Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31

ہمم تمہیں گول گپے اتنے پسند ہیں؟ وہ اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھنے لگا تو مسکان اسے دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں اب کہیں سے بھی غصے کا نام و نشان نہیں تھا تو وہ تھوڑی ریلیکس ہوئی.. عمر اس کیلئے اتنا اہم ہوگیا تھا کے اس کا غصہ دیکھ کر ہی وہ بوکھلا گئی تھی۔۔اور اب اگلے ہی پل اس کی آنکھیں بھیگی تھیں ۔۔
ارے یار رو کیوں رہی ہو میں نے کچھ کہا کیا.. وہ اس کے قریب آکر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔تو وہ نہ میں سر ہلانے لگی ۔۔
پھر؟
وہ آپ ناراض ہوئے مجھے اچھا نہیں لگا۔وہ منہ بنا کر معصومیت سے بولی۔۔تو عمر کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔۔۔
اچھا پکا اب کبھی ناراض نہیں ہونگا نہ غصہ کروں گا. وہ اس کے بہتے ہوئے آنسو کو چنتے ہوئے بولا پر تم بھی اب ایسی غلطی نہیں کرو گی.. میں نہیں چاہتا میری پیاری سی بیوی کو کوئی دوسرا دیکھے وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولتا اس کے گال کو کھینچ گیا۔۔۔
کیا ہے میں کوئی بچی ہوں کبھی ناک کھنچتے ہو کبھی گال.. وہ اب غصے سے ناک پھلا تے ہوئے بولی۔۔ تو عمر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا اچھا ایسے اس نے ایک بار پھر شرارت سے اس کی ناک کھینچی ۔
ہٹیں مجھے کوئی بات ہی نہیں کرنی آپ سے۔۔ وہ کہتی ہوئی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی ۔۔
ارے ایسے کیسے اتنا پیارا موسم ہے نصیب سے تو زہے نصیب ہمارے سامنے آئے ہیں.. وہ سر کو خم دیتے ہوئے بولا تو مسکان بھی ہنس دی ۔۔
شکر ہنسی تو صحیح ورنہ مجھے تو لگا تھا اب تو پیروں میں ہی گرنا پڑے گا۔۔ وہ پھر چھیڑتے ہوئے بولا جس پر مسکان نے اسے ایک مکا جڑ دیا ۔۔۔
ایک تو کبھی دھکے دے کر کمرے سے نکالتی ہو کبھی گلدان اٹھاتی ہو اب ہاتھوں سے بھی شروع کر دیا مارنا صحیح کہتے ہیں اصل میں شوہر پر ہی ظلم ہوتا ہے وہ ہی مظلوم ہوتا ہے بیچارا۔۔ وہ ایسے بلبلاتے ہوئے بولا جیسے کسی پہلوان نے مارا ہو ۔۔۔
عمررررر… وہ جھنجھلا کر غصے سے چبا چبا کر بولی ۔۔
اچھا اچھا سوری وہ کان پکڑتے ہوئے بولا۔۔
اب چلو تمہیں اپنی شاہی سواری کی سیر کراتے ہیں.. وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بائیک کی طرف لے جا کر خود بیٹھ کر اس کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔جس پر مسکان کھلکھلا کر ہنستی ہوئی پیچھے بیٹھ گئی آج اسے بائیک سے ڈر نہیں لگ رہا تھا وہ جانتی تھی جس کے ساتھ وہ ہے وہ اس کی حفاظت اپنی جان سے زیادہ کرے گا پر پھر بھی وہ عمر کو مظبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گئی آخر وہ اس کا شوہر تھا اسے کس بات کا ڈر عمر کا بھی اس کے اتنے حق سے پکڑنے پر دل سرشار ہوگیا تھا اور اس نے مسکراتے ہوئے بائیک کو آگے بڑھا دی۔۔
🌹🌹🌹
تم نے پوچھتے تھے نا کتنا پیار ہے تم سے لو
اب گن لو بوندیں بارش کی..
شاہ میر ٹیرس کی طرف آتا ہے جہاں پہلے سے ہی علشبہ بارش میں بھیگتی ہوئی نظر آتی ہے جو باہر کے نظارے دیکھنے میں مصروف ہوتی ہے۔۔
علشبہ کو اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوتا ہے تو وہ مڑنے ہی لگتی ہیں پر اس کا پیر پھسلتا ہے اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی شاہ میر اسے پھرتی سے تھام لیتا ہے شاہ میر کو اپنی علشبہ کی پہلی ملاقات یاد آتی ہے جو اسی طرح ہوئی تھی۔۔
شاہ میر علشبہ کے چہرے کو دیکھتا ہے جس نے ڈر سے آنکھیں میچی ہوئی تھیں اور پانی کی بوندیں جو اس کے صاف شفاف چہرے پر گر رہی اور کچھ آوارہ لٹیں تھیں جو اس کے چہرے کا بوسہ لے رہی تھیں. شاہ میر نے ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے سے بال ہٹائے تو علشبہ نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول دیں اور سیدھی کھڑی ہوگئی۔
پر شاہ میر نے اس کی کمر سے اپنے ہاتھ نہیں ہٹائے اور نا ہی علشبہ نے ہٹانے کی کوشش کی۔ اب وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے علشبہ بھی اس کی آنکھوں میں کھو سی گئی تھی وہ سب کچھ بھول گئے تھے انھیں یاد تھا تو صرف یہ کہ وہ ایک پاک اور جائز رشتے میں بندھے ہوئے ہیں ۔۔
شاہ میر نے آہستہ سے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تھے. جس پر علشبہ ایک بار پھر اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی پر گرنے کے ڈر سے نہیں اس کی قربت سے اس کی بڑھتی ہوئی نزدیکیوں سے پر اندر ہی اندر اسے ایک سکون سا محسوس ہوا تھا کہ آج اس کی محبت اسے جکڑ رہی تھی.. آج شاہ میر کی آنکھوں میں اسے بھی وہی محبت نظر آئی تھی جو اس کے دل میں تھی شاہ میر کیلئے۔۔
بھابھی وہ وفا رو رہی ہے.. تبھی ثمرین آتی ہے علشبہ کو بلانے۔۔ تو علشبہ جھٹ سے شاہ میر سے الگ ہوکر نیچے کو بھاگ جاتی ہے تو شاہ میر مسکراتا ہوا آسمان کی طرف دیکھتا ہے آج علشبہ نے اسے اپنے آپ سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی.. آج اس کی آنکھوں میں کوئی گلہ شکوہ ناراضگی نظر نہیں آئی تھی اج شاہ میر بہت خوش تھا اور یہ خوشی وہ بارش میں بھیگتے ہوئے منا رہا تھا۔۔۔
_______
علشبہ فریش ہو کر نکلی تو شاہ میر کو آتا دیکھا جو بڑے مزے سے بیڈ پر کھانے کی ٹرے رکھ رہا تھا اور علشبہ اسے دیکھ رہی تھی۔۔
شاہ نے ٹرے بیڈ پر رکھ کر علشبہ پر نظر ڈالی جس کے گیلے بال اس کے پشت پر تھے اور چہرے پر ابھی بھی پانی کی بوندیں تھیں جو شاہ میر کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے کافی تھیں اور بغیر دوپٹے کے کھڑی وہ اسے ہی گھور رہی تھی۔۔
شاہ میر نے لمبی سانس کھینچ کر اپنی نظروں کا زاویہ وفا کی طرف کیا جو بیڈ پر لیٹی کھیل رہی تھی. شاہ میر نہیں چاہتا تھا وہ اس وقت بہکے.. وہ علشبہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنا چاہتا تھا۔۔۔
تو دوسری طرف علشبہ کو اس کا منہ پھیرنا سلگا گیا تھا وہ وہیں کھڑی غصے میں اب اسے گھور رہی تھی۔۔
پاپا کی جان.. شاہ میر بیڈ پر بیٹھ کر وفا پر جھکا پیار کر رہا تھا اور وہ کھلکھلا رہی تھی۔۔
وفا آپ اپنی ماما کو کہیں اس طرح نا گھورے آپ کے پاپا کو نظر بھی لگ سکتی ہے۔وہ وفا کو دیکھا ہوا بول رہا تھا اور سنا علشبہ کو رہا تھا۔جس کا اس کی بات پر منہ کھل گیا تھا۔۔
وفا آپ اپنی ماما کو کہیں منہ بند کریں اور آکر کھانا کھا لیں۔ وہ بنا علشبہ کی طرف دیکھے وفا کو کہہ رہا تھا۔ کہ جیسے وہ سب سمجھ رہی ہے اور ابھی بھاگتی ہوئی جاکر کہے گی جس پر اب علشبہ کی بس ہوگئی تھی وہ سلگتے ہوئے اس کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
وفا آپ بھی اپنے پاپا کو کہیں اپنی ٹرے اٹھائیں اور یہاں سے چلتے بنیں ۔۔وہ غصے سے بھری اسی کی طرح بول رہی تھی پر نظر شاہ میر پر تھی ۔۔۔
شاہ میر کے اندر ایک خوشی کی لہر سی دوڑ اٹھی تھی جو علشبہ کے “اپنے پاپا” کہنے سے ہوئی تھی ورنہ اب تک وہ صرف میری بیٹی میری بیٹی کہتی آئی تھی ۔وہ اپنی خوشی چھپا کر کھڑا ہوتا اس کی طرف مڑا تھا ۔۔۔
علشبہ کھانا کھا لو۔۔اس نے اسے دیکھ کر تحمل سے کہا۔۔۔
مجھے نہیں کھانا آپ جائیں یہاں سے۔وہ ناراض ہوتی آہستہ آواز میں بولی۔۔
شاہ میر نے اس کے قریب بڑھ کر اسے بازوؤں سے تھام کر بیڈ پر بٹھایا اور خود بھی اس کے سامنے بیٹھ گیا اور کھانے کی ٹرے ان کے بیچ تھی۔۔
علشبہ اسے ہی دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا جیسا پہلے ہوتا تھا۔اس کو شاہ میر کا سپاٹ سا انداز بہت برا لگ رہا تھا ۔۔
شاہ میر نے نوالہ بنا کر اس کی طرف بڑھایا تو اس نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔۔
علشبہہہ وہ تھوڑا برہمی سے بولا۔۔
نہیں کھانا بولا نا۔۔وہ اب چاہ رہی تھی شاہ میر اس سے بات کرے۔
علشبہ تم بچی نہیں ہو ایک بچی کی ماں ہو اور کیوں نہیں کھایا تم نے تمہیں پتا ہے نا تمہیں وفا کو بھی سنمبھالنا ہوتا ہے۔۔وہ اس کو اب ڈانٹنے لگا تھا اسے سچ میں ثمینہ بیگم سے پتا چلنے پر غصہ آیا تھا ۔۔
ہاں تو آپ نے کون سا کھایا تھا اور ویسے بھی دو ٹائم کا نہ کھانے سے میں م ۔۔۔۔وہ بنا سوچے سمجھے بول رہی تھی پر شاہ میر نے اس کے لفظ پورے ہونے سے پہلے ہی اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا جس پر اس کی چلتی ہوئی زبان رکی ۔۔
وہ اسے غصے سے کڑے تیور لیے گھور رہا تھا۔جس پر علشبہ کو اپنی بات کا احساس ہوا تو اس نے اپنی نظریں نیچے جھکا لیں۔۔۔
تمہارے منہ سے میں آئندہ اب ایسی کوئی بکواس نا سنوں. وہ اس کا چہرہ اوپر کر کے برہمی سے بولا۔۔اور پھر سے اس کی طرف نوالہ بڑھایا جس پر علشبہ نے اسے دیکھتے ہوئے کھا لیا ۔
شاہ میر نے دوبارہ نوالہ بڑھایا تو علشبہ نے بھی جلدی سے اس کی طرف بڑھایا ۔جس پر شاہ میر نے مسکرا کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں سے مس کرتا کھالیا ۔شاہ میر کے ایسا کرنے پر علشبہ کا دل زور سے دھڑکا اور اب وہ دونوں ایک دوسرے کو ہی دیکھ رہے تھے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے کو کھانا کھلا گئے تھے۔۔
علشبہ کی نظریں آج شاہ میر پر سے ہٹ نہیں رہی تھیں. وہ اپنے آپ کو اب اس کے سامنے کمزور ہوتا محسوس کر رہی تھی وہ معاف تو پہلے ہی کر چکی تھی پر بتانے سے ڈر رہی تھی۔۔تو دوسری طرف شاہ میر تھا جو آج بہت خوش تھا ۔۔
وفا کے رونے پر دونوں کا سکتہ ٹوٹا تھا وہ دونوں اب ایک دوسرے کے سحر میں جکڑ رہے تھے ۔علشبہ نے نظریں چرا کر جلدی سے وفا کو اٹھایا تھا اور اسے چپ کرانے لگی ۔۔۔
اب تم بھی آرام کرو۔وہ وفا کو پیار کرتا علشبہ کے گال پر ہاتھ رکھ کر کہتا ٹرے اٹھائے کمرے سے نکل گیا۔۔۔پر آج علشبہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں پائی تو دوسری طرف شاہ میر چاہتا تھا وہ اسے خود روکے اور اسے پورا یقین ہوگیا تھا وہ دن بہت جلد آنے والا ہے جب وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر خود روکے گی ۔۔۔
🌹🌹🌹
شاہ میر آفس جانے کی وجہ سے جلدی اٹھ گیا تھا. وہ ناشتے کیلئے کچن کی طرف بڑھ رہا تھا تبھی رامین نے اسے روک لیا۔۔۔
کیا ہوا بھابھی ؟
شاہ میر مجھے تم سے ایک فیور چاہئیے۔ رامین نے کہا۔۔
جی کہیں بھابھی۔۔وہ رامین کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
شاہ میر مہک کیلئے رشتہ آیا ہے بہت ہی اچھا گھرانا ہے اور لڑکا بھی اچھا ہے پر مہک ہے کہ مان ہی نہیں رہی. تم اس کو سمجھاؤ اچھے رشتے بار بار نہیں ملتے مجھے یقین ہے وہ تمہاری بات ضرور سنے گی۔ رامین نے اسے آس بھری نظروں سے دیکھ کر کہا۔۔
پر بھابھی میں۔۔شاہ میر کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔۔
ہاں شاہ میر وہ اب تمہاری سنتی ہے پلیز تم بات کرو اس سے ۔۔
ٹھیک ہے بھابھی میں کر لوں گا۔وہ رامین کے چہرے پر پریشانی دیکھتے ہوئے ہاں کر گیا۔۔
تھینک یو تم شام کو جلدی آجانا میں نے مہک کو یہیں بلا لیا ہیں ۔۔۔
ٹھیک ہے بھابھی میں جلدی آجاؤں گا پر یہ تھینکس نہ کریں آپ کا چھوٹا بھائی ہوں آپ صرف حکم کریں ہم حاضر ہیں۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا جس پر رامین ہنس دی ۔۔
علشبہ کچن میں سے ہی دونوں دیور بھابھی کو باتیں کرتے دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ شاہ میر کیلئے جلدی سے ناشتہ بھی تیار کر رہی تھی۔۔۔
شاہ میر ناشتے کیلئے ٹیبل پر آکر بیٹھا تو علشبہ نے جلدی سے ناشتہ اس کے آگے رکھا۔شاہ میر اسے غور سے دیکھ رہا تھا اور علشبہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی جلدی سے بول کر چائے لینے چلی گئی۔ جس پر شاہ میر مسکراتا ہوا پراٹھے سے انصاف کرنے لگا اور ستائشی انداز میں علشبہ کو دیکھا جس کے ہاتھ میں بہت ذائقہ تھا۔۔
علشبہ نے چائے ٹیبل پر رکھی اور جلدی سے جانے کیلئے مڑی پر اس سے پہلے شاہ میر اس کی کلائی تھام چکا تھا۔۔علشبہ دھڑکتے دل کے ساتھ مڑی۔ علشبہ نے جب سے شاہ میر کیلئے اپنے دل و دماغ کو صاف کیا تھا ساری بدگمانیاں اور ناراضگی بھی ختم کردی تھی تب سے اسے شاہ میر سے شرم سے آنے لگی تھی۔۔اور شاہ میر اس کا یہ الگ اور شرم و حیا والا انداز دیکھ کر حیران تھا۔اس کا دل کیا وہ اسے آپنے آندر سمالے اور پھر ان دونوں کو کوئی الگ نا کر سکے اس سے پہلے وہ اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتا احد اور ثمینہ بیگم وہاں پر باتیں کرتے ہوئے آگئے جس پر علشبہ جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر بھاگ گئی۔۔تو پیچھے شاہ میر بھی مسکرا دیا۔۔۔
🌹🌹🌹
عریشہ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے؟ اسد کالج کے باہر کھڑی عریشہ کے پاس آکر بولا جس پر عریشہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی وہ عمر کا انتظار کر رہی تھی جس نے دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں کا کہا تھا ۔۔
کہیں۔۔وہ سپاٹ سے انداز میں بولی۔۔
یہاں نہیں وہ سامنے کیفے میں چلیں ۔وہ اسے آفر کرتے ہوئے بولا۔۔
جی نہیں جو بات کرنی ہے یہیں کریں۔وہ اس کو گھورتے ہوئے بولی۔۔
چلو اچھا گاڑی میں بیٹھ کر کرتے ہیں میں صرف تمہارے پانچ منٹ لونگا۔وہ اس کو بگڑتے دیکھ آس پاس دیکھتے ہوئے تحمل سے بولا۔۔
جی نہیں کہا نا کرنی ہے تو یہیں کریں ورنہ چلتے بنیں۔۔وہ صاف منع کرتے ہوئے بولی۔۔
ارے یار یہاں نہیں کر سکتا بات کو سمجھو اور ویسے بھی تمہاری بہن کا دیور ہوں اتنا تو بھروسہ کر ہی سکتی ہو تم مجھ پر ۔وہ جھنجھلا کر بولا تو وہ اس کی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی۔۔
جلدی کہیں کیا کہنا ہے ۔۔وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔اس نے کوئی بھی تمہید باندھے بغیر جلدی سے کہہ دیا۔۔۔
وہاٹ؟ عریشہ حیرت سے بولی۔۔
دیکھو یار میری بات تحمل سے سنو پلیز.. وہ اس کے بگڑے تیور دیکھ کر بولا ۔۔
مجھے نہیں پتا تم مجھے کب اچھی لگنے لگی اور تمہیں تنگ کر کے مجھے ایک الگ سا مزہ آنے لگا اور میں تم سے بات کرنے کے بہانے تمہیں تنگ کرتا رہا اب تو آنکھیں بند کرتا ہوں تو تمہارا چہرہ نظر آتا ہے اور یہ صرف میرے وقتی جزبات نہیں ہیں تم میرے لیے بہت اہم ہوچکی ہو محبت ہوگئی ہے مجھے تم سے ۔۔وہ اپنی آنکھوں میں محبت سموئے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
عریشہ جو اسے ہی دیکھ اور سن رہی تھی اسے اس کے جذبوں میں کوئی کھوٹ یا مزاق نظر نہیں آیا عریشہ اس کی آنکھوں میں کہیں کھو سی گئی تھی کوئی مقناطیسی کشش تھی جو اسے اپنی اور کھینچ رہی تھی اور وہ اسد کی سچی محبت تھی ۔۔۔
تم نے جواب نہیں دیا ؟ اسد کے ایک بار پھر کہنے پر وہ چونکی اور وہ ہوش میں آئی.
دماغ صحیح ہے کل تک میں تمہارے لیے بندریا تھی آج تمہیں مجھ سے کوئی افلاطونی قسم کی محبت ہوگئی ہے پاگل واگل ہوگئے ہو کیا یا کون سی فلم دیکھ لی ہے جس کے ڈائلوگ مجھ سے آکر کہہ رہے ہو.. یہ کوئی ڈرامہ یا فلم نہیں نہ ہی میں ہیروئن ہوں اور تم ہیرو. جاؤ گھر جاؤ اور سوجاؤ نیند پؤری ہوگی تو حواس بھی ٹھکانے آجائیں گے. عریشہ نے اسے کھری کھری سنادی.
لیکن عریشہ..
اوہ بھئی مجھے معاد کرو اور خبردار جو آئندہ ایسی ویسی بات کی مجھ سے سمجھے نا.. ہنہہہ…عریشہ غصے سے اسے گھورتے ہوئے گاڑی سے اتری اور پٹاخ سے دروازہ بند کیا..
لے أسد تو تو گیا بیٹا تیرا کچھ نہیں ہو سکتا.. کہاں دل لگا بیٹھا بھائی.. اسد خود سے بولتے ہوئے ہنس دیا.
ویسے شیرنی ہے پوری…
🌹🌹🌹
اسد عریشہ سے مل کر سیدھے شاہ میر کے پاس آفس پہنچا۔۔
بھائی ؟ شاہ میر کام میں مصروف تھا جب اسد نے اسے پکارا ۔۔
ارے اسد باہر کیوں کھڑے ہو اندر آؤ.. وہ حیران ہوتے ہوئے بولا۔
بھائی مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے؟ اسد نے بیٹھ کر بیچینی سے کہا ۔۔۔
ہاں کہو کیا بات ہے ،شاہ میر پریشان ہوتے ہوئے بولا اسے آج اسد میں تبدیلی نظر آرہی تھی ۔۔۔
وووہ بھائی مجھے بھی شادی کرنی ہے؟ وہ جلدی میں کیا بول گیا اسے خود بھی نہیں پتا۔
ہیں شادی۔۔ شاہ میر حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھنے لگا ۔۔
ہمم تو کوئی پسند آگئی ہے میرے بدمعاش بھائی کو ۔۔شاہ میر زومعنی انداز میں بولا۔جس پر اسد بھی ہنس دیا۔۔
ہمم تو کون ہے وہ ؟ وہ بھنویں أچکاتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔
آپ کی سالی صاحبہ ۔۔
اسد نے جھٹ سے کہہ کر چیئر سے ٹیک لگا لی۔اور شاہ میر کو ایک بار پھر حیرت زدہ کر دیا۔۔۔
بھائی پلیز نا کریں نا ماما اور ڈیڈ سے بات وہ اس کے کچھ ریئیکٹ نا کرنے پر اٹھ کر اس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔۔
اسد تم سیریس ہو عریشہ کیلئے ؟ اب کے شاہ میر تھوڑا سنجیدہ ہوکر بولا۔۔۔ل
ہاں بھائی مجھے اس سے محبت ہوگئی ہے پتا نہیں کب کیسے پر ہوگئی ہے وہ میرے حواسوں پر چھاتی جاری ہے اب تو آنکھیں بند کرنے پر بھی نظر آتی ہے بھلے ہی لڑتے بھڑتے پر آتی ہے۔۔وہ اپنے جزبات شاہ میر پر عیاں کرتے پھر ہنس کر بولا۔جس پر شاہ میر بھی مسکرا دیا اور اسے گلے سے لگا لیا ۔۔۔
ویسے یہ سب کب اور کیسے ہوا تم تو اس سے ہر بار لڑتے نظر آئے ہو ؟شاہ میر نے اس کا کان کھینچتے ہوئے کہا۔۔
آہ کان تو چھوڑیں کیا بھائی صرف میں لڑتا ہوں آپ تو ابھی سے اپنی سالی کے سائیڈ ہوگئے اور بھائی کو بھول گئے۔۔وہ کان چھڑوا کر مصنوعی ناراضگی سے بولا ۔۔۔
اور مجھے نہیں پتا وہ سر پھری مجھے کب اچھی لگنے لگی ۔وہ منہ بنا کر ایک بار پھر بولا۔۔
اسسسد ۔۔۔۔ شاہ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولا۔۔
اچھا نہیں کہتا سر پھری اب پلیز نا بات کریں ۔وہ بیچارگی دیکھاتے ہوئے بولا۔۔
بس بس میرے آگے زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پر اگر عریشہ نے ہی منع کر دیا کہ وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو ۔شاہ میر اب اسے تنگ کرنے لگا تھا ۔۔
ہاہاہاہا بھائی اس کا بھی انتظام کر لیا ہے آپ کے بھائی نے آپ کی سالی کو اظہار محبت کر کے آیا ہوں ۔۔اسد نے ہنستے ہوئے اپنا کارنامہ بتایا
(وہ اسد ہی کیا جو کسی کے ہاتھ آجائے 😜شاہ میر اسے تنگ کرنا چاہ رہا تھا الٹا وہ اسے حیران کرنے پر تلا ہوا تھا
ٹھیک جارہے ہو اسد یہاں تمہاری بھابھی کو ابھی تک اپنے دل کی بات نہیں بتایا پایا اور تم واہ بھئی ۔۔وہ اسد کی حرکتوں پر حیران ہوتے ہوئے اداسی سے بولا۔۔
ہاں تو کس نے منع کیا ہے کریں آپ ہی کی بیوی ہے پر آپ تو سدا کے بورنگ آپ کے اندر کوئی بڈھی روح نے تو قبضہ نہیں کیا ہوا؟ وہ بھی منہ بناتا ہوا معنی خیزی سے بولا اور شاہ میر سے دور جاکر کھڑا ہوگیا۔۔
اسد کے بچے بھاگتے کہاں ہو ادھر آؤ بتاتا ہو کون سی بڈھی روح ہے میرے اندر ۔شاہ میر اس کی بات پر غصے سے بولا۔۔
ارے بھائی ابھی میرے بچے کہاں آئے ہیں آپ کچھ کریں گے تبھی تو آئیں گے ۔وہ اسٹائل مارتے ہوئے شرما کر بولا تو شاہ میر اس کے انداز پر ہنس دیا۔۔
جب اتنا سب خود کر چکے ہو تو آگے بھی خود ہی کر لو میں نہیں کرتا ۔وہ صاف ہری جھنڈی دکھاتے ہوئے بولا۔۔
ارے میرے پیارے اور ڈیشنگ اور اسمارٹ سے بھائی آپ تو بہت اچھے ہیں پلیز نا کریں نا بات ڈیڈ سے آپ کو پتا تو ہے میں نے کی نا بات تو آپ کو آپ کا یہ بھائی ان ٹانگوں پر کھڑا نہیں ملے گا ۔۔وہ اس کے پاس آکر مکھن لگاتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں ہاں ٹھیک ہے میں کرتا ہوں ڈیڈ سے اور تمہاری بھابھی سے بات ۔۔وہ آنکھ مارتے ہوئے بولا تو دونوں کے قہقہے بلند ہوگئے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *