Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10
ساری خوش اخلاقی ہوا ہو گئ تھی اس کے لہجے سے… اور وہی طنطنہ اور غرور جھلکنے لگا جو اس کا خاصہ تھا… راجا نے ایک بے نیاز سی نظر اس کے غصے سے سرخ ہوتے چہرے پر ڈالی… “منظور نہیں…” کہہ کر کان کی لو مسلنے لگا… “کیوں…؟؟” وہ تڑخ کر بولی تھی… “کیونکہ مس ابیہا… آپ کے ڈیڈ مسٹر اسد شیرازی نے میرے ساتھ اس بات کی ڈیل نہیں کی… نہ ہی مجھے ان سب فضول کاموں کے پیسے دیتے ہیں… جس کام کے لیے مجھے رقم دی جاتی ہے وہ کام میں بخوبی سر انجام دے رہا ہوں… ” چبا چبا کر کہتا وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا تھا…ابیہا نے استہزائیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… “اوہ… میں تو بھول ہی گئ… تم تو پیسوں پر بکنے والے دو ٹکے کے انسان ہو…پیسوں کے بغیر کیسے کوئ کام کرنے پر راضی ہو گے… ” طنزیہ انداز میں کہہ کر ابیہا نے چہرے پر آئ لٹ کان کے پیچھے اڑسی… اس کی بات پر راجا کی مٹھیاں بھنچ گئیں… بمشکل اس نے خود پر قابو پایا… “بجا فرمایا…” سردو سپاٹ لہجے میں کہہ کر وہ اپنے شوز کی نوک سے زمین کھرچنے لگا… “اوکے… مجھے بتاؤ کتنی رقم لو گے میرے اس کام کے لیے… یقین کرو تمہاری سوچ سے زیادہ دے سکتی ہوں تمہیں… ” مغرور انداز میں کہتی وہ بگڑی امیرزادی زہر لگی تھی راجا کو… راجا نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا… پھر دائیں ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے سے پیشانی مسلنے لگا… چند پل کے بعد وہ ایک قدم کا فاصلہ مٹا کر ابیہا کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا… نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑیں… “یہ جو آپ کے دماغ میں امارت اور دولت کے باعث خناس بھرا ہے تو اتنا جان لیں کہ آپ اپنی اس دولت سے کسی کے جذبات نہیں خرید سکتیں… کسی کے اموشنز کا سودا نہیں کر سکتیں… اور رہ گئ وہ تین الفاظ آپ سے کہنے کی بات… تو میڈم… یہ صرف الفاظ نہیں یہ جذبات ہیں… جن کی کوئ قیمت نہیں… لیکن آپ جیسے لوگ ان الفاظ, ان جذبات کی قدر کو کیا سمجھیں گے جن کا اوڑھنا بچھونا صرف دولت ہے… جذبات و احساسات کی قدر ہم جیسے دو ٹکے کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں… آپ کی حفاظت کرنے کے پیسے ضرور لیتا ہوں میں… لیکن کسی کے جذبات و احساسات کو مجروح نہیں کرتا… اور مجھے یہ تین انمول الفاظ آپ سے کہہ کر ان کی انسلٹ نہیں کرنی… اور نہ ہی اس کام کے عوض مجھے آپ کی دی گئ بھیک چاہئیے… اپنے پیسے اپنے پاس رکھیے… اور اپنے دوست اور ان کی دی گئ شرائط بھی اپنے تک محدود رکھیں تو بہتر ہے… میں جو ہوں, جیسا ہوں خوش ہوں… دو ٹکے کا ہونے کے باوجود مجھے آپ کی طرح اپنی زندگی کا خوف نہیں… اور نہ ہی اپنی زندگی کی حفاظت کرنے کے لیے ہر وقت کسی کو گارڈ کے طور پر اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے… یہی بات میرے سکون کے لیے کافی ہے… ” پہلی بار اس کا لہجہ تلخ ہوا تھا… ابیہا حیران سی اسے دیکھے گئ… تبھی گھنٹی بجی تھی… “آپ کی کلاس کا وقت ہو گیا ہے… میں پارکنگ میں ہوں… کلاس کے بعد وہیں آ جائیے گا… ” بے تاثر لہجے میں کہتا وہ مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا… پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ اس کے ساتھ اس کی کلاس میں جانے کی بجاۓ پارکنگ میں جا چکا تھا… ورنہ کلاس کے دوران بھی اسے ابیہا کے ساتھ ہی رہنا ہوتا اور وہ سب سے پچھلی سیٹ پر سر جھکاۓ بیٹھا رہتا… یونیورسٹی کی انتظامیہ سے بھی اسد شیرازی نے اس حوالے سے پرمیشن لے رکھی تھی… “ہونہہ… مسٹر اکڑو…” بڑبڑاتی ہوئ وہ مڑی اور دھیمے قدموں سے اپنے فرینڈز کی طرف بڑھ گئ جو اپنی بکس وغیرہ تھامے اس کا انتظار کر رہے تھے کہ کلاس میں جا سکیں… اس کے چہرے کے سخت تاثرات دیکھ کر کسی نے کچھ بھی نہ پوچھا… ویسے بھی ان دونوں کے چہروں کے تاثرات اور بات کرنے کے انداز سے وہ سب سمجھ ہی چکے تھے کہ ان کے درمیان کس طرح کی گفتگو ہوئ ہو گی… ابیہا کا مرجھایا ہوا چہرہ بھی اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ ناکام ہی لوٹی ہے… ابیہا نے اپنا بیگ اور بکس اٹھائیں اور کسی کو بات کرنے کا موقع دئیے بغیر تیز تیز قدم اٹھاتی کلاس کی جانب بڑھ گئ…
___________
باہر رات کی سیاہی پھیلی تھی…چاند آسمان پر چمک رہا تھا.. کہیں کہیں بدلیاں بھی موجود تھیں جو چاند کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی ہوئ کبھی اسے اپنی آغوش میں چھپا لیتیں اور چاند کسی شرارتی بچے کی مانند ان کی آغوش سے نکل کر آزاد رہ کر زمین والوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرتا… دن میں بارش اور ٹھنڈی ہوا چلنے کے باعث شام سے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تھا… اس وقت تقریباً ہر ذی روح اپنے اپنے ٹھکانوں میں ڈوبا ہوا گہری نیند میں تھا… ایسے میں وہ اپنے کمرے میں جہازی سائز بیڈ کے دائیں جانب پڑے صوفہ کم بیڈ پر لیب ٹاپ رکھے کسی کام میں مصروف تھا… پچھلے کچھ دنوں میں اس نے اپنے مشن کے لیے کچھ ثبوت حاصل کر لیے تھے اور اب ان ثبوتوں کا درست استعمال کرتے ہوۓ اسے اسد شیرازی کو اپنے جال میں پھنسانا تھا… وہ کافی دیر سے کام کر رہا تھا… چند لمحوں کے لیے وہ پیچھے ہوا… گہرے گہرے سانس لیتے ہوۓ تھکن کو کم کرنے کی کوشش کی… اس وقت شدت سے کافی کی طلب ہو رہی تھی اسے… لیب ٹاپ کی اسکرین فولڈ کر کے وہ اٹھا… اس کا رخ کچن کی جانب تھا… کیبنٹ سے کافی کا جار نکال کر وہ کافی بنانے میں مصروف ہو گیا… چند لمحوں بعد وہ اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا کافی کے مگ سے گھونٹ بھرتا ہوا نظر آیا… گھڑی پر وقت دیکھا… آج بدھ تھا… اور رات کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا… اس کی منتظر سی نگاہیں گیٹ پر جمی تھیں… کچھ ہی پل گزرے تھے جب اسد شیرازی اسے بلیک کوٹ اور کیپ میں گیٹ کی جانب جاتا ہوا نظر آیا… ایک استہزائیہ سی مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا تھا… تلخ نظروں سے وہ اسد شیرازی کی پشت کو دیکھتا رہا… اس کے اوجھل ہو جانے کے بعد وہ صوفے پر لیب ٹاپ کے قریب رکھے اپنے سیل فون کی جانب متوجہ ہوا… “He Has Gone…” میسیج ٹائپ کیا اور ایک نمبر پر سینڈ کر دیا… دوسری جانب سے فورأ ریپلائ آیا تھا… ریپلائ چیک کرنے کے بعد اس نے سیل رکھا اور لیب ٹاپ کی جانب متوجہ ہوا… چند کیز پریس کرنے کے بعد لیب ٹاپ پر ایک ویڈیو چلنے لگی تھی… جسے کچھ دیر پہلے اس نے ایڈٹ کیا تھا… ہیڈفون کان سے لگاۓ وہ دلچسپی سے اس ویڈیو کو دیکھنے لگا… پھر اپنے کام سے مطمئین ہو کر لیب ٹاپ کو شٹ ڈاؤن کر کے بیڈ کے گدے کے نیچے چھپایا اور بیڈ شیٹ برابر کر دی…
وہ آج صبح سے اس اسکول کے سامنے بیٹھا تھا… ایک ہاتھ میں رنگ برنگے غبارے تھامے وہ اس آس میں تھا کہ بچے اس کی جانب متوجہ ہوں گے اور اس سے غبارے خریدیں گے… لیکن یہ ایک پرائیویٹ اسکول تھا جہاں امیر لوگوں کے بچے ہی پڑھنے آتے… اور امیر بچوں کے خواب اور خواہشات بھی ان غباروں سے بہت آگے کی ہوتی ہیں… بچے اس کی اور اس کے غباروں کی جانب ایک نظر دیکھ کر اسکول کی جانب بڑھ جاتے… وہ اس لیے بھی مایوس سا بیٹھا تھا کہ اسکول کے چوکیدار نے اسے گیٹ کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہ دی تھی… گیٹ سے کافی فاصلے پر ایک چھوٹی سی دیوار تھی جس پر وہ ٹانگیں لٹکاۓ, سر جھکاۓ بیٹھا اس انتظار میں تھا کہ بچوں کو چھٹی ہو شاید تب وہ اس سے غبارے خریدیں…
اسکول کی بیل سنائ دی اور ساتھ ہی اس کی نگاہوں کی کھوئ ہوئ چمک بھی لوٹ آئ تھی… بچے اب باری باری گیٹ سے نکل رہے تھے… وہ اس امید سے اٹھ کھڑا ہوا کہ اب بچے اس سے غبارے خریدیں گے اور اسے پیسے ملیں گے تو وہ اپنے کھانے کے لیے کچھ خرید سکے گا… لیکن بچے اس کی طرف ایک نگاہ تک ڈالنا گوارا نہ کر رہے تھے… گیٹ سے نکلتے ہی سب اپنی اپنی گاڑیوں کی جانب بڑھ رہے تھے جن میں ان کے گھر والے انہیں لینے آۓ تھے… راجا چند منٹ یوں ہی امید اور ناامیدی کے عالم میں کھڑا رہا… اسکول تقریباً خالی ہو چکا تھا… وہ اداس سا دوبارہ بیٹھ گیا… اب وہ پچھتا رہا تھا اپنے پیسوں سے غبارے خریدنے پر… شاید شہر کے بچوں کی ترجیحات اور تھیں… اس کا پیٹ بھی اب دہائیاں دینے لگا تھا… نہ تو اس کے پاس کھانے کو کچھ تھا اور نہ ہی پاس کوئ پیسے کہ وہ کچھ خرید کر کھا سکے…
اس سے کچھ ہی فاصلے پر ایک آدمی کھانے پینے کی کچھ اشیاء لیے کھڑا تھا اور وہ حسرت بھری نگاہوں سے ان اشیاء کی جانب دیکھ رہا تھا… بھوک شدت اختیار کرتی جا رہی تھی…
وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی دائیں جانب گیٹ کے قریب تقریباً پانچ سال کی ایک بچی ویسی ہی حسرت آنکھوں میں لیے اس کے ہاتھ میں موجود غبارے دیکھ رہی تھی… اس بچی نے جب راجا کو یوں کھانے پینے کی اشیاء کی طرف متوجہ دیکھا تو اسے اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ وہ بھوکا ہے… کچھ اس کی آنکھوں اور چہرے کی اداسی نے بھی اسے مجبور کیا تھا اس کے پاس جانے کے لیے… وہ ننھے ننھے قدم اٹھاتی راجا کے پاس چلی آئ… “ہیلو…” ہاتھ ہلا کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا… راجا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا… ایک لڑکی کو اپنے قریب دیکھ کر اس کے چہرے پر ہلکی سی خوشی کی جھلک دکھائ دی… “غبارہ خریدنا ہے…؟؟” پرجوش سا وہ اس سے پوچھ رہا تھا… اس بچی نے اداسی سے غباروں کی جانب دیکھا… پھر سر نفی میں ہلا دیا… اس کے بالوں کی نفاست سے کی گئ دونوں پونیاں بھی گردن کی حرکت سے ہلنے لگی تھیں… اسکول یونیفارم میں ملبوس وہ بالکل صاف ستھری اسٹوڈنٹ تھی… راجا کی آنکھوں کی جوت بجھنے لگی… “تو…؟؟” سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا کہ غباروں کے علاوہ راجا کے پاس اور کچھ تھا نہیں جس کے لیے وہ اس کے پاس آتی… “مجھے بیلونز لینے ہیں… لیکن میرے پاس پیسے نہیں…لنچ ٹائم میں سارے پیسے خرچ کر لیے…” دھیمی آواز میں کہتے ہوۓ اس کی نگاہیں پھر سے غباروں میں اٹکیں… راجا نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور پھر غباروں کو… اسی کی طرح بچی کے چہرے پر بھی اداسی تھی… نہ جانے کیا سوچ کر راجا نے ہاتھ میں موجود دو بیلونز اس کی طرف بڑھا دئیے… وہ خوشی سے بھرپور آنکھیں لیے اس کی جانب دیکھنے لگی… ایکسائٹڈ ہو کر ہاتھ آگے بڑھایا لیکن ہھر ایک دم اس کی مسکراہٹ سمٹی اور ہاتھ بھی نیچے گرا دیا… راجا جو اس کے چہرے پر کھلتی مسکراہٹ دیکھ کر خود بھی مسکرانے لگا تھا حیران ہوا… “کیا ہوا…؟؟ لے لو… پیسے نہیں ہیں تو کوئ بات نہیں… ” دوستانہ انداز میں کہتے ہوۓ اس نے دوبارہ اسے غبارے دینے چاہے… بچی نے پھر نفی میں سر ہلا دیا… “میری ماما کہتی ہیں کوئ بھی آپ کو مفت میں کچھ دینا چاہے تو مت لینا… ” اس کی آواز سے ہی محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کشمکش میں ہے کہ دل کی سن کر غبارے لے لے یا دماغ میں گونجتی ماں کی بات سنے اور واپس چلی جاۓ… “تمہارا دل کیا کہتا ہے…؟؟” راجا گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا تھا… “دل تو کہتا ہے کہ بیلونز لے لوں…” اس کے لہجے میں معصومیت تھی… “تو لے لو… کل پیسے دے دینا… میں کل بھی یہیں رہوں گا…” راجا نے نرمی سے کہتے ہوۓ بیلونز اس کے ہاتھ میں تھماۓ… وہ بھی مسکرا دی… پھر کچھ یاد آنے پر دوبارہ اس کی جانب متوجہ ہوئ… “ابھی تو میرے پاس تمہیں دینے کو پیسے نہیں… ہاں لیکن میرے لنچ باکس میں دو سینڈوچز ہیں… ماما نے صبح بنا کر دئیے تھے… تم وہ لے لو… پیسے کل لے لینا… ” کہہ کر اس نے کندھوں سے بیگ اتارا اور نیچے رکھ کر اس پر جھک گئ… “ارے نہیں… وہ تم کھا لینا…” راجا نے منع کرنا چاہا لیکن تب تک وہ لنچ باکس نکال چکی تھی… “یہ لو… کھا کر دیکھو… میری ماما سینڈوچ بہت مزے کے بناتی ہیں… ” وہ بیگ کی زپ بند کر کے لنچ باکس لیے اس کے برابر دیوار پر ہی بیٹھ گئ… راجا نے جب ہاتھ نہ بڑھایا تو اس نے خود سینڈوچ نکال کر راجا کو تھمایا… راجا کے لیے وہ عجیب و غریب شے ہی تھی… کیونکہ اس سے پہلے کبھی سینڈوچ کھانا تو کیا دیکھنا بھی نصیب نہ ہوا تھا… الٹ پلٹ کر اسے دیکھتے ہوۓ اس نے جیسے ہی ایک بائٹ لی سینڈوچ کا ڈائقہ اس کے منہ میں گھل گیا… وہ یہ ماننے پر مجبور ہو گیا تھا کہ اس کے سامنے بیٹھی وہ بچی واقعی سچ کہہ رہی ہے… “مزے کا ہے نا…؟؟” وہ جو اشتیاق سے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی جلدی سے پوچھنے لگی… راجا نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا… چند لمحوں بعد وہ دونوں سینڈوچ ختم کر چکا تھا… بھوکے پیٹ کو کچھ قرار آیا تھا… “تمہیں گھر نہیں جانا کیا…؟؟” راجا نے اردگرد دیکھا جہاں سب بچے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے تھے… “جانا ہے… کریم بابا پتا نہیں آج کیوں لیٹ ہو گۓ… ہمیشہ ٹائم پہ آتے ہیں بٹ آج ابھی تک نہیں آۓ… ” وہ دور سڑک پر نظریں جماۓ بولی… راجا اس کی بات پر خاموش رہا… “اچھا سنو… تمہارا نام کیا ہے…؟؟” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ پھر اس سے مخاطب ہوئ… راجا چونکا… بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا… “ابتہاج…” سامنے بیٹھی لڑکی مسکرائ… “پیارا ہے… لیکن مشکل ہے… ” راجا بھی مسکرا دیا اس کے کمنٹ پر… “اور تمہارا نام کیا ہے…؟؟” اس کے معصوم سے چہرے کی جانب دیکھا… “میری ماما اور ڈیڈ پیار سے مجھے اینجل کہہ کر بلاتے ہیں… ” وہ کہہ رہی تھی جب اسے سامنے سے اپنی گاڑی آتی دکھائ دی… “اینجل…” راجا نے زیر لب دہرایا… وہ اب جلدی جلدی لنچ باکس بیگ میں ڈال رہی تھی… “سنو…” بیگ کندھوں پر ڈال کر وہ مخاطب ہوئ…راجا اس کی جانب متوجہ ہوا… “تم کل آؤ گے نا… میں تمہارے پیسے کل تمہیں دے دوں گی… یہیں بیٹھنا تم کل بھی… باۓ…” اسے کہہ کر ہاتھ ہلایا اور پونیاں جھلاتی وہ گاڑی کی جانب بڑھ گئ جہاں کریم بابا ڈرائیور کے یونیفارم میں اس کے لیے دروازہ کھولے کھڑے تھے… ایک نظر انہوں نے سامنے بیٹھے راجا پر ڈالی جس کا حلیہ فقیرانہ تھا اور جس کے ساتھ ان کے مالک کی بیٹی بیٹھی دوستانہ انداز میں باتیں کر رہی تھی… پھر دروازہ بند کر کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اور گاڑی آگے بڑھا دی… جبکہ راجا اس لڑکی کے بارے میں ہی سوچتا رہ گیا جو اس کے حلیے کی پرواہ کیے بغیر اس سے دوستی کر چکی تھی… “اینجل…” ایک بار پھر اس کا نام لبوں سے برآمد ہوا تھا اور مسکاہٹ اس کے لبوں کو چھو گئ…
_________
آج اتوار تھا… ابیہا بھی آج گھر میں تھی… پہلا اتوار تھا جب وہ اپنے کمرے میں تھی اور راجا کو دن کے وقت بھی فراغت نصیب ہوئ تھی… ورنہ اسے ہر وقت گھومنے پھرنے کا ہی شوق رہتا… باپ کے پیسے کو فضول خرچیوں میں اڑانا اس کا من پسند مشغلہ تھا… راجا اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا سامنے نظر آتے لان کی جانب دیکھ رہا تھا… اسد شیرازی بھی خلاف معمول آج گھر پر تھے… لان میں وہ سن باتھ لینے میں مصروف تھے… راجا کی تلخ نظریں ان پر گڑی تھیں… دوسروں کی زندگیاں تباہ کرنے کے بعد وہ شخص کتنے سکون سے بیٹھا تھا… نہ جانے اتنا سکون کیسے مل جاتا تھا اسے… شاید اس کا ضمیر بھی مردہ ہو چکا تھا… اور جن کا ضمیر مر جاۓ وہ خودغرض ہو جاتے ہیں… جنہیں صرف اپنی فکر ہوتی ہے… اسد شیرازی کا تعلق بھی ایسے لوگوں سے ہی تھا… “اب دیکھنا اسد شیرازی… کیسے تمہارا سکون و چین چھینتا ہوں تم سے… پل پل تڑپو گے تم موت کے لیے… لیکن موت بھی تمھاری چوکھٹ پر کھڑی تمہارا تماشا دیکھے گی… یہ جو اتنا بڑا بزنس امپائر کھڑا کیا ہے نا تم نے… یہ سب تباہ و برباد کر کے کوڑی کوڑی کا محتاج نہ بنایا تمہیں تو میرا نام ابتہاج نہیں… تمہیں اس سب کا بدلہ چکانا ہو گا جو تم نے ماضی میں کیا… ” اس کے لہجے میں چبھن تھی… غصہ, انتقام, نفرت جیسے جذبے آنکھوں سے جھلک رہے تھے… ہاتھ میں پکڑے موبائیل پر اس نے ویڈیو کھولی جو چند دن پہلے ایڈٹ کی تھی… چند کیز پریس کرنے کے بعد اس نے سینڈ کا بٹن دباتے ہوۓ وہ ویڈیو کسی کو بھیجی… سامنے نیم دراز اسد شیرازی کے فون کی ٹیون سنائ دی… چہرے پر رکھا میگزین ہٹا کر اس نے اپنا سیل اٹھایا اور نظروں کے سامنے کیا… راجا کی نظریں اس کے چہرے پر ہی جمی تھیں… موبائیل پر کچھ دیکھنے کے بعد اسد شیرازی کے چہرے کا رنگ اڑا… وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھا…غصے سے لب بھینچ لیے… اس کا چہرہ مسلسل رنگ بدل رہا تھا… پریشانی, غصہ, حیرت, بے یقینی کے تاثرات لیے وہ ویڈیو کو بار بار دیکھے گیا…
اس دن کی بات پر ابیہا نے اپنے فرینڈز کے سامنے بہت انسلٹ محسوس کی تھی… اسی وجہ سے پچھلے کافی دن سے راجا سے اس کی بول چال بند تھی… راجا نے خود بھی اسے بلانے کی زحمت نہ کی تھی… بلکہ وہ تو شکر ادا کر رہا تھا کہ اس کی خفگی سے ہی سہی بہر حال چند دن سکون سے تو گزریں گے… آج پھر وہ کلب آئ تھی… اور رشنا اس سے ملی تھی… یونہی باتوں باتوں میں رشنا راجا کا ذکر چھیڑ بیٹھی… ” میں نے سنا ہے تم ساحر لوگوں سے لگائ گئ شرط ہار گئیں اپنے معمولی سے گارڈ کی وجہ سے… ” رشنا کے انداز اور لہجے میں تضحیک تھی… غالباً وہ اس دن کلب میں راجا کے ہاتھوں اٹھائ گئ خفت کا بدلہ لینا چاہتی تھی جس کی وجہ یقیناً ابیہا ہی تھی… ابیہا نے سلگ کر اس کی جانب دیکھا… غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا… ایک سلگتی نگاہ راجا پر ڈال کر وہ رشنا کی جانب متوجہ ہوئ… “رشنا پلیز… میں یہاں کچھ دیر کے لیے ریلیکس ہونے کو آتی ہوں ہر ویک اینڈ پر… یہ ذکر کر کے مجھے اِریٹیٹ مت کرو… اور نہ ہی میرا ویک اینڈ برباد کرو… ” تلخ لہجے میں کہتی وہ وہ اس سے دور جانے لگی تھی جب اسے رکنا پڑا تھا رشنا کے قہقہے کی آواز سن کر… “ہاہاہا… مس ابیہا اسد شیرازی… ایک گارڈ سے ہار گئ… واہ… واہ…واہ… تمہیں بہت مان تھا نا اپنی خوبصورتی اور دولت پہ… کہ جسے چاہو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہو… لیکن افسوس… تمہارا یہ گارڈ تمہارے جال میں نہیں پھنس سکا… پہلی بار ابیہا کو مات دینے والا کوئ انسان اس سے ٹکرایا ہے…” اس کے لہجے میں موجود استہزاء اور طنز ابیہا کا خون جلانے کے لیے کافی تھا… وہ طیش سے مڑی… “یو… ” کچھ کہنے کے لیے لب کھولے… وارننگ کے انداز میں انگلی اٹھائ… لیکن پھر خود پر قابو پا کر وہ لب بھینچ گئ… گہرا سانس بھر کر اس نے اپنے جذبات کنٹرول کیے… رشنا کی طنز بھری نگاہیں اس پر ہی جمی تھیں… شکر تھا کہ لاؤڈ میوزک ہونے کی وجہ سے کوئ ان کی جانب متوجہ نہ ہوا تھا… رشنا کو نظر انداز کرتی وہ لوگوں کے ہجوم کو چیرتی بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گئ… اس وقت اسے تنہائ کی اشد ضرورت تھی ورنہ کچھ بعید نہ تھا کہ غصے میں کچھ غلط کر جاتی…راجا جو دور ایک کرسی پر بیٹھا پیر جھلاتے ہوۓ ابیہا کے فری ہونے کا انتظار کر رہا تھا…اس کی نظریں اٹھی تھیں اور کلب سے نکلتی ابیہا کی ایک جھلک وہ دیکھ چکا تھا… “اب اسے کیا ہو گیا…
