Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28

کیا مطلب…؟؟” ابیہا نے آنکھیں سیکڑ کر انہیں دیکھا… ان کی بات اس کے سر کے اوپر سے گزر گئ تھی…
“تم یہ بتاؤ پہلے…کہ اسد شیرازی نے تمہیں تمہاری جائیداد کے بارے میں کیا بتایا ہے…؟؟ جو تمہارے والد کی طرف سے ملی تمہیں… ؟؟ اور اب تک تمہارے ساتھ گارڈز کیوں رکھتا رہا تھا وہ…؟؟” عبدالواحد نے الٹا اس سے سوال پوچھا…
ابیہا چمد لمحوں کے لیے خاموش ہوئ…
“ڈیڈ نے جتنی دولت کمائ اور جو انہیں اپنے پیرنٹس سے وراثت میں ملی وہ تقریباً دو سو کروڑ ہے… اور اسد انکل نے میری پرورش کی ذمہ داری اٹھائ تو مجھ پر جو بھی رقم اب تک خرچ ہوئ اسی میں سے ہوئ… ڈیڈ کے وکیل ہر ماہ اسد انکل کو ایک چیک دیتے ہیں… جس میں میرے اخراجات کے لیے رقم درج ہوتی ہے… اور گارڈز… وہ تو انکل کہتے تھے کہ ان کے کچھ دشمن میری جان کے پیچھے پڑ گۓ ہیں اب… اسی لیے… ” دھیمے لہجے میں سر جھکاۓ وہ بتا گئ…
“ہنہہ…” عبدالواحد طنزیہ مسکراۓ… ” وہ دو سو کروڑ نہیں ہیں… تمہیں بھی بے خبر رکھا گیا اصل بات سے…تمہاری جائیداد دس ہزار کروڑ ہے…. ” عبدالواحد نے گویا دھماکہ کیا تھا… ابیہا آنکھیں پھاڑے انہیں تک رہی تھی… “دس ہزار کروڑ جانتی ہو کتنے ہوتے ہیں… ؟؟ اور جو رقم تمہاری تعلیم و تربیت پر اب تک خرچ ہوتی رہی وہ تو اس کا تیسرا حصہ بھی نہیں ہے جتنا اسد شیرازی نے تمہاری ڈیڈ کے اکاؤنٹ سے نکلوایا ہے… ایسے ہی تو اسد شیرازی نے اتنے برس انتظار نہیں کیا تمہارے تئیس سال کے ہونے کا… تمہیں کیا لگتا ہے… وہ جو پہلے بھکاریوں کی سی زندگی گزار رہا تھا اتنا بڑا بزنس ٹائیکون کیسے بن گیا… بزنس کے لیے پہلے سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے… جو وہ تمہاری ہی دولت سے تمہاری بے خبری میں لے کر اپنے بزنس میں لگاتا رہا… “
ابیہا سن سی کھڑی تھی… اس کی معصومیت کا فائدہ اٹھا کر اسد شیرازی کتنا بڑا دھوکہ دے رہا تھا اسے… کوئ انسان پیسوں کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے… وہ ذہنی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی سوچتی چلی گئ…
“اور جانتی ہو… وہ تمہارے تئیس برس کے ہونے کا انتظار کیوں کر رہا ہے…؟؟” عبدالواحد نے اس کے سفید پڑتے چہرے کی طرف دیکھا…. ابیہا نے دھندلاتی آنکھوں سے انہیں دیکھا اور نفی میں سر ہلایا… “ڈیڈ نے اپنی…اپنی وصیت میں لکھا تھا شاید…کہ… تئیس سال سے پہلے میری…. شادی نہ کی جاۓ… ” وہ ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی… تو طے تھا کہ زندگی نے آج ہی سارے پہاڑ اس پر توڑنے تھے…
اس کی بات پر عبدالواحد نے قہقہہ لگایا تھا… “بہت چالاک ہے یہ اسد شیرازی… آدھی بات بتا کر آدھی بات چھپا لیتا ہے… ہر کہانی کو اپنے مطلب کا موڑ دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے… ہاں یہ بھی سچ ہے کہ مراد بخاری نے ہی وصیت میں لکھا تھا کہ تمہاری شادی تئیس برس کی عمر میں کی جاۓ گی… لیکن ان کے اس فیصلے کے پیچھے بھی ایک ٹھوس وجہ تھی… تئیس سال کی عمر میں ایک لڑکی بالکل میچیور ہوتی ہے…زمانے کی اونچ نیچ کو سمجھنے کے قابل ہو جاتی ہے… مراد بخاری اپنی جائیداد کو غلط ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتے تھے… ان کا کوئ اور وارث تو تھا نہیں… خود بھی اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے… اور تم بھی اکلوتی… تو انہوں نے وصیت میں یہ لکھا کہ اگر انہیں کچھ ہو جاۓ تو ان کی بیٹی جب تئیس برس کی ہو جاۓ تب ساری جائیداد اس کے حوالے کر دی جاۓ… اور اگر تئیس برس سے پہلے تمہیں کچھ ہو جاۓ تو وہ ساری دولت یتیم خانوں میں یتیموں کے لیے وقف کر دی جاۓ گی… اگر اسد شیرازی تمہیں مار ڈالتا تو اس کے ہاتھ کچھ نہ آتا… اسی لیے اس نے تمہیں اپنی سرپرستی میں لیا… تا کہ تئیس برس کی ہونے پر ساری دولت تمہارے نام ہو جاۓ اور پھر وہ تم سے وہ دولت ہتھیا لے…
اس کا انتظار ختم ہونے میں اب چند ماہ ہی باقی ہیں… تم تئیس کی ہو جاؤ گی… وہ فورأ تمہاری شادی اس مرزا جمال آفندی کے بیٹے سے کروا دے گا… کیونکہ تمہاری شادی کے بعد پچاس فیصد جائیداد تمہارے شوہر کی ہو گی… پچاس فیصد, یعنی پانچ ہزار کروڑ… یہ بھی وصیت میں ہی درج تھا…
ایک اور بات بتاؤں… یہ جو فراز آفندی اور مرزا جمال آفندی ہیں ناں… یہ بھی اسد شیرازی کی طرح غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں…اور اس دھندے میں بڑے جانے پہچانے نام ہیں…
شادی کے بعد تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جاۓ گا یہ تو تم اچھی طرح سمجھ ہی چکی ہو گی… اگر ففٹی پرسنٹ فراز آفندی کو ملے گا تمہاری شادی کے بعد…تو یقیناً اسد شیرازی نے اپنے لیے بھی کچھ سوچا ہی ہو گا… تمہیں کنگال کر کے ہی چھوڑیں گے وہ لوگ… اور اسد شیرازی کا اتنے برسوں کا پلان اب کامیابی سے ہمکنار ہو…یہ ہم کبھی نہیں چاہیں گے… اسد شیرازی کو شکست دینا ہی ہمارا مقصد ہے… بہت عرصے سے اس کے پیچھے پڑے تھے… لیکن بالآخر اس کی کمزوری ہمیں مل ہی گئ… کمزوری…مطلب تم… ابیہا مراد بخاری… ” عبدالواحد کا لہجہ آخر میں سرد ہوا تھا… آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھری…. ابیہا جو ابھی تک پے در پے ملنے والے صدموں سے ہی سنبھل نہیں پائ تھی اس نے وحشت بھری نگاہوں سے عبدالواحد کی طرف دیکھا…
💝💝💝💝💝
وہ سب انسپکٹر بلاول رضا کو گھسیٹتا ہوا ایک آٹھ منزلہ زیر تعمیر عمارت میں لے کر آیا تھا…اس کے پاؤں کھول دئیے گۓ تھے لیکن ہاتھ اور منہ ابھی تک بندھے تھے…
تیسری منزل پر آکر راجا نے اسے دھکا دیا… وہ منہ کے بل گرا تھا… راجا نے ریوالور نکالا… اور اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوۓ اس کے منہ سے کپڑا ہٹایا… بازو بھی کھول دئیے…انسپکٹر بلاول کی آنکھوں میں دہشت کا رنگ واضح تھا…
“کک…کون ہو تم… مجھے اس طرح سے لانے کا مطلب… ؟؟” لہجے میں غصے کی آمیزش تھی…
“جس لڑکی کو آج اغواء کر کے لے گۓ تھے تین لوگ تمہاری گاڑی میں… وہ لڑکی کہاں ہے اس وقت…؟؟” راجا نے اسے بالوں سے پکڑ کر سرد لہجے میں پوچھا…
انسپکٹر بلاول اس کی بات پر چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا… “میں کچھ نہیں جانتا کسی لڑکی کے بارے میں… ” اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ جواب دیا…
راجا نے ایک زور دار مکا اس کے منہ پر رسید کیا… اس کے منہ سے خون نکلنے لگا تھا… مزاحمت کی کوشش میں وہ راجا پر حملہ آور ہوا تھا…لیکن راجا پہلے ہی اس سب کے لیے تیار تھا… اس کے منہ پر دو چار پنچ مارنے کے بعد راجا نے اس کا ہاتھ پکڑکر کمر سے لگایا اور دوسرا ہاتھ بھی پیچھے کی جانب مروڑا… یوں کہ اس کی پشت راجا کی طرف تھی… ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھ تھامے دوسرے ہاتھ سے راجا نے ریوالور اس کی کنپٹی پر رکھا… “آخری بار پوچھ رہا ہوں… کس جگہ ڈراپ کیا تھا ان لوگوں کو… ؟؟” راجا کی آواز میں سختی نمایاں تھی…
“نہیں بتاؤں گا… مارنا چاہتے ہو نا… تو مار ڈالو… ” تکلیف سے کراہتے ہوۓ بھی وہ اپنی ضد پر اڑا تھا… اس کا پورا چہرہ لہو سے سرخ ہو رہا تھا… راجا نے لب بھینچے… اس کے ہاتھ چھوڑتے ہوۓ اسے دھکا دے کر زمین پر گرایا… اور ایک پل کا توقف کیے بغیر اس کے ریوالور سے نکل گولی انسپکٹر بلاول کی دائیں ٹانگ میں جا گھسی تھی… وہ دونوں ہاتھوں سے ٹانگ پکڑے چینختا ہوا تکلیف سے دہرا ہو گیا… اب سمجھ آیا تھا اسے کہ موت کا ذکر کرنا اور حقیقتاً موت کا سامنا کرنا دو مختلف چیزیں ہیں…
“میرے پانچ گننے تک سچائ اگل دو کہ لڑکی کہاں ہے ورنہ۔۔۔” وہ گھٹنوں کے بل اس شخص کے سامنے جھکتے ہوۓ غرایا۔۔۔مٹھیاں بھینچیں…پھر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ ہاتھ میں پکڑے پسٹل کی میگزین سے گولیاں برآمد کر کے ہتھیلی پر پھیلائیں۔۔۔ پانچ گولیاں۔۔۔ چھٹی گولی سامنے بیٹھے بے دم سے وجود کی ٹانگ میں تھی۔۔۔
“ایک۔۔۔” پہلی گولی واپس میگزین میں ڈالی۔۔۔
“مم۔۔۔ میرا یقین کرو میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔” سامنے پڑا وجود کراہا۔۔۔
“دو۔۔۔” دوسری گولی بھی میگزین میں جا چکی تھی۔۔۔
“تم کون سی لڑکی کی بات کر رہے ہو مجھے نہیں معلوم۔۔۔” آنکھوں میں آنسو بھرے اس شخص نے پھر وہی بات دہرائ جو اس سے پہلے بھی کہہ چکا تھا۔۔۔
“تین۔۔۔” راجا کاؤنٹنگ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی پنڈولم کی مانند ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا۔۔۔
“تمہیں خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو مجھے۔۔۔” اس کے لہجے میں بے بسی در آئ۔۔۔
“چار۔۔۔” اس کا چہرہ بے تاثر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔ نگاہ جھکا کر ہتھیلی کو دیکھا جس میں فقط ایک گولی باقی تھی۔۔۔
“میرے بیوی بچے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو۔۔۔” ٹانگ کی تکلیف بھلاۓ وہ اپنی جان کی فکر میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا۔۔۔
“پانچ۔۔۔” گنتی مکمل ہو گئ۔۔۔ سامنے پھیلی ہتھیلی بھی اب خالی تھی۔۔۔ اس نے سرد نگاہ سامنے درد سے بے حال ہوتے شخص پر ڈالی۔۔۔ میگزین پسٹل میں ڈالی۔۔۔ ایک ہاتھ سے پسٹل تھامے دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں اس شخص کے بال جکڑے اور بغیر اس کی چینخوں اور کراہوں کی پرواہ کیے اسے ایک کوریڈور میں گھسیٹنے لگا۔۔۔ چند ثانیے بعد وہ دونوں ایک کھلی چھت پر تھے۔۔۔ وہ اسے کھینچتا ہوا کنارے تک لایا۔۔۔ اور ایک جھٹکے کے نتیجے میں ہی انسپکٹر بلاول کا پورا وجود چھت سے نیچے لٹک رہا تھا۔۔۔ اگر بروقت اس نے دونوں ہاتھوں سے مقابل بیٹھے راجا کے بازو کو نہ پکڑا ہوتا تو اب تک اس کی ہڈیوں کا سرمہ بن چکا ہوتا۔۔۔ اس کے بال ابھی بھی راجا کی مٹھی میں تھے جس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔چہرے پر حد درجہ سفاکیت تھی…”مم۔۔۔ مجھے مت مارو۔۔۔ میں۔۔۔ میں بتاتا ہوں۔۔۔ سب بتاتا ہوں۔۔۔ پلیز مجھے بخش دو۔۔۔” خوف سے لرزتی آواز میں التجا تھی۔۔۔ راجا نے اسے اوپر گھسیٹا۔۔۔ اور وہ روتے ہوۓ اسے سچ بتانے لگا۔۔۔ چند لمحوں بعد جب وہ اس سے سب اگلوا چکا تو دوسری گولی اس کی کھوپڑی کے آر پار کر دی۔۔۔ اور وہ۔۔۔ سب انسپکٹر بلاول رضا لڑکھڑاتا ہوا آٹھ منزلہ عمارت کی اس چھت سے نیچے جا گرا۔۔۔
💝💝💝💝💝
“کک…کیا مطلب ہے آپ کا…؟؟” ان کی نگاہوں کے تاثر کو پڑھتے ہوۓ وہ لرز اٹھی…
“مطلب تو بہت صاف ہے لڑکی… تم اس طوطے کی مانند ہو جس میں اس وقت اسد شیرازی کی جان بسی ہے… یقیناً تمہاری گمشدگی کی خبر اسے مل چکی ہو گی… اور وہ پاگل کتے کی طرح تمہیں ڈھونڈنے میں لگا ہو گا… اسے اپنی اتنے برسوں کی محنت پر پانی پھرتا نظر آ رہا ہو گا نا… میں جانتا ہوں… تمہارا کوئ قصور نہیں ہے اس سب میں… تم بے گناہ ہو… لیکن اسد شیرازی کو شکست دینے کے لیے تمہیں ختم کرنا ناگزیر ہے ہمارے لیے… یقیناً یہ بہت بڑی ہار ثابت ہو گی اس کے لیے…مجھے بہت افسوس ہے تمہارے لیے…لیکن کیا کریں…مجبور ہیں ہم… اپنا بدلہ کسی طرح تو لینا ہے نا اس اسد شیرازی سے… ” عبدالواحد کے لہجے میں برف کی سی ٹھنڈک تھی… ابیہا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھے گئ… دل ڈوب کر ابھرا تھا…کچھ کہنے کی کوشش میں لب پھڑپھڑا کر رہ گۓ… گردن میں گلٹی سے ابھر کر معدوم ہوئ…گہری سانس بھرتے ہوۓ اس نے سختی سے آنکھیں رگڑیں…. جہاں اتنے غم ملے ہیں زندگی میں…وہاں ایک اور سہی… ویسے بھی اب واپس کس منہ سے جاۓ گی وہ… راجا کا سامنا کیسے کرے گی… شاید اس کا مر جانا ہی بہتر ہے اب… اذیت بھری سوچیں اسے ڈس رہی تھیں…
عبدالواحد نے حامد کو اشارہ کیا… وہ جو کچھ دیر پہلے ہی وہاں دوبارہ آیا تھا… اس نے اشارہ سمجھتے ہوۓ جیکٹ سے پسٹل نکال کر عبدالوحد کے آگے بڑھے ہاتھ پر رکھا…
“بالآخر آج ہمارا انتقام پورا ہو جاۓ گا… ” بے تاثر لہجے میں کہتے ہوۓ عبدالواحد آگے بڑھا… ہاتھ میں پکڑا پسٹل ابیہا کی کنپٹی پر رکھا…
ابیہا خوف سے لرزتے دل پر قابو پانے کی کوشش کرتی آنکھیں میچ گئ… نگاہوں میں کچھ مناظر ابھرنے لگے تھے… وہ منظر جب وہ اپنی مما اور ڈیڈ کے ساتھ کھیل رہی تھی… کچھ قہقہے کانوں میں گونجنے لگے… مما کی پیار بھری باتیں… زبردستی اسے کھانا کھلانا… ڈیڈ کا اسے گدگدی کرنا… اس کے روٹھنے پر اسے منانا… پھر راجا کا اس کی زندگی میں آنا… ان کا دوستی کرنا… روزانہ ایک دوسرے سے معصومیت بھری باتیں کرنا… اور پھر…اس کے برتھ ڈے کا دن…مما اور ڈیڈ کے قتل کی رات… راجا کا لاشوں کے پاس ہونا… ریت پر دونوں کے نام کے حروف لکھ کر درمیان میں دل بنانا… اور…
اور جب وہ پارلر آنے لگی تھی اس وقت راجا کی اٹھی نگاہوں میں کرب, اذیت,درد,تکلیف کے تاثرات…
اس کے لبوں سے سسکی سی برآمد ہوئ… عبدالواحد نے ٹریگر پر انگلی کا دباؤ بڑھایا تھا…
_________
وہ اس عمارت میں داخل ہوا جس کا پتا سب انسپکٹر بلاول رضا نے دیا تھا… وہ تقریباً پانچ مرلہ مکان تھا… راجا نے سوچا تھا کہ اسے پہلے کافی زیادہ غنڈوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسے اندر جانے سے روکیں گے…
لیکن وہاں گیٹ پر بھی کوئ نہیں تھا… شاید انہیں ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا خود پر کہ کوئ انہیں ڈھونڈ نہیں سکے گا… مکان ابھی رنگ و روغن سے عاری تھا… کسی قسم کا سازو سامان بھی نہ تھا وہاں… شاید ابھی رہائش گاہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا رہا تھا وہ گھر…
راجا دبے پاؤں چلتا ہوا چوکنے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا… تبھی اسے اندر سے ابیہا کی لرزتی آواز سنائ دی…
“کک…کیا مطلب…؟؟” راجا کو اس کے لہجے میں کرب محسوس ہوا تھا… آواز بھی بھرائ ہوئ تھی… اس کے دل کو کچھ ہوا…
وہ آگے بڑھنے لگا تھا جب مردانہ آواز سنائ دی…
“مطلب تو بہت صاف ہے لڑکی… تم اس طوطے کی مانند ہو جس میں…. ” وہ شخص اپنی بات مکمل کر رہا تھا…
سامنے دو کمرے بنے تھے… ایک کمرے کے ساتھ شاید کچن بنایا گیا تھا… اور دوسرے کمرے کی جانب ایک اور کمرہ تھا جس کا دروازہ کچن کی طرف تھا… اور آوازیں اسی کمرے سے آ رہی تھیں…. راجا بغیر چاپ پیدا کیے اس کمرے کی دیوار کی اوٹ میں ہوا… کمرے کا دروازہ موجود نہ تھا… راجا نے ایک نظر اندر دیکھا اور فورأ پیچھے ہو گیا… اندر چار افراد تھے… دو دروازے سے کچھ فاصلے پر بندوقیں تھامے کھڑے تھے… ایک نوجوان ابیہا سے کچھ دور اسی پر نظریں جماۓ کھڑا تھا جبکہ ایک ادھیڑ عمر آدمی اب ریوالور ابیہا کی کنپٹی پر رکھ رہا تھا… ابیہا کا رخ دوسری طرف تھا تبھی راجا اس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا… البتہ اسے بغیر دوپٹے کے بکھرے حلیے میں دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا تھا… نہ جانے کیا سلوک کیا گیا تھا اس کے ساتھ… ایک پل کا توقف کیے بغیر راجا سامنے آیا… اپنے ہاتھ میں پکڑے پسٹل سے اس ادھیڑ عمر آدمی عبدالواحد کے ہاتھ کا نشانہ لیا جس سے وہ ابیہا کی کنپٹی پر ریوالور رکھے گولی چلانے ہی والا تھا… وہ سب اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھے… تبھی ایک دم بوکھلاگۓ… راجا کے پاس صرف چند لمحے تھے… ان کے سنبھلنے تک وہ عبدالواحد کی گردن دبوچ چکا تھا… نیچے گرا اپنا ریوالور بھی اٹھا کر ان کی گردن پر رکھا… وہ سب دنگ رہ گۓ تھے اس کی پھرتی پر…
“آگے بڑھنے کی غلطی مت کرنا… “حامد اور باقی دونوں گارڈز جو اس کی طرف بڑھنے لگے تھے راجا کے غرانے پر وہیں رک گۓ…
“بندوقیں نیچے رکھو… ” راجا کے حکم پر عمل کوتے ہوۓ ان دونوں نے اپنی گنز نیچے رکھ دیں… حامد کا ریوالور پہلے ہی راجا کی قدموں کے قریب پڑا تھا…
راجا نے ایک نگاہ ابیہا کے حیران چہرے پر ڈالی… اس کی حالت دیکھ کر دل میں ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں… ہونٹوں کے کنارے سے بہتے خون کی لکیر جم سی گئ تھی… چہرے پر انگلیوں کے ہلکے ہلکے نشانات اب بھی باقی تھے… اور اس کی پیشانی کا وہ زخم جو دیوار سے ٹکرانے کے باعث بنا تھا… اور وہاں سے جلد سرخ ہو گئ تھی…اس کا حلیہ راجا کو اذیت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل گیا….
اس کی نگاہوں میں موجود شکوے کو پڑھ کر ابیہا نگاہیں جھکا گئ… حامد نے راجا کو ابیہا کی جانب متوجہ دیکھ کر چالاکی سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تھی لیکن راجا کے ہاتھ کا ایک گھونسہ کھا کر لڑکھڑاتا ہوا پیچھے گرا…
“ابیہا کا یہ حال کس نے کیا…؟؟” ایک ہاتھ سے عبدالواحد کا گریبان پکڑے اس نے حامد کو نشانے پر رکھا اور سخت لہجے میں استفسار کیا… عبدالواحد خود کو چھڑانے کی سعی کر رہے تھے…
حامد راجا کی طرف دیکھتا ہوا اٹھا… “میں نے کیا ہے… اور ابھی تو اس کے ساتھ بہت کچھ ہونا باقی ہے… ” نفرت سے اس نے ابیہا کی جانب دیکھا جیسے آنکھوں سے ہی قتل کر ڈالے گا…
اس کی بات پر راجا نے عبدالواحد کو چھوڑا اور طیش سے اس کی جانب بڑھا… اسے گریبان سے پکڑ کر دھکیلا اور دیوار سے لگا دیا….
“ہمت کیسے ہوئ تمہاری… ہاتھ بھی کیسے لگایا ابیہا کو… وہ جس کی طرف نظر بھر کر دیکھنا مجھے گناہ لگتا ہے…تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا…؟؟میں تمہاری جان لے لوں گا… ” غصے سے بے قابو ہوتے ہوۓ راجا مسلسل اس کے چہرے پر وار کر رہا تھا… پنچ پر پنچ مارنے سے اس کی ناک سے خون بہ نکلا… دو دانت بھی ٹوٹ گۓ… منہ سے بھی خون نکلنے لگا تھا…یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ حامد کو اپنے دفاع میں کچھ کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا…
راجا نے اس کا بازو پکڑ کر جھٹکا دیا… حامد تکلیف کی شدت سے چینخ اٹھا… بازو کی ہڈی ٹوٹ گئ تھی غالباً… اب اس کا دوسرا بازو راجا کی گرفت میں تھا…تبھی عبدالواحد تیزی سے ان تک آۓ… “بیٹا چھوڑ دو اسے… خدارا میرے بھتیجے کو مت مارو… ” ابیہا جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے خوفزدہ سی راجا کا یہ روپ دیکھ رہی تھی ایکدم ہوش میں آتی ان کی طرف لپکی…”راجا…پپ…پلیز..
چھوڑ دو اسے…”
جبکہ باقی دونوں گارڈز حامد کا حشر دیکھ کر بندوقیں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے… راجا جو عبدالواحد کی بات پر طیش سے ان کی جانب مڑا… وہ کچھ کہنے ہی والا تھا لیکن ابیہا کے کہنے پر رک گیا… اس کی آنکھوں میں, اس کے چہرے پر موجود وحشت اور دیوانگی دیکھ کر ابیہا دنگ سی رہ گئ… ضبط سے آنکھیں میچ کر راجا نے خود پر قابو پانے کی کوشش کی… پھر حامد کا بازو چھوڑ دیا… وہ کراہتا ہوا زمین بوس ہوا… راجا نے دوبارہ ابیہا کی جانب دیکھنے سے گریز کیا تھا کہ اسے اس حالت میں دیکھنا راجا کو اذیت سے دو چار کر رہا تھا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *