Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19

(جیسے جیسے مسکان سب بتا رہی تھی شاہ میر کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا ردّ عمل دے اور پھر جب علشبہ کی گھر چھوڑنے کی وجہ اور مہک کا کہا ہوا ایک ایک لفظ مسکان نے شاہ میر کو بتایا تو مسکان نے جو خوش خبری شاہ میر کو سنائی تھی وہ سب بھولے صرف اور صرف مہک کی باتیں اس کا غصہ بڑھا رہی تھیں وہ جس طرح سے گھر آیا تھا اسی طرح کھڑے کھڑے پھر سے غصّے میں باہر نکل گیا تھا)
شاہ میر نے اس مہک سے نپٹنا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اس کے پاس جاکر کیا کرے گا پر اسے مہک پر بہت غصّہ تھا اسے مہک کی باتیں اور علشبہ کا چہرہ دونوں بار بار سامنے آرہے تھے وہ گاڑی اسپیڈ سے چلا رہا تھا تبھی گاڑی کے سامنے ایک بچہ آگیا شاہ میر نے بر وقت بریک لگائی اور لمبا سانس اندر کو کھینچا تبھی سامنے سے اس بچے کی ماں بھاگتی ہوئی آئی اور اس بچے کو اٹھا کر پیار کرتی ہوئی شاہ میر کو ہاتھ کے اشارے سے معذرت کرتی ہوئی چلی گئی ۔۔۔
بچہ۔آپ پاپا بننے والے ہیں۔ اس بچے کو دیکھ کر شاہ میر کو اچانک سے مسکان کی کہی بات یاد آئی تو مسکراتے ہوئے وہ بڑبڑایا اور اب اس کی منزل علشبہ کو ڈھونڈنا تھا اور اس کو منا کر اپنے ساتھ لانا تھا۔۔۔
🌹🌹🌹
تو ناراض ناں رہا کر بس اتنی گزارش ہے تجھ سے
ایک تو ہی ہے جس کو خوش دیکھ کر ہم اپنے غم بھول جاتے ہیں
لائبہ نے حماد کو آتے ہوئے دیکھا تو کچن میں چلی گئے. حماد بھی اس کے پیچھے پیچھے گیا تو وہ غصے میں یہاں سے وہاں برتن پٹخ رہی تھی ۔۔
ان بیچاروں کا کیا قصور ہے یار ؟
آپ تو کچھ بولے ہی نہیں جائیں یہاں سے. لائبہ غصے سے پلٹتی ہوئی چھری دکھاتے بولی۔۔
ارے اسے تو نیچے کرو مارنے کا ارادہ ہے کیا… حماد چھری دیکھتے ہوئے بولا تو لائبہ خاموشی سے واپس مڑ گئی اور کام کرنے لگی کے اچانک حماد نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔۔
اب وہ اسی کے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان پکڑتے معصوم سی شکل بنائے سوری بولتا ہے ۔۔۔
تو لائبہ اس کا یہ انداز دیکھ کر ہنس پڑتی ہے اور اپنے ہاتھ اس کے کانوں پر سے ہٹاتی ہے۔۔۔
اب تو کچھ کھانے کو دے دو بہت بھوک لگ رہی ہے. حماد اس کو مسکراتے دیکھ بولا ۔۔۔
ہاں آپ جاکر فریش ہوجائیں میں کھانا لگاتی ہوں پر یہ آخری دفعہ ہے. اگر آپ نے اب اپنا خیال نا رکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا آپ کے لئے. لائبہ مصنوعی غصہ دیکھاتے ہوئے بولی ۔۔
ارے دھمکی دے رہی ہو ؟
جی بلکل یہ ہی سمجھ لیں۔۔
اچھا مرضی آپ کی دے سکتی ہو حق ہے آپ کا.. حماد برا سا منہ بنا کر کہتا ہوا چلا گیا تو پیچھے لائبہ بھی مسکرا دی ۔۔۔
🌹🌹🌹
مسکان تمہیں شاہ میر کو ابھی بتانا نہیں چاہئیے تھا بیٹا اب وہ سفر سے تھکا ہارا تو آیا تھا اور تم نے بتا دیا کل اسی ٹائم کا نکلا ہوا ہے رات بھی نکل گئی اب تو صبح بھی ہوگئی پتا نہیں کہاں ہوگا کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں.. ثمینہ بیگم پریشانی سے ٹہلتی ہوئی بولیں۔۔۔
پر ماما وہ۔ مسکان شرمندہ سی بس اتنا ہی بولی ۔
لیں بھائی آگئے۔۔
شاہ کہاں تھے بیٹا تم کتنا پریشان تھی میںن. ثمینہ بیگم اس کے پاس جاتے ہوئے بولیں۔۔
وہ ثمینہ بیگم کو جواب دیے بنا پاس رکھے صوفے پر نڈھال سا بیٹھ گیا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔۔
شاہ سب ٹھیک ہو جائے گا مل جائے گی علشبہ تمہیں.. ثمینہ بیگم سمجھتے ہوئے شاہ میر کے برابر میں بیٹھ کر اسے سمجھانے لگی۔تو شاہ میر نے آس بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا کہ کیا واقعی وہ اسے مل جائے گی تو وہ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر ہاں میں سر ہلانے لگیں تو شاہ میر نے ثمینہ بیگم کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
اب ڈر نہیں لگتا کچھ کھونے_____ کا…!
میں نے زندگی میں زندگی کو کھویا ہے…!!!
🌹🌹🌹
ارے کوئی ہے گھر میں؟عریشہ اور عمر گھر میں آتے ہوئے بولے تو علشبہ لائبہ ایک ساتھ کمرے سے نکلیں اور دوسری طرف حماد انہیں خوش گوار حیرت ہوئی تھی عمر اور عریشہ کو وہاں دیکھ کر عریشہ بھاگ کر جھٹ سے علشبہ کے گلے لگی ۔۔
کیسی ہو آپ آپی ؟
میں ٹھیک اور اب تم دونوں کو دیکھ لیا نا تو اور ٹھیک ہو گئے. وہ عریشہ کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے دونوں کو دیکھتے ہوئے پیار سے بولی تو عمر بھی اس سے آکر ملا ۔۔۔
اچھا تم دونوں یہ تو بتاؤ یہاں کیسے اور ابو؟ حماد قریب آتے ہوئے ان دونوں کو بولا۔۔
ارے بھائی عمر نے مجھے کالج سے لیکر آنا تھا تو اس نے ابو کو ایکسٹرا کلاس کا بول کر لیٹ آنے کا بتا دیا اور پھر ہم یہاں آگئے. ہمیں آپ لوگوں سے بھی تو ملنا تھا بہت مس کر رہی تھی میں آپ لوگوں کو. عریشہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔
اچھا تم لوگ بیٹھو تو صحیح یا یہی کھڑے کھڑے باتیں کرو گے. لائبہ نے انہیں کہا تو سب بیٹھ گئے۔۔
اچھا میں تم لوگوں کیلئے کچھ کھانے کو لاتی ہوں. لائبہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی۔۔
ارے نہیں بھابھی آپ ہمارے ساتھ یہیں بیٹھیں ہم بعد میں کھائیں گے کھانا۔ عمر اسے روکتے ہوئے بولا تو علشبہ عمر کے بھابھی والے لفظ پر حیران ہوئی ۔۔
بھابھی؟
آرے آپی آپ کو نہیں پتا یعنی آپ کو ان دونوں نے کچھ بھی نہیں بتایا. عمر حیرت سے لائبہ اور حماد کو دیکھتے ہوئے بولا اور پھر سب بتایا کے کیسے ان دونوں کا نکاح ہوا۔۔
علشبہ سب سن کر لائبہ کے گلے لگی اور ان دونوں کو مبارکباد دی اسے بہت خوشی ہوئی تھی اپنی سب سے پیاری دوست کو اپنی ہی بھابھی بنتے دیکھ کر ۔۔
پر لائبہ تم نے انکل کا تو بتایا تھا پر یہ سب کچھ کیوں نہیں بتایا اور بھائی آپ نے بھی.. وہ دونوں سے شکوہ کرتے ہوئے بولی ۔۔
وہ… حماد سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے لائبہ کو دیکھنے لگا وہ سمجھ رہا تھا کے علشبہ کو لائبہ نے بتا دیا ہوگا ۔۔۔
چلیں جائیں چھوڑا میں نے آپ کو پر مجھے آپ سے کچھ چاہیئے.. علشبہ حماد کا چہرہ دیکھتے ہوئے ہنس کر بولی۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں کچھ کیا تم جو چاہومانگو بلکہ پؤرے حق سے مانگو. حماد نے پیار سے علشبہ کو کہا۔۔
ہم پر ابھی نہیں جب مجھے چاہئیے ہوگا تب ابھی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا یہ آپ پر ادھار رہا وہ جواب دیتے ہوئے بؤلی.. تو سب ہنس دیے۔۔
🌹🌹🌹
آج پورا ایک مہینہ ہوگیا تھا پر شاہ میر کو علشبہ کا کچھ پتا نہیں چلا وہ بہت مایوس ہوتا جارہا تھا پر اس کی کوششیں جاری تھیں۔۔۔
اور اس ایک مہینے میں علشبہ نے بھی اپنے آپ کو بھی سنبھالا تھا اور کل ہی اس نے حماد سے قریب ہی ایک اسکول میں ٹیچنگ کرنے کی اجازت لی تھی۔۔
وہ الگ بات تھی کہ وہ کس طرح مانا وہ نہیں چاہتا تھا کہ علشبہ اس حالت میں کام کرے پر پھر لائبہ کے سمجھانے پر کہ وہ گھر میں بور ہو جاتی ہے اچھا ہے بچوں میں گھل مل جائے گی اور اس کا دل بھی لگ جائے گا تو وہ اسے جانے دیے۔۔
تو حماد نے اسے ایک شرط پر اجازت دی کے وہ صرف دو سے تین مہینے ہی جائے گی اور اس پر اسے کوئی بات نہیں کرنے. وہ اس کی حالت کی وجہ سے بول رہا تھا ورنہ وہ بے جا پابندیوں کے خلاف تھا۔۔۔
🌹🌹🌹
سنیں مسکان کی یونیورسٹی سے سب گھومنے جارہے ہیں اور وہ بھی جانا چاہتی ہے تو میں نے کہا کے میں آپ سے پوچھ کے بتاؤں گی ثمینہ بیگم بیڈ پر بیٹھے جاوید صاحب کو دیکھ کر بولی۔۔
ہم پر پہلے اس کی پرنسپل سے بات کرلیں پھر ٹھیک لگے تو جانے دیجیے گا جاوید صاحب نے جواب دیا۔
اور ہاں ایک بات کرنی تھی آپ سے وہ جو میرا دوست ہے سہیل اس کی فیملی کو ہماری مسکان پسند آگئی تھی شادی میں اور ہم نے بھی لڑکا دیکھ لیا ہے تو ان کی طرف سے ہاں ہے اور وہ جلد ہی منگنی کی رسم کرنا چاہتے ہیں پر پہلے آپ مسکان سے بات کرلیں اس رشتے کے بارے میں بلکے ایسا کریں اسے گھوم کر آنے دیں پھر بات کیجیے گا. جاوید صاحب ثمینہ بیگم کو سب بتاتے ہوئے کچھ سوچ کر بولے تو ثمینہ بیگم نے بھی خوش ہو کر ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
🌹🌹🌹
کیا ہوا عمر ؟
آرے پتا نہیں اس کو بھی ابھی خراب ہونا تھا ۔۔
(عمر اور عریشہ علشبہ سے مل کر اب گھر جارہے تھے راستے میں ان کی بائیک خراب ہوگئ اسد جو اسی طرف سے گزر رہا تھا عریشہ کو دیکھ کر گاڑی ان کی طرف روکی )
کیا ہوا میں آپ کی کوئی مدد کرسکتا ہوں. اسد عمر سے مخاطب ہوتے ہوئے بولا۔۔
عریشہ نے اسد کو دیکھا تو چپ کر کے ایک سائڈ پر عمر کے ساتھ کھڑی ہوگئی تو عمر عریشہ کو چھوڑ کر اسد کی طرف بڑھا ۔۔
ایک تو پتا نہیں کیا کھسر پھسر کر رہے ہیں دونوں سمجھ ہی نہیں آرہا. عریشہ ان دونوں کی باتیں کان لگائے سننے کی کوشش کرتی ہے تبھی عمر اس کی طرف آتا ہے اور اسے اسد کی گاڑی میں بیٹھنے کو بولتا ہے اور بائیک کو ایک سائڈ پر لاک لگا کر کھڑا کرتا ہے اور خود اسد کے ساتھ آگے بیٹھتا ہے. اسد عمر کے ساتھ باتوں کے دوران وقفے وقفے سے شیشے میں سے عریشہ پر نظر ڈالتا ہے اور انھیں گھر کے باہر اتار تا ہے. عریشہ جھٹ سے گھر میں چلی جاتی ہے۔۔
عمر اسد کی ایک دوسرے سے بہت اچھی دوستی ہو جاتی ہے
آگئے پورے بیس منٹ بعد آئے ہو بڑی دوستی ہوگئی. عریشہ نے عمر کو اندر آتے ہوئے دیکھا تو طنزیہ بولی۔۔
ہاں یار نائس بندہ ہے ہماری مدد کی ورنہ آج کل کون کرتا ہے اور اب تو موبائل نمبر بھی لے لیا ہے کریں گے کسی دن اس اسد کی دعوت. عمر کہتا ہوا آگے نکل گیا تو عریشہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
نمبر بھی دے دیا دعوت بھی نام کیا کہا أسد. وہ منہ میں بڑبڑاتے ہوئے بؤلی. چھچھورا نا ہو تو گاڑی میں کیسے گھورے جا رہا تھا بچو تم ملو ایک بار مجھے پھر بتاتی ہوں زیادہ ہی رشتے داری بڑھانی آرہی ہے. عریشہ غصے میں پیر پٹختی ہوئی اندر چلی گئی.
______
ثمینہ بیگم نے مسکان کی پرنسپل سے بات کر کے اسے گھومنے جانے کی اجازت دے دی تھی اور ساتھ اس کے رشتے کا بھی بتا دیا تھا کہ وہ پہلے سے ہی اپنے آپ کو تیار کرلے اور یہ بھی کہ وہ جلد منگنی کی رسم بھی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
مسکان یہ بات سن کر دنگ رہ گئی تھی اسے اس بات کی بلکل بھی امید نہیں تھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ وہ بتائے یا نہیں اور آخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے نکاح کی بات ٹرپ پر سے آکر ثمینہ بیگم کو بتائے گی اور اسے یہ امید بھی تھی کہ تب تک شاہ میر علشبہ کو لے آئے گا تو وہ اس کی مدد کرسکتی ہیں اور سب سنبھال سکتی ہیں ۔۔
وہ مری گھومنے کیلئے نکل گئے تھے اور مسکان پورے راستے نامحسوس طریقے سے عمر کو یاد کرتی ہوئی آئی تھی کہ وہ کیا کرے آخر اس سے کیسے بات کرے وہ جلد سے جلد کوئی فیصلہ لینا چاہتی تھی. وہ اس آنے والے رشتے کے بارے میں عمر کو بتانا چاہتی تھی اور یہ ہی بات سوچ سوچ کر وہ پاگل ہورہی تھی کے آخر کیوں وہ اس کو یہ بات بتانا چاہتی ہے وہ سیدھے سے کیوں اس سے رشتہِ ختم نہیں کرتی اور یہی بات سوچ کر اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا وہ خود بہت کنفیوز ہوگئی تھی تھی کہ وہ کرے تو کیا کرے اس کا سارا اچھا موڈ ٹینشن میں تبدیل ہوگیا تھا۔۔۔
ہیلو،،
کہاں ہو عمر؟ حماد نے کال کر کے عمر سے پوچھا۔۔
وہ بھائی زرا علی کو کوئی ضروری کام تھا جس کی وجہ سے اسے میری ہیلپ چاہیے تھی تو وہ مجھے اپنے ساتھ مری لایا ہے اور میں ابو کو بتا کر آیا ہوں. عمر نے جلدی سے پوری بات بتاکر صفائی دی کے کہیں حماد سے اچھی خاصی خاطر نہ ہوجائے۔۔
عمر میں تم پر گھر کی زمہ داری چھوڑ کر آیا تھا اور تم سیر سپاٹے کو نکلے ہوئے ہو تم واپسی گھر پہنچو.. حماد نے غصے سے کہا پر اس کی یہ بات عمر تک نا پہنچ سکی اور سگنلز خرابی کی وجہ سے کال بیچ میں ہی کٹ گئی ۔۔
ہم پتا نہیں کیا کہہ رہے تھے کہیں غصّہ تو نہیں کیا.. عمر سوچتے ہوئے بولا ۔۔۔
🌹🌹🌹
کیا ہوا حماد آپ پریشان لگ رہے ہیں؟ لائبہ نے حماد کو پریشان دیکھ کر پوچھا تو اس نے عمر والی بات بتائی اور ساتھ میں اپنی پریشانی بھی۔۔
ارے تو کیا ہوا اچھا ہے تھوڑا گھوم پھر کر آجائے گا آپ بلا وجہ پریشان ہو رہے ہیں اور ویسے بھی وہ ابو سے اجازت لے کر تو گیا ہے ناں تو پھر۔۔ اور اگر ابو کو پتا چلا ناں کہ آپ انہیں ایک بچے کی طرح ٹریٹ کر رہے ہیں تو پھر دیکھئے گا.. لائبہ پہلے سمجھاتے ہوئے اور پھر شوخی والے انداز میں ہنستے ہوئے بولی۔۔۔
لائبہ تم جانتی تو ہو ابو کی طبیعت خراب رہتی ہے اگر انھیں کچھ ۔۔
ارے کچھ نہیں ہوگا آپ غلط کیوں سوچ رہے ہیں اور آپ ہیں ناں مل کر آجائیے گا. وہ آپ کا اپنا گھر ہے اور باپ سے کیسی ناراضگی اور آپ اپنے دونوں فرض نبھائیں آپ بھائی اور بیٹے دونوں کا فرض ایک ساتھ بہت اچھے سے نبھا سکتے ہیں مجھے پورا یقین ہے۔۔ لائبہ حماد کی بات کاٹتے ہوئے پورے یقین سے مسکراتے ہوئے بولی۔۔
اور شوہر کا… حماد اس کی بات سمجھتے ہوئے اب اسے تنگ کرنے کیلئے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔
ہممم 🤔وہ پر سوچ انداز میں سوچنے لگی اور آہستہ سے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالے.
وہ تو میں رخصتی کے بعد بتاؤ گی۔۔ وہ شرما کر کہتی اندر کی طرف مسکراتے ہوئے بھاگ گئی ۔۔۔
رخصتی ہمم اب جلد ہی یہ کام بھی کرنا پڑے گا پھر بھاگ کر دکھانا مسز حماد.. وہ بھی سر پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر بولا۔۔۔
لے کر ہاتھوں میں ہاتھ
عمر بھر کا سودا کر لیں❤️
تھوڑی سی محبت تم کر لو
تھوڑی سی محبت ہم کر لیں
🌹🌹🌹
علشبہ اسکول جوائن کرچکی تھی اور حماد ہی اسے صبح میں چھوڑتا اور لاتا بھی پر آج ہاف ٹائم میں ہی اس کی طبیعت خراب ہونے لگی اور چکر سے آنے لگے پر وہ ہمت کر کے پرنسپل سے بات کر کے خود گھر جانے کیلئے نکل گئی اور رکشے میں بیٹھ گئی۔۔
شاہ میر جس کا سارا وقت علشبہ کو ڈھونڈ میں نکل جاتا ہے. آج بھی وہ صبح ہی صبح نکل گیا تھا وہ سڑک پر گاڑی دوڑا رہا تھا تبھی اسے رکشے میں بیٹھی علشبہ نظر آئی وہ عبایہ میں تھی پر وہ اسے بھیڑ میں بھی پہچان جاتا اور اب بھی وہ اس کی طرف بڑھتا پر رکشہ آگے نکل گیا اور تبھی ریڈ لائٹ نے ٹریفک رکنے کا اشارہ دیا تو شاہ میر گاڑی سے باہر نکلا پر رکشہ وہاں سے غائب ہو چکا تھا۔۔
شٹ وہ گاڑی پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے آکر گاڑی میں بیٹھ گیا آج وہ اس کے سامنے تھی اور وہ اسے روک نہیں پایا اس نے مایوس ہوکر گاڑی اسی سمت بڑھائی ۔۔۔
🌹🌹🌹
ان سب اسٹوڈنٹ کی بکنگ ایک ہی ہوٹل میں ہوئی تھی ایک کمرے میں دو لڑکیاں رہیں گی اور اسی طرح دو لڑکے بھی ایک کمرے میں. وہ سب اسی ہوٹل میں تھے اور عمر علی کی بکنگ بھی اسی ہوٹل میں ہوئی تھی اور یہ ہی نہیں بلکل مسکان کے کمرے کے سامنے والے کمرے میں وہ دونوں ٹہرے تھے۔۔
ایک تو یہ علی پتا نہیں کہاں چلا گیا شام سے رات ہوگئی مجھے اکیلا کمرے میں چھوڑ کر پتا نہیں خود کہاں گھومتا پھر رہا ہے. عمر علی کو ڈھونڈنے کیلئے کمرے سے نکلا اور اسے کال ملانے لگا تبھی سامنے سے سارے اسٹوڈنٹ گھوم پھر کر باہر سے تھکے ہارے آرہے تھے ۔۔
مسکان کے ساتھ اس کی دوست اور روم میٹ علینہ تھے. دونوں ساتھ آرہی تھیں علینہ مسکان کو یونیورسٹی سے پہلے سے جانتی تھی تبھی وہ اس کی اداسی نوٹ کرگئی اور پورے راستے وہ اس بات پر مصر رہی کے کوئی بات ہے اور وہ اسے بتا دے ۔۔
مسکان علینہ کے بار بار پوچھنے سے تنگ آگئی تھی تبھی وہ ہوٹل کے اندر آتے ہی رک کر اس کو اپنے اور ثمینہ بیگم کی کہی ہوئی بات بتانے لگی کے اس کیلئے رشتہ آیا ہے اور وہ منگنی کرنا چاہتے ہیں اور یہ بات پاس سے گزرتے ہوئے عمر نے سن لی اور مسکان کو بھی بخوبی آسانی سے دیکھ لیا پر مسکان کی عمر کی طرف پیٹھ تھی تبھی وہ اسے دیکھ نہیں پائی اور ناں ہی اس کے ایکسپریشن جو اس کے رشتے کی بات سن کر عمر کے چہرے پر آئے تھے. اب وہ دونوں چلتی ہوئی عمر کے کمرے کے سامنے والے کمرے میں چلے گئی ۔۔۔
🌹🌹🌹
کیا ہوا علشبہ اتنی جلدی گھر آگئی ؟ لائبہ پریشانی سے علشبہ کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔۔
کچھ نہیں لائبہ بس تھوڑے چکر سے آرہے تھے اور متلی بھی ہورہی تھی تبھی چھٹی لے کر آگئی. وہ لائبہ کا سہارا لے کر پاس رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔
تو تمہیں کال کرنی چاہیے تھی تاکہ میں یا حماد آجاتے تم اکیلی کیوں آئی ایسی حالت میں. وہ اسے اس کی غلطی پر ڈانٹتے ہوئے بولی۔۔
تو کیا اب میں تم لوگوں کو ہی پریشان کرتی رہوں گی ہر وقت اور ویسے بھی ڈاکٹر نے کہا تھا اس حالت میں ایسا ہوتا رہتا. تم فکر نہیں کرو میں ٹھیک ہوں. تھوڑا آرام کرو گی تو پوری طرح ٹھیک ہو جاؤں گی. وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر پاؤں اوپر کر کے ریلیکس ہو کر آہستہ آواز میں بولی۔
کیا ہوگیا ہے علشبہ پریشانی کس بات کی ہم تمہارے اپنے نہیں ہیں جو تم ایسی باتیں کر رہی ہو اور چھوڑو اس بات کو میں بعد میں بات کروں گی اس بارے میں تم سے ابھی تم میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلو تم مجھے بلکل ٹھیک نہیں لگ رہی. وہ علشبہ کی حالت دیکھتے ہوئے بولی ۔
ارے نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں بس مجھے تم کچھ کھانے کو دے دو میں دوائی لے لوں گی پھر تھوڑا آرام کروں گی تو تھکن دور ہو جائے گی تم فکر نہیں کرو. میں زرا فریش ہو لوں. وہ کہتی ہوئی کھڑی ہوگئی۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں تمہارے لیے کھانا لاتی ہوں پر اگر تھوڑی دیر میں تم ٹھیک نہیں ہوئی تو تم چلو گی میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس. لائبہ نے دھونس بھرے انداز میں کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اندر چلی گئی۔۔۔
🌹🌹🌹
آج ان کو آئے ہوئے دوسرا دن تھا کل ہی وہ علینہ کے زور دینے پر سب کے ساتھ چلی گئی تھی آؤٹنگ پر پر آج اس کا بلکل دل نہیں تھا علینہ اسے مسلسل لے جانے پر مصر تھی پر پھر اس کے لاکھ منانے پر جب وہ نہیں مانی تو وہ پیر پٹختی ہوئی کمرے سے نکل گئی ۔۔
مسکان جو بستر میں گھسی ہوئی تھی اسے احساس ہوا کہ اس نے علینہ کو ناراض کردیا ہے تو وہ جلدی سے پاس پڑے دوپٹے کو اٹھا کر اپنے اوپر ڈالتی ہوئی علینہ کے پیچھے کمرے سے باہر بھاگی کہ اسے روک سکے پر وہ جاچکی تھی. وہ کمرے میں واپس جانے کیلئے مڑی تھی کہ اسے عمر نے اپنی جانب کھینچ کر اپنے کمرے کے اندر لیا اور کمرے کا دروازہ پاؤں سے بند کر کے اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا اور اس کے دونوں طرف اپنے ہاتھوں کی دیوار بنا دی ۔۔۔۔
مسکان اس اچانک افتاد کیلئے بلکل تیار نہیں تھی وہ ڈری سہمی سی آنکھیں بند کیے تھی اور اب اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھیں تو حیرت سے اپنے سامنے عمر کو دیکھنے لگی ۔۔۔
کیوں کیا ہوا حیرت ہورہی ہے مجھے اپنے سامنے دیکھ کر ۔وہ زومعنی انداز میں مسکان کو دیکھ کر بولا۔۔
تو مسکان کا سکتہ ٹوٹا جو عمر کو دیکھ کر ہوچکا تھا. وہ کل
سے ہی چاہ رہی تھی کے کیسے بھی عمر اس کے سامنے آجائے۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں ایسے ہی چھوڑ دونگا تم بیوی ہو میری اور کسی کی ہمت کیسے ہوئی تم سے رشتہ جوڑنے کی. وہ اب اس کے بازوؤں پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے غصے سے بولا۔۔
میں نے سنا جب تم اپنی دوست کو بتارہی تھی اپنے اس سو کولڈ رشتے کے بارے میں. وہ غصے سے مسکان کی حیرت بھری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔
تم میرے نکاح میں ہو تو تم کیسے کسی سے منگنی کرنے کا سوچ سکتی ہو؟؟ وہ اب اس کو جھنجھوڑتے ہوئے بولا تو عمر کا یہ انداز دیکھ کر مسکان کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔
عمر اس کے آنسو دیکھ نا پایا تو مسکان کو اپنی گرفت سے آزاد کر دیا اور پریشانی سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مسلنے لگا وہ کل رات سے بے چین تھا کہ اس کی بیوی اور کسی اور کے ساتھ منگنی کرے.. وہ سوچ سوچ کر ہی پاگل ہو رہا تھا تو اس نے مسکان کو کمرے سے باہر آتے دیکھا تو اسے اپنی ساتھ کھینچ کر کمرے میں لے آیا پر اب اس کے آنسو عمر کے دل پر گر رہے تھے۔۔۔
مسکان منہ پر ہاتھ رکھ کر روتی ہوئی اس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں بھاگ گئی وہ اس کے پیچھے بھاگا پر وہ اندر سے لاک لگا چکی تھی وہ پریشان ہوتا ہوا اپنے کمرے میں واپس چلا گیا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے اس نے مسکان کے ساتھ یہ کیسا رویہ اختیار کیا اس نے اپنے حواس کو بے قابو کیسے ہونے دیا وہ کیوں اتنا بے اختیار ہوگیا ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *