Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22
وہ سیل کی اسکرین روشن کر کے اس پر انگلی پھیرنے لگا… “تمہیں اس کی ڈریسنگ سے یا اس کی باتوں سے کیا لینا دینا… ویسے بھی تمہارا اس سے دل لگانا ٹھیک نہیں… تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ شادی کس مقصد کے لیے کی جا رہی ہے… ” مرزا جمال آفندی کے لہجے میں تنبیہہ چھپی تھی… فراز آفندی نے سر جھٹکا… “جانتا ہوں انکل… اچھی طرح جانتا ہوں… اس کی دولت ہی تو ہے جس سے متاثر ہوا ہوں میں… ویسے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنی بے وقوف سی لڑکی اتنی بڑی پراپرٹی کی اکلوتی وارث ہے… کیا قسمت پائ ہے اس نے… ” راجا نے مزہ لیتے ہوۓ کہا… مرزا جمال آفندی کی کی بورڈ پر چلتی انگلیاں چند پل کے لیے تھمیں… “جہاں تک میرا اندازہ ہے وہ بے وقوف نہیں معصوم ہے… اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے خود بھی یہ نہیں معلوم کے اس کی کل کتنی پراپرٹی ہے… دس ہزار کروڑ کی مالک ہے وہ… دس ہزار کروڑ کی… اور ہم…ہمارے پاس فقط ایک سو کروڑ … اس کے باپ نے اپنی جو وصیت لکھی تھی اس کے مطابق جب وہ تئیس سال کی ہو جاۓ گی تب اس کی شادی کی جاۓ گی… تئیس سال سے پہلے ہرگز نہیں… اور اس کی تئیس سال کی عمر پوری ہوتے ہی اس کی تمام تر جائیداد اس کے نام کر دی جاۓ گی… شادی کے بعد اس کی دولت کا ففٹی پرسنٹ اس کے شوہر کا ہو گا… ففٹی پرسنٹ مطلب پانچ ہزار کروڑ… سوچو… تم مالک بننے والے ہو پانچ ہزار کروڑ کے… ” مرزا جمال آفندی پرسوچ انداز میں کہتے ہوۓ چمکتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے… “صرف پانچ ہزار کروڑ انکل… دس کا دس کیوں نہیں…؟؟” فراز آفندی کے لبوں پر بھی شاطرانہ مسکراہٹ بکھری… مرزا جمال آفندی کا قہقہہ سنائ دیا تھا اس کی بات پر… ” تمہیں کیا لگتا ہے… اسد شیرازی جس نے اتنی لمبی پلاننگ کی… اس لڑکی کے ماں باپ کو قتل کیا… اس لڑکی کو اتنا عرصہ باپ کا پیار دیا چاہے جھوٹا ہی سہی… لیکن اس کی پرورش کی… برسوں سے انتظار کیا اس کے تئیس سال کے ہونے کا… وہ ساری کی ساری پراپرٹی تمہیں ہڑپنے دے گا… ؟؟ ففٹی ففٹی کی بات ہوئ ہے اس سے… شادی کے بعد کسی بھی طرح تمہیں ابیہا سے باقی کی پراپرٹی اسد شیرازی کے نام کروانی ہے..
پیپرز چاہے زبردستی سائن کرواؤ یا پیار سے… یہ تم پر منحصر ہے… اسد شیرازی کے نام کرواؤ گے ففٹی پرسنٹ تو ہی تمہیں تمہارا حصہ ملے گا… اور رہی یہ بات کہ وہ ایک بور ترین لڑکی ہے… تو میرے بچے تمہیں کونسا ساری زندگی گزارنی ہے اس کے ساتھ… ایک بار پراپرٹی اپنے نام ہونے دو… پھر جو چاہے سلوک کرنا اس کے ساتھ… دل بہلانا… اس خوبصورت کھلونے سے کھیلنا… اور جب دل بھر جاۓ تو پیچھا چھڑا لینا اس سے… جیسے پچھلی بیویوں سے چھڑایا… اوپر پہنچا دینا… جس کی امانت ہے اس کے پاس… بات ختم… ” مرزا جمال آفندی نے اپنی پوری پلاننگ اس کے سامنے پیش کر دی تھی اور سب سن کر فراز آفندی بھی ان کی ذہانت اور چالبازی پر عش عش کر اٹھا… خیالوں ہی خیالوں میں وہ خود کو پانچ ہزار کروڑ کا مالک بنے دیکھ رہا تھا…
چند لمحوں بعد کچھ سوچ کر وہ مرزا جمال آفندی کی طرف متوجہ ہوا… “لیکن انکل… اس کا وہ جو گارڈ ہے… وہ بہت غصہ دلاتا ہے مجھے… اسد انکل سے کہہ دیجیے گا کہ آئندہ وہ ابیہا کے ساتھ نظر نہ آۓ مجھے… ” راجا کا ذکر کرتے ہوۓ اس کا لہجہ پھر سے کڑوا ہوا… ” بات ہوئ تھی میری اسد سے… اصل میں اس کے کچھ دشمنوں کو ابیہا کے بارے میں اور اسد کے پلان کے بارے میں خبر مل گئ ہے… اور وہ جان چکے ہیں کہ اگر تئیس برس سے پہلے ابیہا کو کچھ ہو گیا تو ساری پراپرٹی ٹرسٹ کو چلی جاۓ گی…اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ یا ابیہا کو ختم کر دیں یا اس بارے میں چوکنا کر دیں… اور ابیہا کی سیفٹی کے لیے ہی اسد نے راجا کو گارڈ رکھا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ راجا اس کی بہترین طریقے سے حفاظت کر سکتا ہے…تم اتنا ہائپر مت ہو…کچھ عرصہ کی بات ہے… جیسے ہی تم دونوں کی شادی ہو جاۓ گی ہر جھنجھٹ ختم ہو جاۓ گا… پھر اس لڑکی کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا ہے یا اس کی زندگی کو کیسا بنانا ہے یہ ہم ڈیسائیڈ کریں گے… ” مرزا جمال آفندی نے اسے تسلی دی…
“اوکے انکل… بٹ یہ بتا دیں ہم واپس کب جا رہے ہیں… جینی از مسنگ می… ” اس کے لہجے میں جینی کے نام پر شہد گھل گیا تھا… “جینی…؟؟” مرزا جمال آفندی نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکاۓ… “مائ نیو گرل فرینڈ… ” فراز آفندی نے آنکھ دباتے ہوۓ کہا تھا جس پر مرزا جمال آفندی کا قہقہہ بلند ہوا… “جلد ہی جائیں گے مائ سن…. ” کہہ کر وہ دوبارہ لیب ٹاپ کی جانب متوجہ ہو گۓ… جبکہ فراز آفندی فون پر اپنی نئ گرل فرینڈ جینی سے محبت بھری گفتگو کرنے میں مگن ہو چکا تھا…
وہ دونوں ننگے پاؤں ساحل سمندر پر چہل قدمی کرتے گیلی ریت کی ٹھنڈک کو اپنے جسم و جاں میں اترتا محسوس کر رہے تھے… ایک دوسرے کی سنگت میں, ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کچھ دیر کے لیے ہی سہی…لیکن وہ دونوں اپنی زندگی کی الجھنیں بھول کر اس خوبصورت وقت سے خوشیاں کشید کر رہے تھے…دونوں خاموش تھے لیکن ان کی بھید بھری خاموشی بہت سے راز کھول رہی تھی… دونوں مگن سے اپنے اپنے خیالوں میں کھوۓ تھے جب اچانک ابیہا نے اپنا ہاتھ کھینچا… راجا چونکا…پھر حیران نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا…
“واٹ ہیپنڈ…؟؟” الجھا ہوا سا لہجہ تھا…
“نتھنگ… گاڑی کی چابی دو ایک منٹ… ” ابیہا نے اپنی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائ…
“چابی…؟؟ آپ نے کیا کرنی ہے…؟؟” راجا کی مشکوک نگاہیں اسی پر جمی تھیں…
“اف… سوال بہت کرتے ہو تم… بتا دوں گی نا… لیکن پہلے کی دو… ” ابیہا جھنجھلائ… راجا نے پینٹ کی جیب سے نکال کر کی چین اسے تھمائ اور آنکھیں سیکڑ کر اس کی کارروائ دیکھنے لگا…
وہ اب اس سے کچھ فاصلے پر جا کر گھٹنوں کے بل بیٹھی گیلی ریت پر کچھ بنا رہی تھی… راجا بھی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا… کچھ دیر بعد ابیہا نے سر اٹھا کر چمکتی نگاہوں سے راجا کی طرف دیکھا… راجا کی نگاہیں نیچے ریت پر لکھے گۓ الفاظ پر تھیں… جہاں ابیہا نے A اور اس سے کچھ فاصلے پر R لکھا تھا… “کیسا ہے…؟؟” ابیہا نے کھنکتی آواز میں پوچھا تھا… راجا نے پرسوچ انداز میں انگلی ٹھوڑی تلے ٹکائ… “ہممم… اچھا ہے…لیکن ایک کمی ہے…” کہتا ہوا وہ بھی ابیہا کے نزدیک بیٹھ چکا تھا… “کمی…؟؟” ابیہا کی حیرت بھری آواز ابھری… راجا اس کے ہاتھ سے چابی لے کر اب نیچے کچھ بنا رہا تھا… ابیہا پہلے حیرت سے اس کے چلتے ہاتھ کو دیکھتی رہی اور پھر بے تحاشہ خوشی اس کے چہرے سے جھلکنے لگی… راجا اپنے اور اس کے نام کے پہلے حروف کے درمیان خالی جگہ پر دل بنا چکا تھا… ریت پر بڑے بڑے حروف میں
A
R
لکھا جگمگا رہا تھا… راجا نے مسکراتی نگاہوں سے ابیہا کو دیکھا… جس کا چہرے جذبات کی شدت سے سرخ پڑنے لگا تھا… “تھینکس فار دس ونڈرفل گفٹ… ” چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی لیے وہ اسے ہی تکے جا رہی تھی… جبکہ راجا… وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا…یک ٹک… محبت سے… عقیدت سے… “آج سے پہلے کبھی تم نے احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ تم بھی میرے لیے اپنے دل میں محبت رکھتے ہو… ایسے بے نیاز بنے رہتے تھے جیسے تمہیں میری کوئ پرواہ ہی نہیں… “ابیہا نے شکایتی انداز میں کہا… ساتھ ہی روٹھنے کی ایکٹنگ کرنے لگی… دوسری جانب چند لمحے خاموشی چھائ رہی…
“رکھتے ہیں محبت کو تغافل میں چھپا کر
پرواہ ہی تو کرتے ہیں جو پرواہ نہیں کرتے”
دھیمے لہجے میں راجا نے شعر پڑھا تھا…جبکہ ابیہا دنگ سی اسے دیکھے گئ… اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں اس کے سامنے اپنی من پسند جگہ پر بیٹھ کر وہ اس کے منہ سے شعر و شاعری سنے گی… وہ بھی اپنے لیے… اپنے جذبات کو بیان کرنے کے لیے اس کے پاس الفاظ ہی نہ تھے… راجا کی نظروں سے کنفیوز ہوتی وہ نگاہیں جھکا گئ…
“آؤ…دور چلیں… لہروں کے سنگ… ” اس کا دھیان خود پر سے ہٹانے کو وہ گویا ہوئ… اٹھی اور ریت پر لکھے ان الفاظ کی چند تصاویر لیں… پھر آگے بڑھ گئ… راجا بھلا اینجل کا حکم کیسے ٹال سکتا تھا… وہ بھی اس کے ہمراہ قدم بڑھا کر ساتھ ساتھ چلنے لگا… ریت پر ان کے قدموں کے نشانات واضح ہو رہے تھے… ابیہا دونوں ہاتھ پھیلاۓ ٹھنڈی ہوا کی چھیڑ خانیاں محسوس کرتی آگے بڑھ رہی تھی جب ایک دم اس کا پیر پھسلا… “اینجل… ” راجا کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا… وہ اس کا ہاتھ تھام کر ابیہا کو گرنے سے بچا چکا تھا لیکن اس کے منہ سے برآمد ہونے والا نام سن کر ابیہا کو لگا جیسے وہ ساتویں آسمان سے منہ کے بل گری ہو… سیدھی ہوتے ہوۓ بے یقینی سے راجا کی طرف دیکھا… راجا کو بھی اپنی بے اختیاری میں کی گئ غلطی کا ادراک ہو چکا تھا تبھی وہ لب کاٹتا سر جھکا گیا… “کک…کیا… کیا کہا تم نے ابھی… ؟؟” ابیہا سے بولنا محال ہونے لگا… الفاظ منہ سے نکلے تو اسے اپنا ہی لہجہ اجنبی لگا… راجا نے بے بسی بھری نگاہ اس پر ڈالی جس کے چہرے پر بے یقینی, حیرت اور شاک کے ملے جلے تاثرات تھے… “ابیہا وہ میں… ” یہ صورت حال راجا کے لیے قطعی غیر متوقع تھی… وہ سمجھ نہیں پایا کہ کیا کہے ابیہا سے… کچھ کہنے کی کوشش میں فقط ہکلا کر رہ گیا تھا لیکن ابیہا کی نظریں اب اس پر نہیں تھیں… وہ کسی اور طرف متوجہ تھی…راجا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں اپنی پینٹ کی جیب کی طرف دیکھا… “اوہ شٹ…”وہ بے ساختہ آنکھیں میچ گیا… اینجل کی پائل راجا کی پینٹ کی جیب سے آدھی باہر لٹک رہی تھی جو شاید چابی نکالتے وقت باہر نکل گئ تھی… ابیہا سانس روکے آگے بڑھی…. اور وہ پائل باہر نکالی… ہاتھ میں پائل پکڑے وہ ساکت نگاہوں سے اس پائل کو دیکھ رہی تھی… کیا کچھ نہیں تھا اس کے چہرے پر… مان ٹوٹنے کا دکھ… تکلیف… اذیت… “کک…کون ہو تم… ؟؟” آواز کی کپکپاہٹ واضح تھی… وہ ہاتھ جس میں پائل تھی وہ بھی لرز رہا تھا… بلاشبہ وہ جان چکی تھی اس کی سچائ…لیکن پھر بھی اپنے اندر سے اٹھتی آواز کو جھٹلاتے ہوۓ اس نے اس سے پوچھا تھا… “ابیہا میں آپ کو سب بتانے ہی…” راجا نے اپنی صفائ دینے کی کوشش کی تھی جب ایک بار پھر ابیہا کی حد درجہ سخت آواز ابھری… “میں نے پوچھا…کون ہو تم…؟؟ ” راجا نے تھکے تھکے سے انداز میں پیشانی پر ہاتھ رکھا… یہ سب ایسے ہو گا اس نے سوچا بھی نہ تھا…
_________
“وہی پرنس… جسے کبھی آپ اپنا بہترین دوست کہا کرتی تھیں… ” وہ مجرمانہ انداز میں اپنی سچائ بتا گیا… ابیہا کے ہاتھ سے پائل پھسل کر سمندر کی لہروں میں جا ڈوبی… لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوتے ہوۓ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کو دبایا… پھٹی پھٹی بے یقین نگاہیں راجا پر ہی جمی تھیں… اس کا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا… اسے لگا اس کے دماغ کی کوئ مس پھٹ جاۓ گی…درد کیا ہوتا ہے…اذیت کی آخری حد کیا ہوتی ہے یہ کوئ اس سے پوچھتا… “نن…نہیں…” نفی میں سر ہلاتے ہوۓ وہ بڑبڑائ… ” ابھی…ابھی تو میں نے خوش ہونا سیکھا بھی نہیں تھا… ابھی تو میں نے خواب دیکھنے شروع کیے تھے… اتنی…اتنی جلدی میری خوشیوں کو آگ لگ گئ… اتنی بے دردی سے میری آنکھوں سے خواب نوچ لیے… کک…کیوں… “وہ لرزتی آواز میں خود سے ہی مخاطب تھی…..
“ابیہا… آپ… “راجا اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ کر پریشان سا اس کے قریب آیا… “پلیز… دور رہو مجھ سے…. ” ابیہا نے ہاتھ اٹھا کر اسے اپنے قریب آنے سے روکا… راجا کے قدم وہیں تھم گۓ… “ابیہا پلیز… ایک بار میری بات تو سنیں… ” راجا نے التجائیہ انداز میں اس سے کہنے کی کوشش کی… “کونسی بات… کونسی بات سنوں میں تمہاری… رہا ہی کیا ہے اب میرے اور تمہارے درمیان کہننے سننے کو… “ابیہا ضبط کھوتے ہوۓ چلائ… “میرا سب کچھ تو چھین لیا تم نے… ابھی بھی دل نہیں بھرا تمہارا… مجھے تباہ و برباد کر کے بھی چین نہیں ملا تمہیں جو پھر سے چلے آۓ میری زندگی میں… اور کتنی تکلیفیں دو گے مجھے… کتنا رلاؤ گے… ایک ہی بار مجھے بھی ختم کیوں نہیں کر دیتے… ” وہ چینخ رہی تھی…کئ لوگ ان کی جانب متوجہ ہوۓ لیکن وہ تو جیسے ہر چیز سے بے نیاز ہو چکی تھی…
“میں آپ کو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا… “راجا نے دکھ سے اسے دیکھا… “تو پھر کیوں آۓ ہو تم میری زندگی میں… اب کیا مقصد لے کر آۓ ہو… میرے ماں باپ کو مجھ سے چھین لیا… اب کس کو چھیننے آۓ ہو…یہ دیکھو…اب تو میں خالی ہاتھ ہوں… کوئ اہنا نہیں رہا میرے پاس… اب تو میرا پیچھا چھوڑ دو… خدا کے لیے… ” وہ مسلسل رو رہی تھی… اور راجا… وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اسے کیسے سنبھالے… “میں تب بھی یہی کہتا رہا تھا اور آج بھی یہی کہتا ہوں کہ میں نے نہیں مارا آپ کے پیرنٹس کو… ان کا قاتل کوئ اور ہے جسے آپ ابھی تک پہچان نہیں پا رہی ہیں…” راجا کا لہجہ بھی اس بار تھوڑا سخت ہوا تھا… ابیہا نے استہزائیہ اور طنز بھری نگاہوں سے اسے دیکھا… “اور کتنے جھوٹ بولو گے تم… کتنے روپ ہیں تمہارے… سچ تو یہ ہے کہ تم ایک دھوکے باز انسان ہو… جسے صرف لوگوں کے گھر برباد کرنا آتا ہے… ان سے چھیننا آتا ہے… اور میری غلطی یہ ہے کہ میں نے تم جیسے انسان پر بھروسہ کیا… اسے اپنا دوست سمجھا اور اب نادانستگی میں اسی انسان سے محبت بھی کر بیٹھی… لیکن اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھے اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر تم میری نظروں میں معتبر بن جاؤ گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے مسٹر ابتہاج… کیونکہ میری نفرت میری محبت سے کہیں زیادہ شدت رکھتی ہے… یہ محبت تو فقط چار دن کی ہے…لیکن تمہارے لیے میرے دل میں یہ نفرت پچھلے اٹھارہ سالوں سے پل رہی ہے… اور ان اٹھارہ سالوں میں گزرے ہر پل میں اس نفرت کی شدت میں اضافہ ہی ہوا ہے…کاش…لاش میں تمہیں اپنے دل میں چھپی بے تحاشہ نفرت دکھا سکتی… کاش میں تم سے اپنی محرومیوں اور اپنے نقصانات کا بدلہ لے سکتی… تمہیں لکھ کر دے سکتی ہوں کہ اگر اس دنیا میں کسی نے کسی سے سب سے زیادہ نفرت کی ہے تو وہ میں ہوں… اگر مجھے زندگی میں صرف ایک قتل کی اجازت ہوتی تو یقین کرو بغیر سوچے سمجھے میں تمہارا نام لیتی… میرے بس میں ہو تم تمہیں بھی ویسے ہی تڑپا تڑپا کر ماروں جیسے تم نے میرے ماں باپ کو مارا… تمہیں بھی اس اذیت سے گزاروں جس اذیت کی جھلستی آگ میں میں نے اپنے دن رات گزارے ہیں… لیکن نہیں… سب سے بڑا انتقام آپ کی خاموشی اور صبر ہوتا ہے… میں بھی صبر کر جاؤں گی… اپنے تمام معاملات میں نے رب پر چھوڑ دیے ہیں… میری ہر تکلیف اور ہر آنسو کا بدلہ وہ لے گا تم سے… اور اگر تمہیں کبھی ایک پل کو بھی میری دوستی کی قدر ہوئ ہو یا میرا ذرا سا لحاظ رکھا ہو تو آج کے بعد اپنی شکل مت دکھانا مجھے… کیونکہ مجھے نفرت ہے تم سے…. شدید نفرت… ” وہ ٹوٹے بکھرے لہجے میں کہہ رہی تھی لیکن آخری جملے پر اس کی آنکھیں اس کے لہجے کا ساتھ دینے سے انکاری ہوئ تھیں… خود ابیہا کے دل نے بھی تڑپ کر دہائ دی تھی اس کی اس بات پر…لیکن اس وقت راجا کے لیے اس کی نفرت ہر چیز پر حاوی تھی… اپنی بات مکمل کر کے وہ اس کے ہاتھ سے چابی چھینتی گاڑی کی جانب بڑھ گئ… اس کے سامنے مضبوط رکھنے کو وہ آنسو صاف کر چکی تھی لیکن گاڑی کے قریب پہنچتے ہی ایک بار پھر شدت سے رونا آیا اپنی بے بسی پر… اپنے روتے کرلاتے دل پر… ایک لمحے کو دل چاہا تھا کہ ساری نفرت کو بالاۓ طاق رکھ کر دل کی پکار پر لبیک کہتے ہوۓ راجا کی طرف چلی جاۓ… صرف اس کی محبت کو اپنے سامنے رکھے… لیکن یہ ایک پل کی بات تھی… دل کی دہائیوں کو نظر انداز کرتی وہ گاڑی میں بیٹھ کر جا چکی تھی…جبکہ راجا بے بس سا اسے خود سے دور جاتا دیکھتا رہا… مضمحل انداز میں سختی سے آنکھیں میچیں… ہر مشن میں کامیابی پانے والا وہ شخص اپنی زندگی کا سب سے اہم مشن ہارتا جا رہا تھا…
اس کی نگاہیں بے ساختہ اس جانب اٹھیں جہاں کچھ دیر پہلے ابیہا نے اپنے اور اس کے نام کا پہلا حرف لکھا تھا… اس کے دیکھتے ہی دیکھتے پانی کی ایک لہر آئ اور ان کے لکھے ان ناموں کو مٹا گئ… شاید ان لہروں کا بھی ابیہا اور راجا کا ساتھ پسند نہ آیا تھا…
“تو نے سنا ہی نہیں ورنہ…
تیرے دل نے آج بھی وکالت تو میری کی تھی…”
(حیا انور)
وہ جب دس سال جیل میں گزار کر رہا ہوا تو اس کے پاس کل متاع کے طور پر فقط چند چیزیں تھیں… جن میں ایک تصویر تھی… ایک وہ سوٹ جو اینجل نے اسے گفٹ کیا تھا… ایک اینجل کی پائیل جسے اس نے بہت سنبھال کر رکھا تھا… کچھ اینجل کے اسکیچز جو وہ وقتأ فوقتأ بناتا رہا تھا… اور گریجویشن کی ڈگری… جیل سے نکلنے کے بعد وہ نہیں جانتا تھا کہ اسے کہاں جانا ہے… ہاں یہ مصمم ارادہ تھا کہ کسی بھی طرح اینجل کو ڈھونڈے گا… اسے سچ بتاۓ گا… اور اس کے پیرنٹس کے قاتلوں کو سزا بھی دے گا… انہیں بھی ویسے ہی موت کے گھاٹ اتارے گا جیسے انہوں نے اینجل کے پیرنٹس کو مارا…پھر اس کے بعد چاہے پوری عمر جیل ہی کیوں نہ کاٹنی پڑے… فی الحال اسے رہنے کو کوئ ٹھکانہ تلاش کرنا تھا… جیل سے باہر آ کر وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ کس سمت کا رخ کرے تبھی کوئ اس کے قریب آیا… راجا نے سر اٹھایا…سامنے ڈی آئ جی صاحب کھڑے تھے… راجا پہچانتا تھا انہیں… کافی بار انہیں دیکھا تھا جیل میں رہنے کے دوران… اور راجا سے خصوصی طور پر بہت شفقت سے ہیش آتے تھے وہ… “سر آپ… ؟؟” وہ دل ہی دل میں حیران ہوا تھا ان کے اپنے قریب آنے پر… “ہاں… تو بالآخر آج تمہاری سزا پوری ہو ہی گئ…کب سے انتظار تھا اس دن کا…” ڈی آئ جی نے مسکرا کر اسے دیکھا… “جی… ” راجا مسکرا بھی نہ سکا… “بیٹا…میں جانتا ہوں…کہ تم نے قصور ہو… تم نے بے گناہ ہوتے ہوۓ بھی سزا کاٹی ہے…ہمارے ملک کا قانون ہی ایسا ہے… جہاں گناہگار کھلے عام دندناتا پھرتا ہے اور بے گناہ جیل کی چکی پیستے ہیں… لیکن تمہارے معاملے میں یہ جیل کا فیصلہ نہ جانے کیوں مجھے ٹھیک ہی لگا… تمہارے تمام حالات سے آگاہ ہوں میں… اور مجھے تو یہی لگتا ہے کہ جیسے جیل میں رہ کر تم ہڑھ لکھ گۓ ہو شاید جیل سے باہر عام حالات میں نہ پڑھ پاتے… ” ڈی آئ جی کے چہرے پر مشفقانہ سی مسکراہٹ تھی… راجا الجھا…”جی…لیہن ان سب باتوں کا مقصد… میرا مطلب… آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں… ” راجا نے اپنی الجھن ان کے سامنے ظاہر کی… اس کی بات پر ڈی آئ جی صاحب کے چہرے پر پھر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری… “تمہیں دیکھ کر نہ جانے کیوں دل تمہاری ط٤ف کھنچا چلا جاتا ہے… شاید اس لیے کہ ہمیں اللّہ نے اولاد سے نہیں نوازا… اولاد کی کمی تو ہر بے اولاد کو محسوس ہوتی ہے…لیکن تمہیں دیکھ کر نہ جانے کیوں شدت سے اس کمی کا احساس ہوا…تم سے ایک خاص قسم کا لگاؤ محسوس ہوتا ہے…میں سوچتا ہوں کہ اگر میرا کوئ بیٹا ہوتا تو شاید بالکل تمہارے جیسا ہوتا… ” ان کی لہجے میں حسرتوں کا جہان آباد تھا… راجا چپ چاپ سنے گیا… “تم بھی سوچ رہے ہو گے کہ کیسی الجھی الجھی باتیں کر رہا ہوں میں… تو بیٹا…میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ جیسا کہ تم نے بتایا کہ تم یتیم ہو… اور ہم بے اولاد… تو کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم ہماری اولاد کی کمی کو پورا کر دو اور ہم تمہارے ماں باپ کی… دیکھو…کوئ زبردستی نہیں ہے… اگر تم چاہو تو… ہمارے ساتھ ہمارے گھر چل کر رہو… ہمارے بیٹے بن جاؤ… وہاں تمہیں کوئ کمی نہیں ہو گی… شاید ہمیں بھی خدا نے اسی لیے اولاد نہیں دی کہ ہم کسی یتیم اور بے سہارا کا مستقبل سنوار سکیں… ” ڈی آئ جی کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں… محرومیاں اکثر رلا ہی دیتی ہیں… راجا جو انہیں انکار کرنا چاہتا تھا ان کے حسرت زدہ چہرے اور نم آنکھوں میں ابھرتی امید کو توڑ نہ سکا… نہ جانے کیا سوچ کر اس نے ڈی آئ جے کی بات مان کر ان کے گھر رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا… چپ چاپ سر اثبات میں ہلاتا وہ ان کے ساتھ ان کی گاڑی کی طرف بڑھ گیا..
