Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31
کہاں جا رہی ہو ابیہا…؟؟” اسد شیرازی نے سرسری سا انداز اپنایا… دل میں کھوج سی تھی… “یونیورسٹی…” ذرا سا رخ موڑ کر ابیہا نے اپنے چہرے کے تاثرات ان سے چھپانے چاہے…
“ارے…کل ہی اتنے بڑے حادثے سے گزری ہو… آرام کرو چند دن بیٹا… میں بات کر لوں گا پرنسپل سے… ” اسد شیرازی نے لہجے میں اس کے لیے فکر سموتے ہوۓ کہا تھا… ابیہا لب کاٹ کر رہ گئ… غصہ آ رہا تھا اسے اسد شیرازی کی اس اداکاری پر… بہت مشکل سے اس نے اپنے غصے پر قابو پایا…
“نہیں ڈیڈ…پہلے ہی کافی لیکچرز مس کر دئیے میں نے… ایگزامز بھی قریب ہی ہیں… مجھے اب سنجیدگی سے لینا چاہیے سٹڈی کو… ” اس نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ اس کے لہجے میں غصے کی جھلک نہ دکھائ دے…
“لیکن بیٹا…دشمن سکون سے تو نہیں بیٹھے گا… وہ اپنی شکست پر تڑپ رہا ہو گا… اگر پھر کوئ نقصان پہنچانے کی کوشش کی اس نے تو…؟؟” اسد شیرازی یہی چاہتے تھے کہ وہ گھر میں رہے تاکہ اس سے بات کر کے ایک دو دن میں نکاح کا معاملہ بھی نمٹ جاۓ…
“آپ فکر مت کریں…راجا کو ساتھ لے جا رہی ہوں… احساس ہو گیا ہے مجھے کہ جب تک راجا میرے ساتھ ہے تب تک کوئ میری پرچھائ تک کو بھی نہیں چھو سکتا… “راجا کا نام لیتے ہی اس کے لہجے میں فخر سا در آیا تھا جس نے اسد شیرازی کو چونکایا… چند دن پہلے تو وہ راجا کا نام تک نہیں سننا چاہ رہی تھی…. اور اب… ایک دم اتنی تبدیلیوں کی کوئ معمولی وجہ تو ہرگز نہیں ہو سکتی…
“میں چلتی ہوں ڈیڈ… دیر ہو رہی ہے یونی سے…” دھیمی آواز میں کہہ کر وہ تیز قدموں سے باہر کی جانب بڑھی…
پورچ میں پہنچی تو راجا جو لان میں اسی کا انتظار کر رہا تھا اسے دیکھ کر قریب چلا آیا… پہلے حیرت بھری نگاہ اس کے سراپے ڈالی تھی… لیکن اگلے ہی پل اس کی نگاہوں میں ستائش ابھری تھی ابیہا کے لیے… اس کے قریب آتے ہی وہ مسکرایا… “اچھی لگ رہی ہیں… “سادہ سے لہجے میں اس کی تعریف کرتا وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا… ابیہا جو اندر اسد شیرازی کو دیکھ کر اپ سیٹ سی ہو گئ تھی راجا کے ایک مختصر سے جملے نے اس کے موڈ پر خوشگوار تاثر چھوڑا تھا…ہلکی سی مسکان نے اس کے لبوں کو چھوا… اس کے بیٹھتے ہی راجا گاڑی آگے بڑھا چکا تھا….
فراز آفندی صبح ہی صبح اسد شیرازی سے ابیہا کے متعلق پوچھ چکا تھا… اور یہ معلوم ہونے پر کہ راجا رات میں ہی اسے دشمنوں کے چنگل سے بچا کر بحفاظت گھر لے آیا ہے اس نے ابیہا کے گھر آنے کا پلان بنایا…یہ سوچ کر کہ اسوقت وہ خاصی جذباتی ہو گی اسی لیے وہ اسے جا کر حوصلہ دے گا… تسلی کے دو بول بول کر اس کا بھروسہ جیتے گا… اس کے سامنے اپنا اچھا امیج بناۓ گا کہ ابیہا کی سب سے زیادہ فکر اسے ہی تو ہے…
صبح کے گیارہ بجے وہ اسد شیرازی کے بنگلے میں موجود تھا… اسد شیرازی خلاف معمول آج آفس کی بجاۓ گھر میں ہی تھے… فراز نے ان سے ابیہا کے متعلق استفسار کیا… اور جو جواب اسے سننے کو ملا اس نے اس کا بنا بنایا موڈ خراب کر دیا تھا… “کیا کہہ رہے ہیں آپ انکل… آئ مین… ابھی کل اس کے ساتھ اتنا کچھ ہوا… وہ بے وقوف سی لڑکی اتنی جلدی خود کو سنبھال بھی گئ…اور آج وہ یونیورسٹی بھی پہنچ گئ… کمال ہے… میں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ اس سے ہمدردی جتاؤں گا… پیار بھری چند باتیں کروں گا جس سے وہ میری طرف مائل ہو جاۓ… اور وہ… یونی پہنچ چکی ہے… ڈسگسٹنگ…” پیشانی مسلتا ادھر سے ادھر چکر لگاتا وہ اپنے غصے کا اظہار کر رہا تھا… اسد شیرازی نے ایک سلگتی سی نگاہ اس پر ڈالی… “بیٹھ جاؤ برخوردار… ورنہ دماغ کے ساتھ ساتھ یہ ٹانگیں بھی ناکارہ ہو جائیں گی… ” اسد شیرازی کے لہجے میں بھی بیزاری تھی… ایک تو وہ صبح سے ابیہا کے عجیب سے رویے کے باعث پریشان تھے… اس پر سے اب یہ فراز آفندی کا درد سر… ان کی جھلاہٹ میں اضافہ ہونے لگا…
فراز آفندی ان سے کچھ فاصلے پر موجود دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا… “آپ کو کیا ہوا…؟؟ آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں… ” اسے اب جا کر اسد شیرازی کا پریشان چہرہ دکھائ دیا تھا…
“کچھ نہیں یار… بس ابیہا کے رویے نے کچھ خدشات میں مبتلا کر دیا ہے… “اسد شیرازی نے گہری سانس بھرتے ہوۓ صوفے کی پشت سے کمر ٹکائ اور ٹانگ پر ٹانگ رکھی…
“ابیہا کے رویے نے…؟؟ کیا مطلب… ؟؟” فراز آفندی نے آنکھیں سیکڑ کر الجھن بھرے انداز میں دریافت کی…
“جب سے وہ واپس آئ ہے اس کا رویہ بہت سرد سا ہے… پہلے بہت خوش ہو کر ملتی تھی مجھ سے… صبح سامنے آتے ہی خود گڈ مارننگ کا نعرہ لگاتی ہوئ مجھ سے لپٹ جاتی تھی…لیکن آج اس نے نہ تو میرے گڈ مارننگ کا جواب دیا اور نہ ہی گلے لگ کر خوشی کا اظہار کیا…. رات میں بھی اس کا رویہ سرد سا تھا… اور تو اور…وہ راجا جس سے نفرت کا ببانگِ دہل اظہار کرتی تھی آج اسی کے لیے اس کی آواز میں کچھ خاص جذبات محسوس کیے میں نے… اور اسی بات نے مجھے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا ہے…”اسد شیرازی نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے کنپٹی کو دبایا…
راجا کے ذکر پر فراز سلگ کر رہ گیا… راجا کے لیے اس کے دل میں بھی آگ بھری پڑی تھی…
“انکل…مجھے نہ جانے کیوں آپ کا یہ بندہ تھوڑا مشکوک سا لگتا ہے… آپ کچھ زیادہ ہی بھروسہ کر بیٹھے ہیں… اس کی اصلیت,اس کی حقیقت کچھ اور ہی لگتی ہے مجھے…” وہ لفظوں میں زہر لیے کہہ رہا تھا… اسد شیرازی اس کی بات پر چونکے…
“کیا مطلب…کیا کہنا چاہتے ہو تم…؟؟” ان کی الجھن بھری نگاہیں فراز آفندی کے چہرے پر تھیں…
“مطلب بعد میں سمجھاؤں گا آپ کو…پہلے آپ کو ایک ویڈیو دکھانا چاہتا ہوں… ” فراز نے اپنے سیل کی اسکرین آن کی… اور ایک ویڈیو پلے کر کے سیل اسد شیرازی کے سامنے کر دیا… جس میں راجا کچھ غنڈوں کی پٹائ کر رہا تھا… اسد شیرازی آنکھیں سیکڑے ویڈیو دیکھتے رہے… فراز آفندی کے چہرے پر انوکھی سے چمک تھی…
“یہ ویڈیو دکھانے کا مقصد…؟؟” اسد شیرازی کچھ حد تک اس کی بات سمجھ چکے تھے لیکن پھر بھی اس سے پوچھ لیا…
“مطلب یہ ہے انکل…کہ اس ویڈیو میں جس عمدہ طریقے سے آپ کا یہ بندہ اور ابیہا کا گارڈ راجا ان لوگوں کی دھلائ کر رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کوئ عام بندہ نہیں ہے… ایسی فائٹنگ کوئ عام آدمی کر ہی نہیں سکتا… اس کے مارنے کے انداز سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کوئ ٹرینڈ بندہ ہے… جس نے ان کاموں میں باقاعدہ مہارت حاصل کر رکھی ہے… اور اس طرح کے کاموں میں کن لوگوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے یہ آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں… ہو سکتا ہے یہ آپ کے قریب رہ کر آپ کو دھوکہ دے رہا ہو… اب تک آپ کا جتنا نقصان ہوا شاید اس کی وجہ بھی یہی ہو… ایک بار اس بارے میں بھی ضرور سوچیے گا… ” وہ شک کی آگ لگا کر اب مسرور سا وہاں سے جا چکا تھا… جبکہ اسد شیرازی پرسوچ نظروں سے فرش کو دیکھتے کسی خیال میں کھوۓ تھے… اب تک ان کا دھیان راجا کی طرف نہیں گیا تھا…لیکن اس ویڈیو نے انہیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا…
________
“سنو… کل مجھے وکیل انکل کے پاس جانا ہے… تم بھی میرے ساتھ چلو گے… ڈیڈ کی ساری پراپرٹی کا حساب کتاب وہی دیکھتے ہیں…کچھ ضروری باتیں ہیں جو جاننی ہیں مجھے…” وہ دونوں یونیورسٹی سے واپس آ رہے تھے جب ابیہا نے اسے مخاطب کیا… راجا نے قدرے چونک کر اسے دیکھا… “اوکے… لیکن کس سلسلے میں جانا ہے وہاں…؟؟” راجا کے پوچھنے پر ابیہا نے عبدالواحد کے ساتھ ہونے والی تمام گفتگو اس کے گوشِ گزار کر دی تھی… راجا لب بھینچے سنتا رہا… ان میں سے کچھ باتیں وہ پہلے ہی جانتا تھا جبکہ کچھ باتوں کا انکشاف ابھی ہو رہا تھا… “اوکے… صبح دس بجے چلیں گے… اسد شیرازی سے کہہ دیجیے گا آپ کو اپنی کسی فرینڈ کے ہاں جانا ہے… ” راجا کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلا گئ…
“اسد شیرازی کو کسی قسم کا شک تو نہیں ہوا صبح آپ پہ…؟؟” راجا نے موضوع بدلنے کی کوشش کی…
“پتا نہیں…. اپنی طرف سے تو کوشش کی تھی میں نے کہ نہ ہی پتا چلے انہیں کچھ…لیکن مجھ سے یہ اداکاری نہیں ہوتی… اپنے دل کی بات چھپانی نہیں آتی… وہ میرے سامنے آتے ہیں تو میرا دل چاہتا ہے ان کا گریبان پکڑ کر ان سے سوال کروں کہ کیا مل گیا میرے پیرنٹس کو مار کر… ان سے پوچھوں کہ انہیں ذرا سا بھی ڈر نہیں ہے اس اعلٰی و ارفع ذات کا جو اوپر بیٹھی ہے… یوں لوگوں کا خون بہاتے,ان کی جان لیتے ہوۓ ایک پل کو بھی ان کے ہاتھ نہیں کپکپاتے کیا…؟؟ کیسے کوئ اتنا بے حس ہو سکتا ہے… ” بات کرتے کرتے آخر میں اس کی آواز بھرائ تھی… آنکھوں میں آئ نمی کو چھپانے کی کوشش میں وہ سر جھکا گئ… راجا اس کی بات پر خاموش سا ہو گیا…
“اس سنڈے فراز آفندی لوگوں کی واپسی ہے… کل تو نکاح کینسل ہو گیا… اب اسد شیرازی نہ جانے کیا قدم اٹھاۓ گا آگے…آپ کو انتہائ محتاط رہنا ہو گا اب… حالات نہ جانے کب کونسا رخ اختیار کر لیں… ” راجا نے اسے حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا تھا… وہ چاہتا تھا کہ ابیہا آنے والے ہر مشکل یا آسان وقت کے لیے پہلے سے ہی خود کو تیار کر لے…
“میں کسی صورت بھی فراز آفندی سے نکاح نہیں کروں گی…اگر انکل نے مجھ سے اس سلسلے میں کوئ بات کی بھی تو میں صاف انکار کر دوں گی انہیں…کیونکہ مجھے اب…” وہ اپنی بات کہتی ہوئ راجا کی جانب دیکھ رہی تھی جب بات ادھوری چھوڑ کر قدرے چونک سی گئ… اس کی نگاہیں راجا کے چہرے پر ہی جمی تھیں…
“کیا ہوا…؟؟” بات ادھوری رہ جانے کے باعث راجا نے اس کی طرف دیکھا… جو راجا کے چہرے کو ہی تکے جا رہی تھی… نگاہوں میں الجھن سی تھی…
“تم… تم ابتہاج ہی ہو نا… ؟؟” وہ بڑبڑانے کے سے انداز میں بولی… راجا نے حیرت سے اس کی بات سنی…
“جی بالکل… کیوں کیا ہوا…؟؟” وہ ابھی تک ابیہا کی الجھن کی وجہ نہیں جان پایا تھا…
“ابتہاج کی آنکھیں تو… اگر تم ہی ابتہاج ہو تو پھر تمہاری آنکھوں کا رنگ گہرا سیاہ کیوں ہے… ؟؟” وہ عجیب سے انداز میں بولی…لہجے میں کئ خدشات موجود تھے… راجا اس کی بات سن کر بے ساختہ مسکرایا…
“لینز کا کمال… ” مختصر سا جواب دے کر اس نے مہارت سے ڈرائیو کرتے ہوۓ اسٹیرنگ گھما کر ایک موڑ کاٹا…
“لینز…؟؟کیوں… کہیں تم بھی مجھے دھوکہ تو نہیں دے رہے… ؟؟” وہ شکی انداز میں آنکھیں سیکڑ کر اسے دیکھ رہی تھی…
“اوہ کم آن اینجل… اب ایسی بھی بات نہیں…مانا کہ آپ کا زندگی میں دھوکہ دینے والے بہت سے افراد سے پالا پڑا ہے…لیکن اب ہر فرد کو ایک ہی نظریے سے تو مت دیکھیں…کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں… اور اگر میں ابتہاج نہ ہوتا تو مجھے آپکا بچپن کا نِک نیم کیسے معلوم ہوتا…اور وہ پائل جو آپ نے مجھے ہی دی تھی دوستی کی نشانی کے طور پر… کیا وہی کافی نہیں ہے میری شناخت کے لیے…اب بھی آپ کو شک ہے مجھ پر…؟؟” راجا کے لہجے میں ہلکی سی خفگی کا عنصر تھا… ابیہا کے دل کو تھوڑی تسلی ہوئ اس کی بات سن کر…
“لیکن اتنی پیاری آنکھیں ہیں تمہاری…پھر بھلا لینز کیوں لگاتے ہو…؟؟” اس کی سوئ ابھی تک وہیں اٹکی تھی…
راجا چند پل کے لیے خاموش ہوا…
“بتا دوں گا یہ بھی… مناسب وقت آنے پر… اور اپنی نیلی آنکھیں دکھا بھی دوں گا…لیکن ابھی نہیں…اور پلیز…اصرار مت کیجیے گا… میں آپ کی کوئ بات ٹال نہیں سکتا… لیکن اس بارے میں فی الحال کچھ بتا بھی نہیں سکتا.. ” دھیمے لہجے میں کہہ کر اس نے بات ختم کرنی چاہی… وہ ابیہا کو اپنے مشن کے حوالے سے کسی قسم کی کوئ خبر نہیں دینا چاہتا تھا… کہ اس کا جو مشن تھا اس میں اس نے اپنا حلیہ, اپنی لُک کو مکمل طور پر چینج کیا تھا تبھی اسد شیرازی کی زندگی میں آیا تھا… ابیہا لاکھ دل کو عزیز سہی…لیکن وطنِ پاک اس فہرست میں اوّل نمبر پر تھا… اور وطن کی خاطر ملے اس مشن کے لیے وہ کسی قسم کا کوئ رسک نہیں لینا چاہتا تھا…
ابیہا اثبات میں سر ہلا کر خاموش ہو گئ… وہ اسے زیادہ کریدنا نہیں چاہتی تھی…
شام کا وقت تھا… اسد شیرازی ریمورٹ ہاتھ میں پکڑے بے مقصد سے چینل سرچنگ میں مصروف تھے..
ذہن میں دوپہر کے وقت فراز آفندی کے ساتھ ہونے والی باتیں گردش کر رہی تھیں…. وہ مسلسل الجھ رہے تھے… راجا کی طرف اب تک ان کا دھیان نہیں گیا تھا…کہ وہ راجا کو سیدھا سادھا انسان سمجھتے تھے…جو حالات کی ٹھوکروں میں پلا بڑھا تھا… اور ان کے نزدیک راجا کے پاس اتنا دماغ نہیں تھا کہ وہ اسد شیرازی کے خلاف کچھ کرنے کا سوچ بھی سکتا… خاص کر اسد شیرازی کے خاص ٹھکانوں کو تباہ کرنا… بالکل بھی نہیں…یہ راجا کے بس کی بات نہیں تھی… جس طرح دشمن سامنے آۓ بغیر ان پر وار پہ وار کر رہا تھا اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ انتہائ شاطر اور چالاک ہے…جبکہ راجا…وہ تو معصوم سا تھا… جسے ہاتھ چلانا ہی آتے تھے… دماغ چلانا نہیں…
وہ اب تک فراز آفندی کی باتوں کو اس کی کوئ غلط فہمی ہی سمجھے بیٹھے تھے… انہی سوچوں میں گم انہوں نے ریمورٹ کا بٹن دبایا…
اگلا چینل آ چکا تھا… اسد شیرازی پھر سے بٹن دبانے ہی والے تھے کہ ایک دم رکے… آنکھیں سیکڑ کر اسکرین کی طرف دیکھا…سامنے نیوز چل رہی تھی…
“کل شام آٹھ بجے کے قریب رائل ہوٹل سے سب انسپکٹر بلاول رضا کو ایک آدمی گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا… اور کسی ذاتی عناد کے باعث جوہر ٹاؤن میں ایک زیرِ تعمیر عمارت کی آٹھویں منزل سے دھکا دے دیا… مزید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آٹھویں منزل سے پھینکنے سے پہلے سب انسپکٹر بلاول رضا پر تشدد بھی کیا گیا اور ان کی ٹانگ پر ایک فائر بھی کیا گیا… قاتل کا چہرہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر نہیں آیا…. کیونکہ اس نے ہڈ سر پر گرا کر اپنے چہرے کو چھپا رکھا تھا اور کیمرے کی جانب اس کی پشت ہی تھی……اسی وجہ سے ابھی تک اس کا کوئ سراغ نہیں ملا ہے…” نیوز کاسٹر تیز تیز خبریں پڑھتی اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہی تھی… جبکہ اسد شیرازی دنگ سے اسکرین کے ایک جانب نظر آتی فوٹیج دیکھ رہے تھے جس میں ہوٹل کی لابی کا منظر تھا… سب انسپکٹر بلاول رضا کو کوئ گریبان سے پکڑے گھسیٹتا ہوا لے جا رہا تھا… اسے کیمروں کی پوزیشنز کا شاید اچھی طرح اندازہ تھا… تبھی اس نے سر پر ہڈ گرا کر پوری کوشش کی تھی کہ اس کا چہرہ نظر نہ آۓ…اور وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی رہا تھا… لیکن اسد شیرازی ایک لمحے سے پہلے اسے پہچان گۓ تھے…کیونکہ کل جب راجا ابیہا کے اغواء کی خبر سن کر گھر سے تیزی سے نکلا اس وقت اس کی ڈریسنگ یہی تھی جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آ رہی تھی… قد کاٹھ سے بھی واضح نظر آ رہا تھا کہ یہ راجا ہی ہے… اسد شیرازی بے یقین سے اسکرین کو دیکھے گۓ… اس کا مطلب…فراز آفندی کا شک صحیح تھا… یقیناً یہ انسان اپنا اصلی روپ ان سے چھپاۓ ہوا تھا… جس میں اتنی ہمت تھی کہ ایک پبلک پلیس سے سب کے سامنے سب انسپکٹر کو بے خوف و خطر گھسیٹ کر لے جاۓ وہ بھی کسی کی نظروں میں آۓ بغیر…تو وہ اسد شیرازی کو بھی تو دھوکہ دے سکتا تھا… چند لمحوں بعد وہ کسی سے فون پر محوِ گفتگو تھے… “ایک تصویر ای میل کر رہا ہوں… اس کے بارے میں جتنی انفارمیشن حاصل کر سکتے ہو کر کے مجھے دو… اور کل سے اپنے چند بندوں کو اس کے پیچھے لگاؤ… تا کہ وہ اس کی ہر ہر حرکت پر نگاہ رکھیں… وہ کہاں جاتا ہے, کیا کرتا ہے سب کچھ… ہر بات مجھے معلوم ہونی چاہیے… ” سرد لہجے میں کہہ کر انہوں نے فون رکھا… چہرے کے تاثرات میں سختی بڑھتی جا رہی تھی…
وہ اس وقت اپنے روم میں کاؤچ پر بیٹھا تھا… گود میں لیب ٹاپ تھا جبکہ کانوں میں ہینڈز فری… سامنے اسکائپ پر میجر حبیب آن لائن تھے…
“کیپٹن ابتہاج…تم اتنی بڑی بے وقوفی کیسے کر سکتے ہو…؟؟” ان کے چہرے پر دبا دبا سا غصہ تھا… ابتہاج نے ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھا…
“سوری سر… مطلب نہیں سمجھ پایا آپ کی بات کا…” اس نے ادب بھرے لہجے میں اپنی الجھن بیان کی…
“کیا کیا ہے تم نے کل…؟؟ دن دہاڑے سب کے سامنے سب انسپکٹر کو اس ہوٹل سے گھسیٹتے ہوۓ لے گۓ… اور تو اور… اسے جان سے مار دیا… یہ سب تمہارے مشن کا حصہ تو ہرگز نہیں تھا… تم جانتے بھی ہو کہ تمہاری یہ حرکت تمہارے لیے کتنی پریشانیاں کھڑی کر سکتی ہے… ؟؟” میجر حبیب کو پہلی بار ابتہاج پر اس قدر شدید غصہ آیا تھا… ابتہاج نے گہری سانس خارج کی… تو بالآخر ان تک بھی پہنچ ہی گئ تھی یہ بات… چند لمحوں بعد وہ ان کی طرف متوجہ ہوا…
“سر…ہمارے اس پاک وطن میں سے ہر کرمنل, اور غدار کو ختم کرنا ہی ہمارا مشن ہے… مجرم تو مجرم ہی ہوتا ہے نا… ہھر چاہے وہ سب انسپکٹر ہو یا کوئ عام شہری… دونوں کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے… اور آپ جانتے ہیں کہ میں مجرم کو فوری سزا دینے پر یقین رکھتا ہوں… ” اس نے دھیمے لہجے میں ہی اپنے اس عمل کی وضاحت کی تھی…
میجر حیب نے پیشانی مسلی…
“وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن اس بار تم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے… میڈیا اس بات کو اچھال رہا ہے… اگر تمہارے بارے میں کوئ بھی بات نکلی تو تم جس مشن پر ہو نہ صرف اس مشن پر ایکسپوز ہو جاؤ گے بلکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ بھی اس بات پر سخت ردعمل ظاہر کرے گا… ہر کام اتنے پرفیکٹ طریقے سے کرتے ہو… یہ غلطی کرتے وقت تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا…؟؟”میجر حبیب اسے اپنے بیٹے کی مانند سمجھتے تھے… تبھی اسے کبھی کبھار ڈانٹ بھی لیتے تھے… جانتے تھے کہ وہ ان کی اس ڈانٹ کو بھی مثبت انداز میں لیتا ہے…
“جب کرمنلز کرائم کرنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتے سر… تو پھر ہم ان کرمنلز کو سزا دینے کے لیے کیوں سوچیں… وہ شخص ویسے بھی غدار ہی تھا… حرام کا پیسہ کھا کر غریبوں اور بے گناہوں کو ان کاؤنٹر میں مارتا تھا…اس جیسے بے حس اور خود غرض انسان کو زندہ رہنے کا کوئ حق نہیں تھا… اس کی ساری ڈیٹیلز جاننے کے بعد ہی میں نے یہ قدم اٹھایا….باقی رہ گئ بات میرے ایکسپوز ہونے کی… تو آپ فکر مت کریں سر… میرے بارے میں کسی کو بھی کچھ بھی معلوم نہیں ہو گا… میں سب سنبھالنا جانتا ہوں…”
راجا کی بات پر میجر حبیب قدرے پر سکون سے ہوۓ… اتنا تو انہیں بھی بھروسہ تھا کہ کیپٹن ابتہاج سب سنبھال سکتا ہے…
“اوکے… لیکن آئندہ خیال رکھنا… اس طرح کی غلطی دوبارہ نہیں ہونی چاہیے… ” وارننگ کے سے انداز میں کہ کر ویڈیو کال ڈسکنکٹ کر دی گئ تھی… راجا نے بھی لیب شٹ ڈاؤن کرتے ہوۓ اسکرین فولڈ کر دی…
Episode 31
ابیہا… بیٹا ادھر آؤ…” وہ ڈنر کے بعد اپنے روم میں جا رہی تھی جب لاؤنج میں بیٹھے اسد شیرازی نے اسے مخاطب کیا… ابیہا نے مڑ کر ایک نظر انہیں دیکھا… اس کا دل چاہا تھا ایک پل کا توقف کیے بغیر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ جاۓ…لیکن پھر راجا کی بات یاد آنے پر لب کاٹتی چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجاۓ ان کے پاس چلی آئ…وہ ان سے کچھ فاصلے پر موجود صوفے پر بیٹھی تھی…سر جھکاۓ…خاموش سی…
“کیا ہوا ہے بیٹا…؟؟ مجھ سے کوئ ناراضگی ہے…؟؟ میں دیکھ رہا ہوں جب سے تم واپس گھر آئ ہو مجھ سے ٹھیک طرح بات نہیں کر رہی… سب خیریت ہے نا… ؟؟” اسد شیرازی نے کھوجتی نگاہیں اس پر جمائیں تھیں… ابیہا ایک پل کو بوکھلا سی گئ… بے ساختہ نگاہیں اسد شیرازی کی طرف اٹھیں جو اسے ہی بغور دیکھ رہے تھے… “نن…نہیں تو… ایسی تو کوئ بات نہیں ڈیڈ… مم…میں بھلا کیوں ناراض ہوں گی آپ سے… ” ہلکی سی آواز میں کہتے ہوۓ اس نے سر جھکایا… “تو…؟؟ تمہارا یہ سرد سا رویہ میری تو سمجھ سے باہر ہے… اگر کوئ پریشانی ہے تو مجھ سے شئیر کر سکتی ہو تم… ” اسد شیرازی بڑی زیرک نگاہوں سے اس کے رنگ بدلتے چہرے کو دیکھ رہے تھے… ابیہا خاموش سی ہو گئ…
“نہیں ڈیڈ… بس ابھی تک اس خوف کے زیرِ اثر ہوں نا… شاید اسی لیے… ورنہ پریشانی تو کوئ نہیں ہے… ” اس نے اپنے لہجے کو مضبوط رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی…
“ہمم… “اسد شیرازی نے ہنکارا سا بھرا… ” کل رات ایک بجے کی فلائٹ ہے فراز آفندی اور مرزا جمال آفندی کی… وہ لوگ واپس جا رہے ہیں دبئ… جمعہ کا مبارک دن طے کیا تھا ہم نے تم دونوں کے نکاح کے لیے…لیکن اس مسئلے کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکا ایسا ہونا… تو میں نے سوچا ہے کہ صبح کا دن رکھ لیا جاۓ نکاح کا… ان کے جانے سے پہلے یہ معاملہ بھی نمٹ جاۓ تو میں بھی بے فکر ہو جاؤں تمہاری طرف سے… پھر اپنے دشمنوں کو بھی دیکھ لوں گا… کیا خیال ہے… کل دوپہر دو بجے کا وقت رکھ لیا جاۓ پھر…؟؟” ابیہا کو مسلسل اپنی نگاہوں کے حصار میں رکھتے ہوۓ وہ گویا ہوۓ تھے…مقصد صرف یہ تھا کہ اس کے ردعمل سے وہ جان سکیں کہ اس کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے آجکل… اور حسب توقع اس نے تیزی سے سر اٹھایا تھا…جیسے کسی کرنٹ نے چھو لیا ہو اسے… چہرے پر حیرت کے ساتھ ساتھ غصے بھری سرخی بھی ابھری تھی… اسد شیرازی کو ان کی باتوں کا جواب مل گہا تھا… یقیناً ابیہا مراد بخاری ان کے بارے میں اور ان کی پلاننگ کے بارے میں کچھ نہ کچھ جان چکی تھی… اور یہ ہرگز اچھا نہیں تھا…
“لل…لیکن اتنی جلدی ڈیڈ… میرا مطلب ہے… ابھی مجھے سنبھلنے کے لیے وقت چاہیے… ” ابیہا کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے…کتنا مشکل تھا نا دل کی بات چھپانا…
“ہاں وہ بات بھی ٹھیک ہے… لیکن انہیں واپس بھی تو جانا ہے نا بیٹا…ان کے بہت سے کام پینڈنگ میں پڑے ہیں… ” اسد شیرازی نے سامنے پڑی ایش ٹرے میں سگریٹ بجھائ اور پرسکون سے پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھے…. ابیہا چند لمحوں کے لیے خاموش سی ہوگئ… پھر دل ہی دل میں حتمی فیصلہ کرتی ان کی جانب دیکھنے لگی…
“مجھے فراز سے شادی نہیں کرنی ڈیڈ… ” اس کا لہجہ مضبوط تھا… اسد شیرازی چونکے نہیں… انہیں یہی توقع تھی…
“کیوں وجہ…؟؟” ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوۓ استفسار کیا…
” اس کی حرکتیں بہت عجیب ہیں ڈیڈ…مجھے وہ پسند نہیں ہے…پتا نہیں کیسا…” وہ وضاحت دینا چاہ رہی تھی جب اسد شیرازی نے اس کی بات کاٹی…
“تو کون پسند ہے تمہیں…؟؟ راجا…؟؟” ان کی سلگتی نگاہیں ابیہا پر جمی تھیں… لہجے میں ہلکے سے طنز کی آمیزش تھی… ابیہا نے چونک کر ان کا چہرہ دیکھا… جس کے تاثرات عجیب سے تھے… اسد شیرازی نے پل میں پنیترا بدلہ… چہرے پر مسکراہٹ سجائ… “ارے بیٹا… میں پوچھ رہا ہوں کہ کیا راجا پسند ہے تمہیں… تمہیں پتا ہے تمہاری آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں… اور تمہاری آنکھوں میں میں نے راجا کے نام کے جلتے دئیے دیکھے ہیں… میرا اندازہ درست ہے نا…؟؟ تم راجا کو پسند کرتی ہو… رائٹ…؟؟” اسد شیرازی دوستانہ انداز میں پوچھ رہے تھے… ابیہا حیران پریشان سی فقط اثبات میں سر ہلا کر رہ گئ…
“تم فکر مت کرو… اگر تم نہیں چاہتی فراز آفندی سے شادی کرنا تو کوئ بات نہیں…میں انکار کر دوں گا انہیں… آخر ہماری بیٹی کی خوشی سے زیادہ کیا عزیز ہو سکتا ہے ہمیں… ” اسد شیرازی نے لمحوں میں کوئ پلان بنایا تھا… تبھی مسکرا کر اسے دیکھا… وہ جو بے یقینی سے انہیں ہی تک رہی تھی بے چین سی ہو کر سر جھکا گئ… بھلا اسد شیرازی سے اتنی اچھائ کہ امید کہاں تھی…
“اب تم چاہو تو جا سکتی ہو اپنے روم میں… خوش رہا کرو میرا بچہ… اداسی جچتی نہیں تمہارے چہرے پر… ” محبت بھرے لہجے میں کہا تھا… ابیہا فورأ اٹھی اور تیز قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی جبکہ پیچھے اسد شیرازی کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ ابھری تھی..
_____
اگلے روز اتوار تھا…یونیورسٹی سے چھٹی تھی… وہ اپنے ڈیڈ مراد بخاری کے وکیل کے پاس جانے کے ارادے سے تیار ہو کر کمرے سے نکلی…
گولڈن گاؤن کے اوپر گولڈن اور بلیک اسکارف سے نفاست سے کیے گۓ حجاب میں اس کا چہرہ تروتازہ لگ رہا تھا… باوقار چال چلتی وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی… تبھی اسد شیرازی بھی کہیں جانے کے لیے نکل رہے تھے…
“ابیہا…” وہ لاؤنج سے نکل رہی تھی جب اسد شیرازی نے اسے پکارا… دل ہی دل میں شدید کوفت محسوس کرتی ہوئ وہ مڑی…
“جی… ” لبوں پر بیزاریت بھری مسکراہٹ لیے وہ ان کی جانب دیکھ رہی تھی جو تھری پیس سوٹ میں ملبوس کہیں جانے کے لیے تیار تھے… عموماً وہ اتوار کا دن گھر رہ کر ہی گزارتے تھے لیکن آج نہ جانے کہاں کی تیاری تھی…
“آج تو اتوار ہے نا… یونیورسٹی سے تو آف ہے…پھر کہاں جا رہی ہو… ؟؟” اسد شیرازی نے خاصی جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا…
“وہ… مم…مجھے… ہاں… اپنی ایک فرینڈ کی طرف جانا تھا… اس کے گھر پارٹی ہے نا… تو اس نے انوائیٹ کیا تھا…” بالآخر اس نے بہانہ بنا ہی لیا… لیکن اس کی آواز کی لڑکھڑاہٹ محسوس کر کے اسد شیرازی نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا…
“ہممم… ٹھیک ہے…جاؤ…لیکن احتیاط سے… ” اسد شیرازی کے کہنے پر وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھی… زندگی میں کبھی جھوٹ بولا نہیں تھا اب اسے یوں جھوٹ پر جھوٹ بولنا خاصا مشکل لگ رہا تھا… اس نے سادہ اور خالص زندگی گزاری تھی… اب یہ سب اسے دوغلا پن لگ رہا تھا جو اس میں بالکل نہ تھا… اس کے دل میں جو ہوتا وہاس نے کبھی چھپانے کی کوشش نہ کی تھی… دلی جذبات چہرے سے عیاں ہوتے تھے… اب چھپانا مشکل ہوتا جا رہا تھا……تبھی اسد شیرازی کے سامنے بات کرتے ہوۓ ہچکچا جاتی تھی…
وہ تیز قدموں سے آ کر گاڑی میں بیٹھی… جہاں راجا پہلے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا… وہ اسے پہلے سے ہی انفارم کر چکی تھی کہ وہ ریڈی ہے جانے کے لیے…تبھی راجا اس سے پہلے ہی نیچے آ چکا تھا…
اسے گہرے گہرے سانس لیتے دیکھ کر راجا چونک سا گیا…
“کیا ہوا…؟؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا… ” اسے تشویش نے آ گھیرا…
“ہاں… میں ٹھیک ہوں… چلیں… ؟؟” اس نے آواز دباتے ہوۓ راجا سے کہا ساتھ ہی بیک ویو مرر کی جان اشارہ کیا… راجا کی نظریں بھی اس سمت اٹھیں… سامنے اندرونی دروازے کے قریب اسد شیرازی کھڑا تھا…جس کی سلگتی ہوئ پرسوچ نگاہیں ان دونوں کی پشت پر ہی جمی تھیں… سر جھٹکتے ہوۓ راجا نے گاڑی اسٹارٹ کی…
ان کی گاڑی کے نکلتے ہی اسد شیرازی نے کسی کو فون ملایا تھا… “راجا ابھی نکلا ہے ابیہا کے ساتھ گھر سے… اپنے بندوں سے کہو ان کا پیچھا کریں… اور مجھے بتائیں کہ وہ دونوں کہاں گۓ ہیں… اور بہت ذمہ داری سے کام کرنا… وہ بہت چالاک بندہ ہے…اسے ذرا سی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے کہ اسے فالو کیا جا رہا ہے…” اپنی بات مکمل کر کے اسد شیرازی نے مقابل کو سنا… پھر فون کاٹ دیا… باہر جانے کا ارادہ کینسل کر کے وہ واپس مڑ گۓ… ان کا رخ راجا کے کمرے کی طرف تھا…
“کیا ہوا…؟؟ آپ اتنی ٹینس کیوں تھیں گاڑی میں بیٹھتے وقت…؟؟” راجا نے مین روڈ پر گاڑی ڈالنے کے بعد اسے مخاطب کیا…
“ابتہاج… پتا نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے انکل کو مجھ پر شک ہو گیا ہے کہ میں ان کے بارے میں سب جانتی ہوں… ” وہ دھیمی آواز میں کہہ گئ…
راجا نے سرسری سی ایک نگاہ اس پر ڈالی…
“آپ کو ایسا کیوں لگا…؟؟” راجا کو بھی اس بات کا اندازہ تو ہو ہی گیا تھا لیکن پھر بھی اس نے ابیہا سے پوچھنا مناسب سمجھا…
جواب میں ابیہا نے رات میں اور ابھی کچھ دیر پہلے اپنے اور اسد شیرازی کے درمیان ہونے والی گفتگو کہہ سنائ…
راجا کے لب بھنچ گۓ تھے… کافی دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی چھائ رہی… “ٹھیک ہے…اگر اسے معلوم پڑ ہی گیا ہے اس بارے میں…تو ہم بھی اب اس کے اگلے وار کا انتظار کریں گے… بہت جلد اس کھیل کا اختتام ہونے والا ہے… آپ فکر مت کریں… جب تک میں ہوں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا……اس بار شکست اسد شیرازی کا مقدر ہی ٹھہرے گی… ” بے تاثر لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر دی…
وہ راجا کے کمرے تک آۓ تھے… ہینڈل گھمایا تو دروازہ لاکڈ ملا… انہیں غصہ تو بہت آیا…ان ہی کے گھر میں رہتے ہوۓ وہ کمرے کو لاک کر کے رکھتا تھا…مطلب کچھ تو تھا جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی تھی…
اسد شیرازی نے ملازم کو بلایا… ڈپلیکیٹ کیز منگوا کر دروازہ کھلوایا… اس کے بعد ملازم کو جانے کا اشارہ کیا…
ہینڈل گھما کر کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ انہوں نے ایک طائرانہ نگاہ پورے کمرے پر ڈالی… بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا… کچھ غیر معمولی نہیں لگ رہا تھا کمرے میں… وہ سب سے پہلے چلتے ہوۓ وارڈروب تک آۓ… وہاں نفاست سے راجا کے کپڑے ہینگ کیے گۓ تھے… ان کی نگاہیں کچھ ڈھونڈنے میں مگن تھیں… کپڑے ادھر ادھر کرتے انہیں وہی ہڈ والی جیکٹ دکھائ دی جو کل نیوز میں دکھائ گئ فوٹیج میں انسپکٹر بلاول رضا کو لے جانے والے شخص نے پہنی تھی… ایک ہاتھ سے جیکٹ کو چھوتے ان کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ ابھری…
انتہائ احتیاط سے انہوں نے پوری وارڈ روب چھان ماری… لیکن وہاں کچھ بھی نہ تھا سواۓ کپڑوں کے… ایک جگہ تہہ شدہ کپڑے رکھے تھے جن میں سب سے نیچے نظر آتی ایک قمیض پر ان کی نگاہ پڑی… کچھ چونک کر وہ قمیض نکالی… اس کی تہیں کھولیں تو وہ آٹھ سے نو سالہ بچے کی شرٹ تھی… اسد شیرازی چونکے…
اتنے چھوٹے سائز کی شرٹ وہ بھی راجا کے پاس…؟؟ یہ بھلا کس کی شرٹ ہو سکتی ہے… پرسوچ نگاہیں شرٹ پر جمی تھیں…ذہن کہیں پیچھے دوڑ رہا تھا… مراد بخاری کے دل میں خنجر اتارنے کے بعد جب وہ ڈھلوان کی جانب اتر کر چھپے تھے تب ایک بچہ مراد بخاری کی گاڑی سے ہی اتر کر ان کے تڑپتے وجود کی طرف بڑھا تھا جس کی عمر بھی تقریباً آٹھ سے نو سال تھی… اور یہ قمیض…ہاں یہی قمیض…یہی رنگ اس نے زیب تن کر رکھا تھا… اسد شیرازی کو وہ منظر بھولا نہیں تھا… تو کیا…راجا وہی دوست ہے ابیہا کا…بچپن کا… جس پر قتل کا الزام لگنے کے بعد اسد شیرازی مطمئین سے ہو گۓ تھے…
وہ دوبارہ ان کی زندگی میں داخل ہوا… ان کا بھروسہ جیتا… ان کے قابل اعتماد بندوں میں شامل ہوا… یہ کوئ اتفاق نہیں تھا… شاید وہ اپنے انتقام کی خاطر ہی ان تک پہنچا تھا… اسد شیرازی نے مختلف دراز چیک کرنے شروع کیے… الماری کے اندرونی دراز میں چند پیپرز پڑے تھے… آنکھیں سیکڑ کر اسد شیرازی وہ پیپرز پڑھنے لگے… وہ راجا کے ہی ڈاکومینٹس تھے… جن میں اس کا نام راجا ہی درج تھا…جبکہ اسد شیرازی کو اچھی طرح یاد تھا کہ مقدمے کے درمیان جب سماعتوں کے لیے وہ ابیہا کے ساتھ جاتے تھے تب اس کا نام ابتہاج ہی لیا جاتا تھا… اس کا مطلب…یہ سارے ڈاکومینٹس جعلی تھے… جس طرح ابتہاج آفندی راجا کا روپ لیے ان کی زندگی میں آیا تھا ویسے ہی اس نے نقلی ڈاکومینٹس بنواۓ تھے… تا کہ اسد شیرازی کو کسی قسم کا شک نہ ہو…
گارڈ تعینات کرنے سے پہلے اسد شیرازی نے اس کے بارے میں سرسری سی تحقیقات کروائ تھیں اور اس کے ڈاکومینٹس پر وہی تفصیلات دیکھ کر جو اس نے اپنی زبان سے بتائ تھیں وہ مطمئین ہو گۓ تھے… کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بچپن کے اس ڈرپوک سے بچے میں اتنی ہمت اور طاقت آ جاۓ گی کہ وہ ان کے مقابل, ان سے بدلہ لینے کے لیے آ کھڑا ہو گا…
مزید تلاشی لینے کے بعد انہیں کچھ اور کاغذات بھی ملے تھے… وہ کاغذات جن پر ابیہا کے اسکیچز بنے تھے… جیل میں راجا کے ننھے ہاتھوں سے بنائ گئ پانچ سالہ ابیہا کی تصاویر… جن سے ثابت ہو چکا تھا کہ یہ راجا ماضی کا ابتہاج ہی ہے… نفرت کی ایک شدید لہر اٹھی تھی ان کے سینے میں… آستین کا سانپ بن کر وہ ان کے نزدیک رہتے ہوۓ انہیں نقصان پہنچاۓ چلا جا رہا تھا اور اسد شیرازی… وہ اس پر اندھا اعتبار کیے دھوکا کھاتے چلے جا رہے تھے… یقیناً ابیہا بھی اس کی سچائ کے بارے میں جان چکی ہو گی تبھی اس کا رویہ ابتہاج کے ساتھ خاصا بہتر ہو چکا تھا… اسد شیرازی ان پیپرز کو پکڑے کسی گہری سوچ میں گم تھے…
ایڈووکیٹ شہباز درّانی سے ان کی ملاقات ہو چکی تھی… اور ان سے اس بات کی تصدیق بھی ہو چکی تھی کہ عبدالواحد نے ابیہا کو جو کچھ بھی بتایا وہ حرف بہ حرف سچ تھا…
وکیل انکل سے ہی اسے کنفرم معلوم ہو گیا تھا کہ اس کی جائیداد دس ہزار کروڑ ہی تھی… لیکن اسے اسد شیرازی نے فقط دو سو کروڑ بتائ تھی… وکیل صاحب نے جب بھی کسی کام کے سلسلے میں ابیہا سے ملنے کی کوشش کی تبھی اسد شیرازی نے کوئ نہ کوئ رکاوٹ کھڑی کر دی….. ان کے سامنے بھی اسد شیرازی نے اپنا اچھا روپ ہی ظاہر کیا تھا… نہ جانے کتنی بار وہ وکیل صاحب گھر بھی آ چکے تھے ابیہا سے ملنے لیکن ہر بار اسد شیرازی نے بہانے تراشے… کبھی یہ کہہ کر کہ ابیہا گھر نہیں…کبھی یہ کہہ کر کہ وہ سو رہی ہے…ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں… کبھی کوئ اور عذر…
تین بار تو راستے میں ہی ان کا ایکسیڈنٹ کروا دیا گیا تھا جس کے سبب وہ ابیہا تک پہنچ ہی نہ پاۓ… جو بھی ضروری کاغذات سائن کروانے ہوتے وہ اسد شیرازی وکیل صاحب سے خود لے جاتے… ابیہا سے سائن کرواتے اور انہیں واپس کر دیتے… کبھی اگر ابیہا کے ڈاکومنٹس یا تصاویر وغیرہ کی ضرورت ہوتی وہ بھی اسد شیرازی خود ہی اپنے بندوں کے ذریعے وکیل صاحب کو بھجوا دیتے… وکیل صاحب بھی خاموش ہو جاتے کہ روز بروز بزنس کی دنیا میں بڑھتے ان کے نام کو دیکھ کر ان سے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے… ان سے ہی ابیہا کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اسد شیرازی اب تک اس کی جائیداد میں سے پانچ سو کروڑ ہضم کر چکے ہیں… اس کے اخراجات کے نام پر…
اسے غصہ تو بہت آیا…لیکن ضبط کرتے ہوۓ اس نے وکیل صاحب سے صاف کہہ دیا کہ اگر اب اسد شیرازی ان سے کسی قسم کی کوئ رقم کا مطالبہ کریں تو انہیں صاف جواب دیا جاۓ… اگر رقم کی ضرورت ہو گی تو وہ خود آ کر لے جاۓ گی…
وہ لوگ وکیل صاحب کے گھر سے نکل رہے تھے جب راجا کی بے ساختگی میں اٹھی نگاہ ایک جانب گئ… ان کی گاڑی سے کافی فاصلے پر ایک سفید گاڑی کھڑی تھی جس میں بیٹھا آدمی گیٹ پر ہی نظریں جماۓ بیٹھا تھا… انہیں گیٹ سے نکلتے دیکھ کر اور راجا کی اپنی جانب اٹھی نظروں کو محسوس کر کے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوا تھا… اس کی بوکھلاہٹ اور بے چینی کو راجا نے اتنی دور سے بھی محسوس کر لیا تھا… وہ شخص ادھر ادھر دیکھتا انہیں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کسی کا انتظار کر رہا ہے… راجا نے خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کی… ابیہا پہلے ہی بیٹھ چکی تھی گاڑی میں…
گاڑی ڈرائیو کرتے ہوۓ راجا کی نظریں بیک ویو مرر پر ہی تھیں… ان کی گاڑی کے پیچھے دو گاڑیاں چھوڑ کر وہی سفید گاڑی آ رہی تھی جو وکیل کے گھر کے باہر تھی… یقیناً کوئ انہیں فالو کر رہا تھا… راجا نے لب بھینچتے ہوۓ گاڑی کی اسپیڈ بڑھائ… اس سفید گاڑی کے ڈرائیور نے بھی اسپیڈ بڑھا دی تھی…
راجا نے کچھ دیر بعد اسپیڈ سلو کی… پچھلی گاڑی بھی سلو ہو چکی تھی… تو اس کا شک صحیح نکلا… پیچھا کرنے والا کون تھا یہ تو وہ نہیں جان سکا…لیکن پہلے سے چوکنا ضرور ہو گیا تھا… البتہ ابیہا کو اس بارے میں کچھ بتانا اس نے مناسب نہ سمجھا کہ خوامخواہ پریشان ہوتی رہے گی وہ…
“ہیلو سر…”اسد شیرازی نے کال ریسیو کی تو دوسری طرف سے انہیں مخاطب کیا گیا تھا… “ہاں بولو… ” وہ ابھی تک راجا کے کمرے میں ہی تھے… “سر… جو تصویر آپ نے ای میل کی تھی وہ آدمی اور ساتھ آپ کی بیٹی اس وقت وکیل شہباز درانی کے گھر آۓ ہیں… میں بھی وہیں وکیل کے گھر کے باہر ہی موجود ہوں… ” ان کے خاص کارندے نے اطلاع دی تھی… ایک استہزائیہ مسکراہٹ نے اسد شیرازی کے چہرے کا احاطہ کیا… “ٹھیک ہے… نظر رکھو ان پر… وہاں سے نکل کر اور کس جگہ جاتے ہیں ہر بات کی خبر دیتے رہنا مجھے… ” کہہ کر کال ڈسکنکٹ کر دی گئ…
