Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22
وہ تینوں گھر آگئے تھے علشبہ سیدھے اپنے کمرے میں چلی گئی تبھی حماد کا موبائل رنگ کرنے لگا۔۔
اتنی رات کو کس کی کال ہے حماد ؟ پاس کھڑی لائبہ نے حماد سے پوچھا۔۔
گھر سے ہے.. حماد نے سکرین دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔
ہیلو،،،
ہیلو بھائی آپ جلدی سے گھر آجائیں ابو کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی ہے.. عریشہ گھبراتے ہوئے جلدی جلدی سب بول گئی۔۔
عریشہ تم ٹینشن نہیں لو کچھ نہیں ہوگا ابو کو میں ابھی آتا ہوں. وہ اس کو تسلی دیتے ہوئے فکر مندی سے بولا ۔۔۔
کیا ہوا ابو کو حماد؟؟
یہ تو وہاں جاکر ہی پتا چلے گا. لائبہ اچھا تم علشبہ کو کچھ نہیں بتانا اس کی حالت ویسے ہی ٹھیک نہیں اور تم ٹینشنq نہیں لو اور دعا کرو سب ٹھیک ہو اور اندر سے دروازہ اچھے سے لاک کر لینا میں کال کر کے بتاتا رہوں گا. وہ جلدی سے بول کر گھر سے نکل گیا ۔۔۔۔
علشبہ بیڈ پر بیٹھی اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جہاں شاہ میر کے انگلیوں کے نشان تھے جو اس کے پکڑنے پر پڑ گئے تھے. شاہ میر نے اتنا زور نہیں پکڑا تھا پر علشبہ کے ہاتھ چھوڑ آنے پر خود نشان گہرے ہوگئے تھے۔۔۔
علشبہ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟؟ لائبہ کہتی ہوئی اندر آئی تو علشبہ نے جھٹ سے اپنا ہاتھ دوپٹے میں چھپا لیا. لائبہ اس کی یہ حرکت نہیں دیکھ پائی اور اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
اب ٹھیک ہوں میں لائبہ تم ٹینشن نہیں لو اور جا کر سوجاؤ تھک گئی ہوگی صبح سے لگی رہتی ہو کاموں میں ۔۔۔
ارے نہیں علشبہ میں بلکل نہیں تھکی ہوئی اور ہاں تم نے تو کچھ بھی نہیں کھایا ویسے حماد نے کھانا پیک کر والیا تھا تمہارے لیے میں ابھی لائی. وہ کہتی ہوئی أٹھ کھڑی ہوئی۔۔
نہیں لائبہ میرا بلکل دل نہیں ہے کچھ کھانے کو میں بس اب سؤں گی ۔
ارے ایسے کیسے کچھ کھائے بغیر سؤگی علشبہ ویسے تم بلکل بچوں کی طرح ضد کرنے لگی ہو کوئی ضرورت نہیں ہے ایسے سونے کی اور ویسے بھی اب تم خود ایک بچے کی ماں بننے والی ہو کچھ اس کے بارے میں سوچو تم اپنے ساتھ ساتھ اس بچے کو بھی تکلیف دے رہی ہو پر میں تمہیں ایسا بلکل نہیں کرنے دونگی اور ڈاکٹر نے بھی کتنی سختی سے تمہارے کھانے پینے پر دیھان دینے کو کہا تھا میری نہیں تو ان کی ہی سن لو دیکھو علشبہ ڈاکٹر نے خود تمہارے سامنے کہا تھا تمہاری حالت بہت نازک ہے تمہارے لیے اتنی ٹینشن اچھی نہیں اور اگر تم نہیں مانی تو جو میں نے وعدہ کیا تھا حماد کو نہ بتانے کا وہ توڑ دونگی اور سب انھین بتادوں گی پھر وہ ہی اچھے سے خبر لیں گے تمہاری اچھا اب میں لاتی ہوں. وہ اس کے جھکے سر کو دیکھتی ہوئی اپنے لہجے کو تھوڑا نارمل کرتے ہوئے بول کر چلے گئی۔۔۔
اپنی ماں کو معاف کر دینا میں اپنی پریشانیوں میں تمہارا خیال نہیں رکھ پارہی پر اب ایسا بلکل نہیں ہوگا. علشبہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوئے بولی ۔۔۔
علشبہ کی وقت کے ساتھ ساتھ کمزوری بڑھ رہی تھی اور اس پر اس کا بار بار ٹینشن لینا جس پر ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا ڈیلیوری کے ٹائم انھیں بہت مشکل ہو سکتی ہے اور ان کے کھانے پینے پر اچھے سے دیھان دیں ورنہ آپ لوگ نقصان اٹھائیں گے. وہ سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے بولی تھی جس پر لائبہ پریشان ہوگئی تھی اور اب علشبہ کی کھانے پینے ہر چیز کی ذمہ داری اس نے لے لی تھی وہ اس کے سر پر سوار رہتی تھی علشبہ کے وعدے نے اسے حماد کو بتانے سے روک لیا تھا. اور علشبہ بھی ڈر گئی تھی وہ اب اپنے بچے کو کھونا نہیں چاہتی تھی تبھی وہ اپنا خیال رکھنے لگی تھی پر آج اس کا شاہ میر کو دیکھنا اس سے ملنا اسے اندر ہی اندر توڑ رہا تھا ۔۔۔
مجھے قسمت سے کوئی شکوہ نہیں مگر اے خدا
وہ قسمت میں آیا ہی کیوں جو مقدر میں نہیں تھا
(حماد اور ثمینہ بیگم سفیان صاحب کو اسپتال لے گئے تھے حماد عریشہ کو جاتے ہوئے ہدایت دے کر گیا تھا کے دروازے کو اچھے سے لاک کر لے اور کسی کے آنے پر بھی ناں کھولے)
وہ موبائل ہاتھ میں لیے گھبرائی ہوئی روتے ہوئے دعا کر رہی تھی کہ سفیان صاحب کو کچھ نہ ہو وہ بلکل ٹھیک ہو اس نے ان کے جاتے ہی عمر کو بھی بتا دیا تھا کال کر کے اس نے کہا تھا وہ پہلی فلائٹ لے کر پہنچ رہا ہے اور وہ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہوگا وہ حماد بھائی سے رابطہ کر لیگا ۔۔۔
سنو فرینڈ یہ سفیان صاحب کا گھر پتا ہے؟ سمیر نے گاڑی سے نکل کر ایک لڑکے کو روکتے ہوئے پوچھا۔۔
وہ سامنے والا ہے. وہ لڑکا بتاتے ہوئے جلدی سے آگے بڑھ گیا ۔۔۔
ارے عجیب ہے تھینک یو بھی نہیں لیا خیر جلدی میں تھا شاید. وہ کندھے أچکاتے ہوئے شاہ اور انس کی طرف آیا اور انھیں بتایا اب وہ تینوں سفیان صاحب کے گھر کے باہر کھڑے تھے۔۔
چل شاہ ہمت کر اور بجا ہم تیرے ساتھ ہیں ۔
سمیر وہ کسی جنگ پر نہیں جارہا جو تو ایسے بول رہا ہے. انس نے اسے ٹوکنا اپنا فرض سمجھا۔۔
شاہ میر نے دروازہ بجایا تو عریشہ نے چونک کر دروازے کو دیکھا اور آہستہ سے اس طرف بڑھی ۔۔
کھول دوں ارے نہیں عریشہ بھائی نے منع کیا تھا دروازہ کھولنے سے. وہ واپس اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
ارے یار کب سے دروازہ پیٹ رہے ہیں مجال ہے کوئی آیا ہو لگتا ہے سب بے ہوشی کی دوا کھا کر سو رہے ہیں. سمیر کے اندر کا کیڑا پھر اچھلا تو انس اور شاہ نے اسے گھورا تو وہ اپنے منہ پر انگلی رکھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
گھر میں کوئی ہے بھی یا نہیں اور یہ ہی گھر ہے. ؟ شاہ اب تک تو دروازہ کھل جانا چاہیے تھا. انس نے کہا۔
ہاں مجھے تو یہی بتایا تھا اس لڑکے نے سن وہ آنٹی مجھے سیدھی سی لگ رہی ہیں ان سے پوچھتے ہیں. سمیر بھی کہاں چپ رہنے والا تھا فوراً سے بولتا ہوا ان آنٹی کے سامنے کھڑا ہوگیا جو اسے اب گھور رہی تھیں۔۔
آنٹی آپ مجھے یہاں کی سب سے ذہین آنٹی لگ رہی ہیں آپ کو سب پتا ہوگا. سمیر ان کو مکھن لگاتے ہوئے بولا جس پر وہ خوش ہوگئی۔۔
ہاں ہاں پوچھو بیٹا. وہ ایک دم جوش سے بولی۔۔
آنٹی وہ سفیان صاحب کا ہی گھر ہے نا؟؟ وہ ان سے تصدیق چا رہا تھا اب انس اور شاہ بھی اس کے پاس آکر کھڑے ہوگئے تھے۔۔
ہاں یہی ہے۔
تو یہ لوگ کہیں گئے ہوئے ہیں دروازہ ہی نہیں کھول رہے. اب کی بار انس نے کہا۔۔
ارے نہیں سب ہسپتال گئے ہوئے ہیں اور ان کی بیٹی گھر میں ہیں ۔۔
تو گھ میں علشبہ ہے؟ اب کے شاہ میر بولا۔۔
ارے نہیں وہ کہاں اسے تو اس کے باپ نے گھر سے نکال دیا اور شاید اس کے شوہر نے بھی. میں انھی کے برابر والے گھر میں تو رہتی ہوں. وہ مزے لے لے کر سب بتا رہی تھیں ۔۔۔
وہ اب کہاں ہیں؟ سمیر نے ساری باتیں سن کر حیرت سے پوچھا جس پر وہ عورت انھیں گھورنے لگی۔۔
ارے مجھے کیا پتا اب وہ کہاں گئی ہیں جتنا پتا تھا سب بتا دیا پر تم لوگ کیوں ایسے پوچھ تاچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں؟؟ وہ اب شکی نظروں سے کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگیں۔۔
شاہ میر کو نکاح والے دن کا سفیان صاحب کا رویہ یاد آنے لگا جو انھوں نے علشبہ کے ساتھ کیا تھا تو کیا وووووہ اب بھی… وہ آگے کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا اس کا یہاں کھڑے رہنا اب بیکار تھا وہ الٹے پاؤں گاڑی کی طرف بھاگا تھا. انس اور سمیر بھی اس پیچھے بھاگے تھے اسے اب علشبہ کی فکر ہونے لگی تھی وہ اسی کی وجہ سے اس حالت میں تھی وہ اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرا رہا تھا اور اب تو اسے جلد از جلد اس تک پہنچنا تھا اس کے نا چاہتے ہوئے بھی آنکھ سے ایک آنسو بہہ نکلا تھا جسے بے دردی سے اس نے صاف کیا تھا ۔۔۔۔
مسکان صبح سے ہی عمر کو دیکھنا چاہتی تھی اس کا دل اس سے ملنے کو تڑپ رہا تھا وہ کافی ٹائم تک تو اپنے آپ کو بہلاتی رہی پر اب وہ عمر کے کمرے کے باہر کھڑی سوچ رہی تھی کہ نوک کرے یا ناں. وہ نروس ہوتے ہوئے بوکھلا رہی تھی. اس سے پہلے کہ وہ نوک کرتی تبھی کوئی کمرے سے باہر آیا ۔۔۔
وووووہ میں مسکان سے کچھ بن ہی نہیں پارہا تھا علی کے سامنے ۔۔۔
ارے بھابھی آپ.. علی کے بھابھی بولنے پر مسکان اسے گھورنے لگی تو وہ سیدھا ہوگئیا.
ارے آپ کچھ چاہیئے تھا.. وہ بھابھی لفظ کاٹتے ہوئے بولا ۔۔
مسکان اس کے آگے گھبرا رہی تھی بولنے سے کہ کیسے وہ عمر کا اس سے پوچھے۔۔
کہیں آپ عمر سے ملنے تو نہیں آئیں؟؟ وہ خود ہی اندازہ لگاتے ہوئے بولا۔۔
جس پر مسکان نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
اوہ آپ غلط وقت پر آئی ہیں وہ صبح ہی پہلی فلائٹ سے نکل گیا دراصل آسکے.. ابھی وہ اس کو ساری بات بتاتا وہ پوری بات سنے بنا ہی اپنے کمرے میں غصے سے چلے گئی. اگر اس کے گھر والے اس کو اس طرح غصہ کرتے ہوئے دیکھ لیتے تو انھیں حیرت کا جھٹکا لگنا تھا. اسد نے تو وہی بیہوش ہو جانا تھا. بقول اس کے اس کی ڈرپوک بہن اور غصہ نو وے.. وہ ہمیشہ ایسے ہی کہتا تھا۔۔۔۔
مسکان کو غصے کے ساتھ رونا بھی آرہا تھا کے وہ اس کو ایک دفع تو بتا سکتا تھا کال ہی کرلیتا اب تو نمبر بھی دے دیا تھا اس نے ۔۔۔
کل تو آدھی رات کو کمرے میں آگیا تھا اب جارہا تھا تو بتا نہیں سکتا تھا آ نہیں سکتا تھا ملنے اور کہتا ہے اپنا خیال رکھنا میں اس سے اب کبھی بات نہیں کرونگی وہ اپنے آنسو صاف کرتے غصے سے بولی۔۔۔
ﺍﻟﺠﮭﻦ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎﺅﮞ؟؟؟؟ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ
!! ….ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﮨﯽ ﮔﻠﮯ ﻟﮓ ﮐﺮ… !!! ﺗﯿﺮﯼ
.ﮨﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ
عمر نے ائیرپورٹ پر آتے ہی حماد کو کال کی اسپتال کا معلوم کرنے کیلئے پر حماد نے اسے وہاں آنے سے منع کردیا کہ اب سفیان صاحب کی حالت بہتر ہے اور رات تک وہ گھر بھی آجائیں گے وہ عریشہ کے پاس گھر جائے وہ اکیلی ہے تو عمر سیدھا گھر پہنچا تھا اور دروازہ نوک کیا پر عریشہ ڈر کے مارے دروازہ نہیں کھول رہی تھی اور کچھ حماد نے بھی اسے کہا تھا ۔۔۔
وہ اب تک کبھی اس طرح گھر میں اکیلی نہیں رہی تھی یا تو علشبہ ہوتی یا عمر ہوتا تھا اس کے ساتھ پر اب وہ پوری رات اکیلی گھر میں تھی جس پر رات کو بھی کسی کا دروازہ بجانا اور اب بھی وہ شکر کر رہی تھی کے رات کو جو کوئی بھی تھا چلا گیا تھا. وہ پھر سفیان صاحب کیلئے عبادت کرنے لگ گئی تھی پر اب پھر دروازہ بجنے لگا تھا وہ پھر دروازے کے قریب آکر کھڑی ہوگئی تھی کے کھولے یا نہیں تبھی عمر کی آواز آئی جو اسے دروازہ کھولنے کو کہہ رہا تھا عریشہ نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا اور اس کے سینے سے لگ گئی ۔۔۔
شش کیا ہوا؟ وہ اس کو اندر لے جاتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیر تے ہوئے بولا۔۔۔
عمر ابو وہ.. روتے ہوئے بس اتنا بولی۔۔
کچھ نہیں ہوا ابو کو وہ بلکل ٹھیک ہیں میری حماد بھائی سے ابھی بات ہوئی وہ کہہ رہے ہیں رات تک ابو گھر آجائیں گے. وہ اسی طرح اسے گلے لگائے سب بتاتے ہوئے بولا۔۔۔
تم سچ کہہ رہے ہو ابو ٹھیک ہیں؟؟ وہ اس الگ ہوتے ہوئے خوشی سے بولی ۔۔۔۔
ہاں یار بلکل سچ کہہ رہا ہوں اور اب رونا تو بند کرو مجھے میری بہن روتے ہوئے نہیں بلکہ چڑیل بنی لڑتی مارتی ہوئی اچھی لگتی ہے. وہ اس کی سرخ ناک پکڑتے ہوئے بولا جس پر عریشہ جھنجھلا گئی۔۔۔
عمر اپنے بچاؤ کیلئے کمرے کی طرف بھاگنے لگا ۔۔
عمر کے بچے میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں. وہ غصے سے بولی ۔۔
ارے پہلے اپنی بھابھی تو آنے دو پھر بچے بھی آہی جائیں گے اور پھر تم ہی سنبھالنا بلکل نہیں چھوڑنا ان کو. وہ اس کو چڑاتے ہوئے بولا جو ابھی بھی وہی کھڑی تھی ۔۔۔۔
ہااااااا عمر بیشرم آنے دو امی کو پھر بتاؤ گی تمہیں. وہ اس کو دھمکاتے ہوئے بولی۔۔
ہاں ہاں بتا دینا پہلے کچھ کھلا پلا تو دو اتنی دور سے آیا ہوں کوئی احساس ہی نہیں میرا امی ہوتی نا جوتی پڑتی تمہیں کہ بھائی کو پانی بھی نہیں پوچھا آگے جاکر کیا کرو گی. وہ امرین بیگم کے الفاظ دوہراتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا وہ اس کا دیھان بٹا چکا تھا اسے کتنی تکلیف ہوئی تھی عریشہ کو ایسے دیکھ کر یہ وہ ہی جانتا تھا ۔۔۔
ہاں لا رہی ہوں اوور ایکٹنگ کی دوکان وہ بولتی ہوئی پیچھے عمر کا حیرت زدہ منہ دیکھے بنا مسکرا کر چل دی اسے بھی جواب دینا بھرپور آتا تھا جو اس نے دے دیا تھا ۔۔۔
یار مسکان اتنی جلدی کیوں جارہی ہو ہم ابھی تو آئے تھے کہیں ٹھیک سے گھومے پھرے بھی نہیں اور تم واپس جارہی ہو. علینہ نے مسکان کے ہاتھ سے کپڑے جھپٹتے ہوئے کہا جو اپنا بیگ پیک کررہی تھی۔۔۔
دیکھو علینہ تم گھومو ناں یار پر مجھے مت روکو میں نہیں رکوں گی مجھے جانا ہے واپس گھر پلیز میرا اب دل نہیں لگنا یہاں عجیب بے چینی سی ہورہی ہے. وہ جھنجھلا کر بولی وہ کب سے علینہ کو جواب دے دے کر تھک گئی تھی ۔۔
تو تم اکیلی جاؤ گی؟ اب علینہ سمجھ گئی تھی کہ اسنے اب اس کی ایک نہیں سننا اور وہی کرنا ہےا جو اس کے دل میں ہے ۔۔۔
ہاں یار میں چلی جاؤں گی یہاں سے تم چھوڑنا اور وہاں سے مجھے اسد پک کرلے گا میں نے ماما کو کال کر کے بتا دیا ہے. وہ بھیج دیں گی بس فلائٹ میں اکیلی ہونگی بور ہو جانا ہے تم جو نہیں ہوگی. ساتھ جاتے ہوئے پر جلدی آنا تم کراچی پھر بہت مزے کریں گے. وہ اس کے گلے ملتے ہوئے افسردہ سی بولی ۔۔۔۔
سچ تو یہ تھا وہ عمر کی وجہ سے ناراض تھی وہ اس کا دل اور دماغ اپنے ساتھ لے گیا تھا جو اس کے پاس ہوتے ہوئے بھی بار بار اس کے بارے میں سوچ رہا تھا اس نے یہاں سے جانے کا ہی فیصلہ کرلیا تھا وہ غصے میں کہہ تو بیٹھی تھی کہ وہ اس سے اب کبھی بات نہیں کریں گی پر پھر بھی بار بار وہ اپنے موبائل کو چیک کر رہی تھی کے شاید اب وہ کال یا میسج کرلے. وہ جھنجھلا بھی رہی تھی کہ خود ہی نمبر لے لیتی اس کا پر پھر وہ اپنی اس سوچ کو خود ہی جھڑک دیتی کہ جب اس کو تیرا خیال نہیں تو تو کیوں پھر مری جارہی ہے ۔۔۔۔
_______
جاری ہے
