Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27

چاچو… آپ… آپ نے مجھے کیوں مارا…؟؟” حامد نے حیران ہوتے ہوۓ پوچھا اور تھپڑ کے باعث لب کا کنارہ پھٹنے سے اس سے نکلنے والا خون ہاتھ سے صاف کرتا اس شخص کی طرف آیا…
ابیہا کی نظریں بھی حامد کو تھپڑ مارنے والے کی طرف اٹھیں… وہ اس چہرے کو نہیں پہچانتی تھی…لیکن وہ تقریباً پینتالیس سے پچاس سال کی درمیانی عمر کا ہو گا….
“ہاں میں… جب کہا تھا کہ میرے پہنچنے سے پہلے اس لڑکی کو خراش تک نہیں آنی چاہیے تو پھر یہ سب کیا تھا… ؟؟” وہ ادھیڑ عمر شخص سختی سے حامد سے بازپرس کر رہا تھا… ابیہا کے آنسو تھمنے لگے… ایک امید سی پیدا ہوئ تھی کہ شاید یہ نووارد اس کی کچھ مدد کرے گا ان لوگوں کے چنگل سے نکلنے میں…
“میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا چاچو… لیکن اس لڑکی کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا… ” وہ شرمندہ سا کہہ رہا تھا… یقیناً اس پر اس کے چاچو کا رعب چلتا تھا… نووارد نے ناگواری بھری نگاہ اس کے جھکے سر پر ڈالی… پھر ابیہا کی جانب متوجہ ہوا…
“ابیہا مراد…؟؟ یہی نام ہے ناں تمہارا… ؟؟” ابیہا کے لیے بھی اس کا لہجہ سخت ہی تھا…
“جج…جی… ” اس نے پیشانی سے اٹھتی تکلیف کو بمشکل برداشت کرتے ہوۓ جواب دیا… تھوڑی حیرت بھی ہوئ تھی اسے کہ دنیا اسے ابیہا اسد شیرازی کے نام سے ہی جانتی تھی… پھر بھلا اس انسان کو اس کا اصل نام کیسے معلوم ہوا…
“ہممم… بہت لمبا انتظار کروایا اس دن کے لیے تم نے… ” ہنکارا بھر کر وہ پھر سے مخاطب ہوا… ابیہا کیا کہتی اس بات پر…. لب کاٹتی سر جھکا گئ…
“میں جانتا ہوں کہ تمہارے دل میں بہت سے سوالات مچل رہے ہوں گے…کہ ہم کون ہیں… تمہیں کیسے جانتے ہیں… تمہیں اغواء کرنے کا کیا مقصد ہے ہمارا… وغیرہ وغیرہ… ” وہ آگے بڑھ کر کمرے میں موجود اکلوتی کرسی پر بیٹھ چکا تھا… جبکہ حامد اب مؤدبانہ انداز میں پیچھے کھڑا تھا… البتہ قہر بھری نگاہیں ابیہا پر ہی جمی تھیں…ابیہا جو پہلے ہی حددرجہ وحشیانہ سلوک سہتے سہتے تھک چکی تھی اب مسلسل کھڑے رہنے سے اس کی ٹانگیں شل ہونے لگیں… جسم میں بھی درد اٹھنے لگا تھا… اس کے ہونٹوں کے کنارے سے بھی خون بہہ رہا تھا جبکہ دائیں رخسار پر انگلیوں کے نشان نظر آ رہے تھے… وجود دوپٹے سے بے نیاز تھا…اور بال بکھرے پڑے تھے…ہیل پہننے کے باعث پیروں میں بھی درد اٹھ رہا تھا…گردن پر پڑی خراشیں واضح نظر آ رہی تھیں… رونے کے باعث آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں…
“امیر لوگوں کے بچوں کو اغواء کرنے کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے بھلا… تم لوگوں کو پیسہ ہی چاہیے نا… تو مجھے ایک کال کر لینے دو ڈیڈ کو… جتنے پیسے چاہو گے مل جائیں گے…لیکن خدارا مجھے چھوڑ دو… ” ابیہا نے آس بھری نگاہوں سے سامنے براجمان اس شخص کو دیکھا جو اس کے باپ کی عمر کا تھا…
ابیہا کی بات پر اس کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ ابھری…
“ہنہہ…پیسہ… دولت… فون کال… اسد شیرازی… ؟؟ ارے اس بھکاری سے تاوان وصول کرنے کے لیے کوئ تمہیں کیوں اغواء کرے گا… وہ تو خود تمہاری دولت کی وجہ سے جی رہا ہے… ” لہجے میں استہزاء کا رنگ غالب تھا… ابیہا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا…
“کیا مطلب…؟؟ اور اگر پیسے کے لیے نہیں اغواء کیا گیا مجھے تو پھر اور کیا مقصد ہو سکتا ہے اس سب کا…؟؟” وہ سوالیہ نظروں سے انہیں تکنے لگی… دل کا ڈر اور خود دھیرے دھیرے زائل ہونے لگا تھا…
“بیٹھو… تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں…” وہ شخص اٹھا… اور ابیہا کو اپنی چھوڑی گئ کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا… ابیہا جھجھکتی ہوئ اس کرسی پر جا بیٹھی…
“سنو… دو دوست تھے… مراد بخاری اور اسد شیرازی… مراد بخاری کا تعلق اونچے خاندان سے تھا… جہاں روپے پیسے کی ریل پیل تھی… صرف پیسہ ہی نہیں وہ لوگ اخلاق, نیک نیتی, رحم دلی کے جذبات سے بھی مالا مال تھے… یہی سبق مراد بخاری کو بھی پڑھایا گیا…
اسد شیرازی ان کے ملازم کا بیٹا تھا لیکن مراد بخاری کی اس سے خاصی دوستی تھی… مراد بخاری نے کبھی روپے پیسے کی وجہ سے انسانوں میں فرق نہ کیا… بچپن سے دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے اور ساتھ ہی ان کی دوستی بھی… مراد بخاری اپنے تمام کھونے اسد شیرازی کو بھی دیتا کھیلنے کو…لیکن اسد شیرازی کے دل میں دولت نہ ہونے کے باعث احساس کمتری کا درخت توانا ہوتا گیا… بظاہر وہ مراد بخاری کا بہترین دوست تھا لیکن اس کے دل میں مراد بخاری کے لیے کینہ, حسد, بغض جیسے جذبات تھے…
خیر دونوں بڑے ہوتے گۓ…
اپنے کاروبار میں مصروف ہوۓ… مراد بخاری جب پریکٹیکل لائف میں داخل ہوۓ تو ان کا بزنس ان کی نیک نیتی کی بدولت دن دگنی رات چگنی ترقی کرنے لگا… جبکہ اسد شیرازی برے لوگوں کی صحبت میں رہ کر برائ کا رستہ اختیار کرتا گیا… ایک دو بار مراد بخاری کو خبر ہوئ تو اس نے اسد شیرازی کو روکنے کی کوشش کی…برے کاموں سے منع بھی کیا لیکن اسے برائ کی لت لگ چکی تھی…
مراد بخاری کے سامنے وہ بالکل ٹھیک رہنے لگا لیکن اس سے چھپ کر اس نے بری روش اختیار کیے رکھی…
دونوں نے شادیاں کیں… قسمت کی مہربانی تھی یا مراد بخاری کی خوش نصیبی کہ انہیں شریک حیات بھی انتہائ نیک ملی… پھر ان کے گھر بیٹی پیدا ہوئ… جس کا نام رکھا گیا ابیہا مراد بخاری… “
وہ شخص چند پل کے لیے سانس لینے کو رکا… ابیہا دم سادھے سب سن رہی تھی… نہ جانے کونسے راز فاش ہونے جا رہے تھے آج…
“دوسری جانب اسد شیرازی نے بہت سی عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات بناۓ… دو عورتوں سے شادی بھی کی… لیکن باپ بننے کی صلاحیت سے محرومی کے باعث وہ دونوں اسے چھوڑ گئیں…
مراد بخاری کی خوشحال زندگی دیکھ کر اس کی جلن میں مزید اضافہ ہوتا گیا… غلط کاموں میں ملوث ہونے کے باوجود بھی اسے پیسوں کے لیے ترسنا ہی پڑتا تھا…غلط کاموں کی کمائ میں برکت کہاں رہتی ہے…
خیر… ہم بات کر رہے تھے اسد شیرازی کی جلن اور اس کے حسد کے بارے میں… تو ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کا احساس کمتری بڑھتا چلا گیا…
پھر اس نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا… مراد بخاری اور ان کی شریک حیات اپنی بیٹی کا برتھ ڈے سیلیبریٹ کر کے واپس آ رہے تھے گھر… اسد شیرازی کو اس بارے میں پہلے سے ہی خبر تھی… وہ اپنے ساتھیوں کو لیے وہاں سنسان سڑک پر موقع کے انتظار میں تھا… اس کا ایک ساتھی تھا عبدالوحید جس نے مراد بخاری کی گاڑی آتے ہوۓ دیکھی تو اسد شیرازی کے کہنے پر گاڑی کے سامنے آ گیا… ” وہ پھر رکے… ابیہا الجھن بھری نگاہوں سے انہیں تک رہی تھی… ابھی تک کوئ بات اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی…
“توقع کے عین مطابق… گاڑی کے سامنے کسی انسان کو دیکھ کر مراد بخاری نے اسے بچانے کی بھرپور کوشش کی… گاڑی رکتے رکتے بھی عبدالوحید کو ہٹ کر گئ تھی… مراد بخاری اور ان کی شریک حیات راحیلہ بخاری فورأ گاڑی سے اتر کر اس تک آۓ… اس بات سے بے خبر کہ وہاں ان کی موت کھڑی ان کا انتظار کر رہی ہے… ” ابیہا نے اذیت کے مارے سختی سے آنکھیں میچیں… وہ منظر وہ کیسے بھول سکتی تھی… وہ تکلیف دہ منظر اس کے حافظے میں محفوظ ہو چکا تھا… کسی ناسور کی طرح ہر روز, ہر لمحہ اسے تکلیف دیتا….
“اسد شیرازی نے پوری پلاننگ کے تحت مراد بخاری اور ان کی شریک حیات کو قتل کیا… تبھی اس روڈ پر کسی گاڑی کے آنے کی اطلاع ملی انہیں… وہ سب بے جان پڑی راحیلہ مراد بخاری اور درد سے تڑپتے مراد بخاری کو چھوڑ کر نشیب میں اتر گۓ… لیکن تبھی قسمت کا مارا ایک آٹھ سے نو سال کا بچہ مراد بخاری کی گاڑی سے اتر کر ان کی طرف بڑھا… غالباً وہ انہیں بچانا چاہتا تھا….لیکن ناسمجھ ہونے کی وجہ سے شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے اس نے مراد بخاری کے دل کے مقام پر گڑے خنجر کو نکال دیا کہ شاید اس سے ان کی تڑپ میں کچھ کمی آ جاۓ… یہ اس کی بد نصیبی تھی کہ تبھی وہاں وہ گاڑی آن رکی… اور گاڑی میں موجود مسافروں نے لاشوں کے پاس تنہا بیٹھے اس بچے کے ہاتھوں میں خنجر دیکھ کر اسے ہی قاتل قرار دے دیا اور یوں اسد شیرازی جو اس بچے کو بھی مارنے کا ارادہ لیے نیچے چھپا بیٹھا تھا اسے قانون کی گرفت میں پھنستے دیکھ کر مطمئین ہو گیا… “
ابیہا کی نگاہوں میں وہ سب مناظر گھومنے لگے جب راجا نے اسے وضاحت دینی چاہی…
جب التجائیہ انداز میں ایک بار اپنی بات کہنے کے لیے اس سے منتیں کر رہا تھا…
کتنی کوشش کی تھی ناں اس نے ابیہا کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی… خود کی بے گناہی ثابت کرنے کی…
لیکن قانون نے بھی اسے اس گناہ کی سزا دی جو اس نے کیا ہی نہ تھا اور اس پر ستم ابیہا کی راجا سے کی جانے والی نفرت… وہ ہچکیوں سے رونے لگی تھی… راجا کی تکلیف کو محسوس کر کے… اس کی بے بسی, اس کے غم کا اندازہ کر کے…
“اس سارے واقعے میں اس بچے کے بعد اگر کوئ سب سے زیادہ متاثر ہوا تو وہ تھی ابیہا مراد بخاری… پانچ سالہ بچی… جس نے اپنی آنکھوں سے اس بچے کو خنجر پکڑے اپنے ماں باپ کی لاشوں کے پاس بیٹھے دیکھا تھا… وہ نفرت کرنے لگی تھی اس سے… اور اسی نفرت اور اس کی تنہائ کا فائدہ اٹھایا اسد شیرازی نے… قانون کو ابتہاج کے نام کا مجرم مل چکا تھا… فیصلہ ہو چکا تھا لہٰذا اسد شیرازی نے ابیہا کی نگاہوں میں اپنا امیج ایک غمخوار کا سا بنایا… ابیہا مراد اس کے لیے سونے کی چڑیا تھا… اور اس سونے کی چڑیا کو اپنی شفقت اور محبت کے پنجرے میں قید رکھنا تھا اسد شیرازی نے…
وہ ابیہا کو اپنے ساتھ لے گیا اپنے گھر… دنیا کی نظر میں وہ ابیہا کا سرپرست بن گیا تھا اور ابیہا کی نظر میں اس کے باپ کے جیسا مشفق اور مہربان… لیکن حقیقت کیا تھی…یہ نہ دنیا جان سکی نہ ہی ابیہا… “
ابیہا نے بے یقینی بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا… “جھوٹ بول رہے ہیں آپ… بکواس ہے یہ سب… اسد انکل ایسے نہیں ہیں… وہ بھلا کیوں ماریں گے ڈیڈ کو… ڈیڈ کے سب سے اچھے دوست تھے وہ… اور… اور مجھے بھی ایک باپ کا سایہ فراہم کیا انہوں نے…آپ یقیناً ان کے دشمن ہیں اور مجھے ورغلا کر ان کے خلاف کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان سے بدلہ لے سکیں… ” وہ طیش سے بولتی اٹھ کھڑی ہوئ… سامنے ادھر سے ادھر چکر لگاتے شخص نے ناگواری سے اسے دیکھا…
“ہاں یہ درست ہے کہ ہم اسد شیرازی کے دشمن ہیں… لیکن اس کے دشمن کیوں بنے یہ نہیں جاننا چاہو گی تم… ؟؟” سرد لہجے میں آگ کی چنگاریاں تھیں… ابیہا دھندلی ہوتی نگاہوں کو ہاتھ سے رگڑتی انہیں دیکھنے لگی…
“اسد شیرازی نے اپنی پلاننگ میں جن پانچ لوگوں کو شامل کیا تھا مراد بخاری کو مارتے ہی اس نے ان پانچوں افراد کو مار ڈالا… جانتی ہو کیوں…؟؟ اس لیے کہ کہیں وہ پانچوں اس کا پول نہ کھول دیں کسی کے سامنے… یا وہ جائیداد جو مراد بخاری کی تھی اس میں سے اپنا حصہ نہ مانگ لیں…
اور وہ عبدالوحید جو گاڑی کے سامنے آیا تھا اسے اسد شیرازی نے اتنی بے دردی سے مارا تھا کہ…
رات کے وقت اس کے گھر میں گھس کر پہلے اس کے اور اس کے بچوں کے سامنے اس کی بیوی کی عزت کو تار تار کیا… اسے ختم کیا… اس کے تین بچوں کا گلہ کاٹ دیا اور عبدالوحید کو گلہ گھونٹ کر مار ڈالا…. اس کے بعد اس کا پورا گھر جلا دیا… اور شارٹ سرکٹ کا نام دے کر اپنی راہ کا کانٹا نکال پھینکا… میں اسی عبدالوحید کا بھائ ہوں… عبدالواحد… اور یہ… یہ جو تمہارے سامنے کھڑا ہے نا… حامد عبدالوحید… یہ اسی عبدالوحید کا بیٹا ہے جو دوسرے شہر اپنے ننھیال میں ہونے کے باعث زندہ بچ گیا…
اپنی ان آنکھوں سے میں نے اسد شیرازی کو درندہ بنتے دیکھا ہے… اس کی وحشت کی بھینٹ چڑھتے دیکھا ہے اپنے بھائ بھابھی اور ان کے بچوں کو… کلیجہ منہ کو آتا ہے جب بھی اس منظر کو یاد کرتا ہوں… مجھے نہ جانے کیسے خدا نے زندہ بچا لیا کہ میں رات کو تھوڑی دیر کے لیے چہل قدمی کرنے باہر چلا گیا تھا… ورنہ شاید مجھے بھی ختم کر دیتے وہ لوگ… ” شدت جذبات سے کہتے ہوۓ عبدالواحد کی آواز بھرائ تھی… حامد ضبط نہ کر پانے کے باعث اس کمرے سے ہی چلا گیا تھا…
جبکہ ابیہا… وہ تو سن سی عبدالواحد کے چہرے کو ہی تکے جا رہی تھی… سانسیں جیسے رکنے کو تھیں… نہ جانے اور کتنی اذیتیں تھیں زندگی میں جو اسے مزید جھیلنی تھیں…نہ جانے کتنے پہاڑ ٹوٹنے تھے اس نازک جان پر… زندگی ہر نۓ موڑ پر ایک بدترین اور بھیانک چہرے کے ساتھ موجود ہوتی… انسانوں پر سے تو اس کا اعتبار ہی کھونے لگا تھا…ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ اسے لگا وہ ابھی بے ہوش ہو کر گر جاۓ گی… لیکن نہیں… ابھی تو اسے اور بھی بہت کچھ سننا تھا… بہت کچھ سہنا تھا…
💝💝💝💝💝
راجا کو سب انسپکٹر بلاول رضا کی تمام ڈیٹیلز مل چکی تھیں… اس کا نمبر ٹریس کر کے وہ اس کا موجودہ ٹھکانہ بھی جان چکا تھا… گاڑی کو رائل ہوٹل کی جانب موڑتا وہ ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤں بڑھاتا چلا گیا…
ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی روک کر وہ تیز قدموں سے اندر داخل ہوا… سختی سے بھینچی مٹھیاں اس بات کا اظہار کر رہی تھیں کہ وہ ضبط کے کن کڑے مراحل سے گزر رہا ہے… آنکھوں کی سرخی بھی گہری ہوتی جا رہی تھی…
“انسپکٹر بلاول کا روم نمبر… ؟؟” ریسیپشن پہ آ کر اس نے تیز لہجے میں پوچھا…ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑا ایک کارڈ ریسیپشنسٹ کو دکھایا… وہ جو نفی میں سر ہلاتی کچھ کہنے لگی تھی کارڈ دیکھ کر چپ کی چپ رہ گئ… “ویٹ آ منٹ سر… ” کنفیوز سے لہجے میں کہتے ہوۓ وہ کمپیوٹر پر جھک گئ… چند ثانیوں بعد سر اٹھایا…
“سر… فلور نمبر 6 روم نمبر 108…”
اس کے کہتے ہی راجا فورأ آگے بڑھ گیا… لفٹ کے اوپر جانے میں جو چند لمحے لگے تھے وہ بھی اس پر گراں گزر رہے تھے… شدید ترین اسٹریس کے باعث سر دکھنے لگا تھا… لیکن حواس بحال رکھتے ہوۓ وہ لفٹ سے نکلا… اس کا رخ کمرہ نمبر 108 کی طرف تھا…
دروازے پر تین بار دستک دی تب کہیں جا کر دروازہ کھلا… “کون ہے… کہا بھی تھا کہ ڈسٹرب مت کرنا… ” سب انسپکٹر بلاول راضا بنیان پر شرٹ پہن کر اس کے بٹن بند کرتا دروازے تک آیا تھا… راجا نے ایک نظر کمرے کے اندر موجود لڑکی پر ڈالی…پھر بلاول رضا کو گردن سے پکڑا… اور گھسیٹتا ہوا ایک جانب چل دیا… “ابے…چھوڑ مجھے…کیا بدتمیزی ہے… کون ہو تم… بہت بڑی بھول کر رہے ہو یاد رکھنا…تم شاید جانتے نہیں کس پر ہاتھ ڈال رہے ہو تم… ” وہ مسلسل چلا رہا تھا… راجا نے وہیں راہداری میں اسے روکتے ہوۓ ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا… “اب تم اچھی طرح جان جاؤ گے کہ میں کون ہوں… ” اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا… اسے گھسیٹتے ہوۓ ہی راجا فرسٹ فلور تک لایا… لوگ مڑ مڑ کر حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے… بلاول رضا یونیفارم میں نہیں تھا تبھی بہت سے لوگ اسے پہچان نہیں پاۓ تھے…لیکن پھر بھی یہ منظر ان کے لیے دلچسپی کا باعث بنا تھا… گارڈز نے آگے بڑھ کر راجا کا راستہ روکنا چاہا تھا…لیکن اس کے ہاتھ میں موجود کارڈ کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گۓ… کسی میں ہمت نہ تھی اس سب انسپکٹر کو راجا کی گرفت سے چھڑانے کی… اسے دھکا دے کر اپنی گاڑی میں منہ کے بل گراتے ہی راجا سرعت سے ڈگی کی طرف آیا… رسی نکال کر اس کے ہاتھ پاؤں باندھے… منہ پر کپڑا باندھ کر اس کی آوازوں کا گلہ گھونٹا… پھر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی پارکنگ سے نکالنے لگا…
_________
بہت دیر تک وہاں خاموشی چھائ رہی تھی… یوں جیسے کسی کے پاس کہنے کو کچھ رہا ہی نہ ہو… الفاظ گونگے ہو گۓ تھے… سب اپنی اپنی زندگی کے سودوزیاں کا حساب لگاتے ماضی کے تلخ لمحات میں بھٹک رہے تھے… ابیہا کا دل پھٹ رہا تھا غم کی شدت سے… راجا کو دیکھنے کی تمنا میں وہ بے قرار ہونے لگی…
“وہ جسے تم اپنے باپ کی سی عزت دیتی ہو نا… وہ جو بڑا معتبر بنا پھرتا ہے تمہاری اور اس دنیا کی نظروں میں… اس کے نامۂ اعمال میں اتنے گناہ لکھے جا چکے ہیں کہ سیاہی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا… جب سے میرے بھائ بھابھی کو اس نے موت کے گھاٹ اتارا ہے نا… تب سے ہم اس پر نظر رکھے ہوۓ ہیں… وہ ہر کرائم ایسے کرتا ہے کہ کسی کو ڈھونڈنے سے بھی ثبوت نہیں ملتا اس کے خلاف… دنیا اسے ایک بہت بڑے بزنس ٹائیکون کے نام سے جانتی ہے… لیکن کوئ یہ نہیں جانتا کہ رات کا اندھیرا پھیلتے ہی کسی بھیڑیے کی طرح وہ اپنا روپ بدلتا ہے… کوئ نہیں جانتا کہ وہ انڈرورلڈ ڈان “مالک”جسے پولیس تلاش کر رہی ہے… کئ ایجنسیاں جس کو پکڑنے کے لیے دن رات کوششیں کرتی ہیں اس کا اصل نام اسد شیرازی ہے… جو دن کے وقت ایک معزز شہری بن کر سب کے سامنے آتا ہے…لیکن درپردہ نہ جانے کتنے لوگوں کا قاتل ہے…
ایک بار ہم نے اس کے خلاف ثبوت بھی حاصل کیے تھے… اور وہ ثبوت ایک صحافی کو دئیے تھے تاکہ میڈیا پر اسد شیرازی کا اصل روپ دکھایا جا سکے… لیکن وہ صحافی بھی پیسوں کے لالچ میں بک گیا… اس نے وہ چِپ جس میں سب کچھ ریکارڈ کیا گیا تھا وہ جا کر اسد شیرازی کو تھما دی اور بدلے میں بھاری معاوضہ وصول کیا… یوں ہم ان ثبوتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے… اپنی جان بچانے کے لیے ہمیں در در دھکے کھانے پڑے… چھپ کر رہنا پڑا…
یہاں جگہ جگہ اسد شیرازی کے کتے موجود ہیں… جو پیسوں کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں…اس لیے ہم دوبارہ اس کے خلاف کوئ ثبوت حاصل نہیں کر سکے…
اور تمہیں کیا لگتا ہے… یہ جو اب تک اسد شیرازی نے تمہاری پرورش کی, تمہیں اتنا بڑا کیا… یہ بس اس لیے تھا کہ وہ تمہارے باپ کا دوست تھا…؟؟
اگر اسے اس دوستی کی اتنی پرواہ ہوتی تو وہ مرادبخاری کو کیوں قتل کرتا… ” عبدالواحد سانس لینے کو رکے…
“تو پھر… اس کے پیچھے کیا مقصد ہو سکتا ہے ان کا… مما اور ڈیڈ کو مار دیا…مجھے بھی مار سکتے تھے وہ…یوں ان کا راستہ بالکل صاف ہو جاتا… ” ابھی بھی کچھ گرہیں تھیں جو ابیہا کو الجھا رہی تھیں…
“تم بہت بھولی ہو لڑکی… شاید بچپن سے لے کر اب تک تم اپنے ماں باپ کے غم سے ہی نہیں نکل سکی تبھی کسی اور طرف دھیان ہی نہ دے پائ… یا شاید اسد شیرازی نے تمہاری تربیت ہی کچھ اس انداز سے کی کہ تم کبھی اس کے خلاف نہ ہو سکو… سر نہ اٹھا سکو… اور اس کی چالوں کو نہ سمجھ سکو…
وہ تمہیں بھی مار دیتا… تمہیں مارنا اس کے لیے کونسا مشکل کام تھا… لیکن تم ہی تو خزانے کی چابی تھی اس کے لیے…کوئ اپنے ہاتھوں سے خزانے کی چابی کو توڑتا ہے بھلا…؟؟” عبدالواحد کا لہجہ استہزائیہ ہوا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *