Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15
اسد شیرازی تلملاتا ہوا ہاسپٹل میں داخل ہوا… جہاں میر حمدانی کے چند گارڈز جو اس حملے میں بچ گۓ تھے ایڈمٹ تھے… میر حمدانی کے جسم کے فقط چند ٹکڑے ملے تھے موقع واردات سے… اور آدھے سے زیادہ گارڈز بھی حملے کی ذد میں آ کر جان کی بازی ہار گۓ تھے… صرف چند افراد بچ پاۓ تھے جنہیں زخمی حالت میں ہاسپٹل لایا گیا تھا… اسد شیرازی کو جب سے معلوم ہوا تھا میر حمدانی کی موت کا وہ تب سے انگاروں پر لوٹ رہا تھا… اسے پورا یقین تھا کہ میر حمدانی کی موت کے پیچھے بھی اسی بلیک میلر کا ہاتھ ہے… وہ شدید طیش لے عالم میں وہ گارڈز کی وارڈ میں آیا… ” تم لوگ وہاں کیا کر رہے تھے ایڈیٹس… اتنے گارڈز کے ہوتے ہوۓ بھی وہ کوئ آیا… اور اتنی آسانہ سے مہر حمدانی کو ختم کر گیا… کیوں… ؟؟” اسد شیرازی گرجتے ہوۓ پوچھ رہا تھا… وہاں چھ گارڈز بیڈ پر پڑے تھے جن کے جسم کے متاثرہ حصوں پر پٹی بندھی تھی… دو گارڈز ایسے تھے جو قدرے بہتر حالت میں تھے… ایک گارڈ نے الف سے ی تک سارا واقعہ اسد شیرازی کو کہہ سنایا… “تم جیسے بے وقوف لوگ میں نے آج تک نہیں دیکھے… کیسے یوں کسی بھی آدمی پر بھروسہ کر سکتے ہو تم… جبکہ جانتے بھی ہو کہ ہمارا دھندا اس طرح کا ہے کہ جہاں ہر وقت موت کی مانند دشمن ہمارے تعاقب میں رہتے ہیں… ” اسد شیرازی دبی آواز سے غرایا… پریشانی کے باعث پیشانی مسلی… پہلے کیا کم مشکلات تھیں جو اب حمدانی کی موت کی فکر بھی سر پر آن پڑی… “سر میں نے ایک بار دبے لہجے میں سر سے کہا بھی تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر میری بات کو اگنور کر دیا کہ یہاں کوئ انہیں جانتا نہیں تو کسی کی ان سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے… دشمن تو کراچی میں ہیں نا سب… اور ویسے بھی وہ جو ڈاکٹر تھا اس نے کونسا خود آ کر گاڑی پیش کی تھی… ہم نے تو زبردستی اس سے گاڑی چھینی تھی… ورنہ وہ تو منتیں کر رہا تھا کہ اس کی گاڑی نہ لے جائیں… اس کے لہجے یا انداز سے ہمیں کسی قسم کا کوئ شک نہیں ہوا کہ اس نے گاڑی میں بم لگایا ہو گا… ” دوسرا گارڈ وضاحت دے رہا تھا… لفظ ڈاکٹر پر اسد شیرازی چونکا… “کون ڈاکٹر… کیا تم لوگوں نے اسے دیکھا… کیا اس کا چہرہ دیکھا… بتاؤ کون تھا وہ… کیسا دکھتا تھا… ” اسد شیرازی نے گارڈ کو جھنجھوڑتے ہوۓ پوچھا… کہ شاید اس سے اس بلیک میلر کا کوئ سراغ مل جاۓ… اگر وہی بلیک میلر ڈاکٹر کے روپ میں آیا تھا میر حمدانی کے سامنے تو یقیناً گارڈز نے بھی اس کی شکل دیکھی ہو گی… اور شاید اب اس تک پہنچنے کا کوئ راستہ مل جاۓ… اسد شیرازی آنکھوں میں امید لیے اس گارڈ کو دیکھا… جس کا سر نفی میں ہلنے لگا تھا… “نہیں سر… ہم نے اسے دیکھا نہیں… وہ گاڑی سے اتر کر ہمارے سامنے ضرور آیا تھا لیکن اس نے چہرے پر ڈاکٹرز کا ماسک پہن رکھا تھا… ہم اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکے… سر جلدی میں تھے اور ہمیں اس وقت صرف گاڑی سے مطلب تھا اس لیے اسے ماسک اتارنے کو بھی نہیں کہا… ہاں اس کی آنکھیں ضرور دیکھی تھیں… نیلے رنگ کی آنکھیں تھیں اس کی… بس… اس کے علاوہ ہم کچھ اور نہیں دیکھ پاۓ… “کہہ کر گارڈ نے سر جھکایا… اسد شیرازی نے غصے بھری نگاہوں سے اسے دیکھا… “ایڈیٹس… ” طیش سے اسے دھکا دیتا ہوا وہ جیسے آیا تھا آنأ فانأ وارڈ سے نکل گیا…
اسد شیرازی اپنے بنگلے میں لان میں بیٹھا منگنی کے فمکشن کے انتظامات کے سلسلے میں ہوٹل کے مینیجر کو خاص ہدایات دے رہے تھے… جونہی ہوٹل مینیجر وہاں سے نکلا اسد شیرازی نے صوفے کی بیک سے سر ٹیک کر آنکھیں بند کر لیں…ایک ہاتھ سے پیشانی مسلتا وہ خاصا پریشان لگ رہا تھا… تبھی اس کا فون بجنے لگا… تھکاوٹ بھرے انداز میں اسد شیرازی سیدھا ہوا… کال دیکھ کر گہری سانس بھری… پھر کچھ سوچتے ہوۓ کال ریسیو کی… “ہیلو… ” دور اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے راجا کی نظریں اسد شیرازی پر ہی مرکوز تھیں… اور فون کان سے لگا تھا… آواز بدلنے میں تو وہ ویسے بھی ماہر تھا تبھی تو اسد شیرازی اب تک یہ جان نہ سکا تھا کہ اسے بلیک میل کرنے والا شخص راجا ہی ہے… “کیا ہوا اسد شیرازی…؟؟ تھک گۓ… حالات سے لڑتے لڑتے…؟؟” لہجے میں طنز بھرا تھا… اسد شیرازی خاموشی سے سنتا رہا اسے… “ارے یاد آیا… حمدانی کی موت کا پتا چلا تھا مجھے… بہت افسوس ہوا اس کا سن کر… تمہارا بہترین دوست تھا نا… اسی بات پر دکھی ہو گے…. ہے نا… ” بظاہر لہجہ ہمدردانہ تھا لیکن اس میں چھپی کاٹ کو اسد شیرازی اچھی طرح محسوس کر سکتا تھا… “میں جانتا ہوں کہ حمدانی کو تم نے ہی مارا ہے… اور اب تک میرے بہت سے خاص آدمیوں کو مار چکے ہو… تم کون ہو میں نہیں جانتا… یہ سب کس لیے کر رہے ہو وجہ بھی نہیں معلوم… لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے سودا کر لو… جتنا پیسہ چاہیے لے لو… جو بھی چاہیے وہ مل جاۓ گا… بس وہ ویڈیوز… ” اسد شیرازی نے لہجہ نرم رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی… اب وہ دوسرے طریقے سے اس بلیک میلر کو گھیرنا چاہ رہا تھا… “واقعی…؟؟ جو میں کہوں گا دو گے مجھے… ؟؟” مقابل شاید اس بار اسد شیرازی کے چنگل میں پھنسنے کو تیار ہو گیا تھا… اسد شیرازی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری… ” ہاں ضرور… جو تم چاہو گے ملے گا… بولو کیا چاہیے تمہیں ان ثبوتوں کے بدلے میں… اور اپنی زبان بند کرنے کے لیے… ” اسد شیرازی کو معاملہ نمٹتا نظر آیا تو دل بھی ہلکا ہونے لگا… دوسری جانب چند لمحے خاموشی چھائ رہی… پھر اسپیکر سے آواز ابھری… “تو سنو اسد شیرازی… مجھے صرف اور صرف تمہاری بربادی چاہیے… جس طرح تم نے سینکڑوں لوگوں کا خون بہایا اسی طرح تمہاری رگ رگ سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینا ہی میری زندگی کا واحد مقصد ہے… اور تمہاری گنتی کے دن اب شروع ہو چکے ہیں… چاہے کچھ بھی کر لو… میرے عتاب سے تمہارا بچ پانا ناممکن ہے… ” لہجہ میں اتنی سرد مہری تھی کہ اسد شیرازی کا دل بھی کانپ کر رہ گیا… لائن منقطع ہو چکی تھی… بے جان ہوتے ہاتھوں سے فون پھسل کر نیچے جا گرا… پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے… راجا نے سلگتی نگاہوں سے کھڑکی کے پار اسد شیرازی کی غیر ہوتی حالت دیکھی…پھر کچھ سوچ کر دروازے کی طرف بڑھا… کچھ دیر بعد وہ لان میں اسد شیرازی کی طرف جا رہا تھا… “سر… اگر اجازت ہو تو آج میں اپنے ایک دوست کی طرف چلا جاؤں… آج ابیہا میم گھر میں ہی ہیں… کچھ دیر تک آ جاؤں گا… ” مؤدب لہجے میں کہتا وہ اسد شیرازی کو دیکھنے لگا جو خالی خالی نگاہوں سے اسے تک رہا تھا…”ہاں… کک…کیا کہا تم نے…؟؟” اپنے خیالوں میں گم اسد شیرازی شاید راجا کی بات نہیں سن ہایا تھا… راجا نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا… “ہاں ٹھیک ہے… جاؤ…” اسد شیرازی نے اجازت دی… راجا نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا… جانے کے لیے قدم بڑھاۓ لیکن پھر رک گیا… “کیا ہوا سر… آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں… ؟؟” اس نے اپنے لہجے میں حیرت سموئ… “نہیں کچھ نہیں… تم جاؤ… ” اسد شیرازی نے کہتے ہوۓ دوبارہ آنکھیں بند کیں… “سوچ لیں سر… ہو سکتا ہے میں آپ کی پریشانی میں کوئ مدد کر سکوں… یا کوئ بہتر مشورہ دے سکوں… میرے سب دوست بھی ہر کام کے لیے مجھ سے ہی مشورہ طلب کیا کرتے تھے… ” آخر میں راجا کا لہجہ محظوظ سا ہوا… اسد شیرازی نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا… چند لمحے اسے غور سے دیکھا… اس کی باتوں پر غور کیا… یہ وہ شخص تھا جس نے اب تک اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے نبھائ تھی… اس سے اب تک اسد شیرازی کو کوئ شکایت نہ ہوئ تھی… اس سے پہلی ملاقات کا منظر اسد شیرازی کی نگاہوں میں گھوم گیا جب وہ اکیلا درجن بھر افراد کی دھلائ کر رہا تھا… یقیناً یہ اسد شیرازی کی مدد کر سکتا تھا… نہ جانے کیا سوچ کر اسد شیرازی نے اپنا معاملہ اس سے ڈسکس کرنے کا ارادہ کیا… “ہاں… ایک مسئلہ تو ہے… اور مجھے لگتا ہے کہ تم اس مسئلے کو حل کر سکتے ہو… ” اسد شیرازی سوچتی نظروں سے اسے دیکھتا قریب چلا آیا… ” میری خوش نصیبی ہو گی سر… ویسے بھی آج کل پیسوں کی بھی کچھ ضرورت آن پڑی ہے… ” راجا مے درِپردہ اسے یہ احساس بھی دلا دیا کہ وہ اسد شیرازی کا یہ کام کرنے کے لیے اضافی رقم بھی لے گا… “پیسے تمہیں مل جائیں گے… جتنے چاہو اتنے…بس میرا یہ مسئلہ حل کر دو… ” اسد شیرازی کی بات پر راجا کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ ابھری… “مسئلہ بتائیے سر… اور بے فکر ہو جائیے… راجا آپ کی مشکلات دور کرنے کے لیے اپنی جان پر کھیل جاۓ گا… کیونکہ میں… پیسوں کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں… ” اسد شیرازی بھی اس کے لالچی پن پر مسکرا دیا… “مسئلہ اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے… معاملہ بہت گھمبیر ہے… اصل میں میں نے اس مقام پر پہنچنے کے لیے بہت محنت کی ہے… دن رات ایک کر دیئے تب جا کر اس بلندی پر پہنچا ہوں کہ آج ساری دنیا مجھے جانتی ہے… میرا ایک نام, ایک پہچان بن چکی ہے… اور یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ اتنی شہرت,اور بلندی صرف محنت سے ہی نہیں آ جاتی… اس مقام تک آنے کے لیے سب کی طرح میں نے بھی کچھ غلط کام کیے ہیں… چند ایک لوگوں کا خون بھی کیا جو کہ مجھے مجبوراً کرنا پڑا… لیکن اب میرے خلاف کچھ ثبوت ایک شخص کے ہاتھ لگ گۓ ہیں جو اگر میڈیا کے سامنے آ گۓ تو مجھے تباہ و برباد کر دیں گے… وہ شخص مجھے مسلسل بلیک میل کر رہا ہے… میں نے کچھ پروفیشنل غنڈے بھیجے اس کو ختم کرنے کے لیے لیکن اس شخص نے ان سب کے ساتھ نہ جانے کیا کیا کہ ان میں سے ایک بھی واپس نہیں آیا… ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی اس مسئلے کے حل کے لیے… اسے لالچ بھی دیا لیکن کسی طرح وہ ہاتھ آنے کو تیار ہی نہیں… صرف ایک ہی مقصد ہے اس کا… میری تباہی… آگے کھائ پیچھے کنواں کی مانند میں پھنس کر رہ گیا ہوں… تم ہی بتاؤ میں کیا کروں… ؟؟” اسد شیرازی نے الجھن بھرے انداز میں بالوں میں ہاتھ پھیرا… “لمبی تان کر سو جائیں…” راجا نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا… اسد شیرازی نے حیرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا… “مطلب…؟؟” لہجے سے الجھن واضح تھی… “میرا مطلب ہے سر… کہ آپ بے فکر ہو کر اپنا کام کیجیے… اور اپنی یہ ٹینشن مجھے دے دیجیے… میں جانوں اور وہ بلیک میلر جانے… صرف دو دن میں آپ کو اچھ خبر سننے کو ملے گی… ” راجا کا اعتماد بھرا لہجہ دیکھ کر اسد شیرازی کے چہرے پر بھی اطمینان بھری مسکراہٹ ابھری… نہ جانے کیوں اسے بھروسہ تھا راجا پر کہ وہ جو کہتا ہے کرتا ضرور ہے… “پانچ دن بعد ابیہا کی منگنی ہے… امید ہے… اس سے پہلے تم میرا یہ مسئلہ حل کر دو گے… اور ہاں تمام ثبوت مٹانے کے بعد تمہیں تمہاری منہ مانگی رقم دے دی جاۓ گی… ” اسد شیرازی کہتے ہوۓ وہاں سے چلا گیا جبکہ راجا اس کے الفاظ پر الجھ کر رہ گیا… “ابیہا کی منگنی…؟؟ لیکن کس سے…؟؟” اس کے لہجے میں حیرت تھی… کہ ابھی کچھ دن پہلے تو وہ راجا سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی اور اب اتنی جلدی منگنی…کسی اور سے… ؟؟ “خیر مجھے کیا…” چند لمحوں بعد سر جھٹک کر وہ اسد شیرازی کے بنگلے سے نکل گیا… اپنے کچھ ضروری کام نمٹانے کے لیے… اب اسے اسد شیرازی کا بھروسہ جیت کر اس کے خاص آدمیوں میں شامل ہونا تھا… تا کہ اس کے کالے کارناموں کا راز فاش کر سکے…
“دیکھیں نا ڈیڈ… آپ کی اینجل کتنی بد نصیب ہے… جس کی قسمت میں کسی کی محبت نہیں… بچپن میں ہی آپ اور مما چھوڑ گۓ مجھے… تنہا, بالکل اکیلی… یہ بھی نہ سوچا کہ آپ کی لاڈلی کے ساتھ دنیا کیا کرے گی… مجھے بھی ساتھ ہی لے جاتے نا… اگر… اگر اسد شیرازی انکل نہ ہوتے… تو کون سنبھالتا مجھے… کیسے جیتی میں یہاں… آپ کے بعد انہوں نے مجھے باپ کا پیار دیا… میری حفاظت کی… اور بڑے ہوتے ہی ان کے دشمن میری جان کے پیچھے پڑ گۓ… کاش میں تب ہی مر جاتی… لیکن نہیں… انکل کو میری فکر تھی… انہوں نے میرے لیے گارڈز رکھے… اور پھر..
وہ آیا میری زندگی میں… میرے گارڈ کی حیثیت سے… جس سے میں خار کھاتی تھی… چڑ ہوتی تھی مجھے اس سے… لیکن پھر پتا ہی نہ چلا کہ کب یہ چڑ, یہ نفرت محبت میں بدلی..
مجھے وہ اچھا لگنے لگا تھا ڈیڈ… لیکن اس میں میری کوئ غلطی نہیں تھی… کیونکہ وہ ہے ہی اس قابل کہ اسے چاہا جاۓ… یقیناً جو بھی لڑکی اس کی زندگی میں آۓ گی خوش قسمت ترین ہو گی… لیکن آپ کی بیٹی کی قسمت اتنی اچھی نہیں تھی بابا… میں تو شروع سے بدقسمت ہی رہی… پہلے آپ دونوں میرے پاس تھے لیکن اپنی بدنصیبی کے باعث آپ کو کھو دیا… پھر سالوں بعد کسی کو اپنے دل کے قریب محسوس کیا تو میری بد نصیبی کا سایہ اس پر بھی پڑ گیا… اس نے بھی مجھے ٹھکرا دیا ڈیڈ… میری عزت نفس, میری انا کو اور میرے وجود کو ریزہ ریزہ کر دیا… کیسے چنوں میں اپنے وجود کے ان ٹکڑوں کو… کیسے یکجا کروں خود کو… اپنے روتے کرلاتے دل کے بین نظر انداز کر کے خود سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کے بغیر زندگی میں آگے بڑھوں گی… خوش رہوں گی… لیکن…ہر گزرتے دن کے ساتھ وحشت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے… یوں جیسے کوئ میرے دل کو اپنے بھاری جوتے تلے مسل رہا ہو…خوشی تو دور کی بات… میں تو ایک مسکراہٹ تک کو ترس گئ ہوں… اس کو سامنے پاتی ہوں تو خود کو بے بسی کی انتہاؤں پر محسوس کرتی ہوں… اسے نہیں دیکھتی تو دل ویرانی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے… میراخود پر کوئ زور نہیں…دل بے بسی کے شکنجوں میں جکڑا ہے…کسی اور سے منسوب ہونے کا خیال آتے ہی دل رکنے لگتا ہے… آپ ہی بتائیں ڈیڈ…میں کیا کروں… کیا کروں کہ مجھے سکون مل جاۓ… کیا کروں کہ میرے دل سے اس کا نام ہمیشہ کے لیے مٹ جاۓ… “رات کی تاریکی میں جب سب اپنے اپنے کمروں میں سکون کی نیند سو رہے تھے ایسے میں وہ عشق کی ماری اپنے ڈیڈ اور مما کی تصویر ہاتھ میں پکڑے گھٹنوں میں سر دئیے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی… تڑپ رہی تھی اذیت سے… لیکن کون تھا جو اس کی اس تکلیف کا مداوا کرتا… اسے سنبھالتا…اس کے اشک پونچھتا…؟؟؟
سنا ہو گا کسی سے درد کی ایک حد ہوتی ہے…
ملو ہم سے کہ ہم اکثر اس حد کے پار جاتے ہیں…
___________
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی دوستی مزید گہری ہوتی جا رہی تھی…
ڈرائیور نے اینجل کے ڈیڈ مراد بخاری کو راجا اور اینجل کی دوستی کے بارے میں سب بتا دیا تھا… مراد بخاری تھوڑے پریشان تو ہوۓ تبھی فورأ اینجل کو اپنے پاس بلایا… اور اینجل نے ڈیڈ کے پوچھنے پر راجا کے بارے میں انہیں سب کچھ بتا دیا…
“بیٹا…آپ سے کہا تھا نا… یوں کسی اجنبی پر بھروسہ نہیں کرتے…. نہ جانے وہ کون ہے… کیا مقصد ہے اس کا… کہیں آپ کو کوئ نقصان پہنچا دیا اس نے تو…؟؟ اچھی لڑکیاں یوں ہر کسی سے دوستی نہیں کر لیتیں… ” مراد بخاری نے نرم اور محبت بھرے لہجے میں اینجل کو سمجھانے کی کوشش کی…
اس وقت وہ اسٹڈی روم میں ان کی کرسی کے سامنے رکھی بڑی سی اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی تھی… گلابی رنگ کی پھولی ہوئ فراک میں گلابی تمتماتے گالوں کے ساتھ باربی ڈول کی طرح دکھتی وہ کسی کا بھی دل موہ لینے کا ہنر رکھتی تھی…
مراد بخاری کی بات پر اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کے پیالے میں ان کا چہرہ تھاما… “ڈیڈ… آپ نے یہ بھی تو کہا تھا نا… کہ ہمیں غریبوں کی مدد کرنی چاہیے… اور یہ بھی کہ جو اچھے ہوتے ہیں اللّہ ان کے چہروں پر نور بکھیر دیتا ہے… وہ غریب ہے ڈیڈ… اور اللّہ نے اس کے چہرے پر بھی نور بکھیرا ہے… مجھے نظر آتا ہے وہ نور…اس کا مطلب یہی ہوا نا… کہ وہ بھی اچھا ہے… ” معصوم سے لہجے میں کہتی وہ اپنی عمر سے بڑی باتیں کرنے لگی تھی… مراد بخاری کو بے ساختہ اس پر پیار آیا…
“آپ کی بات بھی ٹھیک ہے بیٹا… لیکن ابھی آپ اتنی سمجھدار نہیں ہوئیں کہ انسان کے چہرے سے اس کی اچھائ یا برائ کی پہچان کر سکیں… ” مراد بخاری نے لاڈ سے اس کے پھولے پھولے گال کھینچے…
“لیکن ڈیڈ… وہ بہت اچھا ہے… آپ کو پتا ہے… وہ میرا بیسٹ فرینڈ بن چکا ہے… پکا والا دوست… اتنی پکی دوستی تو ابھی تک کسی کلاس فیلو سے بھی نہیں ہوئ میری…وہ میری ہر بات سنتا ہے… ہر بات مانتا ہے… اچھے لوگ ایسے ہی تو ہوتے ہیں… ” اس نے اپنی عمر کے مطابق ہی اچھے اور برے لوگوں میں فرق کرنے کا فارمولا بتایا…
“اچھا جی… تو کیا ہم آپ کے بیسٹ فرینڈ نہیں ہیں… ؟؟” مراد بخاری نے اسے اپنی گود میں بٹاتے ہوۓ مصنوعی ناراضگی سے پوچھا…
“آپ بھی ہیں نا… لیکن وہ زیادہ والا بیسٹ فرینڈ ہے… ” اینجل معصومیت سے کہہ گئ…
مراد بخاری نے قہقہہ لگایا تھا اس کی بات پر… “اوکے مائ لٹل پرنسس… تو کیا ہمیں آپ کے اس بیسٹ فرینڈ سے ملنے کا شرف حاصل ہو سکتا ہے…؟؟” مراد بخاری نے اس کے بال بگاڑے…
“ڈیڈ… یہ شرف کیا ہوتا ہے…؟؟” اینجل کا دھیان مراد بخاری کے بولے گۓ ایک لفظ میں اٹکا…
“ہمارا مطلب ہے کہ ہماری اینجل ہمیں اپنے بیسٹ فرینڈ سے کب ملوا رہی ہے…؟؟” مراد بخاری نے اس کی مشکل آسان کی…
“جب آپ چاہیں ڈیڈ… ایسا کرتے ہیں… کل آپ مجھے اسکول سے لینے آئیے گا… پھر میں آپ کو اپنے فرینڈ سے ملواؤں گی… ” جوش سے کہتے ہوۓ اس نے آنکھوں کے سامنے آتے بال ہٹاۓ…
” اوکے پرنسس… کل ٹائم نکال کر آپ کو لینے آئیں گے ہم… اب آپ جا کر اپنا ہوم ورک کیجیے… ڈیڈ کو بھی کچھ کام کرنا ہے… ” مراد بخاری نے اسے گود سے اتارا…
“اوکے…باۓ ڈیڈ… ” ان کے گال پر بوسہ دیتی وہ باہر بھاگ گئ… جبکہ مراد بخاری کچھ سوچتے ہوۓ اٹھے اور ایک ریک میں ترتیب سے سجی فائلز میں سے کوئ فائل ڈھونڈنے لگے…
“یہ لیں سر… آپ کے خلاف جو بھی ثبوت تھے وہ اس ٹیب میں ہیں… چیک کر سکتے ہیں آپ… اور اس بلیک میلر کا نام آصف خان تھا… غالباً اس کا باپ شاہد خان آپ کے ساتھ کوئ کام کرتا تھا اور اس کی کسی غلطی پر آپ نے اسے ختم کر دیا تھا اور اس کی بیوی کو گھر سے اٹھوا لیا تھا… آصف خان ان کی واحد اولاد تھا…اور سوفٹ وئیر انجینیر بھی… وہ اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لیے ہی آپ کے پیچھے لگا تھا اور بالآخر اس نے آپ کے خلاف چند ثبوت ڈھونڈ نکالے… ویسے آپ فکر مت کریں… میں اسے بھی ختم کر آیا ہوں… اور اس ٹیب کے علاوہ اور جتنی کاپیز اس نے کروا رکھی تھیں ان ثبوتوں کی, وہ سب بھی ضائع کر دی ہیں… “
ٹھیک دو دن بعد راجا اسد شیرازی کی خدمت میں حاضر ہوا تھا… اور فخر سے اپنا کارنامہ بیان کیا تھا… اسد شیرازی کی نظروں میں شاہد خان کا چہرہ گھوم گیا… واقعی ایک ذرا سے جھوٹ پر اسد شیرازی نے اسے ختم کر کے اس کی بیوی کو گھر سے اٹھوایا تھا اور اپنے بندوں کے حوالے کر دیا تھا… جسے انہوں نے اپنی حوس کا نشانہ بنایا اور مار کر کہیں پھینک دیا تھا… اس کا بیٹا آصف ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا تبھی بچ گیا اور بعد میں اسد شیرازی نے اس معاملے کو کوئ خاص توجہ نہ دی…
اسد شیرازی نے اضطرابی حالت میں وہ ٹیب پکڑا… اور اس میں سے کچھ چیک کرنے لگا… واقعی… اس میں کچھ اصل ویڈیوز بھی موجود تھیں جنہیں بعد میں ایڈٹ کیا گیا تھا… اور وہی ایڈٹ ویڈیوز وہ بلیک میلر بار بار اسد شیرازی کو بھیجتا رہا تھا… اب اس بات میں کوئ شک نہیں رہا تھا کہ راجا سچ کہہ رہا ہے….
“لیکن… مارا کیوں اسے… میرے سامنے لاتے… میں اپنے ہاتھوں سے اسے مارتا… کیسے مارا اسے… کہاں پھینکا… ؟؟” اسد شیرازی کے لہجے میں بے تابی سی تھی…
