Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20
ارے بھائی آپ اور یہاں؟؟ عریشہ نے حماد کو گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے کہا۔۔۔
ہاں کیوں میں اپنے گھر نہیں آسکتا کیا؟؟ حماد نے الٹا عریشہ سے سوال کیا ۔۔۔
ارے نہیں بھائی میں نے تو ایسے ہے پوچھا اچھا یہ بتائیں آپی اور بھابھی ٹھیک ہیں؟؟ وہ بوکھلائے ہوئے بولی ۔۔۔
ہاں وہ بلکل ٹھیک ہیں تم یہ بتاؤ امی اور ابو کہاں ہیں اور کھانا کھا لیا سب نے میں آج کا کھانا یہیں کھاؤں گا. حماد نے عریشہ سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
نہیں بھائی ابھی کہاں کھایا بس لگانے جارہی تھی امی ابو کو ہی بلانے گئے تھی آتے… ۔عریشہ کی بات اُدھوری رہ گئی اور سامنے سے سفیان صاحب اور امرین بیگم آتے ہوئے نظر آئے.
لیں بلکہ آگئے آپ لوگ بیٹھیں میں کھانے کا دیکھ لوں اور بھائی آج آپ کی پسند کا ہی کھانا بنا ہے. وہ بولتی ہوئی مسکرا کر کچن میں چلی گئی۔۔۔
حماد میرا بچہ کیسے ہو؟؟ امرین بیگم خوشی سے آگے بڑھی اور حماد کا ماتھا چوم کر گلے لگایا۔۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں اور آپ؟؟ وہ جواب دیتے ہوئے امرین بیگم اور سفیان صاحب کو دیکھ کر بولا ۔۔۔
کھانا لگ گیا ہے.. اس سے پہلے کوئی کچھ کہتا عریشہ نے آکر کہا۔۔۔
آؤ حماد سفیان صاحب کہتے ہوئے کھانے کی ٹیبل کی طرف چل پڑے انھیں اچھا لگا تھا حماد کا آنا ۔۔۔
امرین بیگم اور حماد نے حیرت سے سفیان صاحب کو دیکھا جنہوں نے ابھی ابھی حماد کو مخاطب کیا تھا۔۔ تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ان کے پیچھے چل دیے ایک اچھے ماحول میں کھانا کھا کر حماد عریشہ کو ہدایت دیتا کہ وہ دونوں کا خیال رکھے اور کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے فوراً کال کریں اور امرین بیگم سے اجازت لیتا چلا گیا۔اج اس نے اپنا ایک اور فرض بخوبی نبھایا تھا۔۔۔
کوئی ہے پلیز بچاؤ.. چھوڑو مجھے چھوڑو بلال پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں پلیز جانے دو مجھے میں ایسی لڑکی نہیں ہوں… وہ پہلے چیختے ہوئے اور پھر اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔۔۔
میں نے بہت بڑی غلطی کی تم پر بھروسہ کر کے تمہارے کہنے پر لونگ ڈرائیو پر تمہارے ساتھ چلی آئی تم ایک گھٹیا انسان ہو. وہ اس سے اپنے آپ کو چھڑواتے ہوئے خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا تم کیسی لڑکی ہو میں بہت اچھے سے جانتا ہوں اور رہی گھٹیا پن کی بات تو یہ سب میں نے تم سے ہی سیکھا ہے بےبی ویسے بھی تم نے مجھے بہت لوٹا ہے بہت مزے کیے ہیں اب میری باری ہے مزے لینے کی.. وہ اس کو آنکھ مارتے ہوئے بولا اور اس کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔۔۔
کہاں ہے تو انس اور تیرا نمبر کیوں نہیں لگ رہا تھا دو مہینے ہوگئے تجھے گئے ہوئے کہاں مرا ہوا ہے؟؟ شاہ میر کال پر انس کو خوب سناتے ہوئے غصے سے بولا۔۔۔
ارے بھائی اتنا غصہ میری بھی تو سن لے. ارے ابا کے ساتھ ضروری کام سے امریکہ جانا پڑا اور وہی میں لٹ گیا موبائل چوری ہوگیا تھا. ابا کو بتایا تو انھوں نے کہا اچھا ہوا اب کوئی ضرورت نہیں نیا موبائل لینے کی جب تک تم میرے ساتھ ہو. جب دیکھو اس موبائل میں ہی لگے رہتے ہو اور کیا تھا بس بھائی نا کسی کا نمبر یاد اور نا ہی موبائل تو کیا کرتا ابھی آیا ہوں پاکستان تو آتے ہی موبائل لےکر تجھے اور سمیر کو کال کی وہ بھی دبئی سے آگیا ہے شام کو اب ہم وہی پھنچ رہے ہیں اپنی مخصوص جگہ پر تو بھی آجا پھر بات ہوتی ہے. انس نے سب کچھ بتاتے ہوئے کہا اور شاہ میر کی سنے بغیر کال کٹ کر دی۔۔
کوئی ہے بچاؤ مجھے کوئی ہے؟؟
شاہ میر جو گاڑی میں ہی بیٹھا تھا کال کٹ ہونے کے بعد اسے کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز آئی تو وہ گاڑی سے اتر کر اس سنسان راستے پر آگے چلنے لگا جہاں سے اس لڑکی کی آواز آرہی تھی ۔۔۔
شاہ میر نے دیکھا ایک لڑکا ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کررہا تھا اور وہ لڑکی باقاعدہ اپنے آپ کو اس سے چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی جس میں وہ ناکام ہورہی تھے. اس لڑکی کی پیٹھ شاہ میر کی طرف تھی شاہ میر نے بھاگتے ہوئے اس لڑکے کو پیچھے کو دھکا دیا جس سے وہ لڑکھڑا کر گر پڑا ۔۔۔
آپ ٹھیک ہو؟؟ اب وہ اس لڑکی کی طرف متوجہ ہوا اور اسے دیکھا تو حیران رہ گیا وہ اور کوئی نہیں مہک تھی اور اس کی حالت ناقابل بیان تھی. شاہ میر نے اپنی نظریں دوسری طرف پھیر لیں اور اپنا کوٹ اتار کر اسے دیا. اب وہ اس لڑکے کی طرف مڑا پر وہ شاہ میر کو دیکھ کر بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
وووووہ میں شاہ میر.. ابھی اس کے الفاظ صحیح سے منہ سے بھی نا نکلے تھے کہ شاہ میر نے ایک زور کا تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا ۔۔۔
تم کس طرح کی لڑکی ہو اور کتنا گرو گی مہک یہ سب تمہارا اپنا کیا ہوا ہے جو تمہارے سامنے آرہا ہے. تم ایک بےشرم اور بے حیا لڑکی ہو جس کو اپنی عزت اپنے باپ بھائی کی عزت کسی کا کچھ خیال نہیں تمہیں پتا ہے مجھے تم پر بلکل ترس نہیں آرہا کیونکہ یہ سب کچھ تم نے خود کیا ہے. شاہ میر غصے سے اس کو جھاڑتے ہوئے بولا اور وہ شاہ میر کا کوٹ پہنے نیچے نظریں کیے آنسو بہاتی سب سن رہی تھی۔۔۔
شاہ میر غصے سے اس کو کھینچتا ہوا گاڑی تک لایا اور اس کے گھر کی طرف گاڑی دوڑا دی۔۔۔
آج آپ بڑے خوش لگ رہے ہیں۔ سفیان صاحب جو بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے لیٹے ہوئے مسکرا رہے تھے امرین بیگم نے دیکھ کر پوچھا وجہ تو وہ بھی جانتی تھی پر پھر بھی پوچھ بیٹھی۔۔۔۔
ہممم بس سوچ رہا ہوں میں کتنا خوش نصیب باپ ہوں مجھے حماد جیسا بیٹا ملا جس نے ہر اچھے برے وقت میں میرا ساتھ دیا ہے. وہ ایک بہترین بیٹا اور بھائی ہے.وہ مسکراتے ہوئے بولے۔۔
ہممم کہہ تو آپ ٹھیک رہے ہیں اور آج بھی وہ آپ کی وجہ سے ہی آیا تھا آپ کی طبیعت پوچھنے آیا حالانکہ جتنا وہ غصے میں گیا تھا مجھے لگتا تھا کہ میں نے اپنا بیٹا بھی کھو دیا پر مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے جس نے کبھی مجھے آپ کو اپنے بھائی بہن کو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑا ہر فرض اس نے بخوبی نبھایا ہے. کبھی کبھی مجھے لگتا ہے مجھے سارے رشتے نبھانا اس سے سیکھنا پڑیں. گے وہ اپنے آنکھ کی نمی صاف کرتے ہوئے مسکرا کر بولیں. ان کے ہر ایک ایک لفظ سے حماد کیلئے محبت ہی محبت چھلک رہی تھی۔۔۔
اچھا اب آپ سوجائیں. وہ کہتی ہوئی لائٹس آف کر کی بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹ گئیں یہ دیکھے بنا کہ جو تھوڑی دیر پہلے سفیان صاحب کا چہرہ خوشی سے کھل رہا تھا ان کی بات سے کیسا بدلا تھا ۔۔
سفیان صاحب اب سیدھے ہوکر لیٹ گئے پر ان کی نیند اب ان سے پوری طرح روٹھ گئی تھی اب تو تھوڑا احساس جاگنا شروع ہوا تھا وہ اب اپنا موازنہ حماد سے کرنے لگے تھے کہ کیسے اپنے سارے رشتے نبھائے جاتے ہیں اور انھوں نے کس کس کے ساتھ غلط کیا وہ اپنی نظریں اوپر کیے باقاعدہ چھت کو گھورے جارہے تھے اور پرانے وقتوں میں چلے گئے تھے۔۔
تیمور اور اس کے والدین تینوں لاونج میں بیٹھے ہوئے کوئی بات ڈسکس کر رہے تھے تبھی شاہ میر نے مہک کو کھینچتے ہوئے لاکر ان کی طرف جھٹکا دیا جس سے وہ اپنے والد کے قدموں میں جاگری۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے شاہ میر؟؟ تیمور نے مہک کو دیکھ کر شاہ میر پر دھاڑ کر مہک کی طرف بڑھ کر اسے اٹھایا تو اس کی ایسی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا اور ساتھ ساتھ اس کے ماں باپ بھی۔۔۔
یہ کیا ہوا مہک ایسی حالت کس نے کی تمہاری؟؟ میں کچھ پوچھ رہی ہو تم سے کہاں منہ کالا کر کے آئی ہو؟؟ مہک کی والدہ زینب اس کو جھنجھوڑتے ہوئے بولیں جو کچھ بول نہیں رہی تھی صرف آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
شاہ میر یہ سب کیا ہے؟؟ مہک کے والد ہمایوں صاحب نے شاہ میر سے پوچھا۔۔۔
تو شاہ میر نے جو کچھ بھی ہوا وہ سب کچھ انھیں بتا دیا ۔۔۔
جھوٹ بولتے ہو تم الزام لگا رہے ہو میری بہن پر تم نے ہی اس کے ساتھ کچھ کیا ہوگان تیمور شاہ میر پر جھپٹتے ہوئے بولا۔۔
مسٹر تیمور اگر اتنی ہی فکر تھی نا تو اپنی بہن پر نظر رکھنی تھی اسے سمجھانا تھا جو کسی بھی لڑکے کے ساتھ کبھی بھی کہیں بھی نکل پڑتی ہے. شاہ میر کو تیمور کا خود پر الزام لگانا بہت غصّہ دلا گیا تو اس نے تیمور کے ہاتھ اپنے گریبان پر سے جھٹکے سے ہٹائے اور ہمایوں صاحب کی طرف بڑھا۔۔
انکل میں نے کئی بار مہک کو سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ اس طرح لڑکوں کے ساتھ فری نا ہوا کرے پر وہ نہیں مانی. مانا کہ نیا زمانہ ہے اور لڑکیوں کا بھی پورا حق ہے کہ وہ اپنی زندگی اپنے حساب سے کھل کر جیئیں پر ان کو اپنی اور اپنے گھر کی عزت کا بھی بخوبی اندازہ ہونا چاہیے. انکل آنٹی آپ لوگ اپنی سماجی سرگرمیوں میں اتنے مصروف ہوئے کہ اپنی بیٹی پر ہی دیھان نا دے سکے اگر آج میں وقت پر نا پہنچتا تو پتا نہیں کیا ہو جاتا ابھی بھی وقت ہے آپ اسے سنبھال سکتے ہیں. وہ مہک کی ساری پچھلی باتیں بھلائے اس کے لیے اس کے ماں باپ کو ان کی غلطیاں دکھا رہا تھا تاکہ وہ اسے گرنے سے سنمبھال سکیں ۔۔۔۔
ہمایوں صاحب مہک کی طرف بڑھے اور اس سے پوچھنے لگے کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ خود سے گئی تھی تو اس نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا اور اب ہلنے کی باری ہمایوں صاحب کی تھی انھوں نے مہک کو زور کا تھپڑ مارا جس سے وہ نیچے گر گئی۔
مجھے نہیں پتا تھا میری بیٹی ایسی نکلے گی. وہ غصے میں اس کی طرف بڑھے پر شاہ میر آگے آگیا
انکل آپ ایک بار پھر غلطی کر رہے ہیں اب اسے آپ کی ضرورت ہے اور پھر آپ اسے اپنے سے الگ کر رہے ہیں ۔۔۔
انکل میں آپ کو اس لیے سمجھا رہا ہوں میری خود کی بھی ایک بہن ہے اور عزت کیا ہوتی ہے میں اچھے سے سمجھتا ہوں اور مہک میرے لیے مسکان کی طرح ہے. بس اس کی حرکتوں کی وجہ سے مجھے اس سے چڑ تھی اور اب وہ اپنی غلطی پر نادم ہے امید کرتا ہوں اب آپ لوگ بھی اس کا ساتھ دینگے میں اب چلتا ہوں اللہ حافظ. وہ باہر جانے لگا تو مہک اس کے سامنے آکر ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئی اور معافی مانگنے لگی ۔۔
شاہ میر مجھے معاف کردو میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا علشبہ کے ساتھ بھی بہت برا کیا میں بہت بری ہوں میرے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا ہونا چاہیے تھا پر پلیز تم مجھے معاف کردو میں تمہارے پیر پکڑتی ہوں میں علشبہ سے بھی معافی مانگ لونگی پر تم ایک بار مجھے معاف کردو. وہ سسکتے ہوئے شاہ میر کے پیر پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔
میں نے تمہیں معاف کیا مہک اور امید کرتا ہوں کہ تم اب کوئی بیوقوفی نہیں کرو گی. وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے چلا گیا۔۔۔
پیچھے مہک اس کو جاتے دیکھتی رہی جس کا ظرف کتنا بڑا تھا وہ جانتا تھا کے اس کی زندگی برباد کرنے میں اس کا ہاتھ ہے پر پھر بھی وہ اس کے ساتھ کھڑا تھا اس کی زندگی برباد ہونے سے بچائی تھی اب اس نے سوچ لیا تھا کے وہ اس کی زندگی اس کو واپس لاکر دے گی ۔۔
_____
کیا ہوا شاہ میر کہاں رہ گیا تھا یار کب سے انتظار کررہے تھے؟ انس نے اس سے گلے ملتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ہاں شاہ بھئی جب سے تو دبئی سے گیا بھابھی سے ملتے ہی مجھے تو بھول ہی گیا ایک کال تک نہیں کی. سمیر نے گلے ملتے ہوئے شکوہ کیا جس پر شاہ میر کا منہ اتر گیا۔۔۔
کیاہوا یار کیوں اتنا خاموش خاموش ہے؟؟ انس نے اس کا اترا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔۔
شاہ میر نے آنکھیں بند کر کے ایک لمبا سانس اندر کو کھینچا کے جیسے اپنے آپ کو ٹوٹنے سے سنبھال رہا ہو پھر ان کو سب کچھ بتاتا چلا گیا ۔۔۔
اور کتنی کوشش کی کہ تجھ سے بات ہوسکے دن رات بس اسے ہی ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہوں پر شاید میری غلطیاں اتنی بڑی ہیں کے مجھے ایک موقع تک نہیں مل پارہا جو میں اس سے معافی مانگ سکوں.. شاہ میر مایوسی سے بولا۔۔۔
تو دونوں ایک ساتھ اس کے گلے لگے..
یار تو فکر نہیں کر سب ٹھیک ہو جائے گا اور اب ہم ہیں نا ایک ساتھ مل کر ڈھونڈیں گے بھابھی کو وہ جلد ہی ہمیں مل جائیں گی اور پھر تم دونوں ہمیشہ خوش رہو گے آمین۔ آنس نے اس کو تسلی دیتے ہوئے دعا دی تو سمیر نے بھی آمین کہا ۔۔۔
ارے دو تھوڑی تین خیر سے اب ہم چاچو بننے والے ہیں چل ہم میں سے کسی کی تو ترقی ہوئی.. سمیر نے شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر شوخی سے کہا اور دونوں نے خوش ہوکر اس کو مبارکباد دی ۔۔۔
انس اب تجھے پتا کرنا ہے تیرے اس کزن کے زریعے جس کی شادی میں ہم گئے تھے انہیں ضرور کچھ پتا ہوگا مجھے بس اب جلد ہی علشبہ تک پہنچنا ہے. شاہ میر نے انس کو کہا ۔۔۔
ارے ہاں انس وہاں سے ہمیں بھابھی کے گھر کا پتا ضرور مل سکتا ہے. تیرے کزن کی شادی بھابھی کی کزن سے ہوئی تھی ناں اب انہیں تو سب پتا ہوگا. سمیر نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔۔
ہاں میں کرتا ہوں پتا تو فکر نہیں کر اب ہمیں مل ہی جانی ہیں بھابھی. وہ ایک دم جوش سے بولا اور شاہ میر کی طرف دیکھا جو کسی سوچ میں گم تھا۔۔
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے عمر نے مسکان کے سامنے آتے ہوئے بولا جو علینہ کے ساتھ ہوٹل سے باہر ہی نکلی تھی. مسکان عمر کو نظر انداز کرتی علینہ کا ہاتھ پکڑ کر آگے نکلنے لگی ۔۔۔
رکو یار پلیز میری ایک بار بات تو سن لو. وہ پھر اس کو جاتے ہوئے روکتا ہوا بولا۔۔۔
سوری میں آپ کو نہیں جانتی ہٹیں میرے سامنے سے.. مسکان نے جواب دیتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔
او ہیلو مسٹر کون ہیں آپ کیوں ہمیں تنگ کررہے ہیں وہ کہہ رہی ہے نا کہ وہ آپ کو نہیں جانتی تو ہمارے راستے سے ہٹیں چلیں. علینہ جو کب سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی آخر بول اٹھی۔۔۔
کون ہوں میں یہ تو آپ کو آپ کی دوست ہی اچھے سے بتا سکتی ہیں پر خیر چلیں اگر وہ نہیں بتانا چاہتی تو میں ہی بتا دیتا ہوں کہ ہمارا رشتہ کیا ہے.. وہ مسکان کو دیکھتا ذومعنی انداز میں بولا۔۔۔
علینہ تم جاؤ میں ابھی آئی.. مسکان نے گھبرا کر عمر کو دیکھا اور اس کی بات کاٹتے ہوئے علینہ کو کہا ۔۔۔
پر مسکان ؟
تم جاؤ میں آتی ہوں. وہ علینہ کو تسلی دیتے ہوئے بولی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں وہاں کیفے میں تمہارا ویٹ کر رہی ہوں جلدی سے آجاؤ. وہ کہہ کر دونوں پر نظر ڈالتی ہوئی چلے گئی ۔۔۔
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟؟ مسکان نے غصے سے عمر کی طرف ایک قدم بڑھتے ہوئے کہا۔۔
یار مسئلے تو بہت ہیں پر اگر تم میرا ساتھ دو تو کچھ مسئلوں کا حل ہم نکال سکتے ہیں. عمر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔
آپ سے تو بات کرنا ہی بیکار ہے.. وہ بول کر اس کے برابر میں سے آگے نکل گئی پر پھر کچھ سوچ کر مسکراتے ہوئے دل میں بؤلی…
میں بتاتی ہوں آپ کو مجھے تنگ کیا تھا نا کل.. وہ اب دوبارہ موڈ کو غصے میں کرتے ہوئے عمر کی طرف پیچھے کو بڑھی ۔۔۔۔
مجھے آپ طلاق دیں مجھے آپ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھنا ۔۔
(وہ کل سمجھ گئی تھی کے اس کی طرح عمر بھی اس رشتے کو دل سے مان چکا ہے اور وہ اس رشتے کو نبھانا چاہتا ہے۔ اور کل اس کی اس لڑکے کو لیکر جلن نے اسے بہت خوشی دی تھی پر اس کا انداز اسے بلکل پسند نہیں آیا تھا آج تک اس کے بھائیوں نے اس سے تیز آواز میں بات تک نا کی تھی۔۔ پر عمر نے کل اسے تکلیف پہنچائی تھی وہ اس کو سبق سکھانا چاہتی تھی تبھی غصے سے بات کررہی تھی پر اچانک اس کے دل میں بات آئی کے وہ اگر طلاق کا کہے گی تو وہ اس سے معافی مانگے گا اور ٹھیک سے کہے گا کے وہ اس کے ساتھ اس رشتے کو نبھانا چاہتا ہے پر وہ ناسمجھی میں اس کے غصے کو ایک بار پھر ہوا دے چکی تھی)
وہ غصے سے اس کا ہاتھ پکڑتا اپنے کمرے میں لے آیا تھا اور وہ اپنے ہاتھ کو چھڑوانے کی کوششوں میں تھی پر عمر کی گرفت اس کے ہاتھ پر مضبوط تھی اب وہ اس کے ہاتھ کو ایک جھٹکے سے چھوڑتا ہے۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے؟ وہ اپنے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے بولی وہ اپنے مزاج کے برعکس آج عمر کو غصہ دکھا رہی تھی۔۔۔
عمر کچھ کہے بغیر اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا پر مسکان کی اگلی بات نے اس کے غصے کو مزید بڑھایا تھا۔۔
آپ کیوں لائے ہیں مجھے یہاں؟؟ آپ کو کوئی حق نہیں میرے ساتھ اس طرح سے پیش آنے کا اور میرا ہاتھ پکڑنے کا.. وہ اب اپنے ہاتھ پر عمر کی انگلیوں کے نشان کو دیکھ کر روہانسی انداز میں بولی جو دکھ رہا تھا تو عمر نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ اس کے قریب آگئی ۔۔
مجھے پورا پورا حق ہے تم پر سنا تم نے اور میں ہی ہوں صرف اور صرف جو تمہیں ہاتھ لگا سکتا ہوں کسی کی اتنی ہمت تو ہو جو تمہیں ہاتھ لگا سکے اس کے ہاتھ توڑ دوں گا. وہ اس پر غراتے ہوئے بولا تو مسکان اس کی آنکھیں دیکھ کر سہم گئی۔۔
اور کیا کہاں تھا طلاق دوں تمہیں تو مسز عمر آپ نے یہ بات اب بولی ہے آئندہ آپ کے منہ سے سنا تو طلاق تو دینا دور کی بات اسی وقت آپ کو اٹھا کر لے جاؤنگا. وہ دانت بھینجتے ہوئے اس کو دیکھتا ہوا بولا ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے تبھی علی اندر آگیا تو دونوں کا سکتہ ٹوٹا. مسکان علی کو دیکھ کر جلدی سے وہاں سے بھاگ گئی۔۔
یہ کیا ہو رہا تھا یہاں ہاں؟؟ علی نے بھوئیں أچکاتے ہوئے عمر سے پوچھا ۔۔
کچھ بھی تو نہیں.. عمر منع کرتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔
کیا بات ہے ۔۔۔۔۔؟ بڑے چپ چاپ بیٹھے ہو
کوئی بات دل پہ لگی ہے یا دل لگا بیٹھے ہو
وہ معنی خیزی سے بولتا ہوا اس کے پاس بیٹھ گیا۔
یہ لڑکی کون تھی جس کی آنکھوں میں گھور گھور کر دیکھا جارہا تھا؟؟ اس نے ایک بار پھر پوچھا.
میں نے کہا نا علی کوئی بات نہیں ہے چل آجا کہیں باہر چلتے ہیں جب سے آیا ہوں یہیں پڑا ہوا ہوں. وہ بات کو گھماتے ہوئے بولا۔۔
دیکھ تو بات کو گھما نہیں اور بتا کیا بات ہے کون تھی یہ لڑکی؟؟؟
ٹھیک ہے مت بتا پر اب تجھ سے حماد بھائی ہی پوچھیں گے پھر انھیں ہی بتانا.. علی اس کو بولتے ہوئے موبائل نکال کر کال ملانے لگا۔۔۔
اوئے رک بتاتا ہوں خبردار جو تو نے بھائی کو کچھ بھی بولا تو.. عمر نے اس سے موبائل جھپٹتے ہوئے کہا اور پھر اسے سب بتا دیا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ یہ بات ابھی کسی کو نا بتائے۔۔
ابے کیا بات کر رہا ہے مطلب کے تو نے لڑکی کو بچایا وہ تو ٹھیک تھا پر نکاح بھی کر لیا وہ بھی تھانے میں مطلب کہ دولہے کو جیل میں جاتے تو سنا تھا پر پہلی بار کوئی وہاں سے دولہا بن کر نکلا واہ بھئی کیا شادی ہوئی ہے تیری اور یہ ہی نہیں دل پر قابض بھی ہوگئی بھابھی جی واہ.. علی ایمپریس ہوتا ہوا مسکرا کر بولا۔۔
پر تو یہ غلط کر رہا ہے یار اس طرح سے بات کرتے ہیں وہ تجھ سے طلاق چاہتی ہے اور تو ہے کہ ان کے دل میں جگہ بنانے کی جگہ انہیں دھمکا رہا ہے ۔۔
تو اور کیا کروں یار میرے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا اس کے گھر والے بھی اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں. وہ پریشانی سے بولا۔۔۔
تو بھائی تو اسے اعتماد میں لے اور اپنے دل کی بات بتا پر ذرا پیار سے۔۔ پر پہلے یہ بتا سب مان جائیں گے تیرے گھر میں؟
وہ اس کو سمجھاتے ہوئے پھر سوال کرتے ہوئے بولا۔۔
یار سب کو تو منالوں گا پر ابو ان کا کچھ نہیں کہہ سکتا پر مجھے یقین ہے حماد بھائی ان کو منا لیں گے. وہ اعتماد سے بولا۔۔
تو پھر تو سب سے پہلے بھابھی کو اعتماد میں لے کہ وہ تیرا ساتھ دیں اور پھر حماد بھائی کو بتا اور اپنی فیملی کو ان کے گھر بھیج تا کہ وہ ان کے گھر والوں سے بات کرسکیں. علی اس کو آئیڈیا دیتے ہوئے بولا۔۔
ہم کہہ تو تو ٹھیک رہا ہے میں کرتا ہوں کچھ. عمر نے کہا۔۔
ہاں اب جا اور بھابھی کو منا ۔۔
ابھی نہیں یار وہ تھوڑے غصے میں ہیں.. وہ سر کھجاتے ہوئے بولا تو علی اس کا یہ انداز دیکھ کر ہنس دیا.
جاری ہے
