Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37
شاہ میر رک جاتے ویسے بھی ساری رات تو گزر ہی چکی ہے۔۔حماد نے شاہ میر سے کہا جو گھر جانے کیلئے تیار تھا ۔۔
آج ایک ضروری میٹنگ ہے وہ اٹینڈ کرنا ضروری ہے پھر کبھی سہی ابھی میں چلتا ہوں ویسے بھی تمہاری بہن ہے نا رکی ہوئی ۔۔وہ مسکرا کر بولا۔
ہاں چلو ٹھیک ہے اللہ حافظ۔۔ حماد نے اس سے گلے مل کر الوداع کیا ۔
بھائی آپ نے انھیں کہیں دیکھا ۔۔علشبہ نے سامنے سے آتے حماد سے پوچھا وہ کب سے شاہ میر کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔
ارے وہ ابھی باہر کی طرف نکلا ہے کہہ رہا تھا گھر جارہا ہے اور تم یہی رک رہی ہو ۔۔۔حماد نے شاہ میر کی کہی بات بتائی تو علشبہ کو اس کی بات سن کر دکھ ہوا یعنی وہ اس سے پوچھے بغیر اسے یہاں چھوڑ کر جارہا ہے۔۔
بھائی میں بھی چلتی ہون امی کو بتا دیجیے گا ۔۔
ارے پر تم تو؟؟
بھائی وفا گھر پر ہے ماما کو تنگ کرے گی وہ ۔۔وہ ادھوری بات بول کر وہاں سے بھاگ گئی۔تو پیچھے حماد مسکرا کر اندر چل دیا۔۔۔
رکیں ۔۔
علشبہ بھاگتی ہوئی شاہ میر تک آئی جو اب گاڑی چلانے ہی لگا تھا پر علشبہ کی آواز پر رک گیا اور اسے دیکھنے لگا جو اب ہانپتی ہوئی فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
آپ مجھے اس طرح کیسے چھوڑ کر جاسکتے ہیں کچھ سوچا ہے میرا کیا ہوگا ۔۔وہ اس کو دیکھتے ہوئے بے ربط جملے بولی ۔۔۔
میں نے تمہیں نہیں چھوڑا تم خود چاہتی ہو کہ میں تمہیں چھوڑ دوں۔۔شاہ میر سنجیدگی سے کہتے سامنے دیکھنے لگا تو علشبہ کو اپنے الفاظ پھر یاد آئے۔۔وہ میرا مطلب تھا وفا میرے بغیر نہیں رہ سکتی وہ ماما کو تنگ کرتی آپ مجھ سے ایک بار تو پوچھ ہی سکتے تھے.. اس نے اپنے آپ کو سنمبھال کر بتایا اور ساتھ میں شکوہ بھی کر گئی ۔۔۔
تم بھول رہی ہو تم مجھ سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتی اور نہ ہی کر رہی ہو تو کیسا شکوہ پھر اور پلیز اب کچھ نا بولنا مجھے ڈرائیو کرنے دو۔۔علشبہ جو پھر کچھ بولنا چاہتی تھی شاہ میر کی بات پر چپ کر گئی اور ساتھ آنکھوں میں نمی بھی آئی جسے اس نے واپس اندر دھکیل دیا اور اپنے ہونٹوں کو کاٹنے لگی ۔ اس کی بیچینی اب بڑھتی جارہی تھی شاہ میر کو وہ اب ناراض نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔
آ مل کر ڈھونڈ لیں کوئی وجہ ایک “ہو جانے کی “
“یوں بکھرے بکھرے نہ تم ۔۔اچھے لگتے ہو “نہ ہم
مسکان واشروم سے نکلی اور عمر کو نظر انداز کرتی نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی عمر بھی وضو کر کے آکر اس کے آگے جائے نماز بچھا کر نماز ادا کرنے لگا عمر نماز پڑھ چکا تھا پر مسکان نماز پڑھنے کے باوجود وہی بیٹھی رہی تو عمر کا صبر جواب دے گیا اس کے پاس آیا تو وہ آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
مسکان.. وہ وہی اس کے پاس بیٹھ کر اسے پکارنے لگا اور اسے اٹھا کر کھڑا کیا ۔۔
یار سوری عریشہ کی شرارت کی وجہ سے لیٹ ہوا اس طرح رو تو نہیں پلیز میری جان پر بنی ہوئی ہے اچھا بہھلے ڈانٹ لو پر بات تو کرو نا ۔۔
عمر نے انجانے میں کہہ کر مسکان کا دل دکھایا تھا پر اسے اس بات کا احساس ہی نہیں تھا تو دوسری طرف مسکان بھی اسے سبق سکھانا چاہتی تھی کہ آئیندہ وہ ایسا کچھ مزاق میں بھی نہ کہے اس لیے چپ تھی۔۔
چھوڑیں مجھے نیند آرہی ہے۔وہ اپنے بازوؤں پر سے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولی۔۔
خبردار جو میری اجازت کے بغیر تم یہاں سے ہلی بھی تو.. وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر برہمی سے بولا اور اسے اپنی اور کھینچ لیا جس پر وہ بے جان گڑیا کی طرح اس کے قریب آگئی اب اس کی آنکھیں جھلملائی تھیں پر اس نے اپنے آنسو بہنے سے روکے رکھا عمر دلچسپی سے اس کے میک اپ سے پاک شفاف چہرے کو دیکھنے لگا اور اس پر آنسوؤں کو روکتی اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کو دیکھ رہا تھا اچانک سے اس نے اس کی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے جس پر اس کی آنکھیں برس پڑیں عمر نے نرمی سے اس کے آنسوؤں کو اپنی انگلیوں کے پوروں پر چنا ۔۔۔
دور ہٹو تم بہت برے ہو پہلے اپنے کہے الفاظ سے تکلیف دیتے ہو پھر اپنے عمل سے مرہم لگانے کی کوشش کرتے ہو ۔۔۔
پر میں نے کیاں کیا… وہ کہتے کہتے رکا اسے اچانک اپنے کہے لفظ یاد آئے۔۔
عمر یہ کیا کر دیا تو نے ۔۔وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا اور مسکان کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔۔
“تُم میرا عشق بھی ہو میرا جُنون بھی
میری شاعری بھی ، میرے فنون بھی
میری روح ، سانسوں کا ، ربط بھی
میری رگوں میں دوڑتا ہوا خُون بھی
چاند، ستارہ بھی ، میرا پیارا بھی
تُم ہی ہو ، میرے دل کا سُکون بھی
تُم ہی چاہت کی منزل ، ابتدا، انتہا
جان و دل ہیں ، تمہارے ممنُون بھی
عشق عبادت بھی ہے ، ریاضت بھی
وفاعزت، خلوص،پیار کے ستون بھی
تم میرا عشق بھی ہو میرا جنون بھی”
وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامے کہہ رہا تھا اور وہ جو نظریں جھکائے رونے میں مگن تھی اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی اس کے کہے ہر لفظ میں چھپے جزبات کو وہ باخوبی محسوس کر رہی تھی ۔۔
سچ میں تم میری دنیا بن گئی ہو اس طرح چپ رہتی ہوئی بلکل اچھی نہیں لگتی ہو سوری آئیندہ ایسا کچھ نہیں کہونگا پکا.. وہ پہلے کی طرح ایک بار پھر اس کے کان پکڑتے ہوئے بولا۔۔۔
میرے نہیں اپنے پکڑو اور اٹھک بیٹھک بھی کرو چلو ۔۔وہ جو اس سے بات نا کرنے کی ٹھان چکی تھی اب پل میں پگھل گئی تھی اور اس سے دور ہوکر اپنے سینے پر ہاتھ باندھے بولی ۔۔۔
ہیں اٹھک بیٹھک بھی؟؟
ہاں جی شکر کریں آپ کو مرغا نہیں بنوا رہی تو جلدی کریں ٹائم نہیں ہے میرے پاس ۔۔وہ ایک ادا سے بولی تو عمر خوشی خوشی اٹھک بیٹھک کرنے لگا ۔۔۔
تجھ پہ نثار ہوتےہیں کس کس ادا سے ہم
بس بس ٹھیک ہے آگے ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیئے۔۔دو تین بار کرنے کے بعد ہی اس نے عمر کو روک دیا تھا اور اب انگلی اٹھا کر وارننگ والے انداز میں بول رہی تھی۔۔
اچھا بابا نہیں کروں گا اب ایسے بس۔۔
اچھا اتنی دیر سے دعا میں کیا مانگ رہی تھیں ہاں؟
کچھ مانگنے کی ضرورت ہی نہیں اللہ نے بن مانگے مجھے سب دے دیا بس اس کا شکر ادا کر رہی تھی.. میری زندگی میں اتنے چاہنے والے مخلص لوگ دیے جن کا شکر میں پوری زندگی بھی کرتی رہوں تو نہیں کر پاؤں گی ۔وہ اپنی ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
ہمم یہ تو ہے آخر یہ بندہ بھی تو آپ کے عشق میں پور پور ڈوب چکا ہے ۔۔اس نے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تو وہ ہنس دی۔۔
میری سزا تو ہوگئی پر اب تمہاری بھی تو سزا بنتی ہے ۔۔۔وہ اس کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
کیوں آپ نے اپنے شوہر کی نافرمانی نہیں کی اور چینج بھی کیا میں نے تو تمہیں صحیح سے دیکھا بھی نہیں تھا تھوڑی دیر اور نہیں رک سکتی تھی. وہ کہتے ہوئے اسے خفگی سے دیکھنے لگا۔۔
سوری وہ اپنے دونوں کان پکڑے معصومیت سے بولی تو عمر نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کے خوبصورت سے جڑاؤ دار سونے کے کنگن پہنا دیے ۔۔۔
یہ آپ کی رونمائی کا تحفہ وہ محبت سے اس کے ہاتھوں کا بوسا لیتے ہوئے بولا تو وہ شرما کر اس کے سینے سے لگ گئی آج وہ دونوں ایک ہوگئے تھے ان کی محبت نے انھیں سرخرو کیا تھا۔۔۔
شاہ نے گھر کے باہر گاڑی روک دی پر علشبہ اسی طرح بیٹھی رہی شاہ میر نے ہارن دے کر اسے اس کے خیالوں سے باہر نکالا۔۔
شاہ میر آگے آگے جارہا تھا جب علشبہ کی چیخ پر مڑا اور اس کی طرف دوڑ کر آیا وہ اپنا پیر پکڑے آنسو بہا رہی تھی۔۔
کیا ہوا؟
وہ پیر مڑ گیا۔اس نے روتے ہوئے کہا۔۔
دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی اور یہ کیا اتنی ہیلز کوئی پہنتا ہے پیر تو مڑنا ہی تھا شکر کرو ٹوٹا نہیں وہ اپنی ساری بھڑاس نکالتے ہوئے بولا جو سچ میں اپنے خیالوں میں گم چل رہی تھی اور پیر غلط رکھنے پر مڑ گیا۔۔
دکھاؤ یہاں اس نے اس کے پیر سے ہیلز اتاریں اور اسے کھڑا کیا پر اس سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا تو چلتی کیسے شاہ میر نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اندر کمرے کی طرف چل دیا.. علشبہ اپنا درد بھلائے اسے ہی دیکھ رہی تھی پر شاہ میر نے اس کی طرف ایک نظر نہیں دیکھا اور اسے بیڈ پر بٹھا کر اس کے پیر کا جائزہ لیا جس میں موچ آگئی تھی اور وہ سوجھ چکا تھا شاہ میر نے اس کے پیر کو ایڑھی سے پکڑ کر آگے پیچھے کو جھٹکا دیا جس پر علشبہ کے درد سے چیخ بلند ہونے سے پہلے ہی شاہ میر نے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا اور پھر آہستہ سے اس کے آنسو صاف کیے ۔۔۔
کچھ نہیں موچ آگئی تھی اب نکل گئی ہے تھوڑی دیر آرام کرو ٹھیک ہو جائے گا میں چلتا ہوں.. وہ اس کے پیر پر مرہم لگا کر کھڑے ہوکر کہتے ہی آگے بڑھ گیا ۔۔
علشبہ سے اس کی بے رخی برداشت نہیں ہورہی تھی اسے لگا یہی وہ پل ہے جس میں وہ اسے روک سکتی ہے وہ اپنا درد بھلائے اس کے پیچھے بھاگی اور اس کے پشت سے گلے لگ گئی تو شاہ میر کے قدم وہی ٹہر گئے۔۔۔
میں نے بہت غلط کہا تھا بہت غلط کیا میری نادانی سمجھ کر مجھے معاف کردیں مجھے آپ کی یہ بے رخی مار ڈالے گی میں نہیں رہ سکتی آپ کے بغیر… وہ روتے کہہ رہی تھی شاہ میر نے آہستہ سے اپنے سینے پر رکھے اس کے ہاتھ ہٹائے اور پیچھے اسے دیکھے بغیر کمرے سے نکلتے چلا گیا تو علشبہ وہی نیچے بیٹھ کر رودی ۔۔۔۔
عشق کی نگری میں معافی نہیں کسی کو بھی
عشق عمر نہیں دیکھتا بس اُجاڑ دیتا ہے
______
ماما کتنی دیر لگنی ہے آپ لوگوں کو؟ شاہ میر وفا کو لیے علشبہ کے کمرے میں آیا جہاں ثمینہ بیگم اور علشبہ تھیں۔۔
ثمینہ بیگم نے ولیمے کی تقریب کیلئے زبردستی آج علشبہ کو ساڑھی پہنوائی تھی جس کا بس نہیں چل رہا تھا ابھی اتار کر پھینک دے اور اب شاہ میر کا گھورنا اسے نروس کیے دے رہا تھا وہ ویسے ہی بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنمبھال پائی تھی اور اب پھر شاہ میر اس کے سامنے تھا وہ اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل میں دیتی پھر کھول دیتی اس کا دل آج کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا ۔۔
ثمینہ بیگم علشبہ کے گلے میں پہننے کیلئے جیولری دیکھ رہی تھیں پر انھیں اس کیلئے کچھ پسند نہیں آرہا تھا ۔۔۔
ہاں بس پانچ منٹ لگیں گے شاہ۔ وہ اسی طرح اپنے کام میں لگی ہوئی بولیں ۔۔۔تو وہ وفا کو لیے وہاں سے چلا گیا پر نظریں علشبہ پر سے ہٹ نہیں رہی تھیں جس نے ریڈ کلر کی ساڑھی پر آج خود ہی لائٹ سا میک اپ کیا تھا اور ریڈ کلر کی خوبصورت سی جھمکیاں جس پر نیچے کی تین لائنز میں ترتیب سے گھنگروں لٹکے ہوئے تھے جو اس کے ہلنے پر بج کر شاہ میر کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہے تھے.. شاہ میر نے بھر پور اس کا تنقیدی جائزہ لیا تھا اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جو اس کے کل کافی دیر تک رونے کی چغلی کھانے کا پتا دے رہی تھیں علشبہ نے میک اپ سے اپنی آنکھوں کے سیٹ کیا تھا پر شاہ میر نے پل میں بھانپ لیا تھا۔۔
علشبہ یہ دیکھو یہ کیسی ہے ؟؟ ہاں ماما صحیح ہے دیے دیں میں پہن لوں.. وہ جھنجھلا کر بولی ۔۔
ماما یہ لیں۔ شاہ میر نے ان کی طرف ایک باکس دیا اور سامنے کھڑی علشبہ کو دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
شاہ میر نے بھی بلیک کلر کا تھری پیس سوٹ پہنا تھا اور ساتھ ریڈ ٹائی تھی.. وہ بھی اپنی بھرپور پرسنالٹی کے ساتھ علشبہ کو دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا اور اس پر ایک سحر سا سوار کر رہا تھا جس کے اثر سے وہ کبھی نہیں نکل پاتی ۔۔۔
آپ کے بغیر یہ۔۔۔۔۔۔۔دھڑکنا ہی نہیں چاہتا
یقین مانیے کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔پاگل سا ہے میرا دل۔
ارے واہ شاہ کتنی خوبصورت چین ہے.. ثمینہ بیگم کی آواز پر دونوں چونکے جو باکس میں سے چین نکال کر خوشی خوشی دیکھ رہی تھین انھیں بہت پسند آئی تھی ۔۔
لو علشبہ پہن لو دیکھو کتنی خوبصورت ہے بلکہ شاہ یہ تم خود ہی پہنا دو اپنی بیوی کو.. وہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے بولیں تو علشبہ جھینپ کر اپنا رخ شیشے کی طرف موڑ گئی ۔۔
نہیں ماما آپ خود پہنا دیں آپ کی بہو پھینکنا پسند کر لے پر شاید میرے ہاتھ سے نا پہنے.. وہ طنز کرتے ہوئے بولا تو علشبہ کا دل کیا وہ یہاں سے کہیں چھپ جائے اسے تو لگا تھا وہ اسے معاف کردے گا پر یہاں تو وہ اسے بات بات پر طعنے دے رہا تھا اور علشبہ کے دل کو خون کے آنسوں رلانے پر تلا ہوا تھا۔۔
یہ دل ہی تھا جو سہہ گیا وہ بات ایسی کہہ گیا۔۔
کہنے کو پھر کیا رہ گیا اشکوں کا دریاں بہہ گیا۔۔
علشبہ نے بمشکل اپنے آپ کو سنبھالا اور بالوں کا جوڑا کر لیا۔۔
ثمینہ بیگم نے دونوں کو دیکھ کر چپ رہنا بہتر سمجھا اور علشبہ کے گلے میں شاہ میر کی دی ہوئی گولڈ کی چین جس پر مائے لؤ علشبہ لکھا ہوا تھا پہنا دی پر علشبہ نے ایک نظر اس چین پر نہیں ڈالی اور ان لوگوں سے انجان بنی ڈریسنگ ٹیبل پر سامان ٹھیک سے رکھنے لگی ۔۔۔
ماما میں باہر جارہا ہوں آپ لوگ بھی آجائیں.. وہ کہتے کے ساتھ ہی مڑا پر پھر کچھ سوچ کر واپس مڑا اور ثمینہ بیگم کو مخاطب کیا پر نظریں علشبہ پر تھیں۔۔ اور ہاں بال کھلوا دیجئیے گا… وہ کہتے کے ساتھ ہی وہاں سے چلا گیا تو ثمینہ بیگم علشبہ کو دیکھ کر ہنس دیں اور علشبہ کا تو ان کے سامنے حیرت اور شرم سے چہرہ سرخ ہوگیا۔۔
“کبھی ساتھ بیٹھو تو بتائیں درد کیا ہے
اب یوں دور سے پوچھو گے تو خیریت ہی بتائیں گے “
ہال کی انٹری پر سب سے پہلے حماد لائبہ کا استقبال ہوا تھا. ہال کی ساری لائٹس آف تھیں صرف کیمرے کی لائٹس نے ان دونوں کو فوکس کیا ہوا تھا. حماد نے لائبہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا اور لائبہ حماد کے سنگ سہج سہج کر قدم اٹھاتی اسٹیج کی طرف طرف بڑھ رہی تھی سب ان کی جوڑی کو سراہ رہے تھے ۔۔
لائبہ نے ٹی پنک کلر کی فل فال نگینوں سے بھری ہوئی میکسی پہنی ہوئی تھی جو حماد نے خود لے جاکر اسے اپنی پسند کی دلائی تھی جس کے دوپٹے پر چوڑی سی گولڈن کلر کی لیس لگی ہوئی تھی برائیڈل لک کے ساتھ اسکے لمبے گھنے براؤن بالوں کا آگے سے ہلکا سا پف بنا کر اس کے بالوں کو کلر کر کے ایک سائیڈ کیا گیا تھا اور دوسری سائیڈ خوبصورت ساپھول لگایا تھا اور دو لمبی لمبی لٹیں نکالی تھیں جو اس کے چہرے پر جھول رہی تھیں اور دوسرے سائیڈ دوپٹے کو آدھا سر پر اور آدھا آگے کو سیٹ کیا تھا.. وائٹ کلر کی جیولری پہنے وہ حماد کے ساتھ چلتی اسے تڑپا رہی تھی ۔۔ویسے ہی اس بیچارے نے اتنا انتظار کیا تھا
پر اب سجی سجائی لائبہ کو دیکھ کر وہ بہک رہا تھا پر پھر بھی اپنے جذبات پر بند باندھے اس کا ہاتھ مظبوطی سے تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔
جہاں حماد نے اسے اپنی پسند کا ڈریس دلایا تھا وہیں لائبہ نے اس کیلئے وائٹ کلر کا شیروانی کرتا اور بلیک کلر کی واسکٹ پسند کی تھی وہ جانتی تھی حماد تھری پیس سوٹ وغیرہ سے گھبراتا ہے اسی لیے اس کیلئے یہ پسند کیا تھا.. دونوں ایک ساتھ لاجواب لگ رہے تھے دونوں کا فوراً فوٹو شوٹ اور ویڈیو وغیرہ بننے شروع ہوگئے تھے اب باری تھی دوسرے ولیمے کے جوڑے کی جن کی انٹری بھی اسی انداز میں ہونی تھی۔۔
مسکان نے بھی لائبہ کی طرح میکسی پہنی ہوئی تھی پر کلر تھیم تھوڑی ڈفرنٹ تھی مسکان کی میکسی پر بھی اسی طرح کا کام کیا ہوا تھا پر گولڈن کلر کا اور میکسی کا کلر فان تھا اور دوپٹے پر پرپل کام والا بارڈر تھا.. اس کا بھی برائیڈل میکپ کے طرح وہی لک دیا تھا اور جیولری کپڑوں کی میچنگ تھی۔عمر نے بھی تھری پیس سوٹ پہنا تھا پر اس کی اندر کی شرٹ وائٹ تھی اور ٹائی پرپل کلر کی تھی.. وہ دونوں بھی آہستہ آہستہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے چل رہے تھے مسکان کے چہرے پر شرمیلی سی مسکان تھی بلکل اس کے نام کی طرح وہ ایک ہی دن میں عمر کی محبت میں اور نکھر گئی تھی.. حیا کے رنگ اس کے چہرے پر پھوٹ رہے تھے عمر کے چہرے پر سے بھی مسکان جدا نہیں ہورہی تھی اس کی زندگی میں آنے والی مسکان نے اس کی زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں بھر دی تھی آج ان کے باطن سے زیادہ خوبصورت ان کے چہرے پر کھلتے رنگ پیارے لگ رہے تھے.. مسکان کو اتنا خوش دیکھ کر اس کے گھر والے سب مطمئن تھے ثمینہ بیگم نے بھی اپنی بیٹی کو دیکھ کر دعا دی تھی اور اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کیا۔۔۔
جاری ہے
