Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42

Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42

ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﺍﻟﻔﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻠﮑﺘﺎ ﺟﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ___❤
ﺗﻠﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻭﮨﺎﮞ اوقات ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮں ﺳﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ____❤
آہاں آج نہیں ویسے ہی تم بڑی مشکل سے ہاتھ آتی ہو اور جب بھی آتی ہو وہ تمہاری بیٹی تمہاری محافظ بن کر میرے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔وہ منہ بنا کر کہنے لگا تو علشبہ اس کی باتوں پر ہنس دی۔۔
ہاہاہاہاہاہاہا آپ کو پتا ہے مجھے اب سمجھ آیا وہ چھوٹی سی تھی تب آپ کے ساتھ تھی اور مجھے زچ کیے رکھتی تھی خیر چھوٹی تو وہ اب بھی ہے پر اب وہ میرے ساتھ ہے آپ سے چن چن کر بدلے لیتی ہے میرے تو مجھے بہت سکون ملتا ہے آپ نے بھی تو مجھے کتنا ستایا تھا۔۔وہ شرارت سے شاہ میر کی ناک کو پکڑتے ہوئے بولی۔۔
اچھا جی آنے دو پھر بتائے گی وہ تمہیں۔
کون؟؟وہ شاہ میر کی بات پر ہڑبڑا کر پوچھنے لگی۔۔ تو شاہ میر ہنس دیا آج بھی وہ اس کے ساتھ کسی کو نہیں دیکھ سکتی تھی اور شاہ میر کو اس کا یہ جیلیسی والا انداز ہی بہت پیارا لگتا تھا۔۔
ہے کوئی کیوں بتاؤں۔ وہ اس کی ناک سے اپنی ناک کو مس کرتے ہوئے بولا۔۔
میررر آپ بتاتے ہیں یا۔وہ وارننگ دیتے ہوئے بولی جس پر شاہ میر پر کوئی اثر نہیں پڑا تو علشبہ نے پاس رکھی ٹیبل پر پانی کا گلاس اٹھا کر اس کے منہ پر ڈال دیا جس پر شاہ میر نے ہڑبڑا کر اپنی پکڑ ڈھیلی کر دی اور علشبہ اس کے حصار سے نکل کھڑی ہوئی ۔۔
شاہ میر اسے گھوری سے نواز رہا تھا اور وہ پرواہ کیے بغیر ہنس کر جانے لگی پر شاہ میر نے اس کا دوپٹہ پکڑ کر کھینچ لیا جس پر ایک بار پھر وہ ڈگمگا گئی اور اس کے حصار میں اگئی اب شاہ میر اس کے دوپٹے سے اپنا منہ صاف کرنے لگا تو علشبہ اسے خفا نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
بہت شرارتیں سوجھ رہی ہیں جانِ میر ۔۔(شاہ میر کو اس کا میر کہنا بہت پسند تھا تو اسی طرح شاہ میر بھی اسے جانِ میر کہتا تھا جس پر اس کے گال سرخ ہو جاتے تھے کیوں کہ وہ کتنی مرتبہ گھر والوں کے سامنے بھی بول چکا تھا جس پر علشبہ بوکھلا جاتی تھی شاہ میر کی گستاخیاں دن بہ دن بڑھ رہی تھی اور بیچاری علشبہ آج بھی اسی طرح بوکھلا جاتی تھی)
میر اب بتائیں گے کہ کس کی بات کر رہے تھے ۔اس کی سوئی ابھی بھی وہیں اسی بات پر اٹکی ہوئی تھی اور شاہ میر بھی ہنس رہا تھا جانتا تھا وہ بات جانے بغیر جانے والی نہیں۔۔
نہیں بتاتا۔
کیاااا نہیں بتائیں گے ۔۔
نہیں بلکل نہیں۔۔وہ اپنا سر نہ میں ہلاتے ہوئے بولا تو علشبہ نے اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا ۔۔۔
ارے ظالم بیوی چھوڑ دو ۔وہ بوکھلاتے ہوئے بولا ۔۔
نہیں چھوڑوں گی پہلے بتائیں ۔۔
اچھا اچھا بتاتا ہو پر تم پھر لال پیلی مت ہوجانا.. وہ معنی خیزی سے بولا جو اس کے سر پر سے گزری اور اس کے بالوں کو چھوڑ کر اسے گھورنے لگی۔۔۔
ارے یار اپنی کسی گرل فرینڈز کی بات تھوڑی کر رہا تھا۔(وہ جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے پر تلا ہوا تھا آج )ارے اپنی بیٹی کی بات کر رہا تھا تم تو زرا سی بات پر شک کرنے بیٹھ جاتی ہو ۔وہ منہ بنا کر بولا۔۔
وفا؟؟وہ نا سمجھی سے پوچھ بیٹھی۔۔
اسے تو تم نے اپنے ساتھ ملا لیا۔ بس اب مجھے بھی میری بیٹی چاہئیے جو اپنے پاپا کے ساتھ ہو اپنی ماں کے ساتھ نہیں۔وہ اس کی ناک پکڑتے ہوئے بولا جس پر سچ میں علشبہ اس کی بات پر لال ہوگئ پر شرم سے ۔۔۔
کہا تھا نا لال پیلی ہوجاؤ گی ۔وہ اس کے لال ہوتے گال پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا جس پر علشبہ نے اس کے کندھے پر ایک مکا جڑ دیا تو شاہ میر نے اسے اپنے اور قریب کر لیا۔۔
کیا کہتی ہو پھر ؟؟وہ اپنی آئی برو أچکاتے ہوئے بولا اور اس کے ماتھے کو چوم لیا۔۔
زندگی نام ہے ___________ کچھ لمحوں کا.
اور ان لمحوں میں سکون کا باعث صرف تم ہو.
وہ لوگ ان لمحوں میں گم تھے تبھی وفا اپنے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی ماما کرتی ہوئی کمرے میں آئی جس پر علشبہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور شاہ میر بڑبڑاتے ہوئے کروٹ لے کر لیٹ گیا تو علشبہ ہنس دی ۔۔
ماما ہم مامو تے تب دائیں جے (ماما ہم ماموں کے کب جائیں گیں) تین سالہ وفا نے اپنی توتلی زبان میں پوچھا تو علشبہ نے مسکرا کر اسے اپنی گود میں بٹھا لیا اور اس کے کان میں کچھ کہنے لگی جس پر وہ ہاں میں سر ہلا کر شاہ میر کے پاس گئی اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے بازوں کو ہلانے لگی تو علشبہ بھی اب شاہ میر کے کپڑے نکالنے کھڑی ہوگئی وہ جانتی تھی شاہ میر وفا کی کوئی بات نہیں ٹالے گا تبھی اسے شاہ میر کو اٹھانے کو کہا۔۔۔
پاپا اٹھتیں (اٹھیں)
شاہ میر اس کے بلانے پر سیدھا ہوکر لیٹ گیا اور اسے اپنے سینے پر بٹھا لیا تو وفا بھی ہنس دی اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا یہ وہ سوتے ہوئے شاہ میر پر اسی طرح چڑھ کر بیٹھ جاتی تھی اور اسے اٹھا کر ہی دم لیتی تھی۔۔
کیا ہوا میری پرنسس کو ۔وہ اس کے بالوں کو خراب کرتے ہوئے بولا۔تو وفا کا منہ رونے جیسا ہوگیا۔۔
ماما پاپا دندے (گندے) وہ علشبہ کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
میلے بال تراب تر دیے اب ہم ماموں تے تیسے دائیں دے مجھے چھوٹو تے تھاتھ تھیلنا ہے۔(میرے بال خراب کردیے اب ہم ماموں کے کیسے جائیں گے مجھے چھوٹو کے ساتھ کھیلنا ہے)وہ رونے کو تھی جب شاہ میر نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور اسے پیار کرتے ہوئے منانے لگا اور اسے اٹھائے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا اور برش اٹھا کر اس کے بالوں کو بنانے لگا تو وفا بھی بڑوں کی طرح اس کو بتا رہی تھی کہ کیسے بناتے ہیں ۔علشبہ دونوں باپ بیٹی کو مسکرا کر دیکھنے لگی ایک بال بنانے کی کوشش میں تھا تو دوسری اس کی غلطیاں گنوانے پر ۔۔۔۔
*جیت کی عادت اچھی ہوتی ہے مگر رشتوں میں ہار جانا ہی جیت ہوتی ہے…..!!!
🌹🌹🌹
جاوید صاحب ثمینہ بیگم سمیت آج سب لوگ سفیان صاحب کے گھر مبارکباد دینے موجود تھے۔۔
ایک عریشہ کے کالج میں ٹاپ کرنے کی خوشی میں اور دوسری دو دن پہلے حماد کے بیٹا ہونے کی خوشی میں آج ہی صبح لائبہ کو ڈسچارج ملا تھا اور شام کو سب ان کے گھر موجود تھے۔۔۔
دادی اے تتنا پیالا ہے (دادی یہ کتنا پیارا ہے) ثمینہ بیگم حماد کے بیٹے کو گود میں لیے بیٹھی تھی تب وفا نے ان سے کہا تو سب اس کی بات پر مسکرا دیے ۔۔۔
سب لائبہ سے مل کر اسے مبارکباد دے کر نیچے آکر باتوں میں مصروف ہوگئے تھے ۔۔۔
دادی متھے بھی دیں.. وفا ضد کرتے ہوئی بولی ۔۔
ارے بیٹا ابھی چھوٹا ہے گر جائے گا۔وہ اس کو سمجھانے لگی ۔۔
نہیں درے دا (نہیں گرے گا)
اچھا یہاں بیٹھو میرے برابر میں.. وہ اس کی ضد پر چھوٹو کو اس کی گود میں دیا اور خود بھی پکڑے بیٹھ گئیں کہ کہیں وہ گرا نا دے سب انھی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
وفا نے اس کے گال پر پیار کیا تو وہ گلا پھاڑ کر رو دیا جس پر وفا کا بھی رونے جیسا منہ ہوگیا ۔ثمینہ بیگم اسے اپنی گود میں لیے چپ کرانے لگی تو وفا منہ بسورے شاہ میر کی گود میں آکر بیٹھ گئی۔۔
پاپا متھے بھی لاتر تے ۔(پاپا مجھے بھی لاکر دیں) وہ شاہ میر کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کی توجہ اپنی طرف دلاتے ہوئے بولی جو حماد سے باتوں میں مگن تھا وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
کیا چاہئیے میری پرنسس کو ۔وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بولا تو سب ان باپ بیٹی کو دیکھنے لگے۔۔۔
متھے بھی چھوتو لاتر تے (مجھے بھی چھوٹو لاکر دیں ) سب اس کی بات پر دبی دبی ہنسی ہنس دیے علشبہ جو ابھی سب کیلئے چائے لائی تھی منہ کھولے وفا کو دیکھنے لگی جس کی فرمائش پر شاہ میر بھی مسکرا کر علشبہ کو دیکھ رہا تھا۔۔
لاتر تے دے نا یہ دندا ہیں میں نے پیار تیا تو رو تیا متھے میرا چھوتو لاتر دیں۔(لاکر دینگے نا یہ گندا ہے میں نے پیار کیا تو رو دیا مجھے میرا چھوٹو لاکر دیں) وہ ضد کرنے لگی۔۔
ہاں شاہ میر اب تو ہمارا پوتا بھی آجانا چاہیئے ۔۔جاوید صاحب شاہ میر کو چھیڑتے ہوئے بولے پر شاہ میر علشبہ کو دیکھ رہا تھا جس کا چہرہ شرم سے لال ہوچکا تھا علشبہ وہاں سے بھاگ گئی تو سب زور سے ہنس دیے۔۔
پاپا بتائیں نا۔۔وفا اس کا کندھا ہلاتے ہوئے بولی۔۔
آپ یہ بات اپنی ماما کو کہیں۔وہ وفا کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا تو وہ سمجھ کر علشبہ کے پیچھے چلی گئی اور شاہ میر علشبہ کا سوچ کر مسکرا دیا۔۔
🌹🌹🌹
اسد عریشہ کا کمرہ ڈھونڈ رہا تھا وہ اسے ٹاپ کرنے پر مبارکباد تو دے ہی نہیں پایا تھا اسے اس سے ملنا تھا جو اس سے ناراض ہوئے بیٹھی تھی اور وہ کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر اسے ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا تھا ۔۔
آہم آہم ۔عریشہ جو ابھی اپنے کمرے میں آئی تھی اور اپنا موبائل چارج پر لگا رہی تھی کسی کے کھنکارنے پر پلٹ کر دیکھنے لگی جہاں اسد کھڑا اپنی بتیسی دیکھا رہا تھا ۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟وہ دو قدم آگے بڑھ کر بگڑے تیور کے ساتھ بولی۔۔
یار کبھی تو عزت سے آپ جناب کر کے بات کر لیا کرو شوہر ہوں اب تمہارا اور کیا مطلب ہے یہاں کیا کر رہا ہو بیوی ہو تم میری اب جیسے رخصتی کے بعد میرا کمرہ تمہارا تو اسی طرح تمہارا کمرہ بھی تو میرا ہوا نا ۔۔وہ اس کے سامنے کھڑے ہوکر مسکرا کر بولا ۔۔
یار اب بھی ناراض ہو ؟؟
ہاں ہوں جاؤ تم مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے۔۔وہ صاف گوئی سے روٹھتے ہوئے بولی۔۔۔
(پچھلے مہینے ہی اسد اپنے پڑھائی مکمل کر کے دوستوں کے ساتھ گھومنے نکل گیا تھا کے پھر تو آفس ہی جوائن کرنا تھا اور جب موج مستی سے تھوڑا ٹائم ملتا تو عریشہ کو کال کرتا اور تھوڑی ہی دیر میں تھکن کا کہہ کر کال کٹ کردیتا)
(عریشہ بھی اس کے لاکھ منانے کے باوجود اڑی بیٹھی تھی کہ اسے معاف نہیں کرے گی اس کا کہنا تھا وہ ابھی سے اسے جا کر بھول گیا تو آگے کیا ہوگا وہ اس کی کال تک نہیں اٹھا رہی تھی اور بیچارے کے کالج کے چکر بھی لگوا رہی تھی)
یار بات تو سنو وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا تو عریشہنے اس کا ہاتھ جھٹک دیا پر اسد نے اسے بازوں سے پکڑ کر اپنی طرف کیا جس پر وہ اس کے قریب آگئی ۔۔
تیری نظروں کا جام جو پیا تھا ہم نے
وہ نشہ ابھی بھی میری روح میں باقی ہے
آہم آہم ۔۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جب کسی کی آواز سن کر دور ہوئے۔۔
آہاں سوری لگتا ہے میں غلط وقت پر آگئی پر خیر اب کباب میں ہڈی بن ہی چکی ہو تو اپنی دوست کو مبارکباد دے ہی دوں ۔۔عریشہ کی دوست سجل اندر آتے ہوئے شرارت سے بولی ۔۔
ویسے جیجو آپ تو بڑے ہی کوئی رومینٹک نکلے بھئی واہ گھر میں سب موجود ہیں اور آپ ہاہاہا واہ پر سوری بھئی آپ دونوں کا رومینس خراب کردیا میں نے۔وہ بولے جارہی تھی جس پر اسد مسکرا رہا تھا اور عریشہ کا دل کیا دونوں کا سر پھاڑ دے اور اس میٹھی چھری بنی سجل کو اچھے سے بتائے کہ رومینس ہوتا کیا ہے۔۔۔
ارے تو آپ ہیں ہماری سالی صاحبہ ویسے کبھی آپ کے بارے میں آپ کی دوست نے کچھ بتایا نہیں۔۔وہ اب عریشہ کو جلانے کیلئے سجل سے ہنس کر بات کرنا شروع کر چکا تھا۔۔
کیاااااا عریشہ تم نے میرا نہیں بتایا اپنی اکلوتی دوست کا ۔خیر جیجو چھوڑے اب اس بیوفا کو۔۔ جی ہاں میں آپ کی سالی اور اس کی بچپن کی دوست۔وہ خوش اخلاقی سے بولی ۔۔
پر ہم تو پہلے کبھی نہیں ملے تو آپ نے مجھے کیسے پہچانا ؟ اسد نے سوال کیا ۔۔
ہاہاہا بلکل پر عریشہ نے اپ کی پک دیکھائی تھی تو جھٹ سے پہچان گئی ویسے آپ بہت ہی ڈیشنگ اینڈ ہیرو ٹائپ ہیں وہ عریشہ کی خونخوار نظروں کو اگنور کرتی ہوئی بولی تو اسد قہقہہ لگا کر ہنس دیا ۔۔
سہیلی بھی تمہاری تو کم نہیں تُم سے
پر میرے خیال میں تم سب سے خوبصورت ہو
اسد نے بھی بھرپور عریشہ کو اگنور کرتے ہوئے سجل کو آنکھ مار کر کہا جس پر عریشہ جل بھن گئی اور سجل اس کی شرارت سمجھ کر ہنس دی۔۔۔
ویسے کیا یار عریشہ چائے پانی کچھ پوچھو گی بھی یا اسی طرح کھالی کھولی باتوں سے پیٹ بھریں ۔۔سجل نے کہا ۔۔
ہاں ویسے تمہاری دوست بڑی ہی کوئی بے مروت ہے مہمانوں کو صرف گھوریوں سے ہی نوازتی ہے بس ۔۔اسد کے کہنے پر سجل عریشہ کو اکسانے لگی کہ وہ چائے پانی لائے عریشہ غصے سے بھری پیر پٹختی چائے لینے چل دی تو دونوں پیچھے سے ہنس دیے۔۔
ویسے جیجو مجھے لگتا ہے ابھی تک آپ اس کو منا نہیں پائے بلکہ اور جلانے والے کام کر رہے ہیں دیکھ لیں پھر آپ پر ہی بھاری نا پڑ جائے۔۔وہ اس کو آنے والے وقت کا یاد دلاتے ہوئے بولی تو اسد بھی تھوڑا پریشان ہوا اس جنگلی بلی کو چھیڑ تو وہ چکا تھا جس پر وہ اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والی نہیں تھی۔۔
عریشہ نے مہمان نوازی کرتے ہوئے دونوں کو چائے دی جو ہنسی خوشی باتوں میں مصروف تھے تو عریشہ بھی اپنا کپ لیے بیڈ پر سکون سے چائے پینے بیٹھ گئی تو وہ دونوں حیرت سے اس کا مطمئن چہرہ دیکھنے لگے ۔۔
سجل اسد نے ایک ساتھ ہی چائے پی جس پر ان سے وہ کڑوی اور مرچوں سے بھری بلا کو گلے سے اتارنا مشکل ہوگیا۔۔سجل تو کھانسنے لگی اور جلدی سے ٹیبل پر رکھا پانی پیا اور سکون سے بیٹھی اس جنگلی بلی کو دیکھنے لگی جس نے اپنا بدلا خوب لیا تھا۔۔
پر اسد برداشت کرتے ہوئے وہ چائے کے نام پر بلا کو اتارنے لگا تو عریشہ کا اطمینان اب ہوا ہوا وہ آدھے سے زیادہ پی گیا تو عریشہ سے برداشت نہیں ہوا اٹھی اور اس سے کپ چھین لیا اور جلدی سے پانی دیا جسے وہ جلدی سے پی گیا اب عریشہ کا سچی میں دل کیا کے وہ اس کا سر پھاڑ دے مطلب وہ تو اس کے بگڑے ہوئے منہ کے زاویے دیکھنا چاہتی تھی تاکہ ساری میٹھی باتیں جو وہ سجل سے کر رہا تھا پتا لگ جائے اسے پر اسد نے سب الٹ کر دیا۔۔
کیوں پی یہ پاگل ہوگئے ہو تم؟؟وہ تھوڑا برہمی سے بولی۔۔۔
آہاں تم نے پہلی بار اپنے ہاتھوں سے اتنا پیار ملا کر بنائی تھی تو کیسے نا پیتا۔وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولا تو سجل دونوں کو مسکرا کر دیکھتی چپ چاپ کمرے سے نکل گئی۔۔
یہ پیار والی نہیں تھی ؟وہ اس کی بات پر شرمندگی سے بولی تو وہ ہنس دیا۔۔۔
بنی تمہارے ہاتھ کی ہو اور ہو صبح اتوار کی،
میں اب پینا چاہتا ہوں ایسی چائے پیار کی..
آہاں تمہارا یہ ہی انداز تو دل کو بھایا تھا میرے لیے تو یہ ہی تمہارا پیار ہے ۔وہ اس کے ہاتھ چومتے ہوئے بولا تو وہ اسے خفا نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
اچھا اب کب پلا رہی ہو ایسی پیار بھری چائے ۔وہ اس کو چھیڑتے ہوئے بولا تو اس نے اسکے پاؤں پر اپنا پیر مارا اور جھٹکے سے اسے دور کیا۔
#تم چلو تو سہی دو چار قدم ہاتھ تھام کر #میرا
#مختصر سفر میں تمہارا جینا نہ حرام کر دوں تو #کہنا
وہ کہتی ہوئی انگلی دیکھا کر وہاں سے چلی گئی۔
ہائے اسد تیرا کیا بنے گا۔۔وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا اور اس کے پیچھے نکل گیا۔۔۔
🌹🌹🌹🌹
بس بہن اب ہمیں بھی ہماری بیٹی ہمیں سونپ دین اس کی پڑھائی کی وجہ سے رکے ہوئے تھے اب تو ماشاءاللہ سے اچھے نمبروں سے پاس بھی بوگئی ہے بس اب بلکل انتظار نہیں ہوتا بس اب رخصتی ہو جانی چاہئیے ۔۔
عریشہ اسد جو آگے پیچھے کمرے سے آئے تھے ثمینہ بیگم نے عریشہ کو دیکھ کر امرین بیگم سے کہا جہاں اسد کو اپنی ماں پر جی بھر کر پیار آیا تھا وہین عریشہ کو سب کے سامنے شرم سی محسوس ہوئی تھی۔۔ دونوں نے اچانک ہی ایک دوسرے کو دیکھا تھا اسد کے مسکرا کر دیکھنے پر عریشہ نے اپنی نظریں شرم سے پھیر لی تھیں جس پر اسد اس پر جی جان سے فدا ہوا تھا۔۔
قرار دے کر بھی بے قرار کر دے گی…!
نگاہ یار ہے کوئی _ مزاق تھوڑی ہے…!
ہاں بھئی اب تو تاریخ دے ہی دیں سفیان صاحب اب تو دونوں کی پڑھائی بھی مکمل ہوگئی ہے اور اس نالائق نے کام بھی سنمبھال لیا ہے تو بس اب دیر کس بات کی اب ہماری ایک اور بیٹی ہمارے حوالے کردیں جاوید صاحب نے بھی ہاں میں ہاں ملا کر علشبہ کو پھر عریشہ کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
اسد آج بہت خوش تھا اس کا دل کیا اپنے ڈیڈ کو جاکر گلے لگا لیں آج ان کا نالائق کہنا بھی اسے تعریفی جملے سے کم نہیں لگا اس کی تو دل کی مراد پوری ہو رہی تھی اس کا دل کیا یہی ناچنا شروع کر دے پر ہائے رے دل جس کو ڈپٹ کر چپ کرانا ہی پڑا اور سب کی طرح اب اس کی نظریں سفیان پر تھیں جہاں فیصلہ انھوں نے لینا تھا۔۔۔
آپ کی ہی امانت ہے آپ جب چاہے لے جائیں۔ اور پھر ٹھیک ہے دو ہفتے بعد کی تاریخ رکھتے ہیں۔سفیان صاحب نے بھی راضی خوشی ڈیٹ دے ہی دی اور ساتھ حماد کو دیکھ کر اس کی تائید چاہی جس نے ہاں میں سر ہلا کر ان کا حوصلہ بڑھایا اور کھڑے ہو کر عریشہ کے سر پر ہاتھ رکھا پھر اسد سے ملا باری باری سب اب ان دونوں کو مبارکباد دینے لگے تھے عریشہ تو جلد ہی اسد کی نظروں سے بچ کر وہاں سے بھاگ نکلی تھی جو اسے گھورے ہی جارہا تھا پر عریشہ اس بیچارے کی پرواہ کیے بغیر جو اس سے ایک بار مل کر مبارکباد دینا چاہتا تھا اور یہ پل اس کے ساتھ انجوائے کرنا چاہتا تھا اس سے بچ کر بھاگ نکلی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *