Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39

سرفراز نشے میں دھت تھا جب اس کو ایک ٹرک نے ٹکر مار دی اور اندھیرے میں کچل دیا جس کی وجہ سے وہ ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا تھا سب سن سکتا تھا پر چلنے پھرنے اور بولنے لائق نہیں رہا تھا سب اسے دیکھ کر حق دق تھے آج اللہ نے انصاف کیا تھا آج علشبہ اور شاہ میر اس الزام سے آزاد ہوئے تھے اچانک شاہ میر کی نظر علشبہ پر پڑی جو اسٹیج کے پاس کھڑی روتی ہوئی سب سن رہی تھی اس نے بہت سہا تھا چپ چاپ کسی سے کوئی شکوہ نا کیا تھا شاہ میر کو بھی اپنا نصیب سمجھ کر قبول کیا تھا بس اسے اپنے اللہ پر پورا یقین تھا کہ ایک نا ایک دن سب سچ سامنے ضرور آئے گا اور اس ذلت اور رسوائی سے اس کی جان چھوٹے گی پر اس طرح اس کے معصوم دل کو دکھ ہوا تھا سرفراز کا ایسا حال دیکھ کر۔سب ٹھیک تھے اس کے ساتھ پر ایک چھبن تھی دل میں جو آج جڑ سے ختم ہوگئی تھی۔۔
‏- کوئی تمھارا کردار اٹھا کر بیچ سڑک پر بھی لٹکا دے تو بھی یاد رکھو،
وَتُعِزُّ مَنٌ تَشَاء وَتُزِلُّ مَنٌ تَشَاء۔💯♥️
اوہ اس لیے رات ہی رات میں سفیان صاحب نے بیٹی رخصت کر دی تھی اور تبھی اس کے شوہر نے علشبہ کو چھوڑا ہوگا باپ کے گھر جانے پر بھی اس نے اسے دھتکار دیا تھا اور گھر سے ہی نکال دیا تھا چلو اللہ نے کرم کیا بیچاری علشبہ پر اس کی اولاد کی وجہ سے شوہر نے بھی اپنا لیا ۔۔
ہال میں سب باتیں بنانے لگے تھے تبھی سفیان صاحب کی پڑوسن نے اپنے ساتھ کھڑی عورتوں کو کہا جو باخوبی سب نے سنا اور علشبہ کو دیکھا جس کا چہرہ فق ہوگیا تھا۔
بسس بہت ہوگیا چپ کر جائیں سب ۔۔شاہ میر کی دھاڑ سن کر سب چپ کر گئے تھے ۔۔
خبردار جو اب کسی نے میری بیوی کے خلاف کچھ بھی کہا تو اور آنٹی آپ کو شرم آنی چاہیئے آپ خود ایک عورت ہیں اور دوسری عورت کا درد نہیں سمجھ رہی ارے میں پوچھتا ہو اگر علشبہ کی جگہ آپ کی خود کی بیٹی ہوتی تب بھی اسی طرح باتیں بناتی آپ ہاں ۔۔شاہ میر نے غصے سے کہا۔۔
آرے اللہ نا کریں میری بچی کے ساتھ ایسا کچھ ہو۔وہ تڑپ کر اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تو شاہ میر زخمی سی ہنسی ہنس دیا۔۔
پتا ہے ہمارا پرابلم کیا ہے جب تک ہم پر یا ہمارے اپنوں پر اسی طرح کی کوئی پریشانی نا ہو ہمارے سمجھ میں نہیں آتی ہم صرف باتیں بنا سکتے ہیں کے اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا کبھی اپنے اندر نہیں جھانکتے کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس سامنے والے کے دل پر کیا گزر رہی ہے اور میں پوچھتا ہوں صرف لڑکی کو ہی کیوں قصور وار ٹہراتے ہیں ہاں کیوں اسے بے گھر کر دیتے ہیں کیوں اس بیچاری کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں کیوں اس کی رضامندی کے بغیر اسے کسی کے ساتھ بھی چلتا کیا جاتا ہے کیا ہمارے مذہب میں لڑکیوں کی شادی پر ان کی رضامندی لینا ضروری نہیں؟؟؟ بتائیں مجھے کیوں صرف انھیں ہی درگور کیا جاتا ہے مرد کو تو پھر چار کی اجازت ہے پر اسے ہی کیوں پابند کر دیا جاتا ہے کیوں اس کے خونی رشتے اتنی آسانی سے اسے چھوڑ دیتے ہیں ہاں۔۔
وہ کہہ رہا تھا اور سب چپ چاپ سن رہے تھے کتنوں کے سر ندامت سے جھکے ہوئے تھے اور سب اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا محسوس کر رہے تھے سب کو اپنی اپنی غلطیاں نظر آنے لگی تھی۔
شاہ میر علشبہ کی طرف بڑھا اور اسے کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا علشبہ یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اور وہ سب کو۔
آپ لوگوں کو کس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا تھا اور یہ رشتہ میں زبردستی نبھا رہا ہوں یا اپنی اولاد کی وجہ سے میں آج آپ سب کے سامنے کہتا ہوں اگر علشبہ نہیں ہوتی تو شاید میں ادھورا رہتا تم نے آکر مجھے مکمل کیا ہے علشبہ اور کسی کو یقین ہو نا ہو مجھے تمہاری پاک دامنی پر شروع سے یقین تھا ہے اور رہے گا میں ہی تمہارا گواہ ہو جب تو ہم اس رشتے میں بھی نہیں بنے تھے تب بھی گواہ تھا اور اب بھی ہو تم جیسی محبت کرنے والی نصیبوں سے ملتی ہے اور میں بہت خوش ہو کے اللہ نے تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جوڑ دیا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اور یہ محبت دن با دن بڑھ رہی ہے جو میرے مرنے کے بعد ہی ختم ہوگی ۔۔شاہ میر علشبہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا اور علشبہ بھی اس کی سحر زدہ آواز اپنے دل کے اندر اتار رہی تھی اس کا ہر ایک جملہ اس کی روح کو سکون بخش رہا تھا اسے لگا اب اس کی سزا ختم پر آخری بات پر تڑپ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا اور روتے ہوئے اس کے ساتھ لگ گئی تھی سب نے خوشی سے تالیاں بجائی تھی امرین بیگم ثمینہ بیگم سمیت کتنے اپنوں کی آنکھوں میں آج آنسو تھے پر خوشی کے اور دونوں کو دیکھ کر دل سے دعائیں دی تھیں ۔
‏وقت۔۔۔۔ہر وقت کو بدل دیتا ہے
بس ۔۔۔وقت کو تھوڑا وقت چاہئیے
مجھے ماضی کے دریچوں میں جھانکنا اچھا لگتا ھے. کچھ مدھم ہوتے زخموں کو کرید کر ہلکا سا درد محسوس کرنا اچھا لگتا ھے کچھ پرانے لوگوں سے وابستہ آذیت ناک یادیں پھر سے دہرا کر آپنا ضبط آزمانا بھی اچھا لگتا ھے. اچھا لگتا ھے خود کو پرکھوں کہ آج وہ ماضی کے آذیت والے پل اب بھی ویسے ہیں یا انکی آذیت گزرتے سالوں نے کم کر دی ؟ مجھے یہ دیکھنا بھی اچھا لگتا ھے کہ وقت کس حد تک میرے زخموں پر مرہم رکھ رہا ھے .
🌹🌹🌹
لائبہ کی بھی ساری رسومات ادا کر کے اسے حماد کے کمرے میں پہنچا دیا تھا۔۔۔
لائبہ اپنا گھونگھٹ اٹھائے حماد اور اپنے مشترکہ کمرے کو دیکھنے لگی وہ پہلے بھی کتنی دفعہ اس کمرے میں آچکی تھی پر آج یہ اس کا خود کا کمرہ تھا اس کا بھی پورا حق تھا اس پر۔ وہ گلاب کے پھولوں سے سجے کمرے کو غور سے دیکھ رہی تھی اور بیڈ پر پڑے پھولوں کو ہاتھوں میں لیے ان کی خوشبو اپنے اندر اتار رہی تھی تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور حماد اندر آیا لائبہ نے جلدی سے گھونگھٹ کرلیا پر ماتھے پر ننھے ننھے قطرے پسینے کے پھوٹ پڑے اور گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔۔
حماد نے لائبہ کے سامنے بیٹھ کر اسے سلام کیا اور اس کا گھونگھٹ اٹھا دیا اب وہ اس کو یک ٹک دیکھے جارہا تھا لائبہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی سلام کا جواب زور سے دے کر کھڑی ہونے لگی پر کلائی حماد کے ہاتھ میں آچکی تھی حماد نے جھٹکے سے اسے واپس اپنے سامنے بیٹھا دیا اور اپنی پاکٹ سے بریسلیٹ نکال کر لائبہ کے ہاتھ میں پہنا دیا جس کی آنکھیں حیرت سے کھلی ہوئی تھیں۔۔
یہ تو وہی ہے نا جو اس دن شاپنگ مال میں۔۔وہ پیار بھری نظروں سے دیکھتی کہتے کہتے رکی۔۔
جی ہاں یہ وہی ہے جو تمہیں پسند آیا تھا پر میرے پوچھنے پر منع کر گئی تھی کہ زیادہ خاص نہیں۔۔وہ شادی کی شاپنگ کرنے گئے تھے تب لائبہ کی آنکھوں کو گولڈ کا بریسلیٹ جس پر باریک باریک سرخ رنگ کے نگ لگے ہوئے تھے بها گیا تھا پر مہنگا ہونے کی وجہ سے لائبہ نے دیکھتے ہی منع کر دیا تھا پر آج تک حماد سے کچھ چھپ پایا ہے جو اب چھپتا… لائبہ سے چھپ کر اسی وقت حماد نے یہ خرید لیا تھا اور اب اس کے ہاتھ کی زینت بنا دیا تھا جو لائبہ کے ہاتھ میں جاکر دلفریب لگ رہا تھا حماد نے اس کا ہاتھ چوم لیا تو لائبہ اپنے آپ میں سمٹنے لگی ۔۔۔
ہم نے ہاتھ پھیلا کر صرف عشق مانگا تھا
آپ نے تو ہاتھ چوم کر جان نکال دی_
حماد نے اس کے قریب ہوکر اس کے سر پر ٹکے دوپٹے کو پنوں سے آزاد کروایا اور ایک ایک کر کے اس کے زیور اتارے.. لائبہ نے اپنی آنکھیں شرم سے میچ رکھی تھیں حماد کے لمس پر اس کی دھڑکنیں منتشر ہورہی تھیں۔۔
حماد نے اس کی جیولری اتار کر اس کے ماتھے اور بند آنکھوں کا بوسہ لیا اور خود بھی کھڑا ہوا اور لائبہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی کھڑا کیا تو وہ لرزتی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
چلو آؤ شکرانے کے نوافل ادا کرتے ہیں لائبہ آج سب سے پہلے اس پاک پروردگار کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے کسی بھی آزمائش میں ڈالے بغیر ہمیں ایک کیا مجھے میری محبت اور خوشیاں دی تم میری پہلی اور آخری خواہش تھی بچپن سے تمہیں چاہا ہے اور اپنے اللہ سے ہر دعا میں تمہیں مانگا ہے تم نے میری زندگی مکمل کردی ہے لائبہ۔۔
ترستى نظروں نے هر پل ديدار مانگا
جيسے آسمان نے هر رات چاند مانگا.
جل گيا سارا زمانہ هم سے.
جب هم نے هر دعا ميں تيرا ساتھ مانگا..
وہ اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے کہنے لگا۔۔تو لائبہ کی آنکھوں میں آنسوں جھلملانے لگے. آج تک اسے اتنی محبت کہاں ملی تھیں۔ وہ حماد کو دیکھتی اپنے اوپر فخر سا محسوس کرنے لگی تھی ۔۔۔
“ساگر جیسی گہری ہیں اور بهنور سی آنکهیں ہیں”
سادہ سے اک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکهیں ہیں”
وہ اس کی آنکھوں سے آنسوں چنتا شعر پڑھ گیا اور ایک بار پھر اپنے ہونٹ اس کی آنکھوں پر رکھ دیے پھر حماد کے دور ہٹنے پر لائبہ شرما کر اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی۔۔
یار ایسے کرو گی تو مجھے اپنا آپ سنمبھالنا مشکل ہو جائے گا.. حماد اسے اپنی پناہوں میں لیے سکون سے آنکھیں موندے کہنے لگا تو لائبہ جھٹ سے الگ ہوکر شرم سے لال ہوتی واشروم کی طرف بڑھنے لگی پر حماد نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔۔
مجھے بھی اللہ کا شکر ادا کرنا ہے جس سے میں ہمیشہ شکوہ کرتی آئی ہو کہ میرے ہر اپنے کو ان کی محبتوں کو مجھ سے چھین لیا ۔میں غلط تھی ہمیں ہر حال میں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے جو اپنے بندوں کیلئے اس سے کئی گنا اچھا چاہتا ہے پر ہمیں اس کی رحمت کا اندازہ دیر سے ہوتا ہے مجھے آپ کے ساتھ جوڑ کر جہاں اتنے پیار کرنے والے رشتے ملے وہیں آپ جیسا سچا اچھا اور محبتوں سے گندھا شخص میری زندگی میں شامل کیا جو میرے بن کہے میری تکلیفیں میری خوشی ہر چیز سمجھ جاتے ہیں آپ جیسے شوہر پر مجھے فخر ہے اور میں بھی آپ سے بہت بہت محبت کرتی ہوں.. وہ آخر میں اظہار محبت کرتی شرما کر واشروم میں بھاگ گئی ۔۔
حماد تو اس کے سچے جذبات اس کی باتوں کے ساتھ اس کی آنکھوں میں بھی دیکھ رہا تھا پر اچانک سے اس کا اظہار محبت کرنا اسے بے یقین کر گیا تھا پر جب تک سمجھ آیا وہ اس کی دسترس سے باہر تھی۔۔
ہائے حماد تو تو گیا۔وہ مسکرا کر اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔
🌹🌹🌹
کیا سوچا جارہا ہے؟؟مسکان ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنی چوڑیاں اتارتے رہی تھی پر دماغ کہیں اور تھا جب پیچھے سے عمر نے اسے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
ہاں نہیں کچھ نہیں۔ وہ بوکھلاتے ہوئے پیچھے عمر کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
ہممم اچھا جی پر مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ آپ کا یہ چھوٹا سا دماغ کچھ سوچ رہا ہے تو کیا میرے بارے میں سوچا جارہا تھا۔۔وہ اس کے گردن میں اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھتے ہوئے بولا۔۔
ہاں بڑی خوش فہمی ہے جناب کو ۔وہ اس کے ہاتھوں کو ہٹاتے ہوئے مسکرا کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف مڑتے ہوئے بولی۔۔۔
تو پھر بتادو نا ورنہ نہ ہی تمہیں یہاں سے ہلنے دونگا نا ہی خود ہٹونگا۔۔ وہ وارننگ دینے والے انداز میں بولا۔۔۔
ہمم پتا ہے سنے بغیر جان نہیں چھوڑو گے میری۔۔۔
وہ تو ویسے بھی نہیں چھوڑونگا جاناں۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔۔
ہاں ہاں بس پتا ہے مجھے ۔۔میں تو بھائی بھابھی کے بارے میں سوچ رہی تھی بس۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اداسی سے بولی۔۔
آپی کے بارے میں؟؟
ہاں کتنا سہا ہے نا انھوں نے اپنے گھر والوں کو لے کر اپنے شوہر اور بچے کو لے کر کیا کچھ نہیں سننا پڑا انھیں بہت ہمت والی ہیں بھابھی میں ان کی جگہ ہوتی تو کب کی ہار مان چکی ہوتی۔۔کہتے کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔۔جس کو عمر نے بڑے پیار سے صاف کیا اور اپنے ساتھ لگا لیا مانتا تو وہ بھی تھا پر چاہ کر بھی وہ اپنی بہن کیلئے کچھ نہیں کر پایا تھا بس یہ ہی ایک بات کی کسک تھی دل میں پر آج شاہ میر کی باتیں سن کر اس کی آنکھوں میں اس کے لہجے میں جو اس کی بہن کیلئے محبت تھی جو مان تھا اسے دیکھ کر آج وہ مطمئن تھا اس کی بہن کی آزمائشیں ختم ہوئی تھیں وہ خوش تھی تو انھیں اور کیا چاہئیے تھا ۔۔
_________
عریشہ ؟؟
ہاں ۔۔علشبہ نے عریشہ کو پکارا تو وہ اپنے خیالوں سے چونکی اور ہڑبڑا کر جواب دیا اس سے سب مل کر چلے گئے تھے پر اس نے کوئی رسپانس ہی نہیں دیا تھا علشبہ کو وہ ٹھیک حالت میں نہیں لگی۔۔۔
ٹھیک ہو ؟
ہممم۔۔
لو پانی پیو۔علشبہ اس کو پانی پلا کر وہاں سے چلی گئی. اب اسے اسد کو وہاں بھیجنا تھا تاکہ وہ اس سے بات کرسکے اور اس کی پریشانی دور کرے ۔۔۔
اسد ؟؟
جی بھابھی ۔۔وہ اپنے دوستوں سے مبارکباد وصول کر رہا تھا جب اسے علشبہ نے پکار کر اپنے پاس بلایا۔۔۔
بھابھی آج میں بہت خوش ہوں پر آپ لوگوں نے اچھا نہیں کیا مجھے پریشان کر کے.. وہ مصنوعی ناراضگی دکھاتے ہوئے بولا۔۔
بھابھی آپ کی بہن نے کیسے رئیکٹ کیا۔وہ اس کے جواب نا دینے پر عریشہ کا پوچھنے لگا۔۔
رئیکٹ ہی تو نہیں کیا اس نے چپ بیٹھی ہے بلکل.. ایسا کرو تم جاؤ اور اس سے بات کرو ۔۔وہ پریشانی سے بولی تو اسد بھی پریشان ہوگیا اور اندر برائیڈل روم کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ اب بھی اسی طرح بیٹھی تھی ۔۔۔
عریشہ؟؟
اسد کے پکارنے پر عریشہ نے چونک کر اسے دیکھا اور کھڑی ہوگئی ۔۔۔
اسد اس کے سامنے آکر کھڑے ہوگیا اور سجی سنوری اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو آج اسد پر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔اسد اس کے چہرے کو یک ٹک دیکھے جارہا تھا اس کا دل کیا وہ اس کی ناک میں پہنی نوز پن کو چھوئے جو اس کے چہرے پر بہت پیاری لگ رہی تھی ۔اسد نے اپنی دل کی بات پر ہاں کہا اور عریشہ کے بلکل نزدیک جاکر کھڑا ہوگیا اب تک وہ اپنے احساسات اور جذبات پر قابو پاتے آیا تھا کہ وہ اس پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا پر آج وہ اس کی شریک حیات تھی اس کی محرم تو وہ کیسے نا ہاں کہتا۔۔۔
عریشہ جو اسد کے اندر آنے پر اسے بے یقین نظروں سے دیکھ رہی تھی اب وہ آہستہ آہستہ آکر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اسے لگا یہ اس کا خواب ہے تو اپنی آنکھیں میچ لیں اور جب کھولیں تو وہ اس کے بلکل نزدیک کھڑا تھا ایک پل کو اس کا بھی دل کیا وہ اسے چھو کر دیکھے پر اچانک اسے اپنا نکاح یاد آیا تو اسد کو پیچھے کو دھکا دیا اور خود بھی دو قدم پیچھے ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
کیوں آئے ہو یہاں جاؤ یہاں سے کسی نے دیکھ لیا تو.. میں نہیں چاہتی کوئی میرے کردار پر انگلی اٹھائے۔۔وہ کہتے کے ساتھ ہی پیٹھ موڑ کر کھڑی ہوگئی اور اپنے آنسو اس سے چھپانے لگی ۔۔وہ کہہ رہی تھی اور اسد کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسے کیوں کہہ رہی ہے جب کے اب تو وہ میاں بیوی ہیں اور کسی کو کیوں اعتراض ہوگا ۔۔
اسد اس کے قریب گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی اور کھینچا تو وہ اس کے سینے سے آ لگی ۔۔عریشہ حیرت سے اسے اپنے اتنے قریب دیکھ رہی تھی اسے یقین نہیں آرہا تھا اسد نے اب تک اپنی محبت کا دعویٰ کیا پر کبھی اس طرح کی حرکت نہیں کی پر آج جب کہ وہ کسی اور کے نکاح میں ہے تو وہ اسے کیسے چھو سکتا ہے وہ لرز رہی تھی اور اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی پر اسد پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا ۔۔
اسد اسے مزاحمت کرتے دیکھ رہا تھا اس نے اپنی گرفت ہلکی کی کہ اسے چھوڑ دے پر اس سے پہلے پھر سے اس کے دل میں خواہش آئی جس پر اس نے عمل کر دیا اپنے ہونٹوں سے اس کی نوز پن کو چھو لیا۔۔
بہت ہی شرارتی ہے یہ تیری آوارہ نتھلی..
زیور کا بہانا بنا کر تیرے ہونٹوں کے پاس رہتی ہے
عریشہ اس کی حرکت پر جی جان سے لرز اٹھی اور اسے جھٹکے سے پیچھے کیا اور غصے سے بھری جو بھی اس کے ہاتھ میں آیا مارنا شروع کردیا وہاں پر رکھے کشنز اپنا رکھا پرس اور اب اپنی سینڈل اتارتی اسے مارنے لگی تھی۔اسد اپنا بچاؤ کرتا اس کے وار برداشت کر رہا تھا پر سینڈل اتارنے پر اس کا ہاتھ پکڑ لیا جلدی سے۔۔
میں نے کہا چھوڑو میرا ہاتھ…. .. وہ چیخنے لگی پر اسد نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس پر آواز تو بند ہوئی پر عریشہ نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا جس پر اسد بلبلا کر پیچھے کو ہٹا۔۔۔
کٹکھنی بلی کیا ہوگیا ہیمے تمہیں۔۔وہ اپنے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے بولا اسے تو عریشہ کا رویہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا جب کہ وہ جانتا تھا وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے پھر اب جب سب ٹھیک ہے تو اس سے آگے اسے کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔
تم نے مجھے چھوا کیسے تمہیں شرم آنی چاہیئے نکلو یہاں سے۔۔وہ غصے سے لال پڑتی اسے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔
ہیںںں شرم آنی چاہیئے پر کیوں میں نے کیا غلط کیا۔۔وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔۔
تمہیں نہیں پتا جیسے ہاں پہلے تو تم نے کبھی ایسی حرکت نہیں کی ۔وہ افسردگی سے بولی۔۔
ہاں تو پہلے میں اور اب میں بہت فرق ہے ۔۔وہ لاپرواہی سے اس کو جتاتے ہوئے بولا۔۔
کیوں تمہیں نہیں پتا پہلے بھی ہمارا کوئی رشتہ نہیں تھا اور اب تو بلکل بھی نہیں ہے میں اب کسی اور کے نکاح میں ہوں کیوں نہیں سمجھ رہے تم ۔۔۔وہ لاچاری سے بولی۔۔
ہااااااا واٹ ؟؟؟ااسد نے حیرت سے عریشہ کو دیکھا اور اپنا سر پکڑ لیا مطلب اس نے نکاح کے پیپرز پر سائن تو کیا پر کس کے ساتھ اس کا نام جڑا اسنے نہیں سنا اسے اب اس کی حرکتوں پر ہنسی آئی تھی مطلب کے وہ اس کے قریب گیا اور وہ اپنے آپ کو کسی اور کے نکاح میں تصور کر رہی تھی۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا اسد پیٹ پکڑے ہنسنے لگا۔۔
کیا ہے کیوں ایسے ہنس رہے ہو پاگل ہوگئے ہو چپ کر جاؤ ۔۔وہ اس کے ہنسنے پر چوٹ کرتے ہوئے بولی پر اس کے قہقہے نہیں رکے تو عریشہ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اس کے دل پر کیا گزر رہی تھی وہ اس سے انجان بنا ہنسے جارہا تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *