Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18

ہماری بیٹی غالباً ہمیں اپنے بیسٹ فرینڈ سے ملوانے والی تھی… ” شہادت کی انگلی کنپٹی پر رکھ کر انہوں نے سوچنے کی ایکٹنگ کی… ان کی بات پر راجا نے جھٹ نظریں اٹھائیں اور بے یقینی سے اینجل کو دیکھا… کیا وہ اسے اتنی اہمیت دیتی تھی کہ اپنے گھر میں بھی اس کا ذکر کرتی تھی… اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا اینجل اپنے ڈیڈ کا ہاتھ پکڑ کر اس کے نزدیک چلی آئ… “ڈیڈ… یہ میرا بیسٹ فرینڈ… اور پرنس… یہ میرے ڈیڈ… اور تمہیں پتا ہے… میرے ڈیڈ دنیا کے سب سے اچھے ڈیڈ ہیں… ” تیز تیز بولتی وہ ساتھ پونیاں بھی جھلا رہی تھی… راجا کنفیوز سا کھڑا تھا… ” ہیلو میری لٹل پرنسس کے بیسٹ فرینڈ… ” مراد بخاری اس کی جھجھک سمجھ گۓ تھے تبھی اپنا ہاتھ دوستانہ انداز میں آگے بڑھایا… کچھ لمحے انہیں دیکھتے رہنے کے بعد راجا نے ہاتھ ملایا…مراد بخاری چلتے ہوۓ راجا کے برابر اس دیوار پر ہی بیٹھ گۓ… ایک نظر راجا کو دیکھنے کے بعد ہی نہ جانے کیوں انہیں لگا کہ وہ واقعی اچھا لڑکا ہے… معصوم سا… اور شاید وہ واقعی اینجل کی دوستی کا حقدار ہے… یونہی تو اینجل اس کی اتنی تعریفیں نہیں کرتی…”ہماری اینجل نے اپنے بیسٹ فرینڈ کا نام تو بتایا ہی نہیں ہمیں… ” مراد بخاری نے اینجل کا ہاتھ تھام کر اسے قریب کیا… “ڈیڈ… آپ کو پتا ہے… اس کا نام بہت مشکل ہے… مجھے آتا نہیں… اسی لیے میں اسے بیسٹ فرینڈ کہہ کر ہی بلاتی ہوں… یا پرنس کہہ کر… دیکھیں ڈیڈ… یہ بالکل پرنس کی طرح لگتا ہے نا… اور ڈیڈ… میرے بیسٹ فرینڈ کی آئیز دیکھیں کتنی پیاری ہیں… بلیو آئیز… ہے نا…. ” وہ پرجوش سی بولے جا رہی تھی… جبکہ راجا سرخ ہوتا چہرہ جھکا گیا… اینجل راجا کو ویسے بھی بہت بار بتا چکی تھی کہ اس کی آنکھیں خوبصورت ہیں لیکن آج اس کا یوں اپنے ڈیڈ کے سامنے راجا کی تعریف کرنا…. نہ جانے کیوں وہ جھجھک سا گیا… مراد بخاری مسکراتے ہوۓ اس کی جانب متوجہ ہوۓ…. “کیا نام ہے بیٹا آپ کا…؟؟” ان کے لہجے میں حد درجہ نرمی اور مٹھاس تھی… راجا جو ان کے آنے پر نہ جانے کیا کیا اندازے لگا چکا تھا وہ شرمسار ہوا اپنی سوچ پر… “ابتہاج… ” اس کی آواز دھیمی تھی کہ مراد بخاری بمشکل سن سکے… “بہت پیارا نام ہے… کیا کرتے ہو… ؟؟” ان کی جانب سے دوسرا سوال آیا… راجا نے کچھ فاصلے پر ایک اینٹ کے ساتھ دھاگے کے ذریعے بندھے غباروں کو دیکھا… “غبارے بیچتا ہوں… ” اواز پہلے سے بھی دھیمی ہوئ… مراد بخاری کچھ اور پوچھنے ہی والے تھے جب گیٹ کیپر کے ساتھ اسکول کے پرنسپل صاحب باہر آۓ… “ارے مراد صاحب… آئیے… اندر آئیے نا… آپ ادھر کیوں بیٹھے ہیں… اندر تشریف لائیے… ” پرنسپل صاحب کے لہجے میں احترام تھا… مراد بخاری ان کے اسکول کو ڈونیشن دینے والوں میں شامل تھے… اور ان کا یہاں اسکول کے باہر بیٹھنا پرنسپل صاحب کو شرمندگی سے دوچار کر رہا تھا… “نہیں پرنسپل صاحب… میں اب چلوں گا… تھوڑی فراغت تھی تو سوچا اپنی بیٹی کو پک کر لوں اسکول سے… ” مراد بخاری نے سہولت سے کہا اور اٹھ کھڑے ہوۓ… “چلیں اینجل… ؟؟” مراد بخاری نے اینجل کی طرف دیکھا جو اپنا بیگ اٹھا رہی تھی… “لائیے میں بیگ چھوڑ دیتا ہوں گاڑی تک… ” گیٹ کیپر مراد بخاری سے مرعوب ہوتے ہوۓ جلدی سے اینجل کی طرف بڑھا… “نہیں آپ رہنے دیجیے… بچوں کو ان کا بوجھ خود اٹھانے کی عادت ڈالنی چاہیے… یہی عادت انہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے… “مراد بخاری نے نرمی سے کہا اور اینجل کو بیگ پہننے میں مدد دی… “باۓ فرینڈ… ” اینجل نے راجا کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلایا… “اچھا لگا آپ سے مل کر بیٹا…” مراد بخاری نے آگے بڑھ کر راجا کا گال سہلایا… پھر مڑے اور اینجل کو لیے گاڑی کی جانب بڑھ گۓ… جبکہ انہیں دیکھ کر راجا کے دل میں تشنگی اور محرومیوں کا احساس دو چند ہو گیا…
_________
مراد بخاری جن کا بزنس میں ایک نام تھا…ایک مقام تھا… وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے جا رہے تھے… اور جیسے جیسے وہ کامیابی کی منازل طے کر رہے تھے ویسے ویسے ان میں عاجزی بھی بڑھتی جا رہی تھی… ان کے آباؤ اجداد سے بھی کافی دولت انہیں ورثے میں ملی تھی اور اس دولت کے ساتھ اپنی ذہانت کو استعمال کر کے انہوں نے اس دولت کو کئ گنا بڑھا لیا تھا… ان کے باپ کی کہی ایک بات انہوں نے ہمیشہ یاد رکھی تھی… “بیٹا…دولت جمع کرنے سے نہیں بڑھتی… بلکہ بانٹنے سے بڑھتی ہے… تم جتنا زیادہ صدقہ کرو گے… اپنی اس دولت سے جتنا زیادہ غریبوں کا بھلا کرو گے اتنا ہی وہ رب تمہارے رزق میں اضافہ کرے گا… اگر تم اپنے آس پاس غریبوں کو ترستا ہوا دیکھ کر آنکھیں میچ لو تو تمہارا لیا ایک لقمہ بھی حلال نہ ہو گا… لیکن اگر تمہاری دولت سے غریبوں کا پیٹ بھرے گا, انہیں رہنے کو چھت ملی تو ان کی ڈھیروں دعاؤں کے صدقے رب تمہارے مال میں برکت پیدا کرے گا… اس لیے کبھی مغرور مت ہونا اپنی دولت پر… “
اور مراد بخاری نے اپنی زندگی اسی اصول پر چلتے ہوۓ گزاری تھی… ان کی وجہ سے نہ جانے کتنے غریبوں کے گھر بسے تھے… اور شاید ان کی دعاؤں کی بدولت ہی دن بدن ان کا کاروبار ترقی کرتا جا رہا تھا… کئ بار مراد بخاری خود بھی حیران ہوتے کہ اللّہ پاک ان کے لیے رزق کے دروازے کہاں کہاں سے کھول رہا تھا… جیسے جیسے ان کی امارت, عزت اور شہرت میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے ان کا سر رب کے سامنے سر بسجود ہوتا گیا… وہ رب کی اتنی نعمتوں پر شکر ادا کرتے نہ تھکتے تھے… شادی کے بعد اللّہ نے انہیں ایک بیٹی دی… ڈلیوری کے وقت کچھ پیچیدگیوں کے باعث ان کی شریک حیات دوبارہ ماں بننے کے عہدے سے محروم ہو گئیں… اپنی بیوی سے حددرجہ محبت اور عقیدت ہونے کے باعث مراد بخاری نے بیٹی ہونے پر بھی اللّہ کا شکر ادا کیا اور اینجل کو ہی اپنا سب کچھ مان کر اس پر جان نچھاور کرنے لگے… ایک وارث کی خواہش ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی دوسری شادی کرنے کا نہ سوچا… انہوں نے اور ان کی شریک حیات نے بچپن سے ہی اینجل کی تربیت بہت اچھی کی تھی… تبھی تو اس کے دل میں بھی انہی کی طرح غریبوں کے لیے محبت اور عزت ہی تھی…
💝💝💝💝💝
مرزا جمال آفندی نے آج اسد شیرازی کے ساتھ ایک خاص میٹنگ رکھی تھی… اسد شیرازی کے گھر کے لان میں بیٹھے وہ اس وقت اپنے خاص مشروب سے لطف اندوز ہو رہے تھے… دونوں اس وقت کرسیوں پر بیٹھے تھے… آرام دہ حالت میں… کرسیوں کے درمیان میں ایک میز رکھی تھی جس پر وہسکی کی ایک بوتل موجود تھی… ساتھ پانی کی ایک بوتل اور ایش ٹرے بھی… “اسد… میرا کام نہیں ہوا ابھی تک… ” مرزاجمال آفندی کے لہجے میں تنبیہہ تھی جسے اسد شیرازی اچھی طرح محسوس کر چکا تھا… “بس چند دن اور لگیں گے مرزا… تم بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے کہ ادھر تم نے کہا اور ادھر ہو گیا… ” اسد شیرازی نے کہتے ہوۓ گلاس لبوں سے لگایا… “جانتا ہوں…لیکن اس کام کا ہونا بے حد ضروری ہے… میری کچھ ڈیلز پھنسی ہوئ ہیں ان لوگوں کے ساتھ… اور را (انڈیا کی ایجنسی) کے ہیڈ ارجن کا کہنا ہے کہ جب تک میں ان کا بندہ پاکستان سے چھڑا کر ان کے حوالے نہیں کرتا تب تک وہ ڈیلز سائن نہیں ہوں گی… اور اگر تم میرا یہ کام نہ کر سکے تو میرا دھندہ بہت گھاٹے میں جاۓ گا… ” مرزا جمال نے شہادت کی انگلی کنپٹی پر رکھی… “جانتا ہوں یار… لیکن رام ابھی SSG کی گرفت میں ہے… اور غالباً وہاں کی مار پیٹ اور سختی کے باعث وہ کافی کچھ بک بھی چکا ہے… ایسے میں کیس مزید خراب ہو گیا ہے… اتنا آسان نہیں رہا اب اسے چھڑا پانا… ” اسد شیرازی بھی پریشان سا تھا… “آسان ہے یا مشکل… مجھے ہر حال میں رام ان کی گرفت سے آزاد چاہیے… را کا خاص بندہ ہے وہ… اور بہت اہمیت رکھتا ہے ان کے لیے… ” مرزا جمال نے کندھے جھٹکے… اسد شیرازی کچھ سوچتا ہوا اس کی طرف متوجہ ہوا… ” لیکن اب وہ ان کے کس کام کا… اگر اس نے اب تک را کے سارے راز اگل دئیے ہوۓ تو… یقیناً را نے بھی اسے ختم ہی کرنا ہے…تو کیوں نا میں ہی اسے ختم کروا دوں… تا کہ وہ مزید کچھ نہ بکے… “اسد شیرازی نے پرسوچ نگاہوں سے مرزا جمال کو دیکھا… “ارے یار…تم کیوں اس مسئلے میں پڑ رہے ہو… وہ اسے ختم کریں یا اپنے پاس رکھیں…گمنام کر دیں یا جو بھی… ہمارا مسئلہ نہیں ہے یہ… ہمیں صرف رام کو ان کے حوالے کرنا ہے… جلد سے جلد یہ کام کرنے کی کوشش کرو… اگر وہ دبئ میں ہوتا میں بہت پہلے ہی نکلوا چکا ہوتا اسے… ” مرزا جمال نے سگار سلگایا… اسد شیرازی شرمندہ سا سر جھکا گیا… “دراصل پہلے میں اپنے چند مسائل میں الجھا ہوا تھا بس اس لیے وقت لگ گیا… تم فکر مت کرو… میں اپنے خفیہ بندوں کے ذریعے پتا لگا چکا ہوں کہ اسے کہاں رکھا گیا ہے… چند دن میں ہو جاۓ گا یہ کام بھی… ” اس کی بات پر مرزا جمال آفندی ہنکارا بھر کر خاموش ہو گۓ… میز کے نیچے ایک مائکرو فون لگا تھا جس سے ان کی گفتگو کا ایک ایک لفظ راجا نے سنا تھا… اس نے فورأ کسی کو کال ملائ… “سر… کیپٹن ابتہاج اسپیکنگ… رام کو جس جگہ رکھا گیا ہے اس جگہ کا پتا لگا لیا گیا ہے اور اگلے چند دنوں میں اسے وہاں سے نکالنے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے… اسے کہیں اور شفٹ کریں اور اس نئ جگہ کے بارے میں کسی کو بھی خبر مت کیجیے گا… کوئ ہے ہم میں ہی غدار…جو انہیں معلومات فراہم کر رہا ہے… اور ایک ٹیم کی ضرورت ہے… اسد شیرازی کے چند خفیہ ٹھکانوں پر کل ریڈ کرنی ہے… سارا مال ڈیلیوری کے لیے تیار کیا جا چکا ہے اور یہی صحیح وقت ہے ریڈ کا…” کان سے لگی بلیو ٹوتھ میں اس نے میجر حبیب کو ایک میسیج دیا… چند لمحے دوسری جانب سے کچھ سنا… “اوکے…شیور سر… ” اور کال ڈس کنکٹ کر کے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائ…
💝💝💝💝💝
“تمہیں پتا ہے…آج نا…میرا برتھ ڈے ہے… ” اینجل اسکول سے نکل کر جیسے ہی اس کے قریب پہنچی خوشی سے بھرپور لہجے میں اسے بتایا… “ارے واہ… ہیپی برتھ ڈے اینجل… “راجا کے چہرے پر بھی مسکراہٹ ابھری… “تھینکس…” اینجل نے ہمیشہ کی طرح بیگ اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا اور اس کے برابر دیوار پر بیٹھ گئ… “تم نے بتایا نہیں…. ورنہ میں کوئ گفٹ لے کر آتا آج… ” راجا اداس سا ہونے لگا… “اداس مت ہو فرینڈ… تم مجھے کل دے دینا گفٹ… ” اینجل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر جیسے تسلی دینا چاہی… “لیکن برتھ ڈے تو آج ہے نا… ” راجا نے اداس نظروں سے اسے دیکھا…پھر سامنے دیکھنے لگا… تبھی ایک دم وہ چونکا… کچھ سوچا…لبوں پر مسکراہٹ ابھری…. “ایک منٹ…میں ابھی آیا… ” وہ کہہ کر جلدی سے دیوار سے اترا اور ایک جانب بھاگ گیا… “ارے…بات سنو…فرینڈ کہاں جا رہے ہو…” اینجل اسے پکارتی ہی رہ گئ…پھر حیران سی نگاہ اس کے بیلونز پر ڈالی… چند لمحوں بعد ہی راجا پھر اسے بھاگتے ہوۓ اپنی جانب آتا دکھائ دیا… ایک ہاتھ اپنے پیچھے چھپا رکھا تھا… بھاگنے کے باعث سانس پھول رہا تھا…چہرہ بھی سرخ ہو گیا… “کدھر گۓ تھے تم…؟؟” اینجل نے خفا سی نظر اس پر ڈالی… اس کے قریب پہنچ کر وہ اب گہرے گہرے سانس لے رہا تھا… اینجل نے اچک کر اس کے اس ہاتھ کو دیکھنا چاہا جسے راجا نے چھپا رکھا تھا… لیکن راجا نے ہاتھ مزید پیچھے کر لیا… “کیا ہے ہاتھ میں…؟؟” اینجل نے تجسس سے بھرپور لہجے میں پوچھا… “بتاتا ہوں… آنکھیں بند کرو پہلے… ” راجا کے کہنے پر اینجل نے آنکھیں بند کیں… لیکن ایک آنکھ تھوڑی سی کھولے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی… “چیٹنگ نئ اینجل… صحیح طرح آنکھیں بند کرو… “راجا نے اس کی آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھا… “اچھا ٹھیک ہے کرتی ہوں…لیکن جلدی کرو نا…مجھ سے صبر نہیں ہوتا… ” وہ تیز تیز بولتی سختی سے آنکھیں میچ گئ… راجا نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا… “اب کھولو آنکھیں… ” اس کی بات پر اینجل نے جھٹ آنکھیں کھولیں… “ہیپی برتھ ڈے اینجل… ” راجا کے ہاتھ میں چاکلیٹ تھی… وہ جانتا تھا اینجل کو چاکلیٹس بہت پسند ہیں… اور یہیں اسکول سے کچھ فاصلے پر ایک دکان سے وہ چاکلیٹ لے کر آیا تھا… “واؤ… تھینک یو… ” اینجل نے خوشی سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اس سے چاکلیٹ پکڑی… “اب یہ مت کہنا کہ تم اس چاکلیٹ کو بھی سنبھال کر رکھو گی میری یاد میں… اسے کھاؤ…ابھی اسی وقت… ” راجا تھوڑا رعب دار لہجہ اپنایا… اینجل کھلکھلا کر ہنس دی… “یہ بھی کوئ سنبھالنے کی چیز ہے…؟؟ تمہیں پتا ہے… چاکلیٹس دیکھ کر میں بالکل صبر نہیں کر سکتی… ” شرارتی لہجے میں کہتے ہوۓ وہ ریپر اتارنے لگی… پھر چاکلیٹ ہاف کی… ایک پیس راجا کی طرف بڑھایا… “تم کھاؤ نا… میں تمہارے لیے لایا ہوں… ” راجا نے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا… “ارے لے لو نا فرینڈ… اب میں کھاؤں اور تم بھوکوں کی طرح مجھے دیکھو تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا… ” اینجل کے چہرے سے آج تو مسکراہٹ ہی جدا نہیں ہو رہی تھی… اس کی شرارت سے چمکتی آنکھیں دیکھ کر راجا مسکرا دیا… پھر چاکلیٹ پکڑی تو اینجل بھی چاکلیٹ کھانے لگی…
“پتا ہے… آج ڈیڈ نے مجھ سے پرامس کیا ہے کہ اسکول وہ مجھے لینے آئیں گے اور ساتھ مما بھی آئیں گی… یہاں سے ہم سیدھے پلے لینڈ جائیں گے… اور پھر مووی دیکھنے… پھر ایک ہوٹل میں کیک کاٹیں گے اور رات کو واپس جائیں گے گھر… میں نے ڈیڈ سے کہا ہے کہ میں آج تمہیں بھی ساتھ لے کر جاؤں گی… ابھی کچھ دیر میں ڈیڈ آ جائیں گے ہمیں لینے…” اس نے چاکلیٹ کھاتے ہوۓ گویا راجا پر دھماکہ کیا تھا… “نن…نہیں اینجل… تم چلی جانا… مم…مجھے نہیں جانا…” وہ ایک دم بہت گھبرا گیا تھا… عجیب سی بے چینی نے اس کے وجود کا احاطہ کیا… اینجل نے حیران ہوتے ہوۓ اسے دیکھا… “لیکن کیوں… مجھے تمہارے اور اپنی مما اور ڈیڈ کے ساتھ ہی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنا ہے… ” اینجل اداس ہونے لگی… “لیکن اینجل…میں کیسے… مطلب… نہیں اینجل..
بہت عجیب لگے گا… ” راجا سمجھ نہیں پا رہا تھا کیسے اپنی جھجھک کو بیان کرے… وہ ایک فیملی کے درمیان خود کو بہت مس فٹ محسوس کرے گا یہی سوچ کر وہ انکار کر رہا تھا… “کیا تمہیں میرے ڈیڈ اچھے نہیں لگے…؟؟” وہ آنکھوں میں خفگی لیے اس سے پوچھ رہی تھی… “یہ بات نہیں ہے اینجل…لیکن ایسے اچھا نہیں لگتا… کہ میں آپ لوگوں کے درمیان یوں… شاید تمہارے مما اور ڈیڈ کو بھی اچھا نہ لگے میرا جانا… ” اس نے اپنی الجھن بیان کی… اس کی بات پر اینجل نے پرجوش ہوتے ہوۓ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا… “ارے… یہ فکر مت کرو تم… میرے مما اور ڈیڈ کچھ نہیں کہیں گے… بلکہ ڈیڈ تم سے مل کر گۓ تو مما کو بتایا انہوں نے… مما بھی ملنا چاہ رہی تھیں تم سے… دیکھنا… آج کا دن بہت اچھا گزرے گا ہمارا… ہم دونوں… ” وہ تیز بولتی مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی جب گاڑی کے ہارن پر چونکی… “ارے…مما بابا آ گۓ…چلو چلو… ” سامنے مراد بخاری گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑے تھے اور ہاتھ سے اشارہ کرتے ان دونوں کو اپنی طرف بلا رہے تھے… اینجل نے جلدی سے بیگ پہنا… “چلو اترو… ” بیگ پہنتے ہوۓ اس نے راجا سے بھی کہا… “لیکن اینجل… “راجا متذبذب سا کچھ کہنے ہی والا تھا جب اس کے غبارے پکڑ کر اینجل نے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھینچا… اور یونہی اس کا ہاتھ تھامے گاڑی کی جانب بڑھنے لگی…
💝💝💝💝💝
وہ آج صبح سے ہی اداس تھی… راجا جو اس کا انتظار کر رہا تھا کہ یونیورسٹی جانے کا ٹائم ہو رہا تھا اسے بغیر بیگ اور بکس کے آتے دیکھ کر حیران ہوا… وہ آ کر گاڑی میں بیٹھ چکی تھی… “آپ کا بیگ اور بکس…؟؟” راجا نے بالآخر اپنے دل میں ابھرتی سوچ کو الفاظ کا جامہ پہنایا… “یونیورسٹی نہیں جا رہی میں آج… کہیں اور جانا ہے… چلیں… ” اس کا لہجہ اس بات کی عکاسی کر رہا تھا کہ وہ روتی رہی ہے… راجا نے خاموشی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی گیٹ سے نکالی… ابیہا کی ہدایات پر وہ گاڑی چلاتا گیا… تقریباً پانچ گھنٹے بعد وہ دونوں ایک قبرستان کے قریب کھڑے تھے… راجا حیران ہوا… بھلا یہاں ابیہا کو کیا کام ہو سکتا ہے… ایک نظر گاڑی میں رکھی گلاب کی پتیوں کی طرف دیکھا… جو ابیہا کے کہنے پر اسی نے خریدی تھیں راستے سے… گاڑی رکتے ہی ابیہا اتری… شانوں کے گرد لپٹی چادر درست کر کے سر پر لی… گلاب کی پتیوں کا شاپر اٹھایا… اور قبرستان کی جانب بڑھ گئ… “شاید اس کی ماں یہاں دفن ہو گی… ” راجا نے کندھے اچکاتے ہوۓ سوچا اور خود گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا… ابیہا کافی آگے جا کر دو قبروں کے نزدیک رکی… آنکھوں سے اشک جاری ہوۓ تھے… سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ وہاں بیٹھی… شاپر ایک جانب رکھا… اور نرمی سے قبر کی مٹی پر ہاتھ پھیرنے لگی… “مما… ڈیڈ… اٹھارہ سال ہو گۓ آج… آپ کو گۓ ہوۓ… ان اٹھارہ سالوں میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب آپ کو یاد نہ کیا ہو… جب آپ کی کمی محسوس نہ ہوئ ہو…دیکھیے نا ڈیڈ…آپ کی اینجل جو ایک پل آپ کے بغیر نہ رہتی تھی… جو روز صبح روتے ہوۓ اسکول جاتی تھی کہ آپ سے دور جانے پر اس کا دل دکھتا تھا… آج اسے اٹھارہ سال ہو گۓ آپ سے دور ہوۓ… آپ کے بغیر رہتے ہوۓ… یہ اٹھارہ سال کیسے گزارے میں نے یہ تو لمبی کہانی ہے… آپ بتائیے نا… کیا آپ دونوں کو میری یاد نہیں آتی…؟؟ کیا ذرا ترس نہیں آتا مجھے یوں تنہا, بے بس دیکھ کر… کیوں چھوڑ گۓ آپ دونوں مجھے… کاش مجھے بھی ساتھ لے گۓ ہوتے… کاش آپ کے اس قاتل نے اس دن مجھے بھی مار دیا ہوتا… ” وہ قبر پر سر رکھے زاروقطار رو رہی تھی… سر سے چادر ڈھلک کر کندھوں پر آ پڑی تھی… کپڑوں پر جابجا مٹی کے نشان لگے تھے لیکن اس نفاست پسند لڑکی کو آج اپنے حلیے کی بھی پرواہ نہ تھی… “میرا برتھ ڈے اتنا بھیانک ہوتا ہے میرے لیے… کہ دل چاہتا ہے کاش یہی میرا ڈیتھ ڈے ہو جاۓ… لوگ اپنے برتھ ڈے پر خوشیاں مناتے ہیں لیکن میں نے پچھلا ہر برتھ ڈے روتے ہوۓ گزارا ہے آپ کی یاد میں… کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا… کاش اس دن میں اسے اپنے ساتھ نہ لے کر آتی… کاش وہ میرا دوست ہی نہ بنا ہوتا تو شاید آج آپ لوگ میرے ساتھ ہوتے… ” وہ سسک رہی تھی… بہت دیر تک یونہی ان سے باتیں کرتی رہی…جبکہ دور گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا راجا بار بار گھڑی پر وقت دیکھ رہا تھا… آج اس کی ٹیم کو ریڈ کرنی تھی اور اس سے پہلے اسے کچھ ضروری کام نمٹانے تھے لیکن… ابیہا کا تو شاید کوئ ارادہ ہی نہ تھا وہاں سے جانے کا…”کیا مصیبت ہے… ؟؟انہیں بھی آج ہی یاد آیا تھا قبرستان آنے کا….” پریشانی سے بڑبڑاتا وہ اس کی جانب بڑھا… “اپنا بہترین دوست مانا تھا میں نے اسے ڈیڈ… لیکن… لیکن وہ تو آستین کا سانپ نکلا… اس دنیا میں سب کے لیے دولت ہی کیوں اہم ہوتی ہے ڈیڈ… کیوں دولت کی خاطر, چند پیسوں کی خاطر لوگ دوسروں کا خون کر دیتے ہیں… اسے پیسے چاہیے تھے تو مجھ سے لے لیتا… لیکن آپ دونوں کو تو مجھ سے نہ چھینتا… میرا دل چاہتا ہے ایک بار وہ میرے سامنے آۓ… صرف ایک بار… اور میں اسے گریبان سے پکڑ کر پوچھوں… کہ کیا قصور تھا میرا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *