Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36
مہک اندر گئی تو ساری گھر کی لیڈیز مسکان کے پاس ہی تھیں. مہک پر نظر پڑنے پر ثمینہ بیگم نے اسے اندر بلا لیا پر علشبہ جو عریشہ کی کسی بات پر ہنس رہی تھی اچانک سے مہک کو دیکھ کر چپ ہوگئی جسے مہک نے اچھے سے نوٹ کیا ۔۔۔
علشبہ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے ؟ وہ چلتی ہوئی علشبہ کے سامنے کھڑی ہوگئی سب انھی کو دیکھ رہی تھیں علشبہ بھی سپاٹ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
علشبہ مجھے معاف کردو جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا ان سب کیلئے پلیز مجھے معاف کر دو میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں میں جانتی ہوں میں نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ ۔وہ اس کے ہاتھ تھام کر نظریں جھکا کر بولی اور علشبہ کو سوچنے پر مجبور کرگئی ۔۔۔
جب تک تم مجھے معاف نہیں کرتی میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤنگی اور تمہارے ہاتھ بھی نہیں چھوڑوں گی.. وہ ضد کرتے ہوئے کہنے لگی تو امرین بیگم نے علشبہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو بری طرح کسی سوچ میں گم تھی۔۔
بیٹا معاف کرنے والا اللہ کو پسند ہے ۔انھوں نے ایک ہی جملے میں اسے سب سمجھا دیا تھا جس پر علشبہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا اسے تو کوئی اور بات تھی جو پریشان کر رہی تھی ۔۔۔
میں نے تمہیں معاف کیا مہک علشبہ نے ہلکا سا مسکرا کر سب کچھ بھلا کر کہا تو مہک اس کے گلے لگ گئی تو پیچھے کھڑی رامین بھی مسکرا دی ۔۔
ارے ماما اب مسکان کو باہر لے کر چلیں ورنہ بیچارہ ہمارا دلہا وہیں بیٹھے بیٹھے دلہن کے انتظار میں آدھا ہوجائے گا ۔رامین نے ہلکے پھلکے سے انداز میں آکر کہا تو مسکان سمیت سب ہی مسکرا دیے۔۔
سب مسکان کو لیکر وہاں سے چلی گئی تھیں سوا علشبہ اور مہک کے ۔۔
مہک مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا ۔علشبہ ہچکچاتے ہوئے بولی اسے شاہ میر اور مہک کا گلے لگنا نہیں بھول رہا تھا اور اتنی آسانی سے مہک نے معافی کیسے مانگ لی اسے یہ ساری باتیں پریشان کر رہی تھی مہک بھی سب سمجھ گئی تھی اور خود ہی سب بتانے لگی کہ کس طرح سے شاہ میر نے اس کی مدد کی اور ایک ایک بات علشبہ اسے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی جہاں جھوٹ کا کوئی شبہ اسے نظر نہیں آیا ۔۔
علشبہ؟ اب بھی کوئی بات ہے تو تم مجھ سے پوچھ سکتی ہو وہ اس کی نظروں میں آبھی بھی کچھ الجھن دیکھ رہی تھی تبھی بول بیٹھی ۔۔۔
ہاں ووووہ اس رات کو گھر میں تم اور وہ جو گلے ۔۔ وہ ادھورے الفاظ میں بولی تو مہک سب سمجھ گئی اور اس دن اپنی بے اختیاری پر ایک بار پھر خود کو کوسا اور علشبہ کا ہاتھ تھام کر اسے سب بتایا اور یقین بھی دلایا کہ اس کے اور شاہ میر کے بیچ کچھ نہیں علشبہ کو مطمئن کر کے وہ خود بھی مطمئن ہوکر وہاں سے چلی گئی پر شاہ میر جو اسی طرف آیا تھا دونوں کو کہی ساری باتیں سن کر مہک کے وہاں سے پلٹنے سے پہلے خود چپ چاپ وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
علشبہ نڈھال سی وہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی اسے اپنی کہی ہر بات اور شاہ میر کے ساتھ کیا ہر برا سلوک یاد آرہا تھا۔۔کافی دیر وہاں بیٹھے رہنے کے بعد وہ ایک امید لیے اٹھی کہ شاہ میر سے معافی مانگ کر سب ٹھیک کرلے گی اور اب کبھی وہ غلطی نہیں دھرائے گی جو اسے تکلیف دے اور اسے یقین تھا شاہ میر اسے معاف کردے گا لیکن کیا اس کا یقین سچ ہوگا؟؟؟
________
لائبہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی بنا دیکھے آگے بڑھ رہی تھی تبھی اس کا پاؤں کارپیٹ پر مڑا اس سے پہلے وہ گرتی حماد نے پھرتی سے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے گرنے سے بچایا۔
دیکھ کر نہیں چل سکتی ابھی گر جاتی اور کہیں لگ جاتا تو۔حماد اس کی لاپرواہی پر اسے ڈانٹتے ہوئے بولا وہ دونوں سب سے تھوڑا الگ ہٹ کر کھڑے تھے جہاں حماد کا ڈانٹنا کسی نے نہیں سنا تھا پر پھر بھی لائبہ کی آنکھوں میں اچانک نمی آگئی اور وہ ناراضگی سے اپنا ہاتھ حماد کے ہاتھ سے نکالنے لگی ۔۔حماد نے بڑی دلچسپی سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا جس پر اسے اپنا آپ بے قابو ہوتا نظر آیا ۔
عریشہ کی شاپنگ میں دلچسپی نا دیکھ کر لائبہ نے اپنی اور عریشہ کی شاپنگ خود کی تھی لائبہ نے بھی عریشہ کی طرح پلازو پر لانگ شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کا کلر ریڈ تھا اور اس پر لائٹ آتشی کلر کی ایمبرائیڈی کی گئی تھی اور دوپٹے پر فل فال کام تھا اور ساتھ خوبصورت سی بالوں کی چوٹی بنا کر ایک سائیڈ پر ڈالے اور سر پر اچھے سے دوپٹہ ٹکائے دوسری طرف کیا تھا لائٹ میک اپ کے ساتھ کانوں میں خوبصورت سی ریڈ اور آتشی کلر کے جھمکے اور گلے میں مالا کے ساتھ وہ کسی ریاست کی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔
حماد نے بھی گولڈن شیروانی پہنی تھی جس کے کالر اور کف پر چوڑی سی براؤن پٹی لگی ہوئی تھی اور خوبصورت سے براؤن ہی بٹن لگے تھے اور بال بنائے وہ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا اور دونوں ساتھ کھڑے پرفیکٹ اور ایک خوبصورت کپل لگ رہے تھے۔۔۔
حماد کی نظر اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھی گھر میں تو وہ اس پر دیھان نہیں دے پایا تھا پر اب مکمل جائزہ لے رہا تھا. لائبہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی پر حماد کا نہ چھوڑنے کا ارادہ دیکھ کر اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔حماد نے مسکرا کر اسے اپنی جانب کھینچا جو اس کے سینے سے لگتے لگتے بچی اور آنکھوں میں نمی لیے اسے گھورنے لگی۔۔حماد کو اس کی آنکھوں میں اپنا دل ڈوبتا ہوا نظر آیا۔۔
حماد نے آہستہ سے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے جس پر لائبہ نے بھی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنے اندر سکون اترتا محسوس کیا۔
سوری ۔وہ اپنے کان پکڑ کر کہنے لگا جس پر لائبہ نے نہ میں سر ہلا کر اپنے ہاتھوں سے اس کے دونوں ہاتھ کانوں پر سے ہٹائے اور اس کے سینے سے لگ گئی وہ آج اپنے ابو کو مس کر رہی تھی مسکان عریشہ کا نکاح دیکھ کر اسے رونا آرہا تھا اور اب حماد کے سینے سے لگی اپنا دل ہلکا کر رہی تھی حماد بھی سمجھ چکا تھا اس کی حالت تبھی اس کی کمر سہلاتے ہوئے دلاسا دینے لگا ۔۔
انکل آنٹی آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔تبھی ایک بچی وہاں آکر حماد کا کرتا پکڑ کر بولی جس پر لائبہ جھٹ سے پیچھے ہوئی اور بچی کی بات پر مسکرانے لگی ۔۔
ارے تم یہاں ہو میں ہر جگہ تمہیں ڈھونڈ رہی تھی… تبھی اس بچی کی ماں اسے ڈھونڈتی ہوئی آئی اور اسے لے گئی ۔حماد تو اسی میں خوش تھا کہ لائبہ کے چہرے پر مسکراہٹ تو آئی اس بچی کی بات سے ۔۔۔
مسکان قرآن پاک کے سائے میں نم آنکھوں سے اپنے ماں باپ اور بھائیوں سے مل کر گاڑی میں بیٹھی جہاں سے آگے کا سفر یقیناً بہت ہی خوبصورت اور اس کے دل کے مکین اس کے شوہر کے سنگ ہونا تھا۔۔
ڈرائیور کے ساتھ آگے سفیان صاحب بیٹھے تھے اور مسکان کے ساتھ پیچھے ایک سائیڈ امرین بیگم اور دوسری سائیڈ عمر تھا ۔عمر کا دیھان بار بار روتی ہوئی مسکان پر جارہا تھا اس کا دل کر رہا تھا وہ اسے سینے سے لگا کر چپ کرا لے۔۔۔
مسکان کو جہاں عمر کو پانے کی خوشی تھی پر وہی دوسری طرف اس کو اپنے گھر والوں کی جدائی رلا رہی تھی جو اس کی آنکھوں میں بار بار آنسو لا رہی تھی تبھی اپنے ہاتھ پر اسے عمر کے لمس کا احساس ہوا جو اسے مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اس کا بھی دل کیا وہ اس کے کندھے پر سر رکھ دے اور اپنے دل کا بوجھ اتار لے وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جہاں اس سفر کے ساتھ ان کے زندگی کے حسین سفر کا آغاز بھی ہوچکا تھا ۔۔۔
علشبہ نے مسکان کی رخصتی کروا کر جہاں ایک بھابھی کا فرض ادا کیا تھا اب وہی دوسری طرف وہ اپنے بھائی کی دلہن رخصت کروا کر شاہ میر کے ساتھ اس کی گاڑی میں جارہی تھی شاہ میر کی گاڑی میں لائبہ حماد اور عریشہ نے جانا تھا سب بیٹھ گئے تھے سوا عریشہ کے جو اندر اپنا پرس لینے گئی تھی ۔۔۔
عریشہ جو اپنا پرس لیکر جارہی تھی اسد نے اس کا دوپٹہ پکڑ کر روک لیا. وہ خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگی پر آج اسد پر اس کے گھورنے کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا تھا وہ اسی طرح اس کا دوپٹہ پکڑے کھڑا تھا اور اسے دیکھے جارہا تھا کچھ تھا اس کی آنکھوں میں جو عریشہ کو اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھنے دے رہا تھا اس نے نظریں چرا کر اپنے دوپٹے کو کھینچ لیا اور جانے لگی پر اسد کی آواز پر قدم وہیں ٹھہر گئے۔۔
میں
ادھورا سا
نا مکمل سا شخص
جو
آپ کی محبت میں
پورے کا پورا
ڈوب چکا ہے
جس کی خوشی
صرف آپ اور صرف
آپ ہیں
یہ ادھورا سا شخص
بے انتہا شدت سے
بھرپور محبت
کرتا ہے
اس کے دل کے
سکون کا راستہ
آپ کے دل سے
ہو کر گزرتا ہے
آپکی ہر چھوٹی سی
تکلیف پر تڑپ
جانے والا
یہ ادھورا سا شخص
مکمل اور خالص
محبت کرتا ہے
آپ سے
وہ اب گھٹنوں کے بل بیٹھا اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑے اظہارِ محبت کررہا تھا وہ تو اس کے لفظوں کی شدت میں کہیں کھو سی گئی تھی جہاں ابھی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے کترا رہی تھی وہیں اب اس کے آنکھوں میں جذبے لٹاتی محبت کو دیکھ رہی تھی جہاں اسے مہک کے ساتھ دیکھ کر اس کا دماغ اسے فلرٹ کہہ رہا تھا وہیں پہلے اور اب اس کا دل اس کی باتوں پر اندھا یقین کر بیٹھا تھا وہ دونوں تو اس لمحے سب کچھ بھول گئے تھے کیسی منگنی کس کا رشتہ کس کا غصہ بس یاد تھا تو صرف ان دونوں کی محبت جہاں ان دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے کلام کر رہی تھین جو بتا رہی تھیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزم ہوگئے ہیں۔تبھی عریشہ کے پرس میں رکھا اس کا موبائل بج اٹھا دونوں چونک کر ایک دوسرے کے سھر سے نکلے عریشہ اپنا ہاتھ چھڑا کر وہاں سے جلدی سے بھاگ گئی پیچھے اسد مایوس سا وہاں رکھی چئیر پر بیٹھ گیا وہ اس سے امید کر رہا تھا کہ اس کی محبت کا کوئی تو جواب دیتی وہ اس کو سمجھ نہیں پایا تھا۔۔۔
پورے راستے جہاں شاہ میر نے اپنے برابر میں بیٹھی علشبہ پر نظر تک نہیں ڈالی تھی وہ سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا وہیں علشبہ کی نظر بار بار اس پر بھٹک رہی تھی وہ جب جب اسے دیکھ رہی تھی اسے اپنا کیا سب یاد آرہا تھا تو دوسری طرف پیچھے بیٹھی لائبہ جو کافی تھک گئی تھی وہ اپنے برابر میں بیٹھے حماد کے کندھے پر سر رکھے سوگئی تھی اور حماد اس کے معصوم چہرے کو دیکھے جارہا تھا تو لائبہ کے دوسری سائیڈ بیٹھی عریشہ سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں موندے ہوئے تھی اور مسکراہٹ اس کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہورہی تھی وہ پہلے کا سب بھول گئی تھی اسے اپنے کانوں میں صرف أسد کے کہے الفاظ گردش کر رہے تھے اور دل کی دھڑکن معمول سے بڑھ گئی تھی سب اپنے اپنے میں گم تھے شاہ میر کے جھٹکے سے گاڑی روکنے پر سب اپنے خول سے باہر آئے وہ سب گھر پہنچ گئے تھے جہاں پر اب دلہن دلہا کا استقبال کرنا تھا ۔
_______
مسکان کو گھر لایا گیا ساری رسومات کے بعد اسے عمر کے روم میں پہنچا دیا گیا۔۔۔
آہاں ایسے کیسے رکو بھئی ۔۔عمر جو اپنے کمرے میں جارہا تھا لائبہ اس کے سامنے آتے ہوئے بولی ساتھ میں علشبہ اور عریشہ بھی تھیں جو اسے مسکرا مسکرا کر دیکھ رہی تھیں۔۔
مجھے آپ لوگ کیوں ایسے دیکھ رہی ہیں جیسے بکرے کو ذبح کرنے سے پہلے مسکرا کر پیار بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔عمر نے ان تینوں کی مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے طنز کیا۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا ارے واہ میرے بھائی ابھی شادی ہوئے کچھ گھنٹے ہوئے اور تم نے اپنے آپ کو بکرا بھی تصور کر لیا ۔۔عریشہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو عمر اسے کڑے تیور لیے گھورنے لگا۔۔
چلو بھئی یہ سب چھوڑو اور اگر کمرے میں جانا ہے تو نکالو ہم تینوں کے دس دس ہزار… لائبہ نے اپنا ایک ہاتھ کمر پر رکھ اور دوسرا اس کے آگے کرتے ہوئے کہا۔۔۔
کس بات کے پیسے دوں میں بھئی؟؟
ارے یہ ہم بہنوں کا حق ہے دو ہمیں اور زیادہ کنجوسی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔علشبہ نے بھی گھوری سے نوازتے ہوئے کہا تو حماد کے ساتھ کھڑا شاہ میر اسے حیرت سے دیکھنے لگا ۔۔۔
آپی بھابھی آپ لوگ بھی اس لڑاکا کے ساتھ مل گئیں بھائی دیکھ رہے ہیں آپ ؟ عمر نے منہ بناتے پہلے علشبہ سے پھر حماد سے کہا۔۔۔
تم نے مجھے لڑاکا کہا
عریشہ غصے سے بولی۔۔
رکو اب دونوں لڑنا شروع نا کر دینا میں دیتا ہوں تم لوگوں کو.. حماد نے آگے بڑھ کر کہا اور اپنا والٹ نکال کر دینے لگا وہ جانتا تھا ایک مرتبہ دونوں شروع ہوگئے تو ان کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔۔
پر ہمیں آپ سے نہیں چاہئیے۔۔عریشہ نے کہا۔۔
ارے وہ دے یا میں دوں بات تو ایک ہی ہے ۔حماد نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔
نہیں بھائی عریشہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے ہم اس کنجوس سے ہی لیں گے آپ کی باری کل ہے آپ کل دینا ۔۔علشبہ نے شرارت سے کہا تو پاس کھڑی لائبہ جئھیپ کر نظریں پھیر گئی۔۔تو حماد بھی مسکرا دیا اور ساتھ کھڑا شاہ میر تو علشبہ کا ایک اور انداز دیکھ کر حیران رہ گیا جو اپنے بہن بھائیوں سے نوک جھونک کر رہی تھی۔۔۔
آپی مجھے آپ سے ایسی امید بلکل نہیں تھی آپ تو سچ میں پرائی ہوگئیں ۔۔عمر نے اپنے انداز میں لاچاری اور خفگی لاتے ہوئے کہا جیسے اس سے زیادہ کوئی مظلوم ہی نہیں۔۔۔
ارے نہیں ایسا بلکل بھی نہیں ہے تم اداس نہیں ہو ۔۔علشبہ نے عمر کا ہاتھ پکڑ کر کہا وہ عمر کی ایکٹنگ نہیں سمجھ پائی تھی۔تبھی سب قہقہے لگا کر ہنس دیے ۔۔۔
آپی اب یقین آگیا آپ ہماری ہی بہن ہیں ورنہ کچھ گڑبڑ سی لگ رہی تھی ۔۔عمر نے ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔تو علشبہ نے اس کے کندھے پر ایک مکا جڑ دیا۔۔
عریشہ بلکل نہیں چھوڑنا اسے اور بھائی خبردار جو آپ بیچ میں آئے اب یہ پیسے دیے بغیر کمرے میں بلکل نہیں جانا چاہئیے… وہ عریشہ کو پھر حماد لائبہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
ہیں آپی اتنا ظلم اچھا نا سوری اب آپ بھی ایسا کریں گی میرے ساتھ ویسے ہی ایک ہے نا یہ بندریا مجھ معصوم پر ظلم کرنے کیلئے۔
بھااااائی دیکھ لیں یہ پہلے لڑاکا اور اب بندریا کہہ رہا ہے مجھے اور پھر سب کہتے ہیں میں لڑتی ہوں۔۔اور آپی چھوڑیں ہمیں اس سے بات ہی نہیں کرنی چلیں.. وہ حماد کو دیکھتی ہوئی بولی پھر علشبہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے دو قدم آگے لے جا کر آنکھ مار کر مسکرا دی علشبہ بھی اس کی شرارت سمجھ گئی تھی تبھی دونوں اپنی ناراضگی ظاہر کرتی صوفے پر بیٹھ گئیں ۔۔
ارے میرا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا سوری اچھا بابا میں دیتا ہوں پیسے پر اس طرح ناراض تو نا ہو.. وہ دونوں کو باری باری دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
عمر بیچارہ دو گھنٹوں سے انھیں منانے کی کوشش کر رہا تھا ویسے ہی انھیں سب رسمیں وغیرہ کرتے کرتے تین بج چکے تھے علشبہ کو عمر پر رحم آگیا تھا پر عریشہ نا مانی اور اپنا منہ موڑے بیٹھی رہی پر عمر اسے ناراض نہیں دیکھ سکتا تھا بھلے ہی وہ لڑے پر منہ نہ موڑے شاہ میر کو عمر کو دیکھ کر اپنی بہن پر فخر ہوا اور دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا جو اس نے اتنا اچھا شخص اس کی بہن کے نصیب میں لکھا تھا. شاہ میر چپ چاپ دیوار سے ٹیک لگائے ان بہن بھائیوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
عریشہ اب بس بھی کرو ؟علشبہ اب غصے سے بولی ۔۔
ٹھیک ہے کیا یاد کروگے مان جانتی ہوں لاؤ پیسے دو ہمارے.. اچانک ہی اس نے عمر کے ہاتھ سے پیسے لئے اور کھڑی ہوگئی۔۔سب تو اس کے پل میں تولا پل میں ماشہ والا سین دیکھ کر حیران رہ گئے کہاں سب کب سے اسے منا رہے تھے اور اب ۔۔
ہممم اب مجھے بہت نیند آرہی ہے اور ہاں عمر اب تم بھی جاؤ ویسے ساڑھے چار تو ہو ہی گئے ہیں اب نماز پڑھ کر ہی سونا ہماری بیچاری بھابھی تو تمہارا انتظار کرتے کرتے سو گئی ہونگی ۔۔وہ جمائی لیتے ہوئے بولی تو عمر منہ کھولے اسے دیکھنے لگا اس کی شرارت کو وہ اب سمجھا تھا سب عمر کا منہ دیکھ کر قہقہے لگا کر ہنس دیے۔۔۔
لائبہ اور عریشہ مسکان کو جس طرح بیڈ پر بٹھا کر گئی تھیں وہ اسی طرح بیٹھی کب سے عمر کا انتظار کر رہی تھی کافی دیر انتظار کرنے کے بعد اس نے اپنی کمر کے پیچھے پلو لگایا اور ٹیک لگائے لگائے سوگئی اور اب عمر کے کمرے میں آنے کی آہٹ پر اچانک آنکھ کھل گئی۔۔
مسکان نے غصے سے بھری ایک نظر عمر پر ڈالی جو اب اسے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے دیکھ رہا تھا۔۔مسکان تپ کر اٹھی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر پہلے اپنا دوپٹہ اتار کر بیڈ پر غصے سے پھینکنے لگی پھر اپنے کانوں سے بھاری آویزے اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر پھینکے.. اب وہ اپنے نیکلس کو کھولنے کی کوشش کر رہی تھی جو کھل کر ہی نہیں دے رہا تھا ۔۔
تجھ پر تو ہم اپنی جان نثار کرتے ہیں
عمر کب سے اس کی کارروائی دیکھ رہا تھا اب وہ آہستہ سے جاکر اس کے ہاتھ ہٹاتے خود نیکلس کا ہک کھولنے لگا۔۔ مسکان نے اس سے پیچھے مڑ کر اپنا نیکلس چھینا اور وارڈروب کی طرف بڑھ کر اپنا سادہ سا لان کا سوٹ نکالا اور واشروم کی طرف بڑھنے لگی پر اس سے پہلے عمر نے اس کی کلائی پکڑ کر روک لیا۔۔
آہاں ایسے کیسے یار ابھی تو دیکھا بھی نہیں تمہیں صحیح سے اور تم چینج کرنے چلی.. وہ اس کے ہاتھ سے کپڑے بیڈ پر پھینکتے ہوئے بولا ۔۔
اور کوئی ضرورت بھی نہیں ہے دیکھنے کی جاؤ باہر ہی رہو تمہیں کیا تم تو مزے کر رہے تھے باہر اور مجھے یہاں لاکر ابھی سے بھول بیٹھے ۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خفگی سے بولی۔۔
ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں تو تمہیں مر کر بھی نہیں بھول سکتا پھر ابھی تو میری سانسیں چل رہی ہیں ۔۔وہ اس کے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔تو مسکان نے تڑپ کر اس کو دیکھا جو اپنے مرنے کی بات اتنی آسانی سے کہہ گیا تھا ۔۔
مسکان نے جھٹکے سے اسے آپنے آپ سے دور کیا اور اپنے کپڑے لیکر واشروم میں بند ہوگئی اسے غصے کے ساتھ رونا بھی آیا عمر پر کیسے وہ اس کی فیلینگز سمجھے بغیر ایسے بول سکتا ہے اس نے بھی اب اس سے بات نہ کرنے کی ٹھان لی تھی آخر کہی کیسے اس نے یہ بات (پر بیچارہ عمر جو پہلے بہنوں کو اور اب بیوی کو منانے کیلئے پریشان تھا کہ کیسے منائیں اب اسے)
انسان ناراض صرف اسی سے ہوتا ہے جس پر اسے مان ہوتا ہے یقین ہوتا ہے کہ وہ منا لے گا اسے کیونکہ ناراضگی بہت قیمتی ہوتی ہے، ہر کسی پر لٹائی نہیں جا سکتی.
جاری ہے
