Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari NovelR50755 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25
No Download Link
753.9K
44
Rate this Novel
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode01 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode02 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode03 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode04 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode05 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode06 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode07 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode08 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode09 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode10 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode11 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode12 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode13 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode14 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode15 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode16 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode17 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode18 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode19 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode20 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode21 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode22 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode23 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode24 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25 (Watching)Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode26 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode27 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode28 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode29 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode30 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode31 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode32 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode33 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode34 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode35 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode36 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode37 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode38 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode39 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode40 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode41 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode42 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode43 Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Last Episode
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25
Anjani Mohabbat by Khadija Nadeem Jannat Pari Episode25
احد کے زور دینے پر شاہ میر اور اسد گھر آگئے تھے. پہلے تو شاہ میر مان نہیں رہا تھا کہ وہ ڈیڈ کو ایسے چھوڑ کر نہیں جائے گا پر پھر احد کے کہنے پر کہ وہ رات میں آجائے تو وہ مان گیا تھا اور اسد کو لیے گھر آگیا تھا پر وہاں کا ماحول دیکھ کر ان دونوں کو جھٹکا لگا تھا. ثمینہ بیگم روئے جارہی تھیں ان کی حالت بہت خراب ہورہی تھی اور پاس کھڑی رامین انھیں سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی ان لوگوں نے پورا گھر چھان مارا تھا پر مسکان کہیں نہیں تھی گارڈ کے بتانے پر کہ وہ تو کل شام ہی گھر سے نکل گئی تھی اس کے بعد اس نے اسے آتے نہیں دیکھا تو ثمینہ بیگم اپنے آپ کو کوسے جارہی تھیں کہ وہ ان کی وجہ سے گئی ہے. سب دوستوں سے معلوم کیا پر اس کا کہیں پتا نہیں لگا تھا. رامین نے شاہ میر اور اسد کو کل کی ثمینہ بیگم کی کہی باتیں اور اب کی ساری باتیں بتائیں جس پر وہ دونوں پریشان ہوگئے. شاہ میر نے غصے میں گارڈ کی اچھی خاصی کلاس لی کہ اس نے اسے جانے ہی کیوں دیا گھر پر اسی وقت کسی کو کیوں نہیں بتایا. اب شاہ میر ثمینہ بیگم کو تسلی دیتا اسد کے ساتھ گھر سے نکل گیا تھا مسکان کو ڈھونڈنے۔۔۔
ہاں امی اچھا ٹھیک ہے ہاں اللہ حافظ میں آتا ہوں رات تک گھر.. عمر امرین بیگم سے بات کر رہا تھا تبھی مسکان واشروم سے نکل کر آئی تو عمر نے اسے دیکھا اور اس کے قریب جا کر کھڑا ہوگیا اور ایک بار پھر پوچھنے لگا کہ. وہ اس کے گھر والوں سے خود بات کرے گا وہ چلے پر اس کی وہی ایک رٹ کہ وہ نہیں جائے گی ۔۔۔
عمر نے بتایا وہ اسے اپنے گھر لیکر کر جارہا ہے اور اب سے وہ وہیں رہی گی تو مسکان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے کہ وہ وہاں کیسے… عمر نے اس کی حالت سمجھ کر اسے تسلی دی اور اسے لیے حماد کی طرف نکل پڑا امرین بیگم نے اسے بتا دیا تھا کہ انھوں نے حماد کو سب بتا دیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اس لڑکی کو یہاں لائے. وہ لائبہ اور علشبہ سے بھی بات کر لے گا تو عمر نے نکلنے کا کہہ کر کال کٹ کردی اور دوسری طرف حماد نے علشبہ اور لائبہ کو بھی سب بتا دیا تھا تو وہ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں اور پھر حماد کے کہنے پر کہ وہ اب یہاں رہے گی وہ خوش بھی ہوئیں اور اس لڑکی کیلئے برا بھی فیل کرنے لگیں۔۔
ماما آپ کچھ تو کھا لیں کل سے آپ نے کچھ نہیں کھایا پلیز کچھ کھا لیں. اچھا پانی تو پی لیں آپ کی حالت خراب ہو جائے گی پھر ڈیڈ کو کون سنمبھالے گا پلیز کچھ کھالیں.. رامین ثمینہ بیگم کے پاس کھانا لا کر منت کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
رامین میری مسکان کہاں گئی ہوگی؟؟؟ پتا نہیں اس نے کچھ کھایا بھی ہوگا کہ نہیں. وہ مسکان کے لیے روئے جارہی تھیں تو رامین ان کو اپنے ساتھ لگا کر خود بھی رو دی وہ ان کی ایسی حالت دیکھ نہیں پارہی تھی۔۔۔
تو دوسری طرف اسد اور شاہ میر اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے ۔۔۔
عمر نے گاڑی جھٹکے کے سے روکی تو مسکان جو اپنے ہی خیالوں میں تھی چونک گئی۔۔۔
چلیں میڈم گھر آگیا.. عمر نے اس کی طرف جھک کر کہا تو وہ نروس ہونے لگی ۔۔
ارے یار گھبراؤ نہیں بہت اچھے ہیں میرے گھر والے میرے بڑے بھائی ہیں اور ایک پیاری سی آپی ہیں اور ایک بھابھی، میں نہیں بھی ہوا نا تو وہ تمہارا بہت اچھے سے خیال رکھیں گے. وہ اس کی گھبراہٹ دور کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔
عمر مسکان کو لیے گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی اسے حماد لائبہ نظر آئے عمر نے زور سے سلام کیا تو وہ دونوں ان کی طرف متوجہ ہوئے اور سلام کا جواب دے کر ان کی طرف بڑھے. مسکان گھبرائی ہوئی عمر کے پیچھے کو ہو کر کھڑی تھی. لائبہ مسکان کو دیکھ کر اس سے گرم جوشی سے ملی اور اس سے اپنا تعارف کرانے لگین لائبہ کا یہ انداز دیکھ کر مسکان تھوڑی ریلیکس ہوگئی اور حماد کو سلام کیا حماد اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر عمر کی طرف بڑھا اور اس کا کان پکڑ کے اسے مصنوعی غصے سے گھورنے لگا تو عمر نے اپنا دوسرا کان پکڑ کر سوری کیا جس پر اس نے اسے گلے لگا لیا۔۔۔
یہ آپی کہاں ہیں ؟عمر نے پوچھا۔۔
ہاں میں لیکر،،لو خود ہی آگئی. لائبہ جو جواب دیتی ہوئی آگے بڑھی تھی علشبہ کو سامنے سے آتے دیکھ کر بولی ۔۔
مسکان جو لائبہ کے ساتھ ہی کھڑی تھی اس کے بولنے پر سامنے دیکھنے لگی ۔۔۔
بھابھی،، وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی خوشی سے علشبہ کی طرف بڑھی اور اس کے گلے لگ گئی ۔۔
علشبہ بھی مسکان کو یہاں دیکھ کر حیرت سے دیکھنے لگی تھی پر اس کے گلے لگنے پر خود بھی خوش ہوکر ملی ۔۔
آپ کہاں چلی گئی تھیں؟؟ آپ کو پتا ہے میں نے آپ کو کتنا یاد کیا.. وہ روتے ہوئے بول کر ایک بار پھر گلے لگ گئی تھی ۔۔۔
سب ان لوگوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔
میں نے بھی تمہیں بہت مس کیا مسکان.. وہ اس کو اپنے سے الگ کر اس کے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔۔
تو پھر آپ ملنے کیوں نہیں آئیں ہم سے بھابھی ایک کال ہی کرلیتیں ہمیں تو آپ کا کچھ اتا پتا نہیں تھا. وہ اس سے روٹھے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔
حماد کو بھی اب اچانک سے یاد آیا تھا کہ اس نے مسکان کو علشبہ کے سسرال میں دیکھا تھا جب وہ اسے لینے گیا تھا۔۔
بھابھی؟ لائبہ عمر نے ایک ساتھ بولا تھا جس پر حماد نے انھیں بتایا کہ مسکان ہی علشبہ کی نند ہے. جس پر وہ دونوں ہی حیرت میں رہ گئے تھے۔۔۔
پر تم یہاں کیسے مسکان ؟؟ مسکان علشبہ کے سوال پر پیچھے عمر کو دیکھنے لگی جس پر علشبہ نے بھی عمر کو دیکھا۔۔۔
تو مطلب وہ لڑکی تم ہو. وہ عمر کو دیکھتے ہوئے بولی اور اس دن تمہیں ان گنڈوں سے بچانے والا عمر تھان اب وہ مسکان سے پوچھنے لگی مسکان جو سر جھکائے کھڑی تھی اس سے نظریں ملائے بغیر ہاں میں سر ہلانے لگی تو وہ خوشی سے اس سے گلے ملنے لگی اسے خوشی ہوئی تھی اس کی پیاری اور معصوم سی نند کا محافظ اور کوئی نہیں اس کا خود کا بھائی ہے. اب وہ اشارے سے عمر کو بلا رہی تھی جس پر وہ اس کے پاس چلتے ہوئے آیا تو علشبہ نے اسے بھی گلے لگا لیا ۔۔۔
کیا کہا امی آپ نے عمر نے شادی کرلی؟؟؟ عریشہ چیختی ہوئی بولی ۔۔۔
شش عریشہ آرام سے بولو تمہارے ابو سن لیں گے. امرین بیگم اسے گھورتے ہوئے بولیں۔۔
ہاں بیٹا اس میں ان کی بھی کوئی غلطی نہیں تھی اس وقت انھوں نے جو کیا وہ بلکل ٹھیک تھا. ہمارے عمر نے تو اس بچی کو بچایا ہے اور اپنا نام دیا بس. وہ اس کی شکی نظروں کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔
بس بس امی آپ اپنے بچے کو سیدھا نہ سمجھین مجھے پتا ہے وہ کیا چیز ہے. وہ دور خلاؤں میں سوچتی ہوئی بولی پر امرین بیگم کے ایک ہاتھ نے اس کو گڑبڑانے پر مجبور کردیا ۔۔
عریشہ یہ کس طرح بات کر رہی ہو بھائی ہے وہ تمہارا ۔
ہاں تو مجھے بھی پتا ہے پر وہ اتنا بھی سیدھا نہیں جتنا آپ سمجھ رہی ہیں اسے جب تک کوئی چیز خود سے پسند نا آئے وہ کبھی نہیں لیتا اور پھر تو یہ نکاح کرنا تھا مان لیں امی آپ کے بیٹے کو آپ کیلئے بہو پسند آگئی تھی تبھی اس حادثے کے بعد سے گھر میں اکیلے اکیلے مسکراتا پھرتا تھا. وہ اپنا ہاتھ سہلاتے ہوئے بولی جس پر امرین بیگم نے مارا تھا۔۔
ہاں تو غلط کیا ہے بیوی ہے وہ اب اس کی. مسکرانے دو ۔۔
ہووووو امی یہ آپ ہی ہو بہو آتے ہی بدل گئی اللہ ساس بنیں ساس میری امی ہیں بس میری امی ہی رہیں. وہ ان کے گردن میں بازو ڈالتے ہوئے لاڈ سے بولی ۔۔
چل ہٹ ڈرامے باز اب سے وہ بھی مجھے لائبہ علشبہ اور تمہاری طرح عزیز ہے سمجھی اور بھابھی ہے اب وہ تمہاری اس کے سامنے عمر کی عزت کرنا اب وہ شادی شدہ ہے جب دیکھو لڑتے رہتے ہو وہ. اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولیں۔۔
واہ بھئی واہ جس کو ابھی تک دیکھا ہی نہیں اس کیلئے اتنا پیار کیا بات ہے امی اور ہاں سب ٹھیک ہے وہ بھابھی ہے میری مجھے منظور پر عمر سے لڑنا نہیں اور عزت کرنا یہ دونوں ناممکن باتیں ہیں۔ اور ہاں میں بھی تو دیکھوں وہ کون سی پری لیکر آیا ہے میں آپی کی طرف جارہی ہوں اپنی نئی بھابھی سے ملنے. وہ کہتی ہوئی کمرے کی طرف چلے گئی فریش ہونے ۔۔۔
یہ لڑکی بھی ناں کبھی نہیں سدھر سکتی وہ بھی مسکرا کر کہتی ہوئی کچن میں چلی گئیں۔۔۔
عمر کو جب سے پتا لگا مسکان اس شخص کی بہن ہے جس نے اس کی بہن کو اتنے دکھ دیے وہ چاہ کر بھی خوش نہیں ہو پارہا تھا. وہ مسکان کو بھی قصوروار نہیں سمجھ رہا تھا پر اسے کچھ اچھا بھی نہیں لگ رہا تھا وہ جب سے ہی چپ چپ سا ہوگیا تھا اور علشبہ تو مسکان کو اپنے ساتھ لیے کمرے میں چلی گئی تھی جنہوں نے ابھی بہت سی باتیں کرنی تھی تبھی وہ حماد سے کہہ کر گھر کیلئے نکل گیا تھا کہ وہ اب صبح آئے گا ۔۔۔۔
جاری ہے.ماما آپ کچھ تو کھا لیں کل سے آپ نے کچھ نہیں کھایا پلیز کچھ کھا لیں. اچھا پانی تو پی لیں آپ کی حالت خراب ہو جائے گی پھر ڈیڈ کو کون سنمبھالے گا پلیز کچھ کھالیں.. رامین ثمینہ بیگم کے پاس کھانا لا کر منت کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
رامین میری مسکان کہاں گئی ہوگی؟؟؟ پتا نہیں اس نے کچھ کھایا بھی ہوگا کہ نہیں. وہ مسکان کے لیے روئے جارہی تھیں تو رامین ان کو اپنے ساتھ لگا کر خود بھی رو دی وہ ان کی ایسی حالت دیکھ نہیں پارہی تھی۔۔۔
تو دوسری طرف اسد اور شاہ میر اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے ۔۔۔
عمر نے گاڑی جھٹکے کے سے روکی تو مسکان جو اپنے ہی خیالوں میں تھی چونک گئی۔۔۔
چلیں میڈم گھر آگیا.. عمر نے اس کی طرف جھک کر کہا تو وہ نروس ہونے لگی ۔۔
ارے یار گھبراؤ نہیں بہت اچھے ہیں میرے گھر والے میرے بڑے بھائی ہیں اور ایک پیاری سی آپی ہیں اور ایک بھابھی، میں نہیں بھی ہوا نا تو وہ تمہارا بہت اچھے سے خیال رکھیں گے. وہ اس کی گھبراہٹ دور کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔۔۔
عمر مسکان کو لیے گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی اسے حماد لائبہ نظر آئے عمر نے زور سے سلام کیا تو وہ دونوں ان کی طرف متوجہ ہوئے اور سلام کا جواب دے کر ان کی طرف بڑھے. مسکان گھبرائی ہوئی عمر کے پیچھے کو ہو کر کھڑی تھی. لائبہ مسکان کو دیکھ کر اس سے گرم جوشی سے ملی اور اس سے اپنا تعارف کرانے لگین لائبہ کا یہ انداز دیکھ کر مسکان تھوڑی ریلیکس ہوگئی اور حماد کو سلام کیا حماد اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر عمر کی طرف بڑھا اور اس کا کان پکڑ کے اسے مصنوعی غصے سے گھورنے لگا تو عمر نے اپنا دوسرا کان پکڑ کر سوری کیا جس پر اس نے اسے گلے لگا لیا۔۔
یہ آپی کہاں ہیں ؟عمر نے پوچھا۔۔
ہاں میں لیکر،،لو خود ہی آگئی. لائبہ جو جواب دیتی ہوئی آگے بڑھی تھی علشبہ کو سامنے سے آتے دیکھ کر بولی ۔۔
مسکان جو لائبہ کے ساتھ ہی کھڑی تھی اس کے بولنے پر سامنے دیکھنے لگی ۔۔۔
بھابھی،، وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی خوشی سے علشبہ کی طرف بڑھی اور اس کے گلے لگ گئی ۔۔
علشبہ بھی مسکان کو یہاں دیکھ کر حیرت سے دیکھنے لگی تھی پر اس کے گلے لگنے پر خود بھی خوش ہوکر ملی ۔۔
آپ کہاں چلی گئی تھیں؟؟ آپ کو پتا ہے میں نے آپ کو کتنا یاد کیا.. وہ روتے ہوئے بول کر ایک بار پھر گلے لگ گئی تھی ۔۔۔
سب ان لوگوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔
میں نے بھی تمہیں بہت مس کیا مسکان.. وہ اس کو اپنے سے الگ کر اس کے آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔۔
تو پھر آپ ملنے کیوں نہیں آئیں ہم سے بھابھی ایک کال ہی کرلیتیں ہمیں تو آپ کا کچھ اتا پتا نہیں تھا. وہ اس سے روٹھے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔
حماد کو بھی اب اچانک سے یاد آیا تھا کہ اس نے مسکان کو علشبہ کے سسرال میں دیکھا تھا جب وہ اسے لینے گیا تھا۔۔
بھابھی؟ لائبہ عمر نے ایک ساتھ بولا تھا جس پر حماد نے انھیں بتایا کہ مسکان ہی علشبہ کی نند ہے. جس پر وہ دونوں ہی حیرت میں رہ گئے تھے۔۔۔
پر تم یہاں کیسے مسکان ؟؟ مسکان علشبہ کے سوال پر پیچھے عمر کو دیکھنے لگی جس پر علشبہ نے بھی عمر کو دیکھا۔۔
تو مطلب وہ لڑکی تم ہو. وہ عمر کو دیکھتے ہوئے بولی اور اس دن تمہیں ان گنڈوں سے بچانے والا عمر تھان اب وہ مسکان سے پوچھنے لگی مسکان جو سر جھکائے کھڑی تھی اس سے نظریں ملائے بغیر ہاں میں سر ہلانے لگی تو وہ خوشی سے اس سے گلے ملنے لگی اسے خوشی ہوئی تھی اس کی پیاری اور معصوم سی نند کا محافظ اور کوئی نہیں اس کا خود کا بھائی ہے. اب وہ اشارے سے عمر کو بلا رہی تھی جس پر وہ اس کے پاس چلتے ہوئے آیا تو علشبہ نے اسے بھی گلے لگا لیا ۔۔۔
کیا کہا امی آپ نے عمر نے شادی کرلی؟؟؟ عریشہ چیختی ہوئی بولی ۔۔۔
شش عریشہ آرام سے بولو تمہارے ابو سن لیں گے. امرین بیگم اسے گھورتے ہوئے بولیں۔۔
ہاں بیٹا اس میں ان کی بھی کوئی غلطی نہیں تھی اس وقت انھوں نے جو کیا وہ بلکل ٹھیک تھا. ہمارے عمر نے تو اس بچی کو بچایا ہے اور اپنا نام دیا بس. وہ اس کی شکی نظروں کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔
بس بس امی آپ اپنے بچے کو سیدھا نہ سمجھین مجھے پتا ہے وہ کیا چیز ہے. وہ دور خلاؤں میں سوچتی ہوئی بولی پر امرین بیگم کے ایک ہاتھ نے اس کو گڑبڑانے پر مجبور کردیا ۔۔۔
عریشہ یہ کس طرح بات کر رہی ہو بھائی ہے وہ تمہارا ۔
ہاں تو مجھے بھی پتا ہے پر وہ اتنا بھی سیدھا نہیں جتنا آپ سمجھ رہی ہیں اسے جب تک کوئی چیز خود سے پسند نا آئے وہ کبھی نہیں لیتا اور پھر تو یہ نکاح کرنا تھا مان لیں امی آپ کے بیٹے کو آپ کیلئے بہو پسند آگئی تھی تبھی اس حادثے کے بعد سے گھر میں اکیلے اکیلے مسکراتا پھرتا تھا. وہ اپنا ہاتھ سہلاتے ہوئے بولی جس پر امرین بیگم نے مارا تھا۔۔۔
ہاں تو غلط کیا ہے بیوی ہے وہ اب اس کی. مسکرانے دو ۔۔
ہووووو امی یہ آپ ہی ہو بہو آتے ہی بدل گئی اللہ ساس بنیں ساس میری امی ہیں بس میری امی ہی رہیں. وہ ان کے گردن میں بازو ڈالتے ہوئے لاڈ سے بولی ۔۔
چل ہٹ ڈرامے باز اب سے وہ بھی مجھے لائبہ علشبہ اور تمہاری طرح عزیز ہے سمجھی اور بھابھی ہے اب وہ تمہاری اس کے سامنے عمر کی عزت کرنا اب وہ شادی شدہ ہے جب دیکھو لڑتے رہتے ہو وہ. اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولیں۔۔
واہ بھئی واہ جس کو ابھی تک دیکھا ہی نہیں اس کیلئے اتنا پیار کیا بات ہے امی اور ہاں سب ٹھیک ہے وہ بھابھی ہے میری مجھے منظور پر عمر سے لڑنا نہیں اور عزت کرنا یہ دونوں ناممکن باتیں ہیں۔ اور ہاں میں بھی تو دیکھوں وہ کون سی پری لیکر آیا ہے میں آپی کی طرف جارہی ہوں اپنی نئی بھابھی سے ملنے. وہ کہتی ہوئی کمرے کی طرف چلے گئی فریش ہونے ۔۔۔
یہ لڑکی بھی ناں کبھی نہیں سدھر سکتی وہ بھی مسکرا کر کہتی ہوئی کچن میں چلی گئیں۔۔۔
عمر کو جب سے پتا لگا مسکان اس شخص کی بہن ہے جس نے اس کی بہن کو اتنے دکھ دیے وہ چاہ کر بھی خوش نہیں ہو پارہا تھا. وہ مسکان کو بھی قصوروار نہیں سمجھ رہا تھا پر اسے کچھ اچھا بھی نہیں لگ رہا تھا وہ جب سے ہی چپ چپ سا ہوگیا تھا اور علشبہ تو مسکان کو اپنے ساتھ لیے کمرے میں چلی گئی تھی جنہوں نے ابھی بہت سی باتیں کرنی تھی تبھی وہ حماد سے کہہ کر گھر کیلئے نکل گیا تھا کہ وہ اب صبح آئے گا ۔
_______
ہاں بول انس؟شاہ میر جو کار ڈرائیو کر رہا تھا انس کی کال آنے پر کار کو سائیڈ پر روک کر بات کرنے لگا۔۔
کہاں ہے تو شاہ؟
روز کی طرح آج بھی ڈھونڈنے نکلا ہوا ہوں. وہ سر ایک ہاتھ سے تھام کر بولا۔۔
(اس کی تو جیسے دن رات کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں ایک طرف بہن تھی تو دوسری طرف بیوی )
تو ٹینشن نہیں لے سب ٹھیک ہو جائے گا یار.. وہ اس کو تسلی دیتے ہوئے بولا ۔۔۔
کیسے ٹینشن ناں لو یار مسکان کا کہیں کچھ پتا نہیں لگ رہا آج پورے پندرہ دن ہونے کو آئے ہیں پر کیسی ہے کہاں ہے. کچھ نہیں پتا پولیس احد بھائی اسد سب اپنی طرف سے کوششیں کررہے ہیں پر سب بے سود ثابت ہورا ہے. وہ مایوسی کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا تبھی اپنے سر کے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے ہوئے بولا۔۔
اچھا تو پریشان نا ہو بس جہاں بھی ہو اللہ اسے اپنے حفظ وامان میں رکھے۔۔
اس کو بھی مسکان اتنی ہی عزیز تھی جتنی شاہ میر کو. وہ سچے دل سے دعا دیتے ہوئے بولا جس پر شاہ میر نے بھی آمین کہا.
اچھا انس میں تجھ سے بعد میں بات کرتا ہوں ابھی راستے میں ہوں. وہ کہتے کے ساتھ ہی کال کٹ کر گیا۔۔
شاہ میر نے لمبی سانس لے کر موبائل کو رکھنے کیلئے ہاتھ بڑھایا تبھی سامنے اسے لائبہ کا ہینڈ بیگ دکھا جو اس دن ویٹر نے اسے دیا تھا وہ اپنے مسئلوں میں اتنا الجھا ہوا تھا کہ چاہ کر بھی لائبہ تک اس کی امانت نہیں پہنچا سکا پر اب اس کی گاڑی کا رخ لائبہ کے گھر کی طرف تھا جہاں اس کی خود کی منزل بھی تھی۔۔۔
جاری ہے
