Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13
اس کے لہجے میں شعلوں کی سی لپک تھی… دوسری جانب پھر کوئ ہنسا تھا… “لگتا ہے بہت ہی خاص کام میں مگن تھے… ہے نا… تبھی تو ڈسٹرب ہونے پر اتنا غصہ آ رہا ہے… ” مقابل کا لجہ پر لطف تھا…اسد شیرازی نے بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا… “کس لیے فون کیا ہے…؟؟ ڈرانے دھمکانے کے لیے…؟؟ یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تمہاری ان اوچھی حرکتوں سے میں ڈرنے والا بالکل نہیں… ” اسد شیرازی نے لہجے کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی… اور دھیرے دھیرے چلتا صوفے پر آ بیٹھا…”اب تک اتنا تو تم بھی جان ہی چکے ہو گے اسد شیرازی… کہ میں صرف ڈرانے دھمکانے والا بندہ ہوں نہیں… اگر کہو تو ابھی ثبوت بھی دکھا دوں…؟؟” فون سے سرسراتی ہوئ سی آواز نکلی تھی جس نے اسد شہرازی کو بھی ایک پل کے لیے سہما کر رکھ دیا… “کیا مطلب ہے تمہارا…؟؟ ” اس نے آواز کی لرزش پر قابو پانے کی کوشش کی تھی… دوسری جانب چند لمحے خاموشی چھائ رہی… “اب سمجھانے کا نہیں عملی طور پر کچھ کر دکھانے کا وقت ہے…” لہجہ بے تاثر ہوا تھا… اسد شیرازی الجھن زدہ سا بیٹھا رہا… چند لمحوں بعد دھماکا سا ہوا… صوفے کی پشت پر کھڑکی تھی جس کے شیشے میں سے ایک عدد بلٹ تیزی سے گزرتی اسد شیرازی کے کان کے قریب سے ہوتی سامنے لگی پینٹنگ سے ٹکرائ اور پینٹنگ گر کر چکنا چور ہو گئ… اسد شیرازی بوکھلا کر کھڑا ہوا… حیرت اور بے یقینی سے کھڑکی کے شیشے میں ہوۓ سراخ کو دیکھا اور پھر نیچے گری پینٹنگ کو… اس کی نگاہوں میں خوف ابھرا… ہوٹل میں بھگدڑ سی مچ گئ تھی گولی کی آواز پر… بھاگ دوڑ کی آوازیں سنائ دینے لگیں… سیکیورٹی ہوٹل کے سامنے کی بلڈنگ کی طرف جا رہی تھی جہاں سے نشانہ لگایا گیا تھا… کسی نے اسد شیرازی کے کمرے کا دروازہ ناک کیا… “کم اِن…” ان کے کہنے پر دو گارڈز بدحواس سے اندر داخل ہوۓ… “سر آپ… آپ ٹھیک ہیں…؟؟” ان کے رنگ اڑے ہوۓ تھے… “ہ….ہاں… آئم فائن…” اسد شیرازی کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئ… اس کی آنکھوں میں اب حیرت کی جگہ غصہ دکھائ دینے لگا تھا…وہ طیش بھری نگاہوں سے سامنے کھڑکی کے پار دیکھنے لگا… جہاں سیکیورٹی اہلکار تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے سب سے اوپر والے فلور پر جا رہے تھے…تبھی دوبارہ فون بجنے لگا… اسد شیرازی نے مڑ کر نیچے گرے سیل کو دیکھا… ہھر آگے بڑھ کر کال ریسیو کی… اسپیکر سے آواز سنائ دینے لگی… “لگتا ہے ڈر گۓ… ہے نا… ؟؟” وہ جو بھی تھا اسد شیرازی کی پریشانی سے خاصا لطف اندوز ہو رہا تھا… “ڈرنا بھی چاہئیے… کیونکہ یہ جو گولی ابھی تمہارے کان کے قریب سے گزری ہے نا… یہ تمہارے سر کے آر پار بھی ہو سکتی تھی… لیکن… وہ کیا ہے نا… تم سے ابھی بہت سے حساب کتاب باقی ہیں… تو ابھی تمہاری جان لینے کا وقت نہیں آیا… یہ تو تمہیں ایک ٹریلر دکھانا چاہا تھا کہ تم مجھے اتنا ہلکا مت لو… ” دوسری جانب آواز سرد تھی… اسد شیرازی نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری… “کون ہو تم… کیوں میرے پیچھے پڑے ہو… کیا چاہتے ہو آخر… ؟؟” وہ غصے سے چینخ اٹھا تھا… “صبر اسد شیرازی… وہ کہتے ہیں نا… صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے… میں تمہیں ضرور بتاؤں گا کہ میں کیا چاہتا ہوں… لیکن میں کون ہوں… اس کا جواب تمہیں خود ڈھونڈنا ہے… سوچو… اپنے سارے کالے کارناموں کے بارے میں سوچو… اندازہ لگاؤ کہ تمہارے مظالم کا شکار ہوۓ لوگوں میں سے ایسا کون ہے جو بدلے کی آگ میں جل رہا ہے… جس کے اپنوں کو تم نے چھینا سوچو… اگر میں چاہوں تو ابھی ایک پل میں تمہاری کرتوتوں کے پلندے اٹھا کر تمہاری بیٹی کے سامنے پیش کر دوں… میڈیا تک سب پہنچا دوں… اور تم جو بڑے نیک نام بنے پھرتے ہو نا… تمہارے چہرے سے نقاب اتار کر تمہاری اصلیت سب کے سامنے لے آؤں… لیکن نہیں اسد شیرازی… تمہیں اتنی سستی موت تو ہرگز نہیں دوں گا میں… تمہاری بربادی کے دن شروع ہو چکے ہیں… بہت جلد… بہت جلد تم میرے قدموں میں گر کر معافی مانگو گے… لیکن تمہیں معافی بھی نہیں ملے گی… تم جیسے جلاد صفت کے لیے معافی ہے بھی نہیں… میرا بدلہ تب ہی پورا ہو گا جب تم تڑپ تڑپ کر, ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرو گے… ہاں..
تمہیں اب عروج سے زوال کا سفر طے کرنا ہے… اور عروج کا مزہ چکھنے والوں کے لیے زوال میں جانا جان جانے کے مترادف ہوتا ہے… جلد ہی ملاقات ہو گی… جب تمہارا زوال اور میرا عروج ہو گا… گڈ باۓ… ” تلخی سے بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ کال ڈسکنیکٹ کر دی گئ تھی… اسد شیرازی آنکھیں سیکڑ کر پرسوچ نظروں سے کھڑکی کے پار دیکھے گیا….
“راجا… مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے… ” ابیہا نے بہت سوچ سمجھ کر ایک فیصلہ لیا تھا… دل کی حالت اب ناقابل برداشت ہوتی جا رہی تھی… اگر عشق کی اس آگ میں جلنا ہی مقدر ہے تو پھر اظہار کر کے ہی خود کو جلایا جاۓ… دوسری جانب سے اقرار ملے یا انکار وہ اس کا مقدر… ویسے بھی پرسوں رات وہ راجا کے کمرے سے گزرتی ہوئ نیند کی حالت میں اس کے منہ سے علیزہ کا نام سن چکی تھی…اور تب سے اپنا ایک ایک لمحہ جیسے انگاروں پر گزار رہی تھی… اپنے محبوب کی زندگی میں کسی اور کو دیکھنا کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے… اس نے بھی آر یا پار کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا…. سوچ لیا تھا کہ اگر راجا نے اسے دھتکار بھی دیا تو وہ اس کی منت سماجت کر کے اسے راضی کر لے گی کہ وہ اس کا ہاتھ تھام لے… اسی سوچ پر عمل پیرا ہونے کے لیے آج یونی سے واپسی پر وہ اس سے مخاطب تھی… “جی کہیے… ” راجا نے سنجیدگی سے سامنے دیکھ کر ڈرائیو کرتے ہوۓ کہا تھا… “یہاں نہیں… کسی پرسکون سی جگہ پر جا کر… “ابیہا کی نظریں جھکی تھیں… کتنا مشکل ہوتا ہے نا خود کو, اپنی عزت نفس کو کسی کے قدموں میں رول دینا… راجا نے ایک نظر اس کے جھکے سر کو دیکھا… “کہاں…؟؟” یک لفظی سوال کیا تھا… وہ ابیہا کے انداز سے کچھ کچھ سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا بات کرنے والی ہے… اور راجا خود بھی یہی چاہتا تھا کہ ابیہا کے دل میں ابھرنے والے جذبات اور خوش گمانیوں کو ختم کر دے… کیونکہ وہ اس راہ کا مسافر ہی نہ تھی جس راہ پر ابیہا اسے لے جانا چاہ رہی تھی… “پیراڈائز ہوٹل کی طرف گاڑی موڑ لو… ” ابیہا کہہ کر خاموش ہو گئ… تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ دونوں ہوٹل کے ٹیرس پر موجود تھے…راجا بلیک جینز پر سفید ہائ نیک اور بلیک جیکٹ پہنے ہاتھ باندھ کر منتظر سا ایک طرف کھڑا تھا… جبکہ ابیہا بلیو جینز پر پنک ٹاپ پہنے لب کچلتی ہوئ کہنے کو الفاظ ڈھونڈ رہی تھی… کنھوں سے نیچے آتے بال کمر پر لہرا رہے تھے… راجا نے کافی دیر کی خاموشی پر ایک بار اسے دیکھا… “آپ غالباً کچھ کہنے کے لیے مجھے یہاں لائ ہیں… ” سپاٹ سے لہجے میں کہا تھا… ابیہا نے سر اٹھایا… گہری سانس بھر کر گویا خود میں ہمت پیدا کی… “راجا… وہ… ایکچوئلی… وہ میں… آئ… آئم ان لو ود یو… ” اٹک اٹک کر کہتی آخر میں آنکھیں بند کر کے وہ تیزی سے اپنی بات مکمل کر گئ کہ اگر آج نہ کہتی تو شاید کبھی نہ کہہ پاتی… دوسری جانب گھمبیر خاموشی چھائ رہی… ابیہا نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں… “بس… یا اور کچھ…؟؟” راجا کا لہجہ عجیب سا ہوا تھا… اس کی ابیہا کی جانب ہشت تھی اسی لیے ابیہا اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ پائ… لیکن راجا کے الفاظ نے اسے چپ سادھنے پر مجبور کر دیا تھا… چند لمحوں بعد راجا اس کی جانب مڑا… “دیکھیے مس ابیہا… آ پ کے دل میں کیا چل رہا ہے… یہ میں کافی دن سے جان چکا ہوں… آپ کی آنکھیں, آپ کا چہرہ چینخ چینخ کر اعلان کرتا ہے آپ کے دلی جذبات کا… سب جانتے ہوۓ بھی میں نے اس معاملے کو اگنور کیا… وجہ صرف یہی تھی کہ آپ جذباتیت سے کام لے رہی ہیں… آپ کی عمر میں اکثر ایسا ہوتا ہے… لیکن ہر کسی کے لیے دل میں ابھرتے جذبات کو محبت کا نام نہیں دیتے… ” وہ اب نرم لہجے میں اسے سمجھا رہا تھا… “لیکن… یہ جذباتیت نہیں ہے… ” ابیہا نے احتجاج کرنا چاہا… جس پر راجا نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا… ” میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئ… بہتر ہے پہلے مجھے سن لیں… ” ابیہا نے لب بھینچ کر اپنے آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی… ” آپ جس راہ پر چل نکلی ہیں وہ راہ غلط ہے… اس کی کوئ منزل نہیں ہے… اور ایک انجان اور بے نشاں راہ پر اکیلی چلتی چلتی آپ خود بھی گم ہو جائیں گی… کیونکہ اس راہ پر آپ کو کوئ ہمسفر نہیں ملنے والا… ” اس کے بے تاثر لہجے پر ابیہا نے ذخمی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… جو تھوڑا بہت مان تھا خود پر وہ بھی ٹوٹنے لگا تھا… حلق میں آنسوؤں کا گولہ سا پھنسنے لگا… ” مجھ سے اس سلسلے میں آپ کوئ بھی امید مت رکھیے گا… کیونکہ مجھے آپ کے ساتھ گارڈ کے سوا اور کوئ رشتہ رکھنے کا شوق نہیں… میری دنیا بہت الگ ہے آپ کی دنیا سے… ویسے بھی میں ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان شادی سے پہلے کے کسی ریلیشن کا قائل نہیں… آپ نا محرم ہیں میرے لیے… اس لیے میرے ساتھ ایسی باتیں کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا… میرے دل میں آپ کے لیے عزت ہے تو اچھا ہو گا اگر آپ اس عزت کو یونہی قائم رہنے دیں… ” کہہ کر راجا وہاں سے جانے لگا تھا جب ابیہا کی آواز پر اسے رکنا پڑا… “اگر میں تمہارے لیے نا محرم ہوں, مجھ سے کسی قسم کا رشتہ نہیں جوڑ سکتے تم تو پھر علیزہ کون ہے…؟؟” اس کا لہجہ بہت عجیب سا تھا جس میں چبھن تھی… راجا ایک پل کو مڑا… آنکھوں میں اچھنبا اور بے یقینی ابھری… “علیزہ…” وہ بڑبڑایا… “ہاں… وہی علیزہ جسے تم رات کو سوتے ہوۓ بھی نہیں بھولتے… جو تمہاری نیندوں میں, تمہارے خوابوں میں بھی تمہارے ساتھ رہتی ہے… جسے تم نیند میں بھی پکار رہے تھے… کون ہے وہ… کیا رشتہ ہے تمہارا اس کے ساتھ…. ؟؟” ابیہا چلا اٹھی تھی… خود کو ریجیکٹ کیے جانا اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا….آنکھوں سے بہتے آنسو گال بھگونے لگے تھے… راجا نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا… “آپ کو اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بتانے کا پابند نہیں ہوں میں…” اس کا لہجہ حد سے زیادہ سخت ہوا تھا… ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچ گئ تھیں…ماتھے کی رگیں ابھرنے لگیں… ابیہا نے روتے ہوۓ سرخ آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا… پھر اس کی نگاہ راجا کی جیکٹ پر پڑی جس کے اندر بیلٹ کے ساتھ پسٹل تھا… ایک لمحے کی دیر کیے بغیر وہ اس کے قریب آئ… راجا اس کے قریب آنے پر الجھا… اگلے ہی لمحے راجا کا ریوالور ابیہا کے ہاتھ میں آ چکا تھا…. راجا بوکھلا کر اس کی جانب بڑھنے لگا تھا جب ابیہا نے ریوالور اس پر تان لیا… “میں تمہاری زندگی میں نہیں آ سکتی ناں… ٹھیک ہے… لیکن میرے علاوہ بھی تمہاری زندگی میں کوئ نہیں آۓ گا…ایک ہاتھ سے گال بے دردی سے رگڑتی دوسرے ہاتھ سے راجا کو نشانے پر رکھے ہوۓ وہ کوئ دیوانی لڑکی لگ رہی تھی… “ابیہا… گن واپس کریں… ” راجا نے غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا تھا… “تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے نا… لیکن مجھے تو ہے… تم نہیں جانتے مجھے… بہت ضدی اور جنونی ہوں میں… تم ایک بار ہاں تو کرو… تمہیں میری محبت سے محبت نہ ہو گئ تو پھر کہنا… ” کیا تھی وہ لڑکی..
ایک پل کو چٹان کی مانند سخت اور دوسرے ہی پل بے بس چڑیا… راجا کو اس پر ترس آنے لگا… “ابیہا… گن لوڈڈ ہے… گولی چل جاۓ گی… ریوالور مجھے دی دیں… ” راجا نے ہاتھ اٹھاۓ تھے… “پہلے بتاؤ… کون ہے علیزہ… جو تمہیں اتنی عزیز ہے کہ اس کے سامنے تمہیں میری محبت نظر نہیں آتی… ” اس کی آواز مضبوط تھی… راجا کو تپ چڑھی…. “ٹھیک ہے… چلا دیں گولی… مجھے مار کر آپ کو سکون ملتا ہے تو ٹھیک…. ختم کر دیں مجھے… لیکن میں اب بھی یہی کہوں گا کہ میں آپ کو اپنے نجی معاملات میں مداخلت کی اجازت ہرگز نہیں دوں گا… ” تیز لہجے میں کہتے ہوۓ راجا نے دونوں ہاتھ گرا دیے تھے کہ اسے سمجھا پانا ناممکن تھا… ابیہا نے اذیت بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… “ٹھیک ہے… مت بتاؤ… جو بھی ہے تمہاری زندگی میں… تم خوش رہو اس کے ساتھ…. تمہیں کیسے مار سکتی ہوں میں… ہاں ایک چیز میرے بس میں ہے….. خود کو ہی ختم کر دیتی ہوں… تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے تو پھر بھلا میرے زندہ رہنے کا کیا جواز… مجھے تو پھر… مر ہی جانا چاہیے… ” درد اور تکلیف کی جس انتہا سے گزر رہی تھی اس کا اندازہ اس کے لہجے سے ہو رہا تھا… اس کی آنکھوں میں پاگل پن اور جنون دکھائ دے رہا تھا… وہ گن اپنی کنپٹی پر رکھ چکی تھی… اگلے ہی لمحے اس نے ٹریگر دبایا… فضا گولی کی آواز سے گونج اٹھی…”ابیہا…” راجا تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا…
___________
راجا نے ابیہا کے ریوالور والے ہاتھ کو جھٹکا دیا… ریوالور سے گولی چلی ضرور لیکن ہوائ فائر ہوا تھا… اگر ایک پل کی بھی دیر ہو جاتی تو اس وقت ابیہا موت کے منہ میں جا چکی ہوتی… گولی چلنے سے ابیہا کو جھٹکا سا لگا… گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر پڑی تھی… دھکا لگنے کے باعث وہ لڑکھڑا کر ایک جانب گری… راجا نے طیش کے عالم میں اسے کندھے سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوۓ اپنے سامنے کیا… “کیا چاہتی ہیں آخر آپ… پاگل پن کی بھی کوئ حد ہوتی لیکن آپ نے آج وہ حد بھی کراس کر دی… یہ بچکانہ حرکتیں چھوڑ کیوں نہیں دیتیں….” وہ غرایا تھا… “تم مجھ سے محبت کیوں نہیں کر لیتے… ” ابیہا نے بھی اسی انداز میں کہا… ” راجا کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے… “دیکھیں مس ابیہا…میری زندگی پہلے ہی بہت پیچیدہ ہے… اسے میرے لیے مزید مشکل مت بنائیں… میری زندگی کی ترجیحات, میرے مقاصد کچھ اور ہیں… اور میری لائف میں یا میرے دل میں آپ کے لیے ذرا سی بھی گنجائش نہیں ہے… آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ جو آپ چاہتی ہیں وہ ممکن نہیں… آپ کے اور میرے اسٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے…. اس خناس کو جتنی جلدی اپنے دماغ سے نکال دیں اتنا ہی اچھا ہے… ” راجا نے انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا تھا… “میری گنجائش نہیں ہے تو پھر کسی کی بھی گنجائش نہیں ہونی چاہیے… علیزہ بھی کیوں ہے تمہاری لائف میں… بتاؤ مجھے… کیا کمی ہے مجھ میں… اور ایسا کیا ہے علیزہ میں جو تم اسے فوقیت دے رہے ہو… میرے پاس حسن ہے… بے تحاشہ دولت ہے… لوگوں کو یہی تو چاہیے ہوتا ہے… کیا وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے… یا مجھ سے زیادہ امیر ہے… بولو… کس لحاظ سے وہ مجھ سے بہتر ہے… کوئ ایک وجہ تو بتاؤ مجھے ریجیکٹ کرنے کی… تا کہ میرے دل کو تسلی ملے… مجھے سکون ملے کہ میں تمہارے قابل نہیں… ” اس کی آنکھوں سے پھر سے آنسو بہنے لگے تھے… وہ انا پرست لڑکی, جو ہر چیز ٹھوکروں پہ رکھتی تھی آج محبت کے در پر سوالی بنی بیٹھی تھی… اسے محبت بھیک یا خیرات میں بھی ملتی تب بھی وہ خوش رہ لیتی… لیکن یہی تو افسوس تھا کہ فقیروں کی طرح جھولی پھیلانے کے بعد بھی اسے فقط دھتکار ہی مل رہی تھی… کون جان سکتا تھا اس کے دکھ کو… اس کی اذیت کو…”علیزہ میری بہن کا نام ہے ڈیم اٹ… بہن ہے وہ میری جو مر چکی ہے… بار بار اس کا نام اس انداز میں مت لو… میرا اور اس کا رشتہ بہت پاک ہے… ” راجا بار بار اپنی بہن کے بارے میں یہ الفاظ سنتے سنتے فرسٹریٹڈ ہوتا چلایا تھا… ابیہا اس کی بات پر چند لمحوں کے لیے گنگ سی ہو گئ… شاکڈ سی اسے دیکھے گئ… وہ کیا سمجھ رہی تھی اور حقیقت کیا تھی… بہت دیر تک وہ کچھ بول ہی نہ سکی… دوسری جانب راجا ٹیرس کی ریلنگ پر ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس بھرتا خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا… “آئم سوری… تمہارے منہ سے یہ نام سن کر مجھے لگا کہ… ” ابیہا کے لہجے میں شرمندگی تھی… راجا اس بار سر جھٹکتا خاموش ہی رہا… “اگر کوئ اور تمہاری لائف میں نہیں ہے تو پھر مجھے کیوں ریجیکٹ کر رہے ہو… کیا وجہ ہے… تم صرف اتنا بتا دو… میں دوبارہ کبھی تم سے اس بارے میں بات نہیں کروں گی… ” وہ پھر سے گویا ہوئ… راجا کا دل چاہا اس سرپھری لڑکی کو جان سے مار دے… لب بھینچتا اس کی طرف مڑا… سختی سے اس کا بازو تھاما… “وجہ جاننا چاہتی ہو نا… تو سنو… وجہ یہ ہے کہ مجھے تم پسند نہیں … تمہارا لائف اسٹائل پسند نہیں… تمہاری ڈریسنگ, تمہاری حرکتیں کچھ بھی پسند نہیں… میں حسن اور دولت پر مر مٹنے والا انسان نہیں ہوں ابیہا اسد شہرازی… میں کردار سے محبت کرنے والا ہوں… اور تم جیسی لڑکی جو تنگ جینز شرٹس پہن کر اپنے جسم کی نمائش کرتی پھرتی ہو… وہ باکردار لوگوں کے زمرے میں تو ہرگز نہیں آتی… ایک ایسی لڑکی جو رات کے دوسرے پہر آدھے کپڑے زیب تن کیے لوگوں کی نظروں کو تسکین پہنچاۓ, ان کی تفریح کا ذریعہ بنے, اسے میں کبھی بھی اپنی بیوی کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہوں گا… سمجھ گئ… یا کچھ اور بھی جاننا چاہتی ہو…؟؟” اس کے چہرے اور الفاظ میں اتنی سختی تھی کہ یہ سب کہتے ہوۓ اس نے ابیہا کے دھواں دھواں ہوتا چہرہ بھی نہ دیکھا…جو بس پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے زہر اگلتے سن رہی تھی… اس کے چہرے پر اپنے لیے نفرت دیکھ رہی تھی…آنسو بھی جم سے گۓ تھے… کچھ دیر پہلے راجا کی انگلیوں کی سختی سے اپنے بازو میں اٹھتی ٹیسوں کا احساس بھی کہیں دور جا سویا تھا… راجا نے جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا… وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوئ… وہ زمین پر پڑے ریوالور کی جانب بڑھا… اسے اٹھا کر بیلٹ میں اڑسا…اور وہاں سے جانے کو مڑا… “جب آپ کا یہ سوگ ختم ہو جاۓ تو نیچے آ جائیے گا… مجھے آپ کی حفاظت کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہوتے ہیں… ” وہ بے حس انسان کہہ کر جا چکا تھا یہ جانے بغیر کہ اس کے الفاظ نے ابیہا کے دل پر کیا قیامت ڈھائ تھی… کسی کی روح تک کو چھلنی کر دیا تھا اس نے اپنے زہر میں بجھے لفظوں سے… وہ تو جیسے اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے ہی مفلوج ہو گئ تھی… کانوں میں بار بار راجا کے الفاظ پگھلے سیسے کی مانند گونج رہے تھے… کوئ اتنا بے درد کیسے ہو سکتا ہے کہ دوسرے کے احساسات کی کوئ پرواہ ہی نہ کرے… کوئ اتنا سنگدل کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے سامنے کوئ ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہا ہو اور وہ اس کے وجود کو ٹھوکروں میں اڑاتا آگے بڑھ جاۓ… وہ لڑکی جس نے اپنے بڑے سے بڑے غم کو ہنسی میں چھپانے کی کوشش کی تھی… وہ جو اپنی تنہائیوں, اپنی محرومیوں سے نظریں چرانے کے لیے فرینڈز کے ساتھ کسی کلب, کسی ریسٹورنٹ یا پارکس میں پناہ ڈھونڈتی پھرتی تھی آج اس کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گۓ تھے… آج زندگی میں دوسری بار وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی… ہاں دوسری بار وہ ہار گئ تھی زندگی میں… پہلی بار اسے تب رونا پڑا تھا جب اس کی نگاہوں کے سامنے اس کے ماں باپ کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا… جب وہ یتیم اور بے سہارا ہو گئ تھی… اور انہیں مارنے والا اس کا بہترین دوست تھا… اور آج زندگی نے ایک بار پھر اسے بری طرح سے شکست فاش کیا تھا… ایک بار پھر اس نے اپنے آپ کو خود سے دور ہوتے دیکھا تھا…اب تک بے حسی اور مغروریت کا جو خول خود پر چڑھاۓ وہ جی رہی تھی آج اس خول کو بھی چکنا چور کر دیا گیا تھا… اس سے تو گویا جینے کا حق بھی چھین لیا گیا تھا آج… کون تھا وہاں جو اس کے دکھ کا مداوا کرتا… کون تھا جو اس چھوٹی سی لڑکی کو سینے سے لگا کر تسلی دیتا… اس کی زندگی میں تو ایسا کوئ بھی نہ تھا جو اس کی پلکوں سے آنسو چن کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرتا… کوئ بھی تو نہ تھا… آج ثابت ہوا تھا کہ وہ بھری دنیا میں اکیلی تھی اور ہمیشہ اکیلی ہی رہے گی..
