Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18

 

میں نے کہا یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے اور تم وہاں کیا کر رہی ہو یہاں آؤ. سفیان صاحب پہلے حماد کو اور پھر عریشہ کو دیکھ کر غراتے ہوئے بولے تو عریشہ علشبہ کو دیکھتی آنکھوں میں نمی لیے ثمینہ بیگم کے پاس آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔
ابو اب علشبہ کہیں نہیں جائے گی وہ یہی رہے گی ہم سب کے ساتھ. حماد علشبہ کی ڈھال بن کر سفیان صاحب کے سامنے کھڑا پورے اعتماد سے بولا۔۔۔
اس کی اب اس گھر میں کوئی جگہ نہیں یہ ہمارے لیے مر گئی تھی اسی دن جاؤ اس کو جہاں سے لائے ہو وہی لے جاؤ. سفیان صاحب نے حماد کو دیکھتے ہوئے وارن کرنے والے انداز میں بولے۔۔۔
تو علشبہ دکھ سے اپنے باپ کو دیکھتی حماد کا بازو پکڑ گئی اور اس کے پیچھے کو ہوگئی. یہ ایک اور رویہ تھا جسے اسے سہنا تھا برداشت کرنا تھا۔۔۔
“کبھی راستے بدل گۓ کبھی ارادے بدل گۓ…
ہم نہ بدلے مگر تیرے وعدے بدل گۓ”…
“محبت کے اندھیرے میں پتھر پگل گۓ…
غیروں سے کیا گلہ جب اپنے بدل گۓ.
یہ اب وہاں کبھی نہیں جائے گی میں نے دیکھا ہے اس کے ساتھ زیادتی ہوتے ہوئے آپ نے ایک بار بھی سوچا علشبہ کو وہاں بھیجنے کے بعد کہ کیا حال ہوگا اس کا کیسی ہوگی وہاں کوئی خیال رکھتا بھی ہوگا اس کا کہ نہیں بھلے ہی آپ نے اس سے اپنا رشتہ ختم کرلیا ہو پر یہ ایسا رشتہ ہے کہ آپ کے کہنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا. حماد علشبہ کو دیکھ کر غمگین لہجے میں بولا۔۔۔
اور ابھی اس کا بھائی زندہ ہے میں پہلے اس کے ساتھ نہیں تھا پر اب ہو اور اپنی بہن کا اچھے سے خیال بھی رکھ سکتا ہوں اور سب سے لڑ بھی سکتا ہوں. حماد نے پر عزم ہو کر کہا تو عریشہ اپنے بھائی پر رشک کرنے لگی اور ہلکا سا مسکرا دی ۔۔
ٹھیک ہے اگر آپ نہیں چاہتے کہ علشبہ یہاں رہے تو میں بھی اس کے ساتھ جاؤں گا میں کہیں بھی لے جاؤں گا أسے پر علشبہ کو اب اس گھر میں نہیں جانے دونگا. وہ فیصلہ کن لہجے میں سفیان صاحب کو دیکھتے ہوئے بولا اور روتی ہوئی علشبہ کا ہاتھ پکڑتا گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔
تم کہاں جارہی ہو؟؟ سفیان صاحب لائبہ کو حماد اور علشبہ کے پیچھے جاتے دیکھ کر بولے ۔
میں بھی اپنے شوہر کے ساتھ جاؤ گی جن کی وجہ سے میں اس گھر میں آئی اگر وہ نہیں رہیں گے تو میں بھی نہیں رہوں گی. وہ بڑے اعتماد سے سفیان صاحب کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
نہیں تم کہیں نہیں جاؤ گے. سفیان صاحب غصے سے لائبہ کو روکتے ہوئے بولے ۔۔
نہیں ابو میں اپنے شوہر کو ایسے مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی اور آپ یہ بات کہہ رہے ہیں جو اپنی بیوی کو اپنی ہی اولاد سے دور رکھے ہوئے ہیں اور ایک امی ہیں کہ جو اپنی مامتا کا گلا گھونٹ کر صرف اور صرف اپنے شوہر کا ساتھ دے رہی ہیں. جب آپ اپنی بیوی سے ایسی امید رکھتے ہیں تو میرا بھی پورا حق ہے اور میں ان کا ساتھ ضرور دونگی. وہ امرین بیگم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سفیان صاحب کو ان کا کیا یاد دلاتے ہوئے بولی اور امرین بیگم کے گلے لگ گئ۔۔
آپ پریشان نا ہوں میں خیال رکھوں گی دونوں کا اور کال کروں گی اچھا اب میں چلتی ہوں. لائبہ امرین بیگم کے کان کے قریب آہستہ سے بول کر ان کو حوصلہ دیتی گھر سے نکل گئی۔۔۔
پیچھے سفیان صاحب لائبہ کو جاتے دیکھ اور اس کی باتیں سن چپ کر کے اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔
بھائی یہ آپ نے کیا کیا میری وجہ سے آپ نے گھر چھوڑدیا. آپ جائیں میں کہیں بھی… علشبہ روتے ہوئے بس اتنا ہی بول پائی اور چپ کر گئی ۔۔
شش چپ بلکل میں زندہ ہوں ابھی فیصلہ لینے کیلئے اور تم ابھی اتنی بڑی نہیں ہوئی جو میری بات ان سنی کرو اور خود سے فیصلے کرو اور میں اتنا بے غیرت نہیں جو اپنی بہن کو بے یارو مددگار چھوڑ دوں اور تم اب ایک لفظ نہیں بولو گی جاؤ گاڑی میں جاکر بیٹھو. حماد علشبہ کو ڈپٹتے ہوئے غصے میں بولا تو علشبہ جلدی سے گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی۔۔
رکیں،، حماد گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جب پیچھے سے لائبہ نے آواز دے کر حماد کو روکتے ہوئے کہا۔۔۔
آپ کہاں جا رہے ہیں؟؟ لائبہ ہانپتی ہوئی حماد کے قریب رکتے ہوئے بولی ۔۔
کہیں بھی پر علشبہ کو میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا. وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔
پر تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟
آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر جارہے تھے ؟وہ حماد کا سوال ان سنا کر کے الٹا حماد سے سوال کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
حماد جو اپنے ہی دیھان میں تھا لائبہ کو دیکھنے لگا ۔۔
ٹھیک ہے آپ کو میرا خیال نہیں تو مجھے بھی نہیں پر مجھے بھی آپ لوگوں کے ساتھ جانا ہے. وہ مصنوعی غصّہ دیکھاتے ہوئے اپنا فیصلہ بتاتے ہوئے بولی۔۔
پر مجھے خود نہیں پتا کہ ہم کہاں جائیں گے تم یہیں رہو. حماد پریشان ہوتے ہوئے بولا وہ علشبہ کو اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا اور لائبہ کو اپنے ساتھ خوار بھی نہیں کر سکتا تھا. اسے خود نہیں پتا تھا کہ وہ کہاں جائیں گے پر اب لائبہ کی بات سن کر اسے اچھا لگا تھا۔۔۔
نہیں ہم جائیں گے تو سب ساتھ اور ہے ناں ہمارا گھر وہاں جائیں گے. وہ حماد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
ہمارا گھر؟
ہاں جیسے آپ کا گھر میرا ہوا اسی طرح میرا گھر بھی آپ کا ہوا ناں وہ ویسے بھی کافی ٹائم سے بند ہے ہم وہاں جائیں گے ۔
پر وہاں کیسے؟
چلیں جلدی دیر ہورہی ہے اور ویسے بھی میری دوست کو میری ضرورت ہے. وہ حماد کے سوال کو نظر انداز کرتی ہوئی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی ۔۔۔
تو حماد اتنی پریشانی میں بھی لائبہ کا یہ انداز دیکھ کر مسکرا دیا اور گاڑی کی طرف قدم بڑھا دیے ۔۔
🌹🌹🌹
نکل جاؤ اس گھر سے اور کبھی یہاں نظر نہیں آنا. احد غصے سے مہک کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں یہ میری بہن ہے اور آپ کیسے؟؟ رامین احد کی بات سن کر صدمے سے بولی ۔۔
بہن ہے تو کس نے حق دیا اسے ہمارے گھر کے معاملے میں بولنے کا. وہ غصے سے بھپرا ہوا رامین کی طرف پلٹتا ہوا بولا۔۔۔
ہاں تو احد بھائی کیا غلط کہا میں نے جو سچ تھا وہ ہی بولا وہ جھوٹی علشبہ،، ابھی مہک کی زبان اور چلتی ایک اور تھپڑ اس کی بولتی بند کر گیا وہ پھٹی پھٹی نظروں سے ثمینہ بیگم کو دیکھنے لگی۔۔۔
خبردار جو اب تم نے میری بہو کے خلاف کچھ بھی کہا تو یہ سب کچھ تمہارا کیا دھرا ہے تم نے علشبہ کو اس گھر سے چلے جانے پر مجبور کیا. وہ تھپڑ کی صورت اپنا غصّہ مہک پر اتارتے ہوئے پھٹ پڑیں۔۔۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو نکلو یہاں سے مجھے تم اب اس گھر میں نظر ناں آؤ. احد مہک کو ثمینہ بیگم کو گھورتے پاکر بولا۔۔۔
یہ آپ لوگ… رامین احد کا غصہ دیکھ ڈرتے ہوئے آہستہ سے بولی ۔۔۔
(جاوید صاحب اور احد کے آفس سے گھر آتے ہی مسکان نے ان دونوں کو سب کچھ بتا دیا جسے سن کر جاوید صاحب چپ کر کے ایک طرف صوفے پر نڈھال سے بیٹھ گئے اور احد کا غصے سے برا حال ہوگیا وہ مہک کی شاہ میر کو اپنی طرف رجھانے والی کوشیشیں بھی دیکھ چکا تھا اور اس کی کئی لڑکوں سے بے تکلفی سے بھی واقف تھا اور اس کی زبان سے بھی)۔۔
تم کیا چاہتی ہو زیادہ اپنی بہن کی فکر ہورہی ہے تو جاؤ تم بھی اپنی بہن کے ساتھ میں اپنے گھر میں ایسے شخص کو کبھی برداشت نہیں کرسکتا جو میرے گھر میں آگ لگائے اور اپنے شیطانی دماغ سے اسے تباہ کرنے کی کوششوں میں لگ جائے. احد مہک کو کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک بار پھر رامین کو دیکھا جس پر رامین نے اپنا سر نیچے کو جھکا لیا ۔۔۔
چلو نکلو. احد ایک بار پھر دھاڑتے ہوئے بولا وہ کافی ٹائم سے مہک کی رامین کو بھڑکانے والی عادت سے واقف تھا اور برداشت کیے ہوا تھا پر آج جو کچھ اس نے علشبہ کے ساتھ کیا اس ٹھنڈے ٹھار مزاج والے شخص کا غصہ بھی سوا نیزے پر پہنچ گیا اور وہ بنا کچھ سوچے سمجھے رامین کو بھی بول گیا۔۔۔
مہک اپنے اتنے بے عزت ہونے پر رامین کو چپ دیکھ کر تلملاتی ہوئی پیر پٹختی گھر سے چلی گئی۔۔۔
🌹🌹🌹
آج پورے دو مہینے بعد شاہ میر گھر واپس آیا تھا سب لوگ ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھے تھے ۔۔
بھائی؟مسکان شاہ میر کو دیکھتے ہوئے کھڑی ہوگئی تبھی سب نے بھی شاہ میر کو دیکھا۔۔۔
سب لوگ حیرت سے شاہ میر کو دیکھ رہے تھے ایک اسد ہی تھا جسے حیرت یا خوشی سے زیادہ غصہ آرہا تھا اسے بھی علشبہ کے گھر سے جانے والی بعد پتا چل گئی تھی اور وہ شاہ میر سے بہت خفا تھا اور چاہتا تھا کے کہیں سے شاہ میر سامنے آئے تو وہ اس سے وجہ پوچھے کے اتنی اچھی لڑکی کے ساتھ اس نے اتنا برا کیوں کیا ۔۔۔
مجھے معاف کر دینا یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا شاہ میر۔۔
نہیں ڈیڈ آپ نے.. ابھی شاہ میر آگے کچھ بولتا جاوید صاحب نے شاہ میر سے معافی مانگی اور اس کی سنے بغیر خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے انھیں بہت صدمہ پہنچا تھا علشبہ کا اس طرح سے گھر چھوڑ کے جانا پر اس سب میں وہ سب سے زیادہ اپنا قصور سمجھتے تھے تو شاہ میر سے کیا کہتے۔۔۔۔۔
کہاں جارہے ہو اسد ؟ شاہ میر نے باہر کی طرف جاتے ہوئے اسد کے سامنے آتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔
مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ہٹیں میرے آگے سے ۔
اسد کیا ہوا ؟ شاہ میر نے حیرت سے پوچھا۔( اسد نے شاہ میر سے کبھی اس لہجے میں بات نہیں کی تھی )
کیا ہوا آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں۔ وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔۔
مجھے آپ پر غصہ نہیں ترس آرہا ہے بھائی آپ نے بھابھی کے ساتھ برا نہیں اپنے ساتھ کیا ہے ارے وہ تو بنا کسی غرض کے آپ کو کتنا چاہتی تھیں اور ایک آپ… اسد شاہ میر کو دیکھ کر نم لہجے میں بولتا بات اُدھوری چھوڑ کر گھر سے نکل گیا۔۔۔
چاہتی تھی؟ شاہ میر اسد کی بات سن کر دنگ رہ گیا تھا تھی
کا کیا مطلب وہ اپنے دل میں ڈر کر سوچ کر رہ گیا تھا اب وہ ثمینہ بیگم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
احد بھی شاہ میر سے خفا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا رامین بھی احد کے پیچھے چلی گئی ۔۔۔
ثمینہ بیگم جو کافی دیر سے کھڑی شاہ میر کو دیکھ رہی تھی اب اس کے سینے سے لگی رونے لگیں کافی دیر جب وہ رو چکیں تو شاہ میر نے انھیں اپنے سے الگ کر کے آنسو پونچھے. اب وہ پیچھے کھڑی مسکان کو دیکھ رہا تھا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی طرف بلایا وہ اس کی وجہ سے بہت پریشان تھا اس دن کے حادثے کے بعد اب اسے خود کے سامنے دیکھ کر تسلی ہوئی تھی۔۔۔۔
بھائی علشبہ بھابھی گھر چھوڑ کر چلی گئیں. شاہ میر کے بلانے کی دیر تھی مسکان اس سے لپٹ کر روتے ہوئے بتانے لگی اور شاہ میر کے لیے یہ پہلا جھٹکا تھا جو اسے ملا تھا.
_____
ارے ہیلو ارے سنو بھئی مر جاؤ گے آگے سے ہٹو؟
عریشہ بھاگتی ہوئی گئی اور اس شخص کو بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا.
کیا پاگل ہوگئے ہو مرنے کا شوق چڑھا ہے کیا؟؟ عریشہ غصے میں بولی ۔۔۔۔
اوووہ تم… عریشہ اسد کو دیکھتے ہوئے بولی بہرے ہو کب سے آوازیں دے رہی ہوں ۔۔
کسی لڑکی نے دھوکا دے دیا جو مجنوں بنے پھر رہے ہو؟؟؟ عریشہ نے اسد کا اترا ہوا منہ دیکھ کر پوچھا.
(عریشہ جو اسٹاپ پر اپنی دوست سجل کے آنے کا انتظار کر رہی تھی سامنے کسی شخص کو بیچ روڈ پر اپنے خیالوں میں مگن چلتے ہوئے دیکھا تو آواز دی۔۔
پر پھر سامنے سے گاڑی آتی ہوئی دیکھی تو بھاگ کر اسے بچایا پر اب اسد کو دیکھ کر اسے سچ میں حیرت ہوئی تھی)
اندھے بہرے کے ساتھ گونگے بھی ہوگئے ہو کیا ؟ عریشہ جو کب سے بولے جارہی تھی اسد کو چپ دیکھ کر اسے تپ چڑھی ۔۔۔
کچھ نہیں تھینک یو۔۔
اسد عریشہ کو جواب دیکر بولتے ہوئے آگے نکل گیا۔۔
عریشہ حیران ہوکر اس شخص کو دیکھنے لگی جس کو لڑنے کا بہانا ملنا چاہیے ہوتا تھا پر آج۔۔
لگتا ہے کسی پریشانی میں ہے پر کیا پریشانی ہوسکتی ہے؟؟؟ عریشہ سوچتے ہوئے بولی۔۔ پر پھر سر جھٹک کر بولی عریشہ کچھ بھی پریشانی ہو پر تجھے کیا.. عریشہ خود ہی سوال کرتی اور خود کو ہی ٹوکتی سامنے سے آتی ہوئی سجل کی طرف بڑھ گئی۔۔
(اسد شاہ میر سے خفا ہوکر گھر سے باہر پیدل نکل آیا وہ اپنے خیالوں میں اتنا گم تھا کہ کب وہ چلتے چلتے بیچ روڈ پر پہنچا اسے کچھ پتا ہی نہیں چلا وہ علشبہ کو لیکر بھی پریشان تھا کہ کیسے وہ اس کا سامنا کرے گا کتنا گھٹیا الزام لگایا تھا اس کو لیکر مہک نے وہ اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا اور سب سے زیادہ اسے شاہ میر پر غصہ تھا کے وہ ایسے وقت میں کیوں نہیں تھا )
🌹🌹🌹
بھائی علشبہ بھابھی گھر چھوڑ کر چلی گئیں.. شاہ میر کے بلانے کی دیر تھی مسکان اس سے لپٹ کر روتے ہوئے بتانے لگی اور شاہ میر کے لیے یہ پہلا جھٹکا تھا جو اسے ملا تھا۔۔۔
وہ اپنے سے مسکان کو الگ کرتے ہوئے حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔
ہاں بھائی یہ سچ ہیں اوررر وہ،،،
وہ اور کو کھینچنے لگی تو شاہ میر ڈرتے ڈرتے بولا اور کیا۔۔۔
بھائی میں پھوپھو بننے والی ہوں اور آپ مسکان نے اور آپ پر رک کر شاہ میر کو دیکھا اور پھر بات آگے بڑھائی۔۔
اور آپ پاپا۔۔
شاہ میر حیرت اور بے یقینی سے مسکان کو دیکھنے لگا اب وہ بے یقین نظروں سے پیچھے کھڑی ثمینہ بیگم کو دیکھنے لگا جنہوں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
🌹🌹🌹
علشبہ یہ لو کھانا کھالو تمہیں میرے ہاتھ کی بریانی بہت پسند تھی نا میں نے آج وہ ہی بنائی ہے صرف تمہارے لیے. لائبہ نے پیار سے علشبہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور کھانے کی ٹرے بیڈ پر بیٹھی علشبہ کے آگے رکھ دی اور خود بھی بیٹھ گئی۔۔۔
نہیں میرا دل نہیں کر رہا لائبہ پلیز… وہ برے برے منہ بناکر بولی ۔۔
ایسے کیسے دل نہیں کر رہا کھانا تو کھانا پڑے گا چلو کھاؤ شاباش ۔۔
نہیں لائبہ علشبہ نے ایک بار پھر منع کیا تو لائبہ نے اپنے بیچ سے ٹرے اٹھا کر سائیڈ پر رکھی اور اس کے قریب ہوکر بیٹھ گئی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔
کیا بات ہے علشبہ؟
کچھ بھی نہیں. علشبہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔
دیکھو علشبہ میں تمہیں بچپن سے جانتی ہوں اور شاید تم اپنے آپ کو اتنا نا جانتی ہو جتنا میں تمہیں جانتی ہوں تو بتاؤ کیا بات ہے ۔۔
لائبہ کیا میں اتنی بری ہوں کہ کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا سب مجھے چھوڑ دیتے ہیں… علشبہ نے شاہ میر اور سفیان صاحب کا رویہ دیکھ کر بدظن ہوکر کہا ۔۔
نہیں علشبہ تم تو بہت پیاری اور اچھی ہو اور یہ تم نے کیوں سوچا ہم سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں اور تم انکل کی طرف سے بدظن نا ہو انھیں تھوڑا وقت دو وہ ٹھیک ہو جائیں گے. تم ان کی اولاد ہو اور آخر کب تک وہ تم سے منہ موڑیں گے دیکھنا تمہارے لیے ان کی محبت ان کو ایک دن تمہاری طرف کھینچ کر ضرور لائے گے. وہ اس کو پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی۔۔
میں جانتی ہوں لائبہ کے جو کچھ بھی ہوا اس میں ابو کی کوئی غلطی نہیں انہوں نے بچپن سے میرا بہت خیال رکھا اور ہم سب بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ پیار بھی مجھے کیا اور انھیں مجھ سے ایسی امید بلکل بھی نہیں تھی تبھی وہ اتنا ریئکٹ کر جاتے ہیں. وہ بچپن سے لے کر اب تک ساری یادیں یاد کرتے ہوئے مسکرا کر بولی۔۔۔
پر؟؟
کیا پر علشبہ؟
پر انھوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟؟ وہ لائبہ کے گلے لگ کر روتے ہوئے بولی۔۔
(اسے اب کسی اپنے کا کندھا نصیب ہوا تھا جس پر وہ اپنا دل کھول کر بیان کر سکے اور رو سکے
مجھے نہیں پتہ لائبہ کہ وہ مجھے کب اچھے لگنے لگے اور مجھے ان سے محبت ہوگئی پر میں ان کی زندگی میں زبردستی لائی گئی ہوں. وہ مجھے بلکل پسند نہیں کرتے اور اب میں وہاں کبھی نہیں جاؤں گی پر مجھے وہ سب کچھ نہیں بھولتا میں کیا کروں؟
اور میرا بچہ.. وہ ہچکیوں کے بیچ روتے ہوئے بولی پر نہیں مجھے اب اپنے بچے کیلئے مظبوط بننا ہے وہ اب لائبہ سے الگ ہوتے ہوئے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی ۔۔
مجھے پتا ہے میری دوست بہت بہادر ہے اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی تم ہاری نہیں اور یہ ہی تمہاری جیت ہے اور بلکل اب ہم سب ساتھ ہے. تم اب اپنے آپ کو بلکل اکیلا ناں سمجھنا اور اب چلو کھانا کھاؤ. یہ ہمارے آنے والے چھوٹے سے بےبی کیلئے بہت ضروری ہے کہ تم اپنا خیال رکھون لائبہ نے اس کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
🌹🌹🌹
(آج وہ کافی ٹائم بعد دوکان آئے تھے جب سے حماد نے اپنے اوپر ذمہ داری لی تھی وہ بہت کم ہی دوکان پر جاتے تھے پر حماد کے گھر چھوڑنے کے دو دن بعد آج وہ دوکان آئے تھے. انہیں لگا تھا کہ حماد دوکان نہیں آئے گا پر وہ تو اس کے دوسرے دن سے ہی کام سنبھال رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو اور اسی طرح کام میں مگن تھا. وہ پر سکون ہو کر دوکان کے باہر سے ہی واپس مڑ گئے وہ بھول گئے کہ چاہے کچھ بھی ہو حماد اپنی زمہ داریوں سے کبھی منہ نہیں موڑتا)
ہاں بولو لائبہ سب ٹھیک ہے؟ علشبہ ٹھیک ہے؟ ۔حماد کام میں مگن سا موبائل کان سے لگائے پریشانی سے بولا ۔۔۔
ہاں سب ٹھیک ہے اور علشبہ بھی سو رہی ہے اور آپ یہ بتائیں کہ آپ نے کھانا کھایا یا اسی طرح کام میں مصروف ہیں؟ ۔لائبہ نے پریشانی سے پوچھا۔
ہاں بس وہ ابھی کھاتا ہوں. وہ اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا جانتا تھا اب وہ ناراض ہو جائے گی ۔۔۔
(وہ جب سے گھر چھوڑ کر آئے لائبہ نے اسے اور علشبہ کو بہت اچھے سے سنمبھالا ہوا تھا )
آپ نے ٹائم دیکھا ہیں اب تو رات ہونے والی ہے اور آپ نے اب تک دوپہر کا کھانا تک نہیں کھایا. وہ غصّے اور پریشانی کے ساتھ بولی اور جھٹ سے کال کٹ کر دی۔۔۔
لو ہوگیا کام حماد اب کیسے منائے گا اپنی بیگم کو. وہ سر کھجاتے ہوئے پریشانی کے بیچ مسکراتے ہوئے کام کو ختم کرتے ہوئے بولا اور اب موبائل پر کال ملانے لگا دوسری طرف رنگ جا رہی تھی۔۔
ہاں ہیلو عمر ۔۔
بھائی کیسے ہو آپ اور آپی وہ کیسی ہیں میں نے تو انہیں دیکھا تک نہیں۔عمر نے مایوسی سے کہا۔۔
ہاں عمر سب ٹھیک ہے اور تم علشبہ کی فکر نہیں کرو وہ اب ٹھیک ہے۔ اور تم یہ بتاؤ گھر میں سب ٹھیک ہیں اور ابو وہ ٹھیک ہیں ؟
ہاں بھائی سب ٹھیک ہیں اور ابو بھی آپ پریشان نا ہوں بس امی پہلے تھوڑی پریشان تھی اور رو رہی تھیں پر لائبہ بھابھی کی کال آئی تھی انھوں نے بات کی ان سے اور آپی سے بھی بات کروائی اب وہ ٹھیک ہیں۔۔
اچھا تم سب کا خیال رکھنا گھر میں اوکے۔حماد عمر کو سمجھاتے ہوئے اب وارن کرنے والے انداز میں بولا اور کال کٹ کر دی۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *