Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16

ہیلو کون ؟؟
آرے یہ تو مہک چڑیل ہے یہ تیرے گھر پر کیا کر رہی ہے.؟؟ انس نے موبائل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
تو بات تو کر. شاہ میر کو مہک کی آواز سن کر غصہ تو آیا پر وہ ضبط کرتے ہوئے بولا۔۔۔
اب کوئی بولے گا بھی ایک تو یہاں سب نے رونا دھونا ڈال رکھا ہے اس مسکان کی وجہ سے پتا نہیں کس کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور بلا وجہ رامین آپی نے مجھے بھی یہاں بلا لیا کے دعا کو سنبھالو دماغ خراب کر کے رکھ دیا ہے وہ غصے میں اپنی ہی بولے جارہی تھی جسے شاہ میر اور آنس سن کر حیران رہ جاتے ہیں ۔۔۔
کیا ہوا ہے گھر میں اور مسکان کیا ہوا اسے کہاں گئی وہ؟؟ شاہ میر نے انس سے موبائل جھپٹتے ہوئے پوچھا۔۔۔
مہک شاہ میر کی آواز سن کر حیران رہ جاتی ہے اور جھٹ سے کال کٹ کر دیتی ہے۔۔۔
کیا مہک یہ تو نے کیا کیا؟؟ اب وہ واپس آ جائے گا اس چڑیل علشبہ کے پاس اچھا تھا وہ میرا نہیں تو اس کا بھی نہیں پر تو نے سب خراب کر دیا اب وہ اپنی بہن کی سن کر بھاگا چلا آئے گا تجھے کچھ کرنا ہوگا شاہ میر کے آنے سے پہلے پہلے. مہک نے اپنے آپ کو جھڑکتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا ہوا شاہ میر؟؟؟ انس نے پوچھا۔۔۔
پتا نہیں کال کٹ کر دی. احد بھائی کو کال کرتا ہوں۔۔
شٹ نا احد بھائی کال اٹھا رہے نا ہی اسد اب تو گھر بھی کال نہیں لگ رہی. شاہ میر نے جھنجھلا تے ہوئے کہا۔۔
ضرور یہ اس مہک کا کام ہے جو گھر کال نہیں لگ رہی تو ٹینشن نا لے سب ٹھیک ہوگام انس نے شاہ میر کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔
کیسے ٹینشن ناں لو‌ں پتا نہیں کہاں ہوگی مسکان تو ایسا کر میری ٹکٹ کروا میں اپنا پاسپورٹ لے کر آتا ہوں مجھے ابھی نکلنا ہے. وہ انس کو ہدایت دیتے ہوئے بولا۔۔۔
ہاں میں دیکھتا ہوں. آنس کال ملاتے ہوئے بولا ۔۔۔
کیا ہوا آنس میری ٹکٹ کب کی ہے؟ شاہ میر کمرے سے پاسپورٹ لاتے ہوئے بولا۔۔۔
شاہ میر موسم خرابی کی وجہ سے ساری فلائٹ منسوخ ہیں اور یہ حالات دو دن تک رہنے ہیں اس کے بعد ہی کچھ ہو سکتا ہے. انس نے ساری بات بتاتے ہوئے کہا۔۔۔
میں کیسے یہاں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ سکتا ہوں وہاں میری بہن پتا نہیں کہاں ہوگی کیسی ہوگی یہ سب کچھ میری ہی غلطی ہے میں وہاں سے آیا ہی کیوں انس وہاں ضرورت ہے میری اور میں یہاں. شاہ میر اپنا سر پکڑے جھٹکے سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔
شاہ میر سب ٹھیک ہوگا میں احد بھائی کو کال کرتا ہوں جب تک وہ اٹھا نہیں لیتے تو ریلیکس ہو سب ٹھیک ہی ہوگا تو بس دعا کر. وہ شاہ میر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔
__________
کیا ہوا احد کچھ پتا چلا مسکان کا؟؟
ثمینہ بیگم احد اسد کے پاس آتے ہوئے بولیں۔۔۔
اسد تم بولو کوئی کچھ تو بتاؤ کہاں ہے میری بچی تم لوگ چپ کیوں کھڑے ہو؟؟؟ وہ احد اسد کو جھنجھوڑ تے ہوئے بولیں۔۔۔
اسد کیا ہوا مسکان…. علشبہ نے اسد کو دیکھا جو چپ کر کے کھڑا تھا علشبہ کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ جاتے ہیں جس سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ مسکان کا کچھ پتا نہیں چلا۔۔۔
تم لوگ کچھ نہیں کر پاؤ گے میں ہی جاؤنگی اپنی بچی کو ڈھونڈن. ثمینہ بیگم کہتے ہوئے آگے بڑھیں تبھی مسکان باہر سے اندر ماما پکارتی ہوئی ثمینہ بیگم کے آکر گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
سب یہ منظر حیرت اور خوشی سے دیکھتے ہیں.
میری بچی تم ٹھیک ہو؟؟ ثمینہ بیگم بھی روتے ہوئے مسکان کو خوب پیار کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
مسکان گڑیا تم ٹھیک ہو؟؟ کہاں چلی گئی تھی؟؟ پتا ہے کتنا پریشان تھے ہم.. کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا ہم نے تمہیں جان نکال دی تھی ہماری تم نے ٹھیک ہو کہیں چوٹ تو نہیں لگی تمہیں؟؟ احد مسکان کو اپنی طرف موڑ کر گلے لگاتے ہوئے سر تھپک کر بولتا ہے۔۔۔
اچھا اچھا شش چپ بلکل یہ لو پانی پیو اور آرام سے بیٹھو. احد نے اسے صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا ادھر علشبہ جلدی سے پانی لیکر آئی تھی جو جلدی سے اسد نے لیکر احد کو دیا اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے مسکان کو ایسے دیکھ کر۔۔۔۔
سب لوگ مسکان کے گرد کھڑے تھے اسد بھی مسکان کے دوسری سایئڈ بیٹھ کر اسے گلے سے لگا کر چپ کرانے لگا. آج تک ان لوگوں نے اس کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں آنے دیا تھا اور اب اپنی بہن کی ایسی حالت دیکھ کر ان کا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔
اچھا اب بس اب بلکل نہیں رونا تم نے ورنہ میں نے تم پر کاکروچ چھوڑ دینا ہے پھر چیختی رہنا. اسد نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا ۔۔۔
ماما دیکھیں ناں… مسکان نے کاکروچ کا سنتے ہی سڑ سڑ کرتے ہوئے کہا ۔۔
اسد خبردار جو تم نے میری بچی کو تنگ کیا تو. ثمینہ بیگم اسد کے سر پر چپیڑ مارتے ہوئے بولیں جس پر سب مسکرا دیے ۔۔۔
گڑیا تم کہاں تھی؟؟ اب تک خان بابا نے بتایا تھا کہ تمہیں… احد آگے کچھ بول نہیں پایا اور چپ کر گیا اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
مسکان نے وہاں جو کچھ اس کے ساتھ ہوا وہ سب بتایا بس تھانے اور نکاح کی بات گول کر گئی باقی سب بتا دیا کہ عمر نے اس کی کس طرح مدد کی اور اسے یہاں تک پہنچایا ۔۔۔۔
بھلا ہو اس بچے کا جو ہماری بچی کی مدد کی اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے. ثمینہ بیگم عمر کو دعا دیتے ہوئے بولیں انھوں نے مسکان کی بات سن کر سکون بھری سانس لی کہ اللہ نے ان کی عزت کی حفاظت رکھی ۔۔۔۔
تو مسکان اسے بھی اندر لانا چاہیئے تھا ہم اس کا شکریہ تو ادا کر لیتے. اس نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر تمہیں بچایا. ہمیں ہماری بہن لوٹا دی. احد نے مسکان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
بھائی وووووہ میں گھر آنے کی خوشی میں بھول گئی اور خود بھی شکریہ نہیں کیا. مسکان نے مایوس ہو کر ندامت سے سر جھکا تے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہاں تو تم سے ایسی ہی امید رکھنی چاہیئے بیوقوف کہیں کی. اسد نے مسکان کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھا اسد اب بس تم فکر نہیں کرو مسکان میں اس کا پتا کروا لونگا اور اسے اپنے گھر انوائیٹ بھی کریں گے بس اب دوبارہ مت رونا اور جاؤ آرام کرو اب. احد مسکان کی رونی شکل دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
مسکان کھڑی ہوئی تو علشبہ اسے اپنے ساتھ لگا کر کمرے میں لے گئی ثمینہ بیگم اور رامین اس کیلئے کچھ کھانے کو لینے گئیں اور پاس کھڑی مہک بھی پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔
🌹🌹🌹
لیں امی آگیا آپ کا لاڈلا. عریشہ جو گملوں میں پانی ڈال رہی تھی عمر کو اندر آتے دیکھا تو چیخ کر بولی ۔۔۔۔۔
ہاں تو تمہیں کیا مسئلہ ہے اور کیوں اتنا حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہی ہو. کان کے پردے پھاڑو گی کیا اور پہلی مرتبہ آیا ہوں کیا گھر؟؟؟ عمر نے مسکان کا سارا غصہ عریشہ پر نکالتے ہوئے کہا۔۔۔
ہری مرچ چبا کر آئے ہو یا کسی سے جھگڑا کر کے اور مجھے کیوں ہونے لگا مسئلہ ہاں مسئلہ تو تمہیں ہے موصوف پوری رات باہر گزار کر آئے ہیں اور گھر میں سب کو پریشان کر کے رکھ دیا موبائل کس لیے ہیں تمہارے پاس ایک کال نہیں کر سکتے تھے اور موبائل بھی آف کر رکھا تھا. امی کتنی پریشان ہیں تمہیں پتا ہے پر نہیں آپ کو تو باہر مزے کرنے تھے. عریشہ بھی کہاں چپ رہنے والی تھی عمر کی بات کا خوب جواب دیا تھا اور ساتھ ساتھ اس کے سامنے اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر دو دو ہاتھ کرنے کو بھی تیار تھی ۔۔۔۔
عمر آگئے کہاں تھے تم؟؟ ایک فون نہیں کر سکتے تھے.. امرین بیگم اور لائبہ عریشہ کی آواز سن کر کمرے سے باہر آئی تھیں جہاں عمر کو کھڑے دیکھ کر امرین بیگم نے پوچھا۔۔۔
ہاں ہاں بولو میں بھی یہ ہی پوچھ رہی تھی امی. عریشہ بولی۔۔۔
تم چپ رہو گی جاؤ پانی لاؤ بھائی کیلئے. امرین بیگم عریشہ کو جھڑکتے ہوئے بولی۔۔۔
ہاں ہاں بہت بڑا کارنامہ انجام دے کر آئے ہیں ناں.. عریشہ بڑبڑاتے ہوئے کچن کی طرف گئی اور پانی لاکر عمر کو دیا جو اس نے ایک سانس میں ہی اپنے اندر اتار لیا ۔۔۔۔
کیا ہوا عمر؟؟ لائبہ نے عمر کو دیکھ کر پوچھا.
کچھ نہیں کیا ہونا ہے مجھے میں بلکل ٹھیک ہوں. عمر نے جواب دیا،،،
تو کہاں تھے پوری رات پھر اور سچ سچ بتانا مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے. عریشہ نے عمر کا انداز دیکھ کر شکی انداز میں وارن کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہاں عمر بیٹا کیا ہوا ہے مجھے بھی تمہارا چہرہ اترا اترا لگ رہا ہے… امرین بیگم نے بھی پریشانی سے پوچھا۔۔۔
تو عمر نے بھی نکاح والی بات چھپا کر سب بتا دیا کہ کیسے اس نے ایک لڑکی کی مدد کی جس پر سب حیران ہوتے ہیں ۔۔۔۔
ہائے میرا بچہ تو ٹھیک تو ہے ناں کہیں لگی تو نہیں ان لوگوں نے مارا پیٹا تو نہیں؟؟ امرین بیگم پریشان ہو کر عمر کے منہ اور ہاتھ دیکھنے لگی ۔۔۔۔
آرے امی میں بلکل ٹھیک ہوں اور کسی کی اتنی ہمت جو آپ کے بیٹے کو ہاتھ لگا سکے. اب عمر کا بھی موڈ ٹھیک ہوگیا تھا امرین بیگم کو پریشان دیکھ کر۔۔۔۔۔
میرا بچہ مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے. وہ عمر کا ماتھا چوم کر فخریہ انداز میں بولیں۔۔۔
بیٹا تم نے بہت اچھا کام کیا ہے اس بچی کو بچا کر اس کے گھر صحیح سلامت چھوڑ کر پتا نہیں کیا بیتی ہوگی اس بچی کے گھر والوں پر پوری رات گھر سے باہر تھی وہ بچی. شکر ہے اللہ نے اس بچی کی حفاظت کی اللہ سب بچیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین وہ اب دعا دیتے ہوئے ایک بار پھر عمر کو پیار کرتے ہوئے بولی۔۔۔
اچھا تم بیٹھو میں اپنے بچے کیلئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں. وہ خوش ہو کر عمر کو کہتی ہوئی کچن میں چلے گئی ۔۔۔۔۔
کیا ہے ایسے کیوں گھور رہی ہو؟؟ عمر نے عریشہ کو گھورتے پاکر پوچھا.
ہممممم میں یہ دیکھنے کی کوشش کر رہی کہ یہ سب سچ ہے. میرا ڈرپوک بھائی جو کسی سے نہیں لڑتا اس نے آج گنڈوں کی پٹائی کی؟؟؟ عریشہ نے عمر کو کسی خاطر میں ناں لاتے ہوئے کہا۔۔۔
کیا کہا میں اور ڈرپوک میں ڈرپوک نہیں تم لڑاکا ہو ہر کسی سے بلا وجہ لڑنے شروع ہو جاتی ہو اور دیکھ لو تمہارا بھائی ڈرپوک نہیں ہیرو ہے. ہیرو والا کام کر کے آیا ہے عمر نے فخریہ انداز میں شرٹ کے کالر ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔۔۔
بس اب بلکل نا لڑنا جب دیکھو بچوں کی طرح لڑنا شروع ہو جاتے ہو. لائبہ نے دونوں کا لڑنا شروع ہوتے دیکھ ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔۔
ویسے عمر کیسی تھی وہ لڑکی؟؟ لائبہ نے شوقیہ انداز میں پوچھا.
بلکل پری کی طرح سیدھی سادی پر تھوڑی ڈرپوک سی اور باتیں تو یوں ہی مان لیتی ہے بلکل چھوٹے بچوں کی طرح. عمر نے کھوئے کھوئے انداز میں مسکرا کر کہا۔۔۔۔
عریشہ جو بڑے غور سے عمر کو ہی دیکھ رہی تھی اس کی باتیں سن کر اپنے برابر میں کھڑی لائبہ کو کہنی ماری اور دونوں زور زور سے ہنسنے لگیں عمر کو دیکھ کر ۔۔۔۔
عمر نے سٹپٹاتے ہوئے دونوں کو دیکھا اور جلدی سے سر کھجاتے ہوئے اندر کو چلا گیا۔۔۔
ہاں مجھے پیار ہوا پیار ہوا اللہ میاں. پیچھے سے عریشہ نے اونچی آواز میں گانا گایا اور ایک بار پھر ہنسنے لگی۔۔۔
🌹🌹🌹
شاہ میر میری بات ہوئی ہے ابھی احد بھائی سے انھوں نے کہا سب ٹھیک ہے وہاں اور مسکان بھی. انس شاہ میر کے کمرے میں آتے ہوئے بولا۔۔۔
کیا تو سچ کہہ رہا ہے مسکان ٹھیک تو ہے ناں؟؟ شاہ میر نے بے یقینی سے پوچھا۔۔۔
سچ بلکل وہ بلکل ٹھیک ہے. تو اب ٹینشن نا لے بول تو بات کراؤں تیری. انس نے شاہ میر کو پوچھا۔۔۔
ہاں ملا کال نہیں بلکہ ایسا کر رہنے دے اب میں گھر ہی جاؤنگا. وہیں سب کو سرپرائز دونگا سب بہت خوش ہونگے یار انس میں نے بہت بڑی غلطی کر دی سب سے دور آکر اب بلکل نہیں رہا جارہا بس اب جلدی سے پہنچ جاؤں میں پھر سب کچھ ٹھیک کر دونگا. شاہ میر نے ٹھنڈی آہ بہر کر کہا۔۔
ہمم چل دیر آید درست آید کب سے سمجھا رہا تھا تو سمجھا نہیں. پر خیر اب تو پہلے کچھ کھا تو لے جب سے پتا چلا ہے تو نے کچھ نہیں کھایا میں تیرے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں انس کہتا ہوا باہر چلا گیا ۔۔
میں آرہا ہوں اپنی ساری غلطیوں کا ازالہ کرنے کو چاہو تو کوئی بھی سزا دے لینا منظور ہوگی پر اب سے کوئی شکایت نہیں ملے گی میری طرف سے تمہیں۔۔
آئی لو یو میری سانسوں میں رچ بس گئی ہو تم اور تمہاری ہونے کا احساس میں اب تک اپنے آس پاس محسوس کر سکتا ہوں. علشبہ صرف ایک بار مجھے معاف کر کے ایک موقع دے دو پھر تمہیں دنیا کی ہر خوشی دونگا تمہیں کبھی اداس نہیں ہونے دونگا. وہ اپنے موبائل میں علشبہ کی تصویر کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
یاد کو تیری میں اس طرح لیے بیٹھا ہوں
جیسے دنیا میں مجھے اور کوئی کام نہیں😍
🌹🌹🌹
بیٹا سوگئی مسکان ؟؟؟
ثمینہ بیگم نے کمرے سے باہر آتی علشبہ سے پوچھا۔۔
جی ماما بس آرام کا ہی بول کر آئی ہوں. علشبہ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔
ہم ٹھیک ہے اللہ کا بہت بہت شکر ہے اس نے میری بچی کو ہم تک پہنچا دیا. ثمینہ بیگم نے شکر ادا کرتے ہوئے کہا۔۔۔
جی ماما ٹھیک کہا آپ نے بڑی مشکل سے کچھ کھلا کر آرام کا کہہ کر آئی ہو تھوڑا سکون ملے اسے. علشبہ نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھا چلو جاؤ تم بھی تھوڑا آرام کر لو کل سے جاگی ہوئی ہو۔۔
جی ماما علشبہ کہتے ہوئے آگے بڑھی تبھی اسے زور کا چکر آیا تو برابر میں کھڑی ثمینہ بیگم نے اسے تھام لیا۔۔
علشبہ بیٹا تم ٹھیک تو ہو ادھر آؤ. انھوں نے اسے تھامتے ہوئے صوفے پر بٹھایا۔۔۔
جی ماما میں ٹھیک ہوں آپ پریشان ناں ہوں. وہ ثمینہ بیگم کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
بیٹا ایسے کیسے پریشان ناں ہو چہرہ دیکھوں کیسے زرد پڑ رہا ہے تمہارا. چلو میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس. وہ پریشانی سے بولیں۔۔۔۔
نہیں ماما پلیز ڈاکٹر کے پاس نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں وہ شاید تھکن ہو گئی ہے اسی لیے. آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی. وہ انھیں مطمئن کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔
پر بیٹا ایک بار دکھا لو ڈاکٹر کو. ایسا کرتی ہوں یہیں بلوا لیتی ہوں. ثمینہ بیگم اسکا زرد چہرہ دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔
پر ماما،،،،
پر ور کچھ نہیں چلو جب تک آرام کرو تم اپنے کمرے میں. وہ اسے کھڑے کرتے کمرے میں لے جاتے ہوئے بولیں۔۔۔
ہممم کیا پیار ہے ساس بہو میں. صرف کچھ دن کی بات ہے پھر تم اس گھر سے باہر ہوگی علشبہ بی بی اور یہ ہی سب تم سے منہ موڑیں گے یہ میرا وعدہ ہے. مہک کمینی مسکراہٹ سجائے خود سے بولی ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *