Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04

علشبہ اپنی خالی خالی نظروں سے عریشہ کو دیکھتی ہے تو عریشہ کو ان آنکھوں میں صرف ویرانیاں دکھتی ہے… وہ ان آنکھوں میں زیادہ دیر نہیں دیکھ پاتی اور اپنی نظریں نیچے کر لیتی ہے…
عمر: ابو یہ سب کیا کررہے ہیں آپ؟؟؟ آپی نے ایسا کچھ نہیں کیا آپ ان کو بہت بڑی سزا دے رہے ہیں… میں ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا…میں آپی کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گا.. میں ان لوگوں کو ابھی انکار کر کے آتا ہوں یہ نکاح نہیں ہو گا..
عمر جیسے ہی باہر کی طرف قدم اُٹھاتا ہے… سفیان صاحب کی آواز سن کر رک جاتاہے…
سفیان صاحب: تم ایسا کچھ نہیں کرو گے عمر… اگر تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میرا مرا منہ دیکھو گے سنا تم نے اور ویسے بھی وہی ہو رہا ہے جو یہ لڑکی چاہتی ہے اور اب تم کچھ نہیں بولو گے جو ہو رہا ہیں ہونے دو سنا تم نے… سفیان صاحب نے غصے میں عمر کو باور کرایا..
عمر کیا باقی سب کو بھی سفیان صاحب کی باتیں سن کر جھٹکا لگا…
امرین بیگم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سفیان صاحب سے مخاطب ہوئیں… آپ یہ سب کیا بول رہےہیں؟؟؟
سفیان صاحب: وہی جو تم نے سنا یہ نکاح ابھی اور اسی وقت ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو بیوہ ہونے کی تیاری کرلو…
امرین بیگم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے منہ پر رکھ لیا اور نفی میں گردن ہلائی کے ایسا کچھ نہیں ہوگا اور عریشہ عمر کا بھی حال کچھ ایسا ہی تھا…
🌹🌹🌹
شاہ میر سمیر اور انس کو سب بتا رہا تھا کہ جیسا وہاں سب نے دیکھا ایسا کچھ نہیں ہے اور یہ بھی کہ اسے نہیں پتا کہ وہ ویڈیو کس نے بنائی اور کیوں…
اتنے میں پیچھے سے جاوید صاحب آتے ہیں اور شاہ میر کو پکارتے ہیں…
شاہ میر: کیوں آئے ہیں آپ یہاں ڈیڈ آ پ کو بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ آپ کا بیٹا ہی غلط ہے اور اگر آپ مجھے پھر سے وہ نکاح والی بات بولنے آئے ہیں تو چلے جائیں میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا…
جاوید صاحب انس اور سمیر کو دیکھ کر مخاطب ہوئے: جاؤ تم دونوں احد کی مدد کرو..
وہ دونوں جی انکل بولتے ہوئے اندر چلے گئے…
شاہ میر: ڈیڈ کیسی مدد کیا کر رہے ہیں احد بھائی بتائیں.
جاوید صاحب: شاہ میر یہ سب کچھ جو ہو رہا ہیں تمہاری وجہ سے ہے اور یہ سب سنمبھالنے کیلئے ہی میں نے یہ فیصلہ لیا ہے سنا تم نے اور تمہارا نکاح ہے ابھی اور اسی وقت…
شاہ میر: پر ڈیڈ میں ایسا کچھ نہیں کروں گا اور میں نے کچھ غلط نہیں کیا آ پ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے.. خیر میں یہ نکاح نہیں کر سکتا…
جاوید صاحب: تو ٹھیک ہے نہ کرو پر نکاح تو ہو کر رہے گا ورنہ ان لوگوں نے ہماری عزت کو کہیں کا نہیں چھوڑنا ہے.. اب تم مانو یا نہ مانو تم نہ سہی تو اسد سے ہوگا نکاح اور اگر وہ بھی نہیں مانتا تو احد سے ہوگا پر ہوگا ضرور اور تم تو جانتے ہو احد میری کوئی بات نہیں ٹالتا..
شاہ میر: پر ڈیڈ احد بھائی کی پہلے سے شادی اور ایک بیٹی ہے آپ یہ سب کیسے..
شاہ میر کو حیرت ہوئی کہ اس کے ڈیڈ یہ سب کیسے.. اس سے ٹھیک سے لفظ بھی نہیں نکل رہے تھے..
جاوید صاحب: شاہ میر کو غصے میں دیکھ کر بولے: یہ ہی ہوگا اور میرا یہ آخری فیصلہ ہے..
وہ کہہ کر آگے بڑھے تو شاہ میر کی آواز سن کر رک گئے..
ٹھیک ہے میں یہ نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں اور کہتا ہوا آگے بڑھ گیا..
جاوید صاحب: میں جانتا تھا شاہ تم نے کبھی ہاں نہیں کرنی اس نکاح کیلئے.. اسی لیے مجبوراً مجھے یہ سب کہنا پڑا.. مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے شاہ.. تم کبھی ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے پر یہ فیصلہ تم دونوں کیلئے بہتر ہے بیٹا وہ شاہ میر کو جاتے ہوئے دیکھ کر خود سے مخاطب ہوئے..
🌹🌹🌹
علشبہ کو امرین بیگم نے لال چنری اڑھائی جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی. امرین بیگم علشبہ کو دیکھ کر رو دی ان کی پیاری پھول جیسی بیٹی کی کس طرح شادی ہو رہی تھی اور وہ کیسی ماں ہے جو اپنی بچی کیلئے کچھ بھی نہیں کر سکتیں. وہ اسے اپنی آنکھوں میں بسائے سوچ رہی تھیں کہ وہ اب پتا نہیں اپنی بچی سے مل بھی پائیں گی یا نہیں…
اتنے میں نکاح خواں آ گئے جو ابھی شاہ میر سے اس کی رضامندی لیکر آئے تھے. اب علشبہ سے اس کی رضامندی پوچھ رہے تھے..
علشبہ سفیان ولد سفیان احمد آپ کو شاہ میر جاوید ولد جاوید اقبال سے پانچ لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت قبول ہے؟؟؟ مولوی صاحب نے پھر پوچھا..
پر علشبہ کو ہوش ہوگا تو وہ سنے گی نا.. تبھی امرین بیگم جو کے علشبہ کے برابر میں ہی بیٹھی تھیں. اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہیں. تبھی علشبہ اپنے ہوش میں آتی ہے اور مولوی صاحب کی آواز سنتی ہے جو اس سے اس کی رضامندی پوچھ رہے ہوتے ہیں. علشبہ حیرت سے اپنی ماں کو اور برابر میں بیٹھی عریشہ کو اور اپنے سامنے کھڑے بھائی کو جس کی نظریں نیچے جھک جاتی ہیں علشبہ کے دیکھنے سے.. پھر اپنے باپ کو جن کی آنکھوں میں صرف اور صرف نفرت تھی اس کے لئے دیکھتی ہیں.
مولوی صاحب کے پھر کہنے پر وہ ہاں میں سر ہلا دیتی ہے اور پھر کانپتے ہاتھوں سے سائین کر دیتی ہے.
سب باہر چلے جاتے ہیں تب عریشہ علشبہ سے لپٹ کر رونے لگتی ہے پر علشبہ تو ایسے بے حس بیٹھی ہوتی ہیں جیسے یہ سب اس کے ساتھ نہیں کسی دوسرے کے ساتھ ہو رہا ہو.
🌹🌹🌹
جاوید صاحب: سفیان صاحب ہمیں اجازت دیں اور ہمیں ہماری امانت دیں.
سفیان صاحب: ہاں ہاں لے جائیں اور پھر کبھی میرے سامنے نہیں لائیے گا اور اسی کے ساتھ سامنے کھڑی علشبہ کو دیکھ کر بولے… ،،، اس لڑکی کیلئے میرے گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہیں… میں مر بھی جاؤں تو تم نہ آنا اور تم مرگئی تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑنا میں سمجھوں گا میری ایک ہی بیٹی تھی…
جاوید صاحب: دیکھیں آپ ابھی غصے میں ہیں اور ایسے کیسے باپ بیٹی کا رشتا ختم ہو سکتا ہے.
اس سے پہلے جاوید صاحب سفیان صاحب کو کچھ اور بولتے سفیان صاحب نے انھیں چپ کرا دیا اور کہا: آپ اپنی بہو کو لیں اور جا ئیں یہاں سے…
جاوید صاحب ثمینہ بیگم کو اشارہ کرتے ہیں کہ چلو..
علشبہ اپنے باپ کی سنگ دلی دیکھتی ہے تو بکھر جاتی ہے. اگر عریشہ نے اسے تھاما ہوا نہیں ہوتا تو یقیناً اس نے گرجانا تھا. عریشہ علشبہ کے گلے لگ کر خوب روئی اور بس ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ اس کی بہن جہاں رہے خوش رہے..
اس کے بعد امرین بیگم نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دئیے: علشبہ اپنی بدنصیب ماں کو معاف کر دینا جو اپنی بچی کیلئے کچھ نہیں کر سکی..
پر علشبہ کو تو کچھ احساس ہی نہیں اس کے سارے احساس تو جیسے مرگئے تھے
پھر عمر علشبہ کے آگے آیا اپنے ہاتھ جوڑ ے اور پھر گلے لگ گیا کہ پتا نہیں اب اپنی بہن کو دیکھ بھی پائے گا یا نہیں…
علشبہ سے الگ ہو کے جاوید صاحب کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے… جاوید صاحب نے اپنے ایک ہاتھ سے عمر کے جڑے ہاتھ تھامے اور دوسرا ہاتھ کندھے پر رکھ کر حوصلہ دیا کہ وہ اب
ان کی بیٹی ہے اور وہ اس کا پورا خیال رکھے گیں تو عمر اپنے آنسو چھپاتا ہوا لمبے لمبے قدم اٹھاتا باہر نکل جاتا ہے..
علشبہ کو ثمینہ بیگم نے تھام رکھا تھا جو کسی روبوٹ کی طرح چلی جارہی تھی.
🌹🌹🌹
سب لوگ گھر آ چکے تھے. تبھی مسکان سامنے سے چلی آرہی ہوتی ہے اور علشبہ کو حیرت سے دیکھتی ہے اور اشارے سے ثمینہ بیگم سے پوچھتی ہے کہ کون ہے.
ثمینہ بیگم: مسکان اپنی بھابی کو شاہ میر بھائی کے کمرے میں لے جاؤ تھک گئی ہوگی.
مسکان حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہی ہوتی ہے اور کچھ بولنے لگتی ہے تبھی ثمینہ بیگم اشارے سے منع کر تی ہیں کہ چپ… مسکان چپ کر جاتی ہے.
وہ آگے بڑھ کر علشبہ کو تھامتی ہے. جو بھی ہو مسکان کو اپنی یہ پیاری سی بھابھی بہت پسند آتی ہے.
ثمینہ بیگم علشبہ کو مخاطب کر کے کہتی ہیں: جاؤ بیٹا اپنے کمرے میں اور آرام کرو.
وہ علشبہ کی حالت سمجھتے ہوئے اسے کمرے میں بیھج دیتی ہیں.
تو دوسری طرف شاہ میر سڑکوں پر اپنی سوچوں میں گم گاڑی کو بھگا رہا تھا. وہ تو اچھا ہے رات کو ٹریفک نا ہونے کے برابر تھا ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا. شاہ میر اچانک گاڑی روک کر غصے میں ہاتھ اسٹیرئنگ پر مارتا ہے کہ یہ سب کچھ کیا ہوا اور کیوں ہوا اور شاہ میر کو رہ رہ کر غصّہ آرہا تھا کہ اس کے اپنے ڈیڈ نے کیوں یقین نہیں کیا اس پر…
_________
پلکوں کی حدوں کو تؤڑ کر دامن پہ آگرا
ایک آنسو میرے صبر کی توہین کر گیا
بیٹا ابھی تک تم ایسے ہی بیٹھی ہو؟؟؟ علشبہ جو اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی ثمینہ بیگم کی آواز سن کر چونک جاتی ہے جو کھانے کی ٹرے لیے اسی کی طرف آرہی ہوتی ہیں.
اپنے اور علشبہ کے بیچ میں ٹرے رکھ کر بیٹھ جاتی ہیں..
بیٹا لو کچھ کھالو۔
نہیں آنٹی مجھے بھوک نہیں…
بیٹا ایسے کیسے بھوک نہیں چلو کھاؤ شاباش…
وہ علشبہ کی طرف نوالہ بناکر کھلاتی ہیں تو وہ ان کے ہاتھ سے نوالہ کھا لیتی۔
ثمینہ بیگم کو علشبہ پر بڑا ترس آتا ہے جو اپنا سر نیچے جھکا ئے ان کے ہاتھ سے کھانا کھارہی تھی تھوڑا کھاکر وہ ان کا ہاتھ روکتی ہے اور سر نہ میں ہلا تی ہے تبھی پیچھے سے مسکان بھی آتی ہے.
ماما یہ کپڑے… وہ کہتی ہوئی ثمینہ بیگم کی طرف آتی ہے
ہاں لاؤ یہ ٹرے کچن میں رکھ دو.. مسکان جی کہتی ہوئی کمرے سے نکل جاتی ہے.
علشبہ بیٹا یہ لو اور جاؤ کپڑے چینج کر لو پر علشبہ تو سر نیچے کیے رونے میں مصروف ہوتی ہے۔۔
*کیا خبرتھی کہ خزاں ہوگئ مقــدر اپنا*
*میں نے تو ماحول بنایا تھا بہارؤں جیسا*
وہ علشبہ کے قریب ہوکر سر پر ہاتھ رکھتی ہیں اور علشبہ کا منہ اوپر کرتی ہیں.
بیٹا کیوں رو رہی ہو… میں تمہاری تکلیف سمجھ سکتی ہوں تبھی علشبہ کو امرین بیگم یاد آتی ہیں کے اس کے کھانا نہ کھانے پر کس طرح اسے اپنے ہاتھ سے کھلاتی تھیئ۔ بیٹا ایسے رؤ گی تو طبیعت خراب ہو جائے گی اور اس کے آنسو صاف کر تی ہیں.
علشبہ روتی ہوئی ان کے گلے لگ جاتی ہے اور ان کو بچوں کی طرح سب کہتی ہے.
آنٹی میں نے کچھ نہیں کیا سب مجھے غلط سمجھ رہے ہیں.. وہ ہچکیوں کے بیچ اتنا ہی کہ پاتی ہیں ۔
ثمینہ بیگم اس کی کمر سہلاتے ہوئے چپ کر وانے کی کوشش کرتی ہیں اور اپنے سے الگ کر کے بولتی ہیں بیٹا یہاں دیکھو…
وہ ان کی طرف دیکھتی ہے.
بیٹا تم نے کچھ نہیں کیا نا. وہ نہ میں سر ہلا تی ہے
تو بس بیٹا اللہ پر بھروسہ رکھو وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔۔
امید آدھی زندگی ہے اور
مایوسی آدھی موت!
وہ علشبہ کو سمجھاتے ہوئے بولیں.
اب رونا نہیں اچھا. اب یہ ہی تمہارا گھر ہے اور جیسے میرے لیے میرے بچے ہے ویسے ہی تم ہو.
وہ علشبہ کو پھر سے رونا شروع کر تے دیکھ کر بولتی ہیں اور اگر اب تم نے رونا شروع کیا تو میں ناراض ہو جاؤں گی تم سے. وہ علشبہ سے روٹھتے ہوئے بولیں.
علشبہ جھٹ سے اپنی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کر تی ہے کہ کہیں سچ میں ثمینہ بیگم ناراض نہ ہو جائیں. وہ اس کا یہ انداز دیکھ کر مسکرا دیتی ہیں.
بیٹا جاؤ یہ کپڑے چینج کر لو تھک گئی ہو گی آرام کرو پھر چلو شاباش۔۔
علشبہ کپڑے لیکر چینج کر نے چلی جاتی ہیں وہ کپڑے چینج کر کے باہر آتی ہے تو ثمینہ بیگم وہی ہوتی ہیں جو علشبہ کو دیکھ کر اس کے قریب آتی ہیں اور بولتی ہیں بیٹا بہت پیاری لگ رہی ہو۔
علشبہ نے ہلکا گرین کلر کا سوٹ زیب تن کیا ہوا تھا جو بلکل سادہ تھا۔۔۔
بیٹا چلو لیٹ جاؤ اور سوجاؤ. وہ علشبہ پر چادر درست کر کے لائٹ آف کر کے چلی جاتی ہیں.
ان کے جاتے ہی اس کو وہ سب پھر سے یاد آتا ہے وہ روتے روتے نیند کی وادی میں اتر جاتی ہے۔
تو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں، خوفِ زوال بھی نہیں
🌹🌹🌹
رات کے آدھے پہر شاہ میر گھر آتا ہے تو سب سورہے ہوتے ہیں. وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھتا ہے اور جیسے ہی لائٹ آن کر کے آگے بڑھتا ہے۔
وہاں علشبہ کو اپنے بیڈ پر محو خواب دیکھ اس کے اندر آگ لگ جاتی ہیں کہ اس کی زندگی میں زلزلے لاکر خود مزے سے سورہی ہے۔
شاہ میر کا دل کرتا ہے کے اس سکون سے سوئے ہوئے وجود کو نیچے اٹھا کر پھینک دے پر علشبہ پر ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر کمرے سے نکل جاتا ہے۔
لاب اس کا رخ گیسٹ روم کی طرف ہوتا ہے وہ علشبہ کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہے گا اور نہ اس لڑکی کو اپنے کمرے میں رہنا دے گا جس کی وجہ سے اس کے باپ نے اس پہ شک کیا شاہ میر کو رہ رہ کر اپنے ڈیڈ پر غصہ آرہا تھا پر اس سے پہلے اسے تھوڑا ریسٹ کرنا ہے وہ سوچتا ہوا چلے جاتا ہے۔۔۔
🌹🌹🌹🌹
ثمرین کو آواز دیتی ہیں.. ثمرین؟؟؟
جی بیگم صاحبہ؟
جاؤ جلدی سے ناشتے کی تیاری کرو سب آتے ہونگے..
ثمرین جی بیگم صاحبہ کہتی ہوئی کچن کی طرف چلی جاتی ہے.
ثمینہ بیگم شاہ میر کے کمرے میں جاتی ہیں وہاں علشبہ کو سوتے پاکر کمرے سے باہر آتی ہیں.
وہ پریشانی میں لینڈ لائن کی طرف جاتی ہیں.
شاہ میر پوری رات گھر نہیں آیا پتا نہیں کہاں ہوگا… وہ شاہ میر کو call کرتی ہیں تبھی شاہ میر کا موبائل رنگ کرتا ہے..
ثمینہ بیگم موبائل کی رنگ سن کر أسی طرف بڑھتی ہیں. گیسٹ روم کا دروازہ کھول کر اندر آتی ہیں تو شاہ میر بیڈ پر سورہا ہوتا ہے.
ثمینہ بیگم سکون کا سانس لیتی ہیں کہ شاہ میر ٹھیک ہے. کل جو کچھ بھی ہوا انھیں دونوں بے قصور لگتے ہیں. وہ شاہ میر کے پاس آ کر بیڈ پر بیٹھ جاتی ہیں شاہ میر کے سر میں ہاتھ پھیرتی ہیں اور دل میں اس سے مخاطب ہوتی ہیں.
مجھے پتا ہے شاہ تم دونوں پر کیا بیتی ہے. تم دونوں کو بے قصور ہوتے ہوئے بھی قصور وار ٹھہرا دیا گیا جتنا برا تمہارے ساتھ ہوا أتنا ہی علشبہ کے ساتھ بھی اور تم دونوں کیلئے یہ ہی بہتر تھا. اللہ اب تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے آمین اور شاہ میر کے ماتھے پر بوسا دے کر کھڑی ہوتی ہیں. شاہ میر پر بلینکٹ ٹھیک کر کے کمرے سے چلی جاتی ہیں،،،
🌹🌹🌹
لائبہ انکل کا خیال رکھنا اور انھیں یہ دوائی ٹائم سے دینا.
حماد لائبہ کو دوائی دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی ضرورت ہو تو مجھے call کرنا ٹھیک ہے…
حماد ابھی اعظم صاحب اور لائبہ کو گھر لایا ہے. ڈاکٹر نے اعظم صاحب کو ڈسچارج کر دیا تھا ان کی حالت اب بہتر تھی.
ٹینشن نہ لو اب انکل بلکل ٹھیک ہیں. وہ لائبہ کا اداس چہرہ دیکھ کر دلاسہ دیتا ہے تو لائبہ مشکور نظروں سے حماد کو دیکھتی ہے.
لائبہ حماد کو کچھ کہنے ہی لگتی ہے تبھی حماد لائبہ کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دیتا ہے.
شش اگر کچھ کہا تو… مجھے پتا ہے تم کیا کہو گی خبردار جو یہ شکریہ وکریہ کیا تو اور یہ مشکور نظروں سے بھی دیکھنا چھوڑو ورنہ مار کھاؤ گی… انکل بلکل میرے ابو کی طرح ہیں اور میں ان کا بیٹا اور خبردار جو باپ بیٹے کے بیچ میں آئی.
لائبہ حماد کو حیرت سے دیکھ رہی ہوتی ہے کہ کیسے حماد نے اس کی دل کی بات جان لی.
مجھے عشق ہے،تو تم سے ہی ہے
گر پھر ہو عشق،تو تم سے ہی ہوگا
حماد لائبہ کے آگے ہاتھ لہراتا ہے لائبہ کا حیرت زدہ چہرہ دیکھ کر مسکرا تا ہے.
اچھا اب میں چلتا ہوں اب تو سب گھر بھی آگئے ہونگے اور جانے کے لئے مڑتا ہے.
تبھی کچھ یاد آنے پر لائبہ کے قریب آ کر کھڑا ھوتا ھے اور لائبہ کے کان میں آہستہ سے بولتا ہے..
انکل کا خیال رکھنے کے ساتھ اپنا بھی خیال رکھنا میر ے لئے اور لائبہ کو دیکھتا ہے جو اپنی نظریں نیچے کئے اپنے اتنے قریب حماد کو دیکھ کر گھبرا جاتی ہے اور حماد کو دیکھے بنا بھاگ جاتی ہے حماد لائبہ کو یوں دیکھ کر ہنستے ہوئے باہر نکل جاتا ہے.
🌹🌹🌹
سفیان صاحب آتے ہی اپنے کمرے میں بند ہوگئے. عریشہ امرین بیگم کو سہارا دے کر اپنے کمرے میں لے جاتی ہے.
علشبہ کے جانے کے بعد سے ان کی حالت خراب ہورہی تھی بار بار وہ علشبہ کو پکارتے ہوئے معافی مانگ رہی تھیں کہ وہ اس کے لیے کچھ نہیں کر پائیں. عریشہ عمر کی پوری رات انھیں سمبھالنے میں نکلی تھی.
اب ذرا امرین بیگم سوئیں تو عریشہ عمر کے لئے چائے بنانے جاتی ہے اور عمر لائٹ آف کر کے کمرے سے باہر آ کر بیٹھ جاتا
ہے..
🌹🌹🌹
حماد گھر میں آتا ہے تو سامنے عمر اپنا سر ہاتھوں میں تھامے بیھٹا ہوتا ہیں..
حماد:کیا ہوا بھئی ؟
عمر جیسے ہی حماد کو دیکھتا ہے بھاگ کر حماد کے گلے لگ جاتا ہ
بھائی آپ کہاں تھے؟؟؟ سب کچھ ختم ہو گیا میں آپی کو جانے سے نہیں روک پایا.. آپ کیوں نہیں تھے وہاں.. ہاں آپ بچالیتے آپی کو.. وہ روتے ہوئے حماد سے شکوہ کر رہا تھا..
اسے رہ رہ کر غصّہ آرہا تھا کہ وہ کچھ نہیں کر پایا. اگر حماد بھائی وہاں ہوتے تو کچھ کرلیتے. عمر اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا
حماد گھبرا جاتا ہے اور عمر کو اپنے آپ سے الگ کر تا ہے..
عمر کیا ہوا علشبہ کو؟؟ بتاؤ یہ تم کیا کہے جارہے ہو ہاں بولو…
اتنے میں عریشہ بھی کچن سے باہر آتی ہے اور حماد کو دیکھ کر اس سے لپٹ جاتی ہے اور روتی ہے.
بھائی آپ کہاں تھے؟؟؟ آپ کو پتا ہے آپی کے ساتھ بہت برا کیا سب نے…
حماد عمر کو دیکھ کر غصے میں پوچھتا ہے…
کیا ہوا علشبہ کو اور کیا کیا اس کے ساتھ سب نے؟؟؟ عریشہ کیا بول رہی ہے؟؟؟ میں کچھ پوچھ رہا ہوں عمر…
عمر سب کچھ جو بھی ہوا حماد کو بتا دیتا ہے اور حماد کی آنکھوں میں لہو دوڑ نے لگتا ہے..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *