا کے… راجا سنجیدہ سا ایک جانب جا کھڑا ہوا جبکہ ابیہا اداسی سے بھرے دل کے ساتھ لبوں پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاتے ہوۓ اپنے فرینڈز کی جانب بڑھ گئ… کچھ ہی دیر میں صارم اور زینی کی شرارتوں سے اس کا دل کافی حد تک بہل گیا تھا…
“لیڈیز اینڈ جینٹل مین… گیو می یور فائیو منٹس پلیز…” مائک میں گونجتی آواز پر سب کی نگاہیں اسٹیج کی طرف اٹھیں… جہاں سفید روشنی کے گول سے دائرے میں ایک شرارتی سا لڑکا کھڑا سب کو اپنی جانب متوجہ کر رہا تھا… سب دلچسپ نظروں سے اسے دیکھنے لگے….
“میں ہوں اسد…اور آپ سب جانتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے اسٹارٹ ہونے میں کچھ ہی وقت باقی ہے… اور ہر بار ویلنٹائن نائٹ میں ہمارے اس کلب میں کچھ نہ کچھ خاص تو ہوتا ہی ہے… سو… آج بھی ہم لے کر آۓ ہیں آپ کے لیے کچھ بہت ہی اسپیشل… ” وہ سب کے دلوں میں تجسس پیدا کرنے میں کامیاب رہا تھا… ” یقیناً آپ سببے تاب ہوں گے جاننے کے لیے کہ کیا ہونے والا ہے آج… تو ہم کرتے ہیں آپ کا انتظار ختم… تو… کرنا آپ کو یہ ہے… کہ….” وہ رکا… دائیں جانب گھوما جہاں دو لڑکے ہاتھوں میں کچھ لیے کھڑے تھے… اسد نے انہیں مخصوص اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھ کر سب کو ہاتھوں میں پکڑے ماسک تھمانے لگے… اسد پھر سب کی طرف متوجہ ہوا… “میرے یہ دوست آپ سب کو ایک ایک ماسک دیں گے جنہیں آپ کو اپنے چہروں پر پہننا ہے… پھر آپ کو اس اسٹیج پر آنا ہے… میوزک اسٹارٹ کیا جاۓ گا جس پر آپ سب ڈانس کریں گے… جیسے ہی میوزک چینج ہو گا آپ اپنے پہلے پارٹنر کا ہاتھ چھوڑ کر نیکسٹ کپل میں سے اپنا پارٹنر لیں گے…یعنی ہر دس سیکنڈ بعد آپ کا ڈانس پارٹنر چینج ہو گا… میوزک چلتا جاۓ گا… پارٹنرز بدلتے جائیں گے… آپ آگے بڑھتے جائیں گے… اور جب… جب میوزک رکے گا آپ سب بھی وہیں رک جائیں گے… اسٹل… اور روشنی کے اس دائرے میں جو کپل ہو گا وہ ہو گا کپل آف دا ڈے… ویلنٹائن کپل… اور اس کپل کے لیے ہو گا ہمارے پاس ایک اسپیشل گفٹ… سو لیٹس اسٹارٹ گائز… جلدی سے ماسک پہن کر اسٹیج پر آ جائیے… اور ہاں… آج کے اس فنکشن میں سب شامل ہوں گے… نو ایکسکیوز…” اس کی بات پر سب کے چہروں پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئ… ابیہا کی نگاہیں بے ساختہ راجا کی جانب اٹھی تھیں… وہ بھی نہ جانے کن خیالوں میں کھویا اسے ہی دیکھ رہا تھا… ابیہا سے نظریں ملنے پر فورأ نگاہوں کا رخ بدل کر دوسری جانب دیکھنے لگا…اس کے چہرے پر چھائ بیزاری نے ابیہا کا دل دکھایا تھا… لب کاٹتی ہوئ وہ اپنے فرینڈز کی جانب متوجہ ہوئ… “یار زینی… میں جا رہی ہوں… مجھے نہیں حصہ بننا اس سب کا…” تھکے تھکے سے انداز میں کہتے ہوۓ وہ جانے کو پر تول رہی تھی…
“اے اے…خبردار جو جانے کا نام لیا تو… ارے ابھی تو پارٹی شروع ہوئ ہے… چل کر یار…” زینی نے جھٹ سے اس کا بازو پکڑا مبادہ اس کے بھاگ جانے کا ڈر ہو… “یار… ” ابیہا نے کوئ بہانہ بنانا چاہا تھا جب صارم آگے آیا… “بس بہت ہو گیا بیا… یار کیا ہر وقت سڑی سی شکل بناۓ گھومتی رہتی ہو… کافی عرصے سے دیکھ رہا ہوں تمہیں میں… آخر ہوا کیا ہے تمہیں… پہلے والی بیا تو لگتی ہی نہیں ہو… کہیں نہیں جا رہی تم… آج ہم سب یہیں رہیں گے اور آج کی رات سیلیبریٹ کریں گے… بس…” اس کے قطعی لہجے پر ابیہا کو ہار ماننی ہی پڑی… تبھی اس کے ہاتھ میں پکڑا موبائیل بجنے لگا… راجا کی کال تھی… ابیہا نے سر اٹھا کر دیکھا وہ ان سب کی جانب پشت کیے سیل کان سے لگاۓ کھڑا تھا… ابیہا نے کال ریسیو کی… “ہیلو…” دھیمی آواز میں کہا تھا… ” میں باہر ہوں… پارکنگ میں… فری ہو کر وہیں آ جائیے گا…” وہ یقیناً اس شور اور ہنگامے سے اکتا گیا تھا تبھی اس کے لہجے میں بیزاریت تھی… “اوکے…” ابیہا نے مختصر جواب دے کر کال ڈسکنکٹ کر دی… پھر ہاتھ میں پکڑا ماسک چہرے پر پہن کر وہ سب اسٹیج کی جانب بڑھ گۓ…
💝💝💝💝💝
دو ہفتے ہو گۓ تھے ان کی دوستی کو… راجا ہر روز اینجل کے اسکول کے سامنے ہی بیٹھا ہوتا… اینجل بھی روزانہ اس کے لیے گھر سے گھانا لے کر آتی… چھٹی کے وقت اس کے ساتھ بیٹھ کر ڈھیر ساری باتیں کرتی… اسے اپنی ماما اور ڈیڈ کے بارے میں بتاتی… اس سے اس کی ماں کی باتیں سنتی… دونوں ایک دوسرے سے چھوٹی چھوٹی باتیں شئیر کرتے… اور اینجل واپسی کے وقت اس سے بیلونز ضرور خریدتی… اینجل کے علاوہ بھی کچھ بچے اس سے بیلونز خرید لیتے اور اینجل کے جانے کے بعد راجا ادھر ادھر بھی بیلونز بیچنے میں کامیاب ہو جاتا… اب وہ اس قابل بھی ہو گیا تھا کہ خود کھانا خرید کر کھا سکتا لیکن جو مزہ اینجل کے دئیے کھانے میں ہوتا وہ مزہ بازار سے خریدی گئ کھانے کی اشیاء میں کہاں… وہ ہر روز شدت سے دن کے اس پہر کا انتظار کرتا جب اسے اینجل کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے کا موقع ملتا…
اس روز اینجل کی کلاس کے دو لڑکوں نے راجا کے پھٹے پرانے کپڑوں اور اس کے حلیے کا مذاق اچھا خاصا مذاق بنایا… اسے پاگل, فقیر جیسے القابات سے نوازا…جس پر راجا کے ساتھ ساتھ اینجل بھی ہرٹ ہوئ… اگلے دن وہ منی باکس میں سے اپنی جمع کی گئ پاکٹ منی نکال کر ساتھ لے آئ… “ڈرائیور انکل… دو منٹ کے لیے بازار لے جائیں گے آج…؟؟” معصوم سے لہجے میں وہ پوچھ رہی تھی… “کیا لینا ہے آپ کو بے بی…؟؟” ڈرائیور نے اس کے کہنے پر مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی پارک کی… “مجھے نا اپنے فرینڈ کے لیے ایک ڈریس لینا ہے… آپ ہیلپ کریں گے..؟؟” وہ سیٹ بیلٹ ہٹاتے ہوۓ ان کی جانب مڑی… “کیسی ہیلپ…؟؟ اور پیسے کہاں سے آۓ آپ کے پاس…؟؟” کریم جانتے تھے کہ اس کے ماں باپ نے اس کی تربیت بہت سخت کی ہے… بے تحاشا دولت ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے کچھ سخت اصول بناۓ تھے… اسے صرف اس کی ضروریات کے لیے پیسے دئیے جاتے… روزانہ اتنی پاکٹ منی دی جاتی جتنی اس کے لیے ضروری ہو… اور اس میں سے بھی وہ بچت کرتی اور منی باکس میں پاکٹ منی کا کچھ حصہ ڈالتی رہتی… اس کے پیرنٹس اپنی بیٹی کو دولت کے نشے میں بگاڑنا نہیں چاہتے تھے… کریم صاحب سے بھی اینجل کا خاص خیال رکھنے کو کہا گیا تھا کہ وہ کسی برے کام میں ملوث نہ ہو…اور نہ ہی برے لوگوں کی صحبت کا شکار ہو… کریم انہیں راجا سے اینجل کی دوستی کے بارے میں بھی بتانا چاہتے تھے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ان کا اپنے مالک سے سامنا ہی نہ ہو پایا تھا… “میرے منی باکس میں کچھ رقم تھی… وہی لائ ہوں ساتھ… اور آپ نے میرے فرینڈ کو دیکھا ہے نا… راجا کو… اس کے سائز کا ڈریس لینا ہے… مجھے سائز نہیں معلوم… کیا آپ لے دیں گے… وہ نا… میرے فرینڈز کل اس کا مذاق بنا رہے تھے تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگا… ویسے بھی ماما کہتی ہیں نا کہ دوسروں کی مدد کرنا, انہیں کھانا کھلانا اور پہننے کو کپڑے دینے سے اللّہ خوش ہوتا ہے… تو میں نے سوچا میں بھی اسے ایک ڈریس گفٹ کروں…” تفصیل سے کہتے ہوۓ وہ بار بار آنکھیں پٹپٹا رہی تھی… کریم کی آنکھوں میں راجا کا سراپا ابھرا… واقعی اسے ایک عدد لباس کی سخت ضرورت تھی… کریم نے سر ہلایا اور گاڑی سے اترے… چند لمحوں بعد وہ اور اینجل راجا کے سائز کی شلوار قمیض لیے گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے… “اب تو خوش ہیں نا آپ بے بی…؟؟” ان کے چہرے پر شفقت بھری مسکراہٹ تھی… اینجل نے زور زور سے اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ اپنی خوشی کا اظہار کیا… اس کے سیاہ گھنے بالوں کی دونوں پونیاں بھی ہلنے لگی تھیں…اس نے جلدی سے پیک شدہ لباس کو بیگ میں ڈالا… وہ اسے چھٹی کے وقت راجا کو دینا چاہتی تھی تا کہ اس کے چہرے پر خوشی کے تاثرات کو دیکھ سکے…
چھٹی کے وقت حسب معمول راجا اسی دیوار پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا… اینجل کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت مسکراہٹ ابھری تھی… اینجل اس سے کچھ فاصلے پر دیوار پر ہی بیٹھ گئ… “شکریہ…” راجا نے لنچ باکس اس کی جانب بڑھایا… جسے اینجل نے مسکرا کر تھام لیا… “ہر روز شکریہ کہتے ہو… جبکہ جانتے ہو اس کی کوئ ضرورت نہیں…” روز کی طرح اس نے اپنی بات دہرائ… پھر بیگ کھول کر لنچ باکس اس میں رکھنے لگی جب اس کی نگاہ صبح راجا کے لیے خریدے لباس پر پڑی… کچھ سوچ کر مسکراتی ہوئ وہ راجا کی طرف متوجہ ہوئ… “فرینڈ… آنکھیں بند کرو ایک منٹ کے لیے…” مسکراتے لہجے میں وہ راجا سے کہہ رہی تھی… “کیوں…؟؟” راجا حیران ہوا… “تمہارے لیے کچھ لائ ہوں… لیکن پہلے آنکھیں بند کرنی ہوں گی…” اینجل بڑی بڑی آنکھیں مٹکاتے ہوۓ بولی… راجا نے اس کے کہنے پر آنکھیں بند کیں… چند لمحوں بعد اسے آنکھیں کھولنے کو کہا گیا تو وہ اینجل کی جانب متوجہ ہوا… جو اپنے ننھے ننھے سے ہاتھوں میں کچھ اٹھاۓ ہوۓ شرارتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی… “سرپرائز… ” راجا نے ایک نظر اس پلاسٹک بیگ کو دیکھا اور پھر اینجل کو… “یہ کیا ہے…؟؟” آہستہ آواز میں پوچھا تھا… “خود کھول کر دیکھو نا…” اینجل نے ہاتھ آگے بڑھا کر وہ سوٹ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا… اس کے اصرار پر راجا نے بیگ کھولا تو اس میں سے اس کے سائز کی بہت خوبصورت شلوار قمیض تھی… راجا نے سوالیہ نگاہوں سے اینجل کی طرف دیکھا… “یہ میں نے خریدا ہے تمہارے لیے… کل تم یہی پہن کر آنا…” اپنی پونیاں زور زور سے ہلاتی وہ پرجوش سی کہہ رہی تھی… راجا کے احساسات بہت عجیب سے ہو گۓ… وہ نفی میں سر ہلانے لگا تھا… “نہیں اینجل… میں تم سے نہیں لے سکتا یہ… چند دن اور گزرنے دو پھر میرے پاس اتنے پیسے آ جائیں گے کہ میں خود اپنے لیے کپڑے خرید سکوں گا… تم میری فکر مت کرو…” اس کی آواز انتہائ دھیمی تھی… اینجل بمشکل سن پائ… اس کے چہرے کی چمک ماند پڑنے لگی… “لیکن… میں بہت خوشی سے لائ ہوں تمہارے لیے… تم میرے بیسٹ فرینڈ ہو نا… تو میری طرف سے یہ گفٹ ایکسیپٹ کر لو پلیز… ” اس کے لہجے میں التجا سی تھی… راجا بے بس سا اسے دیکھنے لگا… “لیکن اینجل… میرے پاس تو تمہیں دینے کو کچھ بھی نہیں…” وہ اداس ہو گیا تھا… اینجل نے اس کے ہاتھ پر اپنا روئ جیسا ننھا گلابی ہاتھ رکھا… “جب تمہارے پاس مجھے دینے کے لیے کچھ ہو گا تو میں ضرور لوں گی… پکا پرامس… یا ایسا کرو… آج دو بیلونز تم مجھے ویسے ہی دے دو… گفٹ کے طور پر… حساب برابر… ” وہ پھر سے چہکنے لگی تھی… راجا نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا… وہ اس کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا تبھی سوٹ ایک طرف رکھ کر دو بیلونز اس کی جانب بڑھاۓ… جنہیں اس نے خوشی خوشی تھام لیا تھا…
💝💝💝💝💝
میوزک شروع ہو چکا تھا… سب لوگ چہروں پر ماسک چڑھاۓ کپلز کی صورت اسٹیج پر ڈانس کر رہے تھے… اسٹیج پر سب پارٹیسیپینٹس کے دو دائرے بناۓ گۓ تھے… ایک دائرہ اندر تھا جو لڑکیوں کا تھا اور دوسرا پہلے دائرے کے باہر… لڑکوں کا دائرہ… دس سیکنڈ بعد میوزک چینج ہوتا اور لڑکیاں ایک ایک قدم دائیں جانب سرک جاتیں… اور لڑکے ایک قدم بائیں جانب… یوں سب کے ڈانس پارٹنرز ہر دس سیکنڈ بعد بدل جاتے… دس منٹ تک ڈانس جاری رہا تھا… پھر ایک دم میوزک رک گیا… جو جہاں تھا وہیں رک گیا… سفید دودھیا روشنی میں اس وقت ایک کپل موجود تھا… سب نے چہروں سے ماسک اتارے اور اب پر تجسس نگاہوں سے اس کپل کی جانب دیکھ رہے تھے جو ونر تھا… سب ان کے چہرے دیکھنے کو بے چین تھے… پہلے لڑکی نے اپنا ماسک اتارا… اسے دیکھ کر ایک طرف کھڑے زینی اور اس کے گروپ نے چینخیں ماریں… “واؤ…بیا…” وہ خوشی سے چلا اٹھے تھے… ابیہا نے بے یقینی سے ادھر ادھر دیکھا… وہ یقین کرنے میں متامل تھی کہ وہ آج کی گیم کی ونر ہے… حیران نظروں سے سامنے کھڑے اپنے پارٹنر کو دیکھا جس کا ایک ہاتھ ابیہا کی کمر کے گرد رکھا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اپنا ماسک اتار رہا تھا… جیسے ہی اس کا چہرہ سامنے آیا ابیہا نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھا… “راجا…” بےیقینی سی بے یقینی تھی… کہ اس کا پارٹنر راجا تھا… اردگرد ہوٹنگ شروع ہو چکی تھی… تالیاں بجائ جا رہی تھیں اور وہ حیران سی بس اسے تکے جا رہی تھی… راجا نے اس کی کمر سے ہاتھ ہٹایا تو وہ ہوش میں آئ… راجا کے کندھوں پر دھرے اپنے دونوں ہاتھ ہٹاتی اس سے دور ہوتی وہ خجل سی چہرے پر آۓ بال پیچھے کرنے لگی… راجا کے چہرے پر ایک بار پھر سے سنجیدگی چھا چکی تھی… وہ تو ابیہا کو انفارم کر کے بس جا ہی رہا تھا جب کلب کا دروازہ بند کر دیا گیا تھا کہ نہ تو مزید کوئ اور اندر آۓ اور نہ ہی کوئ باہر جاۓ… صارم جلدی سے اسد کی طرف گیا اور اس کا دھیان دروازے کی جانب بڑھتے راجا کی طرف کیا… اسد جلدی سے اس کے قریب آیا اور اسے فرار کا موقع دیے بغیر اسٹیج کی طرف لے آیا… ساتھ ہی ایک ماسک اسے تھمایا… وہ بہت سے لوگوں میں گھر چکا تھا جب بھاگنے کا کوئ راستہ نہ رہا تو ناچار اسے بھی اس گیم کا حصہ بننا پڑا… اسے بالکل امید نہ تھی کہ وہی ونر ہو گا اور اس کی ساتھی ابیہا ہو گی… ورنہ وہ کبھی بھی اس گیم میں شامل نہ ہوتا… خیر… جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا… گہری سانس بھرتا وہ وہاں ان سب کی جانب متوجہ ہوا…. “آپ کا نام..؟؟” اسد اب مائیک لیے ان کے قریب آیا…. باقی سب اسٹیج سے اتر چکے تھے… “راجا… ” مائیک ابیہا کی طرف لے جایا گیا… “ابیہا…” ابیہا نے بتا کر نظریں جھکا لیں… انگلیاں مروڑتی وہ اضطراب کا شکار لگ رہی تھی… “جی تو گائز… آج کے ونرز ہیں راجا اور ابیہا… ایک بار پھر سے زوردار تالیاں دونوں کے لیے… ” اسد نے جوش سے کہتے ہوۓ خود بھی تالیاں بجائیں… “ویسے جوڑی پرفیکٹ ہے آپ دونوں کی… ” اسد نے شرارتی سے انداز میں ان دونوں سے کہا تھا… دونوں ایک دوسرے سے نظریں چراۓ خاموش کھڑے تھے… “سو… جیسا کہ میں نے آپ سب سے کہا تھا کہ ونر کپل کے لیے ایک اسپیشل گفٹ ہو گا… تو کچھ ہی دیر میں گفٹ آپ سب کے سامنے پیش کر دیا جاۓ گا… ویلنٹائن کپل کا گفٹ پیش کیا جاۓ…” شاہی انداز میں اسد نے صدا بلند کی تھی… چند لمحوں بعد ایک آدمی ہاتھ میں کچھ اٹھاۓ اسٹیج پر آیا… وہ خوبصورت پیپر میں لپٹا تھا… “راجا… یہ گفٹ آپ کو کھولنا ہے… اور پھر اپنے ہاتھوں سے اسے ابیہا کو دینا ہے… یہ آپ کی طرف سے ان کے لیے ویلنٹائن گفٹ ہو گا… ” اسد نے شوخ لہجہ اپنایا… راجا نے پیشانی مسلی… وہ آدمی گفٹ اس کی جانب بڑھاۓ کھڑا تھا… اس نے ہاتھ بڑھا کر گفٹ پکڑا… اس کا گفٹ پیپر اتارا… وہ شیشے کا ایک بہت خوبصورت بڑا سا دل تھا جس کے اندر سرخ رنگ سے “ہیپی ویلنٹائنز ڈے” لکھا تھا… اور باہر ایک طرف اسٹائلش سا ابیہا کا نام اور دوسری طرف راجا کا نام لکھا تھا… “اوکے… دس از یور گفٹ… سو… گو دس گفٹ ٹو مس ابیہا… ” کلب میں ایک بار پر ہوٹنگ کی جانے لگی تھی… راجا نے وہ گفٹ ابیہا کی جانب بڑھایا… “ہیپی ویلنٹائنز ڈے…” دھیمے لہجے میں کہتے ہوۓ وہ ابیہا کی جانب دیکھ رہا تھا… ابیہا کو لگا اس کا دل رک جاۓ گا… دل کی دھڑکینیں تھم جائیں گی… وہ دعا کر رہی تھی کہ اگر یہ کوئ خواب تھا تو وہ ساری عمر سوئ رہے… صرف ایک گیم کے طور پر ہی سہی لیکن راجا نے اسے وش تو کیا تھا نا… اور یہی بات اس کی خوشی کے لیے کافی تھی… اودھم مچاتی دھڑکنوں کے ساتھ اس نے گفٹ تھاما… اور محبت بھری نظروں سے اس پر لکھے اپنے اور راجا کے نام کو تکنے لگی….
__________
پچھلے دو ماہ سے اسد شیرازی ازحد پریشان تھا…. نہ جانے کون تھا جس کے ہاتھ اس کے خلاف ثبوت لگ چکے تھے اور اب وقتأ فوقتأ وہ ویڈیوز اور تصاویر ای میل کر کے وہ شخص اسے بلیک میل کر رہا تھا… وہ اس وقت لاہور کے مہنگے ترین روڈ پر اپنے ہوٹل کے اسپیشل روم میں اپنی تھکن اور اضطراب کو مٹانے کے لیے ایک لڑکی کے ساتھ موجود تھا… جب بھی وہ پریشان ہوتا تو دل بہلانے کے لیے لڑکیوں کے جسموں سے کھیلنا اس کا شوق تھا… وہ اس وقت بھی اپنے وقت کو رنگین کرنے میں مگن تھا اس بات سے بے خبر کہ اس کی ایک ایک حرکت پر کسی کی گہری نظر ہے… لڑکی کی زلفوں کی خوشبو سے وہ مدہوش سا ہو رہا تھا جب بار بار بجتا اس کا فون اس کا دھیان بٹا گیا… قدرے بیزاری سے فون کی طرف دیکھا… پھر پیار بھری نگاہ اپنے پہلو میں نیم عریاں حسینہ پر ڈالی… “ویٹ آ منٹ بے بی… ” وہ اس کے اوپر سے پھلانگتا سائیڈ ٹیبل پر پڑے سیل تک آیا… ارادہ یہی تھا کہ سیل آف کر کے اپنی مستیوں میں گم ہو جاۓ گا لیکن اسکرین پر نگاہ پڑتے ہی ٹھٹھک سا گیا… سامنے جلتی بجھتی اسکرین پر پرائیویٹ نمبر کالنگ لکھا نظر آ رہا تھا… “اوہ نو…” تھوڑی پریشانی سے کہا گیا تھا… کال ریسیو نہ ہونے کے باعث اب اسکرین تاریک ہو چکی تھی… اسد شیرازی نے پیشانی مسلی… سیل رکھنے ہی لگا تھا جب میسیج ٹیون سنائ دی… “ریسیو مائ کال… ادر وائز…؟؟؟” مختصر سا میسیج تھا جس میں دھمکی چھپی تھی… چند سیکنڈز بعد پھر کال آنے لگی… “تم جاؤ یہاں سے…” اسد شیرازی کا چند لمحے پہلے شہد ٹپکاتا لہجہ اب زہر کی مانند ہو چکا تھا… وہ لڑکی اس کے چہرے پر غصہ دیکھ کر فورأ اٹھی… افراتفری میں کپڑے اٹھاۓ اور بھاگ نکلی… تب تک اسد شیرازی کال دیسیو کر چکا تھا… ” ہیلو…” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسد شیرازی کی آواز ابھری…دوسری جانب سے استہزائیہ قہقہہ سنائ دیا…. “معذرت تو بالکل نہیں کروں گا آپ کی خلوت میں مخل ہونے کے لیے… ” لہجہ مذاق اڑاتا ہوا تھا… اسد شیرازی نے دانت پیسے… “چاہتے کیا ہو تم..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *