Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09
ﭼﺸﻢِﻧﻢ, ﺩﻝِﻣُﻀﻄﺮﺏ, ﻏَﻢِﺁﺭﺯﻭ, ﻏَﻢِﺟُﺴﺘﺠﻮ…
لیےﭘﮭﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟﻧﮕﺮﻧﮕﺮ, ﮐِﺴﯽﻣﮩﺮﺑﺎﮞ ﮐﯽ اﻣﺎﻧﺘﯿﮟ…
“کہاں ڈھونڈوں میں تمہیں۔۔۔ اپنی زندگی کے ان اٹھارہ سالوں میں کوئ دن، کوئ پل ایسا نہیں جب تمہیں نہ سوچا ہو۔۔۔۔ پچھلے چھے سال سے دربدر پھر رہا ہوں۔۔۔ تمہاری تلاش میں۔۔۔ مجھے نہیں معلوم دنیا کے کس کونے میں ہو تم۔۔۔ زندہ بھی ہو یا۔۔۔ لیکن۔۔۔ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تم زندہ ہو… میری چلتی سانسیں اس بات کی شاہد ہیں کہ دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں تم بھی سانس لے رہی ہو… مجھے تمہیں ڈھونڈنا ہے۔۔۔ ہر حال میں۔۔۔ ہر جگہ۔۔۔
جانتا ہوں۔۔۔ تم گنہگار سمجھتی ہو مجھے۔۔۔ بہت نفرت کرتی ہو مجھ سے۔۔۔ لیکن دیکھو۔۔۔ اٹھارہ سال میں نے سزا بھگتی ہے۔۔۔ اس گناہ کی۔۔۔ جو میں نے کیا ہی نہیں۔۔۔ مزید حوصلہ نہیں مجھ میں اس اذیت کو جھیلنے کا… کاش۔۔۔ کاش ایک بار میرے سامنے آ جاؤ۔۔۔ پھر تمہیں کبھی کھونے نہیں دوں گا۔۔۔ کبھی خود سے جدا نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ آئ پرامس۔۔۔ پلیز۔۔۔ کم بیک اینجل۔۔۔” رات کے دو بجے اس سنسان سڑک پر سردیوں کی ٹھٹرا دینے والی بارش میں بھیگتا خود سے بھی بے نیاز وہ وجود ہاتھ میں پائیل تھامے، اس پر نظریں جماۓ سسک رہا تھا۔۔۔ کون جانتا تھا کہ دن کی روشنی میں کسی چٹان سے زیادہ مضبوط اور سخت نظر آنے والا کانچ سی نیلی آنکھوں کا مالک وہ خوبصورت ترین مرد رات کا اندھیرا پھیلتے ہی کتنی بری طرح ٹوٹ کر بکھرتا تھا۔۔۔ تڑپتا تھا۔۔۔ سلگتا تھا۔۔۔ کسی کی یاد میں۔۔۔ کسی کی آس میں۔۔۔ کسی کے انتظار میں…
آج ایک ہفتہ ہو گیا تھا راجا کو سڑکوں پر بھیک مانگتے ہوۓ…جہاں اسکے پھٹے پرانے کپڑوں اور بدتر حال کو دیکھتے ہوۓ کمسن جان کر کچھ لوگ اسے بھیک دے رہے تھے… وہیں بہت سے لوگوں نے اسے دھتکارا بھی تھا… طرح طرح کی باتیں سنائ تھیں… لیکن وہ خاموش رہ کر سب سہ گیا… ان سات دنوں میں اسے اللّہ کے نام سے مانگنے پر اتنا تو مل ہی گیا تھا کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا پاتا… اس کے علاوہ اس نے کچھ بچت بھی کی تھی… اپنی قمیض کی جیب سے بھیک کے طور پر ملنے والے سکے اور کچھ دس اور بیس کے نوٹ نکال کر گود میں رکھے وہ انہیں گن رہا تھا… کل تین سو چالیس روپے بنے تھے… اس نے سر اٹھا کر دیکھا… سامنے ایک آدمی برگر کا اسٹال لگاۓ کھڑا تھا… آج عرصے بعد اس کا دل چاہا وہ برگر کھاۓ… پہلے جب وہ ماں کے ساتھ کبھی کبھار بازار جاتا تو ہمیشہ ماں سے ضد کرتا کہ وہ اسے برگر لے کر دے… لیکن اب تو ایسا لگتا تھا جیسے صدیاں ہی بیت گئیں اس طرح کی چھوٹی چھوٹی عیاشیاں کیے ہوۓ… اس نے سارے پیسے پھر سے جیب میں ڈالے… اور اسٹال کی جانب بڑھ گیا… وہاں سے برگر لے کر اب وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا کھا رہا تھا جب ایک بلی اس کے قریب آئ… راجا نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا… بلی شاید بھوکی تھی… اس کے کان میں اپنی ماں کی آواز گونجی… “یہ ہمارا فرض ہے بیٹا کہ اپنے رزق میں سے ان پرندوں اور جانوروں کو بھی کھلائیں…ہمیں جو اللّہ نے عطا کیا ہے اس پر مان نہیں کرنا چاہئیے… یہ بھی اللّہ کی مخلوق ہے… اور جیسے اللّہ ہماری روزی کے لیے کسی کو وسیلہ بناتا ہے بالکل ایسے ہی ان جانوروں کی خوراک کا بندوبست کرنے کے لیے وہ ہمیں ذریعہ بناتا ہے… اس لیے جو بھی کھاؤ اس میں سے ان جانوروں کا حصہ بھی رکھو…اس کا اجر تمہیں تمہارا رب دے گا…”پچھلی یادوں میں کھویا وہ اپنے سر میں ماں کی انگلیوں کا لمس محسوس کر رہا تھا جب بلی کے میاؤں کہنے پر چونکا… ایک نظر بلی کو دیکھ کر اس نے اپنے ہاتھ میں موجود برگر کو دیکھا…وہ آدھا برگر کھا چکا تھا… مزید ایک بائٹ لینے کے بعد اس نے باقی برگر بلی کی جانب اچھال دیا… اور خود ہاتھ جھاڑتا ہوا اٹھ کر آگے بڑھ گیا… ایک چھوٹی سی قربانی تھی اپنی من پسند چیز کسی کو دینے کی… لیکن اس چھوٹی سی قربانی سے دل کو کتنا سکون اور سرشاری ملی تھی یہ کوئ اس سے پوچھتا… لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے وہ اب کسی انجان اور بے نشان منزل کی جانب گامزن تھا…
وہ سب یونی کے گراؤنڈ میں فری بیٹھے تھے… نیکسٹ کلاس ایک گھنٹے بعد تھی اور اب کرنے کو کچھ تھا نہیں اسی لیے انہوں نے گیم اسٹارٹ کر دی… ایک کتاب کے اوپر پین کو گھماتے اور جس کی جانب پین کی نوک جاتی اسے اپنے مقابل بیٹھے شخص کی بتائ گئ شرط پوری کرنی تھی… پین کی نوک رائنہ پر تھی جس نے ساحر کے کہنے پر ایک گانا سنایا تھا… گانے کے ختم ہونے پر اب سب تالیاں بجا رہے تھے… “اوکے گائز… اسٹارٹ اگین….” زینی نے کہتے ہوۓ پین کو گھمایا… سب کی نظریں پین پر جمی تھیں… پین کی اسپیڈ آہستہ ہونے کے ساتھ ساتھ سب کے دل کی دھڑکنیں بڑھ رہی تھیں… بالآخر پین رک گیا… پین کی نوک ہادیہ کی طرف تھی اور بیک صارم کی جانب… “اووو…” کی آواز بلند ہوئ تھی… جبکہ صارم اور ہادیہ جھینپ سے گۓ… وہ دونوں ریلیشن شپ میں تھے اور پیرنٹس کی مرضی سے ان کی انگیجمنٹ بھی ہو چکی تھی… یونی ختم ہونے کے بعد دونوں کی شادی متوقع تھی… “چلو صارم… بتاؤ ہادیہ کو… کہ اسے کیا کرنا ہے… ” ابیہا نے ایکسائیٹڈ ہوتے ہوۓ صارم کو مخاطب کیا… “ویٹ کرو لڑکی… اتنی مشکل سے تو یہ ہاتھ آئ ہے… مجھے سوچ لینے دو پہلے… ” صارم کنپٹی پر انگلی رکھے کچھ سوچنے لگا… چند لمحوں بعد وہ سیدھا ہوا تو اس کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ تھی… نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباۓ اس نے ہادیہ کو دیکھا… وہ جو منتظر سی بیٹھی تھی کہ صارم شرط بتاۓ اس نے ابرو اچکاۓ… “کیا…؟؟ یوں بلا وجہ اسمائل کیوں پاس کر رہے ہو… ؟؟” وہ الجھی تھی…”نہیں کچھ نہیں… اوکے گائز میں نے سوچ لیا ہے… ” صارم نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اعلان کرنے والے انداز میں کہا… “کیا…؟؟ ” سب کی سوالیہ نگاہیں اس کی طرف اٹھیں… “یہی کہ… ہادیہ… یو وِل کِس می… ” ایک لمحے کو رکتے ہوۓ وہ فورأ اپنی بات کہہ گیا…ساتھ ہی انگلی سے اپنے گال کی طرف اشارہ کیا… پھر آنکھوں میں شرارت لیے ان کی جانب دیکھا… جانتا تھا اب واٹ لگے گی… ہادیہ تو پہلے بات سمجھ ہی نہیں پائ… جب سمجھنے کے قابل ہوئ تو آنکھیں نکال کر اس کی طرف دیکھا… اور ہاتھ میں پکڑی بک اس کی جانب اچھالی جسے وہ ہنستے ہوۓ بآسانی کیچ کر گیا تھا… “شکل دیکھی ہے اپنی… ہادیہ…یو وِل کِس می… ہونہہ…آۓ بڑے… ” منہ بگاڑتے ہوۓ ہادیہ نے صارم کی نقل اتاری… اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا “شادی کے بعد میری شکل بدلے گی تو نہیں… تب بھی یہی شکل ہو گی…”صارم دلچسپی سے اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھتے مزید شرارت پر آمادہ ہوا… “صارم…” باقی سب کی تنبیہی آواز ابھری تھی… جبکہ لبوں پر مسکراہٹ تھی… سب جانتے تھے کہ وہ جان بوجھ کر ہادیہ کو تنگ کر رہا ہے… “کیا ہے یار… شرط تو شرط ہے… اگر یہ نہیں پوری کر سکتی تو مان لے کہ یہ لوزر ہے… ” صارم خفگی دکھاتے ہوۓ بولا… “کیوں… میں کیوں مانوں کہ میں لوزر ہوں… تم نے اپنی شرط دیکھی ہے… ؟؟ کوئ اور شرط رکھو… ” ہادیہ کے منہ کے زاویے بھی بگڑے تھے… “ارے بس کرو یار… جھگڑا تو مت کرو…” ساحر نے بھی زبان کھولی… ” نہیں بالکل نہیں… گیم اسٹارٹ کرنے سے پہلے کسی نے نہیں کہا تھا کہ ایسی کوئ شرط الاؤ نہیں… اب شرط تو پوری کرنی ہی پڑے گی… یا پھر گیم کھیلنا ہی چھوڑ دو… ” صارم کہتا ہوا گھاس پر ہی لیٹ گیا… چہرے پر ہادیہ کی پھینکی گئ کتاب کھول کر رکھ لی تا کہ دھوپ آنکھوں میں نہ چبھے… “صارم تم… ” ہادیہ دانت پیستی کچھ کہنے جا رہی تھی جب ابیہا نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کروایا… پھر اشاروں میں ہی اسے کچھ بتایا تھا جس پر ہادیہ کے لبوں پر مسکاہٹ دوڑ گئ… “اوکے… آئ ول کس یو…. ” مسکراہٹ دباتے ہوۓ چند لمحوں بعد وہ گویا ہوئ جس پر صارم کرنٹ کھا کر اٹھ بیٹھا… “رئیلی…؟؟؟” آنکھوں میں بے یقینی لیے وہ ہادیہ سے پوچھ رہا تھا… ہادیہ نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا… باقی سب صارم کی بے تابی کو دیکھتے ہوۓ مسکراہٹ چھپانے کو سر جھکا گۓ… “ہاۓ… دل خوش کر دیا کڑئیے… چلو جلدی کرو کہیں پھر تمہارا ارادہ نہ بدل جاۓ… ” بےتابانہ انداز میں کہتا وہ ہادیہ کی جانب جھکا… اپنا دایاں گال اس کی جانب کیا… “اوۓ اوۓ کدھر جا رہا ہے… ٹک کے بیٹھا رہ… ” ساحر نے اسے کھینچ کر پیچھے بٹھایا… وہ چاروں لڑکیاں ہنسنے لگیں… وہ ابھی ٹھیک سے بیٹھ بھی نہ پایا تھا جب زینی نے کاؤنٹنگ اسٹارٹ کی… “ون, ٹو, تھری…” اور ساتھ ہی ہادیہ نے فلائنگ کس صارم کی جانب اچھالی… وہ جو ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھ رہا تھا چینخ اٹھا… “نو نو… یہ چینٹنگ ہے…” سب اس کی حالت سے لطف اندوز ہو رہے تھے… ” کیوں چیٹنگ کیسی… ؟؟” رائنہ نے گھور کر صارم کو دیکھا… “کِس میرے گال پر کرنی تھی… ایسے نہیں… ” وہ احتجاجاً بولا… “تم نے شرط کے دوران یہ نہیں کہا تھا کہ گال پر ہی کس کرنا… ” ہادیہ نے بھی ٹکا سا جواب دیا… “لیکن میں نے اشارہ کیا تھا… ” وہ منمنایا… “اچھا… لیکن ہم میں سے تو کسی نے اشارہ دیکھا ہی نہیں… کیا دیکھا کسی نے…؟؟؟ ” ابیہا ابرو اچکاۓ سب سے پوچھ رہی تھی… مسکراہٹ دباتے ہوۓ سب نے نفی میں سر ہلا دیا… صارم نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوۓ سب کو گھوری سے نوازا… “تم لوگوں کو تو میں دیکھ لوں گا… ظالموں میں بھی تم لوگوں کا ہی دوست ہوں… کبھی میرا بھی ساتھ دے دیا کرو… ” وارننگ دینے والے انداز میں اس نے سب سے کہا… “بس کر شہزادے… تیری قسمت میں ابھی صرف آہیں بھرنا ہی لکھا ہے… ” ساحر نے اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوۓ حوصلہ دینا چاہا جس پر منہ بسورتے ہوۓ صارم نے اس کا ہاتھ جھٹکا…. “گیم دوبارہ اسٹارٹ ہو رہی ہے… اپنے رونے بعد میں رو لینا… ” شرارتی انداز میں کہتے ہوۓ زینی نے پین کو دوبارہ گھمایا… اس بار پین کی نوک ابیہا کی جانب تھی اور بیک سائیڈ ساحر کی طرف… “اوہ…” ابیہا کے منہ سے بے ساختہ نکلا… “اب آۓ گا مزہ…” ساحر نے شرارتی انداز میں کہا تھا… “لے میرے بھائ… قسمت نے کتنا اچھا موقع فراہم کیا ہے بدلہ لینے کا… بیا نے ہی ہادیہ کو فلائنگ کس کا مشورہ دیا تھا… اب ہم بھی اسے کوئ مشکل سی شرط دیتے ہیں… ” ساحر نے شرارت سے پہلے ابیہا کو دیکھا پھر صارم کو… جو اس کی بات سن کر پر جوش سا شرٹ کے کف فولڈ کرنے لگا… “او رہنے دے یار… شرط بتانی ہے اسے… میدان جنگ میں نہیں جا رہے تم… ” ساحر نے اسے چھیڑا… ” ساحر چیٹنگ نہیں اوکے… گیم رولز کے مطابق مجھے شرط تم بتاؤ گے… صارم نہیں… ” ابیہا نے وارننگ کے انداز میں کہا… جانتی تھی صارم کے دماغ میں اوٹ پٹانگ خیالات ہی آتے ہیں… اور وہ کوئ عجیب سی شرط ہی رکھے گا… “اچھا… جب خود ہادیہ کو مشورے دیے جا رہے تھے آنکھوں ہی آنکھوں میں تب گیم رولز کا خیال نہیں آیا آپ کو مس بیا… ” صارم لڑاکا عورتوں کی طرح خم ٹھونک کر میدان میں اترا… اس کے انداز پر سب مسکرا دئیے سواۓ ابیہا کے… ” اچھا ٹھیک ہے… بتاؤ شرط… ” وہ جانتی تھی بحث کرنے کا کوئ فائدہ نہیں اسی لیے ہتھیار ڈال دئیے… ” ایک منٹ مجھے سوچنے دو…” وہ تھوڑی تلے ہتھیلی رکھے سوچ میں ڈوبا… یونہی بے خیالی میں اس کی نظر سامنے کی جانب اٹھی… کوئ شیطانی خیال اس کے ذہن میں آیا اور لبوں پر شریر سی مسکراہٹ ابھری …وہ ساحر کے قریب ہوا اور دونوں کچھ کھسر پھسر کرنے لگے… لڑکیاں سوالیہ نگاہوں سے ان کی سب حرکتیں ملاحظہ کر رہی تھیں… چند لمحوں بعد وہ دونوں سیدھے ہوۓ… ساحر نے گلا کھنکارا… پھر شرارتی نگاہوں سے ابیہا کی جانب دیکھا… “سو… بیا… شرط یہ ہے کہ… دھیان سے سننا… تمہارے پیچھے دائیں طرف درخت کے ساتھ پڑے بینچ پر ایک ہینڈسم, ڈیشنگ, خوبصورت, مضبوط, توانا, امپریسو پرسنیلٹی کا مالک شخص بیٹھا ہے جس کے ہاتھ میں موبائیل ہے… ” ساحر کی نظروں کے تعاقب میں ابیہا نے بھی گردن موڑ کر اس طرف دیکھا… سامنے درخت کے قریب بینچ پر واقعی ایک شخص بیٹھا تھا… ٹانگ پر ٹانگ جماۓ… اردگرد سے بے نیاز… سیل میں مصروف… ابیہا نے واپس ساحر کی جانب دیکھا… “ہاں وہ راجا ہے… لیکن یہ سب بتانے کا مقصد…؟؟ ” ابیہا کی آنکھوں میں الجھن تھی… صارم پوجوش سا آگے ہوا… “یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ابھی تمہیں اس کے پاس جانا ہے… اور اس سے کہنا ہے کہ تمہیں تین میجک ورڈز بولے… میجک ورڈز جانتی ہو نا… آئ لو یو… یہ تین ورڈز اس سے کہلوانے ہیں تم نے…بس یہی شرط ہے تمہاری… ” صارم نے بات مکمل کر کے ہاتھ جھاڑے… ابیہا نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا… “تمہارا دماغ ٹھیک ہے…؟؟ وہ… مجھے آئ لو یو بولے گا…؟؟ ” ابیہا کے چہرے پر دبا دبا سا غصہ تھا… “نہیں مجھے پتا ہے وہ نہیں بولے گا… لیکن تمہیں اس سے بلوانا ہے…” صارم نے اپنی بات پر زور دیا تھا… پچھلے پانچ ماہ میں وہ اتنا تو جان ہی گۓ تھے کہ راجا انتہا کا کھڑوس اور روڈ ہے… جو کسی لڑکی کو لفٹ نہیں کرواتا… اپنے کام سے کام رکھتا ہے… تبھی ابیہا کو چیلنج کیا تھا… “”صارم… وہ میرا گارڈ ہے… مجھے کوئ شوق نہیں کہ وہ مجھے یہ تین ورڈز کہے…” منہ کے زاویے بگاڑتی وہ کہہ گئ… “اوہ کم آن بیا… اٹس جسٹ فن… تمہیں اس سے یہ تین ورڈز کہلوانے ہیں اور بس… کہہ دینے سے کونسا تم اس کے پیار میں پڑ جاؤ گی یا وہ تمہارے پیار میں پاگل ہو جاۓ گا…ٹیک اٹ ایزی یار… ” زینی نے ابیہا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا… ” پھر بھی… ایک گارڈ کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ مجھے یہ سب کہہ سکے…” ابیہا کا انداز رعونت بھرا تھا… “ہاہاہا… اس کی اتنی اوقات نہیں یا تم اس بات سے ڈر رہی ہو کہ اس سے کہلوا نہیں سکو گی… ” صارم کا لہجہ ہلکا سا استہزاء لیے ہوۓ تھا…”چیلنج کر رہے ہو مجھے…؟؟” ابیہا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا… “یہی سمجھ لو…” صارم کے لبوں پر مسکراہٹ جبکہ انداز چیلنجنگ تھا… “اوکے آئ ایکسیپٹ دس چیلنج…” مضبوط لہجے میں کہتی وہ اٹھی… ایک ہاتھ سے اپنے بال سنوارے… مڑی اور متوازن چال چلتی راجا کی جانب بڑھی… سب کی دلچسپ نظریں ان دونوں پر ہی جمی تھیں…
________
راجا اپنی جیب میں پیسے لیے بے مقصد سا اِدھر اُدھر پھر رہا تھا… ان پیسوں سے وہ کیا کرے… یہی سوچتا وہ باریک بینی سے اردگرد کا جائزہ لے بھی لے رہا تھا… ایک جگہ جا کر اس کے قدم تھمے… سامنے ایک بوڑھا سائیکل لیے کھڑا تھا… سائیکل کے ساتھ اس نے بہت سے غبارے باندھ رکھے تھے جن میں ہوا بھری تھی…غبارے ہوا میں ادھر ادھر اڑتے بچوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا رہے تھے… راجا کو یاد آیا جب وہ اپنے گاؤں میں موجود واحد سرکاری اسکول میں پڑھنے جاتا تھا تب اس کے اسکول کے باہر بھی چھٹی کے وقت ایک آدمی بہت سے غبارے لیے کھڑا ہوتا جس کے اردگرد بچوں کا جم غفیر اکٹھا ہو جاتا اور راجا پیسے نہ ہونے کے باعث دل مسوس کر رہ جاتا… چھوٹی چھوٹی حسرتوں کا ایک جہان آباد تھا اس کے دل میں… اس نے جیب پر ہاتھ رکھ کر پیسوں کی موجودگی محسوس کی… قدم بے ساختہ اس آدمی کی طرف بڑھنے لگے… اس کے ننھے سے ذہن میں ایک خیال آیا تھا جس سے وہ اپنے پیسوں کو خرچ کر کے مزید پیسے جمع کر سکتا تھا…اور اسے دوبارہ بھیک مانگنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی… یہی سوچ کر وہ غباروں والے آدمی کے پاس پہنچا… اپنی جیب میں موجود سب پیسوں سے اس نے غبارے خرید لیے… اس کے پاس باقی چند سکے بچے تھے جس سے اس نے ایک نلکی خریدی… اب وہ غبارے اور نلکی تھامے خالی جیب لیے ایک سمت بڑھ گیا… کچھ ہی فاصلے پر ایک خالی پلاٹ تھا… وہ وہاں جا کر آلتی پالتی مارے بیٹھ گیا… غبارے اپنے سامنے رکھے اور ایک ایک کر کے تمام غباروں میں ہوا بھرنے لگا… ان غباروں میں اپنی سانسیں بھر کر انہیں وہ بیچ سکتا تھا… ہر غبارے کو پھلانے کے بعد وہ اس کے آگے دھاگا باندھ دیتا تا کہ ہوا خارج نہ ہو… چند منٹ بعد ہی وہ ہانپ سا گیا… دونوں جبڑے درد کرنے لگے تھے… آستین کی مدد سے پیشانی سے پسینہ صاف کیا اور دوبارہ اپنے کام میں جت گیا… تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ تمام غبارے پھلانے میں کامیاب ہو چکا تھا… ان غباروں کے دھاگے ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا… ستائش بھری ایک نگاہ ان غباروں پر ڈالی… کبھی وہ ایک غبارہ خریدنے کو ترستا تھا اور آج اس کے پاس کئ غبارے تھے… جنہیں اس نے اپنی محنت سے خریدا اور پھلایا تھا… غبارے لے کر وہ آگے چل دیا جہاں وہ ان غباروں کو بیچ سکے… یہ اس کی زندگی کا پہلا بزنس تھا جو تھا تو چھوٹی سطح کا لیکن قطرہ قطرہ سمندر کی مانند اسے بھی یوں ہی آہستہ آہستہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھنی تھیں اور اپنی منزل کو پانے میں کامیاب ہونا تھا…
ابیہا ابھی راجا کے قریب بھی نہیں پہنچی تھی جب راجا نے نگاہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور فورأ سے پہلے اٹھ کھڑا ہوا… “یار… یہ بندہ اردگرد سے اتنا بے نیاز ہوتا نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے…” ساحر کی آواز ابھری تھی… اس کی بات کے جواب میں سب خاموش رہے تھے البتہ نظریں ابیہا اور راجا پر ہی ٹکی تھیں… “آپ اتنی جلدی آ گئیں….ابھی غالباً ایک کلاس رہتی ہے آپ کی…” راجا احترامأ نگاہیں جھکاۓ کھڑا تھا… ابیہا اس کے قریب پہنچ چکی تھی… “ہاں…وہ… نہیں..
ایک کلاس رہتی ہے ابھی… ایکچوئلی تم سے ایک کام تھا…” ابیہا زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی ورنہ اسے سخت کوفت ہو رہی تھی اس وقت… “جی کہیے…” راجا کو تو غالباً مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دینا بھی نہ آتا تھا… ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کے انداز اور آواز سے سنجیدگی ہی جھلک رہی تھی…
“اصل میں میری اور میرے فرینڈز کی ایک شرط لگی ہے… انہوں نے مجھ سے کہا کہ… ” بولڈ ہونے کے باوجود وہ راجا کے سامنے بات کرتے کرتے اٹک گئ… “کہ…؟؟” راجا نے آنکھیں سیکڑ کر سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا… ” ان کا کہنا ہے کہ میں تم سے تھری میجک ورڈز کہلواؤں… میرا مطلب کہ تمہیں تین میجک ورڈز مجھ سے کہنے ہیں… ” ابیہا نے بات مکلمل کرتے ہوۓ اس کی جانب دیکھا… “میجک ورڈز کونسے…؟؟؟” سب جانتے ہوۓ بھی راجا نے ابرو اچکاۓ… ابیہا دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئ…لیکن چہرے کو نارمل رکھنے کی بھرپور کوشش کی… “آئ لو یو…” چند لمحے ٹھہر کر اسے بتایا… “بٹ آئ ڈونٹ لو یو…” بے نیازی سے کہہ کر وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اردگرد دیکھنے لگا… ابیہا نے پہلے نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا… جب سمجھ میں بات آئ تو کلس کر رہ گئ… “او ہیلو… میں نے تم سے نہیں کہے یہ ورڈز… تمہیں بتایا ہے کہ تمہیں میرے فرینڈز کے سامنے یہ ورڈز کہنے ہیں مجھ سے… کسی خوش فہمی میں نہ رہنا تم…”
