Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07
حماد اپنے بیڈ پر لیٹا تھا. آج کی ساری باتیں اس کے دماغ میں گھوم رہی ہو تی ہیں پر جب جب لائبہ کے بارے میں سوچتا علشبہ کا چہرہ اس کی آنکھوں کے آگے جاتا. اب حماد اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنا دکھتا ہوا سر اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا. اور آخر کار حماد نے ایک فیصلہ لے ہی لیا جو حماد کیلئے بہت ہی مشکل ہے پر اسے کل ہی سفیان صاحب کو اس فیصلے سے آگاہ کرنا تھا..
شاہ میر سب کے جانے کے بعد انس اور سمیر سے مل کر ان کو گاڑی میں روانہ کر دیا ہوتا ہے تبھی شاہ میر کے پاس اسد کی کال آتی ہیں.
ہاں اسد کہو؟؟
بھائی علشبہ بھابھی وہی ہال میں اندر ہیں آپ انھیں بھی ساتھ لیتے آئیے گا،،،
ہیں یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ تم تو سب کو لے گئے تھے نہ گھر،،،شاہ میر نے حیرت سے پوچھا.
ارے بھائی ہاں پر گاڑی میں جگہ نہیں بچی تھی اور وہ مہک بھی بڑی بھابھی کے ساتھ چپک کر آگئی تھی اب میں بھی کیا کرتا تو کیا بھابھی کی جگہ مہک کو چھوڑ جانا تھا آپ اسے ہی لے آتے.. اسد مزاحیہ انداز میں بولا،،،
پر میں نے تو اپنی گاڑی احد بھائی کو دے دی تھی. شاہ میر اسد کی بات کو نظر انداز کر کے پریشانی سے بولا.
ہاں بھائی مجھے پتا تھا اسی لیے میں نے گاڑی کی چابی علشبہ بھابھی کو دے دی تھی آپ ان کو ساتھ لے آئیے گا اور کال کٹ کر دی اور ہنستا چلا گیا تصور میں شاہ میر کا چہرہ دیکھ کر..
شاہ میر ہال میں جاتا ہے جہاں آگے ہی علشبہ اکیلی بیٹھی نظر آتی ہے.
شاہ میر کو برا لگتا ہے وہ کب سے سمیر انس سے باتوں میں لگا ہوا تھا اور اسے پتا ہی نہیں کہ علشبہ اندر ہے اسے لگا تھا سب چلے گئے ہیں تو وہ تھوڑا کام نپٹا کر چلا جائے گا. شاہ میر علشبہ کی طرف آتا ہے.
علشبہ انتظار کر کر کے وہی سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں بند کرلیتی ہے. شاہ میر کی آواز سن کر ہڑبڑا کر اٹھتی ہے.
چلو !
علشبہ کھڑے ہو کر اچھے سے شال کو اپنے گرد لپیٹتی ہے اور شاہ میر کی تقلید کرتے ہوئے پیچھے پیچھے چلتی ہے..
شاہ میر باہر آکر علشبہ سے چابی لیتا ہے.
پر یہ کیا یہ تو اسد کی بائیک کی چابی ہے. شاہ میر کو اسد پر خوب غصہ آتا ہے. اسے اپنی فکر نہیں تھی وہ بائیک پر آجاتا پر علشبہ اور اوپر سے ٹھنڈ اور رات کی تاریکی.
شاہ میر کو پتا ہوتا تو وہ سمیر سے اس کی گاڑی لے لیتا پر ،کال پر اسد نے گاڑی کا کہا تھا شاہ غصے میں اسد اب تم نہیں بچو گے.
شاہ میر علشبہ کے آگے بائیک لاتا ہے اور علشبہ کو مخاطب کرتا ہے جو ڈر کر نیچے نظریں کیے کھڑی ہوتی ہے اور چونک کر شاہ میر کو دیکھتی ہیں اور پھر بائیک کو. ایسا نا تھا کہ وہ کبھی بائیک پر نہیں بیٹھی. عمر حماد کے ساتھ بہت بار بیٹھی تھی پر آج شاہ میر کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے شرم آرہی تھی،،
کیا ہوا پوری رات یہی کھڑے رہنا ہیں اب چلو بیٹھو جلدی. شاہ میر غصے سے بولتا ہے.
علشبہ گھبراتے ہوئے شاہ میر کے ساتھ پیچھے بائیک پر بیٹھ جاتی ہے.
پکڑ کر بیٹھ جاؤ گر جاؤ گی،شاہ میر علشبہ کو گھبراتے دیکھ کر بولتا ہے،،،
علشبہ شاہ میر کے کندھے پر ہاتھ رکھ لیتی ہے تو شاہ میر بائیک کو آگے بڑھا دیتا ہیں،،،
ابھی وہ آدھے راستے میں ہی پہنچے تھے کہ کوئی ان کی بائیک کے آگے آگیا. شاہ میر بروقت بریک مارتا ہے تو جھٹکا لگنے سے پیچھے بیٹھی علشبہ شاہ میر کی پشت سے ٹکراتی ہے،،،
پر وہ ایک شخص نہیں دو تھے ایک کے ہاتھ خالی تھے جو ٹکراتا ہے اور دوسرا شخص گن شاہ میر پر تانتا ہے.
چل تیرے پاس جو بھی مال ہے نکال ورنہ یہ گولی تیرے آر پار جائے گی. اس سے پہلے شاہ میر غصے میں آ کر انھیں کچھ بولتا اسے علشبہ کا خیال آتا ہے جو ڈر کر شاہ میر کو کس کے پکڑے اپنا چہرہ شاہ میر کی پشت پر ٹکا کر چھپائے ہوئی تھی
شاہ میر کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں اسے سمجھداری سے کام لینا چاہیے، اور شاہ میر اپنی گھڑی والٹ موبائل سب نکالتا ہے تبھی دوسرے کھڑے شخص کی نظر علشبہ پر پڑتی ہے،
تو وہ گن آگے کیے دونوں کو بائیک سے اترنے کو بولتا ہے،،اترو ورنہ یہ گولی چلنے میں دیر نہیں لگے گی.
شاہ میر کو لگتا ہے انھیں بائیک بھی چاہیے تبھی علشبہ کا ہاتھ پکڑ کر اتر جاتا ہے. علشبہ اپنے دوسرے ہاتھ سے شاہ میر کا بازو مضبوطی سے پکڑ لیتی ہے.
دوسرا وہ شخص علشبہ کو نیچے سے اوپر تک دیکھتا ہے جو سجی سجائی اپنے سر اور شانوں پر اچھے سے شال اوڑھے کھڑی تھی،،
تم لوگوں کو جو چاہیے وہ لو اور جاؤ ،،،شاہ میر بولتا ہے.
آرے اتنی بھی کیا جلدی ہے سب سے قیمتی چیز تو لے لیں. وہ علشبہ کو معنی خیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولا.
شاہ میر اس شخص کی گھٹیا نظریں علشبہ پر دیکھ کر علشبہ کو اپنے پیچھے چھپا لیتا ہے اور خود ان کے آگے تن کر کھڑا ہو جاتا ہے.
وہ شخص غصے میں بولتا ہے. اے نکال اسے پیچھے سے !
ہائے ابھی تو کچھ کیا بھی نہیں.. کیا مال ہے ویسے اے دیکھ ڈیل کر سب لے جا اسے ہمیں دے جا. وہ خبیث شخص شاہ میر کے پیچھے چھپی علشبہ پر اپنی نظریں جمائے بولا..
اور گن لیکر علشبہ کی طرف بڑھا،،
پر اس سے پہلے شاہ میر نے ایک زور کا پنچ اس کے منہ پر مارا جس سے وہ دوسرا شخص دور جاگرا اور اس کی گن بھی،،تبھی وہ پہلا شخص بھی آگے آیا شاہ میر پر حملہ کرنے پر شاہ میر نے ایک زور کا ہاتھ مارا جس سے وہ شخص بھی دور جاگرا،،،
اب وہ دونوں سمبھل کر پیچھے مڑتے ہیں پر شاہ میر علشبہ دونوں وہاں نہیں ہوتے ،،،
شٹ کہاں گئے دونوں؟؟ ان میں سے ایک بولا.
آبے کہاں جائیں گے یہی کہیں چھپے ہوں گے. وہ شخص علشبہ کی شال اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا بولا جو بھاگنے کی وجہ سے گر گئی تھی.
دیکھ ان جھاڑیوں کے پیچھے ہی ہونگے چل ڈھونڈ،،،،
یہ سڑک زیادہ تر سنسان رہتی ہے. سڑک کے دائیں بائیں جھاڑیاں تھیں دائیں طرف شاہ میر علشبہ کو لیکر جھاڑیوں کے پیچھے چھپ جاتاہے.
شاہ میر نیچے جھک کر بیٹھا تھا اور علشبہ ڈر کے مارے شاہ میر کا گریبان پکڑے شاہ میر کے سینے سے لگی تھی اور زبان پر کچھ دعا پڑھ رہی تھی.
علشبہ کو کچھ پڑھتے دیکھ شاہ میر کو اتنی ٹینشن میں بھی ہنسی آجاتی ہے. وہ علشبہ کے بال اس کے چہرے سے ہٹاتا ہے..
جو بار بار علشبہ کے چہرے کا بوسا لیتی ہیں.
سنبھالو ان زلفوں کو نہیں تو کوئی فدا ھو جاۓ گا
نا ھوا اگر کوئ تو یہ… حق ہم سے ادا ہوجاۓ گا.
علشبہ اپنے چہرے پر لمس پاکر پیچھے ہوتی ہے علشبہ کو دیکھ کر شاہ میر کو احساس ہوتا ہیں کے اس کی شال وہی گر گئی ہے تو وہ اپنا کوٹ اتار کر علشبہ کو پہناتا ہے.
علشبہ شاہ میر کو دیکھتی ہے اور کچھ بولنے والی ہوتی تبھی شاہ میر اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دیتا ہے. شش چپ!! اور پھر ایک پتھر اٹھا کر سامنے والی لائن پر دور جھاڑیوں میں مارتا ہے تاکہ ان دونوں کا دیھان وہاں جائے.
وہ دونوں شخص اسی طرف بھاگتے ہیں.
شاہ میر ان دونوں کو جاتے دیکھ کر علشبہ کا ہاتھ پکڑ کر بائیک کی طرف آتا ہے. دونوں جلدی سے بیٹھتے ہیں.
سنو زور سے پکڑ لو اور پھر شاہ میر کی بائیک ہوا سے باتیں کرتی ہوئی گھر کی طرف بڑھ جاتی اور پیچھے علشبہ ڈر کر شاہ میر کو زور سے پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے.
میڈم گھر آگیا” شاہ میر بائیک روک کر بولتا ہے.
علشبہ جلدی سے شاہ میر سے الگ ہو کر نیچے اترتی ہے اور لمبی سکون بھری سانس لیتی ہے کہ شکر گھر خیریت سے پہنچ گئے،،،
اور دونوں گھر میں آتے ہیں. سب سورہے ہوتے ہیں تو علشبہ بھی کمرے کی طرف بڑھتی ہے پر پیچھے سے شاہ میر آواز دے کر روکتا ہے،،،
سنو “
علشبہ مڑ کر شاہ میر کی طرف دیکھتی ہے،،،
شاہ میر:آج تم نے عبایہ کیوں نہیں پہنا ،،، اس سے پہلے علشبہ بتاتی کے وہ خود عبایہ پہننا چاہتی تھی لیکن پارلر میں نہیں ملا.
خیر جو بھی ہو آج کے بعد تم جب بھی گھر سے نکلو عبایہ پہننا.. شاہ میر کہتا ہوا گیسٹ روم میں چلے گیا،،
اور پیچھے علشبہ شاہ میر کی بات پر پہلے حیران اور پھر مسکراتی ہوئی کمرے میں چلی جاتی ہے،،،
مجھے کیا خبر وہ عشق تھا…..نماز تھی یا سلام تھا…
میرا اشک اشک تھا مقتدی…تیرا حرف حرف امام تھا.
شاہ میر بیڈ پر لیٹتا ہے اور نا چاہتے ہوئے بھی اسے وہ سب باتیں یاد آتی ہیں جو وہ دونوں گھٹیا شخص کررہے تھے ،،
شاہ میر نے کبھی پردے کا نہیں بولا تھا نا اپنی بہن کو اور نا امی کو وہ بھی تو پردہ نہیں کرتی تھیں پر پتا نہیں کیوں ان گھٹیا شخص کی نظریں اس کی باتیں علشبہ کو دیکھ کر اس کی نیت اسے رہ رہ کر غصّہ آرہا تھا تو علشبہ کو اس نے پردے کا بول دیا،،،
تو دوسری طرف علشبہ کی آنکھوں سے نیند روٹھ چکی تھی علشبہ شاہ میر کی باتیں یاد کر کے مسکراتی ہے کہ کتنی اپنائیت سے اس نے اسے پردے کا بولا علشبہ کو شاہ میر اچھا لگنے لگا تھا ،،
یہ نکاح کے بولوں کی طاقت ہی تو تھی جو دونوں نا چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے بارے میں سوچ رہے تھے،،،
مکمل داستان کہہ دوں کہ اتنا ہی کافی ہے
تم ہی تم تھے، تم ہی تم ہو، تم ہی تم رہو گے….
عریشہ کالج کے دروازے پر کھڑی عمر کا انتظار کر رہی تھی!
پورا آدھا گھنٹہ ہوگیا یہ عمر ابھی تک نہیں آیا. ایک تو حماد بھائی نے بھی عمر موٹے کام چور کو بولنا تھا مجھے لانے کو. اب کیا کروں کافی ٹائم ہو گیا ہے. چل عریشہ تھوڑی دور ہی تو گھر ہے چل آج خود جا گھر.. ،عریشہ اپنے آپ کو ہمت دیتی ایک ہاتھ میں رجسٹر پکڑے کالج سے باہر نکلتی ہے تبھی رجسٹر میں سے پین نکل کر گرجاتا ہے اور یہ نظارہ سامنے کھڑے اسد نے بخوبی دیکھا تھا اور جاکر پین اٹھاتا اور عریشہ کے پیچھے جاتا ہے.
تبھی عریشہ کو احساس ہوتا ہے کے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے تو وہ اپنی اسپیڈ تیز کردیتی ہے ،تو اسد بھی عریشہ کو بڑے بڑے قدم بڑھاتے دیکھ وہ بھی تیز تیز قدم بڑھاتا ہے اور آواز دیتا ہے! سنیں
کہ شاید آواز سن کر رک جائے.
پر عریشہ اس کے آواز لگانے پر ڈر جاتی ہے
کیا عریشہ کیوں ڈر رہی ہے ہمت کر ایسے خبیثوں کو تو اچھے سے سبق سیکھا سکتی ہے
عریشہ اپنے آپ کو ہمت دیتی رک جاتی ہے اور اسد بھی اس کے سامنے آکر رک جاتا ہے.
ابھی اسد کچھ بولتا اس سے پہلے عریشہ شروع ہو جاتی ہے اور اسد پر دھاڑتے ہوئے بولتی ہے
کیا ہوا مسٹر کیوں پیچھا کررہے ہو ہاں ایک تو تم لفنگوں نے لڑکی دیکھی نہیں اور پیچھا کرنا شروع تم جیسوں کی وجہ سے لڑکیوں کو گھر سے نکلنے نہیں دیا جاتا پر مسٹر تم غلط لڑکی کے پیچھے پڑے ہو تم جیسوں کو مجھے اچھے سے سبق سیکھانا آتا ہے،،،
بگڑ گئی تو آفت جیسی
ویسے کافی شریف ہو میں
سمجھ گئے ہوگے اب چلتے بنو ورنہ اپنی حالت کے زمیدار تم خود ہو گے عریشہ اسد کو وارن کرتے ہوئے بولی،،،
اسد جو کب سے عریشہ کی بکواس سن رہا ہوتا ہے عریشہ کے شعر پڑھنے پر ہنس دیتا ہے،،،
یہ کیا بتیسی دکھا رہے ہو ہاں شرم نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے بیشرم کہیں کے. ابھی عریشہ اور کچھ بولتی اسد غصے میں عریشہ کو ٹوک دیتا ہے،،،
بس بہت ہوگیا کب سے دیکھ رہا ہوں بولے چلی جارہی ہو ارے دوسرے کو بھی موقع دو بولنے کا پر نہیں تم نے تو بولنے پر پی.ایچ. ڈی کی ہوئی ہے. بولے ہی چلی جارہی ہو کسی ٹرین کی رفتار کی طرح بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اور ہاں کس اینگل سے میں تمہیں سڑک چھاپ لفنگا لگ رہا ہوں جو تمہیں چھیڑنے آیا.. ہاں.. ہیلو مس آپ کو بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے یہ لیں آپ کا پین جو وہاں گر گیا تھا. بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہیں ہیرو سے زیرو بنا دیا ارے اپنا حال دیکھا ہے پوری پیک ہوکر تو گھوم رہی ہو کون چھیڑنے کی غلطی کرے گا کہ پتا نہیں اندر کیا ہے!اسد عریشہ کے عبایہ کو دیکھ کر بولا”!!!!
عریشہ اتنا سب کچھ بولنے پر افسوس کر رہی تھی اور معافی مانگنا چاہتی پر اس کی طرح اسد بھی اپنی بولے چلے جارہا تھا عریشہ کو بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا٫ پر اسد کی آخری بات پر عریشہ کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ جاتا ہے”!!!
اور اسد بھی اس کی غصے سے لآل ہوتی آنکھیں دیکھ کر مزے لیتا ہے جو اسے تھوڑی دیر پہلے لفنگا بول رہی تھی. اسد نے بھی اپنا بدلا لیا تھا عریشہ کو چڑھا کر. اس سے پہلے عریشہ اسد کو کچھ بولتی سامنے سے بائیک پر عمر آتا ہوا نظر آتا ہے عریشہ جلدی سے اسد سے پین جپھٹتی ہے اور عمر کی طرف بڑھتی ہے..
پھلجڑی کہیں کی اسد کہتا ہوا مسکرا کر چلا جاتا ہے.
علشبہ اپنے کپڑے الماری میں رکھتی ہے تبھی سامنے علشبہ کو شاہ میر کا کوٹ نظر آتا ہے جو کل رات شاہ میر نے اسے پہنایا تھا اور ساتھ ساتھ کل والا واقعہ بھی کہ کس طرح شاہ میر نے علشبہ کو اپنے پیچھے چھپایا اور ان غلیظ نظروں سے بچا کر لایا. علشبہ کوٹ اپنے ہاتھوں میں لیکر اس کی خوشبو اپنے اندر اتار تی ہے کہ جیسے شاہ میر اس کے قریب ہو اور وہ اسے محسوس کررہی ہو اور آپ ہی آپ مسکراتی ہے.
علشبہ اپنے سر پر چپیڑ مارتے ہوئے! یہ کیا ہو رہا ہے مجھے کیوں مجھے ان کی باتیں یاد آرہی ہیں؟؟؟ کیوں مجھے ان کا قریب آنا اچھا لگ رہا ہے؟؟؟ یہ کیا ہو رہا ہے،مجھے؟؟؟ اللہ جی کیوں میں بار بار ان کے بارے میں سوچ رہی ہوں؟؟؟ علشبہ تو پاگل ہو گئی ہے اور ہنس دیتی ہے
پر علشبہ کو کیا پتا یہ پاگل پن نہیں محبت ہے جو اسے اپنے مجازی خدا سے ہوگئی ہے اور اب یہ محبت علشبہ کو رلاتی ہے یا پھر اس کی زندگی میں خوشیاں بھرتی ہے یہ فیصلہ تو آنے والے وقت نے ہی کرنا تھا…!! ،
کچھ خاص نہیں بس اتنی سی محبت ہے میری
ہر رات کا آخری خیال اور ہر صبح کی پہلی سوچ ہو تم..
____
سب لوگ اپنے اپنے راستے جارہے تھے پر وہ اپنا سب کچھ لٹا چکی تھی اور کسی کی بھی پرواہ کئے بس آگے چلتی جارہی تھی تبھی سامنے سے ایک ٹرک آرہا ہوتا ہے پر اسے کسی کا بھی ہوش نہیں ہوتا ۔۔
تبھی کوئی اسے اپنی اور کھینچتا ہے۔
پاگل ہو گئی ہو یہ کیا کر رہی تھی تم،،،؟؟
چھوڑیں مجھے.. مرجانے دیں مجھے. میرے پاس اب کچھ نہیں بچا مجھے مرنا ہے..
وہ اپنے آپ کو زبردستی اس سے چھڑوانے کی کوشش کرتی ہے تبھی سامنے سے ایک کار آتی ہے. وہ شخص دوبارہ اسے اپنی جانب کھینچ کر ایک تھپڑ مارتا ہے۔
سب کھانے پر موجود ہیں. یہ حماد کہاں ہے؟
سفیان صاحب نے امرین بیگم سے پوچھا۔
جی وہ تو صبح کا گیا ہوا ہے۔
تو حماد نے کیا فیصلہ لیا بتایا اس نے کچھ؟؟ سفیان صاحب نے پھر پوچھا.
نہیں ابھی تو کچھ نہیں جواب دیا. صبح بھی جلدی جلدی کہی نکل گیا تھا ناشتہ کیے بغیر اور کچھ بھی ہو کھانے سے پہلے تک تو آجاتاہے پر آج ابھی تک نہیں آیا. امرین بیگم پریشانی سے بولیں۔۔
کیا امی اب آپ پریشان ہونے نا بیٹھیے گا. کوئی ضروری کام ہوگا تبھی نہیں آئے بھائی. عمر نے امرین بیگم کو کہا۔
اچھا حماد آئے تو اسے میرے پاس بیھج دیے گا سفیان صاحب کہتے ہوئے کمرے میں چلے گئے۔۔
آج کھانے پر سب موجود تھے ورنہ جب سے جاوید صاحب اور شاہ میر میں کہا سنی ہوئی تب سے شاہ میر دیر سے آتا پر آج جلدی بھی آیا اور کھانا کھانے سب کے ساتھ بیٹھا بھی۔۔
بھئ بیگم ہماری چھوٹی بہو کہاں ہے؟؟ ابھی تک نہیں آئی طبیعت تو ٹھیک ہے نا ان کی ؟؟
جاوید صاحب نے ثمینہ بیگم سے پوچھا۔۔
جی ہاں سب ٹھیک ہے وہ ثمرین کو بھیجا ہے بلانے آتی ہوگی۔۔
علشبہ آتے ہی سب کو سلام کرتی ہے سب اس کی طرف دیکھ کر جواب دیتے ہیں. صرف شاہ میر کے جو علشبہ کو دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔۔
ارے بیٹا بیٹھو کھڑی کیوں ہو؟؟ ثمینہ بیگم نے علشبہ سے کہا.
اب ہال کچھ یوں تھا کہ صرف ایک کرسی خالی تھی جو کہ شاہ میر کے برابر میں تھی اور دوسری طرف مسکان تھی. علشبہ ابھی دیکھ ہی رہی ہوتی ہیں کے مسکان بولتی ہے بھابھی یہاں آ جائیں.
علشبہ ہچکچاتے ہوئے شاہ میر کے برابر میں آکر بیٹھ جاتی ہے. ثمینہ بیگم اور جاوید صاحب مسکراتے ہیں دونوں کو دیکھ کر۔۔
سب کھانے میں مگن ہوتے ہیں پر علشبہ سے کچھ کھایا نہیں جارہا تھا. علشبہ کی حالت عجیب ہورہی تھی شاہ میر کے برابر میں بیٹھ کر وہ نا چاہتے ہوئے بھی سر جھکائے بار بار شاہ میر کو دیکھ رہی تھی. ایک دفعہ تو شاہ میر نے بھی اپنے اوپر کسی کی نظریں محسوس کر کے دیکھا پر علشبہ نے نظریں نیچے کر لیں جس کی وجہ سے شاہ میر اپنا وہم سمجھ کر دوبارہ کھانا کھانے لگتا ہے۔۔
شاہ میر علشبہ ایک ساتھ پانی کا گلاس اٹھانے کیلئے گلاس پکڑتے ہیں پہلے شاہ میر کا ہاتھ ہوتا ہیں اس کے اوپر علشبہ کا دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو علشبہ اپنا ہاتھ جلدی سے ہٹا لیتی ہیں اور سب کو دیکھتی ہیں پر سب کھانا کھانے میں مگن ہوتے ہیں۔۔
شاہ میر گلاس اٹھا کر آدھا پانی پی کر گلاس دوبارہ وہی رکھ دیتا ہے اور اٹھ کر چلا جاتا ہے علشبہ کو پیاس لگتی ہے تو وہ وہی شاہ میر کا آدھا پیا ہوا پانی کے گلاس سے پانی پینے لگتی ہے۔۔
اور یہ نظارہ شاہ میر نے خوب دیکھا تھا جو اپنا موبائل ٹیبل سے اٹھانے آیا تھا اور یہ منظر سامنے بیٹھے شخص نے بھی مسکرا کر دیکھا تھا،شاہ میر سر جھٹکتے ہوئے موبائل اٹھا کر نکل جاتا ہے۔
کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں اور علشبہ بھی ابھی کمرے میں آتی ہی ہے کہ پیچھے سے اسد بھی آجاتا ہے۔۔
بھابھی میں اندر آسکتا ہوں؟؟
آرے آؤ نا وہاں کیوں کھڑے ہو۔علشبہ مسکراتے ہوئے اسد کو اندر کمرے میں آنے کی اجازت دیتی ہے
۔۔ اسد معنی خیزی سے مسکراتے ہوئے علشبہ کو دیکھتا ہے۔۔
جاری ہے
