Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26

علشبہ نے مسکان کو بہت سمجھایا کہ وہ گھر چلی جائے سب پریشان ہونگے پر مسکان کی ایک ہی رٹ کہ وہ وہاں نہیں جائے گی اس کو دیکھ کر اگر ڈیڈ کی حالت پھر بگڑ گئی تو وہ اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر پائے گی۔۔ علشبہ بھی جاوید صاحب سے ملنا چاہتی تھی پر عمر کے بتانے پر کہ وہ بلکل ٹھیک ہیں اور ڈسچارج ہوکر گھر بھی جاچکے ہیں تو اس لیے وہ بھی چپ کر گئی. وہ گھر میں بھی نہیں جانا چاہتی تھی شاہ میر کے ہوتے ہوئے تو بس جاوید صاحب کیلئے دل میں دعا گو تھی کے وہ جلد ہی صحت یاب ہوجائیں.
🌹🌹🌹
کیا ہوا مسکان اس طرح کمرہ بند کیے کیوں بیٹھی ہو؟ لائبہ مسکان کے پاس آکر بولی ۔۔
نہیں بھابھی ایسی تو کوئی بات نہیں میں بس آہی رہی تھی. وہ صاف مکرتے ہوئے بولی۔۔
میں کھانا لگانے جارہی ہوں علشبہ تو سو رہی ہے وہ بعد میں کھالے گی تم آجاؤ تمہارے بھائی بھی آگئے ہیں مل کر کھاتے ہیں. وہ مسکرا کر بولتی ہوئی چلی گئی۔۔
(مسکان عمر کو لیکر پریشان تھی بظاہر وہ روز آتا تھا اس سے اس کی خیریت پوچھتا کھانے پینے کا اور کسی چیز کی ضرورت تو نہیں پر پہلے کی طرح اس کا خیال رکھنا اس کو چھیڑنا وہ سب کچھ چھوڑ چکا تھا. مسکان کو لگتا تھا وہ اس سے کھنچا کھنچا سا رہنے لگا ہے. وہ کمرے میں بیٹھی اسی بارے میں سوچ رہی تھی کہ اب کی بار وہ اس سے ضرور بات کرے گی پر لائبہ کے آنے پر وہ اپنی سوچوں سے نکلی)
لائبہ کچن میں تھی حماد فریش ہو کر کمرے سے نکلا ہی تھا کےہدروازے پر دستک ہوئی. حماد نے دروازا کھولا تو سامنے شاہ میر کو دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی. حماد اسے اندر لے آیا جس پر لائبہ باتوں کی آواز سن کر باہر آئی اور شاہ میر سے خوش اخلاقی سے ملی ۔۔۔
ارے مسکان وہاں کیوں کھڑی ہو ادھر آؤ۔۔
شاہ میر نے لائبہ کے پانی دینے پر گلاس کو ابھی منہ سے لگایا ہی تھا کہ اس نے لائبہ کے منہ سے مسکان نام سن کر فورا سے کھڑے ہوکر سامنے دیکھا جہاں مسکان کھڑی تھی دونوں ہی بہن بھائی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے شاہ میر ہاتھ میں گلاس پکڑے اس کی طرف بڑھا ۔۔
شاہ میر نے غصے سے مسکان پر اپنا دوسرا ہاتھ اٹھانا چاہا پر اپنا ہاتھ وہی ہوا میں روک لیا. مسکان آنسو سے بھری آنکھوں سے شاہ میر کو دیکھتی اس کے سینے سے لگ گئی ۔۔
وہ اس کے سینے سے لگی آنسو بہاتی ہوئی پیچھے ہوئی. وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ شاہ میر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا وہ اس کے آنسو دیکھ کر ہی پگھل گیا تھا پر اس کو اس کی غلطی کا احساس دلانا ضروری تھا۔۔
تمہیں کچھ احساس ہے مسکان ہم سب کتنے پریشان تھے تمہارے لیے اور تمہیں ہمارا بلکل خیال نہیں.. اوہ گڑیا پر سے سیدھے مسکان پر آگیا تھا جس پر اس کے آنسوؤں میں اور روانی آگئی تھی. تمہیں پتا ہے ماما نے اپنا کیا حال کر لیا ہے وہ اپنے آپ کو قصوروار سمجھتی ہیں. انہیں لگتا ہے کک ان کے غصے میں کہے الفاظ کی وجہ سے تم گھر چھوڑ کر چلی گئے. تو مسکان نہ میں سر ہلانے لگی۔۔۔
نہیں میری وجہ سے ڈیڈ کی ایسی حالت ہوگئی. اگر ان کے سامنے رہتی تو.. وہ اپنا ڈر اس کے آگے ظاہر کرتے ہوئے اٹک کر بولی ۔۔۔
ارے پاگل تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا تھا. ایسا کبھی کچھ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کی جان سے پیاری گڑیا انہیں تکلیف پہنچائے ہاں اس وقت جو کچھ ہوا وہ غلط تھا پر ہم سب کو تم پر پورا بھروسہ ہے. ایک بار ہماری آنکھوں میں ہی دیکھ لیتی تو تمہیں اپنے لیے وہ ہی مان وہ ہی بھروسہ دکھتا جو پہلے تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا. وہ “ہمیشہ” پر زور دیتے ہوئے بولا. اور رہی ڈیڈ کی بات انہیں جب سے ہوش آیا ہے صرف تمہارا انتظار کر رہے ہیں کہ کب تم آؤ اور وہ تمہیں اپنے سینے سے لگائیں وہ اب اس کو ایک ہاتھ سے بازوں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا۔۔
بھائی سوری مجھے پلیز ڈیڈ کے پاس لے چلیں. وہ اب اس سے الگ ہو کر اپنے کان پکڑتے ہوئے بولی شاہ میر نے اپنے الٹے ہاتھ سے اس کے ہاتھ ہٹائے ۔۔۔
پر آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا. وہ اب منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔۔
تو اس کی سزا اسے مل چکی پر پھر بھی جو تم سزا دینا چاہو. وہ مسکراتا ہوا اپنا خون سے بھرا ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولا جو اس نے کانچ کے گلاس کو زور سے پکڑ کر دیا تھا کہ کیسے اس نے اپنی گڑیا پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی کی. وہ غصے میں گلاس کو اپنے ہاتھ میں بھینچ گیا تھا جس سے چھوٹے چھوٹے کانچ کے ٹکڑے اس کے ہاتھ میں رہ گئے تھے پر کسی کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی ۔۔۔
بھائی یہ کیا کیا آپ نے. وہ اس کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے بولی ۔۔۔
سزا دی ہے کہ کیسے تم پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی اسے چھوڑو چلو گھر چلتے ہیں تمہیں دیکھ کر سب کتنا خوش ہونگے. وہ اس کا دیھان ہاتھ پر سے ہٹانے کو بولا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا ۔۔۔
مسکان کہیں نہیں جائے گی. عمر نے غصے سے کہا۔۔
عمر کی آواز پر دونوں نے پیچھے مڑ کر عمر کو دیکھا ۔۔۔
مسکان اب میری بیوی ہے اور یہ یہاں سے کہیں نہیں جائے گے. عمر شاہ میر کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے بولا۔۔
وہ جب گھر میں آیا تو شاہ میر کو اپنے گھر میں دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا کہ جس شخص نے اس کی بہن کو اتنے دکھ دیے وہ یہاں کیا کر رہا ہے پر شاہ میر کی بات پر کہ مسکان گھر چلے تو وہ منع کرتے ہوئے اسے اپنا اور مسکان کا رشتہ جتاتے ہوئے بولا جس پر شاہ میر کو پہلا جھٹکا عمر کو دیکھ کر لگا اور دوسرا مسکان سے جڑے رشتے پر اس نے مسکان کو دیکھا تو اس نے اپنا سر جھکا لیا جس پر شاہ میر سمجھ کر پورے گھر پر نظر ڈالنے لگا اسے ایک امید جاگی کہ شاید علشبہ بھی یہاں ہو ۔۔۔
ادھر اُدھر کیا دیکھ رہے ہو تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی تمہاری وجہ سے میری بہن نے اتنی تکلیفیں سہی ہیں اور تم… عمر کا غصے سے برا حال ہورہا تھا دل تو کر رہا ہے میں تمہیں جان سے مار دوں.
اب وہ شاہ میر کا گریبان پکڑ کر بولا.
مسکان یہ سب دیکھ کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی۔۔۔
عمر چھوڑو انھیں،،
غصّہ تو حماد کو بھی بہت آرہا تھا یہ جان کر کہ یہ ہی وہ شخص ہے جس کی وجہ سے علشبہ کی یہ حالت ہے پر عمر کو اپنے آپے سے باہر ہوتے دیکھ کر وہ اسے روکنے آگے بڑھتا پر اس سے پہلے ہی علشبہ کی آواز نے اس کے قدم روک لیے اور سب نے پیچھے کھڑی علشبہ کو دیکھا۔۔
(علشبہ سوتے سے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اسے اچانک ہی بیچینی لگنی شروع ہوگئی تھی. وہ اپنے کمرے سے باہر نکلنے ہی لگی تھی کے شاہ میر کو حیرت سے وہاں دیکھ کمرے کی آڑ میں ہوگئی اسے شاہ میر سے جاوید صاحب اور ثمینہ بیگم کی حالت کا سن کر بہت افسوس ہوا کہ اسے مسکان کو کسی طرح گھر بھیج دینا چاہیے تھا وہ ان بہن بھائیوں کی محبت سے بھی اچھے سے واقف تھی. وہ لوگ مسکان سے کبھی ناراض ہو ہی نہیں سکتے تھے پر مسکان کو کون سمجھاتا پر عمر کی آواز پر وہ چونکی تھی جو شاہ میر کا گریبان پکڑے غصے میں کھڑا تھا اس سے رہا نہیں گیا تو وہ باہر آگئی کہ کہیں غصے میں کچھ غلط نا ہوجائے وہ شاہ میر کے غصے سے تو واقف تھی پر عمر کو پہلی دفعہ اتنے غصے میں دیکھ اسے حیرت ہوئی تھی )
عمر نے علشبہ کے کہنے پر شاہ میر کا گریبان چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
شاہ میر جو علشبہ کو ہی دیکھ رہا تھا عمر کے جھٹکے سے گریبان چھوڑنے پر ہوش میں آیا اور چلتا ہوا علشبہ کے پاس آکر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑ دیے تو علشبہ اسے ایسے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی ہوئی دو قدم پیچھے ہوگئی۔۔
مجھے معاف کردو علشبہ میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے میں مانتا ہوں میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا وہ بہت غلط تھا میں تمہاری معافی کے بلکل لائق نہیں پر ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا.. وہ سر جھکاتے ہوئے ندامت سے بولا ۔۔۔
میں تمہیں اور اپنے بچے کو اپنے ساتھ گھر لے جانا چاہتا ہوں. اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں کیا تم مجھے ایک موقع دوگی؟؟ میرے ساتھ چلو گی؟؟ شاہ میر اب اس کے سامنے کھڑا اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔
(اسے امید تھی کہ علشبہ اس کا ہاتھ تھام لے گی اور وہ اس کے سارے دکھ ساری تکلیفوں کا مداوا کردے گا اور اسے اتنا خوش رکھے گا کہ وہ پہلے کا سب کچھ بھول جائے گی اور اسے اپنی چھپی محبت اور شدتیں بھی بتائے گا کہ وہ خود بھی اس کے بنا بہت تڑپا ہے)
وہ اور بھی کچھ آگے کہہ رہا تھا پر علشبہ تو جیسے کچھ سن ہی نہیں رہی تھی. اس کو یہی لگ رہا تھا کے شاہ میر اسے اپنے بچے کی وجہ سے اپنانے آیا ہے. وہ نہ میں سر ہلاتی ہوئی پیچھے کو ہونے لگی تو کمرے کے باہر ایک ٹیبل تھی جس پر گلدان رکھا ہوا تھا اس کے بنا دیکھے پیچھے ہونے پر ٹیبل کا کونا کمر پر لگا. اس کی کمر میں درد کی لہر سی دوڑ گئی پر وہ ان لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی اسی لیے اب ٹیبل کی طرف منہ پھیر کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔
شاہ میر نے اپنے پھیلے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور پھر منہ موڑے کھڑی علشبہ کو.. وہ اس کی طرف بڑھتا اس سے پہلے ہی حماد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روک دیا وہ شاہ میر کے یہاں آنے پر علشبہ کے درد کو خوب محسوس کررہا تھا. وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے اور تکلیف ہو وہ جلد سے جلد شاہ میر کو یہاں سے بھیج دینا چاہتا تھا۔۔
علشبہ تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی وہ اپنا فیصلہ لے چکی ہے اب تم پلیز جاؤ یہاں سے. وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا اس کا رویہ نا چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگیا تھا۔۔۔
علشبہ کی تکلیف کے باعث بار بار آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا. وہ اپنے درد کو برداشت کرنے کی جدو جہد میں تھی پر اس کی اب برداشت جواب دے رہی تھی اس نے اب اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر رکھے ہوئے تھے. اچانک اس کے آگے اندھیرا سا چھانے لگا اس نے پاس رکھی ٹیبل کو پکڑنے کی کوشش کی پر اس کا ہاتھ گلدان پر لگ گیا جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گیا سب سے پہلے شاہ میر نے پلٹ کر دیکھا اور بھاگ کر گرتی ہوئی علشبہ کو اپنی باہہوں میں تھام لیا اور اس کا چہرہ تھپتھپانے تھا ۔۔۔
یار اب کی بار مجھے یوں چھوڑ کر مت جا
یار اب کی بار مجھ سے نہیں جیا جانا..!
دل میں بسا کر پھر دل سے اتار دیتے ہو
یار اب مجھ سے یہ سب نہیں سہا جانا..!.😢
آپی،علشبہ، بھابھی سب لوگ اس کی طرف بڑھے اور اس کو پکارنے لگے پر وہ بیہوش ہوگئی تھی
۔۔
جلدی سے اسپتال چلو شاہ میر علشبہ کو اٹھائے باہر کہ طرف بھاگا اور اپنی گاڑی میں پیچھے کواسے آرام سے لٹایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر جلدی سے بیٹھا. عمر بھی علشبہ کا سر اپنی گود میں رکھ کر بیٹھ چکا تھا اور حماد آگے. شاہ میر نے پہلی بار اتنی ریش ڈرائیونگ کی تھی اور علشبہ کو اسپتال پہنچایا تھا اسے علشبہ کو ایسے دیکھ اپنی زندگی ہاتھ سے نکلتی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔
🌹🌹🌹
کیا ہوا؟ سفیان صاحب کمرے سے نکل کر امرین بیگم کو موبائل پکڑے دیکھ کر بولے ۔۔۔
وہ علشبہ،،
کیا ہوا علشبہ کو؟ وہ ان سے موبائل لیتے ہوئے بولے۔۔
عریشہ امرین بیگم کے پاس آئی تو وہ رو رہی تھیں اور سفیان صاحب موبائل کان سے لگائے ہوئے تھے. ضبط کے مارے ان کے چہرے کا رنگ سرخ ہوگیا تھا ۔۔۔
کیا ہوا ابو کس کی کال تھی؟
لائبہ کی.. علشبہ کی حالت کافی خراب ہوگئی ہے۔۔
کیا ہوا آپی کو؟
اسے اسپتال لے کر گئے ہیں چلو جلدی میں تم لوگوں کو لائبہ کے پاس چھوڑ دیتا ہوں اللہ پر بھروسہ رکھو ہماری علشبہ کو کچھ نہیں ہوگا. وہ ان لوگوں سے زیادہ خود کو تسلی دیتے ہوئے بولے۔۔۔
نہیں میں بھی اپنی بچی کے پاس جاؤنگی. امرین بیگم روتے ہوئے بولی۔۔
پر؟
پر ور کچھ نہیں مجھے بھی جانا ہے اس کے پاس پتا نہیں کیسی ہوگی میری بچی.. وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولیں ۔۔
اچھا چلو جلدی تم دونوں باہر آؤ وہ کہتے ہوئے پریشانی سے باہر نکل گئے ۔۔۔
______
حماد کہاں ہے علشبہ؟ امرین بیگم نے روتے ہوئے آکر پوچھا۔۔
حماد کیسی ہے اب علشبہ؟سفیان صاحب بھی حماد کی طرف بڑھتے ہوئے پریشانی سے بولے۔۔
ابو وہ ڈاکٹر چیک کر رہی ہیں ابھی. وہ ضبط کرتے ہوئے مٹھی کو بھینچتے ہوئے بولا۔۔
تبھی پاس کھڑا عمر سفیان صاحب کے گلے لگ گیا..
ابو آپی کو کچھ نہیں ہوگا. وہ ان کو بتانے سے زیادہ اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا ۔۔
شاہ میر کمرے کے باہر کھڑا بس سرخ آنکھیں لیے وہیں یک ٹک دیکھے جارہا تھا جہاں ابھی علشبہ کو لیکر گئے تھے۔۔۔
سب کی نظریں آپریشن تھیٹر کی طرف ہوتی ہیں جہاں اندر کمرے میں پڑا وجود زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہوتا ہے.
تبھی کمرے سے ڈاکٹر باہر آتی ہیں. سب پریشانی میں آگے بڑھتے ہیں.
ڈاکٹر اب کیسی ہے ہماری.. اس سے آگے ان سے کچھ بولا نہیں جاتا الفاظ جیسے زبان پر ہی دم توڑ گئے تھے۔۔۔۔
ڈاکٹر سمجھتے ہوئے !
ان کی حالت بہت خراب ہے آپ لوگ دعا کریں پیشنٹ کے شوہر کون ہیں؟ دیکھیں انھیں جلدی بلائیں ہمارے پاس بلکل ٹائم نہیں ہے ہمیں ان کے سائین لینے ہیں.
پاس کھڑے شخص کا دل زلزلوں کی زد میں آتا ہے کہ اندر جو شخص ہے وہ اس کی زندگی ہے اگر اسے کچھ ہوگیا تو وہ بھی مر جاۓ گا آخر اسی کی وجہ سے تو وہ اس حالت میں تھی. وہ اپنے آپ سے جنگ لڑتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی اپنے ہی ہاتھوں ختم کر لی،، اس کے کان میں ڈاکٹر کے الفاظ گھومتے ہے کہ دعا کریں.
شاہ میر آہستہ سے چلتا ہوا ڈاکٹر کے سامنے آیا ۔۔
آپ ان کے ہسبینڈ ہیں ؟
شاہ میر نے ہاں میں سر ہلایا۔۔
دیکھئے آپ کی وائف کی حالت کافی سیریس ہے میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ انھیں ڈیلیوری کے وقت کافی مسئلے ہوسکتے ہیں.. وہ اپنا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں خیر ہمیں ان کا جلد سے جلد آپریشن کرنا ہوگا اور ہوسکتا ہے ہمیں ماں یا بچے میں سے کسی ایک کو بچانا پڑے آپ جلدی سے ان پیپرز پر سائین کریں پھر ہم آپریشن شروع کریں.. وہ پیچھے کھڑی نرس سے پیپرز لے کر شاہ میر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔۔
شاہ میر اپنے ہاتھوں میں لرزرش لیے وہ پیپرز دیکھتا ہے جس میں اس کی زندگی کا فیصلہ اسے خود کرنا ہیں ۔۔
جلدی کریں.. ڈاکٹر کی آواز شاہ میر کو حال کی دنیا میں واپس لائی تو اس نے اپنا فیصلہ لیتے ہوئے جلدی سے سائین کر کے ڈاکٹر کی طرف بڑھا دیے۔۔
ڈاکٹر پلیز میری وائف کو کچھ نہیں ہونا چاہیے پلیز آپ اسے بچا لیں.. وہ ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا تو اس کی آنکھوں سے آنسوں چھلک پڑے ۔۔
بس آپ لوگ دعا کریں اور ہمت ناں ہاریں.. وہ شاہ میر کو دیکھتے ہوئے بولی جو ٹوٹ رہا تھا بکھر رہا تھا۔۔
درد کی دل پہ حکومت تھی،کہاں تھا اس وقت
جب مجھے تیری ضرورت تھی،کہاں تھا اس وقت
موت کے سکھ میں چلا آیا مجھے دیکھنے کو
زندہ رہنے کی مصیبت تھی،کہاں تھا اس وقت
دل کے دریاؤں میں اب ریت ہے صحراؤں کی
جب مجھے تجھ سے محبت تھی،کہاں تھا اس وقت
🌹🌹🌹
اسد شاہ میر کہاں ہے؟ ثمینہ بیگم اسد کے پاس اس کے کمرے میں آتے ہوئے پریشانی سے بولیں۔۔
پتا نہیں ماما کیوں کیا ہوا؟
اسد میرا دل بہت گھبرا رہا ہے شاہ میر سے پوچھو کہاں ہے؟ وہ..وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولیں۔۔
ماما آپ پریشان نا ہوں میں کرتا ہوں کال.. وہ ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
ماما بیل جارہی ہے پر اٹھا نہیں رہے.. وہ بھی پریشان ہوتے ہوئے بولا ۔۔
پھر ملاؤ،،
تین چار بیلز کے بعد کال اٹھا لی گئی ۔۔
بھائی کہاں ہیں آپ اور کال کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟ اس نے شاہ میر کی آواز سنے بغیر سوال کر ڈالے۔۔
ہیلو بھائی آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے آپ ٹھیک تو ہیں؟ وہ اب صحیح معنوں میں پریشان ہوگیا تھا تبھی بیڈ سے کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔۔۔
ثمینہ بیگم بھی کھڑے ہوکر اسد کو دیکھ رہی تھیں جس سے چہرے کا رنگ پل پل بدل رہا تھا۔۔
بھائی ہم آرہے ہیں آپ بلکل ٹینشن نہیں لیں سب ٹھیک ہو جائے گا.. شاہ میر کے بتانے پر اسد اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولا اور کال کٹ کر کے جلدی سے گاڑی کی چابی اٹھائی ۔۔
اسد کیا ہوا ؟ثمینہ بیگم نے سوال کیا۔
ماما علشبہ بھابھی اسپتال میں ہیں ان کی حالت بہت خراب ہے.. وہ سرخ چہرہ لیے ثمینہ بیگم کو جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔
کیا علشبہ کو کیا ہوا.. میں بھی چلوں گی تمہارے ساتھ..اسد ہاں میں سر ہلاتے ہوئے انھیں ساتھ آنے کا بول کر گاڑی نکالنے چلا گیا۔۔۔
🌹🌹🌹
عریشہ یہ لو پانی پیو..لائبہ عریشہ کے منہ سے پانی کا گلاس لگاتے ہوئے بولی جسے اس نے فوراً ہٹا دیا اور نہ میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
بھابھی بھائی نے بتایا آپی کیسی ہیں؟؟ .. اب وہ روتے لائبہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی ۔۔۔
عریشہ دیکھو سب ٹھیک ہو جائے گا ہماری علشبہ کو کچھ نہیں ہوگا تم اللہ پر بھروسہ رکھو..وہ اس کے ساتھ بیٹھی اب اس کا سر اپنے کندھے سے لگا کر بولی۔۔
لائبہ علشبہ کی حالت دیکھ کر خود ٹوٹ گئی تھی پر مسکان اور عریشہ کو دیکھ کر وہ ان لوگوں کو سنمبھال رہی تھی جو صرف روئے جارہی تھیں۔۔
مسکان کو تو جیسے تیسے کر کے اس نے سمجھا دیا تھا جو اب علشبہ کیلئے اللہ کے آگے دعا گو تھی پر عریشہ نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا جسے لائبہ سنمبھالنے کی کوششوں میں تھی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *