Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32
رامین پانی لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی تو سامنے سے شاہ میر آتا دکھائی دیا تھکا تھکا سا ۔۔
بھابھی سوری میں جلدی نہیں آ پایا ۔۔۔شاہ میر نے رامین کو دیکھ کر کہا۔۔
کوئی بات نہیں شاہ میر مہک ویسے بھی آج نہیں آئی کل آئے گی تم کل اس سے بات کر لینا ۔۔۔
اوکے بھابھی۔۔
ہاں تم اب آرام کرو کافی تھک گئے ہو ۔وہ مسکرا کر ہدایت دیتی چلی گئی۔۔
ارے پر اس سے پہلے اسد کا مسئلہ۔وہ یاد آنے پر گھڑی میں ٹائم دیکھتا علشبہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔
شاہ میر اندر آیا تو علشبہ نماز پڑھ رہی تھی آج وفا کی وجہ سے اسکی عشاء پڑھنے میں دیر ہوگئی تھی۔۔۔
شاہ میر اپنا کوٹ اتار کر بیڈ پر رکھتا خود بھی بیٹھ گیا تھا اور علشبہ کو دیکھنے لگا جو سب سے بے نیاز نماز پڑھنے میں مگن تھی۔۔شاہ میر کو اس کے دوپٹے کے ہالے میں چہرہ بہت ہی معصوم اور پرنور لگ رہا تھا. وہ اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔
علشبہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو شاہ میر کو بیٹھے دیکھا ۔۔۔
آپ کب آئے ؟؟وہ اس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولی۔۔تو شاہ میر اس کی آواز پر چونکا اور علشبہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے برابر میں بٹھا لیا ۔۔۔۔
علشبہ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ وہ سنجیدگی سے بولا تو علشبہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
ویسے تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہے ؟وہ اب بات کو گھماتے ہوئے بولا تو علشبہ کڑے تیور لیے اسے گھورنے لگی۔۔۔
آرے بھئی اپنے لیے تھوڑی اسد کیلئے۔وہ اس کے گھورنے پر جلدی سے بولا۔۔۔
اسد کیلئے؟؟وہ اس کی بات سن کر ریلیکس ہو کر بولی (ورنہ آج وہ بھی عریشہ بننے میں دیر نہیں لگاتی اور شاہ میر کا سر پھاڑ دیتی
ہاں اب دیکھو مسکان چھوٹی ہے اس کی شادی ہورہی ہے تو اسد کی کیوں نہیں ۔۔۔
ہاں کہہ تو صحیح رہے ہیں آئیڈیا اچھا ہے میری بھی دیورانی آجائے گی۔وہ خوش ہوتے ہوئے بولی۔۔
پر یہ بات آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں اسد سے پوچھے کیا پتا اسے کوئی پسند ہو ۔۔
اسد سے پوچھ کر ہی تو تمہارے پاس آیا ہوں صرف تم ہی تو ہو جو کچھ کر سکتی ہو۔وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
یہ کیا آپ کب سے بات کو گھما رہے ہیں سیدھے سیدھے بتائیں کیا بات ہے اور میں کیا کرسکتی ہوں ۔۔وہ اب جھنجھلا کر بولی۔۔
ایک تو یہ اسد نے مجھے اچھا پھنسایا ہے۔۔وہ منہ میں بڑابڑاتے ہوئے بولا۔۔۔
کیوں نا ہم اسد کی شادی عریشہ سے کر دیں.. وہ علشبہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔جو حیران نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔
عریشہ میری بہن ؟؟وہ کھڑے ہوتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔۔
ہاں بھئی تمہاری بہن ہی۔وہ بھی اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔۔۔
پہلے یہ بتائیں آپ کے دماغ میں یہ بات کیسے آئی ۔وہ تفتیشی انداز میں بولی ۔۔۔
یار دیکھو وہ ۔وہ اس کے ہاتھ تھامتے اپنی طرف رخ کرتے ہوئے بولا۔۔
اسد پسند کرتا ہے عریشہ کو اور وہ چاہتا ہے ہم لوگ اسکا رشتہ لے کر جائیں تمہارے گھر۔کیوں تمہیں پسند نہیں؟؟ وہ اس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں میں تو بہت خوش ہوں اگر عریشہ بھی یہاں آجاتی ہے میری دیورانی بن کر پر میں اسد سے بہت ناراض ہوں ویسے کہاں وہ ہر بے تکی بات مجھ سے شیئر کرتا ہے اور آج اتنی اہم بات مجھے نہیں بتائی۔وہ ناراض ہوتے ہوئے بولی۔۔۔
اوہ تو یہ بات ہے ہاں ٹھیک کہا خوب ڈانٹنا اسے اور ناراض بھی ہونا پر اس سے پہلے میری مدد کرو اور میرے ساتھ ماما ڈیڈ سے بات کرو چل کر ۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے کمرے سے لے جاتے ہوئے بولا۔۔۔
آرے پر اس ٹائم وہ سو نہ گئے ہوں۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے بولی۔
نہیں سوئے ہونگے تم چلو… وہ اسے اپنے ساتھ لیے جاوید صاحب کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔
ارے شاہ میر علشبہ اتنی رات گئے کیا ہوا۔ ثمینہ بیگم نے دونوں کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔۔
وہ ماما ڈیڈ آپ لوگوں سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔شاہ میر بیڈ پر بیٹھے جاوید صاحب کو دیکھ کر بولا۔
ہاں بولو کیا بات ہے ؟
ارے پریشانی کی کوئی بات نہیں بس اسد کی بات کرنی تھی آپ سے ۔۔
ہاں بولو کیا ہوا اس نالائق کو.. جاوید صاحب تھوڑا ریلیکس ہوتے ہوئے بولے ورنہ اتنی رات گئے دونوں کا آنا انھیں کھٹکا گیا تھا۔۔
وہ ڈیڈ اسد عریشہ کو پسند کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے ہم اس کے رشتے کی بات کریں سفیان انکل سے… شاہ جاوید صاحب کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا۔تو شاہ میر کی بات پر جہاں ثمینہ بیگم خوش ہوئیں وہی جاوید صاحب اسے گھورنے لگے۔۔
کیا ہوا ڈیڈ ؟
شاہ میر تم جانتے ہو وہ ابھی پڑھ رہا ہے اور اس کا بچپنا ذمہ داری نام کی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے اس کے اندر اور تم چاہتے ہو میں اس کی شادی کردوں۔
نہیں ڈیڈ میں نے یہ کب کہا پر منگنی تو کر ہی سکتے ہیں اور ویسے بھی پڑھائی کے بعد ہی کریں گے شادی اور میں سمجھاؤں گا اسے وہ سمجھ جائے گا ۔۔۔شاہ میر ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔۔
علشبہ بیٹا تمہیں بھی اس نالائق کیلئے اپنی بہن کا رشتہ ٹھیک لگا ۔وہ اب علشبہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولے ۔۔
ہاں ڈیڈ مجھے تو بہت خوشی ہوگی اسد عریشہ کیلئے بلکل پرفیکٹ ہے ہاں اس میں تھوڑی شوخی ہے پر وہ اپنے سے جڑے رشتوں کو خوب نبھانا جانتا ہے ۔۔علشبہ بھی اسد کے حق میں بولی تو جاوید صاحب چپ ہوگئے ۔۔
کیا ہوگیا آپ نے تو میرے بچے کو بلکل گیا گزرا سمجھ لیا ہے اور یہ کیا کب سے نالائق نالائق بول رہے ہیں ابھی اس پر ذمہ داری نہیں ہے جیسے ہی پڑے گی ٹھیک ہو جائے گا اور مجھے تو یہ رشتہ منظور ہے ہم کل ہی جائیں گے ان کے گھر مجھ سے تو اب بلکل صبر نہیں ہورہا ۔۔ثمینہ بیگم پہلے ناراضگی سے پھر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولیں۔۔۔
ہمم چلیں ٹھیک ہے پھر آپ سب کو منظور ہے تو کل چلتے ہیں پر اس نالائق کو ابھی کوئی نہیں بتائے گا بہت تنگ کیا ہے اس نے اب ہماری باری۔وہ مسکراتے ہوئے بولے تو سب ہنس دیے۔۔
بھائی ۔۔حماد جو اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا عریشہ کے پکارنے پر اس کی طرف آیا۔۔۔
کیا بھائی آپ کو کچھ احساس بھی ہے ۔۔
کس بات کا بھئ؟؟ حماد عریشہ کی بات پر حیرت سے پوچھنے لگا۔۔۔
ارے آپ کی بھی شادی ہے اور ایک آپ ہیں کہ صرف کام کام… وہ کمر پر ہاتھ رکھے حماد کی کلاس لینے کو تیار تھی۔۔۔
بھئی بھابھی کو لے کر جائیں شاپنگ وغیرہ کرائیں کہیں گھمائیں پھرائیں انھیں پر ایک آپ ہیں بورنگ… وہ حماد کو آئیڈیا دیتے ہوئے منہ بنا کر بولی تو حماد ہنس دیا۔۔۔
آپ ہنس رہے ہیں۔وہ خفگی سے بولی۔۔
ارے بابا نہیں چلو اچھا بلاؤ اپنی بھابھی کو چلتے ہیں لے کر تم لوگوں کو شاپنگ پر ۔۔وہ اس کا گال کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔
کیا بھائی۔۔ وہ جھنجھلا کر اپنے لال ہوتے گال کو سہلانے لگی جو حماد کے کھینچنے پر ہوا تھا۔۔
اچھا بابا سوری ۔وہ اپنے کان پکڑتے ہوئے بولا تو عریشہ مسکرا دی ۔۔
پر بھائی مجھے کباب میں ہڈی نہیں بننا آپ دونوں ہی جائیں ۔وہ شرارت سے ہنستے ہوئے بولی۔۔
ارے پر تم بھی چلو پھر نہ کہنا کہ بھائی نے آفر نہیں کی ۔وہ اس کی شرارت کو سمجھتے وارن کرتے ہوئے بولا ۔
ہاں بھائی لے جائیں اسے بھی آخر اس کی بھی تو منگنی ہے عمر نے آکر عریشہ کے سر پر بم پھوڑتے ہوئے کہا۔۔
ارے ایسے کیا دیکھ رہی ہو تمہارا رشتہ آیا تھا ابو نے اور بھائی نے ہاں کر دی پتا ہے کون ہے وہ لڑکا تم اچھے سے جانتی ہو اسے۔۔عمر اس کے گھورنے پر اسے گھما پھرا کر بتانے لگا۔۔
ارے وہ یاد ہے پانچ سال پہلے جو ہمارے پڑوس میں رہتے تھے رشید انکل ان کا بیٹا جسے تم چمپو کہتی تھی جو صرف اپنے گھر کا آدھے سے زیادہ تیل اپنے سر پر مل لیتا تھا وہی اسی لنگور کا رشتا آیا تھا اور ابو نے ہاں کردی اب تمہاری منگنی ہے میری شادی والے دن۔وہ اس کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا پر شرارت آنکھوں میں ناچ رہی تھی۔۔
آرے ایسے کیا گھور رہی ہو بھائی سے پوچھ لو ورنہ۔۔وہ حماد کو آنکھ مارتے ہوئے بولا۔۔
بھائی یہ۔۔اس سے کچھ بولا ہی نہیں جارہا تھا وہ روہانسی لہجے میں حماد کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
ہاں عریشہ یہ سچ ہے ابو نے تمہارا رشتہ پکا کر دیا ہیں پر لڑکا۔۔۔۔حماد اسے سب بتاتا اس سے پہلے ہی عمر نے اسے روک دیا۔۔
پر اگر تمہیں ابو اور بھائی کی پسند پر بھروسہ نہیں تو بتادو یا پھر کسی اور کو… عمر جان بوجھ کر عریشہ کو تنگ کر رہا تھا اور ایموشنلی بلیک میل بھی۔۔
عمر کے کہنے پر ایک دم سے عریشہ کی آنکھوں کے آگے اسد کا چہرہ آیا۔پر پھر اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولی۔۔
مجھے ابو اور بھائی پر پورا بھروسہ ہے وہ جو بھی کریں گے میرے حق میں وہی بہتر ہوگا مجھے منظور ہے. وہ جلدی سے کہہ کر بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔۔
عمررررر یہ کیاں کیا تم نے کیوں جھوٹ بولا اس سے.. حماد غصے سے اس کی طرف پلٹتے ہوئے بولا وہ عریشہ کی آواز میں نمی اور آنکھوں میں اداسی دیکھ چکا تھا ۔۔
بھائی ریلیکس بس تھوڑا تنگ کیا ہے اسے اور آپ کو پتا ہے صرف عریشہ ہی نہیں اسد کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے.. وہ ہنستے ہوئے بتانے لگا۔۔
(جاوید صاحب ثمینہ بیگم اور علشبہ کو لیکر عریشہ کا رشتہ لائے تھے جس پر پہلے سب حیرت سے پھر خوشی سے راضی ہوگئے تھے کہ دونوں بہنیں ایک ہی گھر میں رہیں گی اور انھیں اسد بھی پسند تھا پر حماد کی شرط پر کہ شادی عریشہ کی پڑھائی کے بعد ہی ہوگی جس پر جاوید صاحب نے سمجھ کر ہاں کردی تھی پر منگنی عمر مسکان کی شادی والے دن ہی رکھ دی تھی جس پر سب خوشی خوشی راضی ہوگئے تھے)
بھائی مجھے مسکان نے بتایا کہ جب وہ لوگ یہاں سے اسد عریشہ کا رشتہ پکا کر کے گئے تو جاوید انکل نے اسد کو تنگ کرنے کیلئے اس سے جھوٹ کہا کہ ہماری عریشہ کا کہیں اور رشتہ ہوگیا ہے اور مسکان بتا رہی تھی اس کا منہ بھی دیکھنے لائق تھا بھائی… اسد عریشہ کو پسند کرتا ہیں ۔۔وہ حماد کو سب بتاتے ہوئے بولا۔۔
پر عمررررر یہ سب ۔۔وہ پریشان ہوتے ہوئے بولنے لگا ۔
ارے بھائی کچھ نہیں ہوگا اور ویسے بھی جب منگنی والے دن دونوں کو پتا چلے گا تو دونوں بہت خوش ہونگے اسد کا تو مجھے پتا چل ہی گیا تھا پر اب کسی اور کا پوچھنے پر عریشہ کی آنکھوں میں وہ چمک دیکھ لی وہ بھی پسند کرتی ہے اسد کو اور بعد میں نمی بھی آپ فکر نہ کریں اسے میں سنمبھال لوں گا.. وہ حماد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔
(عمر بہت خوش تھا اسے بھی اسد پسند تھا عریشہ کیلئے پر اسے تنگ کرنا بھی تو اس کا فرض تھا
کیا ہوا یہ اتنا کیوں رو رہی ہے؟؟ شاہ میر نے علشبہ سے پوچھا جو اس کی کمر کو سہلاتے ہوئے چپ کرانے میں ہلکان ہورہی تھی ۔۔
پتا نہیں بس رونا ڈال رکھا ہت پکڑیں اب آپ ۔۔وہ روہانسی لہجے میں بول کر وفا کو شاہ میر کو پکڑا کر خود بیٹھ گئی۔
کیا ہوا پاپا کی جان کو.. وہ روتی ہوئی وفا کو ٹہلتے ہوئے تھپکنے لگا تو وہ تھوڑی دیر میں ہی نیند کی وادی میں چلی گئی تو شاہ میر نے آہستہ سے اسے بیڈ پر لٹا دیا.. علشبہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی دو گھنٹوں سے وہ اسے چپ کرانے میں ہلکان ہورہی تھی اور شاہ میر کے پاس جاتے ہی چپ کر گئی ۔
شاہ میر اب علشبہ کے پاس آکر بیٹھا تھا اور اس کا ہاتھ تھاما تھا پر اس نے غصے میں جھٹک دیا تو شاہ میر نے پھر سے پکڑ لیا پھر وہ اسے خفگی سے دیکھنے لگی۔۔
کیا ہوا علشبہ؟؟
کچھ نہیں۔آپ اتنی جلدی آفس سے کیسے آگئے؟وہ بات کا رخ بدلتے ہوئے بولی۔۔
ارے لنچ کرنے کیلئے آیا تھا سوچا اپنی پیاری سی بیوی کے ساتھ لنچ کیا جائے۔ وہ علشبہ کی گردن پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے قریب ہوکر بولا تو علشبہ اس کی حرکت دیکھ گھبرا گئی اور اس کے ہاتھ ہٹانے لگی پر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔
میررر… وہ اس کو دیکھ کر جھنجھلا کر بولی۔
کیا کہا تم نے میر ۔آج سے پہلے مجھے اپنا نام اتنا خوبصورت کبھی نہیں لگا جتنا تمہارے منہ سے سن کر لگا ۔۔وہ بڑی پیاری نظروں سے دیکھتا اسے کہہ رہا تھا اور اس پر جھکنے لگا پر علشبہ نے اسے جھٹکے سے اپنے سے دور کیا اور خود بھی کھڑی ہوگئی اب وہ شاہ میر کی طرف دیکھنے سے کترا رہی تھی اور منہ موڑ کر کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔
شاہ میر نے کھڑے ہو کر اس کا رخ اپنی طرف کیا اور اس کے کیچر میں مقید بالوں کو کھول دیا۔۔جس پر وہ حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
جاؤ جلدی سے چینج کر کے آؤ ہم آج لنچ باہر کریں گے. وہ اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تو وہ وفا کو دیکھنے لگی ۔
میں ماما کو بول دونگا تم جاؤ جلدی ورنہ میرا ارادہ بدل بھی سکتا ہے.. وہ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے لگانے لگا ۔۔علشبہ اس کی بات پر سرخ پڑتی اپنا ہاتھ کھینچ کر وہاں سے واشروم میں بھاگ گئی تو شاہ میر اس کی حرکت پر قہقہہ لگانے لگا۔۔۔
(اسد کا سوچ سوچ کر سر پھٹ رہا تھا کہ عریشہ کسی اور کے ساتھ وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا پر سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے تبھی وہ علشبہ کے کمرے کی طرف بڑھا پر روم میں کوئی بھی نہیں تھا اسے سامنے بیڈ پر پڑا علشبہ کا موبائل نظر آیا اسد نے جلدی سے جاکر اس میں سے عریشہ کا نمبر نوٹ کیا اور اپنے کمرے میں آگیا اور عریشہ کو کال کرنے لگا پر دوسری طرف موبائل آف تھا اسد غصے سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا اسے اپنی بے بسی پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا)
عریشہ بیڈ پر بیٹھی اپنا سر گھٹنوں پر ٹکائے کسی سوچ میں گم تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیوں اسے برا لگ رہا ہے. وہ پہلے سے ہی جانتی تھی کہ اس کی زندگی کا فیصلہ اس کے بڑوں نے کرنا ہے پھر کیوں اسے ان کا لایا ہوا رشتہ برا لگ رہا ہے کیوں اسے اپنی منگنی کا سن کر دکھ ہورہا ہے کیوں اس کا دل چاہ رہا ہے وہ یہاں سے سب سے کہیں چھپ جائے وہ جب بھی اپنی آنکھیں بند کرتی اسے اسد کا چہرہ نظر آتا وہ اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھی وہ اپنا ماؤف ہوتا سر پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی تبھی لائبہ اندر آئی۔۔
کیا ہوا عریشہ؟ وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے پیار سے پوچھنے لگی۔تو عریشہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔۔
کچھ نہیں بھابھی۔وہ نظریں چراتے ہوئے بولی۔۔
تو پھر یہ آنکھیں کیوں اتنی سرخ ہوری ہیں ۔وہ اس کا اداس چہرہ اور آنکھوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
وہ بس سر میں درد ہورہا ہے۔
اوہ تم لیٹ جاؤ. میں تمھارے لیے چائے اور میڈیسن لاتی ہوں.. وہ پریشان ہوتی اس کے پاس سے کھڑے ہوکر بولی تو عریشہ بھی چپ چاپ لیٹ گئی وہ ویسے ہی کسی سے بات کرنا نہیں چاہتی تھی بڑی مشکل سے تو اس نے سب کو دکھانے کیلئے ان کے ساتھ کھانا کھایا تھا وہ کسی کو اپنی کیفیت نہیں دکھانا چاہتی تھی۔۔۔
علشبہ نے بلیک کلر کی فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ پہنا تھا اور ساتھ ہی چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈ کے ٹاپس اور ہلکا سا میک اپ کیے وہ آئینے کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی بال کھلے چھوڑے یا باندھے تبھی اسے شاہ میر کا خیال آیا جسے اس کے کھلے بال پسند تھے.. اس نے مسکرا کر بالوں کو سیٹ کیا اور کھلے ہی چھوڑ دیا اب اسے بے صبری سے شاہ میر کا انتظار تھا۔۔۔
(رات کو جلدی آؤنگا تم میرا انتظار کرنا۔۔
شاہ میر نے گاڑی گھر کے باہر روکی اور علشبہ کا ہاتھ تھام کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کی جس پر وہ شرما کر جھٹ سے گاڑی سے نکل کر گھر کی طرف بھاگی وہ دونوں لنچ کر کے واپس آئے تھے شاہ میر کی اتنی توجہ اور محبت پر علشبہ اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی)
ہارن کی آواز پر علشبہ چونکی اور اپنے خیالوں سے واپس آئی شاہ میر آچکا تھا وہ جلدی سے باہر جانے لگی پر سوتی ہوئی وفا بھی ہارن کی آواز پر رونے لگی جس پر وہ اسے تھپکنے لگی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ پھر سے سوگئی.. علشبہ وفا کے سونے پر باہر کی طرف بڑھ گئی پر وہاں کا نظارہ دیکھ کر اس کو اپنے پیروں تلے زمین نکلتی محسوس ہوئی وہ ان دونوں نفوس کو دیکھ رہی تھی جو گلے لگے کھڑے تھے۔
جاری ہے
