Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23
رات کے بارہ بجے کے قریب اسد شیرازی اس کے کمرے میں آۓ تھے… ملازم نے بتایا تھا انہیں کہ ابیہا بی بی نے کھانا بھی نہیں کھایا… اور جب سے باہر سے آئ ہیں مسلسل رو رہی ہیں…ملازم کو کھانا لانے کا کہہ کر دل ہی دل میں کوفت محسوس کرتے وہ بیزار سے اس کے کمرے کی طرف آۓ… دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوۓ تو کمرے کی حالت دیکھ کر انہیں پریشانی نے آن گھیرا… پورے کمرے کی حالت بکھری ہوئ تھی… شو پیس ٹوٹے ہوۓ تھے… دیواروں پر لگی تصویر نیچے گری تھیں جن کے فریم کے شیشے بھی جا بجا بکھرے تھے… گلدان ادھر ادھر بکھرے تھے… ڈریسنگ ٹیبل سے ہر چیز نیچے گری اپنی بے قدری کو رو رہی تھی…قیمتی پرفیومز بھی ادھر ادھر لڑھک رہی تھیں…یہ اس ابیہا کا کمرہ تو ہرگز نہیں لگ رہا تھا جو صفائ اور نفاست میں کسی کمپرومائز پر تیار نہ ہوتی تھی…
اسد شیرازی تمام چیزوں سے بچتے ہوۓ دوسری جانب آۓ جہاں بیڈ سے ٹیک لگاۓ نیچے فرش پر وہ بیٹھی تھی… بکھرے بال, متورم آنکھیں…سرخ ہوتا چہرہ جس پر آنسوؤں کے نشانات تھے… ایک پل کو اسد شیرازی کے دل میں خدشہ ابھرا کہ کہیں ابیہا ان کی سچائ تو نہیں جان گئ… لیکن پھر خود کو تسلی دیتے ہوۓ وہ اس کے قریب آۓ… “ابیہا… کیا ہوا… یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی…؟” ان کے لہجے سے بھی پریشانی جھلک رہی تھی… رہ رہ کر اپنی اصلیت کھل جانے کا خود ابھر رہا تھا دل میں… “ابیہا نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا… چہرے سے آنسو صاف کیے… پھر دوپٹا کندھوں پر صحیح طرح پھیلایا… “نتھنگ ڈیڈ…آئ… آئم فائن…” بھرائ آواز میں کہتے ہوۓ اس نے مسکرانے کی کوشش کی تھی لیکن مسکرا نہ سکی… “یو آر فائن… ؟؟ چہرہ دیکھو زرا اپنا جا کر شیشے میں… اپنا حال دیکھو… اور تم کہہ رہی ہو یو آر فائن… چلو…جلدی سے بتاؤ مجھے…کیا ہوا ہے… کس بات نے ہماری بیٹی کو اتنا اپ سیٹ کیا ہے… جلدی شاباش…” اسد شیرازی نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوۓ اسے پچکارا… ابیہا سے خود پر قابو پانا مشکل ہونے لگا… آنسو پھر سے امڈنے لگے… “کچھ نہیں ڈیڈ… بس یونہی… دل چاہ رہا تھا رونے کو… ” اس سے وضاحت دینا مشکل ہونے لگا… اسد شیرازی نے دل ہی دل میں اسے کوستے ہوۓ آنکھیں بند کیں… پھر گہری سانس بھر کر اس کی طرف متوجہ ہوۓ… “دیکھو ابیہا… سچ سچ بتاؤ ہوا کیا ہے… تم جانتی ہو نا… مجھے تمہاری آنکھ میں ایک بھی آنسو گوارا نہیں… کتنی تکلیف ہوتی ہے مجھے تمہارے رونے سے..م اور یہاں تم نے رو رو کر اپنا حشر کر رکھا ہے تو تمہیں کیا لگتا ہے میں اتنی آسانی سے تمہارا رونا نظر انداز کر دوں گا… سچ سچ بتا رہی ہو یا نہیں… ورنہ میں راجا کو بلا رہا ہوں… اسے تو معلوم ہی ہو گی وجہ تمہارے رونے کی… سارا دن تمہارے ساتھ ہی تو رہتا ہے وہ… ” اسد شیرازی کہتے ہوۓ سائیڈ ٹیبل پر کھانا رکھتے ملازم کی طرف مڑے… “سنو… راجا کو بھیجو ذرا کمرے… “وہ ابھی کہہ ہی رہے تھے جب ابیہا بوکھلا کر انہیں روک گئ…” نہیں ڈیڈ… اسے بلانے کی ضرورت نہیں ہے… وہ خود نہیں جانتا کچھ… وہ…بس…مجھے آج مما اور ڈیڈ کی بہت یاد آ رہی تھی تو خود پر قابو نہیں رکھ پائ… آئم سوری…نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہو گا… ” اس نے بہانہ تراشا… راجا سے لاکھ اختلافات سہی…وہ راجا کے بارے میں اسد شیرازی کو نہیں بتانا چاہتی تھی… کیونکہ اگر اسد شیرازی کو معلوم پڑ جاتا کہ ان کے عزیز دوست کا قاتل پھر سے ان کی زندگیوں میں واپس آ گیا ہے تو وہ شاید اسے مار ہی ڈالتے… اور اسی خوف کے باعث وہ ہر بات ان سے چھپا گئ… اسد شیرازی نے بغور اس کا چہرہ دیکھا… جانچتی ہوئ سی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوۓ وہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ کیا واقعی وہ سچ کہہ رہی ہے… “پکا… یہی بات ہے نا… ؟؟” اسد شیرازی نے مشکوک لہجے میں پوچھا… “جج..جی… “ابیہا نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا… اسد شیرازی نے ملازم کو جانے کا اشارہ کیا… اس کے جانے کے بعد ابیہا کی طرف متوجہ ہوۓ… ” ایسے روتے نہیں ہیں بیٹا… ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں تمہارے… انجواۓ کرو اپنی لائف… میں جانتا ہوں مراد اور بھابھی کی کمی کو تو پورا نہیں کر سکتا میں لیکن اب تک ہر ممکن کوشش کی ہے میں نے کہ تمہیں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دوں… پھر بھی کوئ غفلت ہوئ ہو تو مجھے معاف…” وہ لہجے میں اداسی سموۓ کہہ رہتے تھے جب ابیہا نے تڑپ کر ان کے ہاتھ تھامے… “نہیں ڈیڈ… ایسے مت کہیے… آپ سے کوئ شکایت نہیں مجھے… آپ نے جو کچھ میری خاطر کیا وہ کوئ نہیں کرتا کسی کی خاطر… ایک آپ ہی تو ہیں جن کی وجہ سے میں آج یہاں تک پہنچی… آپ نہ ہوتے تو نہ جانے میرا کیا ہوتا… آپ کے بہت احسان ہیں مجھ پر… یوں مجھ سے معافی مانگ کر مجھے گناہگار مت کیجیے… آپ ہی نے کہا تھا نا کہ میں آپ کو ڈیڈ کہہ کر مخاطب کروں… اپنا باپ ہی سمجھوں تو باپ کبھی اپنے بچوں سے معافی نہیں مانگتا… ” ابیہا نے ان کے ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاۓ تھے… اسد شیرازی نے فاتحانہ نگاہوں سے اس کے جھکے سر کو دیکھا…. وہ اسے ایسے جال میں پھنسا چکے تھے کہ ابیہا کبھی ان پر شک کر ہی نہیں سکتی تھی… “مجھے اپنا ڈیڈ مانتی ہو نا… تو چلو اٹھو… شاباش…منہ دھو کر آؤ… اپنا حلیہ ٹھیک کرو… اور کھانا کھاؤ….مجھے ابیہا روتی بسورتی بالکل اچھی نہیں لگتی… تم صرف ہنستی اچھی لگتی ہو… چلو…اٹھو اب… ” کہتے ہوۓ اسد شیرازی نے زبردستی اسے اٹھایا… اس کے باتھ روم جانے کے بعد اسد شیرازی نے چمکتی نگاہوں سے آئینے میں اپنا عکس دیکھا… اور اپنی کمال کی اداکاری پر ان کا خود کو شاباشی دینے کو دل چاہا…
__________
“سر…مجھے ہر صورت ان قاتلوں کو ڈھونڈنا ہے… جنہوں نے اینجل کے پیرنٹس کو مارا… سزا تو میں بھگت چکا ہوں…لیکن انہیں بھی قرض چکانا ہی ہو گا… یہی میری زندگی کا واحد مقصد ہے… ” راجا اس وقت ڈی آئ جی جمشید ربانی کے ساتھ ان کے اسٹڈی روم میں بیٹھا تھا… جب جمشید ربانی نے اس سے اس کے مستقبل کے بارے میں پوچھا…
اس کی بات سن کر وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگے… “ہممم… تمہاری بات بھی درست ہے… لیکن راجا… میں صرف یہی کہوں گا کہ فی الحال تم اس انتقام کو پسِ پشت ڈال دو… اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ تم نے اس قاتل کا فقط چہرہ دیکھا ہے… تمہیں نام بھی نہیں معلوم… دس سالوں میں بہت کچھ بدل جاتا ہے… خدا جانے وہ کون تھا اور اب کہاں ہو گا…جو اسکیچ تم نے بنا کر دیا اس چہرے کا پولیس میں بھی کوئ ریکارڈ نہیں ورنہ اس کی انفارمیشن مل جاتی… پھر وہ بچی اینجل… وہ بھی اپنے گھر موجود نہیں… پتا نہیں زندہ بھی ہے یا اسے بھی ان لوگوں نے… میرا مطلب تم سمجھ رہے ہو نا اچھی طرح… ان سب چیزوں میں اپنی زندگی کو ضائع مت کرو… اگر تم بھی یہی سب کرنے لگے…خون خرابے میں ملوث ہوۓ تو کیا فرق رہ جاۓ گا تم میں اور ان لوگوں میں…. فرض کرو تمہیں وہ لوگ کہیں نہ کہیں مل بھی جاتے ہیں… تم انہیں ختم کر کے اپنا بدلہ لے بھی لیتے ہو… پھر… اس سے آگے کیا… ؟؟ دوبارہ جیل جاؤ گے…؟؟ یونہی اپنی قیمتی زندگی جیلوں میں گزارو گے… کیا اس سے بہتر نہیں کہ تم اپنی زندگی کو کسی اچھے مقصد کے لیے وقف کر دو… اپنا مستقبل بناؤ… خود کو اتنا مضبوط بناؤ کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے آئیں تو قانون کے تحت انہیں سزا دے سکو….. ” جمشید ربانی نے نرم لہجے میں کہتے ہوۓ اس کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی… ان کی دلی خواہش تھی کہ راجا اپنی زندگی میں بلند مقام حاصل کرے… راجا نے حیران نظروں سے ان کی جانب دیکھا… “کیا مطلب سر… اچھا مقصد کیا ہو سکتا ہے بھلا…؟؟ ” الجھن اس کی آواز سے نمایاں تھی…
“دیکھو راجا… تم یہ سمجھتے ہو کہ زندگی کے سارے ستم تم پر ٹوٹے… ہر ظلم تم پر ڈھایا گیا…لیکن اس دنیا میں ایسے کئ لوگ ہیں جو تم سے زیادہ اذیتیں جھیل چکے ہیں اور شاید جھیل رہے ہیں… اس دنیا میں کسی بھی انسان کو اللّہ نے بغیر مقصد پیدا نہیں کیا… ہر انسان کو کسی نہ کسی کام کے لیے ہی بنایا گیا ہے… تم بھی اپنی زندگی کا مقصد پہچانو… میں تمہیں کسی اونچے مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں…جہاں لوگ تمہیں ایک کرمنل کی حیثیت سے نہ دیکھیں…بلکہ تمہیں دیکھتے سیلوٹ کرنے کو دل چاہے… جن حالات سے تم گزرے ہو ان حالات نے تمہیں کندن بنا دیا ہے… تمہارا دل, تمہارا جگر مضبوط کیا ہے… تمہیں اتنی ہمت عطا کی ہے کہ تم سخت سے سخت حالات کا بھی مقابلہ کر سکتے ہو… اگر تم اپنی تمام قوتیں مثبت سمت میں لگاؤ تو بہت آگے تک جا سکتے ہو…. ” جمشید ربانی نے مناسب الفاظ میں اسے بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کی… اور راجا کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ان کی باتوں سے کسی حد تک متفق ہے… لیکن ابھی تک وہ یہ نہیں سمجھ پایا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے… “میں آپ کی ہر بات سے اتفاق کرتا ہوں سر….لیکن یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ آگے کیا کروں… اپنی زندگی کو کونسا موڑ دوں… ” گہری سانس بھرتے ہوۓ جمشید ربانی نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائ… “ڈونٹ وری مائ سن… کل تمہیں اپنے ایک دوست سے ملواؤں گا… تمہارے لیے کچھ بہت بڑا سوچ رکھا ہے میں نے… یوں سمجھو آج سے تمہاری جدوجہد کا آغاز ہو چکا ہے زندگی میں کچھ بن کر دکھانے کے لیے… باقی تمہیں کل معلوم ہو جاۓ گا کہ تمہیں آئندہ کی زندگی میں کیا کرنا ہے… آج سے ہی تم جم بھی جوائن کرو… اپنی باڈی بناؤ… آخر کو دشمنوں سے مقابلہ کرنے جا رہے ہو تم… فی الحال مجھے تمہارے ریکارڈ سے جیل کے یہ دس سال مٹانے ہیں… کیونکہ جیل کا ریکارڈ رہے تو کوئ اچھی جاب نہیں مل سکتی… ہے تو ویسے یہ غیر قانونی اور غلط….لیکن کچھ صحیح کرنے کے لیے تھوڑا بہت غلط کرنا پڑے تو کام چلا لینا چاہیے… اب تم ایک نئ شناخت کے ساتھ دنیا کے سامنے آؤ گے…جس کا پچھلا ریکارڈ بالکل صاف شفاف ہو گا… “ہلکے پھلکے سے انداز میں وہ کہہ رہے تھے…راجا کچھ سمجھا کچھ نہیں… لیکن سر اثبات میں ہلا دیا….
سر پہ باندھ کے نکلیں کفن…
دشمنوں کو کر دیں دفن…
خون میں ہے وطن پرستی
بازوؤں میں پورا دم…
شیروں جیسا جگرا اپنا…
آنکھیں ہیں عقاب سی…
جو بھی ہے ٹکرایا ہم سے…
ہم نے اس کو مات دی…
ہم جان سے زیادہ پیار کرتے ہیں اس دھرتی سے…
ہم خطروں کے ہیں کھلاڑی بندے ہیں سچے رب کے…
“مجھے پہلے ہی شک تھا کہ تم کوئ عام آدمی نہیں ہو…کون ہو تم…؟؟” اسد شیرازی کے اس خاص بندے حفیظ نے گرج کر پوچھا…وہ اس خفیہ اڈے کا انچارج تھا…جہاں پر اسلحہ اور بارود وغیرہ حفاظت سے رکھا جاتا تھا,اور یہاں سے آگے دہشتگردوں کو وہ سامان پہنچایا جاتا جو پاکستانیوں کی مدد سے ہی پاکستان کو تباہ کر رہے تھے…حفیظ کا شمار اسد شیرازی کے قریبی اور وفادار کتوں میں سے ہوتا تھا…جو اپنے مالک کے لیے اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں….لیکن راجا پر اسد شیرازی کی مہربانیاں اور اس کی طرف ان کا جھکاؤ دیکھ کر وہ برداشت نہیں کر پاتا تھا… پہلے وہی اسد شیرازی کا خاص ترین بندہ تھا لیکن راجا کے آنے کے بعد اس کی اہمیت کم ہو کر رہ گئ تھی… اسی وجہ سے وہ راجا کے خلاف ہو گیا… راجا کو چند گھنٹے پہلے ہی خبر ملی تھی کہ آج یہاں سے چار ٹرک اسلحہ ملک دشمنوں کو پہنچایا جانا تھا… اپنی ٹیم کو خبر کرنے کا وقت نہیں تھا لہذا وہ خود فورأ اس اڈے پر پہنچا تھا… جہاں باقی سب کو مار گرانے کے بعد اب وہ اور حفیظ آمنے سامنے کھڑے تھے…
“صحیح کہا… اس وطن کی خاطر اپنی جان داؤ پر لگانے والا کوئ بھی شخص عام نہیں ہوتا…باۓ دا وے… آئم کیپٹن ابتہاج… فرام (SSG) کمانڈوز… اور میرا کام ہی تم جیسے کتوں اور وطن کے غداروں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے… ” راجا کے لہجے میں آگ کی تپش تھی…
“اوہ…تو تم ہو اس وطن کے نام نہاد محافظ… “حفیظ کے لہجے میں استہزاء کی جھلک تھی… راجا طنزأ مسکرایا… “نام نہاد نہیں…ہم ہی ہیں اصلی ہیرو… جو تم جیسے وطن کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والوں کو مار گرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں… ” راجا کا لہجہ مضبوط تھا… “ہنہہہ… یہ تو آج پتا چلے گا…کہ کون اصلی ہیرو ہے اور کون نقلی… ویسے بھی یہ وطن اس کی حفاظت کرنے والوں کو دے بھی کیا سکتا ہے…صرف موت… ہمیں دیکھو… عیش کر رہے ہیں… نوٹوں میں کھیلتے ہیں… ” حفیظ کے لہجے میں اپنے وطن کے لیے نفرت تھی…
“تم جیسے غدار کیا جانیں کہ یہ وطن ہمیں کیا دیتا ہے… جسے تم موت کہتے ہو نا… ہم اسے شہادت کے نام سے جانتے ہیں… اور ہم پاکستانی ہی ہیں جو شہادت کے نام سے ڈرنے کی بجاۓ فخر سے خود کو شہادت کے سپرد کرتے ہیں… کیونکہ یہ اعزاز بہت قسمت والوں کو ملتا ہے… تمہیں تمہارا یہ پیسہ مبارک…جو روز محشر تمہارے کسی کام کا نہیں ہو گا… تم میں اور ہم میں یہی تو فرق ہے… تم پیسہ کمانے کے لیے نہ جانے کتنے معصوموں کی جان لیتے ہو… اور ہم انہی معصوموں کی جان بچانے کے لیے خود اپنی جان دیتے ہیں… تمہارا اور ہمارا تو کوئ مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا… ” راجا کے لہجے میں فخر تھا… اپنے پاکستانی ہونے پر… اس کی آواز سے وطن کی محبت جھلک رہی تھی… اس کی باتوں کو, اس کے اعتماد کو دیکھ کر حفیظ بھی چند لمحوں کے لیے کچھ بول نہ سکا…
“تمہاری موت میرے ہی ہاتھوں لکھی ہے… بہت شوق ہے نا وطن کی خاطر قربان ہونے کا… شہادت پانے کا… لو آج میں تمہارا یہ شوق پورا کیے دیتا ہوں… بہت کر لی خدمت اپنے وطن کی… اب سکون سے جا کر قبر میں سو جاؤ… ” حفیظ نے تنفر سے کہتے ہوۓ فائر کیا تھا…لیکن اس سے پہلے ہی راجا نے اسے بازو سے تھام کر جھٹکا دیا… ہوائ فائر ہوا تھا… ایک پل کا توقف کیے بغیر راجا نے اس کی کہنی پر ضرب لگائ… حفیظ کے ہاتھ سے گن نیچے جا گری…. وہ راجا سے شاید اتنی پھرتی کی توقع نہیں کر رہا تھا… تبھی اس کے سامنے بے بس ہوا…. راجا نے اس کی پشت اپنی جانب کرتے ہوۓ اس کا بازو مروڑ کر اس کی کمر سے لگایا اور اس کی گردن کو اپنے شکنجے میں کسا… “شہادت ہماری خواہش ضرور ہے… لیکن اس سے پہلے ایک خواہش تم جیسے ملک کے دشمنوں کو ختم کرنے کی بھی ہے… شہادت میرے نصیب میں ہوئ تو ضرور ملے گی مجھے… لیکن ابھی میری زندگی کے بہت سے اہم کام باقی ہیں… تم جیسے بہت سے کتے ہیں جنہیں مجھے ختم کرنا ہے… اپنے ملک کو تم جیسے غداروں سے پاک بنانا ہے…کیونکہ یہ دھرتی ہماری ہے… مسلمانوں کی… یہاں صرف پیار بانٹنے والے لوگ رہ سکتے ہیں… تم جیسوں کو یہاں رہنے کا کوئ حق نہیں جو پسیوں کی خاطر اپنا ایمان بھی بیچ دیتے ہیں… صرف مسلمانوں کا نام رکھ لینے سے کوئ مسلمان نہیں ہو جاتا… مسلمان ہونے کے لیے دل میں اسلام کا ہونا ضروری ہے… دوسروں کے لیے ہمدردی اور درد کا ہونا ضروری ہے… ” راجا کے چہرے پر سختی ابھری تھی… آنکھوں میں سفاکی اتر آئ…حفیظ مسلسل مزاحمت کر رہا تھا…خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا… لیکن راجا نے اس کے منہ پر پنچ مار مار کر اسے نیم بے ہوش کر دیا… جب وہ اٹھنے کے قابل بھی نہ رہا تو راجا نے اسے چھوڑا… اپنا ریوالور اٹھایا… “نن….نہیں مم…مجھے مت…مارنا پلیز… ” حفیظ نے اسے ریوالور اٹھاتے ہوۓ دیکھا تو کراہ کر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنی زندگی کی بھیک مانگی… راجا نے ادھر ادھر بکھری دوسری لاشوں کو بھی دیکھا… استہزائیہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر ابھری…تبھی اس کی نگاہ ایک سمت اٹھی…کچھ فاصلے پر ایک آئل ٹینک رکھا تھا… کچھ سوچ کر راجا نے سامنے نظر آتی کھڑکی پر فائر کیا… چھن سے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا… اس نے مڑ کر نیم مردہ حفیظ کو دیکھا… “اگر آج تمہیں چھوڑ دیا تو اس کا مطلب کل دوسرے بہت سے لوگوں کی جان خطرے میں ڈال دی… اور مجھے اپنے ہم اطنوں کی جان بہت عزیز ہے… اسد شیرازی تک جب یہ خبر پہنچے گی کہ اس کے اس اڈے میں آئل ٹینک لیک تھا… سگریٹ نوشی کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی… ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا… وہ اسلحہ اور بارود جو آج غالباً سرحد پار بھجواۓ جانے تھے وہ بھی تباہ و برباد ہو گۓ…تب اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کو بے چین ہوں میں…یقیناً بہت بڑی خبر ثابت ہو گی اسد شیرازی کے لیے یہ… کافی سے بھی زیادہ نقصان ہو جاۓ گا نا بے چارے کا.. ” آنکھوں میں سختی لیے وہ کہہ رہا تھا… ایک نظر کافی فاصلے پر کھڑے ٹرکوں پر ڈالی… جن پر سامان لوڈ کر دیا گیا تھا… ایک گھنٹے بعد یہ ٹرک یہاں سے روانہ ہونے والے تھے…
اس کی باتوں سے اس کا ارادہ سمجھتے ہوۓ حفیظ کی آنکھوں میں خوف کے ساۓ لہراۓ… لیکن اس کی جانب دیکھے بغیر راجا نے آئل ٹینک پر فائر کیا… اور ایک پل کا بھی توقف کیے بغیر کھڑکی سے کود گیا… پیچھے عمارت میں آگ بھڑک اٹھی تھی… دھماکوں کی آواز سے فضا گونج اٹھی… یقیناً مرنے والوں کی لاشوں کے بھی کئ ٹکڑے ہو گۓ ہوں گے…کچھ ہی دیر بعد راجا بھی وہاں اکٹھے ہونے والے لوگوں اور میڈیا کے درمیان کھڑا تھا… لوگوں میں چہ مگوئیاں جاری تھیں… سب افسوس بھری نگاہوں سے اس عمارت کو تباہ ہوتے ہوۓ دیکھ رہے تھے… راجا نے ہڈ سر پر گرایا… اور ایک جانب بڑھ گیا….
“کیسے ہو گیا یہ سب… ؟؟ اتنی غفلت..؟؟ اتنی لاپرواہی…؟؟” اسد شیرازی نے اپنے ایک خاص اڈے پر سب خاص آدمیوں کو بلایا…وہ تعداد میں تقریباً دس لوگ تھے… اور اسد شیرازی نے تمام کام الگ الگ ان کے ذمے لگا رکھے تھے… ایریا بھی بانٹ رکھا تھا… اسد شیرازی کا ملنا جلنا صرف ان دس افراد سے تھا… باقی سب ان دس افراد کے انڈر کام کرتے تھے…
اس وقت جس ایریے کے خفیہ اڈے کو راجا نے تباہ کیا تھا وہاں کا ہیڈ حفیظ تھا… اور وہ خود اس دھماکے میں جل کر مر چکا تھا… اسد شیرازی اپنے خاص آدمی کو کھونے اور کروڑوں کا نقصان ہونے پر غصے سے پاگل ہوتے ہوۓ ان سب پر چلا رہا تھا… راجا بھی وہیں ایک جانب سر جھکاۓ کھڑا تھا… راجا کو کوئ ایریا تو نہیں دیا گیا تھا…. بس اسے کبھی کبھار مال ڈلیوری کے لیے بھیج دیا جاتا یا جو لوگ مال لینے کے بعد رقم دینے میں ہیرا پھیری سے کام لے رہے ہوتے ان کا دماغ درست کرنے کے لیے کہا جاتا… تبھی وہ اسد شیرازی کے عتاب سے بچا ہوا تھا… اسے تو یہ خبر بھی نہیں دی گئ تھی کہ آج سرحد پار مال پہنچایا جانے والا تھا… اسی لیے اسد شیرازی کا شک اس پر نہیں گیا… یہ خبر راجا نے اپنے خفیہ ذرائع سے حاصل کی تھی….
“سر… کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا… صرف اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ وہاں جو آئل ٹینک پڑا تھا وہ لیک تھا شاید… اور غالباً کسی نے سگریٹ پینے کے بعد بے دھیانی میں وہاں پھینک دی… جس کے باعث آگ بھڑک اٹھی… صرف آئل ٹینک کی بات ہوتی تو شاید کچھ بچت بھی ہو جاتی… لیکن وہاں جو بارود رکھا گیا تھا وہ بھی پھٹ پڑا… جس کی وجہ سے وہ ساری عمارت جل کر راکھ ہو گئ…. اڈے کے آس پاس کی جو عمارات تھیں وہاں بھی کافی نقصان ہوا ہے سر… میڈیا میں اس مسئلے کو بہت اٹھایا جا رہا ہے… ” ان دس افراد میں سے اشرف نے اب تک کی تمام صورتحال بیان کی تھی… اسد شیرازی پریشانی سے ادھر ادھر چکر کاٹتا سخت اضطراب کا شکار لگ رہا تھا…اتنی بری خبر تھی کہ چند پل کو اس کا دماغ بھی کام کرنا چھوڑ گیا تھا…
