Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Last updated: 5 July 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari

سب کی نظریں آپریشن تھیٹر کی طرف ہوتی ہیں جہاں اندر کمرے میں پڑا وجود زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہوتا ہے.
تبھی کمرے سے ڈاکٹر باہر آتی ہیں سب پریشانی میں آگے بڑھتے ہیں.
ڈاکٹر اب کیسی ہے ہماری اس سے آگے ان سے کچھ بولا نہیں جاتا الفاظ جیسے زبان ہے ہی دم توڑ گئے تھے۔۔۔۔
ڈاکٹر سمجھتے ہوئے !
ڈاکٹر: ان کی حالت بہت خراب ہیں آپ لوگ دعا کرے پیشنٹ کے شوہر کون ہیں؟ دیکھیں انھیں جلدی بلائے ہمارے پاس بلکل ٹائم نہیں ہے ہمیں ان کے سائین لینے ہیں.
پاس کھڑے شخص کا دل زلزلوں کی زد میں آتا ہے کہ اندر جو شخص ہے وہ اس کی زندگی ہے اگر اسے کچھ ہوگیا تو وہ بھی مر جاۓ گا آخر اسی کی وجہ سے تو وہ اس حالت میں تھی. وہ اپنے آپ سے جنگ لڑتا ہے کے اس نے اپنی زندگی اپنے ہی ہاتھوں ختم کر لی،، اس کے کان میں ڈاکٹر کے الفاظ گھومتے ہیں کہ دعا کریں.
🌹🌹🌹
یوں ہی تو نہیں جلتا زمانہ ہم سے
ہم انداز ہی زمانے سے الگ رکھتے ہیں
معمول سے زیادہ خاموشی تھی. سب اسٹوڈنٹس پیپرز دینے میں مصروف تھے۔ اب آہستہ آہستہ سب پیپرز دے کے نکل رہے تھے۔
ارے یار انس یہ شاہ کہاں رہ گیا ہے. ھمارے ساتھ ہی تو تھا۔
ارے ہاں اسے سر نے روک لیا. سمیر نے کہا.
انس: او اچھا. پتا نہیں کیا باتیں ہورہی ہونگی.
سمیر: ارے یار کچھ نہیں سر نے تعریف کرنے کے لیے روکا ہوگا. تمھیں پتا تو ہے سب پروفیسرز کا لاڈلا ہے.
انس نے پر سوچ انداز میں سر ہلایا. ہم ٹھیک کہ رہے ہو.
شاہ میر سمیر بچپن کے دوست ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے اچھے برے وقت میں ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں اور انس سے دوستی ان کی یونی میں ہوئی تھی. اب وہ تینوں ہر وقت ساتھ نظر آتے ہیں.
اور وہ دیکھو انس ہم یہاں اس کا انتظار کر رہے ہیں اور ان جناب کو دیکھو کتنے مزے سے آرہے ہیں.
اور پھر آنس نے سامنے دیکھا تو سامنے سے پر وقار چال چلتا وہ سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہوے نظر آیا جبکہ خود بڑے مصروف انداز میں موبائل میں گیم کھیلنے میں مصروف تھے.
انس: سمیر یار دیکھ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا ہے اسے تو کسی آرمی میں ہونا چاہیے تھا پر یہ صاحب ہے کہ فرق ہی نہیں پڑتا.
سمیر نے دل سے ماشاءاللہ کہا جو بلیک شرٹ اور جینز میں آنکھوں پر سن گلاسس لگائے انھی کی طرف آرہا تھا.
🌹🌹🌹
ہیلو،جی آپ کو کل تک مال دے دیا جائے گا. نہیں! نہیں! آپ فکر نہیں کریں کل پہنچ جائے گا.
حماد جو کسی سے کال پہ بات کررہا تھا. کال کٹ کر کے جیسے پلٹا سامنے عریشہ کھڑی ہوئی تھی جو بڑی ہی پیاری نظروں سے اپنے بڑے بھائی حماد کو دیکھ رہی ہوتی ہے. حماد کو کچھ گڑبڑ لگتی ہے.
حماد: کیا کام ہے؟ عریشہ بولو.
عریشہ: میرے پیارے بھائی! آپ کو کیسے پتا مجھے کچھ کام ھے؟
حماد جو کھڑا ھوتا ھے عریشہ کی بات سن کے مسکرا کے بیٹھ جاتا ہے. عریشہ حماد کو مسکراتا ہوا دیکھتی ہے تو سمجھ جاتی ہے اور پھر حماد کے برابر میں بیٹھ کے مکھن لگانے کی کوشش کرتی ہے تو حماد وہی روک دیتا ہے. عریشہ کام کی بات کرو.
بھائی وہ مجھے شاپنگ پہ جانا ہے. آپ کو تو پتا ہے مریم آ پی کی شادی ہے.
حماد: ہاں تو چلی جاؤ پیسے دے دوں گا. عریشہ خوشی سے حماد کے گلے لگ جاتی ہے اور حماد اس کے اس پیار پہ مسکرا دیتا ہے. پاگل.
پر بھائی ایک پرابلم ہے.
حماد: وہ کیا؟
بھائی ہم کس کے ساتھ جائیں گے؟ آپ کو تو پتا ہے تایا ابو کا. ان کو لڑکیوں کا باہر نکلنا کتنا برا لگتا ہے وہ تو ہم ابو کی اجازت سے چلے جاتے ہیں ورنہ تایا ابو نے تو جان سے مار دینا ہے.
علشبہ جو چائے لیکر آ تی ہے عریشہ کی بات سنتے ہی ایک پیچھے سے اس کی کمر پر مارتی ہے. عریشہ جو اپنے دیھان میں بیھٹی ھوتی ہے اس حملے کیلئے بلکل تیار نہیں ہوتی اور کراہ کے رہ جاتی ہے.
علشبہ: عریشہ میں نے تم سے کتنی دفعہ بولا تایا ابو بڑے ہیں. ایسے نہیں بولتے.
پر آ پی جو سچ تھا وہی بولا نا. دیکھا نہیں آپ نے تایا ابو تائی امی اور مریم آ پی پہ کیسے پابندی لگا رکھی ہے. اچھا ہے ان کی شادی ہو رہی ہے جان چھوٹے گی ان کی.
حماد جو ان دونوں بہنوں کی باتیں سن رہا تھا وہی روک دیتا ہے.
اچھا علشبہ عریشہ دونوں تیار رہنا شام تک شاپنگ پہ چلیں گے. اور عریشہ ایک بار پھر حماد سے لپٹ جا تی ہے.
تھینک یو بھائی آپ بہت اچھے ہیں.
حماد اور علشبہ دونوں مسکرا دیتے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *