Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07
وہ بلیو جینز پر ریڈ شارٹ شرٹ پہنے ٹک ٹک کرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی… گلاسز شرٹ کے گلے میں اٹکا رکھے تھے… ہونٹوں پر ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگاۓ کمر سے نیچے آتے کھلے بالوں میں اس کا حسن مزید دو آتشہ ہو گیا تھا…اس کے پیچھے ملازمہ اس کا بیگ اٹھاۓ چلی آ رہی تھی…جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے لیے نکل رہی ہے… لاؤنج سے نکل کر وہ پورچ میں آئ…”یہ سب کہاں چلے گۓ… ” اپنے گارڈز کو وہاں نہ پا کر وہ بڑبڑائ… کہ اس سے پہلے ہی اس کے گارڈز کی گاڑی تیار ہوتی تھی… “جہاں بھی گۓ… اچھا ہوا… جان چھوٹی…” خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتی وہ مسرور سی گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی…”ابیہا… ” وہ گاڑی میں بیٹھنے ہی لگی تھی جب ڈیڈ کی آواز پر رک گئ… اسد شیرازی لان میں چلتے ہوۓ اس کی جانب آ رہے تھے… ان کے ساتھ کوئ اور بھی تھا… ابیہا نے آنکھیں سیکڑ کر دیکھا… “اوہ…” لبوں سے برآمد ہوا… “یہ تو وہی ہے جس نے اس دن میری جان بچائ… لیکن یہ یہاں کیسے…. ؟؟” خود کلامی کے سے انداز میں وہ ان دونوں کو اپنے نزدیک آتے دیکھتی رہی… “گڈ مارننگ ڈیڈ…” اسد شیرازی کے آتے ہی وہ ان کے قریب ہوئ… “مارننگ… کیسا ہے ہمارا بیٹا…” اسد شیرازی نے اسے بازو کے حصار میں لیتے ہوۓ اس کے ریشمی بالوں پر بوسہ لیا… جبکہ راجا باپ بیٹی کے پیار سے بے نیاز پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھساۓ بے نیاز سا نظریں جھکاۓ کھڑا تھا… دایاں پیر مسلسل ہل رہا تھا…”فائن ڈیڈ… آپ اس وقت یہاں… آپ تو آفس میں ہوتے ہیں اس ٹائم…” ابیہا نے ایک نظر اس بے نیاز سے انسان پر ڈالی جیسے اس کی یہاں موجودگی کا سبب جاننا چاہ رہی ہو…. “ہاں بیٹا… کچھ بات کرنی تھی تم سے… اس سے ملو… یہ راجا ہے…” اسد شیرازی راجا کی جانب متوجہ ہوۓ… ان کی بات پر راجہ نے صرف ایک پل کو نظر اٹھا کر ابیہا کو دیکھا اور پھر نظریں گھما کر ارد گرد دیکھنے لگا… جیسے اسے اس ماحول سے اور اس بات چیت سے کوئ سروکار نہ ہو… “یس ڈیڈ…. میں پہلے اس سے مل چکی ہوں… لیکن یوں تعارف کروانے کا مطلب…؟؟” ابیہا کو کچھ کھٹکنے لگا تھا اسد شیرازی کے انداز سے… “مطلب یہ ہے بیٹا کہ اسے میں نے اپائنٹ کر لیا ہے آپ کے باڈی گارڈ کے طور پر…. اور امید ہے اس کے ہوتے ہوۓ کوئ تمہیں چھو بھی نہیں سکتا… ” اسد شیرازی کی بات پر ابیہا کے منہ کے زاویے بگڑے…. “اف ڈیڈ… پھر سے وہی گارڈز… وہ چار پہلوان کم تھے کیا… جو ایک اور… ” غصے بھری نگاہ راجا پر ڈالی جو ابھی تک ویسا ہی بے نیاز سا کھڑا تھا… ” ابیہا… بری بات ہے… آپ کو ان چاروں سے شکایت تھی… اب وہ آپ کے ساتھ نہیں ہوں گے… راجا کے ہوتے ہوۓ ان کی ضرورت ہی نہیں… ” اسد شیرازی کی بات پر جہاں اس کا دل تھوڑا مطمئین ہوا کہ اب ان چار عدد موٹے موٹے پہلوانوں سے جان چھوٹے گی وہیں اس نئ مصیبت یعنی راجا کی وجہ سے اس کا منہ بن گیا… آخر ایسا بھی کیا تھا اس شخص میں کہ ڈیڈ یوں اندھا بھروسہ کر رہے اس پر… عجیب و غریب منہ بناتی وہ سوچ رہی تھی… ‘چلو خیر…. ان چاروں کو میں چکما دے جاتی تھی… یہ تو پھر ایک ہے… دیکھنا ایسا مزہ چکاؤں گی کہ خود ہی یہ جاب چھوڑ کر بھاگ جاۓ گا… ناک میں دم کر دوں گی اس کے…. ‘ اپنی سوچوں میں گم وہ خطرناک پلان بنا رہی تھی جب اسد شیرازی کی آواز پر چونکی… “آج سے اور ابھی سے یہ آپ کا گارڈ ہے… اور اس کے ساتھ کوئ مس بی ہیو مت کرنا…. انڈر سٹینڈ…” نرم لہجے میں وہ وارن کر رہے تھے… “شیور ڈیڈ… ” بظاہر مسکراتے ہوۓ وہ دانت پیس کر رہ گئ… “آپ دوسری جانب جا کر بیٹھیے… ڈرائیو میں کروں گا…” وہ اپنی کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے ہی والی تھی جب خشک سی آواز سنائ دی… ابیہا حیرت زدہ رہ گئ… ایک جھٹکے سے مڑی…”کیا کہا…؟؟” اسے لگا اسے شاید سننے میں غلطی ہوئ ہے… “ڈرائیو میں کروں گا…” مختصر الفاظ میں راجا نے اپنی بات دہرائ… “ایکسکیوزمی… یہ میری گاڑی ہے… تم دوسری گاڑی میں مجھے فالو کرو گے… سمجھے…” ترش لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے راجا کو اس کی اوقات یاد دلانا چاہی… “راجا کسی کو فالو نہیں کرتا… آپ کے ڈیڈ سے پہلے ہی بات ہو چکی ہے میری اس بارے میں…” سپاٹ انداز میں کہتا وہ ابیہا کا خون جلا گیا… “ڈیڈ…” ابیہا احتجاجاً اسد شیرازی کی جانب گھومی… “ابیہا…. اسے ڈرائیو کرنے دو… تمہاری سیفٹی کے لیے ضروری ہے…” اسد شیرازی نے قطعی لہجے میں کہا تھا… راجا نے اس کام کے لیے واحد شرط یہی رکھی تھی کہ وہ ابیہا کی گاڑی میں ہی سفر کرے گا اور ڈرائیو بھی خود کرے گا… اس فیصلے کے خلاف ہونے کے باوجود اسد شیرازی کو اس کی شرط ماننا ہی پڑی تھی… “بٹ ڈیڈ…” ابیہا ناراض سی کہہ رہی تھی… جب اسد شیرازی گویا ہوۓ… “ابیہا… آئ تھنک اب آپ لوگوں کو جانا چاہئیے… یونیورسٹی سے دیر ہو رہی ہے… ” کہہ کر اسد شیرازی اندر کی جانب بڑھ گۓ… “اف…. آج کا تو دن ہی خراب ہے…” وہ غصے سے جلتی, کلستی, بڑبڑاتی ہوئ راجا کے برابر والی سیٹ پر آ بیٹھی…. اس کے بیٹھتے ہی راجا نے گاڑی اسٹارٹ کر دی… اور بغیر اس کی جانب دیکھے آگے بڑھا۔۔
_________
بہت سی جگہوں پر دھکے کھاتے ہوۓ وہ دونوں اب نڈھال سے ایک گاؤں سے باہر نکلتی کچی سڑک پر سر جھکاۓ بیٹھے تھے…
بھوکے پیاسے, روٹی کے ایک نوالے کو بھی ترستے ہوۓ… انہیں تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کس جگہ اور کس گاؤں میں ہیں… “بھیا… تم گھر سے کیوں بھاگے…؟؟” گڈی روتے ہوۓ ہچکیوں کے درمیان شکایت بھرے انداز میں اس سے پوچھ رہی تھی… راجا نے بے بسی بھری نگاہ اس پر ڈالی اور ہاتھ میں پکڑے تنکے کی مدد سے پھر زمین پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچنے لگا… اس کا نچلا ہونٹ سوجھا ہوا تھا اور بائیں آنکھ سے ذرا نیچے رخسار پر نیل نظر آ رہا تھا جو صبح کی لڑائ کا نتیجہ تھا… اس کی طرف سے کوئ جواب نہ پا کر گڈی گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئ… اس کے الجھے بکھرے بھورے بال اب گردن سے چپک رہے تھے… اردگرد اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا… راجا ڈھلتے ہوۓ نارنجی سورج کو دیکھنے لگا… یہ سورج ان کی زندگی میں کبھی روشنی لے کر طلوع نہیں ہوا تھا… ان کی زندگیوں میں بھی فقط اندھیرے ہی اندھیرے تھے… کاش کوئ جگنو کی مانند ان کی راہوں کی روشنی بن جاۓ… کاش کوئ معجزہ ہو اور پلک جھپکتے میں ان کی زندگیاں بدل جائیں…. جہاں وہ دونوں بھی باقی بچوں کی طرح اپنا بچپن بھرپور طریقے سے گزار سکیں… وہ آنکھوں میں ویرانی لیے سوچتا چلا جا رہا تھا… جب کچھ آوازوں پر چونکا… جھٹکے سے گردن موڑی… ان کے پیچھے کھیتوں کے درمیان تین نوجوان لڑکے کچھ کہتے ہوۓ, قہقہے لگاتے اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ان کی جانب بڑھ رہے تھے… راجا کے وجود میں سرد سی لہر دوڑ گئ… اس نے عجیب سے احساسات لیے گڈی کی جانب دیکھا جو کبھی راجا کو اور کبھی ان لڑکوں کو دیکھتی… “چل… جا کر دیکھتے ہیں… کہاں سے آۓ ہیں یہ… ارے… یہ تو لڑکے کے ساتھ لڑکی بھی ہے… اور ہے بھی بڑی پیاری… معصوم سی…” جملے تو عام سے تھے لیکن نہ جانے کیوں راجا کو ان کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے… “چل گڈی…” عجلت بھرے انداز میں کہتے ہوۓ اس نے گڈی کو بازو سے گھسیٹا اور تیز تیز سڑک پر چلنے لگا… گہرے گہرے سانس لیتا وہ بار بار مڑ کر دیکھ رہا تھا… “ابے رک… کدھر جا رہا ہے سالے… ” وہ تینوں گھٹیا انداز میں کہتے ان کے پیچھے ہی آ رہے تھے… ویران سنسان سی سڑک تھی… راجا کو ایک دم بے تحاشا خوف نے گھیر لیا… وہ دونوں چھوٹے تھے اور اس ویران جگہ سے انجان اور اکیلے… وہ تینوں یہاں ان کے ساتھ کچھ بھی کرتے تو کسی کو خبر تک نہ ہوتی… اور سب سے بڑھ کر اس کے ساتھ اس کی بہن تھی… وہ اگر اس کی بہن کو لے جاتے تو وہ اکیلا ان کا کیا بگاڑ لیتا…. اسی سوچ نے اسے ٹھٹھرا کر رکھ دیا… وقت اور حالات نے اسے اس کی عمر سے کہیں بڑا بنا دیا تھا…وہ ان نزاکتوں کو بھی سمجھنے کے قابل ہو چکا تھا جو اس کی عمر کے بچے نہیں سمجھ سکتے… تیز تیز قدموں سے چلتے ہوۓ اس نے گردن موڑی… وہ تینوں مغلظات بکتے اب ان کے قریب پہنچ چکے تھے… “کہاں تک بھاگے گا… یہ ہمارا علاقہ ہے… ایسے بچ کے تو نہیں جانے دیں گے تم دونوں کو…” ان میں سے ایک بولا… اور جھپٹ کر گڈی کو پکڑنا چاہا… “بھاگ گڈی…” راجا نے اپنی پوری ہمت مجتمع کی اور دوڑ لگا دی… گڈی سہمی ہوئ سی اس کے ساتھ گھسٹتی ہوئ جا رہی تھی…”اوۓ سلیم… پکڑ ان دونوں کو…” ایک لڑکا بولا اور ساتھ ہی پیچھے سے بھی بھاگتے قدموں کی آوازیں آنے لگیں… گڈی کے رونے کی اوازیں بلند ہونے لگیں… وہ ننھے قدموں سے بھاگتے ہوۓ اونچی آواز میں رو رہی تھی… اس کے رونے کی آواز اندھیرے میں کافی دور تک سنائ دے رہی تھی… کچھ ہی فاصلہ طے ہوا تھا جب گڈی ٹھوکر کھا کر گری… راجا کے ہاتھ سے اس کا ہاتھ چھوٹ گیا…”آہ… بھیا… ” روتے ہوۓ گڈی کے منہ سے کراہیں بلند ہوئیں… راجا تیزی سے اس کے پاس آیا… لیکن تب تک پیچھے آتے ہوۓ بھیڑیے ان کے سر پر پہنچ چکے تھے… گڈی کے ہاتھ کی انگلی سے پھر خون نکلنے لگا تھا… راجا نے بے بسی سے گڈی کی جانب دیکھا اور پھر اپنے پیچھے موجود ان شیطانوں کو جو لبوں پر خباثت بھری مسکراہٹ لیے انہیں ہی تک رہے تھے… “اب کہاں جاۓ گا بھاگ کر… بڑی ہمت ہے تجھ میں… اچھااااااا بہن کی فکر ہو رہی تھی… ہمیں بھی بڑی فکر ہے تمہاری بہن کی… ارے ارے ارے… کیا ہوا بے بی کو… کیوں رو رہی ہو… ؟؟ ” ان میں سے ایک لڑکا سلیم گھٹنوں کے بل ان دونوں کے قریب بیٹھا اور اپنے ہاتھ سے گڈی کے رخسار کو چھونا چاہا جب راجا نے اس کا ہاتھ گڈی کے چہرے تک جانے سے پہلے ہی جھٹک دیا… “ہاتھ مت لگانا میری بہن کو…” نفرت بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا… وہ لڑکا حیران سا اسے دیکھنے لگا… جب دوسرا لڑکا آگے بڑھا…”ابے…. چھٹانک بھر کا ہے تو… بہن کی عزت کا بڑا پتا ہے…ایک تھپڑ کھاۓ گا تو سات دن ہوش نہیں آنا تجھے… یہ لے لگایا ہاتھ تیری بہن کو… کیا کر لے گا… ” اس نے گڈی کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنی جانب گھسیٹنا چاہا جس پر گڈی چینخ اٹھی تھی… راجا نے پوری قوت سے اس لڑکے کے بازو پر دانتوں سے کاٹا جس سے وہ بلبلاتا ہوا گڈی کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہٹا… راجا نے گڈی کو کھینچ کر کھڑا کیا… گڈی ڈرتی ہوئ اس کے پیچھے چھپ گئ… وہ لڑکا ابھی تک اپنا بازو سہلا رہا تھا… “لے بیٹا پہلے تیرا کام تمام کرتے ہیں… اس کے بعد نمٹیں کے تیری بہن سے… “دوسرے دونوں طیش میں آتے ان کی جانب بڑھے… ان کے درمیان دو قدم کا فاصلہ تھا جب راجا نے اپنی کمر کے پیچھے چھپایا ہاتھ سامنے کیا اور اس میں پکڑا تھوڑا بڑے سائز کا پتھر پوری قوت سے اس لڑکے سلیم کی آنکھ پر دے مارا… پتھر نشانے پر لگا تھا… وہ لڑکا آنکھ پکڑے دہرا ہوتا چلا گیا… جبکہ اس کے ساتھی بھی بوکھلا کر اس کی جانب متوجہ ہوۓ… راجا نے موقع غنیمت جانا اور گڈی کا ہاتھ تھامے ایک بار پھر بھاگ اٹھا… اس بار گڈی نے بھی پوری ہمت دکھائ تھی کہ اگر اب وہ پکڑے جاتے تو انہیں کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہوتا شاید… وہ لڑکے اب اپنے ساتھی کو زخمی حالت میں چھوڑ کر ان کے پیچھے تو جا نہیں سکتے تھے اسی لیے ہاتھ مسل کر رہ گۓ… کچھ دور جا کر گڈی اور راجا کو مختلف گھروں سے نکلتی روشنیاں دکھائ دیں تو جان میں جان آئ… وہ لوگ غالباً اگلے گاؤں کے قریب پہنچ گۓ تھے… اور کم از کم یہاں تنہائ اور ویرانی کا فائدہ اٹھا کر کوئ انہیں اپنی درندگی کا شکار تو نہیں بناتا… یہی سوچ کر راجا اس گاؤں میں داخل ہو گیا… اور ایک جانب کھنڈر نما گھر کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا… گڈی اس کے بازو سے چپکی ابھی تک لرز رہی تھی… راجا نے اسے اپنے بازو کے حصار میں لیا… “سو جا گڈی… میں ہوں نا… کچھ نہیں ہو گا تجھے… ” اس کا سر تھپکتا وہ نڈھال سا اپنا سر بھی دیوار سے ٹکا گیا… خوف کی حالت میں بھوک پیاس سب احساس کہیں دور جا سوۓ تھے… چند لمحوں بعد گڈی اس کے کندھے پر سر رکھے نیند کی آغوش میں جا چکی تھی جبکہ راجا ساری رات ایک پل کے لیے سو نہ سکا…
یونیورسٹی کی پارکنگ میں جا کر راجا نے گاڑی روکی… اور ابیہا کے اترنے کا انتظار کرنے لگا… ابیہا گاڑی سے اتری تو راجا بھی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا… بلیک جینز پر مسلز کو نمایاں کرتی سفید ہاف سلیوز ٹی شرٹ پہنے وہ کئ لڑکیوں کی نگاہوں کا مرکز بنا تھا… گلاسز اتار کر اس نے ڈیش بورڈ پر رکھے اور ابیہا کی طرف آیا… “ایسے منہ اٹھاۓ کیا کھڑے ہو… میرا بیگ اور بکس اٹھاؤ اور کلاس میں چھوڑ کر اٹھاؤ… ” نخوت سے کہتی وہ آگے بڑھ گئ… ابھی دو قدم ہی اٹھاۓ تھے جب اسے رکنا پڑا… “میں آپ کا باڈی گارڈ ہوں… باڈی مین نہیں… آپ کے اپنے ہاتھ سلامت ہیں… یہ کام آپ خود کر سکتی ہیں…” پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھساۓ وہ تھوڑا سا جھک کر عادتأ اپنے جوتے کی نوک سے زمین کھرچ رہا تھا… ابیہا ایک جھٹکے سے مڑی… “پہلے بھی یہ کام میرے گارڈز ہی کرتے تھے… سمجھے تم…” تیز لہجے میں کہتے ہوۓ وہ اپنا رعب جمانے کی کوشش کر رہی تھی… “کرتے ہوں گے… لیکن میں نہیں کروں گا…یہ گارڈ کی ڈیوٹی میں شامل نہیں…آج سے یہ سب کام آپ کو خود ہی کرنے ہوں گے…” کان کی لو کو مسلتا وہ بے نیاز سا اردگرد نظریں گھمانے لگا جہاں بہت سی رنگ برنگی تتلیاں دلچسپی سے اسے ہی تک رہی تھیں…
“یو….” وہ غصے سے کچھ کہتے کہتے رکی تھی… “اوہ… آپ نے مجھ سے کچھ کہا…؟؟” ابرو اچکاۓ راجا نے ایک نظر اس کے جھلاہٹ سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا… ابیہا نے جواب دئیے بغیر جھپٹ کر گاڑی سے اپنا بیگ اٹھایا بکس ہاتھ میں پکڑیں اور ٹک ٹک کرتی آگے بڑھ گئ… چند قدم ہی آگے جا پائ تھی جب ایک بار پھر اسے رکنا پڑا…وہ طیش سے مڑی…
“او ہیلو… اب یوں منہ اٹھاۓ کدھر جا رہے ہو…؟؟” ابیہا اسے اپنے پیچھے قدم بڑھاتے دیکھ کر غرائ… “آپ کے ساتھ… یونیورسٹی میں…” راجا بھی رک گیا تھا…”تم گارڈ ہو میرے… تو کیا مطلب ہے کہ اب ہر جگہ تم میرا دم چھلا بن کر گھومو گے…؟؟” ابیہا کے لہجے میں تحقیر تھی… “ظاہر ہے… یہی میری ڈیوٹی ہے…” راجا نے اثر لیے بنا کندھے اچکاۓ جیسے اسے ابیہا کے لہجے سے کوئ فرق نہ پڑا ہو… “ڈیوٹی مائ فٹ… یونیورسٹی کے اندر تم نہیں جا سکتے… یہیں گیٹ کے پاس گیٹ کیپر کے ساتھ بیٹھو گے تم… اور میرے یونی سے فری ہونے کا انتظار کرو گے… ” چبا چبا کر کہتی وہ زہر لگ رہی تھی…راجا کا دل تو چاہا ایک گھما کر دے اسے بائیں ہاتھ کی… لیکن ضبط کر گیا… “آپ کے ڈیڈ سے میری بات ہو چکی ہے… میں آپ کی پروٹیکشن کے لیے ہر جگہ آپ کے ساتھ رہوں گا… سواۓ آپ کے روم اور واشروم کے…” نظر جھکاۓ وہ پر اعتماد لہجے میں کہہ گیا تھا… ابیہا نے غصے سے دیکھا…”تم ایسا کیوں نہیں کرتے… میرے روم اور واشروم میں بھی میرے ساتھ ہی آ جانا… کیا معلوم وہاں بھی کوئ غنڈہ چیونٹی کا روپ دھارے میری جان کا دشمن بنا بیٹھا ہو…” وہ طنزیہ لہجے میں کہہ رہی تھی…”جیسا آپ کا حکم…” راجا نے سنجیدگی سے سر خم کیا… ابیہا سلگ ہی تو اٹھی تھی اس کے اس انداز پر… “آہ…میں پاگل ہو جاؤں گی…” ابیہا نے بے بسی سے بالوں کو جکڑا… “پہلے سے ہی ہیں…” راجا بڑبڑایا تھا لیکن ابیہا سن چکی تھی… “واٹ؟؟ کیا کہا تم نے؟؟” وہ دھاڑی… “بات دہرانا پسند نہیں…” راجا بے نیازی سے اردگرد دیکھنے لگا… “ایک نمبر کے ڈھیٹ ہو تم…” ابیہا کہتے ہوۓ مڑی اور تیز قدموں سے ایک جانب بڑھ گئ… “تعریف کے لیے شکریہ…” راجا نے بھی کندھے اچکاتے ہوۓ اس کی تقلید میں قدم بڑھاۓ… اس بار ابیہا نے کوئ جواب دینے سے گریز ہی برتا…
میٹنگ روم میں اسپیشل سروسز گروپ آف کمانڈوز کے چند اہم نوجوان بیٹھے تھے… وہی میٹنگ رومز کا مخصوص ماحول تھا… اندھیرے کمرے میں فقط سامنے آن کی گئ ایل ای ڈی اسکرین کی دودھیا روشنی پھیلی تھی… جس کے سامنے سر حبیب کھڑے سب کو اسکرین پر کچھ دکھا رہے تھے…
چند لمحوں بعد وہ ان چار نوجوانوں کی جانب مڑے…
“یہ تو تھیں تصویریں ان لوگوں کی جو پاکستان کے بڑے بڑے اسمگلرز, کرمنلز اور لڑکیوں کے بیوپاریوں کے طور پر جانے جاتے ہیں اور جن کے متعلق ابھی تک ہمیں ایسا کوئ ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا کہ ہم انہیں گرفتار کر سکیں… پچھلے دنوں ہم نے جس دہشت گرد رام کو پکڑا اس سے جہاں ہمیں بہت سی اہم خبریں ملیں وہیں یہ اطلاع بھی ملی کہ ان سب اسمگلرز کا بھی ایک باس ہے جس کے انڈر یہ سب کام کرتے ہیں… وہ شخص خود سامنے نہیں آتا بس ان سب کو اپنی انگلیوں پر نچاتا ہے… انڈر ورلڈ مافیا میں وہ “مالک” کے نام سے جانا جاتا ہے…جس کی حیثیت ایک ڈان کی سی ہے… نہ آج تک کسی نے اسے دیکھا نہ ہی کوئ اس کے بارے میں کچھ جانتا ہے… یوں سمجھ لیں کہ پاکستان میں اس وقت جتنے بھی جرائم پیشہ لوگ ہیں ان سب کا سرپرست وہ ہے… اور چھپ کر وہ ہر کام کی نگرانی کرتا ہے… بڑے سے بڑا اسمگلر بھی اس کے نام سے کانپتا ہے… یہ جو رام ہے اس کا بھی اس سے تعلق تھا… پاکستان میں حملے اور بم بلاسٹ کرنے کے لیے بارود اور اسلحہ اسے مالک کی طرف سے ہی فراہم کیا گیا… انسانی جانوں سے کھیلنا اور اس پوری دنیا میں اپنا ڈر,اپنا خوف بٹھانا ہی مالک کا شوق ہے… ” میجر حبیب سانس لینے کو رکے… سب منجمند سے ان کی باتیں سن رہے تھے… ” مالک اور اس جیسے بہت سے اور لوگ ہیں جو ہمارے وطن کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں… دھماکے کروا کر جہاں یہ بہت سے لوگوں کی جان لے لیتے ہیں وہیں پاکستان کی ہر گلی, ہر چوراہے میں خوف کی فضا قائم کر دیتے ہیں کہ لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ہوۓ ڈرتے ہیں… آج ہمارے اس پیارے ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلتا ہے تو اسے یہ امید ہی نہیں ہوتی کہ وہ شام کو گھر واپس زندہ لوٹ سکے گا یا نہیں… پاک وطن کے حالات کو سدھارنے کے لیے مالک جیسے انسانی جان کے دشمنوں کا خاتمہ ضروری ہے… ” میجر حبیب نے گہرا سانس بھرا… ” ہم نے اپنے طور پر انتہائ خفیہ ذرائع سے مالک کے بارے میں کچھ معلومات اکٹھی کی ہیں… اس سے پہلے میں آپ لوگوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری آج کی اس میٹنگ کے بارے میں باہر کسی کو کچھ خبر نہ ہو… یہ معاملہ انتہائ نازک ہے… اور ہمیں جو بھی کرنا ہے نہایت سوچ سمجھ کر اور خفیہ طریقے سے کرنا ہے… ” میجر حبیب کہتے ہوۓ اسکرین کی جانب متوجہ ہوۓ… جہاں اب ایک تصویر ابھری تھی… “یہ ہیں اسد شیرازی… دنیا انہیں ایک نامور بزنس مین کے طور پر جانتی ہے… صاف شفاف ریکارڈ… کبھی ان کے خلاف کوئ کیس نہیں بنا… کبھی کوئ افئیر اخبارات کی زینت نہیں بنا… اور یہ تو آپ لوگ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس دنیا میں کوئ بھی دودھ کا دھلا نہیں… بات اگر کسی بڑے بزنس مین کی ہو تو ایسا ہونا امپاسیبل ہے… یہ آدمی اوپر سے دکھنے میں جتنا سیدھا سادھا اور شریف نظر آتا ہے اندر سے اتنا ہی غلیظ اور دوغلا ہے… دنیا کے سامنے اس کا فقط ایک چہرہ ہے… اسد شیرازی کا چہرہ… لیکن یہی شخص انڈر ورلڈ میں ایک اور نام سے جانا جاتا ہے… مالک کے نام سے… ” میجر حبیب نے گویا دھماکہ کیا تھا… وہاں موجود تین نوجوان ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے… فقط ایک فرد ایسا تھا جس کی نظریں اس تصویر پر ٹکی تھیں….
Episode 7
عجیب سے تاثرات تھے ان نگاہوں کے… ” یہی وہ شخص ہے مالک… جو بظاہر ایک بزنس ٹائیکون ہے لیکن اصل میں انڈر ورلڈ کا بے تاج بادشاہ ہے… اس کا بزنس فقط اس کے کالے دھن کو چھپانے کا ایک ذریعہ ہے… اور اس کو بے نقاب کرنا ہی ہمارا اگلا مشن ہے…” میجر حبیب بات کو جاری رکھے ہوۓ تھے جب وہ گہری سیاہ آنکھوں والا نوجوان کھڑا ہوا… “سر آئ ول ٹیک دس مشن…” مضبوط لہجے میں کہا گیا تھا… میجر حبیب نے اس کی جانب دیکھا… “کیپٹن ابتہاج… یہ وقت جلد بازی میں فیصلہ کرنے کا نہیں ہے… یہ مشن آپ کی سوچ سے کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ہے… ہمیں بیٹھ کر پہلے باقاعدہ پلاننگ کرنی ہو گی… پھر سوچیں گے کہ یہ مشن کس کو سونپنا ہے…” میجر حبیب کی بات پر کیپٹن ابتہاج کے چہرے پر چٹان کی سی سختی ابھری… “سر… مجھے مشکلوں کو آسان بنانا آتا ہے… مشکلوں سے گزر کر ہی میں آج اس مقام تک پہنچا ہوں…” اس کا لہجہ بے تاثر تھا لیکن انداز میجر حبیب کے لیے عزت و احترام لیے ہوۓ تھا… “لیکن…” میجر حبیب ہچکچاہٹ کا شکار تھے… وہ اس مشن کی سنگینی سے واقف تھے اور کیپٹن ابتہاج کے لیے کسی قسم کا رسک لینے کو تیار نہ تھے… ” سر… یہ مشن میری زندگی کا سب سے اہم مشن ہو گا… اینڈ آئ پرامس… آپ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مجھے کامیاب ہی دیکھیں گے… ” کیپٹن ابتہاج کے انداز میں پہلی بار ایک ضد سی محسوس ہوئ تھی سب کو… “اوکے… ” میجر حبیب نے ہاتھ اٹھا دئیے گویا مشن ابتہاج کے سپرد کر دیا… “کل تمہیں اس مشن کے بارے میں تمام معلومات فراہم کر دی جائیں گی… اور مل کر کوئ پلان بنائیں گے اس پلان کے تحت تم اسد شیرازی تک پہنچو گے… ” میجر حبیب نے ٹیبل سے فائل سمیٹتے ہوۓ کہا… “سر… اس مشن کو مکمل کرنے کے لیے تمام پلاننگ میں خود کروں گا… کل اس مشن کی فائل مجھے دے دیجیے گا… ” سر جھکاۓ ہاتھ پیچھے باندھے وہ مؤدب سا کھڑا تھا… میجر حبیب نے رک کر ایک نگاہ اس پر ڈالی… “اوکے…” کندھے اچکاۓ اور میٹنگ روم سے نکل گۓ… جبکہ اسکرین پر نظر آتی تصویر کو دیکھ کر کیپٹن ابتہاج نے سختی سے لب بھینچے… کنپٹی کی رگیں ابھرنے لگی تھیں…
_________
“بیا… وہ ہینڈسم جو آج تمہارے ساتھ آیا ہے وہ کون ہے..؟؟؟” ان چھے افراد کا گروپ اس وقت یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا… جب ابیہا کی دوست زینی نے دور ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر کھڑے راجا کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا… ابیہا نے اس کی بات پر گردن موڑ کر تیکھی نگاہوں سے راجا کی جانب دیکھا جو ان کی جانب متوجہ نہ تھا… اس کی تمام تر توجہ کا مرکز اس کا سیل فون تھا… ابیہا نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوۓ گردن سیدھی کی… ” بس یار… کچھ نہ پوچھو… ڈیڈ نے پہلے چاروں گارڈز کو ہٹا کر ان کی جگہ اسے اپائنٹ کیا ہے…. ” لہجے سے بے زاری عیاں تھی… اس کی بات پر سب کی نگاہیں راجا کی جانب اٹھیں… ساحر کے ہونٹ سیٹی کے سے انداز میں سکڑے… “اتنا ڈیشنگ اور خوبرو گارڈ…؟؟” اس کے انداز میں ستائش تھی… رائنہ کی نظریں بھی مسلسل راجا پر ٹکی تھیں… “واقعی یار… شکل و صورت سے تو کسی سلطنت کا شہزادہ لگتا ہے…” یہ آواز رائنہ کی تھی… “ویسے بیا… نہ اس کے ہاتھ میں گن ہے اور نہ ہی پہلے گارڈز کی طرح یہ یونی کے گیٹ پر رکا تمہارا انتظار کرنے کو… کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ گارڈ ہے تمہارا…” گھاس پر پیٹ کے بل لیٹے صارم نے بھی تبصرہ کیا تھا… “میں تو یہ سمجھی تھی کہ بیا نے شاید اپنا مسٹر پرفیکٹ ڈھونڈ لیا ہے جسے ہم سب سے ملوانے لائ ہے…” “ہادیہ نے مسکراتے ہوۓ ابیہا کو چھیڑنا چاہا جس پر ابیہا تپ کر رہ گئ… اس شخص کی وجہ سے آج اسے نہ جانے کیا کیا سننا پڑ رہا تھا… غصے سے کھولتے ہوۓ ایک نگاہ اس پر ڈالی… لیکن جب بولی تو لہجہ نارمل تھا… “ہاں یار… میرا گارڈ ہی ہے… میں نے ہی کہا اسے کہ مجھے ہر وقت گن تھامے گارڈز پسند نہیں… اور یونی کے اندر تو اسے میں خود لے کر آئ ہوں… بے چارہ منتیں کر رہا تھا مجھ سے… کہہ رہا تھا اسے خوبصورت لڑکیاں دیکھنی ہیں…ایک طرف چپ چاپ کھڑا ہو جاۓ گا بس میں اسے ساتھ لے آؤں… میں نے بھی ترس کھا لیا اس پر… ” ابیہا کا لہجہ صاف مذاق اڑاتا تھا… اس کی بات پر رائنہ نے پھر غور سے راجا کی جانب دیکھا… “ارے چھوڑو بیا… اس کے انداز سے یہ کہیں سے نہیں لگ رہا کہ وہ یہاں لڑکیاں دیکھنے آیا ہے… الٹا لڑکیاں تڑپ رہی ہیں کہ وہ بس ایک نگاہ الفت سے نواز دے انہیں…واللہ کیا غضب کی پرسنیلٹی ہے…اور اس کے مسلز…اف…” رائنہ نے ہاتھ جھلا کر کہتے ہوۓ کچھ فاصلے پر کھڑی چند لڑکیوں کی جانب اشارہ کیا جو آنکھوں میں ستائش اور حسرت کے ملے جلے تاثرات لیے راجا کو ہی تک رہی تھیں اور پھر خود بھی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوئ…. لیکن راجا ان سب سے بے نیاز سا کھڑا تھا…”جسٹ شٹ اپ رائنہ…” ابیہا سے شاید راجا کی تعریف ہضم نہیں ہو پائ تھی جبھی تیز لہجے میں رائنہ کو ڈانٹتی ہوئ اٹھی اور تیز قدموں سے وہاں سے چلی گئ… چند قدم ہی آگے گئ تھی جب راجا نے فون سے نظریں اٹھائیں… ایک نظر ان کے گروپ کی جانب دیکھا اور پھر دور جاتی ابیہا کو… اور ابیہا کے پیچھے قدم بڑھا دئیے…بہت سی رشک, حسد اور حسرت بھری نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا…
وہ کلب کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا…جہاں بہت سے لوگ شراب کے نشے میں مست خود سے بے گانہ ہوۓ ادھر ادھر جھوم رہے تھے… ایسے میں اس کی نگاہیں کسی کو تلاش کر رہی تھیں… ہجوم میں راہ بناتا وہ چند قدم آگے بڑھا جب اسے مطلوبہ شخص نظر آیا… وہ پینٹ کے جیبوں میں ہاتھ گھساۓ اس کی جانب بڑھ گیا… قریب پہنچ کر اس سے مصافحہ کیا اور دونوں ٹیبل کے آمنے سامنے پڑی چئیرز گھسیٹ کر بیٹھ گۓ… “سر آپ کا کام ہو گیا ہے… ” رفیق نامی اس شخص نے ابتہاج کو بتایا…ابتہاج نے اس کی ط٤ف دیکھے بنا سگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبائ اور لائٹر سے آگ کا شعلہ سا بلند ہوا جس سے سگریٹ لمحہ بہ لمحہ سلگنے لگی…. پھر گہرہ سیاہ آنکھیں اٹھا کر اردگرد ناچتے اور جھومتے لوگوں کو دیکھنے لگا… گہرا کش لے کر ہوا میں دھواں خارج کرتے ہوۓ سگریٹ کی راکھ انگلی کی مدد سے جھاڑی… “یہ بتاؤ مجھے یہاں ایسی جگہ کیوں بلایا جبکہ بات کرنے کے لیے ہمیں اور بھی بہت سی مناسب جگہیں مل سکتی تھیں… ” سپاٹ سی آواز میں کہتا وہ پھر سگریٹ کے کش لینے لگا… “جی سر… اور بھی جگہیں مناسب تھیں… لیکن یہاں بھی آپ کو کسی مقصد کے تحت ہی بلایا ہے میں نے… بائ دا وے یہ فائل ہے جس میں اسد شیرازی کی اب تک کی جتنی مل سکیں وہ ساری ڈیٹیلز ہیں…” کہتے ہوۓ رفیق نے ایک فائل آگے کھسکائ… ابتہاج نے فقط ایک نگاہ فائل پر ڈالی… اسے ہاتھ تک نہیں لگایا… سوالیہ نظروں سے رفیق کو دیکھا… “سر اسد شیرازی کے اس وقت بہت سے بنک اکاؤنٹس ایکٹو ہیں… سب کی ڈیٹیلز اس فائل میں ہیں اور…. ” رفیق تفصیل سے اسے سب بتانے لگا… اس دواران ابتہاج کی سرد نگاہیں فائل پر ہی مرکوز رہیں… چہرہ بے تاثر تھا جس سے اس کے اندر کا حال جاننا قطعی ناممکن تھا… “فیملی میمبرز…؟؟” رفیق اپنی بات ختم کر چکا تھا جب ابتہاج کی آواز ابھری… “سر فیملی میمبرز میں اس وقت ان کی صرف ایک بیٹی ہے… ایک بیٹا بھی تھا لیکن کچھ عرصہ پہلے اس کی وائف اور بیٹا ایک ایکسیڈنٹ میں جان کی بازی ہار گۓ… اس کے بعد اسد شیرازی نے شادی نہیں کی… ہاں البتہ بغیر شادی کے بہت سی عورتوں سے تعلقات استوار کر رکھے ہیں… فی الحال ان کی ایک بیٹی ہے… ابیہا اسد شیرازی… جو انہیں جان سے زیادہ پیاری ہے… یونیورسٹی اسٹوڈنٹ ہے… اس کی بھی تمام ڈیٹیلز اس فائل میں موجود ہیں… سواۓ تصویر کے… ” رفیق کی بات پر وہ چونکا… فقط ابرو اچکاۓ جس کا مطلب رفیق سمجھ گیا تھا…”سر تصویر نہیں رکھی میں نے فائل میں… اور آپ کو یہاں بلایا بھی اسی لیے ہے میں نے… اسد شیرازی کی بیٹی ہر ہفتے رات دس یا گیارہ بجے یہاں آتی ہے اس کلب میں… تو میں نے سوچا کہ تصویر سے بہتر ہے آپ لائیو ہی دیکھ لیں اسے…آج چونکہ ہفتہ ہے اور گیارہ بجنے والے ہیں… تو وہ بھی بس آنے ہی والی ہو گی… آپ اس سے…” گھڑی کی جانب دیکھتے ہوۓ رفیق نے نظریں اٹھائیں تو بات بھی رک گئ… اس نے ابتہاج کی جانب دیکھا… جو اس کی نظروں کے تعاقب میں ہی دیکھ رہا تھا… “سر وہ ہے اسد شیرازی کی بیٹی… جس نے بلیک اور سلور ڈریس پہنا ہے… ابیہا اسد شیرازی… ” رفیق کی بات پر ابتہاج کی آنکھوں میں سرخی سے چھانے لگی… “ابیہا اسد شیرازی…” اس کی آواز میں زخمی پن تھا… چبا چبا کر کہتے ہوۓ اس کی نگاہیں ابیہا پر ہی گڑی تھیں جو اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑی کسی بات پر ہنس رہی تھی… “ہر انسان کی فیملی ہی اس کی کمزوری ہے… یقیناً یہ لڑکی ہی اسد شیرازی کی کمزوری ہے اور اب یہی میرے اسد شیرازی تک پہنچنے اور اسے بے نقاب کرنے کے لیے ایک سیڑھی کا کام دے گی… سو بی ریڈی اسد شیرازی… فار مائ ویلکم ان یور لائف… سی یو سون…” ٹھینڈے ٹھار لہجے میں کہتے ہوۓ وہ چند پل ابیہا کو گھورتا رہا اور پھر فائل اٹھا کر کلب سے نکلتا چلا گیا…
__________
وہ خان پور نام کا کوئ گاؤں تھا جہاں اس وقت راجا اور گڈی بھوک سے بے حال بیٹھے تھے… سچ کہتے ہیں کہنے والے…ماں باپ کے سوا اس دنیا میں کوئ اپنا نہیں ہوتا… ان کی ماں تو مر چکی تھی اور باپ کا ان کی زندگی میں ہونا نہ ہونا ایک ہی بات تھی… نہ جانے ان کے باپ کو خبر بھی کی گئ تھی ان کے گھر سے بھاگ جانے کی یا نہیں… ان کے باپ کو تو اندازہ تک نہ ہو گا کہ اس کا وارث اور اس کی بیٹی کہاں خوار ہو رہے ہیں.. کہاں رُل رہے ہیں… ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں…
گڈی نیم جان سی ایک طرف لیٹی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی… اور راجا بے بس سا اس کی جانب دیکھ رہا تھا… اردگرد گزرنے والے لوگ شاید اندھے تھے… آنکھوں کے نہیں, دل کے اندھے تھے… ان کا ضمیر شاید مر چکا تھا کہ انہیں دو جیتی جاگتی جانیں لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب جاتی دکھائ ہی نہ دے رہی تھیں… وہاں تو ہر کوئ افراتفری کے عالم میں تھا جیسے اگر ایک پل کو ان بچوں کے پاس رک گیا تو کہیں زندگی ہی نہ رک جاۓ… ہر شخص کو جلدی تھی…ہر کوئ اپنے آپ میں مگن چلے جا رہا تھا… رکے ہوۓ تھے تو فقط وہ دونوں…
“گڈی…” راجا نے گڈی کا کندھا ہلایا… وہ آنکھیں موندے ہوۓ تھی… نیم وا آنکھوں سے فقط ایک بار راجا کو دیکھا… کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن بولنے کی ہمت ہی نہ ہوئ تو پھر آنکھیں بند کر گئ… “گڈی… کیا زیادہ بھوک لگی ہے…؟؟” راجا کا خود بھوک اور نقاہت سے برا حال تھا لیکن اسے اس وقت صرف گڈی کی فکر تھی… گڈی نے اس بار فقط ہلکا سا سر اثبات میں ہلایا… راجا نے اردگرد دیکھا…اس وقت جہاں وہ بیٹھے تھے یہ شاید کوئ سبزی منڈی تھی اسی لیے وہاں کھانے کی کوئ چیز نظر نہیں آ رہی تھی… راجا کچھ سوچتا ہوا اٹھا… اور آگے چلنے لگا… سر جھکاۓ وہ چلتا رہا… گڈی اب کافی پیچھے رہ گئ تھی… آگے جا کر کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں تھیں…کہیں کہیں اسٹالز اور ریڑھیاں بھی نظر آ رہی تھیں… ایک جگہ جا کر راجا رکا… وہاں اس سے کچھ فاصلے پر ایک ادھیڑ عمر آدمی ریڑھی لگاۓ کھڑا تھا جس پر بھنے ہوۓ چنے رکھے تھے… راجا کافی دیر وہیں کھڑا کن اکھیوں سے اسے دیکھتا رہا…چند منٹ بعد ایک آدمی اس کے پاس آ کھڑا ہوا… ریڑھی کا مالک اس آدمی کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہو گیا… راجا نے جب اس کا دھیان کسی اور جانب دیکھا تو دھیرے سے آگے بڑھا اور ریڑھی کے نزدیک ہو گیا… نظر اٹھا کر پھر اس آدمی کی جانب دیکھا…وہ اس کی جانب متوجہ نہ تھا… نظر بچا کر راجا ریڑھی پر جھپٹا, اپنی دونوں مٹھیاں بھنے ہوۓ چنوں سے بھریں اور ایک جانب دوڑ لگا دی… ریڑھی کے مالک کو تو اس کی حرکت کا علم نہیں ہوا لیکن اس کے ساتھ کھڑا اس کا دوست راجا کو دیکھ چکا تھا تبھی چینخ اٹھا…”چور چور…” ایک دم ہی وہاں رش سا ہو گیا اور شور سن کر بھاگتے ہوۓ راجا کو آگے سے کچھ آدمیوں نے گھیر کر پکڑ لیا… تب تک پیچھے سے ریڑھی کا مالک اور اس کا دوست بھی اس ہجوم تک پہنچ چکے تھے… “بدتمیز…جاہل… چوری کرتا ہے…شرم نہیں آتی…” اس زمانے کے ایک تمیز دار, عقلمند اور پڑھے لکھے انسان نے بھوک پیاس سے مجبور ہو کر چند چنے چرانے والے آٹھ سالہ راجا کے منہ پر تین چار چھپڑ بھی جڑ دیے تھے… یہ وہ لوگ تھے جنہیں اس کا چوری کرنا تو نظر آیا لیکن اس چوری کے پیچھے چھپی وجہ نظر نہ آ سکی… جنہیں بھوک سے بلکتے, روتے کرلاتے بچے نظر نہ آۓ اب وہ آ کر اسے تہذیب اور تمیز کا سبق پڑھا رہے تھے… “ابے خبیث کی اولاد… چوری کرتا ہے… تجھے تو میں الٹا لٹکا دوں گا…” ریڑھی کے مالک ایاز نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا جس کی وجہ سے راجا کے ہاتھوں میں موجود چنے زمین پر بکھر گۓ… وہ چنے جو کسی غریب مسکین کے پیٹ میں جا کر ان کی بھوک مٹا سکتے اس ظالم دنیا کی بدولت زمین پر گرے اپنی بے قدری کو رو رہے تھے… اور دنیا کو اب وہ نظر نہیں آۓ تھے… نظر آ رہا تھا تو فقط اتنا کہ اس آٹھ سال کے بچے نے چوری کی ہے… اور اسے چوری کی سزا تو ہر حال میں ملنی ہی چاہئیے… “ارے پولیس کو بلاؤ… پولیس کے حوالے کرو اس حرام خور کو… آج یوں چھوٹی چھوٹی چوریاں کرتا ہے کل کو اس سے بڑا چور, ڈاکو اور لٹیرا بنے گا… ” اردگرد بھانت بھانت کی آوازیں سنائ دے رہی تھیں… اور سب اپنے مشورے دیتے اس معصوم کے لیے سزائیں تجویز کر رہے تھے… لیکن راجا کی نظریں ان پر نہیں تھیں… وہ تو دور سڑک کے کنارے بے سدھ لیٹی اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا… جس کے قریب اب چار پانچ مرد کھڑے تھے… ان کے چہروں پر افسوس بھرے تاثرات تھے… ایک آدمی اس کی بہن کے قریب بیٹھا اور انگلی اس کے ناک کے قریب لے گیا… پھر کھڑا ہوا اور باقی افراد کی جانب دیکھ کر نفی میں سر ہلا دیا… راجا کو نہ جانے کیا ہوا تھا ایک دم… دل و دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی تھی… اس نے اپنی پوری طاقت صرف کر کے اپنا گریبان ان سے چھڑایا اور سرخ چہرہ لیے سب کو دھکا دیتے ہوۓ تیزی سے بھاگتا ہوا اپنی بہن کی طرف جانے لگا… جانے کیوں اسے چند میٹر کا یہ فاصلہ صدیوں پر محیط لگا… کئ بار لڑکھڑا کر گرنے لگا لیکن پھر سنبھل کر بھاگنے لگ جاتا… ان مردوں کے قریب پہنچ کر وہ رکا… گہرے گہرے سانس بھرتا وہ انہیں ہٹاتا آگے بڑھنے لگا… آنکھوں کے سامنے دھند سے چھا رہی تھی… آستین سے آنکھیں رگڑتا وہ گڈی کے قریب بیٹھا… “گڈی…” اسے کندھے سے ہلایا… لیکن اس نے نہ تو آنکھیں کھولیں نہ ہی کوئ جواب دیا… راجا نے آگے بڑھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھا… “گڈی آنکھیں کھول…” اب وہ اس کا چہرہ تھپتھپا رہا تھا… اسے خبر ہی نہ ہوئ کب آنکھوں سے آنسو نکل کر گالوں پر بہنے لگے تھے… پاس کھڑے لوگ افسوس سے اسے دیکھ رہے تھے… ایاز اور باقی سب لوگ جو کچھ دیر پہلے راجا کو اپنے غصے اور نفرت کا نشانہ بنا رہے تھے اب وہ بھی وہیں کھڑے آنکھوں میں ہمدردی لیے اسے ہی دیکھ رہے تھے… “گڈی میری بات سن… دیکھ میں تیرے لیے کیا لایا ہوں… تجھے بھوک لگی تھی نا… اٹھ…یہ لے…چنے کھا لے…” وہ ہاتھ میں باقی بچ جانے والے پانچ چنے اس کی جانب بڑھا رہا تھا… لیکن وہ تو بہت دور جا چکی تھی… جہاں اسے اب بھوکے پیاسے رہنے سے بھی کوئ فرق نہیں پڑتا… “بیٹا… وہ اب… زندہ نہیں رہی… ” ایک بزرگ آدمی نے آگے بڑھ کر راجا کے کندھے پر ہاتھ رکھا… راجا نے ناسمجھی اور بے یقینی سے ان کی طرف دیکھا اور پھر بے حس و حرکت پڑی گڈی کی طرف… اس کا سر بے ساختہ نفی میں ہلا تھا… کچھ کہنے کی کوشش میں لب فقط پھڑپھڑا کر رہ گۓ… حلق میں نمکین گولہ سا پھنسنے لگا… آنکھوں کے سامنے دھند کی چادر دبیز ہوتی چلی گئ… گڈی کا سر سینے سے لگاۓ وہ چینخ اٹھا تھا…
“علیزہ…” وہ گہری نیند میں چلّاتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا… تنفس بہت تیز تھا… سرد رات میں بھی چہرہ اور پورا جسم پسینے سے شرابور تھا… چہرے پر خوف و ہراس پھیلا تھا… کسی کو کھو دینے کا خوف… کسی سے بچھڑنے کا ڈر اور تکلیف…گہرے گہرے سانس لیتے ہوۓ اسے کافی وقت لگا تھا خود کو سنبھالنے میں… ایک ہاتھ سے پیشانی مسلتے ہوۓ وہ آنکھوں کو بھی دبانے لگا… دل اضطراب سے بھرا تھا… جب کسی طور بے چینی کم نہ ہوئ تو وہ اٹھا… گرین کلر کے ٹراؤزر اور سفید بنیان میں وہ کھڑکی کے قریب گیا اور دونوں پٹ وا کر دئیے… سرد اور ٹھنڈی جسم کو منجمند کر دینے والی ہوا اس کے جسم سے ٹکرانے لگی لیکن اس کے باوجود سینے کے اندر جلتی بھڑکتی آگ کی شدت میں کوئ کمی نہیں آئ تھی… وہ سینہ مسلتا ہوا گہرے گہرے سانس بھرنے لگا… جب حالت میں کوئ فرق نہ آیا تو وہ بیڈ کی طرف آیا… سائیڈ ٹیبل کے دراز سے سگریٹ اور لائیٹر نکالا… چمد لمحوں بعد کھڑکی میں کھڑا وہ سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا… نیلی آنکھوں میں زخمی پن, درد اور اذیت بھری تھی… اس کا وجود ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا… اور ذہن تکلیف بھری سوچوں میں ڈوبا تھا… وہ سوچیں جو اس کے ماضی کا حصہ تھیں… وہ سوچیں جو اس کے لیے ہر بار درد کا تحفہ ہی لائ تھیں… وہ سوچیں جو اس کے بچپن سے لے کر جوانی تک ہر پل, ہر لمحہ اس کے ساتھ رہی تھیں…
“یہ تم کیا ہر وقت موبائیل پر لگے رہتے ہو… تمہیں نہیں معلوم کہ ڈیوٹی ٹائمنگز میں سیل یوز کرنا الاؤ نہیں ہے… ” ابیہا یونی کی پارکنگ میں آئ تو وہ تب بھی موبائیل پر مصروف تھا… اسی لیے وہ چڑ کر بولی تھی… “راجا نے ایک نظر اسے دیکھا “ایگری منٹ میں کہیں بھی یہ پوائنٹ شامل نہیں تھا…” کہہ کر وہ پھر اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا…. “تو… یہ کہنے کی بات ہے نہیں… سب کو پتا ہوتا ہے کہ ڈیوٹی ٹائم پر موبائیل استعمال نہیں کرتے…تم موبائیل پر ہی مصروف رہو گے تو مجھے سیکیورٹی خاک فراہم کرو گے… تمہاری تمام تر توجہ تو سیل پر ہے… ” ابیہا اسے اپنے کام میں مصروف پا کر گاڑی میں آ بیٹھی… کن اکھیوں سے اس کی جانب دیکھا… اور پھر ایک ہاتھ اسٹیرنگ پر رکھے دوسرا ہاتھ اگنیشن کی جانب بڑھایا… “گاڑی کی کی میرے پاس ہے… آپ یہ چالاکیاں چھوڑ دیں تو بہتر ہے… مجھے چکما دے کر آپ نہیں جا سکتیں… اسی لیے شرافت سے آ کر اپنی جگہ بیٹھیں… ڈرائیونگ سیٹ خالی کریں…” اس کی نظریں بے شک سیل پر تھیں لیکن اپنے کام سے ایک پل کو بھی غافل نہ ہوتا تھا… ابیہا جو اس کا دھیان کسی اور جانب پا کر ہوشیاری سے وہاں سے نکلنے کے چکروں میں تھی اس کی بات پر کڑھ کر رہ گئ… ” پتا نہیں کتنی آنکھیں ہیں اس کی… ہر جانب دھیان رہتا ہے….”غصے سے بڑبڑاتی ہوئ وہ اتری اور گھوم کر دوسری جانب سے گاڑی میں بیٹھ گئ… راجا بھی بے تاثر چہرہ لیے گاڑی کی جانب بڑھا… ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر سیل ڈیش بورڈ پر رکھا اور اگنیشن میں چابی گھماتا گاڑی بڑھا لے گیا…
جاری ہے
