Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode

یہ دو ہفتے کیسے پر لگا کر اڑے کسی کو کچھ پتا ہی نہیں چلا اور اب وہ پل بھی آن پہنچا جب عریشہ اسد کے ساتھ رخصت ہوجانی تھی۔۔
اسد عریشہ سٹیج پر بیٹھے پرفیکٹ کپل لگ رہے تھے جو دیکھتا وہ ان کی جوڑی کو سراہتا اور دعائیں دیتا سب ہی خوش تھے چاروں طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی کہ اچانک ہال میں ہل چل مچ گئی اور اسد عریشہ سمیت سب سٹیج سے نیچے اتر آئے۔۔
چار لوگ تھے جو گن تانے کھڑے تھے اور سب گھبرا کر ہال میں حق دق انھی کو دیکھ رہے تھے۔۔
کون ہو تم لوگ کیا چاہئیے ؟سفیان صاحب نے ان لوگوں کے سامنے کھڑے ہوکر پوچھا۔۔۔
دیکھیں بڑے میاں ہمیں آپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ہمیں دلہن دیں اور چلتا کریں ۔۔(وہ لوگ ایسے کہہ رہے تھے جیسے دلہن نہیں کوئی کھلونا مانگ رہے ہو
ہٹیں آپ آگے سے اور دلہن کہاں ہے ؟؟ان میں سے ایک سفیان صاحب کو جھٹکے سے ہٹاتے ہوئے بولا جنہیں حماد نے بر وقت تھام لیا۔۔
دلہن تمہارے باپ کا مال ہے ہاں یا کوئی کھلونا جو دیں اور چلتا کریں؟؟ تبھی عریشہ دلہن بنی تھوڑا آگے آکر برہمی سے بولی ۔۔۔
اے میڈم تمیز سے۔۔ باپ تک نا جائیں؟ان میں سے ایک نے کہا۔۔
ہاں تو بھائی صاحب دلہن آپ کے ابو جان کی ملکیت ہے جو آپ کو چاہئیے ۔وہ چبا چبا کر کچھ زیادہ ہی تمیز کے دائرے میں بولی جس پر ٹینشن میں بھی ہال میں سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ آگئی۔۔
ابے کیا تو باتیں ہی کیے جارہا ہے ہمارے پاس ٹائم نہیں جلدی کر ۔ان میں سے دوسرے نے کہا تو وہ عریشہ کو دلہن بنا دیکھ کر اس کی طرف بڑھنے لگے تو اسد عریشہ کے آگے ڈھال بن کر کھڑا ہوگیا خبردار جو ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو وہ خونخوار لہجے میں بولا ۔۔
اے ہیرو چل ہٹ ورنہ یہ گولی چلنے میں ٹائم نہیں لگائے گی ہمیں یہ دلہن چاہئے اور دے بس ۔۔ وہ اسد پر گن تانتے ہوئے بولا تبھی عمر حماد اسد عریشہ کے آگے آکر کھڑے ہوگئے۔۔۔
خبردار جو ہماری بہن کے قریب بھی آئے تمہارا وہ حشر کریں گے کہ تم لوگ یاد رکھو گے ۔۔عمر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔۔
آبے یہ لوگ ایسے نہیں مانیں گے اور تو بھی کیا باتوں میں لگا ہوا ہے ۔ان میں سے ایک نے کہا اور ٹیبل کے پاس کھڑی وفا کو پکڑ کر اس پر گن تان دی ۔۔۔
ووووفا علشبہ چیختی ہوئی ان کی طرف بڑھی ۔۔۔
اے شش پیچھے ورنہ یہ بچی نہیں بچے گی اور نا ہی تو ۔۔وہ علشبہ کی طرف گن کرتے ہوئے بولا پر علشبہ ان کی کہاں سن رہی تھی وہ تو روتی ہوئی اپنی بچی کو دیکھ رہی تھی جو اس کے پاس آنے کو مچل رہی تھی ۔۔۔
اے پیچھے میں کہہ رہا ہوں پیچھے ہٹ اس نے کہتے کے ساتھ ہی ٹریگر دبا دیا اور گن چل پڑی جس پر کئی لوگوں کی چیخیں بلند ہوئی
شاہ میر نے بر وقت علشبہ کے آگے آکر گن کو اوپر کر کے اس شخص کے منہ پر ایک مارا اور وفا کو اس سے کھینچ کر اپنے پیچھے چھپا لیا جس پر علشبہ نے وفا کو اٹھا کر اپنے سینے میں بھینچ لیا اور وفا بھی ڈری سہمی سی علشبہ کے بانہوں میں چھپ گئی ۔۔
ابے یہ تو کیا کر رہا ہیں ہمیں خون خرابا نہیں کرنا ہے صرف لڑکی چاہیئے ہمیں ۔پیچھے کھڑے شخص نے اپنے زمین پر گرے ساتھی کو اٹھاتے ہوئے سختی سے کہا اور تبھی اس شخص کا موبائل بج اٹھا ۔۔
کیا یہ تو کیا کہہ رہا ہے۔۔ ہاں ہمیں کیا پتا آرہے ہیں ہاں ہاں تو انتظار کر ۔۔اس نے کال اٹھا کر بات کر کے کٹ کردی اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو بتانے لگا ۔۔
ابے ہم غلط جگہ آگئے یہ وہ دلہن نہیں ہے جسے ہمیں اٹھانا تھا۔۔
سوری سر ہم نے آپ لوگوں کو پریشان کیا وہ کیا ہے نا دوستی کی خاطر کرنا پڑ رہا ہے جس لڑکی کو ہمارا یار پسند کرتا ہے اس کی شادی ہورہی ہے اور ہمیں اپنی دوستی نبھانی ہے ہم نے آپ کی بیٹی کو وہ لڑکی سمجھا اس کیلئے معذرت ۔۔وہ سفیان صاحب کو کہتے کے ساتھ ہی پلٹنے لگا پر عریشہ کی آواز پر رک گیا جو کڑے تیور لیے ان کی طرف بڑھ رہی تھی اور قریب آکر اسی شخص کے منہ پر ایک زور کا تھپڑ مارا جس نے کچھ دیر پہلے وفا کو پکڑ لیا تھا۔۔۔یہ تمہارے وفا کو پکڑنے پر اس نے گھوری سے نوازتے ہوئے کہا۔
اور شرم نہیں آتی تم لوگوں کو کتنی آسانی سے کہہ دیا تم نے کہ سر غلطی ہوگئی اور کس قدر دھڑلے سے کہہ رہے ہو کہ کسی اور لڑکی کو اٹھانا تھا۔۔ تم لوگوں کے نزدیک لڑکیوں کی کوئی عزت نہیں ہے جب چاہا انھیں رسوا کر دیا لڑکی پسند آگئی تو گن پوائنٹ پر اٹھوا لیا زبردستی نکاح کر لیا نہیں تو ان کی عزتوں کے ساتھ کھیل لیے ارے اگر تمہاری بہنوں کے ساتھ ایسا ہو کوئی تمہارے ہی سامنے تمہاری بہن کو اٹھا کر لے جائے تمہاری عزت کو روند دے تمہیں کیسا لگے گا۔ اور وہ تمہارا دوست کیسا شخص ہے جو اس لڑکی سے محبت تو کرتا ہے اور اسی کی عزت کو دنیا والوں کے سامنے رسوا کرنے پر تلا ہوا ہے سوری یہ محبت نہیں ہے یہ صرف تم جیسے نام نہاد محبت کے دعوے کرنے والوں کی ہوس ہے ارے شرم سے ڈوب مرو تم لوگ اور جاؤ اگر زرا سی بھی انسانیت باقی ہے تو اپنے اس دوست کو راہِ راست پر لاؤ ورنہ یہ نا ہو جو تم لوگ کر رہے ہو کل کو تمہارے آگے بھی آجائے ۔وہ کہہ رہی تھی اور ان لوگوں کے سر شرم سے جھکتے چلے جارہے تھے ۔۔
آپ ٹھیک کہہ رہی ہو بہن ہم لوگ برے نہیں ہیں بس دوست کی محبت میں اچھا برا سب بھول بیٹھے اب ایسا کچھ نہیں ہوگا آپ نے ہماری آنکھیں کھول دیں آپ کا بہت بہت شکریہ اور ایک بار پھر سے آپ سب سے معذرت۔وہ شخص کہہ کر وہاں سے اپنے ساتھیوں کو لیکر چلا گیا۔پیچھے اسد ایک بار پھر اپنی بندریا کو دیکھ کر فخر محسوس کرنے لگا اسے جب لگتا وہ عریشہ کو جان گیا ہیں تب اسے کوئی نئی چیز اس کے سامنے لے آتی اور وہ سرشار ہو جاتا ۔۔۔
منزل اہم نہیں ہوتی۔سفر اہم ہوتا ہے۔جو سفر میں قانع اور خوش نہیں ہوتا،اسے منزل کبھی خوش نہیں کر سکتی…
🌹🌹🌹
آپی بس کریں دیکھیں ہماری وفا بلکل ٹھیک ہے اور ہمارے پاس ہے۔۔عریشہ نے روتی ہوئی علشبہ کو کہا جو ڈریسنگ روم میں چیئر پر وفا کو لیے بیٹھی تھی اور وفا اپنی ماں کی آغوش میں اب پر سکون نیند سورہی تھی۔۔
ہاں علشبہ اب بس کرو یار لائبہ نے بھی کہا۔۔ بڑوں کو چھوڑ کر سب ڈریسنگ روم میں علشبہ کو بہلا رہے تھے جس کا رونا ہی بند نہیں ہورہا تھا۔۔
علشبہ یہ لو پانی پیو ۔شاہ میر نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے منہ سے گلاس لگایا جسے تھوڑا ہی پی کر اس نے چھوڑ دیا ۔۔
اور اب بلکل رونا بند کرو تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی ۔۔اور دیکھو ہماری بیٹی ہمارے پاس ہے اسے کچھ نہیں ہوا اور میرے جیتے جی تم لوگوں پر آنچ بھی نہیں آنے دونگا ۔شاہ میر نے اس کے آنسو اپنے ہاتھوں سے چنتے ہوئے کہا تو علشبہ شاہ میر کو دیکھنے لگی اور سب ان دونوں کو مسکرا کر ۔۔۔
لاؤ مجھے دو وفا کو تم تھک گئی ہوگی ۔اس نے علشبہ کے آرام کے خیال سے سوتی ہوئی وفا کو لیکر اپنے کندھے سے لگا لیا اور اب علشبہ کا بھی رونا بھی بند ہو چکا تھا۔۔
ویسے جیجو آپ نے کیا انٹری ماری تھی بلکل ہیرو والی ان کو اور مارنا چاہئیے تھا۔خیر ویسے مزا آگیا میری شادی بلکل ایکشن سے بھرپور فلم تھی جہاں ہیرو ویلن سب تھے۔۔عریشہ جوش سے کھڑی شاہ میر سے کہہ رہی تھی اور سب اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے تبھی علشبہ نے کھڑے ہو کر اس کی کمر پر ایک جڑ دیا۔۔۔
تمہیں یہ فلم لگ رہی تھی یہاں ہماری جان پر بنی ہوئی تھی ۔۔علشبہ نے خفگی سے کہا۔۔
کیا آپی آج تو میں دلہن ہوں آج تو نا ماریں وہ اپنی کمر سہلاتے ہوئے اداکاری کرتے ہوئے بولی تو علشبہ سمیت سب ہنس دیے ۔۔۔
شکر ہے آپ ہنسی تو صحیح ویسے آپی اتنا نا رویا کریں ورنہ ہمارا چھوٹو بھی روندو آئے گا اور وہ بلکل اپنی خالہ جانی کی طرح نڈر ہونا چاہئے نا کہ آپ کی طرح ڈرپوک۔۔
کوئی نہیں میری بیوی کوئی ڈرپوک ورپوک نہیں ہے۔شاہ میر علشبہ کی سائیڈ لیتے ہوئے بولا۔۔
ہاں بلکل آج دیکھا نہیں ہماری علشبہ کیسے ان لوگوں کے آگے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔حماد نے بھی اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے پیار سے کہا ۔
ہاں ہاں مان لیتی ہوں آپ لوگ کیا یاد کرو گے۔عریشہ ایک ادا سے بولی تو سب ہنس دیے (وہ سب کو ہنسانا ہی تو چاہتی تھی اور وہ کامیاب بھی ہوگئی تھی)
ویسے اب مجھ سے بلکل انتظار نہیں ہورہا کب ہمارا چھوٹو آئے گا اور اب تو میں آپی کو بلکل اکیلا نہیں چھوڑنے والی۔۔اس نے علشبہ کے ہاتھ تھام کر کہا تو اسد اسے ہی دیکھ رہا تھا جو ہر پل اسے شوکڈ دینے کے درپے تھی اس کا ہر ایک نیا روپ سامنے آرہا تھا چاہے ماں باپ کی عزت کا ہو یا پھر اس کی محبت کا یا پھر بہن بھائیوں کی مسکراہٹ کا جو وہ ابھی لا چکی تھی۔۔۔
ہاں ہمارے گھر میں بھی اب ایک اور خوشی آئے گی بس ساتھ خیریت سے ہو سب ۔حماد نے کہا تو علشبہ نظریں جھکا گئی اور آمین کہا جسے شاہ میر نے بڑی دلچسپی سے دیکھا اور دل ہی دل میں آمین کہا۔۔
ویسے آپ غلط کہہ رہے ہیں ایک نہیں دو۔لائبہ نے کہا تو شاہ میر کے پاس کھڑی مسکان جھینپ گئی۔۔
ہیں بھابھی دو کیسے ؟عریشہ کو تجسّس ہوا۔۔
یہ تم اپنی مسکان بھابھی سے پوچھو ۔لائبہ نے کہا اور سب کی نظریں مسکان کی طرف اٹھیں. عمر تو حیرت اور بے یقینی سے انھیں دیکھنے لگا۔۔
واہ میں ایک بار پھر پھوپھو بنوں گی ۔عریشہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا اور مسکان کو گلے لگا لیا پھر شاہ میر نے بھی اسے اپنے ساتھ لگا کر ماتھے پر بوسا دیا سب نے ایک ایک کر کے مبارکباد دی اور پھر پیچھے کھڑے عمر سے ملے جسے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا ۔۔۔
بھابھی آپ سچ کہہ رہی ہیں؟عمر نے بے یقینی سے پوچھا تو سب ہنس دیے اور مسکان کے چہرے پر شرمیلی سی مسکان آگئی۔۔
اوہ یعنی تمہیں نہیں پتا تھا مجھے لگا مسکان نے تمہیں بتا دیا ہوگا اف بھئی سوری ہمیں بھی آج ہی پتا چلا تھا اور مسکان تمہیں خود بتانا چاہتی تھی پر میں نے سب خراب کر دیا بتا کر ۔۔وہ اسے سب بتاتے ہوئے شرمندہ سی بولی۔۔
خیر کوئی بات نہیں تم اب پوچھ لو اپنی بیگم سے ہم چلتے ہیں۔ وہ اپنی شرمندگی مٹاتے ہوئے ہنستے ہوئے بولی اور سب کو لیے کمرے سے باہر چلی گئی مسکان کا تو شرم کے مارے سر ہی نہیں اٹھ رہا تھا سب کے سامنے۔۔۔
کیا یہ سچ ہے مسکان ؟؟عمر کے پوچھنے پر مسکان نے شرمیلی مسکان کے ساتھ ہاں میں سر ہلایا۔۔
آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟؟عمر کے کچھ رئیکٹ نا کرنے پر وہ گھبرا کر پوچھنے لگی اور آنکھوں میں آنسو سے چمکنے لگے۔۔
خوشی نہیں بہت بہت بہت خوشی ہوئی.. وہ اس کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر گھومنے لگا ۔۔۔
عمر پلیز نیچے اتارو عمرررر۔وہ اس کا گریبان مٹھی میں دبوچے ہوئے بولی۔۔۔
اچھا سوری سوری ۔پر کیا کرو میرا دل کر رہا ہے میں سب کو چیخ چیخ کر اپنی خوشی کا بتاؤں کہ میں پاپا بننے والا ہوں میرے بھی رینا مینا چنو منو ببلو ہونگے جو ایک کمر پر دو کندھے پر اور دو ہاتھوں میں ہونگے.. وہ جان بوجھ کر مسکان کو تنگ کرنے لگا۔۔۔
پانچ پانچ وہ حیرت سے بولی ۔۔
اچھا زیادہ ہیں چلو چار۔۔پر وہ اسی طرح اسے گھورنے لگی۔ اچھا چار بھی نہیں چلو تین ۔۔۔
عمرررر
اچھا بابا اب دو سے ایک بھی کم نہیں ہوگا ایک بیٹی اور ایک بیٹا پر مجھے پہلے بیٹی چاہئیے جو بلکل تمہاری طرح ہو۔۔اس نے کہتے کے ساتھ ہی ہر بار کی طرح اس کی ناک کھینچ لی ۔۔۔
عمررررر وہ اب بے بسی سے بول کر جانے لگی۔۔تو عمر کو اس پر ترس آگیا اور اسے ہاتھ تھام کر اپنے اور کھینچ کر گلے سے لگا لیا ۔۔۔
اس طرح سے نا جاؤ ویسے تمہیں جتنا ستانے میں مزا آتا ہے اتنا منانے میں کہاں ہے۔۔وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے ایک بار پھر شرارت سے بولا تو وہ الگ ہوکر خفگی بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
تھینک یو تھینک یو تھینک یو سو مچ جان من آج تم نے مجھے زندگی کی سب سے بڑی خوشی دی ہے جسے میں پوری دنیا میں اعلان کر کے سنانا چاہتا ہوں وہ اس کے ماتھے پر نرمی سے بوسا دے کر ایک بار پھر اپنے سینے سے لگا گیا اور مسکان بھی اس کے سینے سے لگی آنکھیں موند گئی آج وہ لوگ بھی مکمل ہوگئے تھے۔۔۔
#عمر بھر کا #سودا کر #لیں😊
#تھوڑی سی #محبت تم کر #لو😘
🌹🌹🌹
ویسے آج تم جھانسی کی رانی سے کم نہیں لگ رہی تھیں ۔اسد نے سٹیج پر اپنے برابر میں بیٹھی عریشہ سے کہا۔
ہم تو جان لو یہ جھانسی کی رانی کچھ بھی کر سکتی ہے تمہارے ساتھ بھی اب بھی وقت ہیں بھاگ لو۔وہ سرگوشی کرتے ہوئے شرارت سے بولی تو اسد ہنس دیا ۔۔۔
آہاں کیاں کیا جائے اب پھنس ہی گئے ہیں تو پورا پورا نبھایا جائے ورنا میں تو کب کا۔وہ مظلوموں کی طرح شرارت سے بات آدھوری چھوڑ گیا ۔۔
بس بس ساری بیچارگی تو تمہی پر ختم ہوتی ہے نا مظلوم نا ہو تو۔ اور کیا کب کا ہاں چھوڑ دیتے تم مجھے۔وہ اس کے چہرے کو دیکھتے کڑے تیور لیے پوچھنے لگی ۔۔۔
ٹھیک ہے مجھے بھی کوئی رخصتی وخصتی نہیں کروانی جاؤ تم ایسے ہی یہاں سے۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی اپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولی اور منہ پھیر کے مسکرا دی۔۔
ارے بابا میں مزاق کر رہا تھا یار ویسے ہی یہ دو ہفتے صدیوں کی طرح لگے ہیں اب اور نہیں۔وہ اس کا ہاتھ تھامے جزبات سے چور لہجے میں بولا ۔۔۔
اور ویسے یہ جو تم نے اپنی آنکھوں کے جوہر دکھائے ہیں نا ابھی دل تو کیا انہیں چوم لوں پر ہائے تھوڑا اور صبر۔وہ اس کی شرارت پر بات بدل کر معنی خیزی سے دل پر ہاتھ رکھ کر بولا تو عریشہ نے شرما کر اپنا سر جھکا لیا اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا گئی جس پر اسد اس کا شرمیلا سا روپ دیکھ کر زور سے ہنس دیا ۔۔۔
*❤مرتے تو لاکھوں ہوں گے تجھ پر ❤*
*❤ہم تو تمہارے ساتھ جینا چاہتے ہیں ❤
🌹🌹🌹
یار یہ لو پکڑو اپنے روندو بیٹے کو جب دیکھو روتا رہتا ہے ۔حماد نے جھنجھلا کر سامنے سے آتی لائبہ کو کہا اور عبد الحنان کو اسے تھاما دیا۔۔
غلط بات نا کہیں میرا بیٹا تو شہزادہ ہے۔۔۔
ہاں ہاں شہزادہ اور وہ بھی روندو پتا نہیں کس پر چلا گیا ۔۔
بس بس اب زیادہ نا کہیں چھوٹے بچے اسی طرح روتے ہیں اور آپ بھی ضرور اسی طرح روتے ہونگے تبھی آپ پر گیا ہے ۔۔وہ اپنے بیٹے کو چومتے ہوئے شرارت سے بولی۔۔
؛رے مجھ پر😱۔ بلکل بھی نہیں تمہارا لاڈلا ہے تمہی پر گیا ہے۔
ہاں تو پھر ٹھیک ہے میں امی سے پوچھتی ہوں کہ آپ بچپن میں کیسے تھے ۔وہ ہنستے ہوئے کہتی امرین بیگم کی طرف بڑھ گئی۔۔
ہیں کیا سچ میں مجھ پر گیا 🤔 پر میں اتنا تو روندو نہیں نہیں ۔وہ بڑبڑاتے ہوئے بولا اور خود ہی اپنی بات کی نفی کرنے لگا اور خود بھی ہنستی ہوئی لائبہ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
❤❤❤
تیرے ہنسنے سے یہ لگا مجھ کو
میرے ہونے کا کوئ مقصد ہے
🌹🌹🌹
شاہ میر نے سٹیج کی طرف رکھی ہوئی ٹیبل پر وفا کو لٹا دیا تھا اور خود بھی وہی بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا اگر وہ وقت پر نا پہنچتا تو ۔۔اس کا اسی بات پر آکر دل ڈوبنے لگتا اب اس نے وفا کا ہاتھ پکڑ کر چوما تھا جو ابھی بھی نیند میں تھی انھی سے تو اس کی زندگی تھی۔تبھی پیچھے سے علشبہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور اس کی برابر والی چئیر پر بیٹھ گئی تھی اور شاہ میر کی آنکھ میں چھلکتی نمی کو بھی باخوبی دیکھ لیا تھا ۔۔۔
ابھی تو آپ مجھے سمجھا رہے تھے اور اب آپ خود ہی.. علشبہ نے کہا تو شاہ میر نے اسے دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔
علشبہ میرا دل اندر سے پھٹا جارہا ہے کہ اگر میں صحیح وقت پر نا آتا اور تمہیں کچھ ہوجاتا وہ گولی اگر۔وہ کہہ رہا تھا اور علشبہ اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ رہی تھی جو اس کے کھونے کے ڈر سے تھا علشبہ نے اس کے کندھے پر سر ٹکا دیا اور اس کا ہاتھ مظبوطی سے تھام لیا۔۔۔
ہمیں کچھ نہیں ہوسکتا جب تک آپ ہمارے ساتھ ہیں اور ویسے بھی اتنی جلدی کچھ نہیں ہونے والا ابھی تو ہم نے اپنے بچوں کی بہت ساری خوشیاں دیکھنی ہے اس نے ایک ہاتھ سے وفا کا ہاتھ تھاما اور دوسرے سے شاہ میر کا ہاتھ تھام کر اپنے پیٹ پر رکھ لیا اور اسے دیکھ کر مسکرا دی تو شاہ میر نے بھی اسے کس کر اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے ماتھے پر بوسا دیا۔۔
پاپا میں بھی ۔وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنے گم تھے جب وفا نے اٹھ کر شاہ میر کا کندھا ہلا کر اپنے دونوں ہاتھ اس کی طرف پھیلاتے ہوئے کہا ۔۔جسے شاہ میر نے ہنس کر اپنے ساتھ لگا کر بھینچ لیا ۔
بس کریں لو برڈز آجائیں اب ایک فیملی پکچر بھی ہوجائے.. لائبہ نے ان کے پاس آکر کہا اور ہنس کر چلی گئی۔۔ تو علشبہ بھی جلدی سے شاہ میر سے الگ ہوئی اور کھڑی ہوگئی جانے کیلئے تبھی شاہ میر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا اور خود اس کا ہاتھ تھامے سٹیج کی طرف بڑھ گیا جہاں سب کیمرہ مین سمیت انھی کا انتظار کر رہے تھے سب ہی خوش تھے سب ہی کے چہروں پر مسکراہٹیں تھیں.. اسد نے عریشہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا تو پیچھے کھڑے لائبہ حماد اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑے مسکرا رہے تھے اور رامین احد بھی اپنی بیٹی دعا کے ساتھ کھڑے تھے تو دوسری طرف عمر نے مسکان کو کندھے سے تھام کر اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا دونوں کے ہی چہروں پر ماں باپ بننے کی خوشی کی رمق جگمگا رہی تھی تو علشبہ نے بھی شاہ میر کے کندھے پر سر رکھ کر اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جو شاہ میر کی گود میں تھی اور پھر اپنی پوری فیملی کو اور دل ہی دل میں سب کی دائمی خوشیوں کی دعا مانگی تھی.. جاوید صاحب سفیان صاحب سمیت سب بڑے اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش تھے مطمئن تھے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ان کی نظر اتاری تھی تبھی کیمرے نے ان کی خوشیوں سے بھری فیملی کی تصویر اپنے کیمرے میں قید کرلی تھی اور ایک یادگار بن کر ان کی مسکراہٹوں کو قید کر گئی تھی۔۔۔
زندگی بھر یہ آسماں تجھ کو
کسی آفت میں‌ مُبتلا نہ کرے
یہ بہاریں‌ جہاں جہاں جائیں
کوئی تجھ کو ان سے جدا نہ کرے
تیری زندگی کی روشنی کو
خُدا کسی ظلمت سے آشنا نہ کرے
کِھلتے پھولوں کی رِدا ہو جائے
اِتنی حسّاس ہوا ہو جائے
مانگتے ہاتھ پہ کلیاں رکھ دے
اِتنا مہربان خُدا ہو جائے ۔۔۔!
🍁🍁 ختم شد 🍁🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *