Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35
آج تمہاری زندگی کا باب تو سمجھو ختم…” اس کی پیشانی پر ریوالور رکھا تھا…تبھی راجا نے نظریں اٹھائیں… ان کی جانب دیکھا… مرزا جمال آفندی جو غصے سے سرخ ہوتے ہوۓ ٹریگر دبانے ہی والے تھے ایک پل کو چونکے… ان کا ہاتھ کپکپایا… آنکھوں میں حیرت اور الجھن ابھری تھی… راجا کے چہرے پر تکلیف کے اثرات تھے… یہ تکلیف ظاہری زخموں کی نہیں تھی… یہ تکلیف روح پر لگے تازیانوں کی تھی… ماضی کے تمام زخم ادھڑنے لگے تھے… ان میں سے خون رسنے لگا تھا… ماں باپ کی شفقت سے محرومی کے دکھ سے اس کا دل ایک بار پھر خون ہونے لگا…
“تت…تم… را…راجا… ؟؟” مرزا جمال آفندی بے یقین نگاہوں سے اسے تکتے بمشکل بول سکے…
اسد شیرازی جو ان کے راجا پر ریوالور تان لینے پر خوش ہو رہا تھا کہ مرزا جمال آفندی راجا کو ختم کرنے والے ہیں… انہیں ریوالور والا ہاتھ نیچے کرتے دیکھ کر غصے سے سلگ اٹھا…
“جی میں… راجا… بدقسمتی سے آپ کا بیٹا….ابتہاج آفندی” تلخ مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ راجا نے ہونٹوں کے کنارے سے بہتا خون ہاتھ سے صاف کیا… گردن پر بھی مرزا جمال آفندی کی جارحیت کے نشانات نظر آ رہے تھے… مرزا جمال آفندی بہت دیر تک کچھ بول ہی نہ سکے… ریوالور ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا تھا…یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ ان کے سامنے واقعی ان کا اپنا بیٹا کھڑا ہے…
“تم… تم یہاں کیسے… پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے میرے بچے… کہ تم ہی ابتہاج ہے… کیوں اتنا عرصہ مجھے خود سے دور رکھا…اور… اور گڈی کہاں ہے… کدھر ہے وہ… ؟؟” یقین آتے ہی وہ راجا کی طرف بڑھے… اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامنا چاہا… لیکن راجا نے ایک طرف ہوتے ہوۓ ان کے ہاتھوں کو خود کے قریب پہنچنے سے روک دیا تھا…
“دوسروں کو بیٹے کا درجہ دیتے رہے آپ اور خود اپنے سامنے کھڑے اپنے بیٹے کو ہی نہیں پہچان پاۓ… اپنے بیٹے کو تو ایک باپ کی شفقت سے محروم کر دیا… اور وہ…” تکلیف سے بولتے ہوۓ راجا نے فراز آفندی کی طرف اشارہ کیا تھا…
“وہ…فراز آفندی… جس کی وجہ سے آپ کے بیٹے کو گھر سے نکلنا پڑا… بلکہ نکلنے پر مجبور کر دیا گیا… جس کی وجہ سے آپ کی بیٹی… آپ کی علیزہ بھوک سے تڑپتی ہوئ بیچ راہ میں, فٹ پاتھ پر لاوارثوں کی طرح موت کی وادی میں اتر گئ… اس فراز آفندی کی ذرا سی تکلیف پر آپ کیسے آپے سے باہر ہو گۓ… کیا کبھی ہماری تکلیف کا اندازہ لگایا ہے آپ نے بابا… کیا کبھی ہماری ماں کے بارے میں سوچا کہ وہ آپ کی وجہ سے کن اذیتوں سے گزری ہیں… ہم بھی انسان تھے… ہماری ماں بھی انسان تھیں…. ہمارے لیے کبھی آپ کے اندر ایسے جذبات بیدار کیوں نہیں ہوۓ….
کیا کہتا میں آپ سے آ کر… کہ میں ہی ابتہاج ہوں… آپ کا وہ بیٹا… جس نے ایک ایسی عورت کی کوکھ سے جنم لیا…جو آپ کی من پسند نہ تھی… جس کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک وفادار ہمسفر کی خواہش میں آپ سے شادی کر بیٹھی…جسے آپ نے بیوی کا درجہ تو دے دیا… لیکن کبھی بیوی کی عزت نہ دے سکے… کییا بتاتا آپ کو کہ میں ہی آپ کا وہ بد نصیب بیٹا ہوں جس کی طرف کبھی دیکھنا تک گوارا نہ کیا تھا آپ نے… گود میں اٹھانا اور محبت کرنا تو دور کی بات…
نہیں مرزا جمال آفندی… نہیں… آپ پر سے… اور ان سب خونی رشتوں سے کب کا اعتماد اٹھ گیا میرا… مجھے نہیں یاد کہ میں کسی کا بیٹا ہوں, کسی کا کزن ہوں یا کسی کا مجھ سے کوئ خون کا رشتہ ہے… کیونکہ جہاں احساس نہ ہو… وہاں خونی رشتوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے… مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ میں اپنے رب کا بندہ ہوں… اپنے وطن کا محافظ ہوں… کیونکہ میں جانتا ہوں…
نہ کبھی مجھے میرا رب مایوس کرے گا…اور نہ ہی یہ وطن…
اور میرے رب کا فرمان ہے…کہ جب بدلے کی آگ میں جلتے ہوۓ اپنے دشمنوں کو خود سے کمزور پاؤ تو انہیں معاف کر دو… کہ معاف کرنا زیادہ بہتر ہے بدلہ لینے سے… اسی لیے…
ہاں اسی لیے…فقط اپنے رب کی رضا کے لیے میں نے خود سے ہوئ ہر ناانصافی معاف کر دی… فراز آفندی کو بھی معاف کر دیا… اور… اور آپ کو بھی…
ہاں لیکن اگر آپ چاہیں تو اب بھی مجھ پر گن تان سکتے ہیں… ساری کی ساری گولیاں میرے سینے میں اتار سکتے ہیں… میرے وجود کو اس دنیا میں لانے کا سبب بھی آپ تھے… کیا فرق پڑتا ہے اس بات سے کہ اب میرے وجود کو مٹانے والے بھی آپ ہی ہوں گے…
آپ کے لیے تو میرے رب کی چنی گئ یہی سزا کافی ہے کہ اس نے ہمارے بعد آپ کو مزید کسی اولاد سے نہیں نوازا… جس دولت کے حصول کے لیے آپ نے ہمیں دنیا کی ٹھوکروں میں رکھ دیا اسی ناجائز اور حرام دولت کو سنبھالنے کے لیے آپ کا کوئ وارث نہیں ہے… “
خود اذیتی بھرے تلخ لہجے میں جب راجا بولنے پہ آیا تو بولتا ہی چلا گیا… جبکہ مرزا جمال آفندی کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو تھے…
“مجھے معاف کر دو بیٹا…میری تمام کوتاہیوں اور غلطیوں کے لیے…تم لوگوں سے برتی گئ لاپرواہی کے لیے… میرے سینے میں بھی آگ ہی آگ ہے… تم نہیں جانتے تم دونوں کے کھونے کے بعد کتنا تڑپا ہوں میں… کتنا رویا ہوں… تم دونوں کی یاد میں میری آنکھیں ساون کی طرح برستی رہی ہیں… مجھے معاف کر دو پلیز… اور ایک بار… فقط ایک بار سینے سے لگ جاؤ… میری ساری تشنگی مٹ جاۓ گی… ” مرزا جمال آفندی اپنی عمر سے کہیں زیادہ بوڑھے دکھنے لگے تھے… اس وقت وہ مافیا کے لیڈر کی بجاۓ ایک بے بس اور لاچار باپ کے روپ میں کھڑے تھے راجا کے سامنے… ہاتھ جوڑ رکھے تھے… اور آس بھری نگاہیں راجا پر جمی تھیں…
راجا نے بے رخی سے چہرہ دوسری طرف پھیر لیا… “میں نے کہا نا… میں نے اپنے ساتھ ہوئ ہر ناانصافی کے لیے معاف کر دیا آپ کو…. لیکن میری بہن روزِ قیامت آپ سے اپنی ہر تکلیف کا بدلہ لے گی… اور رہی بات گلے لگانے کی… تو معاف کیجیے گا… میرا ظرف ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا کہ ماضی میں خود کو دھتکارنے والے کو آگے بڑھ کر سینے سے لگا لوں… آنے والے وقت میں ہو سکتا ہے میرے دل پر جمی برف پگھل جاۓ لیکن ابھی ایسا ممکن… ” وہ بے تاثر لہجے میں کہہ رہا تھا جب ایک جانب سے فائر کی آواز سنائ دی… راجا نے چونک کر گردن موڑ کر اس طرف دیکھا… پھر اپنی باہوں میں جھولتے اپنے باپ کو… جن کے سر کی پچھلی طرف گولی لگی تھی اور ایک پسلی کے قریب… ایک اور گولی فراز آفندی کے سر میں بھی ماری گئ تھی…
وہ جو پہلے ہی نیم بے ہوش سا تھا… ایک آخری ہچکی لے کر دم توڑ گیا…سامنے کچھ ہی فاصلے پر اسد شیرازی کھڑا تھا… جس کے ہاتھ میں گن تھی… راجا نے طیش سے اس کے جانب دیکھا….لیکن آگے نہیں بڑھ پایا… کہ مرزا جمال آفندی اس کے مضبوط بازوؤں کے حصار میں گہری گہری سانسیں لیتے تڑپ رہے تھے…
“بابا… بابا آنکھیں کھولیے پلیز… بابا میری طرف دیکھئے پلیز…” ساری نفرت, ساری خفگی کہیں دور جا سوئ تھی… اس وقت اسے اگر کچھ یاد تھا تو صرف یہ کہ اس کے بابا موت کے دہانے پر کھڑے ہیں… ایک بار پھر انیس سال پہلے کامنظر نگاہوں میں ابھرا تھا جب اس کے سامنے اس کی ماں موت کی آغوش میں جا سوئ تھی… وہ اٹھارہ سال بعد پہلی بار رویا تھا… وہ باپ جس سے وہ اپنی دانست میں سب سے زیادہ نفرت کرتا تھا آج اسے یوں موت کے منہ میں جاتا دیکھ کر وہ رونے لگا تھا… بوکھلاہٹ میں, گھبراہٹ میں ان کے گال سہلاتے ہوۓ وہ بار بار انہیں پکار رہا تھا….
مرزا جمال آفندی اس کے سینے سے لگے تھے اور راجا نے انہیں سنبھال رکھا تھا… انہیں سنبھالتے سنبھالتے وہ نیچے بیٹھ گیا… اس کے بابا کا سر اس کی گود میں تھا…
ان کی آخری سانسیں چل رہی تھیں… بے یقین نظروں سے انہوں نے پہلے اپنے اور راجا کی طرف بڑھتے اسد شیرازی کو دیکھا… پھر دھندلاتی نگاہیں راجا کے چہرے پر جمائیں… سر کی پشت پر جمایا اپنا ہاتھ ہٹا کر انہوں نے راجا کے چہرے کو چھونا چاہا… ان کا خون آلود ہاتھ راجا کے چہرے کو بھی سرخ کرتا چلا گیا… کچھ کہنے کی کوشش میں ان کے لب پھڑپھڑاۓ تھے لیکن موت نے اتنی مہلت نہ دی اور ان کا جسم بے جان ہو گیا…
“بابا…” راجا چینخ اٹھا تھا… پہلے کیا کم ستم ڈھاۓ تھے زندگی نے ان پر…کہ اب جب باپ بیٹے کے درمیان سب ٹھیک ہونے کا وقت آیا تو اس سے اس کے باپ کو بھی چھین لیا گیا… اسد شیرازی اس کے قریب آن رکا تھا… راجا کی نظریں اس کے جوتوں سے ہوتے ہوۓ اس کے چہرے تک گئیں… جس پر کمینگی بھری مسکراہٹ تھی…
“کیسا لگا سرپرائز..؟؟؟” اسد شیرازی مسکراہٹ لبوں میں دباۓ اس سے مخاطب ہوا تھا… راجا نے مرزا جمال آفندی کا سر اپنی گود سے اٹھا کر نیچے رکھا… نم آنکھوں کو رگڑتا وہ اٹھا… طیش بھری نگاہوں سے اسد شیرازی کو دیکھا… آگے بڑھنے ہی والا تھا جب اسد شیرازی نے اس کے دائیں بازو پر فائر کیا… راجا جھٹکا کھا کر پیچھے ہوا… اذیت سے آنکھیں بند کیں… گولی بازو کو چھو کر نکلی تھی….لیکن یوں محسوس ہوا تھا جیسے بازو آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہو…. سسکیوں کو منہ میں دباتے ہوۓ اس نے بازو کی طرف دیکھا جس میں سے خون نکل رہا تھا…
“تمہیں کیا لگتا ہے….پلان صرف تمہیں ہی بنانے آتے ہیں…؟؟ دماغ صرف تمہارے پاس ہی ہے… کیا سمجھا تھا تم نے…. کہ تم سوچ سمجھ کر پوری منصوبے کے ساتھ ابیہا کی زندگی میں آؤ گے… اس کی سامنے میرے جھوٹوں کا پردہ فاش کرو گے… حقیقت اس پر عیاں کرو گے اور مجھ سے بدگماں کر کے میری برسوں کی محنت پر پانی پھیر دو گے اور میں چپ چاپ بیٹھا تماشا دیکھتا رہوں گا…؟؟
ویسے داد تو دینی چاہیے تمہیں…کیسے عمدہ طریقے سے تم نے میرا بھروسہ جیتا… اداکاری اچھی کرلیتے ہو تم بھی… لیکن چال ہمیشہ وہ بہترین ہوتی ہے جو آخری ٹابت ہو اور جس پر جیت اور ہار کا فیصلہ ٹکا ہو… اور یہ آخری چال تو میں جیت گیا… اور کیا ہی خوبصورتی سے جیتا ہوں…
ویسے سوچا تو تھا کہ یا باپ کو بیٹے کے ہاتھوں مرواؤں گا یا بیٹے کو باپ کے ہاتھوں… دونوں صورتوں میں فائدہ تو میرا ہی تھا… لیکن باپ بیٹے کے درمیان پرانے ٹوٹے رشتے استوار ہوتے دیکھ کر رہا نہیں گیا مجھ سے… جذباتی ہو گیا تھا نہ… کیا ہے کہ مجھے سے یہ رونا دھونا, یہ معافی تلافی جیسے سین دیکھے نہیں جاتے… اسی لیے تم لوگوں کے اس ڈرامے کا ڈراپ سین کرنے کے لیے مجھے اپنے جان سے پیارے دوست مرزا کو مارنا پڑا… کیا کروں… میں مارنا تو نہیں چاہتا تھا…لیکن مجبور کر دیا نا مجھے اس کام کے لیے… ” بظاہر لہجے میں افسوس بھرتے ہوۓ اسد شیرازی کوئ پاگل اور جنونی آدمی لگ رہا تھا… راجا نے آگے بڑھنا چاہا لیکن ہٹا کٹا اور جسمانی طور پر مضبوط ڈیل ڈول کا مالک اشرف راجا کو قابو کر چکا تھا… اسد شیرازی نے آگے بڑھ کر راجا کو کئ گھونسے رسید کی… اس کے زخمی بازو پر مکے مارے جس سے خون مزید تیزی سے بہنے لگا… راجا کو لگا اس کی جلد ادھڑ کر رہ گئ ہے… کراہتا ہوا وہ اذیت برداشت نہ کر پانے کے باعث لڑکھڑاتا ہوا نیچے گرا…
” بہت دل چاہ رہا ہو گا نا…مجھے مارنے کا… اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کا… لیکن یہ خون میں نے تو کیا ہی نہیں… یہ دونوں خون تو تم نے کیے ہیں نا… بالکل ویسے ہی جیسے مراد بخاری اور اس کی بیوی کو تم نے مارا تھا… فکر مت کرو… کچھ ہی دیر میں پولیس پہنچتی ہی ہو گی تمہیں گرفتار کرنے کے لیے… میں نے ہی بلایا ہے انہیں… اور امید ہے اب اپنی آئیندہ کی زندگی تم وطن کی خاطر وقف کرنے کی بجاۓ جیل میں چکی پیستے ہوۓ کاٹو گے… ” اسد شیرازی نے آگے بڑھتے ہوۓ اس کی کمر اور پسلیوں میں کئ ٹھڈے رسید کیے… راجا تکلیف سے دہرا ہوتا چلا گیا… اتنی ہمت بھی نہ رہی تھی کہ خود کا بچاؤ کر پاتا…
اسد شیرازی نے نفرت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا…
“چچ…چچ…چچ… بہت افسوس ہو رہا ہے تمہیں اس حال میں دیکھ کر…. کتنی بری قسمت ہے نا تمہاری… تم شاید میرے کیے گۓ سارے گناہوں کی سزا بھگتنے ہی اس دنیا میں آۓ ہو… اب دیکھو نا… مراد بخاری کو میں نے مارا… مسز مراد بخاری کو بھی میں نے مارا… لیکن الزام لگا تم پر… سزا ملی تمہیں… ابیہا کو اس کے باپ کے روپ میں دھوکہ دیتا رہا میں… اس کی دولت کے لیے…لیکن نفرت کرتی رہی وہ تم سے… اور اب… فراز آفندی کو اور تمہارے باپ مرزا جمال آفندی کو قتل کیا میں نے… اور دنیا کی نظر میں قاتل کون ہو گا… ؟؟؟ تم… اب تک تو تمہیں اچھی طرح اندازہ ہو گیا ہو گا کہ دولت کے لیے اسد شیرازی کس حد تک جا سکتا ہے…
ویسے داد دینی پڑے گی تمہاری محبت کی… بہت چاہتے ہو نا ابیہا کو تم… تمہیں ایک راز کی بات بتاؤں…؟؟ جانتے ہو تمہارے جیل جانے کے بعد میں اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہوں…؟؟ نہیں…؟؟ چلو میں تمہیں بتاتا ہوں… یہ جو تمہارے سامنے کھڑا ہے نا اشرف….پہلے اس کے ساتھ اس کی شادی کرواؤں گا… یہ جی بھر کر کھیلے گا اس کے وجود سے… پھر اس کی جائیداد اپنے نام کرواؤں گا… اور پھر کچھ عرصہ بعد… کچھ عرصے بعد میں اسے کسی کوٹھے پر بیچ دوں گا… حسین و جمیل اور کم عمر سی ہے… مہنگے داموں بکے گی… اور یوں… تمہاری محبت ہر روز کسی نہ کسی مرد کی انا کو تسکین پہنچاۓ گی… موت کو ترسے گی… اور تم وہاں جیل میں اس کے بارے میں جان کر تڑپو گے… افسوس تو ہو گا مجھے بھی… لیکن… وہ کیا ہے نا… کہ اتنی ساری دولت ملنے کے بعد افسوس کرنے کا وقت کس کے پاس رہتا ہے…فی الحال تو میں پاکستان میں انڈر ورلڈ ڈان ‘ملک’ہوں… لیکن کچھ ہی ماہ بعد پوری دنیا کے لیے انڈر ورلڈ ڈان بن جاؤں گا… پوری دنیا پر میرا ہی راج ہو گا…”
اسد شیرازی نے اپنی گھٹیا زبان سے گوہر افشانیاں کرتے ہوۓ اپنی گھٹیا ترین ذہنیت اس پر ظاہر کی تھی…لیکن راجا زمین پر پڑا گہرے گہرے سانس بھر رہا تھا… اسد شیرازی آگے بڑھنے لگا تا کہ اپنے ہاتھ میں موجود ریوالور پر اس کی انگلیوں کے نشانات لگوا سکے…. تبھی بہت سے قدموں کی آوازیں سنائ دینے لگیں… اسد شیرازی پیچھے مڑا… سامنے پولیس کی بھاری نفری ان کی طرف آ رہی تھی… اسد شیرازی کے لبوں پر مسرور سی مسکراہٹ ابھری تھی… ان کا منصوبہ کامیاب ہو چکا تھا… پولیس کو دیکھ کر اشرف بھی مطمئین سا کھڑا تھا…ریوالور پر راجا کے فنگر پرنٹ لگواتے ہوۓ اسد شیرازی نے ریوالور اس کے قریب ہی رکھ دیا… پھر اٹھ کھڑا ہوا… اور اپنی جانب بڑھتے انسپکٹر کی طرف متوجہ ہوا… “انسپکٹر…یہی ہے وہ مجرم…جس نے میری آنکھوں کے سامنے اپنے باپ مرزا جمال آفندی اور چچا کے بیٹے فراز آفندی کو گولیوں سے بھونتے ہوۓ ہلاک کر دیا… میں نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائ ہے…گرفتار کر لیجیے اسے… ” اس کی بات مکمل ہونے تک انسپکٹر قریب آ چکا تھا… باقی پولیس فورس نے بھی ان سب کو گھرے میں لے لیا تھا…
“ہینڈز اپ…” انسپکٹر نے اسد شیرازی پر گن تانی… دو افراد نے اشرف کو پکڑا… اسد شیرازی بوکھلایا… “ارے… آپ کو کوئ غلط فہمی ہو رہی ہے… قاتل میں نہیں وہ ہے… میں نے ہی تو آپ کو بلایا تھا کال کر کے… ” اسد شیرازی ابھی بھی مطمئین تھا کہ شاید پولیس والوں کو کوئ غلط فہمی ہوئ ہے…
“آپ کی سچائ پوری دنیا کے سامنے آ چکی ہے مسٹر اسد شیرازی… ابھی آپ نے کیپٹن ابتہاج کے سامنے اپنے جن جرائم کا اعتراف کیا ہے وہ سب ہر چینل پر لائیو دکھایا جا رہا تھا… آپ کے تمام راز افشا ہو چکے ہیں… اور دنیا تھو تھو کر رہی ہے آپ پر… آپ کو فورأ گرفتار کرنے کا حکم ملا ہے ہمیں… اب آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہو گا… ” انسپکٹر نے اس کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائ… راجا کی ٹیم کا ایک ممبر احمد کمپیوٹر ایکسپرٹ تھا… اور اس نے راجا کی بتائ گئ پلاننگ کے مطابق ایک مخصوص وقت پر تمام چینلز کی فریکوینسیز کو ہیک کر لیا تھا… اور انہیں اپنے کیمرے سے کنکٹ کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہاں کا ہر منظر اور ہر بات تمام چینلز پر لائیو دکھائ گئ تھی… اسد شیرازی نے بے یقین نظروں سے راجا کو دیکھا جو اب اٹھ کھڑا ہوا تھا… اور اس کی طرف آیا تھا… چال میں لڑکھڑاہٹ تھی لیکن لبوں پر مسکراہٹ… استہزائیہ مسکراہٹ…وہ عین اس کے مقابل آ کھڑا ہوا… پھر اپنی ٹی شرٹ کے گلے پر موجود دو بٹنوں میں سے ایک کی طرف ہاتھ بڑھایا… اور بٹن کیمرہ الگ کیا… اسے اسد شیرازی کی آنکھوں کے سامنے کیا… بالکل سامنے…
“تم نے ہی کہا تھا نا اسد شیرازی….. کہ چال ہمیشہ وہی بہترین ہوتی ہے جو آخری چال ثابت ہو… اور جس پر جیت اور ہار کا فیصلہ ٹکا ہو… تو یہ میری آخری چال تھی… جس میں جیت بھی میری ہوئ… مجھے چند گھونسے اور ٹھڈے مار کر خوش ہو رہے تھے نا تم… لیکن تم نہیں جانتے کہ یہ سب ہمارے لیے معمولی چیزیں ہیں… اس سے زیادہ سختیاں برداشت کرتے ہیں ہم اپنی ٹریننگز میں… یہ تو پھر مشن تھا… اور مشن کو ہارنا… ناممکن ہے… میں اگر چاہتا تو ایک ہی وار میں تمہاری جان لے لیتا…لیکن نہیں… مجھے تم سے اقبال جرم کروانا تھا… تمہارا اصلی روپ اس دنیا کے سامنے لانا تھا… تم سے تمہارے تمام گناہوں کا اعتراف کروانا تھا… اور دیکھو… بالآخر میں کامیاب ہوا… تم دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے… باہر نکلو گے تو پوری دنیا تمہیں اپنے استقبال کے لیے تیار ملے گی… گڈ باۓ مسٹر ملک… اوہ سوری…مسٹر اسد شیرازی…” پولیس انسپکٹر اسد شیرازی کو دھکیلتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا…اشرف کو بھی لے جایا جا چکا تھا… ان سب کے جانے کے بعد راجا نے اپنے بابا کی طرف دیکھا… ان کی لاشوں کو بھی اٹھایا جا رہا تھا…
“سر… آپ بھی ہمارے ساتھ چلیے ہاسپٹل… آپ کے زخم سے خون کافی زیادہ بہہ گیا ہے…” انسپکٹر دوبارہ واپس آیا… راجا اس کے ساتھ آگے بڑھ گیا…
کافی دور جا کر کسی کو کال ملائ… “سب ریڈی ہے…؟؟” وہ نہ جانے کس بارے میں پوچھ رہا تھا…
“جی سر… ایوری تھنگ از ریڈی… ” سعد کی آواز سنائ دی تھی…
راجا نے اپنی پینٹ کی جیب سے کچھ نکالا… وہ ایک چھوٹا سا ریمورٹ تھا… راجا نے بٹن دبایا… ساتھ ہی دھماکہ ہوا… اسد شیرازی کا وہ اڈہ تباہ ہو گیا تھا… اور اس کے ساتھ ساتھ باقی جتنے بھی اڈے تھے وہ سب بھی… راحم سعد اور اشعر نے پہلے ہی اس کے تمام اڈوں پر ریڈز ڈال کر سب مجرموں کو گرفتار کر لیا تھا اور ہر اڈے بر بم لگا دئیے تھے… اور آج… ان تمام اڈوں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا… اسد شیرازی کی تمام حرام کی کمائ مٹی میں مل گئ تھی… اور بہت جلد وہ خود بھی اسی مٹی میں خاک ہونے والا تھا…
راجا اب پھر کسی کو فون ملا رہا تھا… چند لمحوں بعد کال ریسیو کی گئ… “سر… مشن کمپلیٹڈ…” فخریہ لہجے میں کہا گیا تھا…
