Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15

ہیلو کو؟؟ ہیلو اگر آپ نے کچھ بولنا ہی نہیں تھا تو کال کیوں کی ہے.۔۔
علشبہ جو ثمینہ بیگم کیلئے پانی لینے جارہی تھی تبھی وہاں لینڈ لائن پر کال آئی جسے اس نے اٹھا لیا پر کب سے وہ ہی بولے جارہی تھی اگلا بندہ تھوڑا ڈھیٹ تھا شاید کچھ بول ہی نہیں رہا تھا یا پھر وہ اسے ہی سننا چاہ رہا تھا۔۔
آپ نے بات کس سے کرنی ہے؟؟ دیکھیں میں آخری مرتبہ کہہ رہی ہوں اگر آپ نے بات کرنی ہے تو کریں ورنہ میں رکھ رہی ہوں. علشبہ نے تھوڑا غصے سے کہا اور فون رکھنے ہی جارہی تھی تبھی دوسری طرف سے کسی نے لمبا سانس کھینچا جس پر علشبہ ایک پل کو تھم گئی اور فون کو تھامے انتظار کرنے لگی کہ اگلا کچھ کہے اس کا دل بار بار ایک ہی دعا کر رہا تھا کے وہ جسے سننا چاہ رہی ہے اور دل جو کہہ رہا ہے وہ ہی ہو پر خود سے ہمت نہیں کر پارہی تھی کہ اسے مخاطب کر کے کچھ کہہ پاتی۔۔۔۔
علشبہ؟؟؟
جی بھابھی،،،،
تم تو پانی لینے گئی تھی نہ کیا ہوا کس کی کال ہے؟؟ رامین اور علشبہ ثمینہ بیگم کو چپ کرا رہی تھیں جو صرف اور صرف روئے جارہی تھیں مسکان کیلئے تو رامین نے علشبہ سے پانی لانے کا کہا پر کافی دیر گزر گئی تو اسے خود اٹھنا پڑا تو علشبہ کو ہاتھ میں فون تھامے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
علشبہ جو شاہ میر کو محسوس کر رہی تھی اور چاہ رہی تھی کہ وہ کچھ بولے وہ سمجھ گئی تھی کہ اگلا کون ہے تبھی وہ رامین کی آواز پر چونک گئی۔۔
پتا نہیں بھابھی جب بات ہی نہیں کرنی ہوتی تو کال ہی کیوں کرتے ہیں بس پریشان کرنا آتا ہے.. یہ علشبہ کی ناراضگی کا اظہار تھا جو وہ بول کر شاہ میر کو دکھانا چاہ رہی تھی پر یہ سوچے بغیر کے سامنے والا اس کی ناراضگی سمجھ بھی پایا کہ نہیں اور زور سے فون کو رکھ کر چلے گئی۔۔۔
ہیں اسے کیا ہوا. رامین ہکا بکا علشبہ کا غصہ سے جانا دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔۔۔
شاہ میر جو کافی دیر سے بستر پر کروٹیں بدل بدل کر سونے کی کوشش کر رہا تھا بار بار اس کا دل کچھ برا ہونے کی گواہی دے رہا تھا اس سے رہا نہیں گیا تو اس نے لینڈ لائن پر کال ملائی وہ چاہ رہا تھا ثمینہ بیگم سے ایک بار بات کر لے پر آگے سے علشبہ کی آواز سن کر اسے حیرت اور خوشی دونوں ہوئی۔۔
پر علشبہ کے بار بار کہنے پر بھی جب وہ کچھ نہیں بول پایا تو اس نے فون رکھنے کی دھمکی دی جسے اس نے لمبی سانس کھینچ کر اندر اتاری کہ وہ اب اس کی آواز پتا نہیں کب سن پائے. وہ اپنے آپ کو ابھی کمزور نہیں پڑنے دینا چاہ رہا تھا وہ اپنوں سے دور جاکر اپنی سزا کا تعین کر رہا تھا پر وہ یہ بھول رہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ کتنے لوگوں کو سزا دے رہا ہے اور کسی کو وہ انتظار کی سولی پر لٹکا کر گیا ہے. وہ ایک بار پھر خود غرض بن رہا تھا ۔۔۔۔
کیا وہ سمجھ گئی تھی کہ دوسری طرف میں ہوں پر کیسے؟؟ میں نے تو کچھ کہا ہی نہیں اس سے. وہ علشبہ کی بات سمجھ نہیں پایا تھا جو وہ رامین کو بول کر گئی تھی تبھی اپنی سوچیں جھٹک کر ایک بار پھر لیٹ گیا۔۔۔۔
جب بات ہی نہیں کرنی تھی تو کال کیوں کی کیا میں اتنی بری ہوں کہ مجھ سے بات تک کرنا گوارہ نہیں کیا ہاں تو ٹھیک ہے نا ناں کریں میں بھی کون سی مری جارہی ہوں بات کرنے کو ۔۔
علشبہ کو رہ رہ کر اپنی بےبسی پر غصہ اور رونا دونوں آرہا تھا. وہ اپنے کمرے میں یہاں سے وہاں چکر لگاتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی اب بیڈ پر بیٹھ کر تھوڑا ریلکس کرنے لگی اپنے آپ کو ۔۔۔
علشبہ یہ تو نے کیا کیا مسکان کے بارے میں کیوں نہیں بتایا انھیں. گھر میں آئی پریشانی کے بارے میں بتا دینا تھا اف میرے اللہ میرے دماغ کو کیا ہو گیا کیوں میں اس ٹائم بےبس ہوگئی وہ اپنا سر پکڑے بیٹھ گئی اور اب پچھتانے لگی۔۔۔۔
ترس جاٶ گے ہمارے لبوں سے سننے کو ایک ایک لفظ
پیار کی بات تو کیا اب ہم شکایت بھی نہیں کرے گے
🌹🌹🌹
ہاں تو اب بولو کیا مسئلہ ہیں تم لوگوں کا؟؟؟
ایس پی مراد شاہ نے اپنے سامنے بیٹھے عمر اور مسکان کو مخاطب کر کے کہا۔۔
سر مسئلہ ہمیں نہیں آپ کو ہے آپ کیوں ہم دونوں کو یہاں لے آئے. دیکھیں سر ہمارے گھر والے ہمارا انتظار کر رہے ہونگے آپ ہمیں جانے دیں پلیز. عمر نے پہلے برہمی سے پھر تھوڑا نرمی سے کہا۔۔۔
اتنی جلدی بھی کیا ہے پہلے تم ہمیں سچ بتادو کہ تم آدھی رات وہاں کیا کر رہے تھے اور کون ہے یہ لڑکی تمہاری؟ مراد شاہ نے اطمینان سے کہا۔۔۔
سر سچ یہ ہے کہ کچھ گنڈوں نے ہمیں پکڑ لیا تھا ہم بڑی مشکل سے وہاں سے بھاگے ہیں. عمر نے معاملے کو نپٹانے کیلئے آدھا سچ بتایا ۔۔۔
ہممم تو پہلے جھوٹ کیوں کہا اور کون تھے وہ لوگ ؟؟؟ مراد شاہ نے ایک بار پھر سوال کیا۔۔۔
سر یہ تو نہیں پتا پر وہ لوگ پیسے مانگ رہے تھے لوٹنے والے تھے سر پلیز اب ہمیں اجازت دیں. عمر نے بتا کر اجازت مانگی ۔۔۔
تو اپنی پوری رپورٹ لکھوا لو پہلے. انھوں نے عمر کو مشورہ دیا۔۔۔
نہیں سر ہمیں کوئی رپورٹ نہیں لکھوانی پلیز اب ہمیں جانے دیں. عمر نے صاف منع کرتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ مسکان پر کوئی بھی بات آئے اور رپورٹ لکھوا کر ان کو وہاں پھر بلایا جاتا وہ جلد سے جلد مسکان کو اس کے گھر چھوڑ دینا چاہتا وہ اس لڑکی کی پریشانیوں میں اضافے کا باعث نہیں بننا چاہتا تھا کہ وہ ایک غیر مرد کے ساتھ پوری رات تھی اسی لیے اسے اپنا اور اس کا رشتہ بتانا پڑا کہ جلد سے جلد جان چھوٹے اس پولیس کے چکر سے پر شاید ان لوگوں کو شک ہوگیا تھا جس پر عمر نے انھیں اپنا آدھا سچ بتا دیا۔۔۔
سر مجھے تو لگتا ہے یہ اب بھی جھوٹ بول رہا ہے گھر سے ابا کو بلانے نہیں دینا چاہ رہا اور اب رپورٹ بھی نہیں لکھوانی. سر دال میں کچھ تو کالا ہے اور لڑکی کو بھی دیکھیں کتنی ڈری سہمی ہوئی لگ رہی ہے اور یہ بیوی بھی نہیں اس کی مجھے تو لگتا ہے گھر سے بھاگے ہیں دونوں. پولیس کانسٹیبل رحمان نے عمر کی ساری باتیں سن کر ایک بار پھر اپنا شک ظاہر کرتے ہوئے ایس پی صاحب کے کان میں کہا ۔۔۔
ہممممم تو اب کیا کیا جائے؟؟ مراد شاہ نے سوال کیا.
سر میرے پاس ایک آئیڈیا ہے آپ ان دونوں کا نکاح یہاں کروانے کا کہیں دیکھیں پھر کیسے سب سچ بتاتا ہے کہ یہ اس لڑکی کا شوہر نہیں ہے. رحمان نے عمر کی طرف مسکرا کر آہستہ آواز میں کہا۔۔۔
ہمم آئیڈیا تو اچھا ہے شاباش. وہ رحمان کو شاباشی دیتے ہوئے بولے جس پر عمر کی نظریں ان دونوں پر تھیں. اسے کچھ گڑبڑ ہوتی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔
ہمم تو تم دونوں میاں بیوی ہو میں کیسے مان لوں کہ تم اب بھی جھوٹ نہیں بول رہے اور کوئی ثبوت ہے نہیں تمہارے پاس جس سے مجھے یقین آئے اب ایک ہی راستا ہیں تم دونوں کا نکاح اور وہ بھی ابھی اور یہیں مراد شاہ نے کہہ کر حکم صادر کرتے ہوئے کہا۔۔۔
جس پر مسکان نے جھٹکے سے اپنے جھکے سر کو اٹھا کر مراد شاہ کو دیکھا اور پھر عمر کو جو اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ کب سے چپ تھی پر اب یہ کچھ زیادہ ہو رہا تھا جس پر اس نے کچھ بولنا چاہا پر عمر نے اسے چپ کرا دیا ۔۔۔
عمر سمجھ رہا تھا وہ صرف ان لوگوں کو پرکھنے کیلئے بول رہے ہیں تبھی نکاح کیلئے جھٹ سے ہاں کر دیتا ہے جس پر مسکان حیرت اور بے یقین نظروں سے اسے دیکھتی ہے ۔۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے پھر بلاؤ مولوی صاحب کو. رحمان آج پہلی مرتبہ کسی تھانے میں نکاح ہوگا آج ان کو بھی دوبارہ نکاح والی ہتھکڑی پہنا دیتے ہیں. مراد شاہ عمر کو گھورتے ہوئے بولے وہ مسکان کا نکاح کے نام پر سٹپٹانا دیکھ چکے تھے اور اب پکا ارادہ کر لیا تھا کے یہ نکاح ضرور ہوگا۔۔۔
اب حیران ہونے کی باری عمر کی تھی جو یہ سمجھ رہا تھا کے یہ صرف اس سے قبول کروانے کو کہا جا رہا ہے ۔۔۔
___
چلیں مولوی صاحب نکاح شروع کریں. ایس پی مراد شاہ نے کہا۔
پر مجھے یہ نکاح ۔۔۔
سر یہ سب کچھ آپ لوگ کیوں کر رہے ہیں؟ عمر مسکان کی بات بیچ میں روک خود بول اٹھا۔۔۔
جب تم لوگ میاں بیوی ہو تو کر لو قبول دوبارہ ورنہ جو سچ ہے وہ بتا دو. ایس پی نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہہ کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور دونوں کو دیکھ کر مولوی صاحب کو پھر کہا۔۔۔
مولوی صاحب نے عمر کی اجازت مانگی جس پر اس نے مسکان کی طرف دیکھا اور اچانک اسے اپنی کہی بات یاد آئی جو اس نے عریشہ سے کہی تھی کہ اس کیلئے ایک پری آئی گی معصوم اور پیاری سی اور وہ ویسی ہی تو تھی ۔۔۔۔
عمر کو مسکان کے اندر کی کشش اپنی جانب کھینچ رہی تھی جسے اس نے مسکان کو دیکھ کر قبول ہے قبول ہے کہہ دیا اور پھر سائن بھی کر دیے. مسکان منہ کھولے عمر کی یہ سب کاروائی دیکھ رہی تھی۔۔
اب آئی مسکان کی باری جس پر مولوی صاحب کے دو بار کہنے پر بھی اس نے جواب نہیں دیا تو عمر نے اپنے برابر میں بیٹھی مسکان کا ہاتھ تھام لیا اور اسے دیکھنے لگا. مسکان نے پہلے اپنے ہاتھ کو اور پھر عمر کو دیکھا جس کی آنکھوں میں اس کیلئے ایک الگ سی چمک دیکھی. مولوی صاحب نے پھر پوچھا
جس پر ایک بار پھر خاموشی تھی تو عمر نے اپنے ہاتھ کا دباؤ اس کے ہاتھ پر دیا اور اسے اپنے ساتھ کا احساس دلایا۔۔۔
مسکان بھی سب بھولے عمر کو دیکھ رہی تھی اس کا دل بھی عمر کی جانب کھنچ رہا تھا. وہ بھی قبول ہے بول دیتی ہے یہ سوچے بغیر کے یہ صحیح ہے یا غلط. دونوں ایک انجانی ڈور سے بندھ کر اب نکاح کی پاکیزہ ڈور سے بندھ گئے تھے اور وہ بھی اپنی پوری دلی آمادگی کی وجہ سے جو یہ بھول گئے تھے کہ یہ سب کیا اور کس جگہ اور کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹
کیا ہو رہا ہے؟؟
آؤچ ،،،،
آرے آرام سے دکھاؤ جلا تو نہیں ؟؟؟
حماد جو لائبہ کو کچن میں کام کرتا دیکھ پیچھے سے آکر سوال کرتا ہے لائبہ کا حماد کے اچانک بولنے پر ہاتھ جلتے جلتے بچتا ہے۔۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں بچ گیا ہاتھ آپ کو کچھ چاہیئے تھا؟؟ لائبہ نے گھبرا کر حماد کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال کر دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
جس کو حماد نے فوراً نوٹ کیا اور پیچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر دونوں ہاتھوں کو باندھے لائبہ کو دیکھنے لگا ۔۔۔
لائبہ کو یوں اپنے گھر میں استحقاق سے کام کرتا دیکھنا اس کا خواب تھا جو آج سچ ہوگیا تھا وہ اس کے نام سے اس کے گھر میں تھی وہ سادے سے کاٹن کے سوٹ میں بھی اس کے دل پر قابض ہورہی تھی۔۔۔
حماد کا محبت سے یوں دیکھنا لائبہ کو کنفیوز کرتا ہے جسے وہ چاہ کر بھی اگنور نہیں کر پارہی تھی تو ایک بار پھر پوچھتی ہے. آپ کو کچھ چاہیئے کیا؟؟؟
ہاں ایک کپ چائے ملے گی. حماد نے ہنوز وہی پوزیشن رکھے کہا اور اس کی گھبراہٹ مٹانے کو چھوٹی موٹی باتوں کے دوران عمر کا پوچھنے لگا ۔۔۔
جی نہیں ابھی تک نہیں آیا. لائبہ نے جواب دیا۔۔
ہم آنے دو اسے آج اس کی خیر نہیں بہت اپنی من مانی کرنے لگا ہے. حماد نے تھوڑا غصے سے کہا ۔۔
تبھی لائبہ نے اس کا موڈ بدلتے دیکھ جلدی سے چائے کا کپ پکڑانا چاہا جس پر حماد نے کپ کے بجائے لائبہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ سے کپ لے کر سلیب پر رکھا اور اس کے قریب آنے لگا۔۔
لائبہ ایک بار پھر حماد کو ایسے دیکھ اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگنے لگی تو حماد نے اسے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا جس پر وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور حماد کے قریب آگئی۔۔۔۔
لائبہ حماد کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر گھبرا کر اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیتی ہے ۔۔۔
حماد مسکرا کر اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا ہے اور اس کے چہرے پر آئے بال آہستہ سے ہٹاتا ہے ۔۔
لائبہ کا چہرہ حماد کے لمس پر گلابی ہو جاتا ہے اور وہ حیا سے اپنی نظریں نیچی کرلیتی ہے.
تھینک یو میری زندگی میں آنے کیلئے. مجھے مکمل کرنے کیلئے. وہ کہہ کر لائبہ کے ماتھے پر بوسہ دیتا ہے اور اسے اپنی قید سے آزاد کرتا ہے۔۔
پر میں جانتا ہوں یہ نکاح تم نے کن حالات میں کیا ہے میں تم پر زبردستی یہ رشتہ نہیں تھوپنا چاہتا جب تک تم خود اس رشتے کو دل سے قبول نہیں کر لیتی میری طرف سے آزاد ہو تم جیسے چاہو ویسے رہو لائبہ. وہ کہتا ہوا ٹھندی چائے کا کپ اٹھا کر کچن سے نکل جاتا ہے ۔۔۔
یہ دیکھے بغیر کے ان آنکھوں میں اس کیلئے کتنی محبت ہے پر شاید وہ جان کر انجان بن رہا تھا یا جو بھی تھا وہ لائبہ کو اس کی چھپی محبت کا احساس دلا گیا تھا ۔۔۔
میں بھی آپ کو اپنی زندگی میں پاکر مکمل ہوگئی ہوں. میرے لیے یہ رشتہ بہت اہمیت کا حامل ہے. میں آپ کو اپنے سے زیادہ چاہنے لگی ہو اور یہ بات میں آپ کو جلد بتا کر رہوں گی میں اب آپ کو نہیں کھونا چاہتی. وہ اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کر کے خود سے عہد کرتی دوبارہ کام میں جت جاتی ہے ۔۔۔
. ﯾﮧ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ .. ﯾﮧ ﺭﺍﺳﺘﮯ !!!!…………..
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺩﻋﺎ ….. ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺍﺳﻄﮯ !!!!….
ﯾﮧ ﺳﮑﻮﻥ … .ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻗﺮﺍﺭ ﺑﮭﯽ …. !!!
ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺎﻥ ………. ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺍﺳﻄﮯ !!!…..
ﮐﺒﮭﯽ ﻏﻢ ﻧﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮ !!!……..
ﺗﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﺧﻮﺷﯽ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ !!!!……..
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺍﺳﻄﮯ !!!!………..
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺩﻋﺎ …. ﺗﯿﺮﮮ ﻭﺍﺳﻄﮯ !!!!.✨
🌹🌹🌹
چلو بھئی مبارک ہو دونوں کو ایک بار پھر. اب مجھے یقین ہوگیا کے تم دونوں میاں بیوی ہی ہو دیکھ لیا رحمان. ایس پی پولیس کانسٹیبل رحمان کو جتاتے ہوئے بولے۔۔
پر کوئی نہیں اس تھانے میں اب تک جھگڑا ہوا ہے. ظلم کے کیس آئے پر پہلی بار کچھ اچھا ہوا اور وہ بھی نکاح. چلو اب تم دونوں آزاد ہو جاسکتے ہو پر اس سے پہلے اپنا نمبر اور گھر کا پتا لکھواتے جاؤ اور اپنی بیوی کا خیال رکھنا. مراد شاہ عمر کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ساتھ سب بول گئے ۔۔۔
عمر نے اپنا نمبر اور اپنے دوست کے فلیٹ کا پتا لکھوا دیا جس میں اکثر وہ دونوں پڑھائی وغیرہ کرتے تھے۔۔۔
یہ لیں سر ان کی بائیک مل گئی ہے وہاں ایک اور پولیس کانسٹیبل نے آکر کہا اور بائیک کی چابی دی ۔۔۔
ایس پی مراد شاہ نے نکاح نامہ اور بائیک کی چابی پکڑائی.
ہم یہ لو بھئی اپنی چابی اور تنگ کرنے کیلئے معذرت پر یہ ضروری تھا اور یہی ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم ہر اچھے برے کا پتا کریں اور انصاف سے کام لیں ۔۔
عمر اپنی بائیک اسٹارٹ کر کے مسکان کو دیکھتا ہے جو پتا نہیں کن خیالوں میں گم تھی ۔۔۔
ہیلو وہ اپنا ہاتھ مسکان کے سامنے ہلاتا ہے جس پر
وہ اسے دیکھتی ہیں اور پھر بائیک کو ۔۔۔
چلیں.. عمر نے کہا۔۔۔
میں اس پر نہیں بیٹھوں گی ۔۔۔
پر کیوں؟ عمر نے حیرت سے پوچھا.
میں آج تک نہیں بیٹھی بائیک پر اور میں گر گئی تو نہیں مجھے نہیں بیٹھنا اس پر. مسکان نے ڈرتے ہوئے کہا وہ کبھی اسد کے ساتھ نہیں بیٹھی تو اب کیسے بیٹھ جاتی ۔۔۔
اوہ تو تم ڈرتی ہو؟؟؟ عمر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
نہیں تو میں نے کب کہا. مسکان نے اپنی چوری پکڑے جانے پر ہڑبڑا کر کہا ۔۔۔
تو پھر بیٹھ جاؤ نہیں گراؤنگا. عمر نے ایک بار پھر کہا ۔۔
نہیں بلکل بھی نہیں میں نے نہیں جانا اس پر. وہ ضدی انداز میں بولی۔۔
تو ٹھیک ہے پھر مت بیٹھو میں خود چلا تم یہیں رہو. وہ کہتے ہوئے بائیک اسٹارٹ کر نے لگا۔۔
نہیں میں بھی جاؤنگی تمہارے ساتھ. تم مجھے یہاں اکیلا نہیں چھوڑ کے جاسکتے مجھے میرے گھر چھوڑ دو پلیز. وہ ایک بار پھر پہلے والے بن گئے تھے یہ بھولے کہ تھوڑی دیر پہلے ان کی زندگی میں کتنی بڑی تبدیلی آئی ہے۔۔۔
تو بیٹھو پھر. عمر نے بائیک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔
جس پر مسکان گھبراتے ہوئے بیٹھ گئ اور عمر کی شرٹ کو زور سے پکڑ کر آنکھیں بند کرلی ۔۔
عمر اس کا یہ انداز دیکھ کر مسکرا دیتا ہے اور بائیک آگے بڑھا دیتا ہے۔۔
پورا راستہ مسکان نے عمر کے کان کھاتے ہوئے طے کیا کہ آہستہ چلاؤ آہستہ چلاؤ عمر نے آدھے گھنٹے کا سفر ایک گھنٹے میں طے کر کے اس کے گھر کے آگے بائیک روکی۔۔
مسکان نے بائیک رکتے ہی اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے اس کا گھر تھا وہ بائیک سے اتر کر اپنے گھر کی طرف بھاگی وہ گھر پہنچنے کی خوشی میں سب بھول گئی اور جھٹ سے بھاگ گئی ۔۔۔
عمر جو پہلے ہی جھنجھلا یا ہوا تھا مسکان کو حیرت سے اندر جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔۔
بے مروت کہیں کی اندر لے جانا تو چھوڑو ایک تھینک یو تک نہیں کہا. عمر نے غصے سے بڑبڑاتے ہوئے بائیک اسٹارٹ کی اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔
🌹🌹🌹
حماد اپنے کمرے میں موبائل لینے آتا ہے کہ عمر کو کال کر کے پتا کر سکے وہ کہاں ہے اور اس کی اچھے سے خبر لے پر اس سے پہلے ہی اس کا موبائل بجتا ہے ۔۔۔
ہیلو؟؟؟
اسلام علیکم حماد بھائی مریم بات کر رہی ہوں۔۔۔
اوہ مریم کیسی ہو اور تمہارے سسرال میں سب ٹھیک ہیں تم کب واپس آئی عمرے پر سے؟؟ اس نے ایک ساتھ سب پوچھ لیا.
ہاں بھائی سب ٹھیک ہیں بس کل ہی واپسی ہوئی اور مجھے پتا چلا آپ مجھ سے ملنے آئے تھے گھر. مریم نے مسکرا کر وجہ پوچھی.
ہاں مریم میں علشبہ کا پتا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں میں نے تایا ابو سے بھی پوچھا پر انھوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا اب مجھے ان کے بارے میں کچھ نہیں پتا کون تھے وہ لوگ جہاں علشبہ گئی ہے اور تمہارے سسرال والوں کو تمہارے شوہر کو تو سب پتا ہوگا وہ ان ہی کی طرف سے انوائیٹڈ تھے اس لیے میں آیا تھا کہو تو میں آ کر خود پوچھ لوں. مریم مجھے جلد از جلد علشبہ سے ملنا ہے ورنہ میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا پلیز تم میری مدد کرو. حماد غمگین لہجے میں بولا۔۔۔
بھائی آپ فکر نہیں کریں علشبہ ٹھیک ہوگی میں آپ کو ان سے پوچھ کے بتاتی ہوں آپ پریشان نا ہوں مل جائے گی ہمیں علشبہ. وہ حماد کو حوصلہ دیتے ہوئی بولی۔۔
ہاں اللہ کرے ایسا ہی ہو اور تم بھی اپنا خیال رکھنا اور جیسے ہی پتا چلے مجھے فوراً کال کرنا میں انتظار کرونگا تمہاری کال کا. وہ مریم کو ہدایت دیتے ہوئے بولا۔۔۔
جی بھائی اچھا اللہ حافظ۔۔
ہاں اللہ حافظ۔
🌹🌹🌹
کیا ہوا شاہ میر تیری طبیعت تو ٹھیک ہے آنکھیں بھی لال ہو رہی ہیں کیا ہوا؟؟ انس نے اپنے سامنے ناشتہ کرتے ہوئے شاہ میر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہاں یار ھیک ہوں وہ رات سو نہیں پایا شاید اس لیے ۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا کوئی بات ہوئی ہیے؟؟ کوئی ٹینشن ہے تو بتا مجھے؟؟ انس نے پریشان ہوکر پوچھا۔۔۔
پتا نہیں یار رات سے عجیب بے چینی لگی ہوئی ہے جیسے گھر میں کچھ ہوا ہے. شاہ میر نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں تو گھر کال کر کے بات کر لے ناں کیوں اتنی ٹینشن لی ہوئی ہے. انس نے تھوڑا غصہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
نہیں وووووہ تو چھوڑ میں ٹھیک ہوں جاؤ گا. تجھے کسی کام سے جانا تھا ناں تو جا. شاہ میر نے انس کو مطمئن کرنا چاہا۔۔۔
نہیں میں پہلے تیری ٹینشن دور کردوں روک میں ہی گھر کال کر کے خیریت معلوم کرتا ہوں انس نے موبائل اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں تو کر لے اور اسپیکر کھول دینا. شاہ میر انس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *