Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43

ﺗﯿﺮﯼباتوںﺳﮯ ﺟﮍﺍ ______ھﮯ ﯾﮧ❞ﺗﻌﻠﻖ ﺩﻝ❝ ﮐﺎ
” تو نظر نہ آئے ﺗﻮ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﯽ ھﮯ❞دل کی دھڑکن
چھچھورا کہیں کا وہ اپنے کمرے میں آکر شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر بولی اور خود بھی ہنس دی ۔۔۔
🌹🌹🌹
مسکان لاؤ مجھے دو تم تھک گئی ہوگی جا کر سوجاؤ ۔۔لائبہ نے مسکان سے کہا جو بچے کو لیے ٹہلتے ہوئے چپ کرا رہی تھی جو روئے جارہا تھا۔۔
ارے نہیں بھابھی میں ٹھیک ہوں آپ ٹینشن نہیں لیں آپ کی طبیت ٹھیک نہیں میں سنمبھال لونگی۔۔وہ تھکی ہوئی ہونے کے باوجود خوشی سے بولی تو لائبہ مسکرا دی تبھی حماد کمرے میں آیا۔۔۔
لو اب تمہارے بھائی آگئے ہیں وہ سنمبھال لیں گے تم جاؤ آرام کرو ویسے ہی آج پورا دن تمہارا بھاگ دوڑ میں نکل گیا جاؤ ۔۔وہ اس کا احساس کرتے ہوئے بولی جانتی تھی اس کے بعد سارا کام سب کچھ اس پر پڑ گیا ہے ۔۔۔
جی اچھا یہ لیں بھائی اپنے روندو بیٹے کو پکڑیں روئے ہی جارہا ہے کب سے ۔وہ حماد کو دیکھتے ہوئے بولی اور بچے کو اسے دیے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
اف عمر نے ایک گھنٹے پہلے چائے مانگی تھی۔مسکان لائبہ حماد کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی تب اچانک اسے یاد آیا۔۔۔
(وہ ویسے ہی اس سے کل سے بات نہیں کر رہا تھا وہ اپنے کاموں میں اتنا الجھ رہی تھی کہ عمر کو ٹائم دینا تو دور کی بات اس کے کام بھی دوسرے کاموں میں لگ کر بھولے جارہی تھی ابھی ایک گھنٹے پہلے بھی یہ ہی ہوا تھا عمر کا سر درد سے پھٹ رہا تھا تو اس نے کچن میں آکر امرین بیگم کو مخاطب کر کے چائے کا کہا پر تبھی سفیان صاحب نے انھیں آواز دی تو وہ کچن میں کام کرتی مسکان کو بول گئیں تو عمر چپ چاپ واپس اپنے کمرے میں چل دیا پر مسکان جو لائبہ کیلئے سوپ بنا چکی تھی سوچ کر کے یہ دے آئے پھر چائے بنا دے گی چلی گئی پر وہاں لائبہ نڈھال سی اپنے بیٹے کو سنمبھالنے میں ہلکان ہورہی تھی تو مسکان نے اسے سوپ دیا اور خود اسے سنمبھالنے لگ گئی اور اب ایک گھنٹے بعد اسے یاد آرہا تھا تو اپنا سر پیٹ بیٹھی)
_______
ارے یار یہ تمہارا بیٹا کتنا روتا ہے ۔۔حماد نے لائبہ سے کہا وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا جو منہ پھاڑے روئے ہی جارہا تھا۔۔
ہاں صرف میرا بیٹا؟؟وہ خفگی سے بولی ۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا نہیں ہمارا بیٹا۔وہ اس کے پاس بیٹھ کر اس کی پھولی ہوئی ناک کو پکڑتے ہوئے بولا۔۔تو لائبہ ہنس دی۔۔
شکر چپ کر گیا۔ویسے کچھ سوچا ہے کیا نام رکھنا ہے ان موصوف کا.. حماد کی نظریں اپنی گود میں لئے اپنے بیٹے پر تھیں جو رو رو کر سب کو تنگ کر کے اب سونے کی تیاری میں تھا ۔۔
ہمم آپ بتائیں ۔۔لائبہ حماد کا بازو تھام کر اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی تو حماد نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا اور پیار سے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔
تھینک یو۔۔
کس لیے؟
اتنا اچھا تحفہ دینے کیلئے اور میری زندگی کو مکمل کرنے کیلئے.. حماد نے کہہ کر پیار سے اس کا ماتھا چوم لیا۔۔
لو یو۔ لائبہ نے بھی کہہ کر حماد کے گال پر کس کیا اور اپنا منہ اس کے کندھے پر ٹکا دیا۔۔وہ اکثر اپنی محبت کا اظہار اسی طرح کرتی تھی۔۔
لو یو ٹو جان من
💕کاغذ پر نہیں لکھتے
ہم راز .اپنی محبت کے…
💕پل بھر میں بکھر جاتے ہیں
الفاظ محبت کے…!!💕
💕تجھے ٹوٹ کر چاہا ہے
اور عمر بھر .چاہیں گے…!!
💕ایسے ہی ہیں جاناں
ہمارے انداز محبت کے…!!
ویسے عبد الحنان نام کیسا رہے گا؟؟وہ اس بھرے بھرے گالوں والے اپنے گڈے کو دیکھتے ہوئے بولا اور دوسرے ہاتھ سے لائبہ کو اپنے گھیرے میں لیا۔۔
ہمم بہت پیارا ہے رکھ لیں ۔وہ بھی اپنے بیٹے کو پیار سے دیکھتے ہوئے بولی اور پھر اسی طرح بیٹھے ہی آنکھیں موند گئی اسے حماد کے کندھے پر سر رکھ کر سکون ملتا تھا ۔۔۔
ہم پھر ٹھیک ہے آج سے اس کا نام عبد الحنان ہے۔اور میڈم اسی طرح پوری رات بیٹھنا ہے مجھے پتا ہے آپ کو میرا کندھا پلو سے کم نہیں لگتا پر ابھی آپ کا یہ لاڈلا اٹھ گیا نا تو پھر گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے لگے گا۔۔وہ تھوڑا شوخی سے بولا تو لائبہ نے اس کے کندھے پر ایک جڑ دیا اور حنان کو لے لیا تو حماد بھی ہنس دیا ۔۔
شش اٹھ جائے گا ۔۔وہ حنان کو دیکھتے ہوئے حماد سے بولی تو وہ چپ کر گیا۔۔۔
🌹🌹🌹
مسکان چائے لیے کمرے میں آئی تو عمر بازو آنکھوں پر رکھے لیٹا ہوا تھا۔۔
عمر؟
دو تین بار آواز دینے پر بھی جب وہ نہیں اٹھا تو مسکان نے اس کے قریب بیٹھ کر اس کے بازوں پر اپنا ہاتھ رکھا جسے اس نے فوراً جھٹک دیا اور کروٹ لیے دوسری طرف منہ کر لیا۔۔۔
عمر چائے تو پی لو۔۔وہ بس میں بھابھی کو سوپ۔۔۔
میں نے تم سے کچھ کہا نہیں نا تو جاؤ لے جاؤ نہیں پینی ۔وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے ناراضگی لیے بولا۔۔تو مسکان کو بھی غصہ آگیا۔۔
نہیں کرنی نا بات تو مت کرو میرا مت سوچنا صبح سے گھن چکر بنی ہوئی ہوں کبھی کوئی کام تو کبھی کوئی اوپر سے اتنی چھوٹی سی بات پر تم بھی مت بولو۔۔وہ چڑچڑی ہوئی غصے سے بولی۔۔تو عمر اٹھ کر اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ۔۔
تمہیں لگتا ہے میں تمہارے اتنے سے کام نا کرنے پر ناراض ہو۔تمہیں احساس ہے تم سب کے چکر میں ہمیں بھول رہی ہو میری ہر کہی بات تمہارے لیے کوئی اہم نہیں اور صرف آج نہیں کل بھی یہی کیا تھا تم نے تمہیں پتا تمہاری غیر زمیداری کی وجہ سے کل مجھے نوکری سے فارغ کر دیا جاتا کتنا سننا پڑا کل میٹنگ نا اٹینڈ کرنے پر۔۔۔وہ اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا کہہ رہا تھا۔۔۔
(کل عمر دوپہر میں جلدی گھر آگیا تھا اور تھکن کی وجہ سے مسکان کو کہہ کر سوگیا کے اسے پانچ بجے تک اٹھا دے اس کی ضروری میٹنگ ہے پر مسکان کو امرین بیگم اسپتال لے گئیں لائبہ کے پاس جس کی وجہ سے عمر کو اس کے باس کی باتیں سننا پڑیں تو وہ کل سے اس سے غصے میں بات نہیں کر رہا تھا)
اور صرف کل ہی کیوں پورے ایک مہینے سے جب سے تمہاری پڑھائی ختم ہوئی تب سے تم سب کو خوش کرنے کے چکر میں میری ہر کہی بات کو بھول رہی ہو۔۔ٹھیک ہے کرو تم سب کو خوش کچھ نہیں بولوں گا آج کے بعد میں تم سے۔ وہ کہہ کر کمرے سے چلے گیا تو مسکان نڈھال سی بیڈ پر بیٹھی اپنا کیا سب یاد آنے پر رونے لگی ۔۔۔
تو یاد کر یا بھول جا۔۔۔۔
تو یاد ہے یہ یاد رکھ۔۔۔
صحیح کہتی ہیں ماما میں کچھ نہیں کرسکتی میں کوئی کام ٹھیک سے نہیں کر سکتی عمر کو بھی ناراض کر دیا الگ غصہ سے بات بھی کی حالانکہ غلطی میری ہے عمر میرا کتنا خیال کرتا ہے میری پڑھائی کی وجہ سے کبھی مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا میری پڑھائی میں بھی میری کتنی مدد کی اپنا ہر کام خود کیا اور میں نے۔وہ گھٹنوں میں سر دیے ہچکیوں سے کہنے لگی پر وہاں سننے والا کوئی نہیں تھا۔۔
وہ کافی دیر سے بیٹھی رو رہی تھی اور عمر کا انتظار کر رہی تھی جس کو گئے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی اس کا صبر اب جواب دے گیا تو وہ باہر کی طرف بڑھنے لگی پر اس سے پہلے ہی عمر کمرے میں آیا اور اسے دیکھ کر ٹھٹکا جس کی رونے کی وجہ سے آنکھیں سوج چکی تھیں عمر اس پر سے نظریں ہٹا کر برابر میں سے نکلنے لگا تو مسکان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور اس کے سامنے آکر اپنے دونوں کان پکڑے معافی مانگنے لگی ۔۔
ﺗﯿﺮﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﻟﺖ ﮬﮯ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ
ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﺘﺎئیں ﮔﮯ ﯾﮧ ﺩﻝ ﮐﺘﻨﺎ ﺗﮍﭘﺎ ﮬﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮦ ﮐﮧ
عمر کو اس پر بڑا ترس آیا پر پھر بھی چپ رہا۔۔
اب سوری کر تو رہی ہو میری غلطیوں کو معاف کر دو اب کبھی ایسا نہیں کرونگی تم ایک بہت اچھے شوہر ہو میرا ہر طرح سے خیال رکھتے ہو کبھی مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔پر میں ایک اچھی بیوی نہیں ہوں لائبہ بھابھی سے پہلے ہماری شادی ہوئی پر میں تمہیں اب تک کچھ نہیں دے پائی۔۔وہ سر جھکائے روہانسی لہجے میں کہنے لگی تو عمر کو اس کا یہ انداز اور اس کی بات سمجھ کر ہنسی آنے لگی جسے اس نے بر وقت روک لیا۔۔اور اپنے ہاتھ سے اس کا چہرہ اوپر کیا جو رونے کی وجہ سے سرخ ہورہا تھا اور آہستہ آہستہ آنسوں بہنے شروع ہوگئے تھے۔۔عمر نے اس کے آنسو صاف کیے تو وہ اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔
عمر اسے اپنے سے لگائے بیڈ تک لایا اور اسے بٹھا کر خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے کہنے لگا ۔۔
کس نے کہا کے تم اچھی بیوی نہیں ہو تم ایک بہت ہی اچھی بیوی ہو اور میرے دل کی ملکہ بھی ہاں کبھی کبھی مغرور حسینہ کی طرح مجھے اگنور کر دیتی ہو پر یہ ادا بھی منظور ہے آپ کی۔۔وہ اس کی طرف جھک کر بولا تو وہ مسکرا دی۔۔
اور خبردار جو اب اس طرح خود کو تکلیف دی تو وہ اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
ہاں تو تکلیف بھی تو تم نے ہی دی تھی اتنا سب سنا کر چلے گئے یہ دیکھے بنا کہ پیچھے میرا کیا حال ہوا ہوگا۔وہ بچوں کی طرح شکایت کرتی ہوئی اپنی ناک کو رگڑتے ہوئے بولی تو عمر ہنس دیا۔۔
اچھا بابا ساری غلطی میری تھی اب کبھی کچھ نہیں کہونگا بس ۔
اور غصہ بھی نہیں کرو گے اور بات کرنا بھی بند نہیں کرو گے جو بھی بات ہوگی پیار سے سمجھاؤ گے اور مجھے اب گھمانے بھی لے کر جاؤ گے اور۔۔
ارے بھئی بس بس سب سمجھ گیا اب ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ورنہ ڈیمانڈ ہی بڑھتی جائیں گی ۔وہ اس کو روکتے ہوئے بولا تو وہ اسے گھورنے لگی۔۔
اچھا ایک اور بات ابھی تم وہاں کھڑی کیا کہہ رہی تھی۔وہ اب اسے اپنی مطلب کی بات یاد دلانے لگا جس پر مسکان اسے دیکھنے لگی اور پھر اچانک یاد آنے پر سر جھکا گئی اور گالوں پر لالی پھوٹ پڑی اور اپنا ہاتھ چھڑواتی وہاں سے جانے لگی پر عمر نے واپس اسے اپنے قریب کیے بٹھا لیا ۔۔
آہاں یہ مارجن صرف تمہاری پڑھائی تک تھا اب تمہیں بلکل بھی دور نہیں جانے دونگا اپنے سے اس نے کہتے کے ساتھ ہی اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی نشانی ثبت کی تو وہ شرما کر اس کے کندھے پر اپنا منہ چھپا گئی تو عمر کا قہقہہ کمرے میں گونج اٹھا۔۔۔
نہ کبھی بدلے یہ لمحہ،
نہ کبھی بدلے یہ خواہش ہماری،
ہم دونوں ایسے ہی رہیں
ایک دوسرے کےجیسے تم زندگی
میری اور میں چاہت تمہاری
🌹🌹🌹
تم یہاں کیا کر رہے ہو اور کیسے آئے یہاں ؟ عریشہ اپنی شادی کی شاپنگ کر کے سجل کے ساتھ اس کے گھر آگئی تھی جب عمر کی کال آئی کے وہ اسے لینے آیا ہے گلی کے کونے پر آئے پر وہاں اسد کو کھڑا دیکھ اسے حیرت ہوئی تو وہ اس کی طرف بڑھ کر اس سے پوچھنے لگی
کیوں آیا ہوں تمہیں نہیں پتا؟ وہ الٹا اس سے سوال کرتے ہوئے بولا تو وہ نظریں پھیر گئی۔۔
یار کیوں اتنا تڑپا رہی ہو اب تو کچھ ہی دن باقی ہیں ہماری شادی میں ۔وہ آس لیے بولا ۔۔
عمر کہا ہے وہ آیا تھا مجھے لینے؟ وہ اس کی بات نظر انداز کیے پوچھنے لگی۔۔
اس سے میں نے بات کرلی تھی کہ تمہاری بہن مجھ سے ناراض ہے اور مجھے اپنی بیوی کو منانا ہے پر نا ہی وہ کال اٹھاتی ہے نا ہی ملتی ہے تو کیا کروں تو میرا بیچارہ سالا میری پریشانی سمجھ گیا اور یہ آئیڈیا اسی کا تھا اس نے ہی مجھے یہاں بھیج کر تمہیں اپنے آنے کا بتایا کیوں کہ تمہیں میرا پتا چلتا تو تم کبھی نہیں آتی۔۔وہ مزے سے اپنی اور عمر کی کارستانی بتا رہا تھا اور عریشہ کو جی بھر کر اس دوغلے عمر پر غصہ آرہا تھا جو بھائی تو اس کا تھا پر ساتھ وہ اپنی بیوی کے بھائی کا دے رہا تھا ۔۔
جانا تو میں نے اب بھی نہیں ہے تمہارے ساتھ ۔وہ غصے سے کھولتی وہاں سے واپس جانے کیلئے مڑی تبھی اسد اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا۔۔
اسد چھوڑو میرا ہاتھ وہ دبی دبی آواز میں چیخی ۔۔
اوہ ہیلو شرم نہیں آتی چھوڑو لڑکی کا ہاتھ ۔اچانک ایک لڑکا اسد کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور اسد کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہنے لگا اور پھر اسد کے منہ پر ایک جڑ دیا اس سے پہلے اسد کچھ کرتا عریشہ اس لڑکے کے سامنے آئی۔۔۔
اوہ ہیلو مسٹر ہاتھ کیسے لگایا؟؟وہ اس کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تو اسد اب مسکرا کر اس لڑکے کی شامت آتے دیکھنے لگا جو بلا وجہ ہی ہیرو بن رہا تھا ۔۔
ووووووہ یہ آپ کو۔وہ لڑکا ہکلانے لگا۔۔
کیا وہ ہاں۔۔ میں نے کہا تھا تم سے کے آؤ اور مجھے بچاؤ ہاں لڑکی دیکھی نہیں اور ہیرو گری شروع کردی۔۔وہ غصے سے اس سے باز پرس کرنے لگی۔۔
آرے بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ایک تو میں آپ کی مدد کرنے آیا اور الٹا آپ مجھے ہی۔اوہ بھائی صاحب آئے اور اٹھا کر لے جائیں مجھے کیا جب لڑکی کو ہی کوئی اعتراض نہیں۔وہ اب اپنے آپ سنبھال کر عورتوں کی طرح دوبدو جواب دیتے ہوئے اسد کو دیکھ کر بولا۔۔۔
او ہیلو یہ کیا بکواس کر رہے ہو ہاں اور میں کہتی ہوں تم نے میرے شوہر پر ہاتھ کیسے اٹھایا بولو کیسے اٹھایا ہمت کیسے ہوئی تمہاری میں تمہیں شوٹ کردوں گی وہ اس کی بکواس پر لال پیلی ہوتی غصے سے کہنے لگی تبھی اسد نے آگے بڑھ کر اسے تھاما کہ وہ اس بیچارے کو سچ میں ہی شوٹ نا کردے۔۔
اوہ بھائی اپنی خیریت چاہتا ہے تو نکل لے پھر میں بھی نہیں روک پاؤں گا۔اسد نے اس لڑکے کو چوکنا کیا کہ وہ بھاگ نکلے۔۔
ہاں بھائی سنبھال لے اپنی بیوی کو پاگل ہے یہ۔ وہ کہہ کر بھاگ نکلا عریشہ جو اس کے پاگل کہنے پر اس کے پیچھے جانے لگی تھی اسد نے اسے تھام کر اپنے ساتھ لیا اور گاڑی میں بٹھا دیا۔۔
ریلیکس یار کیوں اتنا بلاوجہ غصہ کر رہی ہو؟؟
میں غصہ کر رہی ہو اور وہ بھی بلا وجہ کا ۔وہ اب روہانسی ہوتی کہنے لگی۔۔
دیکھا نہیں تھا تم نے اسے۔۔ ہمت کیسے ہوئی اس کی تم پر ہاتھ اٹھانے کی ہاں۔اور تم تمہارے سامنے اس مینڈک نے مجھے پاگل کہا اور تم نے چپ چاپ اسے وہاں سے بھاگا دیا۔۔ وہ اس لڑکے کو القاب سے نوازتے اب اسد کو گھورتے ہوئے کہنے لگی ۔۔اسد کو اس کا مینڈک کہنا ہنسنے پر مجبور کر رہا تھا پر وہ جانتا تھا اس کی ہنسی کسی آنے والے طوفان سے کم نہیں تبھی اپنے اندر ہی دبا لی اور چپ رہنا ہی بہتر سمجھا اور گاڑی اسٹارٹ کر کے اپنی منزل کی جانب نکل پڑا ۔۔
سنو۔۔۔۔۔۔!!!
جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔!!!
محبت کیا ہے۔۔۔۔۔!!!
میں بتاوں کہ محبت ہے کیا۔۔۔۔۔؟؟؟
محبت میں کوئی شرط نہیں ہوتی،کوئ زبردستی نیئں….!!
محبت صرف کی جاتی ہے، ہو جا تی ہے،چاہے دوسرا کرے نہ کرے-
محبت ایک ہاتھ کی تالی ہے اس میں نہ شکوے کی گنجائش ہے نہ شکایت کی-
نہ وفا کی شرط ہے نہ بے وفائی کا گلہ-محبت لین دین نہیں صرف دین ہے
دل مضطر سے کہہ دو تھوڑے تھوڑے سب مزے چکھے
ذرا بہکے…..ذرا سنبھلے…….ذرا تڑپے……ذرا ٹھہرے…!
محبت بس محبت ہے
🌹🌹🌹
آرے آپ آگئے؟ علشبہ نے شاہ میر سے پوچھا جو ابھی آفس سے آیا تھا۔۔
ہاں بس ابھی آیا ۔۔
کیسا رہا آج کا دن ؟؟
بہت ہی تھکا دینے والا۔وہ کہتے کے ساتھ ہی بیڈ پر علشبہ کے برابر میں ہی بیٹھ گیا۔۔
میں آپ کیلئے پانی لاتی ہوں۔
پانی چھوڑو ایک کپ چائے لادو وہ اپنے پیروں کو جوتوں سے آزاد کرتے ہوئے بولا۔جس پر علشبہ کھڑی ہوئی پر اچانک ہی اس کو زور کا چکر آیا جس پر بروقت شاہ میر نے اسے تھام لیا ۔۔۔
کیا ہوا علشبہ؟ یہاں بیٹھو میں پانی لاتا ہوں۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔اس نے جاتے ہوئے شاہ میر کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔۔
کہاں سے ٹھیک ہو چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں مجھے تم بلکل ٹھیک نہیں لگ رہی۔وہ اس کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھتے بولا۔۔۔
نہیں بس وووہ ۔۔اچانک ہی اسے متلی سی ہونے لگی جس پر وہ واشروم میں بھاگی شاہ میر تو اس کی ایسی حالت دیکھ کر ہی پریشان ہو اٹھا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ نڈھال سی باہر آئی تو شاہ میر نے اسے تھاما اور اپنے سے لگائے اسے بیڈ پر بیٹھایا۔۔
علشبہ میں ڈاکٹر کو یہی بلوا لیتا ہوں تم جب تک آرام کرو میں آبھی آیا۔وہ پریشان سا کھڑے ہو کر جانے لگا تو علشبہ نے اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔اب بھی وہ یہ ہی لفظ بول رہی تھی جس پر شاہ میر کو غصہ آنے لگا ۔۔
پاگل ہوگئی ہو علشبہ حالت دیکھی ہے تم نے اپنی تھوڑی سی دیر میں ہی چہرہ کیسے مرجھا سا گیا ہے ۔۔
ہاں تو ایسی حالت میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔وہ اچانک ہی کہہ گئی تھی پر شاہ میر کو اس کی یہ بات بلکل سمجھ نہیں آئی۔۔
کیا مطلب کیسی حالت تمہیں پتا ہے کیا ہوا ہے تمہیں؟؟وہ پے در پے سوال کرنے لگا تو علشبہ کے سمجھ نہیں آیا وہ اسے کیسے بتائے اس کا چہرہ شرم سے سرخ پڑ چکا تھا ۔۔
علشبہ بولو یار؟؟وہ اس کو کسی سوچ میں ڈوبے دیکھ کر جھنجھلا کر بولا۔۔
ہاں وووہ۔۔ آپ کی اور آپ کی بیٹی کی دعا قبول ہو گئی ہے۔وہ کہتے کے ساتھ ہی اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ چھپا گئی ۔۔
ہاں تو اس میں کونس۔۔۔اچانک ہی اسے سمجھ آئی تو مسکرا کر اپنے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا پھر اس کے پاس بیٹھا وہ جو منہ چھپائے بیٹھی تھی اس کے ہاتھ تھامے۔۔
یہ سچ ہے؟وہ بے یقینی سے اسے دیکھتا پوچھنے لگا۔جس پر علشبہ نے ہاں میں سر ہلا کر جھکا لیا (کہنے کو پہلے بھی ان کی ایک بیٹی تھی پر دونوں ہی اس پل کو پہلی بار محسوس کر رہے تھے علشبہ سے تو شرم کے مارے کچھ بولا ہی نہیں جارہا تھا اور دوسری طرف شاہ میر کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیسے وہ اپنی خوشی کا اظہار کرے)
شاہ میر نے اس کے گلنار ہوتے چہرے کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے اور خوشی سے اسے اپنے سینے لگا لیا۔۔۔
کبھی سایہ بن کے میرے قریب رہنا…
کبھی مجھ سے لڑ کے میرے رقیب رہنا
میں نے خدا سے دولت مانگی کب ہے..
بس دعا ہے فقط توں میرا نصیب رہنا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *