Chasham e Nam by Ayat Noor NovelR50721 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01
Rate this Novel
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01 (Watching)Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 02 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 03 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 04 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 05 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 06,07 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 08 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 09 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 10 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 11,12 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 13 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 14 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 15 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 16,17 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 18 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 19 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 20,21 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 22 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 23 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 24,25 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 26 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 27 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 28 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 29 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 30,31 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 32 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 33 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 34 Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 35 Chasham e Nam by Ayat Noor Last Episode
Chasham e Nam by Ayat Noor Episode 01
چار کمروں کے اس مکان میں صف ماتم بچھی تھی۔۔۔ صحن میں ایک چارپائ پر میت رکھی گئ تھی جس کا ہمیشہ کملایا ہوا رہنے والا چہرہ آج روشن اور پرنور تھا۔۔۔ جیتے جی جس کے لبوں پر کبھی مسکراہٹ نظر نہ آئ تھی لیکن آج وہی لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔۔ شاید ذندگی کی تکلیفوں اور اذیتوں سے چھٹکارا ملنے کے باعث چہرے پر آسودگی جھلک رہی تھی۔۔۔ وہیں صحن میں ایک طرف نیم کا درخت تھا جس کے تنے کو مضبوطی سے پکڑے سات سال کا سہما ہوا سا بچہ کھڑا تھا۔۔۔ ٹکٹکی باندھے چارپائ پر لیٹے وجود کو تکتا ہوا۔۔۔ وہ وجود جو کڑی دھوپ میں اس کے لیے چھاؤں کی مانند تھا لیکن آج وہ چھاؤں بھی چھن گئ تھی اس سے۔۔۔ ہر طرف سے آہ و بکا اور بین کی آوازیں سنائ دے رہی تھیں۔۔۔ بچے نے نگاہوں کا زاویہ بدلا اور بھیڑ میں کسی کو تلاشنے لگا۔۔۔ جلد ہی ایک اور چہرہ اس کی نگاہوں کی زد میں تھا۔۔۔ اس کی دادی کا چہرہ۔۔۔ وہ دادی جس میں منافقت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔۔۔ چارپائ کے سرہانے بیٹھی وہ یوں پچھاڑیں کھا رہی تھیں جیسے مرنے والی عورت کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے ان کے اور اس سے بہت پیار کرتی تھیں۔۔۔ جبکہ حقیقت میں جب سے وہ بہو لائ تھیں تب سے اس کے ساتھ بغض اور عناد کا رشتہ رکھا تھا انہوں نے۔۔۔ راجا نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ کیا کوئ ایسا دن گزرا اس کی ماں کی ذندگی میں جب دادی نے اسے اس کے شوہر سے پٹوایا نہ ہو۔۔۔ اور نہ جانے کتنی ہی بار اس کے سامنے اس کے باپ اور دادی نے دھکے دے کر اس کی ماں کو گھر سے نکالا تھا۔۔۔ تو پھر اب یہ مکرو فریب کیوں۔۔۔ ان کی ماں کے مرنے پر یہ رونا دھونا کیسا۔۔۔ انہیں تو خوش ہونا چاہئیے کہ ان کی ذندگی سے چلی گئ وہ عورت جس سے دشمنی کے علاوہ اور کوئ رشتہ نہ تھا ان کا۔۔۔ لیکن یہ ڈھونگ تو رچانا ہی تھا انہیں۔۔۔ دنیا کو دکھانے کے لیے۔۔۔
راجا خالی آنکھوں سے سامنے دیکھتا رہا۔۔۔ تبھی ایک اور چہرہ نظر آیا تھا اسے۔۔۔ اپنے باپ کا چہرہ جو آنکھوں میں آنسو لیے چارپائ کے نزدیک کھڑا تھا۔۔۔ قریب ہی ایک اور آدمی بھی تھا جو شاید افسوس کر رہا تھا۔۔۔ اور اس کا باپ۔۔۔ غمگین چہرہ لیے اثبات میں سر ہلا رہا تھا۔۔۔ کتنا دوغلا تھا نہ وہ انسان۔۔۔ اپنی بیوی کو کبھی تحفظ نہ دے سکا۔۔۔ کبھی اس کی قدر نہ کی۔۔۔ کبھی اس کا احساس نہ کیا۔۔۔ ذرا ذرا سی بات پر اسے مارتا پیٹتا۔۔۔ اور وہ بے چاری ساری رات زخموں کو سہلاتی، روتی کرلاتی، بچوں کو سنبھالتی اور صبح ہوتے ہی پھر ان کی خدمت میں جٹ جاتی۔۔۔ بغیر کوئ شکوہ کیے۔۔۔ ہر درد دل میں چھپا لیتی۔۔۔ اور شاید وہی درد اس کے دل کا روگ بن کر اس کی جان لے گیا۔۔۔ اور اب یہ لوگ۔۔۔ یہ منافق لوگ اس کے سرہانے بیٹھے بین کر رہے ہیں۔۔۔۔ خود اسے مار کر، اس کی جان لے کر اس کے لیے رو رہے ہیں۔۔۔ راجا کو شدید نفرت ہوئ ان سب کی منافقت سے۔۔۔ اس گھٹیا پن سے۔۔۔
تبھی کسی کا ننھا سا ہاتھ اس کے ہاتھ کی گرفت میں آیا تھا۔۔۔ اس نے نظریں جھکا کر دیکھا۔۔۔ اس کی تین سالہ بہن اس کا ہاتھ تھامے کچھ پوچھ رہی تھی۔۔۔ وہ نیچے جھکا۔۔۔ “لاجا۔۔۔ امی کدھل گئ۔۔۔ اول یہ سب لو کیوں لہے ہیں۔۔۔(راجا امی کدھر گئ۔۔۔ اور یہ سب رو کیوں رہے ہیں۔۔۔)” آنکھوں میں معصومیت لیے وہ پوچھ رہی تھی۔۔۔ راجا نے بے ساختہ اسے گلے سے لگایا۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔ “بہت دور۔۔۔ بہت دور چلی گئی ماں ہمیں چھوڑ کر۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ ہمارا اب کوئ نہیں۔۔۔ ہم اکیلے ہو گۓ۔۔۔ بالکل اکیلے۔۔۔” وہ سات سال کا بچہ روتے ہوۓ اپنی بہن سے کہہ رہا تھا۔۔۔ جس کے لہجے میں کرب و اذیت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا ۔۔ لیکن وہاں ایک بھی فرد ایسا نہ تھا جو ان کے درد کو سمجھ سکتا۔۔۔
وہ شدید غصے میں ریش ڈرائیونگ کررہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ بڑبڑاہٹ بھی جاری تھی۔۔۔ لب بھینچے مسلسل گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے ہوۓ وہ غصہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ بار بار نظریں بیک ویو مرر تک جاتیں جہاں اس کی سیاہ مرسیڈیز کے پیچھے ایک جیپ آ رہی تھی۔۔۔ اور اس جیپ کو دیکھ دیکھ کر ابیہا کو مزید تپ چڑھنے لگی۔۔۔ اس نے ایک دم بریک پر دباؤ بڑھایا۔۔۔ گاڑی کے ٹائر چرچراۓ اور گاڑی دو تین جھٹکے کھانے کے بعد رک گئ۔۔۔ اس کی گاڑی رکتے ہی پیچھے آتی جیپ بھی رک چکی تھی۔۔۔ گاڑی سے اترے بغیر، لب بھینچے ابیہا سامنے نظر آتی تارکول کی سڑک کو گھورنے لگی جب جیپ سے اتر کر ایک شخص اس کی کھڑکی کی جانب آیا۔۔۔ “میڈم کیا ہوا۔۔۔؟؟ گاڑی کیوں روک دی آپ نے؟؟” شائستگی سے دریافت کیا گیا ۔۔۔ ابیہا نے گاگلز آنکھوں سے ہٹا کر خونخوار نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔ ہٹا کٹا مضبوط جسامت کا مالک پہلوان نما شخص جس کے چہرے پر بڑی بڑی مونچھیں تھیں اور وہ مونچھیں ابیہا کو زہر لگتیں۔۔۔ ہاتھ میں بندوق پکڑے بلیک کلر کے باڈی گارڈ کے یونیفارم میں ادب سے کھڑا تھا۔۔۔ “تمہیں کیا تکلیف ہے۔۔۔ جہاں دل چاہے گاڑی روکوں جب چاہے گاڑی چلاؤں۔۔۔ تم کون ہوتے ہو مجھ سے سوال کرنے والے۔۔۔ تمہارا کام ہر وقت میرے ساتھ رہنا ہے، میری حفاظت کرنا ہے۔۔۔ مجھ سے سوال جواب کرنا نہیں۔۔۔ سمجھے۔۔۔ گیٹ آؤٹ۔۔۔” وہ غصے سے پھٹ پڑی۔۔۔ لہجے میں نخوت اور بدتمیزی تھی۔۔۔ گارڈ خفیف سا ہو گیا۔۔۔ “میڈم میں نے تو بس اس لیے پوچھا کہ کہیں گاڑی خراب تو۔۔۔” وہ ہلکی سی آواز میں اس بگڑی ہوئ امیر زادی کو صفائ دینے لگا۔۔۔ “تم نے سنا نہیں۔۔۔ آئ سیڈ گیٹ آؤٹ۔۔۔” وہ چلائ تھی۔۔۔ سارے موڈ کا بیڑہ غرق ہو گیا تھا۔۔۔ اتنا خوبصورت موسم اور خوشنما شام کا منظر بھی اسکا دل جلا رہا تھا۔۔۔ گارڈ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیا۔۔۔”پتا نہیں بابا کیوں ہر جگہ یہ چار عدد پہلوان نما نمونے روانہ کر دیتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔اٹس اریٹیٹنگ۔۔۔” غصے سے بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے چند لمحے گہری سانسیں لے کر خود کو نارمل کرنا چاہا اور پھر گاڑی اسٹارٹ کی تو وہ جیپ بھی اس کی گاڑی کے پیچھے روانہ ہو گئ۔۔۔
“میرے پرس میں سے پانچ سو روپے کس نے نکالے ہیں۔۔۔ سچ سچ بتا دو ورنہ مجھ سے برا کوئ نہ ہو گا۔۔۔” راجا نل کے سامنے کھڑا پانی کی بالٹی بھر رہا تھا جب اس کی بڑی چچی ریحانہ بیگم صحن میں آ کر چلانے لگیں۔۔۔ وہاں راجا کے علاوہ پانچ بچے اور بھی کھیل میں مگن تھے۔۔۔ جن میں سے دو بیٹے اورایک بیٹی ریحانہ چچی اور بڑےچچا کے تھے اور ایک بیٹا چھوٹے چچا کا تھا۔۔۔ چچی کی بات پر راجا نے چھوٹے چچا کے بیٹے فراز کی جانب دیکھا۔۔۔ کل اس نے اپنی آنکھوں سے فراز کو پیسے چوری کرتے دیکھا تھا لیکن خاموش رہا تھا کہ اگر کچھ کہتا تب بھی مار اسے ہی پڑتی۔۔۔ لب سئیے وہ خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا کہ چھوٹی چچی نے پانی کی بالٹی اندر منگوائ تھی۔۔۔ اگر دیر ہو جاتی تو پھر اس کی ہی پٹائ ہوتی۔۔۔ ” ہمیں کیا معلوم۔۔۔ راجا سے پوچھیں جا کر۔۔۔” فراز نے کن اکھیوں سے راجا کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔ ریحانہ چچی کا رخ بھی اب راجا کی جانب ہو چکا تھا۔۔۔ “راجا۔۔۔ بتاؤ تم نے نکالے ہیں نہ میرے پیسے۔۔۔ ؟؟” کڑی نظروں سے اسے گھورتی وہ راجا کے سر پر کھڑی تھیں۔۔۔ راجا نے خوفزدہ نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا۔۔۔ “نہیں چچی۔۔۔ وہ تو فراز نے کل۔۔۔ ” وہ ہکلاتے ہوۓ کچھ کہنا چاہ رہا تھا جب اندر سے چھوٹی چچی شور مچاتی ہوئ برآمد ہوئیں۔۔۔ “ہاۓ اللہ۔۔۔ یہ دن بھی دیکھنا تھا۔۔۔ یہ آوارہ، نکما، بدچلن ماں کا بیٹا خود چوری کر کے الزام میرے معصوم بیٹے پر لگا رہا ہے۔۔۔ پیسے ضرور اسی نے نکالے ہیں ریحانہ۔۔۔ اور نام میرے بچے کا لگا رہا ہے۔۔۔ نکالو نکالو پیسے۔۔۔ کدھر ہیں پیسے جو چوری کیے ہیں جلدی نکالو۔۔۔” چھوٹی چچی نے اسے مارنا شروع کر دیا تھا۔۔۔تھپڑ کھا کر وہ منہ کے بل گرا۔۔۔ گرنے کے باعث ناک نل سے لگا اور ناک سے خون بہنے لگا۔۔۔ چھوٹی چچی تو فساد پھیلا کر پیچھے ہو گئیں اور پھر بڑی چچی نے اپنے دل کی بھڑاس اس پر نکالی۔۔۔ وہ خاموشی سے ذمین پر بیٹھا مار کھاتا رہا۔۔۔ دور کھڑے بچے اسے مار پڑتی دیکھ کر ہنس رہے تھے۔۔۔ فراز کی آنکھوں میں فاتحانہ چمک تھی۔۔۔ اس کا تو سدا کا بیر تھا راجا سے۔۔۔ اب اپنی کی گئ غلطی کی سزا اسے ملتے دیکھ کر وہ خوش تھا۔۔۔ اسے خوب پیٹنے کے بعد دونوں چچیاں اپنے اپنے بچوں کو لیے اندر کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔ اور وہ بن ماں کا بچا اس کڑی دھوپ میں نڈھال سا گھٹنوں میں سر دئیے ہچکیوں سے رونے لگا۔۔۔ یہ پہلی بار نہیں تھا۔۔۔ جب تک ماں ذندہ تھی انہیں ہر ظلم سے بچاتی رہی۔۔۔ خود مار کھا لیتی لیکن ان پر آنچ نہ آنے دیتی۔۔۔ لیکن ماں کے جانے کے بعد ان پانچ مہینوں میں اس پر ہر ظلم ڈھایا گیا۔۔۔ باقی سب بچے پڑھنے جاتے اور وہ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتا۔۔۔ اور ذرا ذرا سی بات پر اسے بےدریغ مارا جاتا۔۔۔ چھوٹی سی غلطی ہو جاتی تو اسے اور اس کی بہن کو بھوکا رکھ کر سزا دی جاتی۔۔۔ خود پر تو وہ سب سہہ لیتا لیکن بہن کی تکلیف اس سے دیکھی نہ جاتی۔۔۔ اس لیے ہر ممکن کوشش کرتا کہ چچیوں کو ناراض ہونے کا موقع نہ دے۔۔۔ لیکن ہر بار غلطی نہ ہونے پر بھی سزا اسے ہی ملتی۔۔۔ جسم پر نہ جانے کتنے ہی زخموں کے نشان تھے جن میں کچھ مندمل ہو چکے تھے اور کچھ تازہ تھے۔۔۔ وہ اتنا سب سہہ کر بھی اف تک نہ کرتا۔۔۔ خاموشی سے ان سے پٹتا رہتا۔۔۔ کچھ کہتا بھی تو کس سے۔۔۔ کوئ سہارا ہی نہ تھا۔۔۔ باپ تو ماں کے مرنے کے تین دن بعد ہی انہیں بے آسرا چھوڑ کر بیرون ملک جا چکا تھا۔۔۔ اب وہ اور اس کی بہن چچا اور چچیوں کے ہی رحم و کرم پر تھے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔ میں ساحل سمندر جا رہی ہوں۔۔۔” وہ بلیک جینز پر سفید سلیولیس ٹاپ پہنے نک سک سے تیار ٹک ٹک کرتی سیڑھیاں اتر کر لاؤنج میں اسد شیرازی کے پاس چلی آئ۔۔۔جو لیب ٹاپ پر کوئ ای میل ٹائپ کر رہے تھے۔۔۔ اسد شیرازی نے ایک نظر اپنی بیس سالہ خوبصورت اور طرحدار بیٹی کو دیکھا جس میں ان کی جان بستی تھی۔۔۔ “ضرور مائ ڈئیر۔۔۔ بٹ باڈی گارڈز کو لے کر جانا۔۔۔ ” نرمی سے کہتے وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو چکے تھے۔۔۔ جبکہ دروازے کی جانب بڑھتی ابیہا کا حلق تک کڑوا ہو گیا ان کی بات پر۔۔۔ منہ بسورتی وہ واپس ان کے قریب آئ۔۔۔ ” ڈیڈ۔۔۔ ہر جگہ ان چار پہلوانوں کو لے جانا ضروری ہوتا ہے کیا۔۔۔ آئ مین۔۔۔ کوئ پرائیویسی ہی نہیں۔۔۔ شاپنگ پہ جاؤں یا فرینڈز کے ساتھ ریسٹورنٹ، یونی جاؤں یا لانگ ڈرائیو۔۔۔ آپ ہر جگہ انہیں میرے ساتھ روانہ کر دیتے ہیں۔۔۔ ” اس کے انداز میں خفگی تھی۔۔۔ “اٹس جسٹ فار یور سیکیورٹی مائ بے بی۔۔۔” وہ مسکراۓ تھے اس کے انداز پر۔۔۔ “بٹ ڈیڈ۔۔۔ مجھے بالکل پسند نہیں یہ سب۔۔۔ ان چاروں کی موجودگی میں کوئ بھی میرے قریب آنے، مجھ سے دوستی کرنے سے ڈرتا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ میرے فرینڈز بھی خائف سے رہتے ہیں ان سے۔۔۔ اور پھر اگر باڈی گارڈ رکھنے ہی ہیں تو کوئ ہینڈسم سے رکھیں۔۔۔ یہ کیا بدمعاش ٹائپ رکھے ہیں۔۔۔ اتنی بڑی بڑی مونچھیں ہیں ان کی۔۔۔ مجھے غصہ آنے لگتا ہے ان پر۔۔۔” اس کے منہ کے زاویے بگڑے۔۔۔ “دیکھو ابیہا۔۔۔ تم میری اکلوتی بیٹی ہو۔۔۔ اسد شیرازی کی۔۔۔ جن کا ایک نام ہے۔۔۔ ایک مقام ہے۔۔۔ اور جو لوگ امیر ہوتے ہیں ان کے بہت سے دشمن بھی ہوتے ہیں۔۔۔ میرے بھی ہیں۔۔۔ جو ہر وقت میری کمزوری ڈھونڈنے میں لگے ہیں۔۔۔ اور سب جانتے ہیں کہ اسد شیرازی کی کوئ کمزوری نہیں۔۔۔ سواۓ تمہارے۔۔۔ تم اس طوطے کی مانند ہو جس میں میری جان بند ہے۔۔۔ اور میرے دشمن اب تم تک پہنچنے، تمہیں نقصان پہنچانےکی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ تاکہ مجھے تکلیف پہنچا سکیں۔۔۔ اس لیے تمہاری حفاظت میری اولین ذمہ داری ہے۔۔۔ میں تم پر آنچ بھی نہیں آنے دے سکتا۔۔۔ تمہیں جتنا بھی برا لگے، غصہ آۓ لیکن تمہیں ان گارڈز کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہی پڑے گا۔۔۔ کیونکہ یہ سب میں تمہاری سیفٹی کے لیے ہی کر رہا ہوں۔۔۔ یہ چاروں میرے قابل ترین اور بھروسے والے بندے ہیں۔۔۔ جو خود کٹ مریں گے لیکن تمہاری حفاظت کریں گے۔۔۔ اینڈ نو مور آرگیومنٹس۔۔۔ انجواۓ یور ڈے۔۔۔ ” ایک لمبی سی تقریر کرتے ہوۓ آخر میں انہوں نے ابیہا کا گال تھپکا تو وہ کندھے اچکاتی ہوئ مڑی۔۔ اور اونچی پونی ٹیل جھلاتی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئ۔۔۔
وہ دونوں اس وقت اس چھوٹے سے نیم تاریک کمرے میں بیٹھے تھے۔۔۔ چھت پر بنا یہ واحد کمرہ تھا جسے پہلے اسٹور روم کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔۔۔ لیکن ان کی ماں کے مرنے کے بعد چھوٹی چچی نے یہ کہہ کر انہیں ان کے کمرے سے نکال دیا کہ ایک کمرے میں ان کا جہیز کا سامان پورا نہیں آتا۔۔۔ یوں ان کا کمرہ ہتھیا کر انہیں اس اسٹور روم میں شفٹ کر دیا گیا جہاں ان دونوں کے سوا کوئ نہ ہوتا۔۔۔ سرد اور تاریک راتوں میں وہ دونوں ڈرے سہمے ایک دوسرے سے چپکے رہتے۔۔۔ راجا تو پھر بھی تھوڑا سمجھدار تھا کچھ حد تک خود کو سنبھال لیتا لیکن چھوٹی ڈرنے لگتی۔۔۔ اسے اندھیرے سے خوف آتا تو راجا اسے اپنی گود میں لے کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا اور دھیرے دھیرے تھپکتا۔۔۔ جب وہ بھائ کے تحفظ کا احساس ہوتے ہی سو جاتی تو راجا وہیں بیٹھے بیٹھے ساری رات گزار دیتا۔۔۔
آج پھر چھوٹی سی بات پر اسے مارا گیا اور ان دونوں کا کھانا بند کر دیا گیا۔۔۔ دونوں اس وقت بھوکے پیاسے ایک استعمال شدہ میٹرس پر چادر اوڑھے بیٹھے تھے۔۔۔ چھوٹی بھوک سے کرلا رہی تھی۔۔۔ بار بار بھائ سے کھانے کو کچھ مانگتی اور وہ اداس نظروں سے بہن کا ستا ہوا معصوم چہرہ دیکھتا۔۔۔ اور پھر دیوار سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیتا۔۔۔ آج ان کے اس چھوٹے سے کمرے کا بلب بھی خراب ہو گیا تھا تو کمرے میں اندھیرا پھیلا تھا۔۔۔ اس لیے اس نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔۔۔ دروازے سے سردی اندر آ رہی تھی لیکن چاند کی روشنی بھی ان کے کمرے کو کچھ حد تک روشن کر رہی تھی۔۔۔
“لاجا۔۔۔(راجا) بھوک لگی ہے۔۔۔” تقریبأ دسویں بار چھوٹی نے یہ بات اس سے کہی تھی۔۔۔ اس نے بے بسی سےبہن کی جانب دیکھا۔۔۔ “میں کچھ کھانے کو لے کر آتا ہوں۔۔۔” بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتا وہ لب کاٹتا اٹھا اور سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ نیچے جا کر کچن میں دیکھا تو سب برتن خالی پڑے تھے۔۔۔ ایک چپاتی تک نہ تھی۔۔۔ بس ایک طرف سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے تھے جو نہ جانے کب سے یہاں رکھے تھے۔۔۔ آنکھوں میں آنسو لیے اس نے وہ ٹکڑے اٹھاۓ۔۔۔ ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی ڈالا اور انہیں اس میں بھگو دیا تا کہ کچھ نرم ہو کر کھانے کے قابل ہو سکیں۔۔۔ کچھ دیر بعد اس نے وہ پیالا تھاما اور اسٹیل کا گلاس جو ان دونوں بہن بھائیوں کے لیے مخصوص تھا اس میں پانی ڈالا اور چھت پر چلا گیا۔۔۔ جا کر وہ پیالا اس نے بہن کے سامنے رکھا اور اپنے ہاتھوں سے اسے کھلانے لگا۔۔۔ اس نے سوچا تھا کہ شاید بہن کے کھانے کے بعد اس کے لیے بھی کچھ بچ جاۓ لیکن چھوٹی دوپہر سے بھوکی تھی اس لیے وہ سب ٹکڑے کھا گئ۔۔۔ راجا کے پیٹ میں بھوک کے باعث درد ہو رہا تھا لیکن بہن کی بھوک کے سامنے اس نے اپنے پیٹ کو نظرانداز کر دیا اور دو گھونٹ پانی پی کر دل میں درد لیے لیٹ گیا۔۔۔
وہ سلگ رہی تھی دل ہی دل میں۔۔۔ پتا نہیں ساری دنیا اس کے ڈیڈ کی ہی دشمن کیوں بن گئ تھی۔۔۔ جبکہ ڈیڈ نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا۔۔۔ ہر کسی کی مدد کرنے کو تیار ہوتے۔۔۔ پھر بھی لوگ ان کے خلاف کیوں تھے۔۔۔ اور ان مخالفین میں زیادہ تر ان جیسے بزنس مین ہی شامل تھے جو جلتے تھے ان کی ترقی سے۔۔۔ اور اب حیلے بہانے ڈھونڈ رہے تھے انہیں کوئ ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کو۔۔۔ وہ یہ سب باتیں سمجھتی تھی۔۔۔ جانتی تھی کہ کتنی اہم ہے اپنے ڈیڈ کے لیے۔۔۔ اور وہ یہ سب اسی کی خاطر کررہے تھے۔۔۔ لیکن پھر بھی اسے کوفت ہوتی ان گارڈز کی موجودگی کی وجہ سے۔۔۔ وہ عام لوگوں کی طرح آزادی سے ذندگی گزارنا چاہتی تھی۔۔۔ بغیر پروٹوکول کے۔۔۔ لیکن۔۔۔ گہری سانس بھرتے ہوۓ اس نے ٹرن لیا۔۔۔ تبھی ایک آئیڈیا آیا اس کے ذہن میں اور لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔۔ ساحل سمندر کی جانب جانے کی بجاۓ اس نے گاڑی کا رخ شاپنگ مال کی جانب کیا۔۔۔ بندوقیں تھامے گارڈز ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ تھے۔۔۔ اور اب اسے ان سے جان چھڑانی تھی کہ وہ کچھ وقت اپنے ساتھ گزارنا چاہتی تھی۔۔۔ تنہا۔۔۔ اکیلی۔۔۔
تیز تیز قدم اٹھاتی وہ آگے سے آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔۔۔ ایک جگہ رک کر دو تین ڈریسز دیکھے۔۔۔ پھر ناک چڑھاتی آگے بڑھ گئ۔۔۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ مڑی۔۔۔ “میں واشروم جا رہی ہوں۔۔۔ تم لوگ یہیں میرا ویٹ کرو۔۔۔” نخوت سے کہتی وہ آگے بڑھ گئ۔۔۔ واشروم جا کر اس نے چند سیکنڈ ویٹ کیا۔۔۔ پھر وہاں سے نظر بچا کر نکلی اور شاپنگ مال کے دوسرے دروازے سے پارکنگ ایریا میں آ گئ۔۔۔ “اب کرتے رہیں میرا ویٹ۔۔۔ ہونہہ۔۔۔” گاڑی کو بیک کرتے ہوۓ وہ بڑبڑائ اور مسرور سی ساحل سمندر کی جانب گاڑی موڑ لی۔۔۔
_________
دوپہر کا وقت تھا۔۔۔ اتوار کی وجہ سے سب بچوں کو اسکول سے چھٹی تھی۔۔۔ اور وہ گھر کے باہر کرکٹ کھیل رہے تھے۔۔۔ جبکہ راجا بھینسوں کو چارہ ڈال رہا تھا۔۔۔ کام کرنے کے ساتھ ساتھ وہ حسرت بھری نگاہوں سے کھلے دروازے سے نظر آتے اپنے کزنز اور ان کے دوستوں کو کھیلتے ہوۓ دیکھتا۔۔۔ اسے کرکٹ کھیلنے کا بے حد شوق تھا لیکن نہ تو اس کے پاس اس کھیل کا سازو سامان تھا اور نہ ہی کھیلنے کی فرصت۔۔۔ سارا دن کاموں میں مصروف رہنے کے باعث وہ کسی بھی کھیل میں شامل نہ ہو پاتا۔۔۔ لیکن جب یوں دوسرے بچوں کو کھیلتے دیکھتا تو دل میں یہ ارمان مچلنے لگتا کہ وہ بھی ان کے ساتھ کھیلے۔۔۔ اب بھی وہ اپنے معصوم دل کی خواہش کو زیادہ دیر نظرانداز نہ کر سکا اور جلدی جلدی اپنا کام ختم کر کے باہر کی جانب بھاگا۔۔۔
“مجھے بھی کھیلنا ہے۔۔۔ ” لہجے میں حسرتوں کا جہان آباد کیے اس نے اپنے ایک کزن کو مخاطب کیا۔۔۔ اس کی بات پر سب نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا کا مکین ہو۔۔۔ اور نہ جانے کونسی انوکھی فرمائش کر دی اس نے۔۔۔
“ہونہہ۔۔۔ شکل دیکھی ہے اپنی۔۔؟ اور اپنا حلیہ دیکھو۔۔۔ فقیر سے بھی بدتر ہو۔۔۔ اور ہمارے ساتھ کھیلو گے۔۔۔ ہاہاہا” فراز نے اس کا مزاق اڑایا اور اس کے قریب چلا آیا۔۔۔ باقی سب بھی فراز کے دوست تھے جو اسے استہزائیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ راجا کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔۔۔ فراز اس کے مدمقابل کھڑا تھا۔۔۔
“مجھ پر الزام لگانے کی کوشش کی تھی اس دن پیسے چوری کرنے پر۔۔۔ اپنا انجام دیکھا تھا نا پھر۔۔۔ اسی لیے کہتا ہوں مجھ سے پنگا مت لیا کر۔۔۔۔ ” طنزیہ انداز میں کہتے ہوۓ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور راجا کی شانے سے تھوڑی سی پھٹی ہوئ قمیض کے سوراخ میں انگلی ڈال کر اسے مزید پھاڑ دیا۔۔۔۔ راجا نے ایک نظر قمیض کی جانب دیکھا اور پھر نہ جانے کیا ہوا تھا اسے ایک دم۔۔۔ وہ جو ہر ظلم سہتا جا رہا تھا اور اندھیروں میں بیٹھ کر رو دھو کر اپنا غم ہلکا کر لیتا تھا آج اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جگہ طیش نے لے لی تھی۔۔۔ ایک لمحہ کی دیر تھی اور اس نے پوری قوت سے مکا فراز کے جبڑے پر رسید کر دیا۔۔۔ فراز کو شاید اس سے اتنی جرأت کی توقع نہ تھی تبھی لڑکھڑاتا ہوا چار پانچ قدم پیچھے زمین پر جا گرا۔۔۔ اس کے منہ سے خون بہنے لگا تھا۔۔۔ ہونٹ بھی پھٹ گیا۔۔۔ ایک ہاتھ منہ پر رکھے بے یقینی سے آنکھیں پھاڑے اس نے راجا کو دیکھا جس کی نگاہوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔۔۔
