Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34

شاہ میر کو آفس آئے دن سے رات ہوگئی تھی اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا الگ اس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا وہ گھر جانا نہیں چاہتا تھا پر ہمت کر کے رات کے دو بجے کے قریب گھر کیلئے روانہ ہوگیا
صبح سے رات ہوگئی تھی اور وفا کی حالت بگڑ رہی تھی اس نے صبح سے رونا ڈالا ہوا تھا روتے روتے اس کو بخار بھی چڑ گیا تھا. علشبہ بھی صبح سے بنا کچھ کھائے اسے سنبھالنے میں مصروف تھی تھوڑی دیر پہلے ہی بڑی مشکل سے وفا سوئی تو وہ فریش ہونے واشروم چلی گئی واپس آنے پر اسے خیال آیا کے وفا بھی رونے کے باعث فیڈ نہیں کر رہی تھی اس نے سوتی ہوئی وفا کو اٹھایا کہ اسے تھوڑا فیڈ کرا دے پر اسے وفا کی سانسیں مدھم لگیں.. وہ اس کے گال تھپکنے لگی کہ وہ اٹھے پر اس نے حرکت تک نہ کی علشبہ کا دل حلق میں آگیا اور وہ گھبرا گئی اور اسے جھنجوڑ کر اٹھانے لگی پر بے سود وہ گھبراتی ہوئی کمرے سے بھاگی ۔۔
شاہ میر ابھی اپنے کمرے میں آیا تھا اور اپنا کوٹ اتار کر بیڈ پر رکھا اور خود بھی نڈھال سا بیڈ پر ہی بیٹھ گیا پر اچانک جھٹکے سے دروازہ کھول کر گھبرائی ہوئی علشبہ اندر آئی تو وہ کھڑا ہوگیا اسے اچانک کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔
ووووووہ وفا۔وہ ہچکیوں کے بیچ شاہ میر کے قریب آکر بولی۔۔تو وہ بنا دیر کیے اس کے کمرے کی طرف بھاگا پیچھے پیچھے روتی ہوئی علشبہ بھی۔۔
شاہ میر نے وفا کو چیک کیا جسے کافی تیز بخار تھا اور وہ ہوش میں نہیں تھی ۔۔
اسے کب سے بخار ہے ۔۔وہ علشبہ پر دھاڑا ۔۔۔
شام سے ہل۔کا ہل۔کا تھا می۔۔ں نے دو۔۔ائی پ۔۔۔لائ۔۔ی تھی ۔۔(شام سے ہلکا ہلکا تھا میں نے دوائی پلائی تھی) وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان ادھورے الفاظوں میں بولی۔۔
علشبہ اگر میری بیٹی کو کچھ ہوا میں تمہیں چھوڑو نگا نہیں… وہ علشبہ پر دھاڑتے ہوئے بولا اور وفا کو لیے باہر بھاگا۔۔علشبہ بھی اس کی باتوں پر اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی اور خود بھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئے… شاہ میر نے وفا کو اسے دیا اور گاڑی کو زن سے بھگا دیا اسے جلد سے جلد ہاسپٹل پہنچنا تھا علشبہ بھی اسے اپنے سینے سے لگائے رو رہی تھی۔۔
🌹🌹🌹
وہ دونوں ایمرجنسی وارڈ کے باہر کھڑے تھے جہاں ابھی وفا کو لیکر گئے تھے.. علشبہ بھی اندر جانا چاہ رہی تھی پر اسے اندر نہیں جانے دیا وہ منہ پر ہاتھ رکھے روئے جارہی تھی تو پاس کھڑے شاہ میر نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ اور بکھر گئی۔۔
یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے میری وجہ سے پلیز مجھے میری بیٹی لادیں میں آپ سے پھر کچھ نہیں بولوں گی اور نا ہی کچھ مانگوں گی مجھے میری بیٹی لادیں میں اس کے بغیر مر جاؤں گی.. وہ اس کی شرٹ کو مٹھی میں قید کیے روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔
شش علشبہ کچھ نہیں ہوگا ہماری بیٹی کو اور دیکھو دعا کرو اس کیلئے اللہ ماں کی دعا تو فوراً سنتے ہیں۔وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے بچوں کی طرح بہلا رہا تھا ۔۔
اور تم نے کچھ نہیں کیا سب ٹھیک ہو جائے گا سنبھالو اپنے آپ کو.. وہ خود وفا کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا پر پھر بھی اسے حوصلہ دے رہا تھا… اسے اپنے کہے لفظ یاد آئے تھے جو اس نے علشبہ سے وفا کی حالت دیکھ کر کہے تھے اس نے سختی سے اپنی سرخ آنکھیں میچ کر کھولی تھیں اور اپنے آپ کو سنبھالا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر آئی تو دونوں ان کی طرف بڑھے۔۔
آپ کی بیٹی اب بلکل ٹھیک ہے بس بخار کی شدت کی وجہ سے ہوا اب آپ لوگ اس کا اچھے سے خیال رکھیئے گا.. ڈاکٹر کے الفاظ سن کر ان دونوں کو اپنے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
میں مل سکتی ہوں؟؟
جی اب آپ لوگ مل سکتے ہیں اور صبح تک لے جا بھی سکتے ہیں… وہ مسکرا کر کہتی ہوئی چلی گئی تو شاہ میر نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا علشبہ بھی بھاگتی ہوئی وفا کے پاس پہنچی جہاں اس کے ایک ہاتھ پر کینولا لگا ہوا تھا اور منہ پر آکسیجن ماسک.. علشبہ نے اس کے قریب بیٹھ کر اس کے ماتھے پر پیار کیا اور اس کا ننھا سا ہاتھ پکڑ کر چومتے ہوئے پھر رو دی ۔۔
شاہ میر بھی اس کے قریب آیا اور اس کے ماتھے پر بوسی دیا تو اس کی ایک آنکھ سے آنسو ٹپک پڑا اس نے پیچھے ہو کر اپنی بیٹی کو دیکھا جو کتنی تکلیف میں تھی اس کا دل کیا وہ ان چیزوں سے اسے آزاد کر کے اپنے پاس چھپا لے جہاں اسے کوئی تکلیف نا ہو وہ دونوں ہی وفا کی تکلیف کو اچھے سے محسوس کر رہے تھے.. اولاد کی تکلیف کیسے ادھ موا کر دیتی ہی والدین کو ان دونوں کو اب اچھے سے سمجھ آرہی تھی۔
____
شاہ میر اور علشبہ وفا کے پاس ہی بیٹھے تھے کہ شاہ میر کا موبائل بجا. وہ موبائل لیکر کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔
ہیلو بھائی آپ لوگ کہاں ہیں؟؟شاہ میر کے کال پک کرتے ہی مسکان کی آواز آئی۔۔۔
بھائی میں نے آپ لوگوں کو گھبراتے ہوئے گھر سے باہر جاتے دیکھا تھا آپ لوگ کہاں ہیں میں ماما کو اٹھاؤں۔؟؟؟ مسکان پریشانی سے بولی۔۔
نہیں مسکان کسی کو کچھ ناں کہنا سب ٹھیک ہے بس وفا کی تھوڑی طبیعت ٹھیک نہیں تھی. ڈاکٹر کے پاس آئے ہیں تم پریشان نا ہو اور کسی کو کچھ نہ کہنا ہم آجائیں گے صبح تک۔وہ اس کو مختصر بتا کر ہدایت دیتے ہوئے بولا۔۔
پر بھائی؟
پر ور کچھ نہیں تم بھی آرام کرو سب ٹھیک ہے ٹینشن نہیں لو ۔۔
اوکے بھائی آپ لوگ جلدی آئیے گا اور وفا کا خیال رکھیے گا ۔۔
ہاں اوکے اللہ حافظ۔۔شاہ میر کال کٹ کر کے واپس کمرے میں گیا جہاں نرس وفا کا چیک اپ کر رہی تھی اور علشبہ ابھی بھی وفا کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی پر رونا بند ہوچکا تھا اس کا ۔۔
شاہ میر کی نظر علشبہ کے ہاتھوں پر گئی جہاں ہلکے ہلکے کٹ تھے جو اس نے چوریاں اتارتے ہوئے بیدردی سے اپنے آپ کو دیے تھے. شاہ میر کو ایک بار پھر وہ سب یاد آیا تھا تبھی نرس شاہ میر کے برابر میں سے گزرنے لگی تو شاہ میر نے اسے روک لیا اور کچھ کہنے لگا جس پر علشبہ ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی اور غصّہ بھی آیا تھا پر پھر بھی چپ ہی رہی شاہ میر بات کر کے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
نرس علشبہ کے پاس آئی اور اس کو اپنے ہاتھ آگے کرنے کو بولنے لگی۔۔علشبہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تو نرس اس کے ہاتھ پکڑ کر اس پر مرہم لگانے لگی۔۔۔
لگتا ہے آپ کے ہسبینڈ اپ سے ناراض ہیں ۔نرس نرمی سے اس کے ہاتھوں پر مرہم لگاتے ہوئے بولی تو علشبہ اسے اچھنبے سے دیکھنے لگی۔۔
پر وہ آپ سے بہت محبت بھی کرتے ہیں اور فکر بھی… وہ اپنی دھن میں ہی بولی جارہی تھی وہ مرہم لگا کر ہٹی تو علشبہ کو دیکھنے لگی جو اسے ہی گھور رہی تھی۔۔۔
ارے آپ کے شوہر نے ہی کہا کہ میں آپ کے ہاتھوں پر دوائی لگا دوں ۔۔وہ اس کو صفائی دیتی ہوئی بولی تو علشبہ کے تاثرات نرم پڑے اور دل میں الگ شاہ میر کیلئے نرم گوشہ ابھرا۔۔تبھی شاہ میر واپس آیا تو نرس باہر چلی گئی علشبہ شاہ میر کو دیکھ کر وفا کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔
شاہ میر اس کے لئے سینڈوچ لایا تھا وہ جانتا تھا اس نے کچھ نہیں کھایا ہوگا۔۔
یہ لو… شاہ میر نے علشبہ کے پاس جاکر اس کے آگے سینڈوچ کیا تو علشبہ اسے دیکھنے لگی جس کے تاثرات پہلے سے سخت تھے ۔۔
نہیں مجھے نہیں کھانا.. وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی تو شاہ میر کی نظر اس کے مرہم لگے ہاتھوں پر گئی۔وہ لمبی سانس لیکر وہیں اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا اور اس کے منہ کے آگے سینڈوچ کیا علشبہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور کھانے لگی پر نا چاہتے ہوئے بھی آنکھیں چھلک پڑیں اور آدھا کھا کر بس کر دیا اور نا میں سر ہلایا جس پر شاہ میر اٹھنے لگا پر علشبہ کی آواز پر رکا۔۔
آپ بھی کھالیں… وہ نظریں جھکائے بے بسی سے بولی۔۔تو شاہ میر نے کھڑے کھڑے ہی اس کا آدھا کھایا ہوا سینڈوچ کھا لیا پر نظریں اسی پر مرکوز تھیں جو اپنے آنسو پینے کی ناکام کوشش کررہی تھی وہ چاہ کر بھی علشبہ پر صحیح سے اپنی ناراضگی نہیں دکھا پا رہا تھا اس نے اس کے دل کو بہت دکھایا تھا پر پھر بھی وہ اس سے منہ نہیں موڑ پارہا تھا۔۔۔۔
🌹🌹🌹
شاہ کیا ہوا وفا کو مجھے ابھی مسکان نے بتایا میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے ۔۔وہ دونوں گھر میں آئے تو ثمینہ بیگم انھی کے انتظار میں تھیں ان دونوں کو دیکھتے ہی پریشانی سے سوال کرنے لگیں۔۔۔۔
ارے ماما کچھ نہیں ہوا بس تھوڑا بخار تھا اب ٹھیک ہے آپ کی پوتی.. وہ علشبہ کی گود میں وفا کو دیکھ کر ہلکے پھلکے لہجے میں بولا تاکہ ان کی پریشانی کچھ کم ہو ۔۔
کیا سو رہی ہے ؟ وہ وفا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علشبہ سے بولیں۔۔
جی۔۔
جاؤ پھر تم دونوں بھی آرام کرو رات بھر کے جاگے ہوئے ہو ۔وہ دونوں کی سرخ آنکھوں کو دیکھتے ہوئے بولیں جو رات بھر کی بے خوابی اور پریشانی کا بتا رہی تھیں۔۔۔
نہیں ماما مجھے ایک میٹنگ اٹینڈ کرنی ہے میں نکلتا ہوں.. وہ اپنی ہاتھ کی گھڑی پر نظر ڈالتا بولا ۔۔۔
پر شاہ تم تھکے ۔۔
ارے ماما ٹھیک ہوں میں بس تھوڑی دیر میں آتا ہوں ضروری ہے.. وہ ان کے پریشان ہوتے چہرے کو دیکھ کر بولا ۔۔
اور ہاں اپنی پوتی کا خیال رکھئے گا میں جلدی آتا ہوں وہ علشبہ کے کندھے سے لگی وفا کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے بول کر چلا گیا ۔۔
جاؤ علشبہ تم بھی آرام کر لو بیٹا ۔۔
جی اچھا.. وہ ان کو جواب دے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
🌹🌹🌹
کیا وفا کو ہاسپٹل لے کر گئے؟؟ عمر پریشانی سے بولا۔۔۔
دھت تیری مسکان کیا ضرورت تھی پھوٹنے کی اب پریشان ہوگئے نا ۔۔وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بڑبڑائی ۔۔
(وہ نیندوں میں تھی تبھی عمر کی کال آئی تو اس کے منہ سے نکل گیا وہ رات بھر کی جاگی ہوئی ہے بعد میں بات کرے گی ۔عمر کے پوچھنے پر اس نے نیندوں میں ہی وفا کے ہاسپٹل جانے کا بتا دیا ہوش تب آیا جب عمر کی پریشان سی آواز اس کے کانوں میں پڑی اور اب اپنے آپ کو کوس رہی تھی)
ہیلو مسکان کہاں گئی جواب دو یار۔وہ اس کا جواب نا پاکر بولا۔۔
ہاں نہیں بس وہ تھوڑا بخار تھا تو بھائی لے گئے تھے اب ٹھیک ہے بلکہ اب سورہی ہے وفا ۔وہ اس کو مختصر بتاتے ہوئے بولی۔۔
میں آرہا ہوں ۔وہ پریشان سا کہتا ہوا کھڑے ہوگیا۔۔
ارے پر وہ سو رہی ہے اور بھابھی بھی رات بھر کی جاگی ہوئی تھیں تو وہ بھی سوگئی ہونگی تم کیا کرو گے آکر اب ٹھیک ہے وفا تم پریشان نا ہو ۔۔ وہ اس کی پریشانی دور کرنے کیلئے جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔
ہمم چلو اچھا نہیں آتا پر جیسے ہی آپی اٹھیں میری بات کروانا ۔۔وہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں میں کروا دونگی تم پریشان نا ہو ۔۔
نہیں ہوں میں پریشان تم بھی سو جاؤ شام کو بات ہوتی ہے پھر اچھا اللہ حافظ اینڈ لو یو ۔۔وہ اس کی بات پر مسکرا کر ہدایت دیتا کال کٹ کر گیا۔تو مسکان بھی مسکرا دی اور واپس لیٹ گئی۔
🌹🌹🌹
اسد بیٹا کچھ کھا لو کب سے ایسے ہی کمرے میں بند پڑے ہو۔ثمینہ بیگم اسد کے پاس بیٹھتے ہوئے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔۔
(اسد عریشہ سے مل کر آکر اپنے کمرے کا ہوکر رہ گیا تھا)
ماما مجھے بھوک نہیں جب لگے گی کھالوں گا آپ پریشان نا ہوں ۔وہ ان کی گود میں سر رکھ کر ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔۔
کیا ہوا کیوں پریشان ہو؟ وہ جانتی تھیں پھر بھی پوچھنے لگیں جاوید صاحب نے منع نہیں کیا ہوتا تو وہ کب کا اسے بتا چکی ہوتیں.. وہ اس کا اداس چہرہ دیکھ کر بھی کچھ نہیں کہہ پارہی تھیں۔۔
ارے نہیں ماما میں بلکل ٹھیک ہوں بس تھوڑا سر میں درد ہے ۔۔وہ ان کو بہلانے لگا تو وہ مسکرا دیں.. وہ ماں تھیں کیسے اس کی فیلینگز نا سمجھتیں پر اس کے کچھ نا بتانے پر انھوں نے چپ رہنا ہی ٹھیک سمجھا۔۔
اچھا میں دوائی لاتی ہوں اور چائے بھی ٹھیک ہو جائے گا اور کسی بات کو اپنے اوپر سوار نا کرنا سب ٹھیک کریں گے اللہ تم بھروسہ رکھو۔۔وہ اس کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کھڑی ہوگئیں اور اسے نصیحت دیتے ہوئے چلی گئیں۔۔
ان کے جانے کے بعد اسد نے اپنا موبائل اٹھایا اور عریشہ کا نمبر ڈائل کرنے لگا پر اس سے پہلے کال جاتی اس نے واپس کٹ کردی اسے رہ رہ کر عریشہ پر غصہ تھا پر دل کے ہاتھوں مجبور بھی تھا جو کسی طور ماننے کو تیار نہیں تھا کہ وہ اس کی نہیں وہ اپنے سر کو ہاتھوں سے جکڑتے واپس تکیے میں منہ دیے لیٹ گیا ۔۔۔۔
🌹🌹🌹
شاہ میر جلدی کا کہہ کر گیا تھا پر اس کو آتے آتے رات ہوگئی تھی سر درد سے پھٹا جارہا تھا الگ دو دن سے جاگا ہوا تھا جس کی وجہ سے آنکھیں بھی سرخ ہورہی تھیں۔۔
آگئے تم شاہ۔۔ثمینہ بیگم پاس آکر بولیں۔۔
جی ماما وہ بس زرا کام زیادہ تھا تو دیر ہوگئی۔وہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔
اچھا ماما وفا کیسی ہے اب۔۔ اس نے پریشانی سے پوچھا تو وہ ہنسنے لگیں۔۔
شاہ یہ بات تم صبح سے کتنی مرتبہ پوچھ چکے ہو اور میرا ایک ہی جواب ہے کہ وہ بلکل ٹھیک ہے۔ وہ ٹھیک ہے پر زور دیتے ہوئے بولیں۔۔
(شاہ میر جب سے گیا تھا ہر بیس منٹ بعد ثمینہ بیگم کو کال کر کے پوچھتا وفا کی طبیعت کا تو ان کا ایک ہی جواب ہوتا اور اب بھی آتے ہی اسی کا پوچھ رہا تھا)
اچھا میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔
نہیں ماما میں نے آفس میں کھالیا تھا اب بس وفا سے مل کر سونا ہے ۔۔وہ ان کو منع کرتے ہوئے بولا تو وہ اس کے گال پر پیار سے ہاتھ رکھ کر چلی گئیں. وہ بھی وفا کو دیکھنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
شاہ میر کمرے میں آیا تو علشبہ وفا کو کندھے سے لگائے ٹہل رہی تھی جو سونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی بس چڑچڑی ہوگئی تھی بیماری سے ۔۔
کیا ہوا ؟شاہ میر نے پاس آکر پوچھا۔۔
وہ سو نہیں رہی چڑچڑی سی ہوگئی ہے ہر تھوڑی دیر بعد رونے لگتی ہے۔ علشبہ کا بتاتے ہوئے خود بھی رونے جیسا منہ ہوگیا تھا جس پر شاہ میر کو اس پر بڑا ترس آیا اور اس نے وفا کو لینے کیلئے اپنے ہاتھ آگے کیے جس پر علشبہ نے اسے وفا کو دے دیا تو وہ بیڈ پر لیکر اسے بیٹھ گیا ۔۔
میں آپ کیلئے کھانا لاؤں؟ علشبہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا جس پر شاہ میر نے منع کر دیا کہ اس نے کھا لیا تھا تو علشبہ خود ہی اس کیلئے چائے بنانے چل دی اور جب واپس آئی تو نظارہ ہی کچھ اور تھا۔۔
شاہ میر وفا کو سینے پر لٹائے سلاتے سلاتے خود بھی سوگیا تھا اور اپنے ہاتھ وفا کے گرد باندھے ہوئے تھے وفا بھی سکون سے سو رہی تھی۔۔
علشبہ نے قریب آکر دونوں باپ بیٹی کو دیکھا جو پر سکون سے سو رہے تھے اور یہ منظر دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ پھیل گئی اس نے کپ ٹیبل پر رکھا اور خود بھی بیڈ پر آکر برابر میں لیٹ گئی اور ان دونوں کو دیکھتی دیکھتی خود بھی نیند کی وادی میں چلی گئی۔۔۔
🌹🌹🌹
وفا کے کسمسانے پر شاہ میر کی آنکھ کھل گئی اس نے اپنے سینے پر سوئی ہوئی وفا کو پیار کیا پھر سامنے لگی گھڑی پر ٹائم دیکھا تو صبح کے سات بج رہے تھے ایک ہاتھ وفا کے گرد تھا دوسرا اٹھانا چاہا تو اپنے ہاتھ پر کسی کی گرفت کا احساس ہوا۔
علشبہ شاہ میر کا ہاتھ تھامے بلکل قریب ہی سورہی تھی شاہ میر اسے یک ٹک دیکھنے لگا ایک نظر اس نے علشبہ پر ڈالی اور دوسری وفا پر اس کے دل سے اچانک دعا نکلی کے یہ پل یہیں ٹہر جائے اور وہ دونوں اس کے قریب ہی رہے ۔۔
اس نے وفا کے گرد گھیرا تنگ کیا اور علشبہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما کہ کہیں یہ چھوٹ نا جائے ۔۔
کافی دیر تک وہ یک ٹک علشبہ کو دیکھتا رہا پھر آہستہ سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور وفا کو بیڈ کے پاس رکھے جھولے میں ڈالا تو وہ کسمسا کر دوبارہ سوگئی۔۔۔
شاہ میر واپس بیڈ پر علشبہ کے پاس آیا اور اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کیا۔۔
جو اِک خیال تمہارے ذہن میں ہے
اُس کی ترمیم کیوں نہیں کرتی
بےسبب الجھنوں میں رہتی ھو
مجھ کو تسلیم کیوں نہیں کرتی
وہ اس کے کان کے قریب جھک کر بولا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر پلٹنے لگا پر شاہ میر کا ایک ہاتھ اس کے سر کی طرف تھا جس پر علشبہ نے نیند میں اپنا سر رکھ دیا اور دوسرا ہاتھ شاہ میر کے اوپر جس پر وہ جاتے جاتے ٹھہر گیا اور واپس لیٹ گیا اور اس دشمن جاں کو دیکھنے لگا جو اس کے پے درپے آزمائشیں لینے پر تلی ہوئی تھی شاہ میر
نے بھی تھوڑی دیر کیلئے سب بھلا کر اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا اور خود بھی سوگیا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *