Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08
بیٹا…نام کیا ہے تمہارا…” وہ بزرگ آدمی راجا کے سر پر ہاتھ رکھے اس سے پوچھ رہا تھا… راجا کے آنسو خشک ہو چکے تھے… مسلسل رونے کی وجہ سے گلا بیٹھ چکا تھا… آنکھیں بھی سوجن کا شکار ہو چکی تھیں… “راجا…” اسے بولنے میں تکلیف ہو رہی تھی… “کہاں سے آۓ ہو… تمہارے ماں باپ کہاں ہیں…؟؟” وہ بزرگ شاید اس کے ماں باپ کو اطلاع کرنا چاہ رہے تھے… تبھی تفصیلات پوچھ رہے تھے… “مر گۓ… “راجا نے پہلا سوال نظر انداز کرتے ہوۓ دوسرے سوال کا مختصر جواب دیا… بزرگ چند پل کے لیے خاموش سے ہوگۓ… “کوئ رشتہ دار وغیرہ… جسے تمہاری بہن کی موت کی اطلاع دی جاسکے… ؟؟” بزرگ نے پھر کچھ امید سے اس کی جانب دیکھا… راجا نے نفی میں سر ہلا دیا… “کوئ نہیں ہے…” اس کی خشک اور سپاٹ نگاہیں گڈی کے چہرے سے ہی لپٹی تھیں… “کوئ تو ہو گا…کوئ دور نزدیک…” وہ بزرگ شفقت بھرے لہجے میں کہہ رہے تھے جب راجا نے اس کی بات کاٹ دی… “کوئ بھی نہیں ہے… کوئ بھی نہیں…” اس کا انداز بے لچک تھا… بزرگ سر جھکا کر کچھ سوچنے لگے… پھر پیچھے مڑے… “اسد… جاؤ عمر اور طلحہ کو بھی بلا کر لاؤ… بچی کے کفن دفن کا انتظام کرنا ہے… ” نڈھال سے کہتے ہوۓ وہ اٹھے… “ساجد… تم بچی کو اٹھاؤ اور میرے گھر لے آؤ… وہیں اس کو غسل دے کر کفن پہنایا جاۓ گا اور اس کا جنازہ بھی میرے گھر سے ہی اٹھے گا… ” نرم لہجے میں کہتے ہوۓ وہ راجا کی جانب بڑھے… اس کا ہاتھ تھام کر اٹھایا… ساجد نے آگے بڑھ کر گڈی کے بے جان جسم کو اٹھایا اور وہ سب اس بزرگ آدمی کے گھر کی جانب روانہ ہو گۓ…
_________
ابتہاج نے اسد شیرازی سے متعلق تمام معلومات حاصل کیں اور ایک پلان کے تحت ابیہا کو سیڑھی بنا کر ان کی زندگی میں داخل ہو گیا… اسد شیرازی کا بھروسہ جیتنا اس کے لیے قطعی مشکل ثابت نہ ہوا تھا… اسے معلوم تھا کہ اسد شیرازی کے کچھ دشمن اس کی بیٹی ابیہا کی جان کے پیچھے پڑے ہیں اس لیے اس نے خود چند غنڈوں کے گروہ کو خریدا اور مناسب موقع دیکھ کر ابیہا پر حملہ کروایا… جب اس نے دیکھا کہ ابیہا مکمل طور پر حواس باختہ ہو چکی ہے تب وہ کسی ہیرو کی مانند سامنے آیا اور ابیہا کو اپنے ہی بھیجے گۓ غنڈوں سے بچایا… اس لڑائ کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اس نے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر بھی چوٹ کھائ… یوں اسد شیرازی کے پہنچنے تک وہ ان سب غنڈوں کو ٹھکانے لگا چکا تھا… خود کو غریب اور بیروزگار ظاہر کر کے وہ اسد شیرازی کے پاس نوکری کی تلاش میں بھی چلا گیا… اور اس کی امید کے مطابق اسد شیرازی جو اپنی بیٹی کے حوالے سے کافی پریشان تھا اس نے ابتہاج کو اپنی بیٹی کے گارڈ بننے کی پیشکش کی… وہ جانتا تھا کہ اسد شیرازی پہلے اس کے بارے میں تفتیش ضرور کرے گا اور جس شعبے میں وہ تھا وہاں اس کے لیے اپنی شناخت چھپانا قطعی مشکل نہ تھا… اپنے بچپن کا نام جس نام سے اس کی ماں اسے بلاتی تھی,اسی نام سے اس نے اپنے ڈاکومینٹس بنواۓ… اور راجا کی شکل میں اسد شیرازی سے متعارف ہوا… بظاہر اسے ابیہا کی جان کی حفاظت کرنی تھی لیکن درحقیقت وہ اس طرح اسد شیرازی کے قریب رہ کر اس کی ہر ہر حرکت پر نظر رکھ سکتا تھا, اس کے کالے دھندوں کے بارے میں جان سکتا تھا اور اسے تباہ و برباد کرنے کا وہ جنون جو بچپن سے اب تک اس کے سینے میں بھڑکتی آگ کی مانند پلا بڑھا تھا… وہ جنون اپنے اختتام کو پہنچ سکتا تھا…. ابتہاج عرف راجا بدلے کی آگ میں جل رہا تھا… انتقام اس کی نس نس میں اتر چکا تھا اور اب انتقام کی یہ آگ اسد شیرازی کے خون سے ہی سرد ہونی تھی…
راجا کو اس بزرگ شفیع الدین نے مشکل سے ہی چند نوالے کھلاۓ تھے… وہ کچھ بھی کھانے پر آمادہ ہی نہ تھا…سرخ اور نم آنکھوں سے اپنی بہن کو اس نے قبر میں اتارا تھا… دل غم سے پھٹا جا رہا تھا لیکن بہن کے قبر میں جا سونے کے بعد اس کی آنکھیں خشک ہو گئ تھیں… چہرے پر ویرانی ہی ویرانی تھی… ایک رات اس نے اس بزرگ کے گھر میں گزاری اور رات کے تیسرے پہر وہ اس گھر سے بھی نکل آیا… ان کا اتنا احسان ہی کافی تھا کہ انہوں نے گڈی کے کفن دفن کا انتظام کر کے اسے باعزت طور پر دفن کرنے میں مدد دی تھی…راجا ان پر مزید بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا کہ وہ ان کے گھر گزارے چند گھنٹوں میں ہی ان کے مالی حالات سے واقف ہو گیا تھا… اس لیے اس نے ان کے گھر سے چلے جانا ہی بہتر سمجھا… جب اپنوں کو ہی ان کی فکر نہ تھی تو پھر غیروں کو وہ کیوں اپنی وجہ سے تکلیف دیتا… اب تو اس کی بہن بھی اس کے ساتھ نہ تھی… اب تو کسی قسم کا کوئ ڈر, کوئ خوف نہ رہا تھا اس کے دل میں… صرف ایک جنون تھا… اس دنیا سے لڑنے کا جنون… ان سخت ترین حالات میں آگے بڑھنے کا جنون… خود کو زندہ رکھنے کا جنون… اور کچھ بن کر نیا کو یہ دکھانے کا جنون کہ اس جیسے بچوں کو جب دنیا چھوڑ دیتی ہے, ان کے اپنے سگے رشتے دھتکار دیتے ہیں تب بھی وہ ہمت و حوصلے کا دامن تھام کر سروائیو کر سکتے ہیں… دنیا ان پر ختم نہیں ہو جاتی… بلکہ وہ دنیا کو شکست دے کر جیت کو اپنا مقدر بنا سکتے ہیں…
رات کا ایک بج رہا تھا… ابیہا اس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ کلب میں موجود تھی… سلیو لیس اسکن شرٹ کے ساتھ ڈارک بلیو منی اسکرٹ میں اس کی ٹانگیں گھٹنوں تک عریاں تھیں… وہاں میوزک پر تھرکتے ناچتے تمام لوگ تقریباً اسی طرح کے نیم عریاں لباس میں ہی تھے… امیر طبقوں کے ان نوجوان بچوں میں بے حیائ عام تھی… لڑکے لڑکیاں اردگرد سے بے نیاز ڈی جے کی دھن پر مدہوش سے ناچ رہے تھے… راجا ایک جانب کھڑا بیزاری سے یہ سب تماشا دیکھ رہا تھا… ابیہا سامنے کسی لڑکے کے ساتھ رقص میں مگن تھی… جب اس کی نظر راجا پر پڑی… اس نے اپنے ڈانس پارٹنر کا ہاتھ چھوڑا اور مڑ کر کسی کو ڈھونڈنے لگی… چند لمحوں بعد وہ ایک دوسری لڑکی کے قریب کھڑی اس کے کان میں کچھ کہہ رہی تھی…لڑکی اس کی بات پر مسکراتی ہوئ بال جھٹکتی راجا کی جانب بڑھی… ابیہا پھر سے ڈانس کرنے لگی تھی لیکن اس کی نظریں راجا پر ہی تھیں… جو اب اپنے موبائیل پر مصروف تھا… اس نیم اندھیرے کلب میں موبائل کی ہلکی نیلی روشنی اس کے چہرے کو روشن کر رہی تھی… رشنا اس کے قریب پہنچ کر مڑی… ابیہا نے انگوٹھا اوپر کر کے اسے بیسٹ آف لک کہا… جبکہ اس کے لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ تھی… رشنا بھی مسکراتی ہوئ راجا کی جانب مڑی… “ہے ہینڈسم… کین آئ ڈانس ود یو…؟؟” ایک ادا سے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوۓ رشنا نے راجا کو آفر کی… راجا نے اپنے قریب ابھرتی آواز سن کر سر اٹھایا تو نظر سامنے کھڑی اس لڑکی پر پڑی… راجا نے سر سے پیر تک اس کا جائزہ لیا… بلاشبہ وہ لڑکی حسین ترین تھی… اور اس وقت اس کے سامنے وہ جس حلیے میں کھڑی تھی کوئ بھی ہوش مند انسان اس کے حسن کے سامنے بے بس ہو سکتا تھا…لیکن وہ بھی راجا تھا… کوئ عام انسان نہیں… جو بہک جاتا… اس طرح کے حالات سے اس کا پہلے بھی واسطہ پڑ چکا تھا… “ناٹ انٹرسٹڈ…” سپاٹ سے انداز میں کہتا ہوا وہ پھر سیل کی اسکرین پر جھک گیا… “کم آن بے بی… کم ود می… اینڈ انجواۓ دس نائٹ…” نزاکت سے کہتے ہوۓ رشنا نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب کھینچنا چاہا… “جسٹ شٹ اپ… ایک بار کہا نا نہیں تو بس نہیں… مجھے تم لوگوں کے ساتھ اس بے حیائ کا حصہ بننے میں کوئ دلچسپی نہیں ہے…انڈرسٹینڈ… ” انگلی اٹھا کر اسے کہتے ہوۓ اس کی آواز کافی اونچی ہو گئ تھی… آس پاس کھڑے نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی رک کر ان کی جانب دیکھنے لگے تھے جب معاملہ بگڑتا دیکھ کر ابیہا جلدی سے ان کی جانب آئ… ایک نظر رشنا کی جانب دیکھا جس کا چہرہ مارے خفت اور انسلٹ کے سرخ ہو رہا تھا… “رشنا… آر یو آل رائٹ…؟؟ راجا یہ کیا بدتمیزی…” وہ سخت لہجے میں راجا سے کچھ کہنے جا رہی تھی جب راجا نے سختی سے اس کا بازو اپنی گرفت میں جکڑا…”چلیں یہاں سے…” ترش لہجے میں کہتا ہوا وہ ابیہا کو گھسیٹتا ہوا وہاں سے لے گیا… سب لوگ حیران پریشان سے انہیں جاتے ہوۓ دیکھتے رہے…
“راجا میں کہہ رہی ہوں چھوڑو مجھے…” وہ مسلسل مزاحمت کرتی ہوئ راجا کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑانے کی تگ و دو میں تھی جبکہ وہ اس کی ہر بات کو ان سنی کرتے ہوۓ مسلسل چلتا ہی جا رہا تھا… کلب کافی پیچھے رہ گیا تھا اور یہ جگہ کافی سنسان تھی… “راجا لیو می…” ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑاتے ہوۓ وہ اس سے دور ہوئ تھی… “کیا بدتمیزی ہے یہ ہاں… سمجھتے کیا ہو تم اپنے آپ کو…؟؟” وہ نفرت اور غصہ سے بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی اسے کاٹ کھانے کو دوڑی تھی… “وہی سمجھتا ہوں جو میں ہوں…” اس کے برعکس راجا کے لہجے میں اطمینان ہی اطمینان تھا… ” تم ایک نمبر کے اسٹوپڈ, ایڈیٹ اور ایروگینٹ انسان ہو… کس چیز کی اکڑ ہے تم میں… صرف شکل ہی اچھی ہے نا… تو اس پہ اتنا غرور…؟؟ ایسے بی ہیو کرتے ہو جیسے کسی بڑی سلطنت کے راجا ہو تم… ” وہ سلگتے ہوۓ بولتی چلی گئ… “راجا ہوں تو راجا کی طرح ہی بی ہیو کروں گا نا…” ہاتھ باندھے سر جھکاۓ وہ اپنے شوز سے مٹی کھرچ رہا تھا… “یو… میرا دل چاہتا ہے یا تمہارا سر دیوار میں دے ماروں یا اپنا…” وہ اپنا سر تھام کر بولی تھی… “اپنا ہی مار لیں… ساری مصیبت کی جڑ ہی ختم ہو جاۓ گی…” وہ مدھم آواز میں بڑبڑایا تھا… ابیہا اس کی بڑبڑاہٹ سن چکی تھی… لیکن اب کی بار خاموش رہی… اسے رہ رہ کر اپنی پارٹی خراب ہو جانے کا افسوس ہو رہا تھا… جب سے یہ راجا اس کی زندگی میں آیا تھا اس کی زندگی ہی اجیرن کر کے رکھ دی تھی اس نے… وہ ڈیڈ کو کئ بار اس کی شکایت کر چکی تھی لیکن اس نے ڈیڈ پر خدا جانے کیا جادو کیا تھا کہ وہ اب ابیہا کی کسی بات پر کان دھرنے کو تیار ہی نہ تھے… آج اس کی وجہ سے ابیہا کی اپنے فرینڈز کے سامنے کتنی انسلٹ ہوئ… اور رشنا… اس کا وہ سرخ چہرہ یاد کر کے وہ ایک بار پھر طیش میں آئ تھی… “کتنے پیار سے رشنا تمہیں ڈانس کی آفر کر رہی تھی… اور یوں سب کے سامنے اس کی انسلٹ کر کے رکھ دی… کوئ ایسے بھی ڈانٹتا ہے کیا کسی خوبصورت لڑکی کو…” وہ اب اسے ملامت کر رہی تھی… “میرے لیے وہ خوبصورت لڑکی کم اور بے حیائ اور فحاشی کا پیکر زیادہ تھی… ” سرد آواز میں کہہ کر وہ ادھر ادھر نظریں گھمانے لگا…
“تمہارے سینے میں دل نام کی کوئ چیز ہے یا نہیں۔۔۔” وہ سلگ اٹھی تھی اس کے انداز پر۔۔۔
“میں ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا۔۔۔” دوسری جانب بے نیازی عروج پر تھی۔۔۔
“کیوں۔۔۔باڈی گارڈ ہو تم میرے۔۔۔ حق رکھتی ہوں میں کہ تمہارے بارے میں سب جانوں۔۔۔” وہ تڑخ کر بولی۔۔۔
” محافظ میں ہوں آپ کا… اس لیے مجھے آپ کے بارے میں سب جاننا چاہیے کہ آپ کب کہاں جاتی ہیں, کس سے ملتی ہیں…کیا ایکٹیویٹیز ہیں آپ کی… آپ کو میرے بارے میں جاننے کی ضرورت نہیں ہے… آپ کو صرف اپنی سیکیورٹی سے مطلب ہونا چاہئیے…” کہتے ہوۓ اس نے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں گھساۓ…
“ہونہہ۔۔۔ اور تم جو میرے محافظ بنے پھرتے ہو۔۔۔اگر تم ہی میرے دشمن نکلے تو۔۔.؟؟ اگر تم نے موقع ملتے ہی مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تو۔۔۔؟؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ اس سے پہلے ہی میں تمہاری اصلیت جان لوں۔۔۔” وہ طنزیہ کہہ رہی تھی۔۔۔ سامنے کھڑا وہ وجاہت کا شاہکار شخص مسلسل اس کا ضبط آزما رہا تھا۔۔۔ اس کی بات پر راجا نے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔۔ ایک پل کا توقف کیے بغیر اس نے ریوالور نکالا۔۔۔ اس کے نشانے پر وہ تھی۔۔۔ ابیہا اسد شیرازی۔۔۔ اس کے چہرے پر ابھرتی سختی کو دیکھ کر ابیہا کی رنگت زرد پڑنے لگی…
_________
“راجا… یہ…یہ تت…تم کیا…کر رہے ہو… آئ…آئ واز جسٹ جوکنگ…” ابیہا کی رنگت زرد ہونے لگی تھی… ہکلاتے ہوۓ وہ بمشکل اپنی بات مکمل کر پائ… راجا لب بھینچے, بے تاثر چہرہ لیے ریوالر اس پر تان کر کھڑا تھا… ابیہا نے کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا…رات کے تقریباً دو بج رہے تھے اور اس وقت وہ سڑک جہاں وہ کھڑے تھے بالکل سنسان تھی… اگر راجا اس پر فائر کر دیتا تو وہ اپنی مدد کے لیے کسی کو پکار بھی نہ سکتی تھی… دل ہی دل میں سخت خوفزدہ ہوتے ہوۓ اس نے لبوں پر زبان پھیری… اس کی نظر راجا کے ہاتھ پر پڑی جس میں ریوالور تھا… اور اسے لگا جیسے اس کی روح فنا ہو گئ ہو… راجا کی انگلی ٹریگر پر تھی اور وہ انگلی کا دباؤ بڑھا رہا تھا ٹریگر پر…کسی بھی لمحے گولی اس کی گن سے نکل کر ابیہا کے سینے کے آر پار ہو جاتی… ڈر سے کانپتی وہ آنکھیں بند کر گئ… چند لمحے یونہی گزر گۓ… ” اگر آپ کی جان لینا ہی میرا مقصد ہوتا تو میں کب کا اس مقصد میں کامیاب ہو چکا ہوتا… کیونکہ یہ تو آپ بھی جانتی ہیں کہ اس کام کے لیے مجھے کئ مواقع مل چکے ہیں… جب پہلی بار آپ مجھے ملیں میں تبھی آپ کو ختم کر سکتا تھا… لیکن یہ جو محافظ ہوتے ہیں ناں وہ کبھی بھی آپ کی جان کے دشمن نہیں ہوتے…” وہ چند پل کے لیے رکا… ابیہا نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا… وہ پہلی بار اسے اتنی لمبی بات کرتے ہوۓ دیکھ رہی تھی…ورنہ اس کا جواب ہمیشہ مختصر ہی ہوتا… اور پہلی بار ہی وہ اسے اتنی توجہ سے سن رہی تھی…”کسی کو مارنے سے زیادہ مشکل اسے بچانا ہوتا ہے…میرے لیے آپ کی جان لینا اتنا ہی آسان ہے جتنا دو انگلیوں سے چٹکی بجانا… لیکن میرا کام آپ کی جان لینا نہیں آپ کی جان کی حفاظت کرنا ہے… یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بٹھا لیں… اور مجھ سے چڑنا چھوڑ دیں… مجھ پر تو کوئ اثر ہو گا نہیں الٹا اپنا ہی نقصان کروائیں گی… میں آپ کے ساتھ ضرور رہتا ہوں ہر وقت… لیکن آپ کے کسی کام میں مداخلت نہیں کرتا… آپ کو جو کرنا ہے ہر کام میں آزاد ہیں… لیکن یہ جو حرکت آپ نے آج کی نیکسٹ ٹائم ایسا کچھ نہ ہی کریں تو بہتر ہے… مجھے آپ کے رنگ میں رنگنے اور آپ کا لائف اسٹائل اپنانے میں کوئ انٹرسٹ نہیں… اس لیے اس معاملے میں محتاط رہئیے گا… یہ میری پہلی اور آخری وارننگ ہے… مائنڈ اٹ…” سخت لہجے میں کہتا وہ اسے یہ بھی جتا گیا تھا کہ اسے معلوم ہے رشنا کو ابیہا نے ہی اس کے پاس بھیجا تھا… ابیہا سٹپٹا کر رہ گئ اس کے اس انداز پر… “یہیں رکیے… میں گاڑی لے کر آتا…” وہ وہاں سے بائیں جانب مڑ گیا… اس کا رخ پارکنگ کی طرف تھا… ابیہا اسے دور جاتا دیکھتی رہی… دونوں پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسا کر جاتے اس شخص کے لیے پہلی بار ابیہا نے کچھ مثبت فیلنگز محسوس کی تھیں… وہ بالکل سہی کہہ رہا تھا… پہلے دن سے ہی نہ جانے کیوں اس سے چڑنے لگی تھی… جبکہ آج تک راجا نے اس کے ساتھ کبھی مس بی ہیو نہیں کیا تھا… اس کے ساتھ بھی ہوتا تو بالکل چپ چاپ… کہ اس کی موجودگی کا گمان تک نہ ہوتا… مجھے اب اپنے اور اس کے درمیان سے یہ چڑچڑاہٹ کا رشتہ ختم کرنا ہو گا… ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجاۓ وہ سوچ رہی تھی…
مسلسل چلتے ہوۓ راجا اب ایک بڑے شہر میں موجود تھا… تھک کر وہ وہیں ایک طرف فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا… دل میں بڑے عزائم تو موجود تھے لیکن کوئ راستہ نظر نہیں آ رہا تھا کہ اپنی زندگی کو کہاں سے شروع کرے… گندے میلے کچیلے اور پھٹے ہوۓ کپڑے پہنے وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا جب اس کا ارتکاز ایک آواز نے توڑا… “اللہ کے نام پر کچھ دے دو بابا…” وہ چونک کر سیدھا ہوا… سر اٹھایا تو سامنے بہت سی گاڑیاں نظر آئیں… وہاں سگنل ریڈ ہونے کی وجہ سے گاڑیاں رکی ہوئ تھیں اور ان کے درمیان ہی ایک بوڑھی عورت بھکارن بنی صدا لگاتی جا رہی تھی… اس کے ہاتھ میں کٹورا تھا… ہر گاڑی کے قریب جا کر وہ کھڑکی پر دستک دیتی اور تمام لوگ اپنی اپنی گنجائش کے مطابق اس کے کٹورے میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتے… راجا کو یاد تھا اس کے گھر کے دروازے پر جب بھی کوئ سائل آتا اس کی ماں کبھی اسے خالی ہاتھ نہ لوٹاتی… اس کی ماں کہا کرتی تھی کہ اللّہ ان فقیروں کے ذریعے بھی اپنے بندوں کو آزماتا ہے… آج اللہ کا نام سن کر ہی راجا کو جینے کا ایک آسرا ملا تھا… کام کچھ عجیب ضرور تھا لیکن اسے کچھ بننے کے لیے اپنی عزت نفس کو مارنا ہی تھا….جب بات زندگی اور عزت نفس پر آۓ تو یقیناً ہر شخص زندگی کو ہی چنے گا…وہ اٹھا… اپنی گھسی ہوئ پرانی چپل جو اس کی ماں نے ہی اسے لے کر دی تھی کو گھسیٹتا ہوا گاڑیوں کی جانب بڑھا… چند منٹ بعد وہ بھی اس عورت کی طرح سڑک پر کھڑا دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا تھا…
ابتہاج اپنے روم کی کھڑکی میں کھڑا تھا… اسد شیرازی کی طرف سے اسے یہیں اس کے گھر میں ہی ایک کمرہ دے دیا گیا تھا… اس نے ہاتھ میں ایک تصویر تھام رکھی تھی… اس کے بچپن کی تصویر… جس میں وہ, اس کی ماں اور اس کی بہن مسکراتی ہوئ کیمرے کی جانب دیکھ رہی تھیں… کتنے خوبصورت لمحات تھے وہ جنہیں کیمرے میں قید کر لیا گیا تھا… اب تو دل ترس کر رہ گیا تھا ایسی کسی بے ساختہ سی مسکراہٹ کو… زندگی نے جیسے جیسے اسے سمجھداری سونپی تھی ویسے ویسے اس سے اس کی مسکراہٹ چھین لی تھی… اسے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مسکراہٹ اس کے لیے بنی ہی نہیں… وہ کسی اور ہی جہان میں کھویا ہوا تھا جب کسی آہٹ پر چونکا… کمرے سے باہر ہال میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئ تھی… وہ جلدی سے دروازے کی جانب بڑھا… کی ہول سے باہر دیکھا… اسے کسی کی جھلک نظر آئ تھی… چہرہ وہ دیکھ نہیں سکا… وہ جو بھی تھا آگے بڑھ گیا تھا… ابتہاج کھڑکی کی جانب لپکا… وہ شخص اب نیچے روش پر چلتا بیرونی گیٹ کی جانب بڑھ رہا تھا…جسم پر لمبا سیاہ کوٹ تھاجبکہ سر پر بلیک ہیٹ جس سے چہرہ ڈھکا ہوا تھا… رات کے ڈیڑھ بجے یہ کون تھا بھلا جو اسد شیرازی کے گھر سے نکل رہا تھا اور انداز بھی اتنا محتاط جیسے اپنی موجودگی کا احساس نہ کروانا چاہتا ہو دوسروں کو…
گیٹ کیپر نے اس کے گیٹ پر پہنچنے تک دروازہ بھی وا کر دیا تھا…اس کا مطلب وہ بھی اس شخص کو جانتا تھا… کہیں یہ اسد شیرازی ہی تو نہیں…لیکن اس وقت وہ یوں چھپ چھپا کر کہاں جا رہا ہے… ابتہاج سوچنے لگا… چند لمحوں بعد وہ بنگلے کی پچھلی دیوار پھلانگ کر اس شخص کے پیچھے جا رہا تھا… اسے سراغ لگانا تھا اس شخص کا… کچھ دور جا کر اس کے پاس ایک گاڑی آ رکی… وہ گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا جب ابتہاج کی نظر اس کے چہرے کے دائیں رخ پر پڑی…بلاشبہ وہ اسد شیرازی ہی تھا… اور یقیناً وہ اپنے کالے دھندوں کو انجام دینے کے لیے رات کی سیاہی کا سہارہ لیتا تھا…تبھی تو کوئ اسے پہچانتق نہ تھا کہ یہی انڈر ورلڈ کا سب سے پاورفل انسان ہے… چند ہی لمحوں میں وہ ابتہاج کی نظروں سے اوجھل ہو گیا… اور ابتہاج ہاتھ ملتا رہ گیا… آج اسے موقع ملا تھا اسد شیرازی کے بارے میں کسی سراغ کا پتا لگانے کا لیکن افسوس اس کے پاس فی الحال کوئ گاڑی یا بائیک نہیں تھی جس سے وہ اسد شیرازی کا پیچھا کر سکتا… سوچتی نگاہوں سے سڑک کو دیکھتا ہوا وہ مڑا اور بنگلے کی جانب بڑھ گیا.
