Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24
عمر اپنا موبائل گھر بھول گیا تھا جب وہ ہسپتال سے گھر آیا تو اس نے علی کی اتنی ساری مسکالز دیکھی تو اس کو کال کی اور دوسری طرف سے جھٹ سے کال پک کی گئے. علی اسی کے انتظار میں تھا اور جو کچھ ہوا وہاں اس نے اسے سب بتا دیا. عمر نے سب سن کر اپنا سر پکڑ لیا وہ ایسے تو رسوا نہیں کرنا چاہتا تھا مسکان کو. وہ تو سب کو خود بتانا چاہتا تھا پر اس طرح وہ پریشان ہوگیا تھا مسکان کیلئے اس نے علی کو جاوید صاحب کی طبیعت کی پل پل خبر رکھنے کو کہا اور خود جھٹ سے گاڑی کی چابی لیے جاوید صاحب کے گھر کی طرف نکل گیا پر راستے میں ہی اس نے مسکان کو دیکھا جو سب سے بے خبر بس چلے ہی جارہی تھی وہ جلدی سے اس کے پاس پہنچا اور بر وقت اسے ٹرک کے آگے سے ہٹایا)
وہ کافی دیر سے مسکان کو اپنے ساتھ لگائے چپ کرا رہا تھا تبھی گاڑیوں کے شور سے اس کا سکتہ ٹوٹا کے وہ کہاں اور کیسے کھڑے ہیں۔۔
شش مسکان بس یار اب چپ بھی کر جاؤ وہ اس کو اپنے سے الگ کرتے ہوئے بولا تو وہ اور رونے لگی۔۔۔
چلو میرے ساتھ میں بات کروں گا تمہارے گھر والوں سے کوئی کچھ نہیں کہے گا تمہیں میں ہوں نا تمہارے ساتھ. وہ اس کے آنسو اپنے ہاتھ سے چنتے ہوئے بولا۔۔۔
نہیں مجھے نہیں جانا گھر میں سب کی بے رخی برداشت نہیں کر پاؤں گی پلیز. وہ اس کو فوراً منع کرتے ہوئے بولی۔
تمہیں پتا ہے ماما نے کیا کہا انہوں نے کہا اچھا ہوتا میں پیدا ہوتے ہی مر گئی ہوتی تو ڈیڈ کی یہ حالت نہیں ہوتی صحیح کہا انہوں نے بلکل یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے اسی لیے میں اب وہاں نہیں جاؤنگی میں انھیں اور تکلیف نہیں دینا چاہتی. وہ ساری بات بتاتے ایک بار پھر رو دی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے نہیں لے جاتا تم میرے ساتھ چلو وہ اس کو اکیلا بلکل نہیں چھوڑ سکتا تھا اس حالت میں. اسی لیے وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولا۔۔
نہیں مجھے تمہارے ساتھ بھی نہیں جانا یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہی ہوا ہے. نہ ہی تم آتے نہ ہی وہ نکاح ہوتا اور نہ ہی یہ سب کچھ ہوتا مجھے کہیں نہیں جانا تم نے مجھے کیوں بچایا اچھا ہوتا میں.. وہ ہچکیوں کے بیچ بولتی جارہی تھی تبھی عمر نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر چپ کرا دیا ۔۔
بس چپ بلکل کب سے دیکھ رہا ہوں کچھ بھی بولے جارہی ہو اب ایک بھی لفظ نکلا نا منہ سے تو ایک اور تھپڑ پڑے گا چلو میرے ساتھ اب اور اب کچھ بھی نہیں بولو گی اور رونا بھی نہیں ہے. وہ اس پر غصہ کرتے ہوئے بولا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی عمر کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھی مسکان اسے دیکھ کر بلکل چپ کر گئی پر ابھی بھی بیچ بیچ میں ہچکیاں لے رہی تھی عمر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اسی طرح اپنا خیال رکھیں اس بار لگتا ہے آپ نے اپنا بہت خیال رکھا ہے. ڈاکٹر شرارتی انداز میں علشبہ کو دیکھ کر بولی جس کا ابھی چیک اپ ہوا تھا۔
ڈاکٹر یہ کریڈٹ ہماری بھابھی کو جاتا ہے جو ڈانٹ ڈپٹ کر آپی کا اچھے سے خیال رکھتی ہیں اور آپی کے سائے کی طرح ان کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں. عریشہ محبت سے لائبہ کا زکر کرتے ہوئے بولی جس پر ڈاکٹر اور علشبہ دونوں مسکرا دی۔
یہ لیں آپ زرا یہ دوائی لے آئیں لیکن کمزوری ابھی بھی ہے. آپ بس اچھے سے کھائین پئین اور خوش رہیں. ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں عریشہ کو بولی پھر علشبہ کو ہدایت دینے لگی تو عریشہ پرچہ لے کر علشبہ کو بول کر کمرے سے نکل گئی. باہر کھڑا اسد جو ڈاکٹر سے بات کرنے آیا تھا کہ جاوید صاحب کی حالت اب کیسی ہے وہ غلط وارڈ میں آگیا تھا تبھی اس نے سامنے بیٹھی علشبہ کو دیکھا اور ساتھ بیٹھی عریشہ کو جو علشبہ کو آپی بول رہی تھی وہ علشبہ کو ملنا چاہتا تھا پر ساتھ بیٹھی عریشہ کو دیکھ کر آگے نہیں بڑھ پایا اور پیچھے کو ہوکر ڈاکٹر کی باتیں سننے لگا جو وہ ان دونوں سے کررہی تھیں اسے جھٹکا لگا تھا کہ وہ لڑکی علشبہ کی بہن ہے ڈاکٹر بھی کال سنتی ہوئی علشبہ کو آنے کا بول کر کمرے سے نکل گئی تبھی اسد کو موقع مل گیا علشبہ سے ملنے کا۔۔
بھابھی مجھے معاف کردیں یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا. وہ علشبہ کے پاس آکر اس کے پیروں کے پاس بیٹھ کر بولا تو علشبہ حیرت سے اپنے سامنے اسد کو دیکھنے لگی اور آنکھوں میں کب آنسو آگئے اسے پتا ہی نہیں چلا وہ یک ٹک اسے اپنے سامنے دیکھ رہی تھی تبھی اس کی بات پر چونکی جو اس سے بنا کسی غلطی کے معافی مانگ رہا تھا۔۔
نہیں اسد پہلے اٹھو یہاں سے ۔۔
نہیں بھابھی پہلے بولیں آپ نے مجھے معاف کر دیا میری وجہ سے وہ آپ ۔۔
وہ اٹک اور آگے کچھ بول نہیں پارہا تھا تبھی علشبہ نے اسے بازؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور اپنے برابر والی چیئر پر بٹھایا۔
بس اسد خبردار جو تم نے اب کچھ بکواس کی تو اور یہ کس بات کی معافی مانگے جارہے ہو ہاں کوئی غلطی نہیں تھی تمہاری پھر کس بات کی معافی. وہ اس کو ڈپٹتے ہوئے بولی۔۔
تو پھر آپ گھر چھوڑ کر کیوں گئیں.؟؟ وہ اس کے گھر چھوڑ کر جانے کو اپنا قصور سمجھ رہا تھا۔۔
نہیں اسد اس دن جو کچھ ہوا اس میں تمہاری یا کسی کی کوئی غلطی نہیں تھی مجھے بس احساس ہوگیا تھا جب میرا شوہر ہی میرا نہیں وہ ہیں ہی نہیں میرے ساتھ تو لوگ تو انگلیاں اٹھائیں گے.. میں کس کس کو جواب دیتی پھروں گی میرا وہاں سے چلے جانا ہی بہتر تھا اور تم معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کرو. میں نے تمھیں کبھی اپنے بھائی سے کم نہیں سمجھا ارے تم بلکل میرے عمر کی طرح ہو تمہاری وجہ سے ہی تو میں اتنا سنبھلی میں نے اتنا اچھا وقت گزارا. میں تم سب سے بہت محبت کرتی ہو آپ سب نے میرا ساتھ جب دیا جب میرے ساتھ میرا کوئی اپنا نہیں تھا جس کے نام سے منسوب ہوکر میں آئی وہ بھی نہیں. وہ آخر میں تلخی سے ہنستے ہوئے بولی اور اپنے آنسو صاف کرنے لگی ۔۔
بھابھی بھائی بہت شر… وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولنے لگا تو علشبہ نے اسے وہی روک دیا کہ وہ شاہ میر کے بارے میں بلکل بات نہیں کرنا چاہتی اور بات گھما گئی کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے جس پر اسد نے اس کی حالت کی وجہ سے نہ بتانا ہی بہتر سمجھا اور دوست کے ابو کی طبیعت خراب کا بہانا بتا کر چپ ہوگیا۔۔
اسے جاوید صاحب کا خیال آیا تو فوراً اٹھ کھڑا ہوا پر علشبہ سے اس کا پتہ مانگنے لگا کہ وہ اپنی بہن سے پھر ملنے آئے گا تو علشبہ نے کسی کو بھی بتانے کو منع کر کے دے دیا. اسد سمجھ گیا تھا وہ اور کسی شاہ میر ہے جسے اس کی رہائش کا بلکل پتا نہ بتایا جائے وہ اداسی سے چلتے ہوئے باہر نکل گیا تبھی عریشہ پیچھے کو ہوگئی وہ اپنا پرس تو بھول ہی گئی تھی وہ واپس آئی تو اسد کو علشبہ سے معافی مانگتے اور باتیں کرتے دیکھا تو سمجھ گئی کے وہ اس کا دیور ہے جس کی وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر آئی. وہ اب اسد کو غلط سمجھتے ہوئے ناپسندیدگی سے دیکھنے لگی کے اس کے بھائی نے اس کی بہن کی ایسی حالت کی اس نے سوچا وہ اب کی بار ملے تو اس کی اچھے سے خبر لے گی ۔۔۔
علشبہ عریشہ ہسپتال سے نکل کر رکشے کی طرف بڑھ رہی تھیں تبھی باہر آتے شاہ میر نے علشبہ کو دیکھ لیا تھا وہ ڈاکٹر کے کہنے پر فوری انجیکشن لینے بھاگا تھا جو انھیں فوری لگانا تھا وہ علشبہ کی طرف بڑھتا اس سے پہلے احد کی کال آگئی جو اسے فوری انجیکشن لانے کو کہہ رہا تھا جس کی جاوید صاحب کو فوری ضرورت تھی اب وہ دونوں رکشے میں بیٹھ گئیں تو شاہ میر سر جھٹکتے ہوئے فورا بھاگا اسے سب سے پہلے اپنے ڈیڈ کو بچانا تھا۔۔
وہ جو اسے پورے شہر میں مارا مارا ڈھونڈ رہا تھا آج اس کے دو قدم کے فاصلے پر تھی پر وہ اسے روک نہیں پایا آج پھر ان کی قسمت نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔۔۔
عمر نے مسکان کیلئے ایک ہوٹل میں کمرہ بک کرلیا تھا اور اسے وہاں لے آیا تھا اسے کسی کو بتانے سے پہلے اسے سنمبھالنا تھا جس نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا. عمر کے کافی چپ کرانے پر بھی جب وہ چپ ناں ہوئی تو اسے نیند کی دوا دینی پڑی جس پر وہ سو سکے اور ریلیکس ہو سکے کچھ ہی دیر بعد وہ نیند کی وادی میں چلی گئی تھی تو عمر بھی اس کے آنسو صاف کرتا ماتھے پر بوسہ دیا اور اسے چادر اوڑھا کر خود سامنے صوفے پر لیٹ گیا پر اس کی سوچین آگے کے بارے میں سوچنے لگی کہ اب اسے آگے کیا کرنا ہے۔۔۔
ماما اب تو کچھ کھالیں اب تو ڈیڈ بھی ٹھیک ہیں. آپ نے کل سے کچھ نہیں کھایا. انتہائی رامین ثمینہ بیگم کے پاس آکر بولی۔۔
(صبح ہی احد کی کال آئی تھی کہ اب جاوید صاحب بلکل ٹھیک ہیں جب سے ہی ثمینہ بیگم اللہ کے آگے سجدہ ریز اور شکرانے کے نوافل ادا کررہی تھیں پوری رات سب کی آنکھوں میں کٹی تھی جاوید صاحب کو اچانک ملنے والے صدمے سے اٹیک پڑا تھا ان کی حالت رات بھر خراب رہی تھی جس کے باعث سب پریشان تھے پر صبح ہی انھیں خوشخبری ملی تھی کہ وہ اب ٹھیک ہیں تو ان لوگوں کی جان میں جان آئی تھی )
بیٹا تم نے ہسپتال بھجوایا کھانا؟؟ ان کو اب خیال آیا تھا کہ کسی نے کل سے کچھ نہیں کھایا ۔۔
ہاں ماما میں نے ڈرائیور کے ہاتھ بھجوا دیا. رامین جواب دیتے ہوئے بولی وہ رات سے ثمینہ بیگم کے ساتھ تھی اسے ڈر تھا کہیں ان کی حالت ناں بگڑ جائے اب آپ بھی کھالیں ۔۔
ہمم تم چلو میں آتی ہو اور ہاں مسکان کو بھی لے آؤ اس نے بھی کل سے کچھ نہیں کھایا نا جانے اسے غصے میں کیا کیا کہہ گئی پتا نہیں کس حال میں ہوگی میری بچی وہ کہتے ہی پھر سے رونے لگی اور رامین کو روک کر خود مسکان کے کمرے کی طرف پڑھین۔۔
مسکان کو بچپن سے اب تک کسی نے اف تک نہیں کہا تھا وہ ذرا ذرا سی تکلیف پر رونے لگ جاتی تھی تو سب اس کے آگے پیچھے گھومتے اب ثمینہ بیگم کو احساس ہورہا تھا کہ وہ غصے میں اپنی معصوم سی بچی کو کیا کچھ نہیں کہہ گئیاں. ان کے کہے گئے کل کے الفاظ کانوں میں گھوم رہے تھے جس پر ثمینہ بیگم کا مسکان کی حالت سوچ سوچ کر دل پھٹا جارہا تھا وہ جلدی سے اپنی بچی کو اپنی بانہوں میں لینا چاہتی تھی۔۔
پتا نہیں میری بچی پر کیا کیا گزری ہو گی جو اس طرح نکاح… وہ منہ میں بڑبڑاتی دل پر ہاتھ رکھے رو رہی تھیں انھیں اس پر پورا یقین تھا پر شاید اس وقت جاوید صاحب کی حالت دیکھ کر وہ اپنے آپ میں نہیں تھی جو اتنا سب کہہ گئیں اور اب پچھتا رہی تھیں ۔
_______
عمر کی آنکھ کھلی تو مسکان کو ویسے ہی سوتا پایا. وہ اسے جی بھر کر دیکھنے لگا جو سوتے ہوئے بھی بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی تبھی ٹیبل پر رکھا عمر کا موبائل جو کہ اس نے سائلنٹ پر ڈال دیا تھا مسکان کی نیند کی وجہ سے. اس کی لائٹ جل بجھ ہونے لگی تو وہ اٹھ کر موبائل لیے کمرے سے باہر چلے گیا۔۔۔
کہاں ہو عمر؟؟کچھ خیال ہے کب سے کال کر رہی ہوں کل شام سے غائب ہو اب دوپہر ہونے کو آئی ہے. گھر والوں کے کتنے پریشان ہورہے ہونگے یہ نہیں ایک دفعہ کال کر کر ہی بتا دو. امرین بیگم رات سے ہی عمر کے نہ آنے سے پریشان تھیں وہ اسے صبح سے کالز کر کر کے تھک گئی تھیں اور اب عمر کو اس کی لاپرواہی پر ڈانٹ رہی تھیں۔۔
وووووہ امی میں… اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے بات کرے ۔۔۔
کیا ہوا عمر کوئی بات ہوئی ہے؟؟ امرین بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔۔
تو اس نے شروع سے لے کر اب تک سب بتا دیا جس پر امرین بیگم کو جھٹکا لگا سب سن کر وہ کھڑے سے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں۔۔۔
عمر اتنا سب کچھ ہوگیا تمہاری زندگی میں اور تم اب بتا رہے ہو کیا ہم تمہارے کچھ نہیں لگتے جو اتنی بڑ بات چھپائی تم نے ہم سب سے ارے ایک دفعہ مجھے ہی بتا دیا ہوتا میں خود سب سے بات کرتے. وہ اس سے شکوہ کرتے ہوئے بولیں. عمر چپ چاپ ان کی سنتا رہا جو اپنی جگہ حق بجانب تھیں۔۔۔
پتا نہیں اس بچی پر اور اس کے گھر والوں پر کیا بیتی ہوگے. تم بھول گئے علشبہ والا معاملہ بیٹا بچیاں تو ویسے ہی بہت حساس ہوتی ہیں اور جب کہ تم بتا رہے ہو اس کے گھر والوں کو صرف نکاح کا پتا چلا ہے تو وہ تو اس بچی کو ہی غلط سمجھ رہے ہونگے اور تم نے کل ہی کیوں نہیں بتایا مجھے ہاں؟؟ وہ اس کو احساس دلاتے ہوئے باز پرس کرنے لگی وہ سمجھ تو گئی تھیں کہ نکاح جیسے بھی ہوا اس میں ان دونوں کی کوئی غلطی نہیں تھی ان کی قسمت میں ایسے ہی ہونا لکھا تھا پر عمر اگر وقت پر انھیں سب بتا دیتا تو وہ یہ نوبت نہیں آنے دیتیں اب وہ خود سوچ میں پڑ گئی تھیں کہ کیا کریں.. سفیان صاحب کی حالت کے باعث ان سے بھی بات نہیں کرسکتی تھیں اور نہ ہی اسے یہاں لانے کو بول سکتی ہے۔۔۔
ابھی وہ بچی کیا کر رہی ہے اور کہاں ہو تم لوگ ؟
وہ امی میں نے ایک ہوٹل میں کمرہ بک کر لیا تھا وہی ہیں اور اسے نیند کی دوا دی تھی وہ اب تک سو رہی ہے. اس نے رو رو کر اپنی حالت بہت خراب کرلی تھی مجھے یہی صحیح لگا. اس نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھا ٹھیک کیا تم نے اور اس بچی کا اچھے سے خیال رکھنا. میں کرتی ہوں حماد سے بات اب یہاں تمہارے ابو کی ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں پتا نہیں وہ کیسے ریئیکٹ کریں اس بات پر میں تمہیں تھوڑی دیر میں کال کرتی ہوں اور ہاں اس بچی کو پہلے کچھ کھلاؤ اور خود بھی کچھ کھالو. وہ فکر مندی سے تنبیہ کرتے ہوئے بولیں تو عمر ان کے اس انداز پر مسکرا دیا ۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو وہ اٹھ چکی تھی اور گھٹنوں میں سر دیے پھر سے رونے کا شغل فرما رہی تھی. وہ آہستہ سے اس کے پاس آیا اور اس کے قریب جاکر بیٹھ گیا اور اس کے گھٹنوں کے گرد رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تو وہ اسے شکایتی نظروں سے دیکھنے لگی. وہ اس کے منہ پر آئے بال پیچھے کرنے لگا اور اپنے ہاتھوں سے اس کے بہتے ہوئے آنسوؤں کو چننے لگا وہ رونا بھول کر اسے یک ٹک دیکھے جارہی تھی ۔۔۔
کیا اتنا پیارا لگ رہا ہوں؟؟ وہ اس کی طرف جھک کر ابرو أچکا کر شرارتی انداز میں پوچھنے لگا تو وہ اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر گئی۔۔۔
ارے یار منہ تو نہ پھیرو تمہارا ہی ہوں جتنا چاہو جی بھر کر دیکھ لو. وہ اس کے ہاتھ پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔۔
ہمم آئے بڑے کہیں کے تمہارا ہوں تب کہاں تھے موصوف جب وہاں سے بغیر بتائے چلے گئے تھے. وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی جس کو پاس بیٹھے عمر نے بخوبی سنا اور سر کھجا کر مسکرانے لگا مطلب آگ دونوں طرف برابر لگی تھی وہ سوچ کر ایک بار پھر مسکرادیا۔۔۔
ارے یار ایک بار اپنے بیچارے شوہر کی مجبوری بھی تو سن لو کہ کیوں مجھے جانا پڑا پر اس سے پہلے میری طرف دیکھو تو سہی. وہ اس کے منہ دوسری طرف کرنے کے انداز پر جھنجھلانے لگا اور اس کا چہرہ پکڑ کر اپنی طرف کیا سوجی سوجی اور روٹھی روٹھی آنکھیں اور گلابی گلابی چہرہ جس پر بلا کی معصومیت تھی وہ بہک رہا تھا اسے دیکھ کر تبھی ایک چھوٹی سی گستاخی کر گیا اور اس کے گال پر بوسہ دے دیا. جس پر مسکان کرنٹ کھا کر پیچھے کو ہوئی وہ اس کے انداز پر شرم اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں اسے گھور رہی تھی اور اپنی اتھل پھتل سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر سامنے بیٹھے شخص کو اپنی اس کرنی پر بلکل افسوس نہیں تھا وہ اسے مسکرا کر دیکھے جا رہا تھا۔۔
اب اس طرح تو نہ گھورو اور تمہیں کس نے کہا تھا اتنی پیاری لگو بندہ بہک بھی سکتا ہے. وہ الٹا اس کو ڈانٹ رہا تھا جیسے ساری غلطی اسی کی تھی تو وہ غصے سے اٹھ کر جانے لگی تو پیچھے سے عمر نے ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر بیڈ پر گرا دیا اور خود بھی اس کے برابر میں لیٹ گیا وہ اٹھنے لگی تو اسے پھر سے بیڈ پر گرا دیا. اگر تم اب اٹھی نا تو پھر اس کی زمہ دار تم خود ہوگی. وہ چھت کو دیکھتے ہوئے عام سے لہجے میں بولا جسے وہ سمجھ کر چپ کر کے لیٹی رہی. عمر نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر اسے اپنی کیفیت اپنی اس کیلئے شدتیں اور سفیان صاحب کی طبیعت خرابی اور پھر اس کے مسلسل مسکان کے نمبر کو ملاتے رہنا اسے سوچنا اس کا پریشان ہونا سب کچھ بتاتا چلا گیا۔۔
پہلے تو وہ اس کی کیفیت اور شدتیں سن کر دنگ رہ گئی اور دل الگ زور زور سے دھڑکنے لگا اور اس کا ہاتھ جو اس کے سینے پر رکھا تھا وہ کپکپانے لگا تو عمر نے اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ دے کر مضبوطی سے تھام لیا پھر اچانک اس کے آنسو نکلنے لگے جو اس کے ابو کی طبیعت کا سن کر اپنے ڈیڈ کی حالت یاد آنے پر نکل پڑے تھے وہ کچھ اور بھی آگے بول رہا تھا پر وہ تو جیسے وہاں تھی ہی نہیں عمر نے اس کی طرف کروٹ لے کر دیکھا تو وہ بے آواز رو رہی تھی وہ اسے پھر سے روتے دیکھ تڑپ گیا تھا اور آدھا اٹھ کر اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور ڈیڈ بولتے ہوئے رونے لگی ۔۔۔
ارے یار یہاں دیکھو کچھ نہیں ہوا تمہارے ڈیڈ کو ڈاکٹر نے کہا ہے وہ اب بلکل ٹھیک ہیں تم پریشان نہ ہو. وہ اٹھ کر اس کو بہلاتے ہوئے بولا۔۔
سچی میں؟؟ وہ اس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔
ہاں مچی میں وہ اسی کے انداز میں جواب دیتے ہوئے بولا۔۔
پر آپ کو کیسے پتا؟؟
ارے وہ کیا ہے نا اب آپ کے ڈیڈ میرے سسر ہیں تو پتا تو رکھنا ہی پڑے گا پر خیر تم سب چھوڑو آؤ تمہیں تمہارے ڈیڈ سے ملوانے لے چلوں پر پہلے تم فریش ہو لو. وہ اس کو دیکھتے ہوئے بولا وہ پہلے تو خوشی سے جھٹ سے کھڑی ہوئی کہ وہ اپنے ڈیڈ سے ملے گی پر پھر مایوسی سے واپس بیٹھ گئی اور نہ میں سر ہلانے لگی۔۔۔
کیا ہوا ؟عمر نے اسے دیکھ کر پوچھا۔۔
نہیں مجھے نہیں جانا ڈیڈ کے پاس ان کی حالت پھر بگڑ جائے گی مجھے دیکھ کر نہیں مجھے بلکل نہیں جانا. وہ اپنے دل میں یہ بات لیکر بیٹھ گئی تھی کہ اس کے ڈیڈ کی حالت کی زمہ دار وہ ہے عمر نے اسے کافی سمجھایا کہ وہ سب سے بات کرے گا وہ اس کے ساتھ ہے پر وہ نہیں مانی کہ سب کو وہ اور تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی اپنی وجہ سے وہ نہ ہی گھر جائے گی اور نا ہی ڈیڈ سے ملنے تو عمر اس کے آگے چپ کر گیا جو کچھ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھی وہ فریش ہونے گئی تو عمر نے کھانا منگوا لیا اور اسے زبردستی تھوڑا کھلایا۔۔۔
جاری ہ
