Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14
اسد شیرازی کا ایک بزنس پارٹنر آج کل دبئ سے پاکستان آیا تھا اس سے ملنے… مرزا جمال آفندی…جو غیر قانونی دھندوں اور غلط کاموں میں اسد شیرازی سے بھی دو قدم آگے تھا… صرف بزنس پارٹنرز کے علاوہ وہ دونوں بہترین دوست اور ایک دوسرے کے تمام رازوں سے واقف بھی تھے… مرزا جمال آفندی کا ایک بیٹا بھی تھا…فراز آفندی… اور اسد شیرازی اور مرزا جمال آفندی دونوں کا ارادہ تھا مستقبل میں اس دوستی کو رشتہ داری میں بدلنے کا… اس بار فراز آفندی بھی اسد شیرازی کے ساتھ پاکستان آیا تھا…ابیہا کی تعلیم ابھی ادھوری تھی… فی الحال شادی تو ہو نہیں سکتی تھی… اس لیے مرزا جمال آفندی اور اسد شیرازی نے مل کر یہ طے کیا تھا کہ ابھی دونوں کی انگیجمنٹ کر دی جاۓ اور ابیہا کی تعلیم مکمل ہوتے ہی فورأ شادی کی ڈیٹ فکس کر دی جاۓ گی… ویسے بھی ابیہا آج کل بہت بدلی بدلی سی لگ رہی تھی… گم صم… تنہا… کہیں بھی آتی جاتی نہ تھی… سواۓ یونیورسٹی کے… اسد شیرازی نے بہیتری کوشش کی وجہ جاننے کی… اسے بہلانے کی, زندگی کی طرف واپس لانے کی… لیکن کوئ بھی کوشش کارگر ثابت نہیں ہوئ… شاید گھر میں کوئ فنکشن ارینج کرنے پر ہی اس کی حالت میں بہتری آۓ یہی سوچ کر اسد شیرازی نے اس سے انگیجمنٹ کی بابت پوچھا تھا… چند لمحے خالی خالی نظروں سے اسد شیرازی کو دیکھنے کے بعد اس نے فقط ہاں میں سر ہلایا تھا… منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکل پایا..
اور بس منگنی کی تیاریاں شروع ہو گئیں… جیسے جیسے منگنی کا دن قریب آ رہا تھا وہ اندر ہی اندر گھلتی جا رہی تھی… آنکھوں تلے حلقے واضح ہونے لگے تھے… لیکن وہ خود کو اذیت ہی تو دینا چاہتی تھی… اس بے درد انسان کو اس کی محبت کا یقین نہ تھا… اس کے نزدیک یہ فقط جذباتیت تھی تو وہ کیوں اس کی محبت میں خود کو خوار کرواۓ… ابھی نہ سہی… کچھ دنوں بعد ہی سہی لیکن وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھے گی… اسے دکھاۓ گی کہ اس کے ریجیکٹ کرنے سے ابیہا اسد شیرازی مر نہیں گئ… اس کی سانسوں کی ڈوریں آج بھی چل رہی ہیں… محبت کے اس کھیل میں شکست اس کا مقدر ضرور بنی تھی لیکن زندگی کی دوڑ میں وہ بھی باقی سب کی طرح آگے بڑھے گی… اب وہ اسے جیت کر دکھاۓ گی… چاہے دل اس کے سینے میں کتنا بھی تڑپے… چینخے چلاۓ… لیکن دوبارہ اس کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاۓ گی…
جس حال میں لوگ مرنے کی دعا کرتے ہیں۔۔۔۔۔
اس حال میں میں نے جینے کی قسم کھائی ہے۔۔۔۔۔۔
___________
اسد شیرازی نے آج کراچی سے اپنے ایک خاص بندے کو بلایا تھا… بلیک میلر تو جان کو آ رہا تھا اور اسد شیرازی کو کسی بھی حالت میں اس کا کوئ حل سوچنا ہی تھا… اپنی تمام کوششیں کر چکنے کے بعد بھی جب وہ بلیک میلر کا سراغ نہ لگا سکا تو اپنے اس دوست کو اپنے ایک ہوٹل میں مدعو کیا تا کہ مل بیٹھ کر کوئ حل نکالا جا سکے… اسد شیرازی نے احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوۓ ہوٹل کے تمام ملازمین کو آج چھٹی پر بھیج دیا تھا… فقط چند بھروسے مند افراد وہاں موجود تھے جنہیں میر حمدانی کی خاطر مدارت کی وجہ سے روک لیا گیا تھا… میر حمدانی بھی اسد شیرازی کی طرح کراچی میں ڈرگز سپلائ, لڑکیوں کی خریدوفروخت, اغواء براۓ تاوان, اور انسانی جسم کے مختلف حصوں کو بیچنے جیسے کاموں میں ملوث تھا… انڈر ورلڈ کے ان جیسے افراد کے لیے کسی کو مارنا, ان کی جان لینا قطعأ مشکل کام نہ تھا لیکن اب ایک شخص نے اسد شیرازی کی ناک میں دم کر رکھا تھا…ابیہا کی منگنی کا دن بھی قریب آ رہا تھا اور وہ اس خوشی کے موقع پر کوئ ہنگامہ نہیں چاہتا تھا تبھی پہلے ہی اس مسئلے کو نمٹانا چاہا…
اسد شیرازی اور میر حمدانی اس وقت ہوٹل میں سوئمنگ پول کے قریب بیٹھے دھوپ کا مزہ لے رہے تھے… میر حمدانی نیم دراز ایک ہاتھ میں سگار تھامے کش پر کش لے رہا تھا… اس سے کچھ ہی فاصلے پر اسد شیرازی بھی تقریباً اسی پوزیشن میں آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا…. تبھی ایک ملازم وہسکی کے جام ٹرے میں سجاۓ ان کے قریب آیا… میر حمدانی نے سگار کو اپنے اور اسد شیرازی کے درمیان پڑے میز پر رکھا اور مختلف نگینوں سے مزین انگوٹھیوں سے سجی انگلیوں سے گلاس اٹھایا… اسد شیرازی نے بھی آہٹ پر آبکھیں کھولیں اور گلاس لے کر وہسکی کے گھونٹ بھرنے لگا… اس وقت ان کے آس پاس کوئ ملازم یا گارڈ نہ تھا کہ مالکوں کو جب راز کی باتیں کرنا ہوتیں تب ان کی آنکھ کا اشارہ پاتے ہی سب وہاں سے رفو چکر ہو جاتے…”کیا بات ہے اسد شیرازی… آج سے پہلے تمہیں اتنا پریشان نہیں دیکھا… آخر کن سوچوں میں گم ہو… ؟؟” میر حمدانی نے ہی بات کا آغاز کیا… اسد شیرازی چند لمحوں کے لیے خاموش رہا… ایک گھونٹ وہسکی کا لینے کا بعد گلاس میز پر رکھا… پھر گہری سانس بھرتا ہوا میر حمدانی کی طرف متوجہ ہوا… “پریشان تو میں واقعی ہوں حمدانی… ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے… جسے میں حل نہیں کر پا رہا… تم ہی کوئ مشورہ دو… ” اس کی بات پر میر حمدانی کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھی… “اسد شیرازی کب سے ان چھوٹے چھوٹے مسائل سے گھبرانے لگا… تم تو کہتے تھے اس دنیا میں کوئ کام تمہارے لیے ناممکن نہیں… ” اسد شیرازی تلملا کر رہ گیا اس کی بات پر… لیکن چہرے کے تاثرات کو قابو میں رکھتے ہوۓ پھر سے گویا ہوا… ” اصل میں… میں سمجھ نہیں پا رہا کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے… کچھ ہی دنوں میں میری بیٹی کی منگنی کی تقریب ہے… اور اس سے پہلے میں اس ٹنٹنے کو ختم کرنا چاہتا ہوں… لیکن کیسے کروں کچھ سمجھ نہیں آ رہا…” اسد شیرازی نے پیشانی مسلی… “ہمممم…” میر حمدانی نے ہنکارا سا بھرا… “بولو…ہم تمہاری کیا مدد کر سکتے ہیں…؟؟” کہتے ہوۓ گلاس خالی کر کے میز پر رکھا… “یار… ایک آدمی ہے…. جس کے ہاتھ میرے خلاف کچھ ثبوت لگ گۓ ہیں… کب… کیسے… میں نہیں جانتا… لیکن کچھ ویڈیوز اور تصاویر ایسی ہیں اس کے پاس کہ اگر وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں یا میڈیا کے ہاتھ لگ گئیں تو میری برسوں کی بنائ ساکھ تباہ ہو کر رہ جاۓ گی… اور اگر میری بیٹی تک وہ ویڈیوز پہنچ گئیں تو… تم سوچ بھی نہیں سکتے میرا کتنا نقصان ہو سکتا ہے… اب وہ مجھے بلیک میل کر رہا ہے بار بار وہ ویڈیوز میل کر کے… دھمکا رہا ہے… ” اسد شیرازی نے مختصر لفظوں میں مسئلہ اس کے سامنے بیان کیا… “ارے یار… کتوں کا کام تو ہوتا ہی بھونکنا ہے… اب اگر ہم ہر کتے کے بھونکنے سے خوفزرہ ہونے لگیں گے تو کر لی انڈر ورلڈ پر حکومت… “میر حمدانی نے ہاتھ جھلاتے ہوۓ کہا… ساتھ ہی سگار لبوں سے ہٹا کر دھواں منہ سے باہر نکالا… “یہی تو مسئلہ ہے حمدانی… وہ صرف دھمکا نہیں رہا… بہت کچھ کر گزرنے کی ہمت رکھتا ہے… ہر جگہ اس کی مجھ ہر نظریں ہوتی ہیں… چند دن پہلے میں اپنے ایک ہوٹل کے روم میں تھا… یونہی وقت گزاری کے لیے… تبھی اس کی فون کال آئ… اور جب میں نے اسے یہ بتایا کہ میں اس کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں تو اس نے کہا وہ ٹریلر دکھاۓ گا… اور پھر فضا فائر کی آواز سے گونج اٹھی… اور تم یقین نہیں کرو گے کہ ہوٹل کی کھڑکی سے گزرتی ہوئ گولی میرے کان سے صرف ایک انچ کے فاصلے سے گزر کر دیوار میں جا لگی… اس قدر پختہ نشانہ ہے اس شخص کا… اگر وہ اپنا نشانہ ایک انچ کے فاصلے پر نہ رکھتا تو یقیناً میں اب تک اس دنیا میں نہ ہوتا… ” اسد شیرازی کے لہجے میں ہلکے سے خوف کی آمیزش تھی… اس کی بات پر میر حمدانی کا سگار والا ہاتھ رکا… ستائش سے ابرو اکٹھے ہوۓ… “رئیلی… کمال کا نشانے باز ہے پھر تو… جو شخص یوں اسد شیرازی کو بلیک میل کرنے کی ہمت رکھتا ہے اور موت کی طرح اس کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے یقیناً وہ کوئ عام آدمی تو ہرگز نہیں ہو سکتا… ” میر حمدانی کے لہجے میں اس کے لیے تعریف تھی یا جو بھی… اسد شیرازی نے خفگی سے اسے گھورا… “خیر… تمہاری اپنی بھی پاور ہے… ایک چٹکی بجاؤ اور اسے ختم کرواؤ… ” آسان سا حل پیش کیا گیا تھا… اسد شیرازی جو بات کرتے کرتے سیدھا ہو بیٹھا تھا گہری سانس بھرتا پھر پیچھے ٹیک لگا گیا… “کوشش کر چکا ہوں… بہت دیر پہلے یہ آزما چکا ہوں… اپنے بہت سے بندے لگاۓ اس معاملے میں… کہ اسے ڈھونڈیں اور ختم کر دیں کہ اس کی لاش تک نہ ملے… لیکن اب تک جتنے لوگوں کو بھیجا سب کے سب غائب… کہاں جاتے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے کچھ خبر نہیں… ان کے جسم کا ایک حصہ تک نہیں ملتا… خدا جانے وہ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے… پلک جھپکنے سے پہلے میرے بندوں کو غائب کرتا ہے… اب تک اپنے بہت سے طاقتور ساتھیوں کو کھو چکا ہوں لیکن اس کا کوئ سراغ نہیں مل سکا… پتا نہیں وہ کوئ انسان ہے یا خلائ مخلوق… کہ اس کے پاس جاتے ہی سب غائب ہو جاتے ہیں…” اسد شیرازی کے لہجے کی پریشانی کو محسوس کر کے میر حمدانی بہت دیر تک خاموش کچھ سوچتا رہا… معاملہ واقعی بہت پیچیدہ اور گھمبیر لگ رہا تھا… ورنہ چھوٹے موٹے مسئلوں کو تو اسد شیرازی نے کبھی کوئ اہمیت نہ دی تھی… کچھ دیر سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد میر حمدانی نے سر اٹھایا… “جو کچھ تم بتا رہے ہو وہ سن کر لگ رہا ہے کہ واقعی وہ کوئ عام آدمی نہیں ہے… اور بات کریں اس کے نشانے کی تو یہ وہی لوگ ہی کر سکتے ہیں جنہیں اسپیشل ٹریننگ دی گئ ہو… اچھا یہ بتاؤ کہ اس نے اپنا کوئ مطالبہ پیش کیا…؟؟” میر حمدانی کے پوچھنے پر اسد شیرازی نے نفی میں سر ہلایا… “کوئ مطالبہ نہیں… صرف یہی کہا کہ وہ مجھے تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے… میری جان لینا چاہتا ہے… اس کے علاوہ کچھ نہیں… ” اس کی بات پر میر حمدانی نے پرسوچ امداز میں سر ہلایا… “وہ شاید یہ نہیں جانتا کہ اسد شیرازی کو مارنا اتنا آسان نہیں… خیر… تم پریشان مت ہو… بے فکر ہو کر اپنی بیٹی کی منگنی کی تیاری کرو… اور ہاں… منگنی خوب دھوم دھام سے کرنا… باقی رہی بات اس مسئلے کی تو یہ مجھ پر چھوڑ دو… میں اپنے بندے لگاتا ہوں اس کے پیچھے… وہ جو کوئ بھی ہے بہت جلد اس کی کٹی ہوئ گردن تمہارے ہاتھ میں ہو گی… جہاں آنکھیں غائب ہوں گی… کیونکہ وہ تو ہم بیچ چکے ہوں گے نا اس کے جسم کے باقی حصوں کے ساتھ… ” بات کرتے کرتے میر حمدانی نے آخر میں آنکھ دبائ تھی جس پر دونوں قہقہ لگا کر ہنسنے لگے…
ابیہا اس وقت کلاس روم میں تھی… کلاس روم کی سب سے آخر والی سیٹیس خالی تھیں جن میں سے ایک پر راجا بیٹھا تھا… کانوں میں ہینڈز فری لگاۓ وہ اپنے سیل میں کچھ دیکھ رہا تھا… سامنے سوئمنگ پول کا منظر تھا جس کے قریب اسد شیرازی اور میر حمدانی بیٹھے اپنے مسائل ایک دوسرے سے ڈسکس کر رہے تھے… اس بات سے بے خبر کہ جس بلیک میلر کی بات وہ کر رہے ہیں وہ اس وقت بھی ان کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا ہے اور ہر بات سن رہا ہے… اسد شیرازی کے بنگلے پر رہتے ہوۓ وہ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھتا…کل رات اسد شیرازی کی فون پر کی جانے والی گفتگو راجا سن چکا تھا جس میں اسد شیرازی اپنے اسی دوست سے محو گفتگو تھا اور اسے اپنے ہوٹل کا پتا بتا رہا تھا جہاں اسے آنا تھا… راتوں رات راجا نے اپنے ساتھ اس مشن میں شامل پانچ ساتھیوں کی مدد سے اسد شیرازی کے اس ہوٹل میں خاص خاص جگہوں پر خفیہ کیمرے لگواۓ… ایک کیمرہ سوئمنگ پول کے سامنے بالکونی میں بھی لگوایا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسد شیرازی کو سردیوں کے دنوں میں سوئمنگ پول لے قریب دھوپ میں بیٹھنا بہت پسند تھا… اور اس کی توقع کے عین مطابق وہ دونوں سوئمنگ پول کے نزدیک ہی بیٹھے تھے… جس کے سامنے لگے کیمرے کی مدد سے راجا انہیں باآسانی دیکھ اور سن سکتا تھا… اسد شیرازی کی پریشانی دیکھ کر اور میر حمدانی کی اسے دی گئ تسلی سن کر راجا کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری… چند لمحوں بعد راجا نے ابیہا کے نمبر پر ایک میسیج چھوڑا… “مجھے اپنے لیے چند جینز اور شرٹس خریدنی ہیں..
قریبی مارکیٹ جا رہا ہوں… آپ کے یونی سے فری ہونے تک آ جاؤں گا… اکیلی کہیں مت جائیے گا… ” سینڈ کا بٹن دباتے ہی وہ اٹھا اور کلاس روم سے نکل گیا…
میر حمدانی کا ابھی دو دن مزید رکنے کا ارادہ تھا لیکن اسد شیرازی کے ہوٹل سے نکلتے ہی اسے کراچی سے کال آئ کہ وہاں ان کے دو اڈوں پر پولیس کی ریڈ پڑی ہے اور کافی مال پکڑا گیا ہے…میر حمدانی عجلت میں اسد شیرازی کو بتاۓ بغیر وہاں سے نکلا… اس کی گاڑی کے آگے پیچھے تقریباً درجن بھر گاڑیاں تھیں گارڈز کی… ان کے نکلنے سے چند لمحے قبل اشعر (ابتہاج کا ساتھی جو اس مشن میں اس کے ساتھ شامل ہے…) گارڈز سے آنکھ بچا کر میر حمدانی کی گاڑی میں موجود اضافی ٹائر نکال چکا تھا… اس وقت سڑک پر رش نہ ہونے کے برابر تھا…میر حمدانی کی گاڑی فراٹے بھرتی پختہ روش پر چلتی جا رہی تھی… کچھ دور جا کر سڑک کے دونوں طرف گھنے درخت آنے لگے… “تیز چلاؤ کبیر… میرا جلد از جلد کراچی پہنچنا بے حد ضروری ہے…”میر حمدانی نے اپنے ڈرائیور سے کہا تھا… ڈرائیور نے اسپیڈ تیز کی… کچھ دور جانے کے بعد ان کی گاڑی ایک دم جھٹکے کھاتی ہوئ رک گئ… “کیا ہوا…؟؟” میر حمدانی نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کی وجہ دریافت کی… پیچھے آتی گارڈز کی گاڑیاں بھی رک چکی تھیں… وہ سب بھی چوکنے اور مستعد ہوتے گاڑی سے اترے… ڈرائیور گاڑی سے اترا… گاڑی کے آگے پیچھے گھوم کر دیکھا… پھر مایوس سا میر حمدانی کی کھڑکی میں جھکا… “ٹائر پنکچر ہو گیا ہے سر… “ڈرائیور کے لہجے میں خوف تھا…”اوہ گاڈ…”میر حمدانی نے اس کی بات پر پیشانی مسلی… “ٹائر بدلو جلدی… ” ڈرائیور سر اثبات میں ہلاتا ڈگی کھول کر پیچھے آیا… میر حمدانی بھی گاڑی سے نکل چکا تھا اور اب فون پر اپنے ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن نہ جانے کیوں یہاں سگنلز ہی نہ آ رہے تھے… ڈرائیور کچھ دیر بعد جھجھکتا ہوا واپس اس کے پاس آیا… “سر… وہ… گاڑی میں ٹائر نہیں ہے… ” تھوک نگلتے ہوۓ مءر حمدانی کو بتایا تھا… میر حمدانی نے آنکھیں سیکڑ کر اسے دیکھا… “ٹائر نہیں ہے مطلب…؟؟” ڈرائیور کے جسم پر لرزش طاری ہونے لگی… “سر… وہ… میں نے رکھا تھا ٹائر…مگر اب نہیں ہے… ” بات مکمل ہوتے ہی ایک زور دار تھہڑ اس کے گال پر پڑا تھا… ” یہاں میری بینڈ بجی ہوئ ہے… اور تم… بھلکڑ…کبھی کوئ کام ٹھیک سے کرنا بھی آتا ہے یا نہیں… اب کیا پیدل جاؤں میں کراچی… ؟؟” وہ سب جانتے تھے کہ میر حمدانی کبھی بھی گارڈز کی گاڑی میں بیٹھنا پسند نہیں کرتا… ڈرائیور بیچارہ تھپڑ کھا کر خاموش کھڑا تھا… صد شکر کہ صرف تھپڑ ہی پڑا تھا ورنہ یہ بڑے لوگ تو ایسی معمولی سی غلطی پر سامنے کھڑے بندے کی جان تک لے لیتے تھے… میر حمدانی معغلظات بکتے ہوۓ بار بار کال ملانے کی کوشش کر رہا تھا… جبکہ ان سے کچھ فاصلے پر جھاڑیوں میں چھپے ایک وجود کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ تھی… اس کے ایک ہاتھ میں سگنل جیمر تھا اور دوسرے ہاتھ میں کانٹے دار تار… جس کی مدد سے کچھ دیر قبل میر حمدانی کی گاڑی پنکچر کی تھی… اور گاڑیوں کے رکنے تک وہ تار واپس کھینچ چکا تھا… جس کے باعث کسی کو اس پر شک نہ ہوا تھا…اب وہ گھڑی کو دیکھتا کسی کا انتظار کر رہا تھا…
راجا ابیہا کی یونیورسٹی سے نکل کر سیدھا قریبی ہاسپٹل پہنچا… جہاں وہ اشعر کو پہلے ہی بلا چکا تھا… پرائیوہٹ رومز سے گزرتے ہوۓ وہ چوکنی نگاہوں سے دروازوں کے درمیان لگے شیشے میں سے اندر دیکھتا جا رہا تھا… ایک دروازے سے گزرتے ہوۓ وہ رکا… اشعر حیران نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ راحم کو میر حمدانی کی گاڑی کا ٹائر پنکچر کرنے کا کہہ کر کیپٹن ابتہاج عرف راجا اسے لیے ہاسپٹل میں کیا کرنے آیا ہے… لیکن کچھ پوچھنے سے گریز ہی برتا… راجا نے دروازہ کھولا… اندر ایک میل ڈاکٹر سفید کوٹ پہنے مریض کی فائل دیکھ رہا تھا جبکہ مریض نیند میں تھا یا شاید اسے بے ہوش کیا گیا تھا… دروازہ کھلنے پر ڈاکٹر مڑا… تب تک راجا اس کے قریب ہہنچ چکا تھا… اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس کے لبوں پر ہاتھ جمایا… اور اس کے مزاحمت کرتے وجود میں اپنے دوسرے ہاتھ میں موجود انجیکشن گردن میں لگا دیا… چند لمحوں بعد ہی وہ ڈاکٹر ہوش و خرد سے بے گانہ فرش پر گر گیا… راجا نے جلدی سے اس کا سفید کوٹ, اسٹیتھو سکوپ اور منہ پر لگانے والا ماسک لیا… کوٹ پہن کر ماسک پہنا اور اشعر کے ہمراہ وہاں سے نکل آیا… “سر… آپ نے تو کہا تھا کہ ہمارے مشن کے دوران کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی… سر اگر وہ ڈاکٹر مر گیا تو… ؟؟” بمشکل تیز تیز چلتے راجا کے قدموں سے قدم ملاتے ہوۓ اشعر نے اسے ملامت کرنی چاہی… ” زہر نہیں تھا وہ… صرف بے ہوشی کا انجیکشن تھا… ایک گھنٹے تک ہوش میں آ جاۓ گا وہ ڈاکٹر… ” سپاٹ لہجے میں کہتے ہوۓ وہ راہداری کا موڑ مڑ گیا… اشعر خاموش ہو چکا تھا… سب کی نظروں سے بچتے ہوۓ وہ دونوں اپنی اپنی گاڑیوں میں آ بیٹھے… راجا نے گھڑی پر وقت دیکھا… اب تک میر حمدانی کو فون کیا جا چکا ہو گا… اور یقیناً وہ کراچی کے لیے روانہ ہو گیا ہو گا… سوچتا ہوا وہ گاڑی آگے بڑھا لے گیا جبکہ اشعر اسے فالو کرنے لگا…
میر حمدانی غصے میں بکتا جھکتا ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا جب دور سے ایک بی-ایم-ڈبلیو آتی دکھائ دی… میر حمدانی نے غور سے لمحہ بہ لمحہ قریب آتی اس گاڑی کو دیکھا… پھر کچھ سوچ کر ایک گارڈ کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا… اسے مختصر لفظوں میں کچھ سمجھایا… گارڈ سر ہلاتا ہوا مڑ گیا…
گاڑی ان سے کچھ فاصلے پر تھے جب دو گارڈز سڑک کے درمیان آ کھڑے ہوۓ… گاڑی ہچکولے کھاتی ہوئ ان سے چند قدم پیچھے ہی رک گئ… فرنٹ سیٹ سے اتر کر کوئ باہر آیا… سفید کوٹ کے ساتھ گلے میں اسٹیتھو سکوپ لٹکاۓ, منہ پر ماسک چڑھاۓ یقیناً وہ کوئ ڈاکٹر ہی تھا… “کک…کیا ہوا سر… مم…مجھے کیوں روکا آپ نے… ؟؟” اتنے سارے بندوقیں تھامے افراد کو دیکھ کر وہ جو کوئ بھی تھا ڈر کے مارے ہکلانے لگا… “گاڑی چاہیے تیری… ” ایک ہٹا کٹا پہلوان آگے بڑھ کر کہنے لگا… “مم…میری گاڑی… لیکن…کک…کیوں…؟؟” وہ مزید پریشان ہوا تھا… “ابے چپ کر سالے… ورنہ ٹھوک دوں گا یہیں… پہلے ہی دماغ خراب ہوا پڑا ہے… فضول سوال پوچھ کر اور خراب مت کر… ” میر حمدانی نے طیش سے آگے بڑھتے ہوۓ ایک ہاتھ سے اس کا گریبان پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے گن کی نال اس کی کنپٹی پر رکھی… اس ڈاکٹر کی نیلی آنکھوں میں ایک دم بے تحاشہ خوف امڈ آیا تھا… بولتی بھی بند ہو گئ… “چلو بیٹھو تم لوگ اپنی گاڑیوں میں… کبیر چلو تم بھی… ڈرائیونگ سیٹ پر… ” میر حمدانی نے سب کو اشارہ کیا اور خود بھی گاڑی کی طرف بڑھ گیا… “سر… مم…میں نے بہت مشکل سے یہ گاڑی خریدی ہے…پلیز یہ ظلم مت کریں… ” پیچھے سے التجا کی گئ تھی جسے نظر انداز کرتے وہ سب گاڑیوں میں بیٹھ کر روانہ ہو گۓ… ڈاکٹر بے بسی بھری نگاہوں سے انہیں جاتے ہوۓ دیکھتا رہا… گاڑیوں کے کافی دور جانے کے بعد اس نے چہرے سے ماسک اتارا… لبوں کی تراش میں استہزائیہ مسکراہٹ ابھری تھی… جھاڑیوں کے پیچھے سے راحم بھی نکل کر اس کے پاس آ چکا تھا… اشعر بھی کچھ فاصلے پر گاڑی کھڑے کر کے قریب چلا آیا… راجا نے پینٹ کی جیب سے ریمورٹ برآمد کیا… پھر کوئ بٹن دبایا… دور سڑک پر نقطے میں تبدیل ہوتی گاڑیوں میں دھماکہ ہوا تھا… “یقیناً اس دھماکے میں میر حمدانی کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہوں گے… ” راحم بڑبڑایا تھا… چند لمحوں بعد وہ تینوں مڑے اور مسرور سے دور کھڑی اشعر کی گاڑی کی طرف بڑھنے لگے…
